ذات کا علم عطا ہونے کی نشانی کیا ہے؟

ذات کا علم وہ ہے جس میں ذات اپنے جلووٴں کے سامنے تمہاری روحوں کو رکھے گی اور اُن جلووٴں کی شدت تمہاری روحوں کی سُدھ بُدھ چھین لے گی۔ پھر اُس غلام کی صحبت میں بیٹھنے سے اُس کا اپنا رنگ نہیں بلکہ صرف ذات کا ہی رنگ چڑھے گا۔

رمضان المبارک میں اعتکاف کی ضرورت و اہمیت

رمضان المبارک میں لیلة القدر کو ڈھونڈنے کیلئے اعتکاف اِس لئے کرنا پڑتا ہے کیونکہ وہ روح آرہی ہے جس کیلئے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا ہے کہ تم بھی انتظار کرو اور میں بھی انتظار کرنے والوں میں شامل ہوں۔

شخصیتِ محمدی کے باطنی حقائق

حضورپاکؐ کےپیدا ہونے سے پہلےآپ کادل ہزاروں سال مقامِ محبت میں رہ کرآیا ہے، روح کوتخلیق کرکےاللہ نےاپنےرُوبرُورکھاہے،لطیفہ اناپیداہونےسےپہلےمقامِ وصل میں ہےاورجب اِن سب کوجسمِ اطہرمیں یکجاکیاتووہ جسم سراپانوراورمرکزِتجلیات بن گیا۔

قرآنِ مکنون: اللہ کے راستے سے روکنا کیا ہے؟

اللہ کے راستے سے روکنا یہ ہے کہ شیطان آپ کے دل میں اُس رہبر کیلئے بدگمانی پیدا کرے گا جس کے ذریعے آپ کے دل کا راستہ اللہ کیطرف جارہا ہے اور جب وہ نوری راستہ رک گیا تو آپ کا دل اللہ کے راستے پر چل ہی نہیں سکتا۔

ناسوتی، ملکوتی اور جبروتی اموات

جب ناسوتی موت واقع ہوجاتی ہے تو اُس کا نفس راہِ محبت میں فنائیت کا شکار ہوجاتا ہے، جب ملکوتی موت ہوتی ہے تو انسان کا قلب مرجاتا ہے اور جب جبروتی موت ہوتی ہے تو روح بھی مرجاتی ہے لیکن آدمی پھر بھی چلتا پِھرتا رہتا ہے۔

منکرانِ تصوف کیلئے تحفہ

ہم جس دور میں رہ رہے ہیں بہت سے علماء کرام اور مفسرین معرفت الہی اور تصوف کے علم کو یکسر رد کرتے ہیں اور عوام الناس کو اس حق کی راہ سے متنفر کر رہے ہیں ۔ اس آرٹیکل میں ایسی احادیث ثبوت کے طور پر پیش کی گئی ہیں کہ تصوف عین حق ہے۔

دیدارِ الہٰی اور جنت میں غلمہ کا راز

حوروں کے ساتھ غلمہ کا ذکر اِس لئے ہے کہ اللہ اُن جنتوں میں بھی جانا جائے جہاں اللہ کا دیدار میسر نہیں ہے تو اللہ تعالی نے اپنے حُسن کے مدِمقابل غلمہ کی صورت میں صورتیں بناکر اُن جنتوں میں رکھے گا تاکہ غلمہ کو دیکھ کر اللہ کی یاد آتی رہے۔