قلب ِ سلیم کا حصول کیوں ضروری ہے؟

عالم جبروت میں دومختلف مقامات ہیں ایک مقام عالم ارواح اوردوسرا عالم برزخ کہلاتا ہے ۔ عالم برزخ میں دو مقامات ہیں جنہیں علیین اور سجیین کہا جاتا ہے۔مرنے کے بعد کس کی روح نے علیین میں جاناہے اور کس نے سجیین میں جانا ہے اس بات کا فیصلہ اس پر ہوتا ہے قلب سلیم کون لایا ہے۔

اللہ سے دوستی اور عبادات بے لوث کیوں ہونی چاہیے؟

رب سے دوستی کا تقاضہ ہے کہ وہ بے لوث ہونی چاہیےاگر عبادات جنت کے لالچ اور دوزخ کے خوف سے کی جائے تو وہ بیکار ہو جاتی ہے۔ وہ رب ہی کیاجو میرے گناہوں سے ناراض ہو جائے اور میری عبادتوں سے راضی ہو جائے تو پھر اس رب کی چابی تو میرے ہاتھ میں ہے۔

مراقبے کی حقیقت اور اقسام

آج کل جو مراقبہ ہال میں مراقبہ لگایا جاتا ہے وہ محض تصورات پر مبنی ہے ۔ روحانیت اور تصوف کے بغیر مراقبہ نہیں لگتا،اصل مراقبہ روحانی طیر و سیر کا نام ہےجس میں انسانی روح بیدار اور اللہ کے نور سے طاقتور ہو کر عالم ملکوت،عالم جبروت حتی کہ مقام احدیت میں رب کے روبرو پہنچ جاتی ہے ۔

مذاہب میں غلط عقائد کی وجوہات کیا ہیں ؟

ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں اس میں اطلاعات کا صحیح ہونا بہت ضروری ہے خاص طور پر مذہب ، ادیان اور دھرموں کے معاملے میں ۔ صحیح اطلاعات نہ ہونے کی وجہ سے ہر مذہب میں غلط عقائد آئے ہیں ۔اگر مذہب میں درست اطلاعات نہیں ہوں گی تو لوگ گمراہ ہو جائیں گے اور فرقوں میں تقسیم ہو جائیں گے۔

دل کی دھڑکنوں کے ذریعے ذکراللہ کیوں کرنا چاہیے؟

دل ایک پمپنگ اسٹیشن کی مانند ہے جو کہ خون کو پورے جسم میں دھکیلتا ہےاور دھڑکنوں کی وجہ سے پورے جسم میں چستی رہتی ہے اسی طرح اللہ نے نور کی رسّد کو پورے دل میں پہنچانے کے لئے دل کو منتخب کیاہے۔ جب دھڑکنوں میں اللہ کا نام چلا جاتا ہے تو وہ پورے جسم میں سرائیت کر جاتا ہے۔

کیاعلمِ تصوف دُنیا اور آخرت دونوں میں مفید ہے؟

تصوف ایک ایسا علم ہے کہ جس کے ذریعے انسان ہر وہ شے حاصل کر لیتا ہے کہ جس کو کوئی دنیا دار کرپشن کے بعد بھی حاصل نہیں کر سکتا۔ علم تصوف اِسی دنیا میں تم کو کچھ نہ کچھ طاقت اور دولت عطا کر دیتا ہے، ایسی دولت کہ جس دولت میں اللہ خود بھی شامل ہے،ساری دنیا بھی اس کی ہو گئی اور اللہ بھی اس کا ہو گیا۔

جشنِ ریاض 2017

25 نومبر ایسا مبارک دن ہے کہ اس دن ایک ایسا وجود مبارک آنکھوں کے سامنے ظاہر ہوا جس کو دنیا نے سمجھا ایک بچے کی پیدائش ہوئی ہےحالانکہ وہ پیدائش نہیں تھی اس طرح سرکار کی آمد کا دن 25 نومبر قرار پایا ہےجس کو تمام محبان گوھر شاہی مل کر جشن کی صورت میں مناتے ہیں۔

شہید کی ظاہری و باطنی تشریح

شہادت کا رتبہ اللہ کی جانب سے عطا ہوتا ہے جو لوگ اپنے قلب و نفس کو پاک کر رہے ہیں اور اُن کی باطنی تعلیم جاری ہے تاکہ اللہ کی ذات تک پہنچ جائیں لیکن اللہ کی طرف سے جہاد کا حکم آ گیا اور وہ اس جہاد میں مارے گئے تو اُن لوگوں کو انعام کے طور پر اللہ کی طرف سے شہادت کا مرتبہ دیا جاتا ہے۔

ذکرِقلب ایک نعمت اور تعلق باللہ کا ذریعہ ہے

ذکر قلب ایک بہت بڑی نعمت ہے ،کوئی آسمانی کتاب یا عبادت اسم ِذات اللہ سے بڑی نہیں ہے اب وہ تمھارا محافظ ہے ۔اب تم اللہ کی نظر میں ہو اور تمھیں دعا کے لئے ہاتھ اُٹھانے کی حاجت نہیں ہے۔فرمان گوھر شاہی ہے کہ جس کے قلب میں اللہ کا سرائیت کر گیا وہ ایک دن روشن ضمیر بن جائے گا۔

حضوؐر کے درجہ رسالت اور نبوت کا کیا مطلب ہے؟

حضوؐر رسول بھی ہیں اور نبی بھی اسی لئے ایکطرف بطور رسالت دین کا نظام بنایا جس میں وحی الہی اتاری گئی اور کچھ عرصے بعد جب آیتیں منسوخ ہوئیں یا اُن میں بگاڑ پیدا ہوا تو اس کی درستگی کے لئے آپؐ پر بطورنبی صحیفے اتارے گئے جو کہ حدیث قدسی کہلائے ۔