واقعہ معراج کی حقیقت

علم طریقت میں دیدارِ الہی تین طریقوں سے ثابت ہےلیکن واقعہ معراج پر نبی کریم ﷺ کو دیدار الہی ہوا وہ تینوں کے تینوں طریقہ ہائے دیدار الہی ایک نقطہ محمد پر مجتمع ہو گئے اور سہہ جہتی دیدار الہی میسر آیا جس کی کوئی نظیر نہیں ملتی ہے ۔

سیدی یونس الگوھر کا دورہ نیپال

سیدی یونس الگوھر کا دورہ نیپال مذہبی یکجہتی، محبت،امن و آشتی اور یگانگت کا منہ بولتا ثبوت ہےجس نے تمام مذاہب کو ایک پلیٹ فارم پر یکجا کر دیا۔ تعلیم گوھر شاہی کی بدولت ہندو ،مسلم ، سکھ اور دیگر ادیان سے تعلق رکھنے والے سب ایک مرکز پر جمع ہو گئے

کردار کی تشکیل

کردار کی تشکیل کی کوئی تعلیم نہیں ہے بلکہ کردار کا براہ راست تعلق آپ کے ایمان سے ہے۔انسان کی روح کے اندر کردار کی شاخیں موجود ہیں بیداری روح کے بعد اس کی صفات کھل کر سامنے آئیں گی اور وہ کردار کا حصّہ بن جائے گیں۔

سورة ابراہیم میں موجود الرٰ کا راز

الم اور الرٰ دونوں حروف مقطعات کا علم سینہ مصطفی ؐ پر نازل کیا گیا ۔ الم کا فیض نبی کریم نے اپنے پہلےدور میں دیاکیونکہ اس میں مذہب کی قید تھی اور الرٰ کا فیض دورِ گوھر شاہی میں صورتِ گوھر شاہی ہو رہا ہے کیونکہ اس میں مذہب کی قید نہیں ہے۔

جشنِ ریاض 2018

25 نومبر ایسا مبارک دن ہے کہ اس دن ایک ایسا وجود مبارک آنکھوں کے سامنے ظاہر ہوا جس کو دنیا نے سمجھا ایک بچے کی پیدائش ہوئی ہےحالانکہ وہ پیدائش نہیں تھی اس طرح سرکار کی آمد کا دن 25 نومبر قرار پایا ہےجس کو تمام محبان گوھر شاہی مل کر جشن کی صورت میں مناتے ہیں۔

زندگی جسم میں اور زندگی قبر میں ، موت جسم میں اور موت قبر میں

مزارات پر جانے کو دیو بندی اور سلفی شرک و بدعت کا فعل قرار دیتے ہیں جبکہ ایسے اولیاء اللہ کے مزارات پر جانا ہر گز شرک یا بدعت نہیں ہےجن میں اُن کے منور لطائف ذکر و اذکار میں مشغول ہیں اور باعث فیض و سعادت ہیں۔

پاکستانی عدلیہ کے نام نمائندہ مہدی سیدی یونس الگوھر کا پیغام

آسیہ بی بی پر فسادی مولویوں نے جو توہین رسالت کے جھوٹے مقدمات بنائے سیدنا گوھر شاہی پر بھی انہی فسادی مولویوں نے توہین رسالت کےجھوٹے مقدمات بنائے تھےجنھیں عدلیہ سے دوبارہ کھولنے کی اپیل ہےتاکہ انصاف فراہم ہو۔

کیا آسمانی کُتب میں تبدیلی ممکن ہے؟

قرآن مجید سینہ محمد پر وحی کی صورت میں نازل کیا گیا اور اُسی کی حفاظت کا وعدہ اللہ تعالی نے فرمایا ہے ۔قرآن کو کتابی شکل عمر بن خطاب اور ابوبکر صدیق نے دی ہے جو کہ اللہ اور اسکے رسول کا ارادہ نہیں تھا ، اگر ہوتا تو نبی کریم اس کا حکم ضرور فرماتے۔

یزیدیت کی کاٹ علم تصوف میں مُضمَر

جس کے سینے میں نور ہو گا وہ اُمتی ہو گااور جس کے سینے میں نور نہیں ہےوہ حضوؐرکے دور میں ہو یا آج کے دور میں وہ امیر معاویہ ہی ہے ۔خون بہا کر کے یو م حسین منایا تو یہ اعمال یزیدیت کا فروغ ہیں ۔ حسینیت کا فروغ دلوں کو صاف کرنے میں ہے۔