مقامِ محبت کی حقیقت

مقامِ محبت کی حقیقت یہ ہے کہ مرشد عالمِ محبت میں دل کو لیکرجاتا ہے جہاں دل کو ایک نوری تار کے اوپر کھڑا کیا جاتا ہے اور اُس پر انواروتجلیات ڈالے جاتے ہیں تو دل اللہ کی مختلف صفات کو اپنے اندر جذب کرلیتا ہے۔

ہندو دھرم میں بُتوں کو کیوں پوجا جاتا ہے؟

خانہ کعبہ میں تین سو ساٹھ بت موجود تھے اور آپؐ نے سوائے ایک حجرِاسود کے سب بت توڑ دئیے تھےکیونکہ انہوں نے اسکی پوجا شروع کردی تھی جبکہ وہ مجسمے یادگار کے طور پر بنائے گئے تھے۔ نبی کریمؐ نے بھی حجرِاسود کو عقیدت و محبت سے بوسا لیا ہے۔

حیات الدنیا اور حیات ابدی

قرآن میں اللہ تعالی نے نبی کریمؐ کو حکم دیا کہ جو لوگ ذکراللہ سے کنارہ کرلیں تو آپؐ اُن سے اپنا چہرہ مبارک پھیرلیں۔ ادنیٰ جنت میں جانے کی شرط بھی دل میں اللہ کا سما جانا ہے کیونکہ جنت میں پتھر بھی اللہ کا ذکرکرتے ہیں۔

محبت اور عشق کی حقیقت

محبت اور عشق انسان کے اختیار میں نہیں ہیں۔ جب کسی سے سچی محبت ہوجاتی ہے تو انسان میں انانیت ختم ہوجاتی ہے جوکہ سخت عبادات سے بھی ممکن نہیں ہے۔ محبت اللہ کی صفت ہے جوکہ تمام مذاہب کا نچوڑ ہے۔

قرآن مکنون: سورة الاحزاب، الواقعہ اور العصر کی باطنی تشریح

اصل قرآن سینہ مصطفی میں موجزن ہے اس تک رسائی کیلئے تذکیہ نفس اور تصفیہ قلب بہت ضروری ہے ۔زندگی اتنی تیزی سے گزرتی ہے کہ پتہ نہیں چلتا اس لئے جوانی کی عمر میں ہی تصفیہ قلب ہونا پیغمبروں کا شیوہ ہے۔

جشن یونس اہلِ گوھر کی نظر میں

جشن یونس اہلیان گوھر کی نظر میں بہت اہمیت کا حامل ہے کیونکہ سیدنا گوھر شاہی کی شخصیت کے باطنی حقائق سیدی یونس الگوھر کے ذریعے ہی عریاں ہو رہے ہیں ، آپکے وسیلے سے سیدنا گوھر شاہی کی جو کرم نوازی ہوئی ہے اس کا جتنا شکر ادا کریں وہ کم ہے۔