قرآنِ مکنون: اللہ کے راستے سے روکنا کیا ہے؟

اللہ کے راستے سے روکنا یہ ہے کہ شیطان آپ کے دل میں اُس رہبر کیلئے بدگمانی پیدا کرے گا جس کے ذریعے آپ کے دل کا راستہ اللہ کیطرف جارہا ہے اور جب وہ نوری راستہ رک گیا تو آپ کا دل اللہ کے راستے پر چل ہی نہیں سکتا۔

ناسوتی، ملکوتی اور جبروتی اموات

جب ناسوتی موت واقع ہوجاتی ہے تو اُس کا نفس راہِ محبت میں فنائیت کا شکار ہوجاتا ہے، جب ملکوتی موت ہوتی ہے تو انسان کا قلب مرجاتا ہے اور جب جبروتی موت ہوتی ہے تو روح بھی مرجاتی ہے لیکن آدمی پھر بھی چلتا پِھرتا رہتا ہے۔

منکرانِ تصوف کیلئے تحفہ

ہم جس دور میں رہ رہے ہیں بہت سے علماء کرام اور مفسرین معرفت الہی اور تصوف کے علم کو یکسر رد کرتے ہیں اور عوام الناس کو اس حق کی راہ سے متنفر کر رہے ہیں ۔ اس آرٹیکل میں ایسی احادیث ثبوت کے طور پر پیش کی گئی ہیں کہ تصوف عین حق ہے۔

دیدارِ الہٰی اور جنت میں غلمہ کا راز

حوروں کے ساتھ غلمہ کا ذکر اِس لئے ہے کہ اللہ اُن جنتوں میں بھی جانا جائے جہاں اللہ کا دیدار میسر نہیں ہے تو اللہ تعالی نے اپنے حُسن کے مدِمقابل غلمہ کی صورت میں صورتیں بناکر اُن جنتوں میں رکھے گا تاکہ غلمہ کو دیکھ کر اللہ کی یاد آتی رہے۔

قرآنِ مجید اور قرآنِ مکنون کا باطنی راز

قرآنِ مجید وہ علم ہے جو جبرائیل کے ساتھ لوحِ محفوظ سے آیا اور قرآنِ مکنون وہ علم ہے جو براہِ راست اللہ کی طرف سے قلبِ مصطفٰیؐ پر آیا جو کہ باطنی علم ہے۔ وہ باطنی علم جب کسی کے سینے کے اندر جائے گا تو اُس کی سات پُشتیں بخشی جائیں گی۔

روزہ رکھنے سے پہلے یہ عمل ضرور کریں

اللہ تعالی نے ہم کو روزے رکھنے کا حکم اِس لئے دیا ہے کہ ہم متقی بن جائیں۔ بھوک اور پیاس سے نفس کمزور ہوتا ہے اور اِس کے ساتھ ساتھ قلب میں نور کا ہونا بھی لازمی ہے تاکہ وہ نور ہمارے گناہوں کو دھو سکے اور ہمیں متقی بنادے۔