مُرشد دور رہ کر خبر گیری کیسے کرتا ہے؟

خبر گیری دو طرح کی ہوتی ہے ایک عام خبر گیری جس کیلئے مرید کا نفس ملحمہ ہونا ضروری ہےاور خاص خبر گیری میں مرشد سالک کے قلب کو جثّوں کو اپنے پاس رکھ لیتا ہےاور اسکی جگہ مرشد اپنےدائمی جثّے لگا دیتا ہےجو کہ پہرہ کہلاتا ہے۔

با زارِ مصطفٰے ﷺ / خریدار اللہ

بازار مصطفٰے یہ ہے کہ جس عکس اوّل کو دیکھ کر اللہ نے جنبش لی وہی عکس اوّل اب امام مہدی گوھر شاہی کے وجود مبارک میں ہے اور امام مہدی اُس عکس اوّل کا کوئی رخ کسی کے اندر ڈال دیں تو ایسے لوگوں کو اللہ خریدتا ہے جس میں وہ عکس ہے جسے دیکھ کر اُس نے جنبش لی تھی۔

امام مہدی گوھر شاہی کی غیبت کیا ہے ؟

عیسیٰ کے جسم کی تخلیق آدم صفی اللہ کی مثال پر ہے کیونکہ اُن کو ملکوتی مٹی سے بنایا گیا تھا اسی لئے جسم سمیت اوپر اُٹھا لیا گیا اسی طرح سیدنا گوھر شاہی کا جسم اطہر میں عالم بالا سے لے کر ہر جہان کی چٹکی شامل ہے آپ جسم سمیت کسی بھی جہان میں جا سکتے ہیں تاکہ زمان و مکان کی قید نہ ہو۔

آیاتِ محکمات اور آیاتِ متشابہات کونسی ہیں ؟

سورة آل عمران کی آیت نمبر 7 میں اللہ تعالی نے واضح طور پر یہ بیان کیا ہے قرآن کی کچھ آیات محکمات ہیں اوروہ اُم الکتاب سے آئی ہیں لیکن جو آیات متشابہات ہیں وہ جثّہ توفیق الہی اور جثّہ طفل نور ی کی طرف سے آئیں ہیں ۔

واقعہ معراج کی حقیقت

علم طریقت میں دیدارِ الہی تین طریقوں سے ثابت ہےلیکن واقعہ معراج پر نبی کریم ﷺ کو دیدار الہی ہوا وہ تینوں کے تینوں طریقہ ہائے دیدار الہی ایک نقطہ محمد پر مجتمع ہو گئے اور سہہ جہتی دیدار الہی میسر آیا جس کی کوئی نظیر نہیں ملتی ہے ۔

سیدی یونس الگوھر کا دورہ نیپال

سیدی یونس الگوھر کا دورہ نیپال مذہبی یکجہتی، محبت،امن و آشتی اور یگانگت کا منہ بولتا ثبوت ہےجس نے تمام مذاہب کو ایک پلیٹ فارم پر یکجا کر دیا۔ تعلیم گوھر شاہی کی بدولت ہندو ،مسلم ، سکھ اور دیگر ادیان سے تعلق رکھنے والے سب ایک مرکز پر جمع ہو گئے

کردار کی تشکیل

کردار کی تشکیل کی کوئی تعلیم نہیں ہے بلکہ کردار کا براہ راست تعلق آپ کے ایمان سے ہے۔انسان کی روح کے اندر کردار کی شاخیں موجود ہیں بیداری روح کے بعد اس کی صفات کھل کر سامنے آئیں گی اور وہ کردار کا حصّہ بن جائے گیں۔

سورة ابراہیم میں موجود الرٰ کا راز

الم اور الرٰ دونوں حروف مقطعات کا علم سینہ مصطفی ؐ پر نازل کیا گیا ۔ الم کا فیض نبی کریم نے اپنے پہلےدور میں دیاکیونکہ اس میں مذہب کی قید تھی اور الرٰ کا فیض دورِ گوھر شاہی میں صورتِ گوھر شاہی ہو رہا ہے کیونکہ اس میں مذہب کی قید نہیں ہے۔