عشق مجازی، عشق نفسانی اور عشق حقیقی کی حقیقت

عشق کی تین اقسام ہیں۔ عشقِ نفسانی حرام ہے، عشقِ رومانی دوروحوں کے مابین ہوتا ہے پہلے یہ جائز تھا لیکن شہوت کے عنصر کے شامل ہونے کی وجہ سے اسے روحانیت سے خارج کردیا گیا اورعشقِ حقیقی جائزہے کیونکہ خالصتاً اللہ کیلئے ہوتا ہے۔

اللہ کی نظر میں اسلام پر کاربند ہونے کا طریقہ

کلمہ طیبہ ایمان کی اساس ہے اوراللہ کے نزدیک اسلام پرعمل پیراہونےکیلئےہمیں اپنےسینےکی شرح صدرکرنی ہے جس کیلئے اللہ کےذکرکاقلب میں پیوستہ ہونابہت ضروری ہے۔ ذکرِقلب صرف کامل مرشد کی نظروں سےہی عطاہوسکتاہے۔

مختلف مذاہب میں اللہ کے مختلف نام

اللہ تعالی کےبہت اچھے نام ہیں۔ ہرمذہب والا اپنی زبان میں اللہ کوپکارتا ہے۔ اگرکوئی اللہ کےسواکسی کومعبود مانتا ہےتوہم قرآن مجید کےمطابق کسی جھوٹے خدا کوبُرابھلا نہیں کہہ سکتے۔ جو لوگ اس سے ناواقف ہیں اس کی وجہ دلوں کی تاریکی ہے۔

محمدؐکی طریقہ تخلیق اوراسمیں انسانیت کیلئےپیغام

حضورؐکی ذات سےاللہ تعالی نےہم کونوربننےکاپیغام دیاکہ ہم بھی اپنی ارواح کواللہ کےنورسےمنور کریں جس سےہمارےاندرنبی پاکؐ کا وصف پیداہو۔ سیدنا گوھرشاہی کی بارگاہ سے وہی بیداری وصف کی تعلیم عطا ہو رہی ہے تاکہ محمد تک رسائی حاصل کرسکیں۔

امام مہدی کی نشانی سے متعلقہ امام جعفر صادق کا قول یا حدیث

امام جعفرصادق کا قول ہے کہ امام مہدیؑ کاچہرہ چاند پرطلوع ہوگا، درحقیقت یہ قول نہیں بلکہ حدیث نبوی ہے کیونکہ امام ابو حنیفہ نے امام جعفر صادق کو یہ حدیث سنائی تھی ۔ فرقہ پسند عناصر کی احادیث میں ردوبدل کی وجہ سے آج امت محمد حدیث کوامام جعفرکا قول قرار دیتی ہے۔

کیا احادیث پہچان مہدی میں معاون ہیں؟

امام مہدیؑ کوپہچاننے کیلئے ہمیں نفس کوپاک کرنا ہوگا اوردل میں اللہ کا نورلانا پڑے گا۔ جب دل اللہ کے نورسے منورہوجائے گا توہم امام مہدیؑ کوپہچان لیں گے۔ آج امام مہدی سرکار گوھرشاہی لوگوں کےدل اللہ کےنورسےزندہ کررہےہیں۔

علمِ غیب پرایمان لانا کیا ہے؟

علمِ غیب یعنی نظروں سے غائب علم یہ باطنی تعلیمات اورلطائف کی طرف اشارہ ہےتاکہ ہم اپنی ان مخلوقوں کو اللہ کے نور سے منور کر کے نسبت الہیہ حاصل کر سکیں۔سیدنا گوھر شاہی اس دور فتن میں وہی باطنی تعلیمات عطا فرما رہے ہیں۔

قرآن میں رب المشرقین ورب المغربین کا باطنی راز

اللہ مشرقین اورمغربین کا رب ہے لیکن جو ہستیاں مغربین میں ہیں اُن کا اللہ سے بلاواسطے کاتعلق ہے۔ امام مہدیؑ مغربین میں سے ہونگے جن کی تعلیم عشق ہوگی اورجوبھی سیدنا امام مہدیؑ کی بارگاہ اقدس میں آگیا وہ نعمتوں سے مالامال ہوگیا۔