کیٹیگری: مضامین

علم ِنافع اور علم ِحجت:

درج ذیل موضوع اچھوتا ہونے کے ساتھ ساتھ منفرد نوعیت کا ہے لہذا اسکی تبلیغ نہیں کی گئی یا پھر پیغمبروں تک یہ علم پہنچا نہیں ۔روحانی فیض کے دو طریقےہیں “بالواسطہ” اور “بلا واسطہ” ۔بالواسطہ طریقہ فیض کو انگریزی میں (Spiritual Channeling) کہتے ہیں۔ فیض کا لفظی ترجمہ تو فائدہ ہے تواسے فائدہ کے بجائے فیض کیوں کہتے ہیں؟ فائدہ ایک عام لفظ ہے اور دنیاوی معنوں میں استعمال ہوتا ہے اور فیض دراصل ایک خاص علم سے جڑا ہوا ہے۔ ویسے تو علم کی بہت سی اقسام ہیں لیکن علم کو دوخاندانوں میں تقسیم کیا گیا ہے“علم نافع ”اور“علم حجت”۔

“جس علم میں نور نہیں محض باتیں ہیں وہ علم حجت ہے اور جس علم میں نور بھی ہو وہ علم نافع ہے”

انبیاء کرام ، بزرگان دین ، اصحابہ کرام سے بڑے بڑے واقعات اور قصے کہانیاں منسوب ہیں اور مولوی حضرات انبیاء اولیاء کے ِان ہی قصے کہانیوں کے بیان کو لوگوں کے لیے فائدہ یعنی علم نافع قرار دیتے ہیں جبکہ یہ باتیں محض معلومات پر مبنی ہیں ۔مالک الملک سیدنا گوھر شاہی نے یہ راز بتایا کہ علم نافع دراصل وہ علم ہے جس سے آپکی روح کو فائدہ پہنچے ۔جس طرح کچھ ایسے جسمانی اسپرے ملتے ہیں جس میں چمکی ہوتی ہے لیکن نہانے سےاسکی چمک اتر جائے گی ۔اگر وہ چمک جسم میں ہو تب تو فائدہ ہے اِسی طرح علم نافع فائدے کے علم کو کہتے ہیں۔ یعنی آپ نے قلب کا علم حاصل کر لیا اب آپ سوتے رہے آپکا قلب اللہ اللہ کرتا رہا اور اِس اللہ اللہ کرنے سے نور بنتا رہا تو اس نور کا بننا آپ کا فائدہ ہے۔
زبان سے قرآن کی تلاوت کرنا ، حدیثیں بیان کرنا ، حضور پاک کی نعتیں یا قصیدے پڑھنا احسن کام تو ہیں ہےمگرعلم نافع میں شامل نہیں ہیں ،علم نافع وہ کام ہے جس کے حصول کے بعد آپکی روح میں ایسی چیز پیدا ہو جائے کہ اب وہ کماؤ پوت بنِ جائیں ۔جیسا کہ کچھ اعمال کو ہم صدقہ جاریہ کہتے ہیں مثا ل کے طور پر درخت لگا دینا ، لوگ اس کی چھاؤں سے فائدہ اٹھاتے ہیں جب تک درخت رہے گا آپ کو اجر ملتا رہے گا، مذہبی لوگ عمل جاریہ پر بڑا زور دیتے ہیں لیکن اس طرح کے کام عمل جاریہ ہی ہیں۔ثواب ہی ہوگا کوئی ایسا علم بھی تو تلاش کرو جو کہ نور جاریہ ہو۔جس نے مرشد سےایک بار اُس علم ِنافع کا ایسا ٹیکہ لگوایا جس کے بعد اب زندگی بھر نفع ہی نفع ہے، قلب اللہ اللہ میں لگ جائے تو پھر بند نہیں ہوتا۔ مرشد سےعلمِ نافع کا حصول دراصل فیض لینا ہے وہ ایسا فیض ہے جس سے آپ کو نفع ہی نفع ہوتا جائے گا۔قرآن مجید میں بھی یہ ہی لفظ قلب سلیم کے حوالے سے استعمال ہوا ہے۔

يَوْمَ لَا يَنفَعُ مَالٌ وَلَا بَنُونَ إِلَّا مَنْ أَتَى اللَّـهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ
سورة الشعراء، آیت نمبر 88
ترجمہ: مال اور اولاد اس دن کوئی چیز منافع نہیں دے گی وہاں وہ فائدے میں ہوگا جو قلب سلیم لایا۔

یہاں قرآن نے لفظ يَنفَعُ جو استعمال کیا اس سے مراد یہ ہے کہ یوم محشر میں جب سب کی ہوائیاں اڑی ہوئی ہوں گی اور اُس دن کوئی چیز منافع نہیں دے گی لیکن اُس وقت بھی لطیفہ قلب آپ کو منافع دے رہا ہے نور پیدا کر رہا ہے۔ہم نے سنا ہے کے یوم محشر میں اعمال تولے جائیں گے برائیاں زیادہ اور نیکیاں کم ہونگی اچانک کوئی فرشتہ کہے گا اس نے جو کلمہ پڑھا تھا اب وہ ترازو میں رکھ دو اور اسکا ترازو جھک جائےگا وہ ایک کلمہ جو پڑھا تھا وہ سب اعمال پر بھاری ہوگا ، اس حساب سے تو کسی کو جہنم میں جانے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ کلمہ تو سب نے ہی پڑھا ہے سب کے ہی ترازو جھک جائیں گے۔ دراصل یوم ِمحشر میں جس کلمہ سے اعمال کا ترازو جھک جائے گا وہ کلمہ وہ اسکے قلب نے پڑھا ہوگا اور قلب کا ایک بار کلمہ پڑھ لینا میزان کے لیے کافی ہے۔
سیدنا گوھر گوھر شاہی کی نظر عنایت سے جن کے سینوں میں کلمہ اُترگیا ان سب کے لیے سیدنا گوھر شاہی نے فرمایا جب تم قبر میں جانا تو منکر نکیر کو فورا جواب نہ دینا اُن کو ستانا یہ کتنی انوکھی بات ہے۔منکر نکیر کو ستانے کا پوری دنیا میں ایک ہی واقعہ غوث پاک کے حوالے سے ملتا ہے کے انہوں نے منکر نکیر میں سے ایک فرشتے کو پکڑ لیا کے پہلے تم اللہ سے میرے سوال کا جواب لاؤ پھر میں تمہارے سوال کا جواب دوں گا ،امت محمد میں حضور پاک کے بعد فقر میں سب سے بڑا مرتبہ شیخ عبد القادر جیلانی کا ہے ، کوئی فقیر کوئی ولائیت عظمٰی والا مرتبے میں ان سے بڑا نہیں ۔
چوں محمد درمیاں انبیاء ۔۔۔۔۔۔غوث اعظم درمیان اولیاء
جس طرح حضور نبی کریم تمام انبیاء میں امام ہیں اس طرح غوث اعظم تمام اولیاء کےسردار ہیں ،اتنے بڑے مرتبے والے نے منکر نکیر کو ستایا ہے کسی اور کو یہ جرات نہیں تھی اور یہاں سیدنا گوھر شاہی اپنے ہر غلام کو کہہ رہے ہیں تم قبر میں منکر نکیر کو ستانا ۔عام انسان کی تو قبر میں سوال جواب کے وقت جان پر بنی ہوگی اور قبر میں سوال جواب انسان کے لطیفہ نفس سے کیے جائیں گے جنکو سیدنا گوھر شاہی یہ فرما رہے ہیں کہ تم منکر نکیر کو قبر میں خوب ستانا تو اندازہ لگائیں انکے صرف نفس کی طاقت کا کیا عالم ہوگا ۔
ہالینڈ میں اپنے ایک خطاب کے دوران سرکار گوھر شاہی نے فرمایا جس کے قلب کو ہم ذکر دے دیں اس کو یہ اجازت ہے کے وہ منکر نکیر کو سیدھا سیدھا جواب نہ دے بلکہ ستائے جب وہ تنگ پڑ جائیں تو کفن اٹھا کر دکھا دے کہ خود دیکھ لو میں کون ہوں۔عام ذاکروں کا خیال یہ ہی تھا کہ دل پر اللہ لکھا ہوگا لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ روحانیت میں ترقی کے بعد جب کسی کےدل پر سرکار کی تصویر آجاتی ہے تو دل کی ہر دھڑکن، خون کی ہر بوند اُس تصویر کو چھو کر گزرتی ہے جسکے اثرات یہ ہوتے ہیں کہ خون کے جرثوموں پر سرکار گوھر شاہی کا عکس آجاتا ہے۔اس سے پہلے یہ ہوتا تھا کہ جب کسی کی نس نس میں ذکر رچ بس جاتا تھا تو انکےخون کے لال خلیے بھی اللہ اللہ کرنا شروع کر دیتے تھے ، جسکے خون کے لال خلیے اللہ اللہ میں لگ جائیں پھر وہ کبھی بھی ناپاک نہیں ہوتا ، وضو کرے یا نہ کرے وہ پاک ہے اور یہ ظاہری بات ہے اور یہاں آ کر روحانیت ختم ہو جاتی ہے ۔
سرکار گوھر شاہی نے اسکی تشریح فرمائی کہ جب تیرے دل نے ایک مرتبہ اللہ کہا تو سلطان صاحب نے کہا بہتر ہزار قرآن پڑھنے کا ثواب اور وہ ملا کیسے؟ یہ بہتر ہزار مسام ہیں ہمارے جسم میں جہاں سے پسینہ آتا ہے، دل نے ایک مرتبہ اللہ ھو کہا بہتر ہزار آوازیں وہاں سے بھی گونجیں ، یہ جسم کے لیےہے اور یہاں تصوف کی انتہا ہو گئی ۔اس سے پہلے دل کی دھڑکنوں میں یا تو اللہ کا ذاتی نام تھا یا پھر صفاتی نام تھا۔ لہذا کوئی ایسا واقعہ ہی نہیں تھا پھرجب سیدنا گوھر شاہی تشریف لے آئے

“توآپ نے لوگوں کے قلوب پر بجائے تحریر کے تصویر لگا دی ، تحریر تونام ہے ، کسی کے نام سے شکل و صورت تو نظر نہیں آتی، جب تصویر دل پر لگ گئی تو حسن ِگوھر شاہی خون میں مکس ہونے لگ گیا ”

سلطان صاحب نے اسی طرح کا تصور اپنی شاعری میں پیش کیا ہے۔
لوں لوں دے وچ لکھ لکھ چشماں۔۔۔۔۔۔۔۔ہک کھولاں ہک کجاں ھو
انہاں ڈٹھیاں مینوں صبر نہ آوے۔۔۔۔میں ہور کدے ول بھجاں ھو

یعنی ایک ایک مسام میں ہزار ہزار آنکھیں ہوں اور اُن ہزار آنکھوں سے دیکھنے پر بھی سیرابی نہیں ہوتی، یہ مقام بھی عشق میں آتا ہے کہ ہزار آنکھوں سے دیکھنے کے بعدبھی دل نہیں بھرتا۔جب دل کا خون سیدنا گوھر شاہی کی تصویر سے ٹکرا ٹکرا کر گزرے گا تو یہ ناممکن ہے کہ بندہ عشق سے ٹکرائے اورعشق نہ بنے۔سیدنا گوھر شاہی کا فرمان ہے “جو امام مہدی سے ٹکرا گیا وہ عشق بن گیا” اس کا یہ ہی مطلب ہےکہ دل پر موجود تصویر کو خون کے قطرے سجدہ کر کر کے آگے بڑھیں گے۔

علمِ نافع کا حصول:

مرشد سےعلم نافع کا حصول فیض لینا ہے اور اُس فیض لینے کے دو طریقے ہیں ۔ایک طریقہ جس میں رب کی طرف سے مرشدانِ اعظام کو مامور کیا جاتا ہے جن کے زریعے سینہ بہ سینہ فیض آگے بڑھتا رہتا ہے ۔اسکو قرآن نے وسیلہ کہا ہے ، اب یہ علم نافع سے متعلقہ بات ہے، علم نافع قرآن میں نہیں ہے ، سینہ محمد ؐمیں تھا ، آپ نے فرمایا انا مدینہ العلم وعلی بابھا جنکو علم نافع نہیں ملا وہ وسیلے کے قائل بھی نہیں ہوئے ، وسیلے کے علم کے قائل وہی ہونگے جو باطنی علم والے ہونگے کیونکہ انکو پتا ہے باطنی علم وسیلے کے بغیر ملتا ہی نہیں ہے رہ گئی بات نماز روزہ حج کی اُسکے لیے وسیلے کی ضرورت ہی نہیں ہے اسی لیے کر بھی رہے ہیں ۔وسیلے کی ضرورت اس علم کے لیے ہے جو نہ قرآن میں ہے نہ آپ کے پاس ہے، اگر کوئی چیز آپ کے پاس ہے تو آپ کبھی بھی اسکے لیے وسیلہ تلاش نہیں کریں گے ۔

“باطنی علم کے لیے وسیلے کی ضرورت ہے کیونکہ علم نافع سینوں میں ہے قرآن میں نہیں ہے”

اب ہوا کیا، چونکہ علم نافع وسیلے کے ذریعے آگے بڑھا ، مرشد کاملین نے اپنے مزاج اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کے ساتھ اس علم کو آسگے بڑھایا ، کوئی اور ولی جب آیا اس نے اپنی سمجھ کے مطابق اُس علم کو آگے بڑھایا، یعنی قادری کے یہاں تصوف کی جو تشریح ہے وہ سہروردی کے یہاں کچھ مختلف ہے، اسی طرح چشتیہ سلسلے کی تصوف میں اپنی الگ پہچان ہے تو اس طرح تصوف میں کئی ہاتھ لگ گئے،گویا تصوف نہ ہواطوائفہ ہوگیا ادھر بھی گیا ادھر بھی گیا جدھر بھی گیا لوگوں نے اس میں اپنا اثرڈال دیا یہ ہی وجہ ہے کہ آج تک روحانیت کی حقیقی تصویر کوئی سمجھ ہی نہیں سکا کیونکہ ہر ولی، ہرغوث ہر قلندر ہرولی اوردرویش نے اپنی سمجھ کے مطابق اس علم کی ترجمانی کی ۔یعنی پہلے جو تصوف آیا وہ جسکو بھی جس کے وسیلہ سے ملا اس وسیلہ کا دھاگہ اوراسکا فلیور بھی اس میں شامل ہوا ،خالص اور نرا تصوف نہیں تھا لیکن اب ننگا تصوف آ گیا ہے اور وہ نرا خالص تصوف پہلی مرتبہ دنیا میں جو آیا ہے وہ سیدنا گوھر شاہی کے لبوں سے نکلا ہے ،غوث اعظم نے سلسلہ بنانا تھا اس لیے انکے تصوف میں انکا فلیور اور connotation ہے ، ننگا اور نرا تصوف۔ نہیں آیا، ننگا اور نرا تصوف وہاں سے آئے گا جہاں وسیلہ نہیں ہو گا جس میں وسیلے اور واسطے نہیں ہونگے جو بلا واسطہ ہو گا ۔ سیدنا گوھر شاہی نے کوئی روحانی سلسلہ نہیں بنانا ، اس لیے جو تصوف سرکار گوھر شاہی بیان فرماتے ہیں اس میں اشارتی مفہوم نہیں ہے لہذا اس علم میں گوھر کا رنگ نہیں ہے اور جو راستہ سیدنا گوھر شاہی کی طرف جاتا ہے وہ اس تصوف سے بالکل جدا اور ہٹ کر ہے لہذا اس علم تصوف کو چھیڑا ہی نہیں ننگا اور نرا تصوف رہنے دیا سیدنا گوھر شاہی کے بیان کردہ بلا واسطہ تصوف کو نرا تصوف اس لیے کہا کیونکہ یہ تازہ ہے جس میں کوئی آمیزش اور وسیلے نہیں ہیں۔
تصوف کی کتب کے انبار لگے ہیں پھر بھی لوگ ذکر قلب سے نابلد ہی رہے لیکن اسکے برعکس سیدنا گوھر شاہی کی روحانی گفتگوایسی شفاف اورعام فہم ہے کہ لوگوں کو ذکر قلب اپنانے میں کسی حیل و حجت کی ضروت ہی نہیں رہتی کیونکہ اس میں کوئی connotationنہیں ہے۔ سیدنا گوھر شاہی کی آمد سے قبل روحانیت اور ذکر قلب کو اتنا دشوار بنا دیا گیا کہ لوگ سمجھے کہ ہم تو یہاں تک پہنچ ہی نہیں سکتے لہذا وہ تسبیح سے قریب اور ذکر قلب سے دور ہوگئے ۔

پتھر کی تسبیح کیوں بنی:

ہاتھ سے گھمائی جانے والی تسبیح کیوں بنی یہ کسی نے نہیں بتایا، تسبیح کے مقصد کے بارے میں سیدنا گوھر شاہی نے بتایا کہ جب تمہارے اندر کی تسبیح ختم ہوئی تب تم نے پتھر کی تسبیح ہاتھ میں اٹھالی ۔ جس طرح تسبیح پرایک مرتبہ اللہ کہا اورتسبیح کا ایک دانہ گرایا پھر اللہ ھو کہا اور دوسرا دانہ گرایا اس عمل کا مقصد رب کے نام سے نور بنانا تھا لیکن یہ مطلب تو کسی نے بتایا نہیں لہذا تسبیح سے ورد کا مقصد بھی فوت ہوگیا ، ایک یہ پتھر کی تسبیح ہے ایک تمہارے اندر بھی اسی طرح کی تسبیح ہے وہ تسبیح تمہارے دل کی دھڑکنیں ہیں دھڑکن کی ایک ٹک اللہ کرتی ہے اور دوسری ٹک ھو کرتی ہے۔جب اللہ ھو اللہ ھو کا یہ ذکردل کی دھڑکنوں سے مل جائے گا تو دل میں نور بننا شروع ہو جائے گا پھر اس نور سے دل کے اوپر بیٹھی مخلوق لطیفہ قلب بیدار ہوجاتی ہے یہ اولیاء اعظام کا طریقہ تھا ۔

غور طلب نکتہ:

سیدنا گوھر شاہی نےذکر قلب کا یہ طریقہ بتایا اور سمجھایا اور سکھایا ضرور ہے لیکن سرکار گوھر شاہی کا طریقہ یہ نہیں ہے ۔

سیدنا گوھر شاہی کا طریقہ :

سیدنا گوھرشاہی کا طریقہ براہ راست دل پر بیٹھی روح“لطیفہ قلب” کو اپنی نظروں سے بیدار کردینا ہے، اس سے پہلے والےتصوف میں مرشد سب سے پہلےدل کی دھڑکنوں کوذکر میں لگاتے تھے پھر کہیں تین سال میں جا کراتنا نور بنتا تھا جس سے لطیفہ قلب بیدار ہوتا تھا ۔ حضور پاک سے لے کر غوث اعظم اور پھر سلطان حق باھو نے دل کی دھڑکنوں میں اللہ اللہ بسانے کو ذکر قلب کہا لیکن یہاں سرکارگوھر شاہی نے ذکر قلب چلانے کی جو بات بیان فرمائی وہ اس روح کی بیداری ہے اوروہ پہلے دن ہی بیدارفرما دیا اب لطیفہ قلب دل میں نور پہنچا رہا ہے۔
سیدنا گوھر شاہی سے ذکر لینے کے بعد جب کچھ لوگوں کو دل کی دھڑکنیں محسوس نہیں ہوئیں تو ان کی سمجھ کے لیے مزید تشریح فرمائی کہ ذکر دل اور ذکر قلب میں کیا فرق ہے ؟اگر ذکر دل کی دھڑکنوں کو دیا جائے تو آواز دل کی دھڑکنوں سے نکلے گی اور وہ ذکر محسوس بھی ہو گا لیکن اگر کسی کے قلب کو ذکر دیں تو اسکے اللہ اللہ کرنے کا آپ کو پتا نہیں چلے گا ، ذکرِ دل میں ارتعاش ہو تو پورے جسم دھڑکن بن جاتا ہے لیکن قلبی ذکر کا اللہ کے سوا کسی کو پتا نہیں چلے گا۔
ذکرِ دل اور ذکرِ قلب ایک مشترکہ عمل ہے جسکو سمجھنے کی ضرورت ہے،جس طرح روح کو نماز پڑھانے کے لیے جسم سے ابتداء کرتے ہیں جسم کو جھکاتے ہیں کیونکہ ابھی آپ کی روح معذور ہے جھک نہیں سکتی تو آپ جسم سے نماز ادا کر رہے ہیں ذاکر قلبی کا جسم رکوع سجود کرتا ہے روح تو ابھی نہیں کرتی تو یہ عمل اسکی روح کے کھاتے میں جاتا ہے لیکن جب روح بیدار ہو کر جوان ہو جاتی ہے تو وہ بیت المامور جا کر نماز پڑھتی ہے۔ کہاں زمین پر اٹھنا بیٹھنا اور کہاں بیت امامور میں جا کر نماز ادا کرنا، جب کسی کی روح کو وہ نماز میسر آجاتی ہے تو جسم کہتا ہے مجھے کیوں تھکا رہے ہو، روح اوپر جا کر نماز ادا کر لیتی ہے بندہ بیٹھا رہتا ہے اور اسکو بے نمازی کہنے والوں نےاسکے جسم کو تو دیکھا لیکن اسکی روح کو تو دیکھا ہی نہیں کہ وہ کہاں جا کر نماز ادا کر رہی ہے۔

“نماز کی پرواہ نہ کرنے والا یا تو مردود ہے یا پھر رب کا منظورِنظر ہے جسکا جسم زمین پر اور اس کی روح رب کے روبرو حاضر ہے”

پہلے زمانے میں لوگ دل کی دھڑکنوں کے ذریعے قلب تک پہنچے ، بلھے شاہ بھی دھمال کرتے تھے دل کی دھڑکنیں ابھریں اس سے اللہ ھو ملایا، کسی نے دیواریں چنوائیں یہ سب طریقے دل کی دھڑکنوں کو ابھارنے کے لیے ہیں ، یا ذکر کے حلقے کیے جاتے ہیں یہ ذکر کے لیے نہیں دل کی دھڑکنوں کو اُبھارنے کے لیے ہیں ، سیدنا گوھر شاہی نے فرمایا یہ چیز تو تصور کے ذریعے بھی حاصل ہو جاتی ہے اگر دل پر اسمِ ذات کا تصور کریں تو ویسی ہی کیفیت ہو جائے گی جیسی دھمال کرنے ، دیواریں چنوانے اور حلقہ کرنے سے ہوئی تھی۔

“انسان کے اندر ہی دھڑکن کا سسٹم ہےپہلے جو بھی آئے انکی طاقت دل کی دھڑکنوں میں اسم ذات اتارنے اور اس سے نور بنا نے کی ہے انکی طاقت براہ راست لطیفہ قلب کو چھیڑنے کی نہیں ہے ، لیکن سیدنا گوھر شاہی نے براہ راست لطیفہ قلب میں اسم اتارا”

سیدنا گوھر شاہی نے فرمایا ،ہم نے اللہ سے کہا کہ یہ جو چلے مجاہدے عبادات ہیں اسکا کوئی نعم البدل دے کیونکہ آج کے دور میں انسانوں سے یہ سب نہیں ہو سکے گا ، اب اس کا نعم البدل یہ ہو گیا ہے کہ جسکا لطیفہ قلب ایک مرتبہ جاری ہوگیا بھلے ایک نظر میں یا دل کی دھڑکنوں سے تین سال میں اسکی گارنٹی ہے کہ ایک دن وہ روشن ضمیر بن کے رہے گا لیکن جس کا ابھی دل ذکر سے جاری ہوا ہےاس نے اور ذکر نہیں لیا تو وہ پھر اُسی مقام تک رہ گیا ان میں روشن ضمیری نہیں آئے گی۔ روشن ضمیری ان میں آئے گی جن کو سیدنا گوھر شاہی سے براہ راست ذکر قلبی عطا ہوا ۔ سیدنا گوھر شاہی نعم البدل والی جو عبادت لائے ہیں اس میں دل کی دھڑکنوں پر زور نہیں ہے اس میں براہ راست قلب کو اگر ذکر دیا ہے تو پھر اس کی گارنٹی ہے ۔ کیونکہ قلب کو بیدار کر دیا ، پھر وہ کہیں بھی چلا جائے گارنٹی ہے روشن ضمیر ہو جائے گا۔

روشن ضمیری کیا ہے؟

یہ راز عام فرمانا سیدنا گوھر شاہی امام مہدی کا انسانیت پرکرم ہے۔انسان کے پانچوں لطائف کو ملا کر اسے ضمیر کہتے ہیں اور روشن ضمیری سینے کے پانچ لطیفوں کا بیدار ہونا ہے ،روشن ضمیری یعنی تیری شخصیت کے باطنی رخ یا تیری اندرونی ذات کا منور ہونا۔ دل بند ہوسکتا ہے لیکن اگر کسی کا لطیفہ قلب بیدار ہوا تولطیفہ قلب بند نہیں ہوگا نور بناتا رہے گا اور نور آرام سے نہیں بیٹھے گا پورے سینے میں جائے گا ، جس نے امام مہدی گوھر شاہی سے ذکر لیا ہے اور ذکر چل بھی گیا ہے تو اب زندگی بھر وہ دوسرا کوئی کام نہ بھی کرے ذکر بھی نہ کرے عبادت بھی نہ کرے ۔

“قلب کے نور سے ایک دن باقی لطیفے بھی منور ہو ہی جائیں گے اور وہ ایک دن روشن ضمیر بن ہی جائے گا”
فرمانِ گوھر شاہی

متعلقہ پوسٹس

دوست کے سا تھ شئیر کریں