کیٹیگری: مضامین

حدیث جبرائیل میں درجہ احسان کی دوعبارتیں ہیں جنکی وضاحت بیان کرنا بے حد ضروری ہے۔پھر یہ دیکھیں گے کہ کیا یہ بات اس زمانے میں ممکن ہے یا نہیں ہے ؟اس حدیث کی تشریح سمجھ کر آپ کو معلوم ہو گا کہ دنیا میں آج کل جو کچھ ہورہا ہے وہ کیوں ہو رہا ہے اور اس دنیا اور انسانیت کو امام مہدی کے روپ میں سرکار سیدنا گوہرشاہی کی کس قدر شدید ضرورت ہے۔

قَالَ فَأَخْبِرْنی عَنِ الْاِحْسَانِ، قَالَ:أَنْ تَعْبُدَ اللہَ کَأَنَّکَ تَرَاہ فَإنْ لَمْ تَکُنْ تَرَاہُ فَإنَّہُ یَرَاک
(حدیث جبرائیل)
ترجمہ: مجھے درجہ احسان کے حوالے سے خبر ملی کہ اللہ کی عبادت کرو تو اس طرح اسکی بندگی اختیار کرو کہ تم اسکو دیکھو اور اگر تم اسے دیکھنے کے قابل نہیں تو پھر وہ تمہیں دیکھے۔

مولویوں نے اس حدیث کا ترجمہ یہ کیا ہے کہ تم عبادت میں اسے نہیں دیکھ سکتے تو وہ تو تمہیں دیکھ ہی رہا ہے، یہ بڑی زیادتی ہے۔ وہابی اور سنی علماء سے ہم سوال کرتے ہیں کہ آپ توکہتے ہیں اللہ کا دیدار ہی نہیں ہوسکتا یہاں تک کہ خواص کے دیدار کرنے کے بھی منکر ہیں جبکہ اس حدیث جبرائیل میں عالم اسلام کے خاص و عام اُمتی کو مخاطب کیا جا رہا ہے کہ اللہ کے نزدیک اُسکی پسندیدہ عبادت ہے وہ کیا ہے۔آج جب نماز پڑھتے ہیں تو آپ کو نماز میں دنیا ، بیوی بچوں اور کاروبار کے خیالات آتے ہیں لیکن اللہ تو چاہتا ہے کہ اسکی بندگی ایسی ہو کہ جس میں بندہ اُسے دیکھے ،ستم ظریفی یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی زوجہ محترمہ بی بی عائشہ نے تو سختی کے ساتھ حضور پاک کےدیدار کرنے کو رّد کیا ہے ،شاید وہ اِس حدیث سے اور درجہ احسان سے واقف ہی نہیں تھیں۔ جبکہ اِس حدیث میں اللہ تعالیٰ اپنی خواہش اور طریقہ عبادت بتا رہا ہے کہ عبادت کی کوالٹی ایسی ہو جس میں اللہ کا دیدار ہو۔

اللہ کا دیدارعبادت کا مغز ہے :

عالم اسلام میں ایسے کتنے ہیں جو ایسی عبادت ڈھونڈتے ہوئے نظر آتے ہیں یا اللہ کو دیکھنے کی کوشش کرتے ہوں، اگر آپ کسی مرشد کے ماننے والے ہیں تو اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھیں کہ کیا آپ نے کبھی اپنے مرشد کو کہا کہ حدیث کے مطابق مجھے ایسی عبادت کا پتا دیں جس میں مجھے رب کا دیدار ہو ،یا کبھی کسی شخص نے اپنی مسجد کے خطیب اور امام سے جا کر پوچھا کہ جب آپ عبادت کرتے ہیں تو کیا اللہ کو دیکھ لیتے ہیں ؟کیونکہ میں بھی ایسی ہی عبادت کرنا چاہتا ہوں کہ جس میں اللہ کو دیکھ لوں ،لیکن ایسی باتیں ہوتی نہیں ہیں کیونکہ کوئی ایسی باتیں کرتا ہی نہیں ہے۔ لوگ اسلام پر عمل پیرا ہی نہیں ہیں سب نے اپنی من پسند تاویلات اور مفہوم گھڑ رکھے ہیں ، اپنے الگ الگ فرقے بنا رکھے ہیں جبکہ اللہ کا دیدارعبادت کا مغز ہے ۔

آج کا مضمون حدیث جبرائیل کے اس آخری نکتہ پرمرکوز ہے:

فَإنَّہُ یَرَاک کہ وہ تمہیں دیکھے۔سیدنا و مولانا وملجانا سیدنا گوہرشاہی اپنی تصنیف لطیف دین الہی میں ارشاد فرماتے ہیں کہ “سارے مذہب والوں کو ایک لائن میں کھڑا کردو اب اللہ سے پوچھو کس کو دیکھے گا” یہاں حدیث جبرائیل بھی ذہن میں رکھیں جس میں کہا فَإنَّہُ یَرَاک کہ وہ تمہیں دیکھے۔پھر فرمایا ، “جس طرح آسمان پر رات کے وقت جو بھی ستارا چمکدار ہوگا وہ تمہیں نظر آ جائے گا بھلے اسکا نام تمہیں پتا ہو یا نہ ہو ،اِسی طرح اللہ تعالی چمکتے ہوئے دلوں کو دیکھے گا بھلے وہ کسی مذہب میں ہوں یا نہ ہوں”۔
حدیث کی اس بات سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کا زور اِس بات پر نہیں ہے کہ آپ کونسے مذہب کی عبادت کرتے ہیں بلکہ اللہ کا زور یہ ہے کے عبادت کی قسم کوئی بھی ہو اس عبادت کا نتیجہ یہ نکلے کہ اس عبادت کے موجب تم فَإنَّہُ یَرَاک اللہ کی نظر میں آجاؤ۔ یہ مسئلہ حل ہونے والا تھا نہیں۔ تصوف کی ایک ہزار سے لیکر ایک لاکھ کتب اُٹھا کر دیکھ لیں کسی کتاب حتیٰ کے قرآن پاک میں بھی نہیں لکھا تھا کہ اللہ ،بندے کو کیسے دیکھے گا!نہ تمہاری اللہ سے جان پہچان نہ اسکا اتا پتا معلوم کہ وہ کہاں ہے نہ اس سے رابطہ کر سکتے نہ اُسے چٹھی لکھ کر پوچھ سکتے کہ وہ مجھے کب اور کیسے دیکھے گا۔ نہ تمہارے پاس ایسا کوئی عالم ہےجس کے پاس جا کر پوچھ لیتے کے جناب میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ اللہ مجھے کب دیکھے گا ،کوئی پوچھ بھی لے تو جب وہ خود اس مقام پر فائز نہیں وہ کیسے جواب دے سکتا ہے اور جو اصفیا ء اور صالح کرام آئے انہوں نے اس پر گفتگو نہیں فرمائی ۔
فَإنَّہُ یَرَاک وہ تمہیں دیکھے ،کیسے دیکھے گا ؟ ادھرعام لوگوں کا یہ ہی خیال ہے اللہ تو سب کچھ دیکھ رہا ہے، آپ نے دیکھا ہو گا بعض اسٹیکرز پر لکھا ہوتا ہے اللہ دیکھ رہا ہے، کیا اللہ کے پاس کرنے کو کچھ نہیں ہے وہ بس تمہیں دیکھ رہا ہے ؟ انسانوں کا خیال ہے سارے کام اللہ خود ہی کر رہا ہے لیکن پھر پتا نہیں کیوں تمہارے اچھے بُرے اعمال ریکارڈ کرنے کے لیےاس نےکرامن کاتبین رکھےہیں، رازق اللہ ہے لیکن ہر گھر میں رزق کا اور رحمت کا فرشتہ آتا ہے،لیکن جس گھر میں کتا بندھا ہو اس میں رحمت کا فرشتہ نہیں آتا لیکن جو کتے پالنے والے ہیں انکے گھرتو فرشتے کو نہیں آنا چاہیے تھا لیکن مزے کی بات یہ ہے کہ جتنے کتے پالنے والے ہیں وہ سب عیاشی کی زندگی گزار رہے ہیں بلکہ ان سے زیادہ اچھی جنکے گھر کتا نہیں ہے، بلکہ کتا پالنا توکلاس سمجھا جاتا ہے کوئی غریب کتا نہیں رکھ سکتا ،آپ نے سمجھا جس گھر میں کتا ہے وہاں رحمت کا فرشتہ نہیں جاتا تو کیا اللہ خود تشریف لاتے ہیں کہ فرشتہ تو شاید نہ جائے میں چلا جاتا ہوں اور بھر بھر کے دے کرآتا ہے۔
ایسا نہیں ہے کہ اللہ تعالی ہرچیز دیکھ رہا ہے، اگر آپ کا یہ گمان ہے اللہ تعالی آپ کو دیکھ رہا ہے توپھر دعا کیوں کرتے ہو؟ کوئی غیرت مند مسلمان ایسا ہے جو یہ بتائے کہ اگر اللہ دیکھ رہا ہے تو پھر رو رو کردعائیں کر کر کے اللہ کوکیوں بتا رہے ہو مجھے یہ پریشانی ہے مجھے وہ مصیبت ہے۔ اور اللہ بھی تمہیں مصیبت میں چیختا چلاتا دیکھ کر بھی خاموش ہےقرآن شریف میں لکھا ہے مجھ سے مانگو میں تمہاری دعائیں سنتا ہوں اور ہر انسان دعا میں کہتا ہے اے اللہ یہ بھی دیدے، اے اللہ وہ بھی دیدے اور لوگ مانگے جا رہے ہیں مگر اللہ کچھ بھی نہیں دے رہا۔ جب کچھ ہاتھ نہیں آتا تو اسکی تاویل یہ دیتے ہیں کہ ہماری بہت سی دعائیں ایسی ہیں جو اس دنیا میں ہمارے لیے ٹھیک نہیں اس لئے جنت میں مل جائیں گی یعنی اللہ ان دعاؤں کو رّد نہیں کرتا ، لیکن اگر تم جہنم میں چلے گئے؟
ایسے ہی فضول قسم کے فلسفوں کی وجہ سے تمہارا دین تمہاری اپنی نظر میں مشکوک ہوگیا۔ پہلے تو نہیں لیکن اب ہم نے انٹرنیٹ پربہت سے ایسے مسلمان لوگ دیکھے جن کی پچھلی بیس پچیس نسلیں مسلمان رہی ہونگی لیکن اب اسلام اور مسلمانوں سے اتنا بد ظن ہوئے کہ اب اپنے نام کے ساتھ ایکس مسلم لگاتے ہیں ۔جس طرح نعت شریف پڑھنے کا مزہ تب ہے جب حضور پاک سامنے ہوں اسی طرح عبادت کا مزہ بھی تب ہے جب رب سامنے نظر آئے۔ یہ بات انکے لئے ہے جنہیں اللہ نے اس مقام کے لیے چُن لیا پھر انہوں نے تصفیہ قلب، تزکیہ نفس اور چلے مجاہدے کئے تخلیہ سر کیا اسکے بعد اس مقام پر پہنچ گئے جہاں اللہ کا دیدار ہوگیا، جب اللہ کسی کو ایک دفعہ دیکھ لیتا ہے تو پھر اللہ اُس پر تین سو ساٹھ مرتبہ روزآنہ نظر ڈالتا ہے ۔سیدنا گوہر شاہی نے فرمایا کبھی کبھی اللہ کو یہ خیال آتا ہے کہ یہ تو وہ ہیں جو مجھے دیکھنے کے قابل کیا ایسے بھی لوگ ہوں گے کہ جو مجھے چاہتے ہیں لیکن مجھے دیکھنے کے قابل نہیں ہیں ۔اس وقت کے لیے یہ حدیث ہےکہ

اِنَ اللہ لَا یَنظُراِلَا صُورَکُم وَ اَعمَالَکمُ وَلاَ کِن یَنظُر اِلَا قُلوبِکمُ وَ نیِاتَکُم
ترجمہ :اس وقت اللہ اعمال اور شکل کو نہیں بلکہ دلوں اور ان میں بسی نیتوں کو دیکھتا ہے۔

سیدنا گوہر شاہی نے اس حدیث کی تشریح فرمائی۔ “دلوں کو دیکھے گا” ایک تو ہے دیکھنے کی کوشش اور ایک ہے نظر آجانا۔ جس طرح آسمان بادلوں سے بھرا ہوا ہو اور آپ نے تیس روزے رکھے ہوئے ہوں اور اب یہ زندگی موت کا سوال ہے تو بڑی کوشش کرتے ہیں کہ کسی طرح چاند دیکھ لیں اور ایک ہےنظر آجانا۔وَلاَ کِن یَنظُر اِلَا قُلوبِکمُ، اللہ بھی تمہارے دلوں کو دیکھے گا لیکن سوال تو یہ ہے کہ کیا آپکا دل اللہ کونظر بھی آئے گا ؟ بات تو تب بنے گی جب کوئی دل اسکی نظروں میں آگیا ہو۔ سیدنا گوہر شاہی نے اسکا حل بتا دیا کہ اگر تم چاہتے ہو کہ تمہارے دل بھی اسکی نظروں میں آ جائیں تو اپنے دلوں کو اسکے نور سے چمکا لو، چمکتا دل اس کی نظر میں آجائے گا۔جو لوگ اللہ کا دیدار کر لیتے ہیں انکو تو وہ تین سو سٹھ مرتبہ روزآنہ دیکھتا ہے لیکن کبھی کبھی اسکو خیال آتا ہےکہ عام لوگوں کو دیکھے۔

اللہ کا عام لوگوں کو دیکھنے کی وجہ اور طریقہ کار:

عام لوگوں کو دیکھنےکا خیال اللہ کو تب آتا ہے جب اس نے ایسا مرشد کامل زمین پر مبعوث کیا ہو جو لوگوں کو دلوں کو چمکانے کی تعلیم دے رہا ہو۔ اب اللہ کوتو معلوم ہو کہ کتنے لوگوں کے دلوں کو جاری کرنے کی اجازت اس نے دی ہے تو ایک عرصے بعد وہ دیکھتا ہے کہ اب تک اتنے دل چمک گئے ہوں گے اسوقت وہ دیکھتا ہے۔اللہ کا دیکھنے کا طریقہ کیا ہے؟

مثال:

فرض کیا کوئی یہ نہ بتائے کہ سوئی کہاں رکھی ہے تو ڈھونڈنے والا پورے کمرے میں مارا مارا پھرے گا لیکن اگر کوئی اسکی جگہ بتا دے کہ تو اس جگہ جا کر سوئی دیکھے گا۔اسی طرح اللہ چمکتے ہوئے دل وہیں دیکھے گا جہاں اس نے مرشد کامل بھیجا ہوگا کہ اب تو اس کے بھیجے ہوئےمرشد کے ذریعے اسکے شاگردوں کے دل چمک گئے ہونگے،اُسی مرشد کامل کا تمہارے دلوں کو دیکھنا رب کا دیکھنا ہے ۔جب حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ڈیوٹی تھی تو یہ کام وہ حضور پاک کے ذریعے لیتا تھا جب آپ اس دنیا سے تشریف لے گئے تو آپؐ نے عام لوگوں کو چھوڑ کر ولیوں کی تربیت کا ذمہ اٹھا لیا کہ اب میں باطن میں انکی تربیت کروں گا پھر اللہ جن کی بھی ڈیوٹی دنیا میں لگائے گا ان ولیوں کے ذریعے اللہ دنیا میں عام لوگوں کے دلوں کو دیکھے گا اب جب ولایت ختم ہو گئی تو کیا اللہ کو اب یہ خیال آتا ہو گا کہ عام آدمی کو دیکھوں ؟ کیونکہ کوئی مرشد ہی اس نے دنیا میں مامور نہیں کیا،

”اب تو امام مہدی کا وقت ہے اب اللہ تعالی امام مہدی کی طرف ہی دیکھے گا کہ جنکی تربیت امام مہدی کر رہے ہیں اُنہی کے دل چمک رہے ہونگے انہی کی طرف دیکھوں، اس کا مطلب یہ ہوگیا اب تمہاری نجات امام مہدی کے قدموں میں ہے اللہ کہیں اور گردن اب نہیں گھمائے گا۔“

جب سرکار گوہر شاہی جنگل میں تھے اُسی وقت معلوم ہوا کہ اللہ تعالی دنیا والوں سے بیزار ہوگیا ہے اور اُس نے اس دنیا سے اپنا منہ پھیرا ہوا ہے۔ کیونکہ دنیا جو کچھ روکھی سوکھی عبادت کر رہی ہے جس میں بچوں کی پیسہ کی محبت کی ملاوٹ بھی ہے، کاروبار کی محبت ایسے دل تو وہ ویسے ہی نہیں دیکھتا اور اب چمکتے ہوئے دل ہیں نہیں لہذا وہ منہ پھیر کے بیٹھ گیا ہے آپ کرتے رہیں دعائیں ۔

”جب سرکار گوہر شاہی اِس ذمہ داری کو لیکر دنیا میں آ گئے اور جو جو دل چمکتے رہے تو نگاہ گوہر شاہی کے پیچھے بیٹھا ہوا خدا ان دلوں کو دیکھتا رہا پھر جو جو دل سرکار گوہر شاہی کی ذات والا سے متنفر اور بدگمان ہوتے گئے وہ رب کی نظروں سے گرتے چلے گئے جو سرکار گوہر شاہی کی ذات والا سے منحرف ہوا وہ تباہ و برباد ہو گیا ۔ اسکو یہ معلوم نہیں ہوا کہ اللہ نے اگر کسی کے قلب کو دیکھنا ہے تو بوسیلہ نظر گوہر شاہی دیکھے گا۔“

سیدنا گوھر شاہی کا عام اور خاص پیرو کار کے لئے طریق:

سیدنا گوہر شاہی کے اس دنیا میں آنے سے پہلے بھی یہ ہی طریقہ تھا کہ جو چمکتے ہوئے دل غوث پاک کے زمانے میں تھے تو ان چمکتے ہوئے دلوں کو شیخ عبد القادر جیلانی کی نظروں سے اللہ دیکھتا تھا، پھر سیدنا گوہر شاہی تشریف لے آئے اور آپنے فرمایا

” عام پیرو کار کے دل پر دن میں کم سے کم ا یک مرتبہ نظر ڈالیں گے اور خاص کے سینے سے دن میں ایک مرتبہ ضرور ہمارا وجود باطن گزرے گا۔“

یہ بات روزآنہ یاد رکھیں بھولیں نہیں جس طرح کھانا پینا سونا جاگنا دیکھنا یاد رہتا ہے اِسی طرح یہ بات یاد رکھیں ،کسی ایسی جگہ لکھ کر لگا لیں کہ آپ کو یاد آ جائے کہ کیا آج سرکار میرے سینے سے گزرے ہونگے ، اگر یاد آجائے گا تو ہوسکتا ہے آپ کےسینہ سے گزر جائیں ۔یہ بات اتنی ہی اہم ہے جتنی سیدنا گوھر شاہی کی تصویر مبارک کو دیکھنا۔ جب سرکار سینےسے گزریں گے تو معلوم ہو گا۔عام پیرو کار کے قلب کو دن میں کم سے کم ایک مرتبہ ضرور دیکھیں گے ، یہ عام پیرو کار کی بات بتائی جا رہی ہے اس پر ہوسکتا ہے دن میں دو مرتبہ پھر تین چار ہوسکتا ہے دن میں سو مرتبہ نظر ڈالیں ،سو دفعہ نظر ڈال دیں پھر بھی وہ کہے ھل من مزید ، اب وہ خواص میں آجائے گا کہ اب نظر سے گزارا نہیں ہو رہا اب اسکے سینے سے گزرنا پڑے گا۔

طریقہ ضم:

پہلے نظروں کو سہنے کی مشق ہو گی پہلی مرتبہ جب دل کو دیکھا تو آپ کے ہوش اڑ جائیں گے ، کانپیں گے روئیں گے ، جب دوسری مرتبہ دیکھیں گے تو تھوڑی استطاعت آجائے گی پھر تیسری مرتبہ دیکھیں گے تو اور آئے گی آہستہ آہستہ ظرف بڑھتا جائے گا اور ایک وقت آیئگا جب نظروں سے گزارا نہیں ہوگا آپ کہیں گے مجھے کچھ ہو ہی نہیں رہا ، اِس طرح کہانی آگے بڑھتی رہے گی سو مرتبہ دیکھنے سے بھی کچھ نہیں ہوگا پھر وجود ِباطن گزرنے کی بات آجائے گی جب ایک دفعہ گزرے گا تو بہت ہی عجیب وغریب کیفیات ہونگی دوسری مرتبہ گزرے گا تو کیفیات کم ہو جائیں گی کیونکہ دل کو تھوڑا ظرف مل گیا پھر سو مرتبہ بھی دل سے گزرے گا تو وہ آرام سے بیٹھا ہے اسکے بعد فیصلہ کریں گے کہ اب یہ ضم کے قابل ہو گیا ہے۔ آدمی کے ظرف کی فریکوئینسی جب بڑھ جاتی ہے تو اس کو کچھ محسوس نہیں ہوتا جب کوئی تگڑا جھٹکا لگے گا تب کچھ محسوس ہوا گا تو کہیں گے آج بڑا کرم ہوا ہے ۔پہلی نظر سے سو نظروں کو سہہ جانے کے بعد وجود باطن کے لیے ظرف آزمایا جاتا ہے جب اس سے بھی گزارا نہ ہو تو پھر ضم کر لیتے ہیں یہ طریقہ ضم ہے۔ ضم ہونے کے بعد دماغ بھی بدل جائے گا، انسان اپنے آپ کو انسان نہیں سمجھتا یا تو رب سمجھتا ہے یا مٹی۔
ضم کے بعد دماغ کو سیٹ رکھنا بہت بڑی کرامت ہے اتنی بڑی کہ شاید آپ سمجھ بھی نہ پائیں ، کہ اب ضم والے کو ایک نارمل انسان کی طرح برتاؤبھی کرنا ہے، کیا کیا چیزیں جائز ہیں وہ بھول جاتا ہے، کیا کیا ناجائز یہ بھی بھول جاتا ہے ،اُس پر یہ وقت بھی آتا ہے کہ اگر اسکو کہہ دیا جائے کہ پانی پینا حرام ہے تو وہ پانی پینا چھوڑ دےگا، کوئی دلائل دے تو وہ شک میں پڑ جائے گا، یہ تو حرام ہے اس نے حلال کیسے کہہ دیا، یعنی اسکا دماغ دل اور جذبات سب بدل جائیں گے انسان کی طرح نہیں سوچے گا، اس میں زندگی کی طلب نہیں رہے گی، ایک طلب جو ہو گی وہ رب کی طلب ہوگی جس میں وہ ضم ہوا ہے، ضم ہونے کے بعد طلب ایسی ہو گی کہ جیسے اس میں رتی برابر بھی رب نہیں ہے ، صرف طلب ہے ۔اب اُسے زیرو سے سو تک رب چاہیئے ، حالانکہ ضم ہو گیا ہے لیکن طلب کا یہ عالم ہوگا کہ کہیں سے آجائیں کہیں سے دیکھ لیں ، کیونکہ انکے اندر جانے سے انکی طلب بڑھی ہے، جب تک وہ باہر ہیں طلب نہیں ہے جب وہ اندر چلے گئے تو اب پتا چلا ہے وہ کون ہیں۔
ضم والے کے سوچنے کا انداز بدل جاتا ہے لوگ جتنا چاہے تنگ کریں ناراض نہیں ہونگے کوئی انتہائی قدم نہیں اٹھائیں گے کہ دو دن کی تو زندگی ہے ،وہ دیکھ رہا ہے مرنے کے بعد یہ کہاں جائیں گے اسے افسوس ہو گا اسکی اکڑ پر کہ کتنا بد نصیب ہے جہاں سے اسے گوہر شاہی مل سکتا تھا وہاں سے اس نے شیطان پکڑ لیا ، دنیا لے لی۔جو دل چمک رہا ہے اسکو تو رب دیکھے گا، لیکن جس کے اندر رب کا عکس مبارک آگیا پوری اللہ برادری اسکے قلب کا طواف کرتی ہے اُس وقت اگر اس سے اسکی بیوی نے بدزبانی بدکلامی کی تو ساڑھے تین کروڑ اللہ برادری کی لعنت اس پر پڑتی ہے۔

متعلقہ پوسٹس

دوست کے سا تھ شئیر کریں