کیٹیگری: مضامین

مذہب یا دین کیوں اختیار کیا جاتا ہے ؟

ہم عبادتیں کرتے ہیں نماز اور قرآن پڑھتے ہیں ، حدیثیں بھی پڑھتے ہیں اور ایک مذہبی فریضہ سمجھ کر کرتے ہیں ۔ ہم اس بات سے نابلد ہیں کہ مذہب کیوں اختیار کریں ۔جسطرح پاکستان میں لوگ زیادہ تر شادی کرتےہیں لیکن اُن کو یہ پتہ نہیں ہوتا کہ شادی کیوں رہے ہیں ، والدین نے کہا کہ شادی کر لو تو شادی کر لی۔اسکول میں داخل کرادیا کہ پڑھ لو تو پڑھ لیا یہ نہیں معلوم کہ کیوں پڑھنا ہے ۔اسی طرح دین میں بھی لگے ہوئے ہیں لیکن مذہب اس لئے اختیار کرتے ہیں کہ آدمی اپنی زندگی ایک اصول اور ضابطے کے تحت گزارے ۔میرا ذاتی مشاہدہ تو یہ ہےکہ ہمیں کسی بھی مذہب کو اُس وقت تک نہیں اختیار کرنا چاہیے جب تک اتنے باشعور نہ ہوجائیں کہ ہمیں یہ پتہ ہو کہ مذہب اختیار کرنا چاہیے یا نہیں ۔اگر آپ ڈاکٹر کے بجائے انجینئر بننا چاہتے ہیں لیکن آپ میڈیکل سائنس پڑھ رہے ہیں تو اس سبجیکٹ کے بارے میں کبھی بھی آ پ کی دلچسپی نہیں ہو گی ۔اسی طرح ہمار ے ملک پاکستان میں لوگ اپنی زندگیاں گزار دیتے ہیں بنا جانے کہ کیوں گزار رہے ہیں ۔جس گھرانے میں ہم پیدا ہوئے، جیسا ماحول ہم نے دیکھا ، اسی دین میں لگ گئےیہ جاننے کی کوشش بھی نہیں کرتے کہ دین کی ضرورت کیوں ہے ؟ کبھی کبھی ہم دین کو اپنی انانیت کی تسکین کا زریعہ بناتےہیں لیکن دین کی ضرورت کیوں ہے یہ جاننا بڑا ضروری ہے ۔اگر آپ قرآن ، بائبل ، بھگوت گیتا پڑھ رہے ہیں اور معلوم ہی نہیں ہے کہ کیوں پڑھ رہے ہیں تو بیکار ہے ۔
“دین” سریانی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہوتا ہے رہن سہن کا طریقہ ۔دین صرف چند مختلف نوع عبادات کا مجموعہ نہیں ہے جیسے نماز ، روزہ، حج ، زکوة صرف یہ دین نہیں ہے بلکہ یہ دین کا ایک جز ہے جسے عبادات کہتے ہیں ۔بدقسمتی سے ہمارے ملک پاکستان میں داڑھی اور نماز کو مکمل دین سمجھا جاتا ہے جو یہ کام کرتا ہے وہ دیندار آدمی ہے لیکن یہ تاثر غلط ہے دین صرف نمازوں کا نام نہیں ہے بلکہ وہ ایک جز ہے ۔آپ نماز بھی پڑھتے ہیں ، روزہ بھی رکھتے ہیں ، حج بھی کرتے ہیں ، زکوة بھی دیتے ہیں لیکن آپ کے جینے کا جو طریقہ ہے وہ اُس دین کے مطابق نہیں ہے تو پھر آپ دیندار نہیں ہیں ۔اگر “دین اسلام “کی تشریح کی جائے تو وہ یہ ہو گی کہ اسلام کے طریقے پر جینا ۔دین اسلام پر عمل پیرا ہونے سے مراد یہ ہے کہ اسلام کے اصولوں پر آپ اپنی زندگی گزاریں اور اسلام کے اصول محمد الرسول اللہ کی ذات ہے ۔دین اسلام کا ترجمہ یہ ہوا کہ ایسے جیو جیسے محمد الرسول اللہ جئیے۔اب دین اللہ کیا ہے ؟ قرآن مجید میں اللہ کے دین کے بارے میں آیا ہے کہ

إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّـهِ وَالْفَتْحُ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّـهِ أَفْوَاجًا
سورة النصر آیت نمبر 1 تا 2
ترجمہ : جب اللہ کی مدد آ پہنچے گی تو سب کچھ کھل جائے گاتو پھر آپؐ دیکھنا مستقبل قریب میں میں انسانوں کو اپنا طرز حیات سکھاؤں گا۔

اس آیت میں مستقبل کا اشارہ دیا جارہا ہے کسی ایک قوم سے خطاب نہیں ہے بلکہ انسانیت سے خطاب ہے کہ مستقبل میں میں اپنا رہن سہن لوگوں میں متعارف کرواں گا۔جیسے میں رہتا ہوں وہی رہن سہن کا طریقہ انسانوں کو دوں گاکہ وہ اس طرح رہیں جیسے میں رہتا ہوں۔اور آپؐ دیکھیئے گا انسانیت جوق در جوق مختلف گروہوں میں کس طرح اللہ کے دین میں داخل ہوتے ہیں ۔یہ ہو گیا اللہ کے رہن سہن کا طریقہ ۔اب لوگ اللہ کے بارے میں کیا جانتے ہیں ، اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ کے بارے میں کچھ جانتے ہیں تو آپ احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں ۔اسی طرح محمد الرسول کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں ؟ سوائے چند باتوں کہ جواحادیث میں یا قرآن میں ملتی ہیں ۔

حضوؐر عظیم خُلقِ کے مالک ہیں :

اللہ نے حضوؐرکے بارے میں چھوٹے چھوٹے لفظوں میں اتنی بڑی بڑی باتیں کہیں ہیں جیسے قرآن میں ہے کہ

وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ
سورة القلم آیت نمبر 4
ترجمہ : یارسوال اللہ آپ جیسا خُلق کسی کے پاس نہیں ہے ۔

آپ اعلی ترین خُلق کے مالک ہیں ۔ عربی میں کردار کو خُلق کہتے ہیں ۔کیا حضوؐرکا یہ کردار ہو سکتا ہے کہ کوئی یہودی نظر آیا اور آپ نے اسے پکڑ کر ماردیا؟ امریکہ یا انگلینڈ نے چار سو سال پہلے کوئی سازش کی اور چار سو سال کے بعد آ پ امریکن یا برٹش کو گولی مار دیں کہ انہوں نے ہم کو محکوم کیا تھا۔ لیکن جنہوں نےمحکوم کیا تھا وہ تو تین سو سال پہلے چلے گئے، انہوں نے تو نہیں کیا ۔ ان کو مارنا تو نا انصافی ہو گی ۔آج جو قرآن مجید اور دین اسلام کی آڑ میں جو کفر، خرافات اور غلاظت پھیلائی جا رہی ہے وہ قطعی دین ِ اسلام کا حصہ ّنہیں ہو سکتا ۔نبی پاکؐ کا خلق تو ایسا تھا کہ آپ جا رہے ہیں اور ایک یہودی عورت راستے میں کچرا پھینکتی تھی آپؐ کچرا صاف کر کے گزر جاتے اور کچھ نہیں کہتے تھے ۔دوسرے تیسرے دن بھی یہی ہوتا ہے اور وہ یہودی عورت اسے معمول بنا لیتی ہے اور آپؐ راستہ نہیں بدلتے تھے۔ایک دن وہ عورت نظر نہیں آئی تو آپؐ کو تشویش ہوئی کہ وہ بڑھیا کہاں گئی ۔ لوگوں سے پوچھا تو معلوم ہوا کہ وہ بڑھابیمار ہے تو آپؐ اُس کی تیمارداری کو چلے گئے۔اُس بڑھیا نے جب یہ دیکھا کہ حضوؐراُس کے گھر میں آ گئے ہیں اور پوچھ رہے ہیں کہ کیسی ہو آج تم کچرا پھینکنے نہیں آئی ؟ تو وہ رونے لگ جاتی ہے اور کہتی ہے کہ میں تو روز آپ پر کچرا پھینکتی تھی اور آپ کو میرا اتنا خیال ہے کہ آپ پوچھنے آ گئے ۔اس واقعے کا اس بڑھیا پر اتنا اثر ہوا کہ فوراًکہا میں آپ کے دین پر ایمان لاتی ہوں ۔

“دین اسلام نماز، حج ، روزہ اور زکوة کی وجہ سے نہیں پھیلا تھا ، دین اسلام کردارِ مصطفی سے پھیلا تھا۔لوگوں نے حضوؐرکی شخصیت، ذات اورخُلق کو دیکھا تھا ۔آپؐ کا کردار اتنا حلیم اور خیال رکھنے والا تھا کہ مسلمان کا ہی نہیں بلکہ یہودی کا خیال رکھ رہے ہیں ۔ آج اسلام کی بڑی بڑی تفسیریں بیان کرنے والے کہتے ہیں کہ یہودی اور عیسائی تمھارے دوست نہیں ہو سکتے ہیں ، جو اِن کے ساتھ بیٹھے گا وہ غدار اور واجب القتل ہے جبکہ حضوؐرنے تو سب پر کرم فرمایا ہے “

آپ کے خلق کی بیشمار مثالیں ہیں ایک دفعہ آپ نےیہودیوں کو دعوت پر مدعو کیا ۔ دعوت کا مدعا یہ تھا کہ جب یہ دعوت پر آئیں گے تو پھر ہم ان سے دین کی بھی کچھ بات کریں گے ۔اُن یہودیوں میں ایک شخص ایسا بھی تھا جو بہت کھاتا تھا، شرارتی بھی تھا اور حضوؐرسے بغض بھی رکھتا تھا۔اُس دعوت میں وہ بھی آ گیا اور سارا کھانا وہی کھا گیا ۔پھر کھانا منگوایا وہ پھر کھا گیا ۔ اُس کا یہ خیال تھا کہ آپ معاشی طور پر اتنے مضبوط نہیں ہیں اتنا کھانا کہاں سے منگوائیں گے لیکن حضوؐرتو ساری دنیا کے بادشاہ ہیں ، اُن کے ایک اشارے پر ساری دنیا اُنکے قدموں پر ہے لہذا وہ کھا نا آتا رہا اور سب نے کھا لیا لیکن اُس بندے کا حال یہ ہو گیا تھا کہ اُٹھا اور بیٹھا بھی نہیں جا رہا تھا ۔ پھر حضوؐرنے اُس کو کہا کہ اگر تم اُٹھنے اور بیٹھنے سے قاصر ہو تو ہمارے ہی کسی آدمی کے گھر سو جاؤ ۔ حضوؐر کی مسجد کے برابر میں ایک حجرہ تھا آپؐ نے اُسے وہیں سُلا دیا ۔ بستر پر لیٹا اور اُس کو نیند آ گئی سوتے سوتے ہیں اُس نے بستر پر رفع حاجت کر دیا ، اُس سے اُٹھا ہی نہیں جا رہا تھا۔ایک صحابی نے باہر سے کنڈی بھی لگا دی کہ یہ یہودی فتنہ پرست ہے کہیں بھاگ نہ جائے ۔اب وہ یہودی بہت شرمندہ تھا کہ صبح جب سب لوگ اور حضوؐرآئیں گے تو میرا بہت مذاق اُڑایا جائے گا، جانے کی کوشش کی لیکن دروازہ بند تھا۔ پھر علی الصبح حضوؐرنے اُس پر کرم کر دیا اور اُٹھ کر تشریف لائے اور دروازہ کھولا ۔ وہ یہودی بڑی شرمندگی کے عالم میں تھا ، حضوؐرنے اسے چادر لا کر دی اور کہا کہ تم چلے جاؤاور پھر اس کی جو غلاظت تھی وہ حضوؐرنے اپنی ہاتھوں سے دھوئی صحابہ کو ہاتھ نہیں لگانے دیا ۔یہ کردار مصطفی ہے ۔

اللہ صرف اُن کو دیکھتا ہے جن سے تعلق قائم ہو جاتا ہے :

آج کے دور میں اگر ہم چاہتے ہیں کہ نوجوانوں کو دین ِ اسلام کی طرف راغب کریں تو اُس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ کسی طریقے سے اُن کے دلوں میں حضوؐرکی محبت ڈال دیں ۔ میں تواس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اگر کسی میں گلیمر یعنی دلفریبی حسن نہ ہو تو اس میں مزا نہیں آتا ہے ۔اگر کسی ٹی وی ایکٹر سے ملتے ہیں تو کتنا مزاآتا ہے اور یہ گلیمر کی وجہ سے ہے ۔اسی طرح حضوؐرکی ذات میں گلیمر کیوں نہیں ڈھونڈتے ۔ آپؐ توشب معراج پر جسم سمیت اللہ کا دیدار کر کے آئے ،آخری پیغمبر بھی ہیں رسول بھی، یہ بھی تو ایک گلیمر ہے ۔اللہ کی ذات میں بھی گلیمر ہے کہ ساری کائنات کا بنانے والا اُس سے بھی میری جان پہچان ہونی چاہیے۔کیا ہم کبھی یہ سوچتے ہیں کہ اللہ ہمیں ذاتی طور پر جانتا ہے ؟ بس لوگوں نے یہ بنایا ہوا ہے کہ اللہ تو سب کچھ جانتا ہے اگر اللہ سب کچھ جانتا ہے تو پھر دعا کیو ں کرتے ہو !! تم پر جب مصیبت اور پریشان آئی اور کوئی مددگار نہیں ملا ، اللہ تو سب کچھ جانتا ہے اور دیکھ رہا ہے تو پھر تمھار ی مصیبت میں مدد کیوں نہیں ہوئی ۔وہ مدد اس لئے نہیں ہو رہی ہے کہ اللہ تمھیں جانتا ہی نہیں ہے ۔اللہ تعالی کی ساری مخلوق ہے کھربوں لوگوں کو بنایا ہے ، اللہ سب کو نہیں دیکھ رہا ہے اُس کے دیکھنے کا طریقہ جدا ہے ، اُس کی سماعت اور بصارت ہم انسانوں سے مختلف ہے کیونکہ وہ اللہ ہے اور ہم اس کی مخلوق ہیں ۔ہمارا جسم مٹی سے بنایا گیا اور روحیں ڈالی گئیں ، اُن روحوں کی کوالٹی یہ ہے کہ اگر اُس میں نار آ جائے تو ہم جادوگر اور شیطان بن جاتے ہیں اور اگر انہی روحوں میں نور آ جائےتو ہم ولی اللہ بن جاتے ہیں ۔ایک عام آدمی اور شیطان میں یہی فرق ہے ، عام آدمی کا جسم گناہوں میں لت پت ہے لیکن اگر وہی نار اس کی روحوں میں چلی جائے تو وہ نار اپنی طاقت سے چیزوں کو زیر کر لیتی ہے پھر وہ جنات پربھی قبضہ کر لیتا ہے اور لوگوں کے اذہان کو بھی قابو میں کر لیتا ہے ۔گناہگار کا جسم گناہوں میں لگا ہوا ہے جو پارسا لوگ ہیں وہ مسجدوں میں عبادت میں لگے ہوئے ہیں اور اُن عبادتوں سے جو نور بن رہا ہے وہ بھی اُن کے جسم تک ہی محدود ہے کوئی اور خاص بات نہیں ہے ۔خاص بات جب آئے گی جب نور روحوں تک جائے گا کیونکہ انسان کی حقیقت اسکا جسم نہیں بلکہ اسکی روح ہے کیونکہ جسم تو یہاں ماں کے پیٹ میں بناہے جبکہ روحیں رب کی طرف سے آئیں ہیں ، اُن روحوں کو اللہ نے امر کن سے بنایا ہے اور انہی روحوں نے واپس جانا ہے ۔آپ نے اپنی عبادات کو بھی جسم تک محدود کیا ہوا ہے ، جسم نماز میں لگا ہوا ہے اور آپ دنیا داری میں ہیں تو وہ نماز بھی دنیا داری میں چلی گئی ۔فرمان گوھر شاہی ہے کہ
اگر تو نماز میں کھڑا ہے اور دوران نماز اگر کاروبار کا خیال آیا تو وہ نماز کا نور کاروبار میں چلا گیا جس کی وجہ سے کاروبار میں برکت ہو گئی اور تم نے سوچا کہ اللہ مجھ سے راضی ہوگیا ہے اور یہ نماز کا معجزہ ہےکہ جب سے میں نے نماز پڑھنی شروع کی ہے میرے حالات بہتر ہو گئے ہیں ۔حالات بہتر نہیں ہوئے بلکہ وہ نماز کا نور اللہ کی طرف جانے کے بجائے کاروبار میں چلا گیا ہے ۔
پہلی بات تو یہ ہے جب کسی کو ذکر قلب دیا جاتا ہے تو اُس بندے کے حلیے کو مرشد کامل بیت المامور میں لے کر جاتاہے جہاں اللہ عارضی طور پر کبھی کبھی آتا ہےاور جس جگہ وہ بیٹھتا ہے اسے عنکوبت کہتے ہیں ۔ مرشد کامل باطنی طورپر اُس بندے کے حلیے کو بیت المامور پر لے جاتا ہے ۔اللہ تعالی پوچھتا ہے اس کو کیوں لے کر آئے ہو ، مرشد کامل کہتا ہے تجھ سے دوستی کرانے کے لئے۔اگر اللہ تعالی یہ کہہ دے کہ مجھے اس بند ے سے دوستی نہیں کرنی تو پھر دوسرا سوال نہیں ہوتا ہے اور وہ واپس آ جاتا ہے ، اسی کو مردود کہتے ہیں کہ اللہ نے رد کر دیا ہے ۔ایک لاکھ لوگوں کے حلیے اللہ کے پاس جائیں تو اُن میں سے کسی ایک کو اپنی دوستی کے لئے اللہ منتخب کرتا ہے اور باقی سب مردود ہو گئے ۔ اب یہ اللہ کی مرضی ہے اور اس کا طریقہ یہی ہے ۔ جب نور قلب میں جاتا ہے اور قلب اُس نور سے منور ہونے لگتا ہے تو یہ اللہ کا خالصتاً اُس پر کرم ہو گیا لیکن جس کی دھڑکنوں میں یہ اللہ کا نام چلا گیا ہے وہ یہ سوچے کہ وہ کتنا خوش نصیب ہے کہ اللہ نے اُسے اپنی دوستی کے لئے قبول کر لیا ہے ۔کیا کوئی انسان کسی دوسرے انسان سے اتنی محبت کر سکتا ہے کہ اُٹھتے ، بیٹھتے، کروٹوں کے بل اسی کا نام گونج رہا ہو ؟ ایسا نہیں ہے ۔ اللہ جس سے دوستی کر لیتا ہے اس کی ابتدا یہ ہے اذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْتم میرا ذکر و میں تمھارا ذکر کروں گا۔حضوؐرنے بھی یہی فرمایا ہے من احب شی اکثراذکرہ کہ جس سے محبت ہوتی ہے اس کا کثرت سے ذکر کیا جاتا ہے ۔اب جب اللہ نے سی کو قبول کر لیا اور اس کے دل میں نور آ گیا اب وہ بندہ اللہ کی نظر میں ہے کیونکہ اس نور کی وجہ سے اللہ سے تعلق ہو گیا ہے ۔اللہ بھی اس بندے کا نام لیتا ہے جس سے روحوں میں ایک عجیب سے نشہ اور سرشاری ہو گی ۔

یوم محشر اُمتیوں کی پہچان اُن کو عطا کردہ نور سے ہو گی :

آج مسلمانوں کا یہ حال ہے کہ وہ خود کو شیعہ ، سنی ، یہودی ، دیوبندی کہلاتے ہیں کوئی اُمتی نہیں کہتا ۔اُمتی تو نور کی وجہ سے بنتا ہے اور وہ سینوں میں موجود نہیں ہے ۔حدیث میں ہے کہ “یوم محشر میں امتیوں کی پہچان نور سے ہوگی “۔ ایک ہی نام اور شکل کے کتنے لوگ ہوں گے ، جب تعداد بڑھ جاتی ہے تو اُن کی پہچان کا طریقہ بھی بدل جاتا ہے ۔ اللہ تعالی نے ہر مرسل کو اپنا کوئی نہ کوئی اسم عطا کیا ہے جیسے موسیٰ کو “یارحمان” کا اسم عطا کیا گیا ، داؤود کو “یاودود” کا اسم عطا کیا،عیسیٰ کو “یا قدوس “کا اسم عطا کیا اور حضوؐرکو “اللہ ھو” کا اسم عطا کیا ۔اب جب اللہ نے مختلف انبیا و مرسلین کو یہ اسم عطا کیے تو اُن کے قلب بھی وہی ذکر کرتے تھے ۔جیسے موسیٰ کے اُمتی “یا رحمان” کا نور اپنے قلب میں بساتے تھے اور اس کی مدد سے جہاں تک اس کی رسائی ہے وہ ہو جاتی ہے ۔پانچ مرسلین آئے ہیں اور آپ کے سینے میں پانچ ہی روحیں ہیں ، ہر مرسل کو اللہ نے ایک لطیفے کا علم دے کر بھیجا ۔ آدم صفی اللہ کو قلب کا علم اور نبوت عطا کی ،اس کے ابراھیم خلیل اللہ بھی آ گئے اُن کو لطیفہ روح کی طاقت اور علم دیا ،اب دوروحوں کا علم آیا اس لئے اُن کا مقام بڑھ گیا ۔پھر موسیٰ آ گئے تو اُن کو لطیفہ سری کی نبوت، علم اور فیض عطا کیا، ان کی افادیت اور زیادہ بڑھ گئی کیونکہ یہ عبادت تین روحوں سے کرنے لگ گئے ۔ اس کے بعد عیسیٰ آگے تو اُن کو لطیفہ خفی کی تعلیم اور نبوت عطا کی گئی ، اب یہ امت پچھلی اُمت سے آگے بڑھ گئی کیونکہ اب یہ چار روحوں سے عبادت کرنے لگ گئے ۔ آخر میں محمد الرسول اللہ تشریف لے آئے اُن کو لطیفہ اخفی کی تعلیم اور نبوت مل گئی لہذا حضوؐرکی اُمت افضل ترین اُمت ہو گئی ۔حضورؐ کا امتی پانچوں روحوں سے عبادت کر رہا ہے بھلے جسم سوتا رہے ۔ مولانا روم نے کہا دست بہ کاردل بہ یار ۔۔۔۔ یعنی ہاتھ کام کاج میں لگا ہوا ہے اور د ل رب کی یاد میں مشغول ہے ۔ پنجابی میں بھی اس کا ترجمہ ہے سلطان حق باہو نے کہا ہے کہ ہتھ کار ول ، دل یار ول ۔۔۔ ہاتھ کام کاج میں مشغول ہے اور دل اللہ اللہ میں ہے ۔
لوکی پنج ویلے تے عاشق ہر ویلے۔۔۔۔۔ لوکی مسیتی عاشق قدماں
لوگ پانچ وقت مسجد میں نماز پڑھنے جاتے ہیں لیکن عاشق ہر وقت اس کی یاد میں رہتا ہے اب یہ جو ہر وقت اللہ کو یاد کرنے کا فلسفہ ہے یہ لوگوں کو سمجھ نہیں آیا ہے ۔سیدنا گوھر شاہی نے سمجھایا کہ تمھاری شخصیت تمھارے جسم تک محدود تو نہیں ہے تمھارے اندرر وحیں بھی موجود ہیں ، جس چیز کو اللہ نے ذکر کرنے کے لئے کہا ہے اُس کے بیوی بچے نہیں ہیں اور نہ ہی اُسے کام پر جانا ہے ۔تصوف اس چیز کا نام نہیں ہے کہ آپ مسجد میں چلہ کر کے بیٹھ جائیں ، دنیا داری چھوڑ دیں ،تصوف اُن روحوں کو نورانی کرنا ہے اور جسم جو کام کر رہا ہے وہی کرتا رہے ۔جب ایک ایک مرسل کو اللہ نے صفاتی اسم عطا کر دیا اور اس کو جب دل میں امتوں نے بسایا تو اُس سے صفاتی نور بنا ، جہاں تک صفاتی نور کی رسائی ہو گی وہیں تک اُس بندے کی رسائی ہو گی لیکن حضورنبی کریمؐ کو اللہ نے اپنا ذاتی اسم مبارک عطا کیا جس کی وجہ سے آپؐ جسم سمیت اللہ کا دیدار کرنے چلے گئےاور آپؐ کے طفیل اُمت میں سے بھی ہزاروں اولیا کو اللہ کا دیدار ہو گیا جیسے امام ابو حنیفہ فرماتے ہیں کہ میں نے 99 مرتبہ اللہ کا خواب میں دیدار کیا ہے ۔ابراھیم بن ادھم فرماتے ہیں کہ میں نے 70 مرتبہ خواب میں اللہ کا دیدار کیا ہے اور چار مسئلے اللہ سے سیکھے اُن میں سے ایک دنیا والوں کو بتایا تو سب نے مجھے کافر کہہ دیا ۔اور سلطان حق باہو کہتے ہیں جس دم غافل سو دم کافر ۔۔۔۔ جس دم بھی اللہ کے چہرے سے نظر ہٹ جائے تو وہ لمحہ میں سمجھتا ہوں کہ کافر ہو ں۔وہ کہتے ہیں کہ میں جب چاہوں اللہ کا دیدار کر لوں اور یہ حضوؐرکے طفیل ہی ہوا ہے ۔موسی کو “یارحمان” کا اسم ملا تھا یوم محشر میں جو بندہ یا رحمان کے نور سے چمک رہا ہو گا یہ اس بات کی علامت ہو گی کہ یہ موسی کی اُمت میں سے ہے ۔جو یاودود کے نور سے چمک رہی ہو گی وہ داؤود کی اُمت ہو گی ۔ جو یا قدوس سے چمک رہی ہو گی وہ عیسیٰ کی امت ہے اور جو اللہ ھو کے نور سے چمک رہی ہو گی وہ محمدؐ کی اُمت ہو گئی ۔

“سرکار گوھر شاہی لوگوں کے دلوں میں اللہ ھو کا نور بسا رہے ہیں تو زرا دیکھیے یوم محشر میں اُس کی پہچان یہ ہو گی کہ یہ حضوؐرکا اُمتی ہے ۔یہاں اس دنیا میں اُس کا جسم کچھ بھی کرتا رہا لیکن دل میں اللہ ھو کے نور کی وجہ سے اس کا شمار اُمتیوں میں ہو گیا”

آج کا مسلمان خود کو ہدایت یافتہ سمجھتا ہے اللہ تعالی نے نبی کریمؐ کے لئے قرآن میں ارشاد فرمایا کہ

وَوَجَدَكَ ضَالًّا فَهَدَىٰ
سورة والضحی آیت نمبر 4
ترجمہ : اور تجھے راہ بھولا دیکھا تو ہدایت نہیں دی ۔

حالانکہ حضوؐرنے فرمایا کہ میں یہاں آنے سے پہلے بھی نبی تھااُس کے باوجود اللہ تعالی فرما رہے ہیں کہ آپ جب راہ بھولے ہوئے تھے تو ہم نے ہدایت دی ۔تو اس کا مطلب ہے ہدایت خود بہ خود نہیں ملے گی بلکہ اللہ ہدایت دے گا۔یہ سیدنا گوھر شاہی کا انسانیت پر کرم ہو رہا ہے ۔ ملک پاکستان میں باتیں کرنے والے تو بہت ہیں لیکن سرکار گوھر شاہی اور ہمارا عمل دیکھیں کہ یہودی آئے ، کرسچن آئے، ہندو آئے ہم اُس کو اللہ ھو کا ذکر دے رہے ہیں ۔ابھی تم اُسے کچھ بھی کہتے رہے لیکن یوم محشر میں اُس کی پہچان وہی ہو گی جس نور سے وہ چمک رہا ہے ، اللہ ملائکہ اور فرشتے تو اُسے حضوؐرکا اُمتی ہی کہیں گے ۔آپ اسے کافر، گمراہ اور یہودیوں کا ایجنٹ کہتے رہو ۔ لوگوں نے ساری زندگی نماز ، روزہ ، حج اور زکوة میں لگا دی لیکن یوم محشر اُن کے پاس ایسی کوئی علامت نہیں ہے جسے وہ دکھا سکیں تو یوم محشر میں اُن سے سوال جواب ہوں گے۔ لیکن جس کے دل میں اللہ ھو کا نور جاگزیں ہو گیا یوم محشر میں وہ نور اس کی پہچان بن گیا اور اُس سے کوئی سوال جواب نہیں ہو گا۔اب ہم جگہ جگہ جاکر لوگوں کو اسم اللہ دے رہے ہیں پہلے یہ چیز اتنے آرام سے نہیں ملتی تھی کئی کئی سال لگانے کے بعد یہ ذکر قلب عطا ہوتا تھا لیکن آج کے دور میں لوگ اُس معیار پر پورے نہیں اُتر سکتے کیونکہ وہ جو ازلی مومن روحیں تھی جنھوں نے ازل میں اللہ سے محبت کی تھی جب وہ مسجد اور مدرسوں میں گئے تو انہیں مزا نہیں آیا ۔ جن روحوں کو اللہ کی محبت کی لت لگ گئی وہ اس سے کم پر راضی نہیں ہوتے ، وہ انسانوں میں اس محبت کو تلاش کرتے ہیں لیکن وہ تو اللہ کی محبت کا نشہ ہے انسانوں میں بھلا کیسے ملے گا، ایسے ہی لوگوں کے لئے یہ آیت آئی ہے ۔

أَلَا بِذِكْرِ اللَّـهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ
سورة الرعد آیت نمبر 28
ترجمہ : دلوں کا اطمینان اللہ کے ذکر میں ہے ۔

دلوں میں جب اللہ کا نام اتر گیا تو وہ یوم ازل میں جورب کے دیداراور صحبت کا مزاتھا وہ آہستہ آہستہ جاگنا شروع کر دیتا ہے اور ایک وقت یہ آتا ہے کہ وہ روح اتنی طاقتور ہو جاتی ہے کہ اب وہ جسم کو حکم دیتی ہے کہ تم یہاں جاؤ، تم یہ کرو۔ پھر نور پورے وجود میں سرائیت کر جاتا ہے ۔ حدیث شریف میں ہےاتقوا فراسة المؤمن؛ فإنه ينظر بنور الله ۔۔ کہ مومن کی فراست سے ڈرو کیونکہ وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے ۔جب نور بننا شروع ہو جاتا ہے تو اُن لفظوں کے ساتھ بھی نور نکلنا شروع ہو جاتا ہے اور دل میں بھی نور ہے تو پھر تجھے مزا آئے گاسننے میں ، مولوی کی بات سننے میں مزا نہیں آئے گاکسی درویش کی بات سننے میں مزا اس لئے آئے گاکہ اُس کے لفظوں کے ساتھ نور ہے ۔جسطرح کئی معروف شعرا ہیں جیسے غالب، اقبال، میر تقی میر لیکن ان شعرا کی شاعری اس طرح نہیں پڑھی جاتی جسطرح سلطان حق باہو اور بلھے شاہ کی شاعری باربار مختلف محافل میں پڑھی جاتی ہے کیونکہ ان کی شاعری میں اللہ کا نور ہے ۔
اب جو لوگ اللہ ھو میں لگ جاتے ہیں اُن کو نماز روزہ کرنے میں سستی آتی ہے تو اُن کو وسوسہ یہ آتا ہے کہ شاید یہ غلط کام ہے پہلے تو میں اچھا بھلا تھا اب نماز میں سست ہو گیا ہوں ۔سست تو جسم ہوا ہے جو دل میں اللہ ھو گئی ہے اس کو تم غلط کیوں سمجھ رہے ہو ۔قصور تو تمھارا ہے کہ تم سست کیوں ہوئےجو لوگ اللہ ھو کرتے ہیں اور نمازوں میں سست ہو گئے ہیں وہ اللہ ھو کو قصور وار نہ ٹھہرائیں بلکہ یہ اُن کی اپنی سستی ہے ۔ یہ آخری دور ہے اللہ تعالی نے گناہ گاروں کے لئے یہ ایک احسان فرمایا ہے کہ اگر یہ اللہ ھو کا نام اُن کے اندر داخل ہو گیا تو وہ کسی بھی عبادت میں کبھی بھی نہ جائیں تو ایک دن وہ روشن ضمیر بن جائیں گے کیونکہ وہ جو اندر اسم ذات کا بیچ چلا گیا ہے وہ ٹکرا ٹکرا کر نور بناتا رہے گا۔ اندر ہی اندر انقلاب آتا رہے گا اور پورے نس نس میں نور پہنچ جائے گا۔اکثر سنتے ہیں کہ جو خانہ کعبہ میں جا کر نماز پڑھے گا اسے سوالاکھ نماز کا ثواب ملے گااور جو مدینہ شریف جا کر نماز پڑھے تو ایک نماز کا پچاس ہزار نمازوں کا ثواب ملتا ہے یہ بات درویشوں نے کہی تھی اور مولویوں نے نقل کی ۔ درویشوں نے کہی تھی کہ جس کے دل پر کعبہ آ جائے تو وہ جہاں بھی پڑھے نماز وہ سوا لاکھ کے برابر ہے ۔کچھ لوگوں کے دلوں پر حضوؐرکا روضہ نمودار ہو جاتا ہے جب وہ آنکھ بند کر کے دیکھتے ہیں تو انہیں اپنے دل پر گنبد خضرا نظر آتا ہے اب وہ جہاں بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھے ہر نماز کا ثواب بچاس ہزار ہو گیا ۔اب جب اللہ اس کے دل میں آ گیا تو پھر ثواب تو بیکار ہو گیا کیونکہ اس سے بڑی چیز مل گئی ہے ۔
ذکر قلب ایک بہت بڑی نعمت ہے ، آج شاید آپ اس کی بابت نہ سمجھ پائیں لیکن یہ تو اللہ کا نام دل میں چلا جاتا ہے ایک دن اللہ والا بنا دے گا۔اللہ کے نام میں ہی تو ساری طاقت ہے یہ کوئی جادو تو نہیں ہے ، یہ کیسے شرک و بدعت ہو سکتا ہے ۔کوئی آسمانی کتاب اسم ذات اللہ سے بڑی نہیں ہے ، کوئی عبادت ایسی نہیں ہے جو اللہ کے نام سے بڑی ہو۔یہ ساری کرشمہ سازی اُس اسم ذات اللہ کی ہے جو دل کی دھڑکنوں میں اُتر گیا اب وہ تمھارا محافظ ہے ۔اب تم اللہ کی نظر میں ہو اور تمھیں دعا کے لئے ہاتھ اُٹھانے کی ضرورت نہیں ہے ۔جب اللہ کسی سے پیار کرتا ہے تو اس کے دل میں اپنا نام داخل کر دیتا ہے اور جس دن وہ اُداس ہو جائے تو اللہ کو محسوس ہوتا ہے کہ میرا بندہ اُداس ہے ۔ اگر اردگرد اللہ کا کوئی نمائندہ نہ ہو تو پھر فرشتوں کو کہتا ہے جاؤ اس کی دل جوئی کروتو اس کو فرشتے یا گنبد خضرا نظر آتا ہے تو اُس کی اُداسی دور ہو جاتی ہے اور اگر کوئی گردونواح میں اللہ والا بندہ رہتا ہے تو اللہ اُس کو کہتا ہے جاؤ اس کا حال پوچھو۔جسکا اللہ سے تعلق جڑ جاتا ہے پھر وہ اس کی بہت پرواہ کرتاہے ۔اللہ کا نام جس کے دل میں اترتا ہے تو یہ اللہ کے اذن اور مرضی سے اترتا ہے جس کو وہ چاہے دے دیتا ہے جس کو نہ چاہے اُس کو ئی راہ راست پر نہیں لا سکتا لیکن اگر اللہ کا نام دل میں چلا گیا تو پھر لفظ اللہ ہر گناہ پر قادر ہے اگر کوئی گناہ ہو گیا تو یہ اندر جو اللہ اللہ ھو رہا ہے یہ فوراً اس کی نار کو دھو دیتا ہے ۔یوم محشر میں جب حساب کے لئے کتاب دی جائے گی تو اللہ اس کے دل کو دیکھ رہا ہے کہ اس میں نور ہے ، کراماً کاتبین کہیں گے کہ اللہ اس نے یہ گناہ کیا ہے تو اللہ ارشاد فرمائے گا کہ اُس وقت تو اس کا دل اللہ اللہ کر رہا تھا چلو اس کی کتاب بند کر دو۔اللہ دلوں کو دیکھتا ہے کتابوں کو نہیں ۔ کتاب اُن کے لئے ہے جن کے دل سیاہ ہیں اور جن کے دل منور ہو گئے وہ اللہ کی نظروں میں آ جاتے ہیں ، زندگی کا مقصد اسطرح پورا ہو جاتا ہے کیونکہ روح میں نام آگیا وہ اللہ کے نام سے چمک گئی ۔

مندرجہ بالا متن نمائندہ گوھر شاہی عزت ماب سیدی یونس الگوھر کی 10 نومبر 2017 کو یو ٹیوب لائیو سیشن میں کئے گئے سوال کے جواب سے ماخوذ کیا گیا ہے ۔

متعلقہ پوسٹس

دوست کے سا تھ شئیر کریں