کیٹیگری: مضامین

دین ، مذہب اور روحانیت کیا چیز ہیں؟ فی زمانہ لوگوں نے دین اسلام کو صرف نماز، روزوں اور حج تک محدود رکھا ہوا ہے، نہ عام مسلمان یہ جاننا چاہتا ہے کہ دین کی مکمل تعلیم کیا ہے اور نہ وہ یہ جاننا چاہتا ہے کہ دین میں سب سے زیادہ اہم عبادت یا عمل کونسا ہے کہ جس کے بغیر سارے اعمال ، رسومات اور دین کی ادائیگی رائیگاں چلی جاتی ہے۔تکبر ، گھمنڈ، بد کلامی، بد اخلاقی آج کے مسلمان کا شیوہ ہے، یعنی جس چیز سے وہ متفق نہیں ہے اسکا جواب وہ علمی سطح پر نہیں دے گا۔قرآن مجید میں لکھا ہے کہ جب بات کرو تو بڑی شائستگی سے کرو اور مسلمانوں میں شائستگی اس لیے نہیں ہے کیونکہ ان میں دین نہیں ہے۔کچھ لوگوں نے چند چیزوں کو پکڑ کر اسکی تبلیغ کو دین سمجھ لیا ہے ، فضائل اعمال کی موٹی سی کتاب ہاتھوں میں اٹھا کر محلے محلے جا کر ہر آدمی کو نمازی بنا نے کی کوشش کرتے ہیں ، ایسی کاوشیں تو چالیس پچاس سال سے ہو رہی ہیں اور نمازیوں کی تعداد میں بھی اضافہ بھی ہوگیا ہےلیکن کیا انکے اخلاق اچھے ہوگئے کیا ان کے کردار بھی سنور گئے؟

مرشد کامل کا بندوبست کرنا انسان کا اللہ پر حق ہے :

حقوق اللہ اور حقوق العباد کیا ہیں یہ کتنے لوگوں کو معلوم ہے؟ جب معلوم نہیں ہے تو بس ایک اندھے پن میں زندگی گزر رہی ہے ۔ نہ یہ پتا کہ میرا اللہ پر کیا حق ہے اور اللہ کا مجھ پر کیا حق ہے۔جیسا کہ سیاسی لوگ کہتے ہیں کہ شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے ، اسی طرح شاید لوگ یہ نہیں جانتے کہ اللہ کے تو انسان پر حق ہیں لیکن کچھ حقوق انسان کے بھی اللہ پر ہیں جیسا کہ اللہ رازق ہے، پتھر میں بند کیڑے کو بھی وہ رزق دیتا ہے اور پھر اللہ آپ کو بھی رزق دے یہ آپ کا اللہ پر حق ہے لیکن اس کے لیے ہاتھ پاؤں ہلانے پڑیں گے۔ اسی طرح ہر مسلمان کو پتا ہونا چاہیے کہ اللہ تعالی اُس بندے کے لیے مرشدِ کامل کا بندوبست کرکے دے یہ انسان کا اللہ پر حق ہے، اللہ ہی دے گا ہر حال میں دے گا کیونکہ یہ اس کا قانون ہے۔جیسا کہ قرآن میں ہے

وَمَن يُضْلِلْ فَلَن تَجِدَ لَهُ وَلِيًّا مُّرْشِدًا
سورۃ الکہف آیت نمبر 17
ترجمہ : اورجس کو میں گمراہ کرتا ہوں تو وہ ہرگز نہیں پاتا ولی مرشد۔

تو اس کا مطلب ہے کہ جس کو وہ ہدایت دینا چاہے گا اس کے لیے مرشد کا مل سے ملا دے گا، یہ انسان کا حق ہے اور جو آپ کا حق ہے اللہ پر آپ کے فرقوں نے اس کو ہی شرک قرار دے دیا کہ مرشدوں کو ماننا شرک ہے! یہ فرقہ واریت ہو گئی ۔ہم یہ بتا دینا چاہتے ہیں کہ، دین مذہب اور روحانیت یہ چیزیں آپ لوگوں کو پتا ہونا چاہیے تاکہ آپ لوگ وہ کام کریں جو ضروری ہے جس کے بغیر آپکی زندگی بیکار ہوسکتی ہے اور ہو رہی ہے ، لوگوں کی زندگیوں میں چین اور سکون نہیں رہا،لوگوں کے دل بے چین ہیں ، نمازیں پڑھنے ، تلاوت قرآن کرنے اور دین کے دیگر اراکین و رسومات بجا لانے کے باوجود رب کا راستہ نہیں ملا کیونکہ آپ آنکھوں پر پٹی باندھ کر اِدھر اُدھر ہاتھ مار رہے ہیں ۔اگر آپ نے کہیں جانا ہے اور راستہ نہیں پتا تو کبھی ادھر اور کبھی ادھر جائیں گے منزل پر توکبھی نہیں پہنچ پائیں گے اور لوگوں کے ساتھ یہی ہوا ہے۔چونکہ لوگوں کے پاس علم نہیں ہے جب وہ مولویوں کی گفتگو سننے جاتے ہیں لیکن ان مولویوں کا مقصد یہ نہیں ہوتا کہ لوگوں کو ہدایت ملے انکا مقصد صرف داد لینا ہوتا ہےکہ لوگ کہیں کیا جوش خطابت ہے ،کیا زبردست بیان ہے لیکن اب یہ قصہ بھی پرانا ہو گیا اب تو یہ لوگوں کو خرید لیتے ہیں ،محصور کر دیتے ہیں ۔ چھوٹے بچوں کو قرآن پڑھانے کے بہانے مدرسوں میں قید کر لیتے ہیں ، ماں باپ کو یہ کہہ دیتے ہیں کہ اب تین سال تک اس سے ملاقات نہیں ہوگی یہ قرآن کی تعلیم حاصل کر رہا ہے، جب وہ بچے تھوڑے بڑے ہو جاتے ہیں تو انکو دہشت گردوں کے ہاتھوں بیچ دیتے ہیں اور وہ بچے دہشت گرد بن جاتے ہیں یہ ہی تو عالم اسلام میں ہو رہا ہے۔

مذہب کیا ہے؟

مذہب اسکو کہتے ہیں جو رسوم و عبادات سکھاتا ہے، حقوق الہی سکھاتا ہے۔

دین کیا ہے؟

دین وہ ہے جو آپکی زندگی کے ہر عمل کی آگاہی دے گا ، یعنی آپ نے چلنا کیسا ہو ، آپ کا لوگوں سے برتاؤ کیسا ہونا چاہیے، آپ نے زندگی کیسے گزارنی ہے ، آپ نے کمانا کیسے ہے ، آپ نے شادی کیسے کرنا ہے ، اولاد کی پرورش کس طرح کرنی ہے۔ یعنی دین انسان کی ظاہری اور باطنی پوری زندگی پر محیط ہوتا ہے۔اگر کسی کو لوگوں سے بات کرنے کی تمیز نہ ہو، پڑوسیوں کے حقوق کا پاس نہ ہو ، ماں باپ کی تکریم نہ ہو ، بزرگوں کا احترام نہ ہو اور پھر وہ یہ بھی کہتا ہوکہ میں دین اسلام سے تعلق رکھتا ہوں تو وہ مکار اور جھوٹا ہے۔دینِ اسلام تو یہ سکھاتا ہے کہ غیر مسلم کے ساتھ کیسا سلوک کرنا ہے۔ دین اسلام تو یہ بھی سکھاتا ہے کہ آپ کسی کے جھوٹے خدا کو بھی برا نہ کہیں ، لیکن آج کے مسلمان کا تو طرز تخاطب ہی بگڑ گیا ہے ، آج کا مسلمان صرف ایک ہی چیز کوسمجھتا ہے کہ اُس کا حق کیا ہے، دوسروں کا کیا حق ہے اور کس پر ہے یہ وہ جاننا ہی نہیں چاہتا بس “میں” ہی “میں” ہوں۔تو اب دین چلا گیا ہے اور اگر دین میں روحانیت نہ ہو تو دین بے کار ہے کیونکہ ایک تو ہے عبادت کرنا ، تسبیحاں پڑھنا اور ایک ہے کردار کی تشکیل اور کردار کی تشکیل روحانیت کے بغیر ممکن نہیں ، بغیر روحانیت کوئی دین کارگر ثابت نہیں ہوسکتا۔

“اللہ تعالی نے ہر دین میں روحانیت کو مرکز بنایا ہے ، بغیر روحانیت کوئی بھی دین کسی کو اللہ تک نہیں پہنچا سکتا.جس دین کا بھی روحانی نظام تباہ ہوا وہ دین تباہ ہو گیا ”

حضورنبی کریم ﷺ کی حدیث ہے کہ “ اے بنی آدم تیرے جسم میں گوشت کا ایک لوتھڑا ایسا ہے اگر اس کی اصلاح ہوگئی تو سارے جسم کی اصلاح ہوجائے گی !یاد رکھ وہ تیرا قلب ہے ”۔اکثر مسلمان یہی کہتے ہیں ہمارے دل میں تو ایمان ہے ، لیکن وہ جانتے ہی نہیں ہیں ایمان کیا مطلب ہے ، فی نفسہی ایمان کسے کہتے ہیں اور تو اور آج کے مسلمان کو تو مومن اور مسلمان کا فرق معلوم نہیں ۔ نہ یہ پتا ہے کہ اللہ تعالی نے نماز مومن پر فرض کی ہے،ہم نماز پڑھنے سے پہلے مومن تو بن جائیں ، ہر مسلمان اپنے آپ کو پیدائشی مومن سمجھتا ہے۔جبکہ قرآن میں تو لکھا ہے

فَأَقیمُوا الصَّلاةَ إِنَّ الصَّلاةَ کانَتْ عَلَی الْمُؤْمِنینَ کِتابًا مَوْقُوتًا
(سورۃ النساء آیت نمبر 103 )

کہ اللہ نے نماز مومنوں پر فرض کی ہے۔اب فرض بھی دو قسموں کے ہوتے ہیں ایک تو فرضِ وقتی اور دوسرا فرضِ دائمی کہلاتا ہے ۔فرضِ وقتی وہ ہے کہ جب اس کا وقت آئے گا تو آپ اسکو ادا کریں جیسا کہ پانچ نمازیں ہیں ہر نماز کا ایک وقت مقرر ہے ، مثال کے طور ہر فجر کی نماز کو دیکھ لیں نماز فجر علی الصبح ہوتی ہے ، طلوع آفتاب سے قبل ، ایسا نہیں ہے کہ آپ دوپہر کو نماز فجر پڑھ لیں اگر پڑھی تو وہ قضا کہلائے گی۔ تو یہ وقتی فرض ہے ، اسی طرح حج بھی وقتی فرض ہے حج کا وقت آئے گا تو آپ حج کریں گے، اسی طرح روزہ ہے روزہ فرض ہے لیکن وقتی ہے۔ لیکن اسلام کا جو پہلا رکن ہے وہ ہے کلمہ طیب لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ۔۔۔۔۔ اس کے لیے حدیث شریف میں آیا افضل الذکر کلمہ طیب لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ، جو پہلا رکن ہے وہ دائمی فرض ہے وہ ہر وقت کرنا ہے۔قرآن میں ہے الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَىٰ جُنُوبِهِمْ کہ اٹھتے بیٹھتے حتکہ کرٹوں کے بل بھی میرا ذکر کرو، یہ دائمی فرض ہے ۔ ایک حدیث میں لکھا ہے جو شخص دائمی فرض ادا نہیں کرتا اللہ تعالی اس کے وقتی فرض کو بھی قبول نہیں فرماتا۔قرآن مجید میں ایک آیت اور بھی آئی لیکن مولویوں نے اس کا ترجمہ بگاڑ دیا وہ آیت ہے؛

حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَىٰ وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ
(سورۃ البقرۃ آیت نمبر 238 )

یعنی جو بیچ والی صلوات ہے اسکی حفاظت کرنا ، یوں تو صلوات کا مقصد “حمد و ثناء” ہے، اگر اللہ کا نام قلب میں گونجے تو وہ صلوات قلبی ہے اسکا نام اگر روح میں گونجے تو وہ صلوات روحی ہے اور اگر جسم کے ساتھ ادا کی جائے تو پھر وہ نماز ہے۔ حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَىٰ کا مطلب یہ ہے کہ وہ جو تمہاری پسلیوں کے بیچ میں صلوۃ ہوگی اسکی حفاظت کرنا۔پھر اللہ نے قرآن میں یہ بھی کہا

إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ ۗ وَلَذِكْرُ اللَّـهِ أَكْبَرُ ۗ
سورۃ العنکبوت آیت نمبر 45
ترجمہ : نماز برائیوں اور بے حیائیوں سے روکتی ہے اور اللہ کا ذکر سب سے بڑا ہے ۔

بےشک نماز برائیوں اور بے حیائیوں سے روکتی ہے ، خبردار! یہ نہ بھول جانا کہ اللہ کا ذکر سب سے بڑا ہے۔ یعنی نماز سے بھی بڑی چیز اللہ کا ذکر ہے۔کیونکہ نماز تو تم دن میں پانچ وقت ہی پڑھو گے نا پھر جب تم نماز نہیں پڑھ رہے ہوگے تو اس وقت تمہیں برائی بے حیائی سے کون روکے گا؟ فجر سے لے کرظہر کے بیچ کا جو وقت ہے اس کے اندر برائی سے کون روکے گا؟ پھر ظہر سے عصر کا جو درمیانی عرصہ ہے اس میں برائی سے تجھے کون روکے گا؟ اور عصر سے مغرب کے درمیانی حصے میں تجھے برائی سے کون روکے گا؟ اس کے لیے اللہ نے اسی آیت کے آگے کہا، وَلَذِكْرُ اللَّـهِ أَكْبَرُ کہ میرا ذکر نماز سے بھی بڑا ہے ، نماز تجھے پانچ وقت ہی روکے گی لیکن اگر تیرے دل میں ذکر اللہ چلا گیا اگر دل میں صلوۃدائمی قائم ہو گئی تو پھروہ تجھے ہر وقت برائی سے روکے گی ۔دین کی یہ چیزیں روحانیت سے حاصل ہوتی ہیں اور روحانیت کو مسلمان جانتا نہیں۔زبان یار من ترکی ومن ترکی نمی دانی۔۔۔کہ یار کی زبان ترکش ہے اور مجھے ترکی آتی نہیں ۔مسلمان ہو گیا ہوں روحانیت مجھے معلوم نہیں ، اب نہ تو مومن بن سکتا نہ ولی بن سکتا ہے۔ بس اپنا وقت ادھر ادھر ٹکریں مارنے میں ہی ضائع کرے گا۔اللہ تعالی نے تو قرآن میں چلنے تک کے آداب سکھائے ہیں ۔ قرآن کی ایک آیت میں آیا کہ اور جو رحمان کے بندے ہیں وہ زمین پر بڑی نرمی کے ساتھ چلتے ہیں ۔

روحانیت کے بغیر دلوں سے شیطان نہیں نکل سکتا :

روحانیت اور دین کے یہ جو مقامات ہیں جیسا کہ حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَىٰ ، کہ درمیان والی صلوۃکی حفاظت کرو ۔ مولویوں نے کیا کیا کہ عصر کے وقت کی نماز کو بیچ والی نماز قرار دے دیا کہ اس کی حفاظت کرو ۔ اب یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ حفاظت تو اس چیز کی کی جاتی ہے جس کے چوری ہو جانے کا خدشہ ہو ۔ کیا نماز عصر کو کوئی چور اُٹھا کر لے جائے گا!! ہا ں البتہ پسلیوں کے بیچ میں جو صلوۃ لٹکی ہوئی ہے اس کو شیطان چُرا سکتا ہے ، تمھارے دل میں شیطان گھس سکتا ہے اس کے لئے اللہ تعالی کا ارشاد ہوا تھا کہ اس کی حفاظت کرنا ۔ کیا کبھی کسی نے سنا ہے کہ نماز عصر چوری ہو گئی ہے ؟ ہاں یہ ضرور سنا ہو گا کہ اس کے دل میں شیطان آ گیا ہے ، اس لئے اس کی حفاظت کرنی ہے کیونکہ شیطان مسجدوں میں نہیں بلکہ دلوں میں گھسنے کی کوشش کرتا ہے ۔جب دل میں شیطان گھس گیا تو پھر اس کو پرواہ نہیں ہے کہ تو مسجد میں جا یا کعبے جا ، اب تو تُو شیطان بن گیا ۔شیطان تجھے کبھی بھی مسجد یا مندر جانے سے نہیں روکے گا اور اس لئے نہیں روکے گا کہ اگر وہ تیرے دل میں گھس جائے تو پھر تُو کاشی جا یا کعبے جا حساب تو برابر ہو گیا ۔ شیطان اصل کام سے روکتا ہے اور وہ اصل کام یہ ہے کہ تمھارا دل شیطان کے قبضے میں رہے ۔ دلوں کو شیطان کے قبضے سے نکالنا دین میں نہیں ہے بلکہ یہ روحانیت میں ممکن ہے ۔جیسا کہ قرآن مجید میں آیا کہ شیطان تمھاری رگوں میں دوڑتا ہے اور متفق علیہ حدیث ہے کہ

إن الشَيطَانَ يِجُريِ مِن الإنسَان مجَرَى الدُم
صحیح مسلم کتا ب السلام 2174
ترجمہ : شیطان انسان کی رگوں میں خون کی طرح دوڑتا ہے۔

اب لوگوں کی اکثریت جن کی عمر چالیس سال ہے وہ کم از کم بیس سال سے تو نمازیں پڑھ رہے ہوں گے ؟ انہوں نے کبھی کسی مولوی کی تقریر میں ، کبھی کسی آیت میں یاکسی حدیث میں یہ سنا ہے کہ فلاں مولانا صاحب نے رگوں سے شیطان نکالنے کا طریقہ سمجھایا ہے !! اب بھلے تم نماز پڑھتے رہو شیطان تو تمھاری رگوں میں دوڑتا رہے گا ۔وہ جو تیری نماز ہے وہ صرف ظاہر ظاہر ہی ہے اندر تو نہیں جا رہی ہے ۔ اب اندر رگوں میں شیطان دوڑ رہا ہے تو اس کو اندر سے کیسے نکالو گے یہ طریقہ تو معلوم ہی نہیں ہے !! اگر یہ طریقہ بھی بتا دیا جائے تو نبیوں اور ولیوں کے آنے کی ضرورت ہی نہیں ہے ۔

اللہ ہدایت مرشد کے زریعے دیتا ہے :

ایک دن اللہ تعالی سے پوچھا کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ محمد ﷺ سر تا پاؤں اللہ کے نور سے بنے ہیں تو پھر قرآن میں بشریت کی بات قل انما بشر مثلکم کیوں ؟ پھر اللہ تعالی مسکرائے اور چہرے پر فکر اور پریشانی کے تاثرات ابھرے اور کہا کہ اس سے پہلے جو قومیں گزریں تھیں اس میں لوگ کہتے تھے کہ ہم اس نبی کی پیروی کریں جو ہمارے جیسا ہے ، کوئی آسمان سے فرشتہ یا ملائکہ آتا اور وہ ہمیں دین سکھاتا ۔ پھر ہم نے ملائکہ بھیج دئیے تو پھر اُس قوم نے کہا کہ یہ تو ملائکہ ہے ہیں ان کو تو کوئی پریشانی نہیں ہے اسی لئے یہ دین پر با آسانی عمل پیرا ہو گئے ، ہم تو انسان ہیں ہم اس کی پیروی کیسے کر سکتےہیں ۔اس کی وجہ سے گڑ بڑ ہو گئی ، اس کے باوجود کے محمد الرسول اللہ سر تا پاؤں نور ہی نور ہیں لوگوں کا اعتراض ختم کرنےکے لئے ہم نے کہہ دیا کہ یہ تمھارے لئے مثالی بشر ہیں کیونکہ اگر تم کو کہہ دیتے کہ محمد ﷺ اللہ کا نور ہی نور ہیں تو تم کہہ دیتے کہ یہ اللہ کا نور تو اسلام کے اصولوں پر عمل کر سکتا ہے ہم تو مٹی کے انسان ہیں ہم تو نہیں کر سکتے ، اسی لئے محمدؐ کوسراپا نور بنا کر بھی ہم نے کہا کہ بشر ہیں ۔ بہت ساری باتیں اللہ نے حکمت کے تحت کہی ہیں جیسے کہ قرآن میں اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا کہ

وَوَجَدَكَ ضَالًّا فَهَدَىٰ
سورۃ والضحی آیت نمبر 7

کہ جب ہم نے تجھے گمراہ دیکھا تو ہدایت دی تاکہ کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ میں پہلے سے ہدایت یافتہ ہوں۔ ہدایت ملے گی تو محتد بنو گے ۔ آج کا مسلمان یہ سمجھتا ہے کہ ہمارے ماں باپ مسلمان تھے تو ہم بھی ہدایت پر ہیں ۔اور محمد ﷺ کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے جو اللہ نے کہا کہ جب ہم نے گمراہ پایا تو ہدایت دی یہ بات اللہ نے حکمتاً کہی اور اس وجہ سے کہی کہ کوئی شخص یہ نہ کہہ دے کہ مجھے ہدایت کی ضرورت نہیں ہے میرے دل میں پہلے ہی ایمان ہے اور ہدایت یافتہ ہوں ، میرے تو ماں باپ ، دادا جدی پشتی سب مسلمان تھے ۔ آج تو یہی ہو رہا ہے ان آیتوں کو اپنے اوپر رکھ کر دیکھیں ۔ حضورﷺ کے لئے اللہ کہہ رہے کہ جب ہم نے گمراہ پایا تو ہدایت دی اور ہم امتی اتنے افضل اور اعلیٰ ہیں کہ پیدائشی طور پر ہدایت یافتہ ہیں ۔ جب تک رب کی طرف سے تمھیں ہدایت نہیں ملے گی تم محتد نہیں بن سکتے ۔ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر قرآن پڑھ رہا ہے ، نماز پڑھ رہا ہے تو یہ ہدایت ہی تو ہے ۔ نہیں یہ ہدایت نہیں ہے حتکہ ہے کلمہ گو ہو نا بھی ہدایت نہیں ہے ۔
جسطرح نکاح ہے کہ مولوی صاحب نے نکاح و حجاب کر وا دئیے کیا صر ف اقرار کر لینے سے ازدواجی رشتہ مکمل ہو گیا ہے ، یقیناً نہیں ہوا ہے جب تک جنسی، جسمانی تعلق قائم نہیں ہو گا اس وقت تک وہ نکاح کامل نہیں ہو گا ۔ جسطرح حلالہ کے لئے صرف نکاح ضروری نہیں ہے بلکہ دوسرے شوہر سے جنسی تعلق قائم ہونا نکاح کا حصہ ہے ۔ اسی طرح زبان سے کلمہ پڑھنے کے بعد دل کی گہرائی سے بھی وہ کلمہ جاری ہو ، دل کی دھڑکنیں وہ کلمہ پڑھیں تو پھر مومن بنے گا۔کلمہ مبارک کا دل میں داخل ہونا ایمان کا داخل ہونا ہے ۔ جیسے قرآن میں آیا کہ

قَالَتِ الْأَعْرَابُ آمَنَّا ۖ قُل لَّمْ تُؤْمِنُوا وَلَـٰكِن قُولُوا أَسْلَمْنَا وَلَمَّا يَدْخُلِ الْإِيمَانُ فِي قُلُوبِكُمْ
سورۃ الحجرات آیت نمبر 14
ترجمہ : اعراب نے کہا ہم مومن ہیں، اے محمد ان سے کہو کہ یہ مومن نہیں ہیں بلکہ یہ اسلام لا کر مسلمان ہوئے ہیں ابھی ایمان ان کے قلوب میں کہاں داخل ہوا ہے ۔

اب زبان سے پڑھنے کا دورانیہ ایک گھنٹے کا ہو یا سو سال کا ، مسلمان ہی رہو گے جبتکہ کلمہ قلب میں نہیں اتر جائے گا ۔اب وہابی کیا کرے گا وہ تو مرشد اور باطنی تعلیم کو مانتا ہی نہیں ہے اس لئے وہ کبھی بھی مومن نہیں بن سکتا ہے کیونکہ کلمے کو قلب میں اتارنے کے لئے منجانب اللہ کوئی مرشد کامل میسر آئے تب ہدایت ملے گی ۔

سیدنا گوھر شاہی نے فیضان مصطفی کو دوبارہ زندہ کیا ہے :

جسطرح حضورؐ نے مولا علی کے لئے کہا کہ غمض عینک یا علی وسمک فی قلبک لا الہ اللہ محمد الرسول اللہ ۔۔۔۔۔ اے علی اپنی آنکھوں کو بند کر لے اور سن اپنے قلب میں لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ ۔آج لوگ کہتے ہیں کہ ذکر کی اجازت کیا ہوتی ہے اور کون چلا سکتا ہے ؟طاہر القادری کہتا ہے کہ قلب جاری نہیں ہوتا ہے ،اللہ کا رسول مولا علی کے قلب کو جاری فرما رہے ہیں اور وہی الفاظ جو الفاظ گوھر شاہی ہیں کہ اپنی آنکھیں بند کرو اور دل ہی دل میں پڑھو اللہ ھو ، اللہ ھو ۔یہ ہے اصل اسلام ۔ ہمارے مسلمانوں میں ایک رسم بن گئ ہے کہ بات ہو یا نہ ہو وہ کہنا شروع کر دیتے ہیں جیسے طاہر القادری کے ساتھ کئی القابات لگا دئیے ہیں کہ شیخ الطریقت ، آفتاب طریقت ۔ مسلمانوں نے ایک جھوٹی دنیا بنا لی ہے ، صدیقین، صالحین اور عابدین گھر بیٹھے ہی بن گئے ہیں اور غیبت ، تکبر حسد ، بخل جیسے گناہوں میں بھی ملوث ہیں ۔ تمھارے پاس یہی دین رہ گیا ہے کیونکہ تم روحانیت کو بھلا چکے ہو ۔روحانیت کا مطلب ان روحوں کو اللہ کے اسم سے بیدار کرنا ہے ۔قرآن میں ایک جگہ آیا کہ

وَمَن يُؤْمِن بِاللَّـهِ يَهْدِ قَلْبَهُ
سورۃ التغابن آیت نمبر 11
ترجمہ : اور اللہ جس کو مومن بنانا چاہتا ہے ،تو اس کے قلب کو ہدایت دیتا ہے ۔

اب اگر آپ کے قلب کو اللہ نے ہدایت دے دی ہے تو پھر آپ کے قلب میں شیطان کیوں بیٹھا ہوا ہے ۔اللہ نے اگر کسی قلب کو ہدایت دے دی تو اس قلب میں اللہ کا نام اور نور کیوں نہیں ہے !! یہ سب مسلمان خواب و خیال کی دنیا میں رہ رہے ہیں ، دین مفروضوں پر چل رہا ہے ۔ اور جن لوگوں کو اللہ نے ہدایت دے دی ہے ان کی نشانی قرآن نے بتائی ہے کہ الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَىٰ جُنُوبِهِمْ وہ ہر وقت ذکر میں لگے رہتے ہیں ۔کھڑے ہونے کی حالت میں ہوں تب بھی ذکر میں مصروف ہیں اور جب وہ بیٹھنے کی حالت میں ہوں تب بھی وہ ذکر میں مصروف ہیں اور جب وہ کروٹوں کے بل سو رہے ہوتے ہیں تب بھی ذکر میں ہوتے ہیں کیونکہ قلب کو ہدایت میسر آ گئی ہے ۔اب ان مولویوں کے پاس روحانیت تو تھی نہیں تو انہوں نے کہہ دیا کہ جب کھڑے ہو تو تسبیح لے کر کھڑے ہو جاؤ ،بیٹھے ہوں تو بھی تسبیح لے کر بیٹھ جاؤ لیکن جب لیٹو گے تو پھر وہ تسبیح گر جائے گی ۔سوتے میں کروٹوں کے بل اللہ کا ذکر کیسے کرو گے ؟ یہاں آپ دیکھیں اس آیت میں اللہ تعالی کس طرح متنبہ کر رہا ہے اور اشارہ دے رہا ہے ۔ اللہ تعالی نے فرمایا کہ قرآن اولوالالباب کے لئے اتارا ہے جن کے دماغ کے دروازے کھلے ہوئےہیں ۔ اب انسان کو یہ سوچنا چاہیے کہ اللہ نے ہمارے جسم کو اتنا حساس بنایا ہے کہ جب ایک کروٹ کے بل آپ تھک جاتے ہیں تو وہ خود بہ خود کروٹ تبدیل کر لیتاہے انسان کو ہوش و حواس میں ہونے کی ضرورت بھی نہیں ہے ۔ جب جسم کو اتنی حساسیت عطا کی ہے تو اندر کوئی ایسی چیز بھی ہو گی کہ تو سوتا رہے اور تیرا دل اللہ اللہ کرتا رہے ۔ وہ تیر ا قلب ہے ، خود بہ خود اس میں اللہ کا نام نہیں جاتا ، اس کے لئے اللہ نے مرشدوں کو بنایا ہے ، درویشوں اور نبیوں کو بھیجا ۔یہ تعلیمات محمد ﷺ ہیں جن کو سیدنا گوھر شاہی نے تعلیمات محمد کی اصلیت پر دوبارہ زندہ فرما دیا ہے ۔

“تعلیمات مصطفی اور فیضان مصطفی کو سیدنا گوھر شاہی نے اپنی قوت سے دوبارہ کھڑا کر دیا ہے اور اس قلب کو ہی زندہ کرنا وہ سنت ہے کہ جس کے لئے حضورپاک نے فرمایا تھا کہ آخری زمانے میں میری ایک سنت ہو گی جس کو جو زندہ کرے گا اُسے سو شہیدوں کا ثواب ہو گا ۔ وہ یہی قلب والی سنت ہے قلب کو زندہ کرنا سو شہیدوں کا ثواب ہے ۔ جس کے دل میں اللہ کا نام اور کلمہ اتر گیا وہی مومن ہو گیا ۔ یہ روحانیت کے بغیر ممکن نہیں ہے ۔ روحانیت اور مذہب مل جائیں تو دین بنتا ہے اور اگر روحانیت چلی جائے تو صرف مذہب رہ جاتا ہے دین ختم ہو جاتا ہے ”

مندرجہ بالا مضمون نمائندہ گوھر شاہی عزت ماب سیدی یونس الگوھر کی 31 جولائی 2017 کی یو ٹیوب پر لائیو گفتگو سے ماخوذ کیا گیا ہے ۔

متعلقہ پوسٹس

دوست کے سا تھ شئیر کریں