کیٹیگری: مضامین

توحید اقرار سے زیادہ عمل کا نام ہے :

توحید عربی زبان میں ورب ہے توحید کا مطلب ہےدو چیزوں کا ایک دوسرے میں مدغم ہونا۔ مسلمانوں کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ دین کی اصطلاح اور اس کے معنوں سے واقف نہیں ہیں توحید کا معنی صرف ایک ہی لیا ہوا ہے کہ اللہ ایک ہے، یہ بات تو ہو گئی لیکن اس سے آگے بھی تو بڑھو ، نفس توحید کا مطلب یہ ہے کہ تو اپنے وجود کو مٹا کے اللہ کی ذات میں گم ہو جا۔ لا الہ الا اللہ کا عملی معنی بھی یہی ہے ۔ لا الہ۔۔۔ یہ نفی کا صیغہ ہےیعنی ماسوا کا انکار کرنا۔الا اللہ۔۔۔۔۔۔ اس کا اثبات کی طرف اشارہ ہے۔لا الہ الا اللہ کا عملی مطلب اور طاقت یہ ہے کہ ہمارے اندر جو غیر اللہ عناصر ہیں ان کو نکالنے کے لیے ہمیں اللہ کے ناموں کی کوئی اور ترکیب نہیں چاہیے بلکہ یہ ترکیب چاہیے جس میں نفی ہو تو لا الہ الا اللہ کا کام روحانیت میں ایک خنجر کی طرح ہے ،لا الہ نفی کی ضربوں سے غیر اللہ کا اخراج ہو گا اور الا اللہ اثبات کی ضربوں سے اللہ کا نور دل میں داخل ہو گا۔
ایک تو غیر اللہ کی نفی زبانی کلامی طور پر ہے کہ میں انکار کرتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی نہیں ہے لیکن زبان سے اقرار یا انکار کی کوئی حقیقت نہیں ہے، مثال کے طور پر آپ کی طبیعت خراب ہے لیکن لوگوں کی دل جوئی کے لیے کہہ دیں کہ میں ٹھیک ہوں یہ ہے تو جھوٹ لیکن لوگ پریشان نہ ہو جائیں اس لیے کہا میں ٹھیک ہوں لیکن اس سے حقیقت تو نہیں بدلی ،کیا کہہ دینے سے طبیعت ٹھیک ہو گئی تھی؟ اسی طرح زبان سے جو ہم کہتے ہیں کہ اللہ ایک ہے یہ اقرار ہے اس کا عمل کہاں ہے؟ اس کا عمل تب ہو گا جب لا الہ کی ضرب نفی سے ہمارے قلب و قالب سے غیر اللہ کا اخراج ہو جائے اور الا اللہ کی ضرب اثبات سے اللہ کا نور، اللہ کی محبت کا ہمارے قلب و قالب میں استقرار ہوجائے تو اس کو توحید کہیں گے۔توحید اقرار سے زیادہ عمل کا نام ہے کہ قلب میں اللہ کے علاوہ کوئی نہ ہو، ابھی تو دل میں شیطان بھی بیٹھا ہے خواہشات بھی ہیں ، بیوی بچوں کی محبت بھی ہے، اسلام یہ نہیں کہتا کہ بیوی بچوں ماں باپ کو چھوڑ دو، تم سب کچھ کرو لیکن یہ دل کسی کے لیے نہیں ہے ۔دل صرف اللہ کے لیے ہے، انسانوں کی محبتوں کو دل سے نکالنا آپ کے بس کی بات نہیں ہے ، لا الہ کی ضرب اس کا نور جب قلب و قالب میں داخل ہو گا تو وہ نور سب کو وہاں سے بھگا دے گا، غیر اللہ کا اخراج تب ہو گا جب لا الہ کا گرم گرم نور قلب میں داخل ہو گا ۔ آپ کے پاس یہ اختیار نہیں ہے کہ انسانوں کی محبت کو دل سے نکال سکیں ۔ مرد و عورت ایک دوسرے سے بیوفائی اور دھوکہ کر جاتے ہیں جس سے بے وفائی کی گئی ہو وہ برسوں اس کی یاد میں روتا ہے کیونکہ اس کی محبت اس کے قلب سے زائل نہیں ہوتی۔ کوئی بھی یہ نہیں چاہتا کہ اس کی زندگی رو رو کر گزرے یا اس کی زندگی کو کوئی روگ لگے، اگر اس کے اختیار میں ہو تو وہ کسی کی یاد کو اپنے دل سے کھرچ کر پھینک دے لیکن ایسا وہ کر نہیں سکتا کیونکہ یہ اختیار اس کے پاس نہیں ہے۔

توحید کا اطلاق انسان کے قلب و قالب پر ہوتا ہے:

لہذا غیر اللہ کو دل سے نکالنے کے لیے کلمہ طیب دیا گیا ، اسلام کا پہلا رکن کلمہ طیبلا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ ہے، یہ پہلا رکن اسی لیے ہے تاکہ لا الہ کی نفی سے قلب سے غیر اللہ نکل جائے اور الا اللہ کے اثبات سے اللہ کی محبت اور اللہ کا غلبہ دل پر آ جائے۔ محمد رسول اللہ کے نور سے ان کے دل چمک جائیں پھر ان پر نمازیں اُتاریں کہ اب نمازیں پڑھو اب الصلوةمعراج المومنین ہو جائے گی۔ لیکن ہوا کیا جو کلمہ آپ کو دیا گیا اس کلمہ کی مدد سے آپ نے دل سے غیر اللہ کو نکالا ہی نہیں زبان سے کلمہ پڑھتے رہے، زبان سے کہہ بھی دیا لا الہ تو کیا حاصل وہ جو اس کلمہ کا مقصد و منبع ہے وہ تو آپ کو حاصل ہی نہیں ہوا ۔کتنے لوگ ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ اللہ کی توحید پر ہمارا مکمل ایمان ہے ہم پکے موحد ہیں اور جنہوں نے کلمہ کے نور سے دل سے غیر اللہ کو نکال دیا ہو؟کتنے توحید پرست ایسے ہیں کہ جن کے دل میں بیوی بچوں ماں باپ اور پیسے کی محبت نہ ہو؟توحید کہاں ہے؟ توحید اتنی چھوٹی سی چیز نہیں ہے ، نہ توحید کا صرف یہ مطلب ہے کہ آپ اقرار کر لو کہ اللہ ایک ہے۔ توحید کا مطلب ہے کہ لا الہ کی نفی اور الا اللہ کے اثبات سےاپنے وجود سے ہر قسم کی آلائش کونکال دیں ۔اسلام کو پہلے اپنے وجود پر نافذ کریں ۔پاکستان میں کتنے لوگ ہیں جو پاکستان میں شریعت کا نفاذ چاہتے ہیں ، پہلے شریعت کا نفاذ اپنی ذات پر کریں کیونکہ نفاذ ملک زمین اور خطے پر نہیں انسانوں پر ہوتا ہے۔ جو لوگ پاکستان میں اسلامی نفاذ چاہتے ہیں ان کو روکا کس نے ہے، ہر آدمی شریعت کو اپنے اوپر لاگو کر لے ، اسلام کا نفاذ ہو گیا!کیا توحید کا اطلاق آپ پر ہو گیا ہے؟اگر آپ زبان سے کلمہ پڑھ کر اپنے آپ کو موحد اور توحید پرست سمجھ رہے ہیں تو یہ آپ کی خام خیالی ہے کیونکہ توحید اقرار سے زیادہ عمل کا نام ہے،اپنے وجود سے غیر اللہ کو خارج کر دیں اور اللہ کو لے آئیں اس کو کہیں گے نفس توحید۔

قلوب کی پاکی اسم اللہ سے ہوتی ہے:

اگر اللہ کے نام سے بھی کوئی پاک نہیں ہو رہا تو وہ دیکھے کہ گڑ بڑ کہاں ہے، ایک حدیث شریف میں ہے لکل شئی صقالہ و صقالہ القلوب ذکر اللہ۔۔۔۔۔ہر چیز کو دھونے کا کوئی نہ کوئی آلہ ہے اور دلوں کو دھونے کا آلہ ذکر اللہ ہے۔ جو کچھ اللہ اور اللہ کے رسول نے کہا ہے اس پر تو شک نہیں کیا جا سکتا اب اگر پرابلم ہے تو وہ آپ کے طریقے میں ہے اللہ کا اگر دل میں جائے گا تو دل کی صفائی ہو گی اگر صفائی نہیں ہو رہی تو اس کا سراسر مطلب یہ ہے کہ آپ کے دل، آپ کے نفس میں اللہ کا نام داخل نہیں ہوا۔ اب اپ کچھ بھی کر لیں اللہ کا نام لیں ، اللہ کے رسول کا یا مولی علی کا نام لیں جب اللہ کا نام دل میں داخل نہیں ہوا تو باقی کسی کا نام کیسے دل میں جائے گا اگر اللہ کا نام دل میں چلا جائے گا تو باقی سارے نام چلے جائیں گے۔ اس کے لیےکوئی رہبر پکڑنا پڑتا ہے کیونکہ انسان کو معلوم نہیں ہے کہ دل میں اللہ کا نام کیسے لے کر جانا ہے۔ انسان کتنا بے بس ہے انسان کو پتا ہی نہیں اس نے اللہ کو کہاں ڈھونڈنا ہے ، اس نے اپنے من کو کیسے پاک کرنا ہے، اس نے اپنے نفس کو کیسے پاک کرنا ہے، انسان صرف اپنے آپ کو اپنی زبان کی بک بک سے مزید ناری بناتا رہتا ہے اور اپنے آپ کو جہنم کی آگ کی طرف دھکیلتا رہتا ہے، جہاں سے نور میسر آ جائے جہاں سے اللہ کی ذات کا پتا اور سراغ مل جائے وہاں تہمتیں باندھتا رہتا ہے وہاں شکوک و شبہات کا اظہار کرتا رہتا ہے جبکہ انسان کے اختیار میں کچھ بھی نہیں ہے، یہ تک تو اس کے اختیار میں نہیں ہے کہ اس کے اندر ہی جو ایک چیز بیٹھ کر اس کو گناہ پر آمادہ کر رہی ہے اس کا گلا دبوچ لے۔کیا کوئی انسان یہ دعوی کر سکتا ہے کہ وہ شیطان سے زیادہ طاقتور ہے اگر ہے تو شیطان اس پر حاوی کیوں ہے؟ انسان کے پاس تو اتنی طاقت نہیں کہ وہ شیطان کے قبضے سے باہر نکل سکے، شیطان آپ پر قابض ہے اور باتیں آپ بڑی بڑی کر رہے ہیں ۔ نفس کہتا ہے سو جائوآپ سو جاتے ہیں نفس کہتا ہے نہاری کھلائو آپ نے نہاری کھا لی نفس کہتا ہے اس نے تجھے برا بھلا کہا اب تو اس سے بڑھ کر اس کا جواب دے اتباع تم کرتے ہو اپنے نفس اور شیطان کی اور سمجھتے ہو توحید پرست ہو۔

دنیاوی تعلیم کے لئے استاداور روحانیت کے لئے مرشد کامل چاہیے:

اللہ کی اطاعت کیسے کرو گے؟ یہ کتنی ستم ظریفی کی بات ہے کہ آج لوگ کہتے ہیں ہمیں مرشد کامل کی کیا ضرورت ہے قرآن میں سب کچھ لکھا ہے ہم کر لیں گے، ٹھیک ہے، تم پھر اسکول، کالج ، یونیورسٹیز سب بند کروا دو ، لائیبریریز بنوا دو اور اساتذہ ، لیکچرار، پروفیسرز سب کو ہٹا دو کہ ان کی ضرورت نہیں ہے ہم خود کتابیں پڑھ کر ڈاکٹر، انجینئیر اور پائلٹ بن جائیں گے۔ کیا اس کی عقل پر ماتم کرنے کو جی نہیں چاہے گا کہ جسے دنیاوی تعلیم کے معاملے میں تو استاد کی ضرورت ہے لیکن جب دین کی اللہ رسول اور قرآن کی بات آتی ہے تو وہ اس بات کو ماننے کو تیار ہی نہیں کہ ہمیں کوئی روحانی استاد چاہیے۔ ان کے تئیں ہم جاہل تھوڑا ہی ہیں قرآن ہمارے پاس ہے ہم خود پڑھ لیں گے۔ استاد کے بغیر ڈاکٹر انجیئر اور پائلٹ تو بن نہیں سکتے تو استاد کے بغیر مومن کیسے بنو گے؟ مومن بننا بھی ایک فیلڈ ہے۔جس طرح دنیاوی تعلیم کے حصول میں آپ نوٹس لکھتے ہیں یا ایکویشنز بناتے ہیں اسی طرح دین میں بھی ہے کہ جب آپ قرآن کو پڑھتے ہوئے کہیں اٹک جائیں بات نہ سمجھ سکیں تو ایسا روحانی استاد کہ جس کی تصدیق ہو یہ منجانب اللہ ہے اس سے مطلب پوچھیں۔دنیا میں کیا کبھی ایسا ہوا ہے کہ آپ کسی اسکول کالج یونیورسٹی میں جا کر کہیں مجھے استاد رکھ لو اور وہ آپ کو رکھ لیں ایسا نہیں ہوتا نا تو روحانیت کے نام پر لوگ کیسے استاد بن کر بیٹھ گئے؟ آج تو ہر جگہ لوگ مسجد کے خطیب اور عالم دین کے سرٹیفکیٹ لئے پھرتے ہیں ۔
جو منبر پر بیٹھ کر خطبے دے اور حجرے میں جا کر لونڈے بازی کرے وہ عالم دین نہیں شیطان کا خلیفہ ہے۔ جس کے اپنے بچے امریکہ کینیڈا میں پڑھیں اور دوسروں کو کہے کہ مدرسوں میں اعلی تعلیم دی جاتی ہے۔ یہ ڈبل اسٹینڈرڈ کیوں ہے۔ روحانی استاد کی اسی طرح اشد ضرورت ہے جس طرح ہمیں پائلٹ بننے کے لیے ایرو ناٹیکل کالجز میں اساتذہ کی ضرورت ہے اگر ان اداروں میں استاد کی ضرورت نہیں ہے تو ٹھیک ہے پھر دین میں بھی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔ چھوٹے سے علم کے لیے تو استاد کی اہمیت ہے لیکن کیا دین اتنی سستی چیز ہے کہ جس کے لیے استاد کی ضرورت نہیں ہے۔قرآن کے درس دینے والے قرآن پڑھاتے کہاں ہے وہ تو قرآن پڑھنا سکھانے والے ہیں قرآن کا علم ان کے پاس نہیں ہے۔ اپنے لیے ایک حدیث کا مفہوم یہ بنایا ہوا ہے کہ قرآن پڑھنے اور پڑھانے والے دونوں جنتی ہیں اگر آپ عربی کی عبارت پڑھیں تو وہاں لکھا ہوا ہے قرآن کا علم دینے اور قرآن کا علم لینے والا دونوں جنتی ہیں ۔
اگر قرآن کا علم سب ہی کو دیا ہے تو کوئی دیوبندی ، شیعہ، سنی ، وہابی کیوں ہے ،امت محمد کیوں نہیں ہے؟ کیونکہ قرآن کا علم نہیں ہے ان کے پاس یہ صرف قرآن پڑھ رہے ہیں ۔قرآن کے علم کے بجائے ہر فرقہ کے علماء کے ذہن ان کی اپنی تاویلات کے بھوسے سے بھرے ہوئے ہیں ۔ ان کے دماغوں میں دین اسلام کا علم نہیں ان کے سینوں میں قرآن کا نور نہیں ہے۔ ستر قرآن کا چلیپا انہوں نے کر دیا دین اسلام کو منتشر کر دیا تہتر چوہتر فرقے بنا دئیے ان کے پاس یہ صلاحیت نہیں کہ یہ اسلام پر کوئی تبصرہ کرسکیں ۔

مندرجہ بالا متن نمائندہ گوھر شاہی عزت مآب سیدی یونس الگوھر سے 18 نومبر 2017 کو یو ٹیوب لائیو سیشن میں کئے گئے سوال کے جواب سے ماخوذ کیا گیا ہے۔

متعلقہ پوسٹس

دوست کے سا تھ شئیر کریں