کیٹیگری: مضامین

اہل اللہ کے مزار پر جانے کے حوالے سے لوگوں کے اذہان میں ایسے بہت سارے سوالات ہیں جن کا وہ جواب ڈھونڈتے ہیں اور جب جواب نہیں ملتا ہے تو اُن کا عقیدہ بدل جاتا ہے ۔ پھر اُن کا عقیدہ یہ ہوتا ہے کہ وہ مر گئے ہیں وہ سن نہیں سکتے حالانکہ یہ بڑی بَھونڈی بات ہے کہ اگر وہ مرگئے ہیں سن نہیں سکتے ، بول نہیں سکتے ، دیکھ نہیں سکتے، تو پھر قبر میں سوال وجواب کیسے ہونگے؟ حضور کی شبیہ کیوں دکھائی جائے گی؟ اس کا مطلب ہے آنکھیں بھی سلامت ہونگی کونسی آنکھیں سلامت ہونگی یہ ابھی زیرِ بحث ہے۔ جو مغالطہ فرشتوں کو ہوا تھا وہ چلا آرہا ہے۔ فرشتوں کو یہ مغالطہ ہوا کہ اس سے پہلے جتنے بھی آدم اللہ نے بنا کے زمین پہ بھیجے ہیں اُنہوں نے قتل و غارت کی، خون خرابہ کیا، لڑائی جھگڑا کیا تو وہ ایک جھنجھٹ ہی ہے ایک پریشانی کی بات ہی ہے ۔ فرشتوں نے جب آدم صفی اللہ کے جسم کو بنتے ہوئے دیکھا تو اللہ سے اعتراض کیا کہ پھر بنا رہے ہیں پھر یہ جا کے دنگا فساد ‘خون خرابہ کریگااور جہاں تک عبادت اور حمد و ثنا کا تعلق ہے تو کیا تیری حمد و ثنا کے لئے ہم کافی نہیں ہیں ؟ یہ سارا واقعہ قرآن میں موجود ہے ۔جواب میں اللہ نے فرمایا: اس آدم کو میں خاص علم ، باطنی علم دے رہا ہوں یہ دنگا فساد نہیں کریگا۔ اگر تمہارے پاس وہ علم ہے تو بتاؤ؟ تم کہہ رہے ہو کہ ہم عبادت کرینگے، بتاؤ پھر کیا علم ہے تمہارے پاس؟ انہوں نے کہا : کیا ہمیں آپ نے وہ علم دیا ہے؟ ہم کیسے بتائیں ؟ ۔ اب جس جس کو وہ عظمت والا علم مل گیا وہ رب کا فرمانبردار ہوگیا، محبت کرنے والا ہوگیا ، امن و شانتی والا ہوگیا اور جن کو وہ باطنی تعلیم میسر نہیں آئی وہ تو دنگا فساد ہی کریگا اسی طریقے سے یہ جو لوگ مر جاتے ہیں ان کے بارے میں بھی قرآن و حدیث میں کوئی خاص تعلیم وضاحت ،سراحت اور شفافیت کے ساتھ قرآن مجید میں موجود نہیں ہے اگر موجود ہوتی تو پھر مختلف فرقے جو آج موجود ہیں یہ مزاروں پر جانا اور اُن سے مدد مانگنے کوبُرا نہ سمجھتے ۔

کیا مرنے والا ہر آدمی مردہ ہے ؟

وَلَا تَقُولُوا لِمَن يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ أَمْوَاتٌ ۚ بَلْ أَحْيَاءٌ وَلَـٰكِن لَّا تَشْعُرُونَ
سورة البقرة آیت نمبر 154
رجمہ : جو لوگ ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں راہ خدا میں اُنہیں مردہ نہ کہو بے شک وہ تو زندہ ہیں اُن کی حیات کاتمہیں شعور نہیں ہے۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں واضح طور پر اشارہ دیا ہے لیکن اُس کی تشریح غلط ہوگئی ہے اُس کو محدود کردیا گیا۔ یعنی تمہارے پاس وہ تعلیم نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے سینے میں پانچ روحیں رکھی ہیں ایک روح دماغ میں رکھی ہے ۔ یہ چھ ارواح ہیں جن کو ہم سماوی ارواح کہتے ہیں اگر ان کو بیدار کرلیا جائے تو ان چھ ارواح کے ذریعے انسان کی زندگی میں ہی یہ ارواح اُس کے جسم سے نکل کر باہر مختلف معمولات ومشغولات میں لگ جاتی ہیں۔ آپ نے بزرگوں سے سنا ہوگا کہ درویش کی نماز عرشِ معلی میں ہوتی ہے ۔ عرشِ معلی میں یہ جسم تو نہیں جاتا بلکہ وہی روحیں جاتی ہیں جو ہم نے بیدار کی ہیں جو سینے میں ہیں اُن میں سے ہر روح کا کسی ایک عالم سے تعلق ہے۔ لطیفۂ قلب کا تعلق عالمِ ملکوت سے ہے ، لطیفۂ روح کا تعلق عالمِ جبروت سے ہے ۔ مومن کے لئے ضروری ہے کم سے کم عالمِ جبروت تک تو اُس کی رسائی ہو کیونکہ عالمِ جبروت میں ہی بیت المعمور واقع ہے جو کہ اصل کعبہ ہے مومن کی نماز کی ادائیگی وہاں جا کر ہو۔ تو مختلف ارواح انسان کے سینے میں اللہ تعالیٰ نے رکھی ہیں اور یہ ارواح جن کو ہم لطائف بھی کہتے ہیں ان کی وجہ سے ابلیس کو مایوسی ہوئی کہ میرے پاس تو یہ چیزیں ہی نہیں ہیں ۔ میں ترقی نہیں کرسکتا۔ انسان کو یہ لطائف عطا ہوگئے، اللہ تعالیٰ نے عطا فرمادئیے اُس کی وجہ سے وہ اشرف المخلوقات بن سکتا ہے۔ایک حدیث شریف میں آیا کہ انسانوں اور جانوروں میں فرق ان لطائف کی وجہ سے ہے کیونکہ انسان ان لطائف کی وجہ سے عرشِ الہٰی تک پہنچ جاتا ہے جانور میں چونکہ وہ لطائف نہیں ہیں اس لئے وہ یہیں رہ جاتا ہے ۔ قرآن شریف میں لکھا ہے کہ

وَالنَّجْمُ وَالشَّجَرُ يَسْجُدَانِ
سورة الرحمن آیت نمبر 6

شجر اورہجر اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتے ہیں آپ بھی اگر اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتے ہیں تو شجر و ہجر اور آپ میں کیا فرق ہوا؟ قرآن شریف میں ہے کہ کچھ خاص پتھر اللہ کا ذکر کرتے ہیں آپ بھی اگر یہیں بیٹھ کے اللہ کا ذکر کرتے ہیں تو پتھر بھی کرتے ہیں یہ کونسی بڑی بات ہے۔ آپ اگر سب سے بہترین مخلوق ہیں تو آپ وہ کرکے دکھائیں جو کوئی نہ کرسکے نہ ملائکہ کرسکے نہ فرشتہ کرسکے ، نہ چرند پرند، نہ ہجر و شجرکرسکیں۔ وہ کیا چیز ہے ؟ کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے جو سماوی ارواح دی ہیں انہی سماوی ارواح کے ذریعے وہ اللہ سے ہمکلام بھی ہوسکتا ہے وہ اُم الکتاب (لوحِ محفوظ) تک رسائی حاصل کرسکتا ہے اور انہیں ارواح کی وجہ سے وہ اللہ کے روبرو جاسکتا ہے اور اللہ کا دیدار بھی کرسکتا ہے۔ جن لوگوں نے اپنے ان لطائف کومنور کر لیا ان ارواح کو منور کرلیا ان کو طاقت پہنچائی اور پھر اللہ تک رسائی حاصل کرلی وہ انسان اشرف المخلوقات کہلائے گا ۔ لہٰذا فرق ہوا ان لطائف کا اور اگر جس انسان نے ان لطائف کو چھیڑا ہی نہیں ان کو بیدار ہی نہیں کیا تو اُس میں اور جانور میں کیا فرق ہوا! اسی طرح تُو انسان ہے تیرے اندر لطائف تھے تُو نے اللہ کو ناراض کیا ۔ اللہ نے تیرے لطائف پر قفل لگا دیا ، تیرے لطائف کی عمر برباد ہوگئی اُن کی زندگی معدوم ہوگئی اب تُو اللہ تعالیٰ تک جانہیں سکتا۔اسی طرح یہ جو تمہارے لطائف ہیں اگر اللہ تعالیٰ ان سب کو بین لگاتا ہے توتمہارے ان لطائف کی زندگی کو ختم کردیتا ہے ۔

خَتَمَ اللَّـهُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ وَعَلَىٰ سَمْعِهِمْ ۖ وَعَلَىٰ أَبْصَارِهِمْ
سورة البقرة آیت نمبر 7

جب تمہارے لطائف کو بین لگ گیا تو تم وہاں جا ہی نہیں سکتے ۔ جہنم کی کیا سزا ہوگی؟ یہیں سزا مل گئی۔ ایسے بہت سے لوگ تھے حضور ﷺ کے دَور میں۔ اللہ تعالیٰ نے حضورﷺ کو تاکید فرمائی کہ جن لوگوں نے اس حق کو جھٹلا دیا ہے اُن کو تبلیغ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اب جس کے پاس امریکہ کا ویزہ ہی نہیں ہے اُس کو یہ بتانے کا کیا فائدہ کہ فلاں جگہ جانا فلاں جگہ جاناوہ تو امریکہ جا ہی نہیں سکتا ہے ۔اسی طرح کوئی اگر نامرد ہے توآپ اُس کو کہیں کہ بچے ایسے پیدا کرتے ہیں ۔ بتا دو لیکن فائدہ تو نہیں ہے کوئی ۔ وہ تو نامرد ہے۔ ایسے ہی اللہ تعالیٰ نے حضورﷺ کو یہ مشورہ دیا کہ یا رسول اللہ ! جن کے سینوں میں موجود ارواح زندہ ہوں اُن کو تبلیغ کریں وہ مومن بن سکتے ہیں اور جن کے دلوں کی زندگیوں کو میں نے ختم کردیا ہے اُن کو تبلیغ کرنا یا نہ کرنا برابر ہے کیوں کہ جو چیز تجھے ایمان والا بناتی ہے وہ چیز تیرے اندر اللہ نے ختم کردی ہے لہٰذا تُو ایمان والا نہیں بن سکتا جب ایمان والا نہیں بن سکتا تو اب بیکار ہے تجھے تبلیغ کی جائے نہ کی جائے۔تو جن لوگوں نے ان لطائف کو منور کرلیا طاقتور بنا لیا تو ان کی رسائی اللہ تک ہوگئی ۔ جب اِس دنیا میں اُن کا وقت پورا ہوگیا اور جب اُن کو موت آئی تو اُن میں سے ایک روح، روحِ انسانی اوپر عالمِ برزخ میں چلی گئی اور جو باقی لطائف منور تھے وہ قبر میں رہ گئے۔ لطیفہ نفس بھی قبر میں رہا اور باقی لطائف بھی قبر میں رہے صرف روح اوپر عالم برزخ میں گئی۔اب یہ جو باقی لطائف ہیں جیسے قلب کے لطیفے ہیں جب یہ نکلے گا تو اس کی شکل و صورت آپ کے جیسے ہو گی ۔یہ جو لطائف اور لطیفہ نفس ہیں ولی بن کے اُس قبر کے اندر بیٹھ گئے۔اُس ولی کی روح انسانی عالم برزخ میں چلی گئی اور یہ باقی لطائف اور لطیفہ نفس جو پاک ہو گیا تھا وہ قبر میں بیٹھ کرساری زندگی ذکر کریگا ، نمازیں پڑھے گا جو مدد کے لئے آئیں گے اُن کی مدد بھی کریگا۔ جب یہ چیزیں انسان کی قبر میں زندہ ہیں ذکر کر رہی ہیں نمازیں پڑھ رہی ہیں اگر ذکر کرسکتی ہیں نمازیں پڑھ سکتی ہیں تو پھر تمہاری التجاؤں کو سن بھی سکتی ہیں ۔
مسلمانوں میں حاضر و ناظر کا بڑا چکر ہے۔ وہابی سُنّیوں کو کہتے ہیں کہ حضورﷺ کے نام کے ساتھ ’’یا ‘‘ مت لگاؤ کیونکہ یہ صیغۂ نِدا ہے ۔یہ اُس کو پکارنے کے لئے ہے جو حاضر ہو۔ بریلوی کہتے ہیں کہ حضور حاضر ہیں دیوبندی کہتے ہیں کہ غیر حاضر ہیں۔ عام جو ولی ہے اُس کے لطائف جو طاقتور ہیں وہ لطائف اُس کی قبر میں ہوتے ہیں۔ سنتے بھی ہیں بولتے ہیں باہر بھی نکلتے ہیں لوگوں کی مدد کے لئے بھی جاتے ہیں تو کیا حضور پاک ﷺ کی قبرِ انور کے اندر حضورﷺ کی کوئی چیز نہیں ہوگی؟ کیوں نہیں حضور پاکﷺ حاضر؟ حاضر بھی ہیں اور ناظر بھی ہیں لیکن اس بات کو دل سے مانتا کون ہے وہ جو خود اندر سے زندہ ہے۔ جن کا اندر مردہ ہوگیا ‘جن کے دلوں کی زندگی ختم ہوگئی جن کے دلوں پر اللہ تعالیٰ نے قفل لگا دئیے وہ اُن کو مردہ ہی سمجھتے ہیں اور جو وہاں پر جا کر سلام پڑھتے ہیں اور حضورﷺ اُن کے سامنے آجاتے ہیں وہ کیسے انکار کریگا۔

مزارات پر جانا شرک اور بدعت ہے ؟

اب رہ گئی بات کہ مزار پہ جانا چاہئے یا نہیں تو مزار پر جانا کم و بیش ایسا ہی ہے جیسے اُس ولی کی ظاہری حیات میں آپ اُس سے بالمشافہ ملنے جاتے تھے فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے اُس کی روحیں جسم میں تھیں اب قبر کے اندرموجود ہیں ۔ جب جسم میں تھیں تب بھی وہ زندہ تھیں اب قبر میں ہیں تب بھی وہ چیزیں زندہ ہیں کیونکہ جب اُس ولی کی ظاہری حیات میں گیا تب بھی تیرا ذکر اُس ولی کے پاس جانے سے تیز ہوگیا تھا اور جن چیزوں کی وجہ سے تیرا ذکر تیز ہوا تھا وہ چیزیں اُس کی قبر میں بھی موجود ہیں اس لئے جب تُو مزار پہ گیا اُدھر بھی اللہ ، اِدھر بھی اللہ ، دونوں اللہ آپس میں ٹکرائے رِقّت طاری ہوگئی۔

“مزاروں پر جانا باعثِ سعادت و باعثِ فیض ہے ۔ اللہ اور قرآن کے نزدیک خوش قسمت لوگ وہاں جاتے ہیں کیونکہ مزار والے وہ ہستیاں ہیں کہ جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمت سے نوازا ہے “

انہی کے راستے پر آپ کو چلنا ہے۔ ہم کو اللہ تعالیٰ تک پہنچانے والا کون ہونا چاہئے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا صالحین، اولیاء ، انبیاء ، مرسلین اور شہداءیہ اس راستے میں چلنے والے بہترین ساتھی ہیں ۔

وَمَن يُطِعِ اللَّـهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَـٰئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّـهُ عَلَيْهِم مِّنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ وَحَسُنَ أُولَـٰئِكَ رَفِيقًا
سورة النساء آیت نمبر 69

تو جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ تک پہنچانے کی ڈیوٹی اللہ نے لگائی اُن میں جہاں انبیاء ، مرسلین اور اولیاء شامل ہیں وہاں وہ ولی بھی ہیں جن کو شہادت کا درجہ ملا ۔ شہید وہ ہے جس کی تعلیم پوری نہیں ہوئی اور وہ اپنی قبر میں موجود ہے۔ تو اُس ولی کے مزار پر جائیں جو کامل مرشد تھا کامل ولی تھا اور اس کا آپ کو کیسے پتہ چلے گا؟ جب آپ کے اپنے دل میں اللہ اللہ ہوگا تب آپ کو پتہ چلے گا کہ وہ بھی اللہ والا ہے۔ آپ نے اگر کالا رنگ کبھی دیکھا نہ ہو تو کیسے پہچانیں گے کیسا ہے؟ آپ خود اللہ والے نہیں ہیں تو کیسے پہچانیں گے کہ کوئی اللہ والا ہے؟ مزاروں پر جانا چاہئے لیکن مزاروں پر جا کے ملتا کیا ہے اُس کے لئے پہلے مومن بننا چاہئے ورنہ مزار پر ٹکریں مار کے آجاؤ گے جیسے مسجد میں مار کے آگئے۔ مزار پر جانے کا فائدہ اُسی کو ہوگا جس کا قلب اللہ کے نور سے روشن اور منور ہوگا ۔

اولیاء کرام کی چوکھٹ کو چومنا کیساہے؟

اب رہ گئی بات کہ کیا اُن کی چوکھٹ کو چومنا صحیح ہے یا غلط ہے؟ تو وہ اللہ والے ہیں اللہ نے اُن کو عزت دی ہے۔ قرآن مجید کے اوپر ہم غلاف چڑھاتے ہیں۔ اُس کو بھی چوم لیتے ہیں تو اللہ والے کے در کی چوکھٹ اللہ والے کی نسبت کی وجہ سے مقدس ہے ۔ اللہ تعالیٰ تو نیت کو دیکھتا ہے چوکھٹ کو نہیں دیکھتا تم کسی کی چوکھٹ کو اس لئے چوموگے ناں کہ یہ اللہ والے کی چوکھٹ ہے ورنہ لکڑی تو باہر بھی پڑی ہے لہٰذا نسبتوں کا بوسہ لیا جاتا ہے چوکھٹ کا نہیں۔ اب بہت سے لوگ عمران خان کو کہہ رہے ہیں کہ اس نے سجدہ کیا ۔ اوہ بھائی سجدہ نہیں کیا اُس نے بابا فرید کی چوکھٹ کو چُوما اور اُس کا یہ عمل بتاتا ہے کہ اُس بندے کے اندر انانیت اور اکڑ نہیں ہے اور اُس کے اس عمل سے میرے دل میں بھی یہ اطمینان ہوگیا کہ یہ وہابیوں کے ہتھے نہیں چڑھا۔ لوگ تو کہہ رہے ہیں کہ اِس نے تیسری شادی کی ۔ میں کہتا ہوں بڑا اچھا ہوا اُس نے یہ شادی کرلی ‘کم سے کم اب اُس کا عقیدہ تو خراب نہیں ہوگا۔ لہٰذا مزاروں پر جانا کوئی غلط بات نہیں ہے۔ اب رہ گئی بات کہ کون جارہا ہے؟ اگر وہ بندہ مزار پہ جا رہا ہے جو کعبہ گیا خالی آگیا، جو مدینہ گیا خالی آگیا تو اُس کا مزار پہ جانا فضول ہے ۔ اگر وہ مزار پہ جارہا ہے جس کے دل میں اللہ کا نور آگیا ہے تو پھر جس مزار پر جائے گا وہ اللہ والے اُس کے دل کے نور میں مزید اضافہ کرینگے۔ بہت سے لوگ نماز اور دیگر عبادتیں ریا کاری کے لئے کرتے ہیں اسی طرح اگر کوئی مزار پر بھی ریاکاری کے لئے جاتا ہے تو بیکار ہے۔ انسان کے ہر عمل کا مرکز و محور اُس کی نیت ہے۔ انما الاعمال باالنّیات۔ جو بھی عمل آپ کرلیں اللہ تعالیٰ اُس کی نیت کو دیکھے گا۔ اگر آپ نے کسی کی چوکھٹ کا بوسہ لیا اس نیت سے کہ یہ اللہ والا ہے تو اللہ تعالیٰ کی نظر میں آپ کی قدر و قیمت بڑھ جائے اور اگر آپ نے دنیا کو خوش کرنے کے لئے بوسہ لیا کہ یہ سب ولیوں کے ماننے والے خوش ہوجائینگے تو وہ تو خوش ہوجائینگے اللہ نہیں ہوگااس لئے جو بھی کام کرو اُس کا نتیجہ اُس کی نیت کے اوپر منحصر ہے۔ عام آدمی کی قبر پہ جانا جو مومن نہیں تھا بڑا خطرناک کام ہے۔ شریعت تو کہتی ہے کہ عورتوں کا قبرستان میں جانا ممنوع ہے ۔ میں تو کہتا ہوں کہ مردوں کا جانا بھی ممنوع ہونا چاہئے۔ جب وہ زندہ تھا اُس وقت اُس کے اندر شیطان بھرے ہوئے تھے اب وہ مر گیا ہے تو اب تو شیطانوں نے اُس کی قبر کو اڈا بنا لیا ہوگا جنات نے اُس کی قبر کو اڈا بنا لیا ہوگا اگر تُو بلاوجہ جا کے کھڑا ہوتا ہے تو اپنے لئے گڑھا کھود رہا ہے اس لئے صرف ایسے لوگوں کی قبر پر مزاروں پر جاؤ جو ولی تھے جو مومن تھے، ولی نہیں تھے ایسی قبروں پر جانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔

مندرجہ بالا متن نمائندہ گوھر شاہی عزت مآب سیدی یونس الگوھر سے 15 اگست 2018 کو یو ٹیوب لائیو سیشن میں کیے گئے سوال کے جواب سے ماخوذ کیا گیا ہے ۔

متعلقہ پوسٹس

دوست کے سا تھ شئیر کریں