کیٹیگری: مضامین

شریعت اور طریقت کے وضع کردہ اُصول:

حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے کسی بھی اُمتی کو مسلمان نہیں کہنا چاہیے بلکہ مومن کہناچاہیے، قرآن مجید میں اہل اسلام سے نہیں بلکہ اہل ایمان سے خطاب ہوا ہے۔ جسطرح نماز اور روزہ ہے یہ سب مومنوں پر فرض ہے ۔خالص مسلمان کسے کہتے ہیں یہ وہابیوں اور سلفیوں کا پرو پیگنڈا ہے کہ وہ اپنے آپ کو ،صرف اپنے فرقے کو خالص مسلمان سمجھتے ہیں اور حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دور کی بات کرتے ہیں کہ اسلام کی جو صورت حضورؐ کے دور میں تھی ہم اُسی شریعت کواوراُسی اسلام کو مانتے ہیں ۔ بعد میں شریعت کے مقتدرآئمہ کرام آئے ہیں جیسا کہ امام ابو حنیفہ، امام احمد بن حنبل، امام انس بن مالک، امام شافع ۔ان آئمہ کرام کو پوری دنیا مانتی ہے، ان آئمہ کرام کی علوم شریعت کی تشریح کو یہ وہابی لوگ رّد کر دیتے ہیں کہ اِن کی کیا ضرورت ہے حضور ؐکی احادیث موجود ہیں ، لہذا سلفی اور وہابی ، عملی طور پر کسی امام شریعت کی تقلید کو نہیں مانتے، لہذا ایک زمانہ گزر گیا اچھے علماء دین نے جو علم نافع اور علم حجت بھی رکھتے تھے انہوں نے سلفیوں اور وہابیوں کو غیر مقلد قرار دیا، غیر مقلد اس لیے قرار دیا کہ یہ لوگ کسی بھی امام کی وضع کردہ شریعت کو نہیں مانتے اور کسی کی بھی تقلید کرنا نہیں چاہتے ہیں ۔شریعت کے مسائل اتنے آسان نہیں ہیں ، کس موقع پر شریعت کیا حکم دیتی ہے ، عام آدمی کے لیے ممکن نہیں ہے کہ یہ تمام چیزیں کتابوں میں تلاش کر لے اور پھر ان کا مطلب بھی اخذ کرلے ۔ یہی وجہ ہے کہ ان آئمہ کرام نےقرآن و حدیث کا مطالعہ کر کےان تعلیمات ِقرآنی ،اور تعلیمات ِاحادیث کو ملا کر ایک قائدہ شریعت وضع کیا جو کہ ُامت پر ایک احسان ہے، اس کی وجہ سے آسانی پیدا ہوئی۔امام ابو حنیفہ ، امام شافع، امام انس بن مالک اور امام احمد بن حنبل چاروں میں سے کسی بھی امام کی تقلید کرنے سے شریعت کی رو سے حق تک پہنچ جائیں گے اور اگر آپ اِن کی تقلید کے منکر ہیں تو پھر آپ شریعت کی روح کو پہنچ نہیں سکتے۔
اللہ تعالی نے اس دنیا میں طریقت کو وضع کرنے کے لیے بھی انتظام کیا اورطریقت کے مستند ترین اصول شیخ عبد القادر جیلانی نے مرتب فرمائے ۔ شیخ عبد القادر جیلانی کی مرتب کردہ طریقت کے اصول شریعت و طریقت کا ایک حسین امتزاج ہے۔آپ نے اِس اُمت کے سب سے بڑے عالم، سب سے بڑے کامل شریعت ہو کر شریعت وضع فرمائی ، سب سے بڑے کامل طریقت ہو کر طریقت وضع فرمائی اور سب سے بڑے کامل حقیقت ہو کر اس دنیا میں حقیقت کی تعلیم مرتب و وضع فرمائی۔

سلفی اور وہابی آئمہ کرام کی وضع کردہ شریعت اور علوم باطن کے منکر ہیں:

سلفی اور وہابی نہ تو شریعت کے آئمہ کرام کی تقلید کرنا چاہتے ہیں اور نہ ہی یہ طریقت کی تعلیم علوم باطن کے ماننے والے ہیں ، علم باطن کے قطعی منکر ہیں ۔اور جو علم باطن کا پرچار کرتے ہیں ، جو علم باطن پر عمل پیرا ہوتے ہیں جو تصوف کے ماننے والے ہیں جو صوفی کہلاتے ہیں ، ان کو یہ سلفی وہابی کافر سمجھتے ہیں ۔وہابی سلفی فرقہ جو ہے یہ تکفیری فرقہ ہے، تکفیراس کو کہتے ہیں کہ جو اپنے علاوہ سب کو کافر سمجھے۔ براہ راست اگر کوئی سلفی وہابی نہیں ہے تو وہ کافر ہے ، خاص طور پرصوفیوں کے لیے ان کے یہاں بڑی شدت ہے اور اس شدت کا عالم یہ ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ غیر مسلم اتنے بڑے کافر نہیں ہیں جتنے بڑے کافر یہ صوفی ہیں ۔

“تصوف ، قرآن مجید کی روح ہے، تصوف کے بغیر مسلمان مومن نہیں بن سکتا۔تصوف، علم باطن کے بغیر جبرائیل امین وحی لا کر کسی نبی کو نہیں دے سکتے۔علم باطن نہ ہو تو نہ نبوت ہے نہ ولایت ہے اور نہ ہی ایمان ہے”

قرآن مجید کہتا ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے قرآن مجید کو محمد رسول اللہ کے قلب پر نازل فرمایا، اب یہ قلب کوئی ظاہری چیزتو نہیں ہے؟ جو صحابہ کرام حضوؐر کے جھرمٹ میں ان کی ظاہری صحبت میں  بیٹھتے تھے کیا کبھی انہوں نے حضور پاکؐ کے قلب کو ظاہری صورت میں دیکھا تھا؟ قلب باطنی چیز ہے اور قرآن کہتا ہے کہ جبرائیل نے قرآن کو حضور ؐکے قلب پر نازل کیا تو پھر کوئی مسلمان علمِ باطن کو کیسے جھٹلا سکتا ہے؟
جب قرآن مجید اللہ کے حوالے سے یہ کہتا ہے ھو الظاہر و ھو الباطن کہ اللہ ظاہر بھی ہے اوروہ باطن بھی ہے، پھر بھی وہابی ، سلفی باطن کو جھٹلا دیں تو کیا اِن کو خالص مسلمان سمجھا جائے گا؟علم باطن کو اگر آپ بھلا دیں تو پھر نہ تو کوئی وحی آ سکتی ہےکیونکہ وحی ظاہر میں تو آتی نہیں ہے نہ ہی جبرائیل علیہ السلام کوئی کتاب لے کر آتے ہیں کہ جس پر آیتیں لکھی ہوئی ہوں ،وحی تو قلب پر نازل ہوتی ہے۔

قُلْ مَن كَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِيلَ فَإِنَّهُ نَزَّلَهُ عَلَىٰ قَلْبِكَ بِإِذْنِ اللَّـهِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَهُدًى وَبُشْرَىٰ لِلْمُؤْمِنِينَ
سورة البقرة آیت نمبر 97
ترجمہ۔ جبرائیل تو وہ ہے جس نے قرآن کو آپکے قلب پر اللہ کے اذن سے نازل کیا ہے۔

اب قلب تو ظاہر میں نہیں ہے قلب تو باطن کی بات ہو گئی ہے، اور جس طرح سورة التغابن میں ہے۔وَمَن يُؤْمِن بِاللَّـهِ يَهْدِ قَلْبَهُ ۔۔۔اور اللہ جس کو مومن بنانا چاہے اس کے قلب کو ہدایت ہوتی ہے۔یہی طریقہ ہے صحیح اُمتی بننے کا۔ایک تو ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے کہ خالص وہ ہے جو صرف اور صرف توحید کا ماننے والا ہو، نہ کوئی وسیلہ کی ضرورت ہو نہ کوئی رسالت کی ضرورت ہو۔ نہ کسی نبوت کا ذکر ہو، نہ یہ کہ حضور کا کوئی ادب کیا جائے نہ نبیوں کا ادب کیا جائے، نہ رسولوں کا ادب کیا جائے، براہ راست صرف اللہ سے مانگو ، اللہ حاجت روا ہے ،اللہ دینے والا ہے۔ یہ تمام باتیں بظاہر حق نظر آتی ہیں لیکن یہ مکمل حق نہیں ہے!

خالص کون ہے اوراصل توحید کیا ہے ؟

اللہ عطا کرنے والا ہے دینے والا ہے لیکن آپ تک اللہ کی عطا کسی وسیلے کے ذریعے ہی پہنچے گی۔یہ ہے مکمل حق۔مثال کے طور پر یہ جو بڑے بڑے سمندری طوفان آتے ہیں ، یہ طوفان بستیاں اجاڑ دیتے ہیں انسانوں کو مار دیتے ہیں ، اب موت تو اللہ ہی دیتا ہے نا، ایسا تو نہیں ہے کہ اللہ ہاتھ میں گن مشین پکڑ کر آتا ہے اور سب کو شوٹ کر کے مار دیتا ہے ایسا تو نہیں ہے ، کوئی وسیلہ بنایا ہے نہ اس نے۔سمندری طوفان کیوں آتے ہیں ؟ ایک تو ویسٹ ہیمپ شائر اور ایک ایسٹ ہیمپ شائر ہے ۔ امریکہ اور کینیڈا کی طرف سے جو ہوا چلتی ہے اسی مشرقی ہوائیں کہتے ہیں جو کہ ٹھندی ہوتی ہیں اور افریقہ میں گرمی ہوتی ہے تو وہاں سے گرم ہوائیں جب ایٹلانٹک اوشین میں داخل ہوتی ہیں تو ٹھنڈی ہوا آگے آگے اور گرم ہوا پیچھے پیچھے گھومتی رہتی ہے اس لئے وہاں پر طوفان بنتے رہتے ہیں جن کے مختلف نام رکھ دئیے جاتے ہیں ۔
یہی طوفان دین میں بھی آتا ہے ، خیر اور شر اللہ کی طرف سے ہے، ہم یہ سوچتے تھے کہ خیر اور شر اللہ کی طرف سے ہے تو خیر بھی اوپر سے آتی ہو گی اور شر بھی اوپر سے ہی آتا ہو گا ، لیکن سرکار گوھر شاہی کے قربان جائیں آپ نے سمجھا دیا کہ شر زمین سے ہی اٹھتا ہے اور خیر اوپر سے آتی ہے اور اسی طرح شر بھاگتا ہے اور خیر اسکے پیچھے پیچھے ہے ۔جس طرح گرم ہوا کے پیچھے ٹھنڈی ہوا جا رہی ہے گھوم رہی ہے بھنور بن رہا ہے اُسی طرح شر اور خیر گھوتے رہتے ہیں اور خیر اور شر کا بھی ایک بھنور بنا ہوا ہے۔جس کا قلب جاری ہوتا ہے وہ اس بھنور میں چھلانگ لگا لیتا ہے تو شر اس کو کچھ نہیں کہتا اور خیر ، شر سے محفوظ رہتا ہے، اور جن کے قلب جاری نہیں ہوتے، شر ان میں گھس جاتا ہے کیونکہ ان کے اندر نور کی حفاظت نہیں ہے اور خیر پاکیزہ جگہ پر جاتی ہے وہ ناپاک لوگوں میں جاتی نہیں ہے۔ جتنا عرصہ یہ ناپاک لوگ اس زمین پر زندہ رہتے ہیں روزآنہ شر اور خیر کا بھنور ان کے آگے پیچھے پھرتا ہے ، خیر ان کے من میں داخل نہیں ہوتی اور شر ان کے من میں روزآنہ داخل ہوتا رہتا ہے۔خالص وہ ہوگا ، صرف زبانی کلامی توحید کا دعویدار نہ ہو ،اللہ جس کی وحدانیت پر میں ، آپ اور تمام مسلمان اور یہودی ،عیسائی یقین رکھتے ہیں ۔

توحید کا تقاضہ یہ ہے کہ آپ اپنے من سے کلی طور پر غیر اللہ کو نکال دیں اور اللہ کو بسا لیں ۔جس دن آپ کے قلب سےغیر اللہ کلی طور پر خارج ہو گیا اور اللہ کلی طور پر قلب میں داخل ہو گیا تو آپ “موحد” اور “خالص” بن جائیں گے۔

سورة اخلاص کہتی ہے کہقُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ۔۔۔۔۔سیدنا گوھر شاہی کی عظمتوں پہ کروڑوں سلام، سیدنا گوھر شاہی امام مہدی نے فرمایا، کہ اللہ نے حضور پاک کو کہا قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ ۔۔۔کہہ د یجیےکہ اللہ ایک ہے ، آپؐ نے آمین کہا پھر آپ نے لوگوں کو کہا کہ تم بھی کہہ دو کہ اللہ ایک ہے۔جنہوں نے مانا وہ “مومن” ہو گئے جنہوں نے حیل و حجت کی وہ “منافق”  ہو گئے اور جنہوں نے انکار کیا وہ” کافر” ہو گئے ۔اسکے بعد سیدنا گوھر شاہی نے فرمایا کہ اب تو روزآنہ نماز میں کس کو کہتا ہے اللہ ایک ہے؟ ایک بار ہی پڑھنا کافی تھا نا! بار بار نماز میں کس کو کہتا ہے کہ” کہہ دے اللہ ایک ہے؟ تو اپنے دل کو کہتا ہے کہ کہہ دے اللہ ایک ہے۔
سورة اخلاص اسی لیے ہے کہ جس کے دل نےاللہ کا نام لے لیا وہ ” خالص ” ہو جائے گا، اور جس کا دل اللہ کے نام کو قبول نہیں کرے گا وہ منافق ہو جائے گا۔ابھی تم نماز میں دل کو کہتے ہو کہہ دے اللہ ایک ہے، دل جواب دیتا ہے بیوی بیمار ہے، ڈیوٹی سے لیٹ ہو گیا ، گھر میں آٹا نہیں ہے، او! تیرے دل میں تو دنیا بسی ہوئی ہے، تیرا دل حیل و حجت کر رہا ہے، تیرا دل تو منافق ہے اور اب منافق دل کی نماز کیسے ہو؟ اور منافق دل والے کو خالص کیسے کہیں ؟ خالص وہ ہے کہ جب وہ قل ھو اللہ احد اپنے دل کو کہے تو اس کا دل اللہ اللہ اللہ کہنے لگے اگر تیرا دل اللہ اللہ نہیں کر رہا  اور صرف تیری زبان اللہ اللہ کر رہی ہے تو تیرا دل منافق ہے حیل و حجت کر رہا ہے۔مسلمانوں میں خالص وہی ہے کہ جنکی زبانیں بھی اللہ اللہ کرتی ہیں اور جنکے قلب بھی اللہ اللہ کرتے ہیں ۔جن کے قلب اللہ اللہ نہیں کرتے وہ سلفی ہوں ، وہابی ہوں یا بریلوی ہوں وہ منافق ہیں ۔

“مسلمانوں میں خالص وہ ہے جس نے اپنے قلب و قالب سے غیر اللہ کو کُلی طور پر نکال دیا  ہے اور اپنے سینے پر اللہ کا کلمہ نام اور نور بسا لیا ہے”

کافر کون ہے؟

سلفی وہابی کہتے ہیں صوفی بھی کافر ہیں ، شیعہ بھی کافر ہیں ۔یہ بالکل غلط بات ہے، کافر اُس کو کہتے ہیں “جواللہ کو بالکل جھٹلا دے “، اللہ کو تو عیسائی بھی مانتا ہے ، یہودی بھی مانتا ہے وہ بھی کافر نہیں ہے، اللہ کو تو سکھ بھی مانتا ہے، اللہ کو تو احمدی اور قادیانی بھی مانتا ہے، اللہ کو تو شیعہ بھی مانتا ہے ، تو نہ احمدی کافر ہے، نہ یہودی کافر ہے نہ عیسائی کافر ہے نہ سکھ کافر ہے ، نہ بریلوی اور شیعہ کافر ہے۔ کافر تو تب بنو گے جب تم اللہ کو جھٹلائو گے ۔تم اللہ کو تو نہیں جھٹلا رہے اللہ کو ایک مان رہےہوتو تم کافر بھی نہیں ہو۔

“اگرآپ نے کسی ایسے بندے کو کافر کہہ دیا جو کافر نہیں ہے تو وہ کفر لوٹ کر آپ پر طاری ہو گا”

بہتر ہے کہ اپنا منہ بند رکھیں ، بکواس نہ کریں ، روز لوگوں کو فتوے دیتے ہیں کہ شیعہ بھی کافر ہے ، احمدی بھی کافر ہے ، قادیانی بھی کافر ہے صوفی بھی کافر ہیں ۔ تم کو کیا پڑی ہے، تم خدا ہو؟ کون ہو تم؟ تم کو کفر کا مطلب بھی پتا ہے؟ کافر وہی ہے جو اللہ کو جھٹلا دے ، جو اللہ کو جھٹلاتا نہیں ہے تو وہ کافر بھی نہیں ہے ۔اب یہ بریلوی ، شیعہ ، احمدی، کافر بھی نہیں ہیں تو پھر یہ کیا ہیں ؟ کیا یہ اُمتی ہیں ؟ تو اُمتی تو تم میں سے کوئی بھی فرقہ نہیں ہے ، نہ سلفی اُمتی ہے، نہ وہابی اُمتی، نہ بریلوی اُمتی،اور نہ شیعہ اُمتی ہے۔

اُمتی کیسے بنتے ہیں ؟

اُمتی بننے کے لیے دل والا علم حاصل کرنا پڑے گا! کیونکہ اسلام کی شرط ہے۔۔۔ اقرار باللسان و تصدیق بالقلب۔۔۔۔یعنی زبان سے جس کا اقرار کیا ہے اسکا صدق قلب میں ہو ۔ زبان کا اقرار بڑا آسان ہے کسی سے بھی کر لو، جھوٹ موٹ بھی کیا جا سکتا ہے، لیکن وہ جو “صدق قلب ” ہے وہ تمہارے اختیار میں نہیں ہے اسکے لیے “صراط مستقیم ” کا راستہ ڈھونڈنا پڑتا ہے۔قرآن نے کہا “صراط مستقیم ” ان لوگوں کا راستہ ہے جن لوگوں پر اللہ نے اپنی نعمت تمام کردی۔نعمت یافتہ لوگ کون ہیں ؟اس کا جواب بھی قرآن میں ہےوَحَسُنَ أُولَـٰئِكَ رَفِيقًا ۔۔۔ وہ لوگ انبیاء ، صالحین ، اصفیاء، شہدا کا گروہ ہے، صراط مستقیم پر چلنے کے لیے یہ بہترین ساتھی ہیں ۔وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ ۔۔۔جو صدق والے ہیں اب صدق والا کون ہے؟ اگر وہ زبان سے اللہ کہتا ہے تو صادق تب ہو گا جب اللہ کا نور اسکے دل میں بھی ہو، جب وہ زبان سے کہے محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم تو محمد کہنے میں صادق تب ہو گا جب محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا نور اس کے سینے میں بھی ہوگا۔ اگرصرف تو زبان سے ہی کہتا ہے اور ان کا نور سینے میں نہیں ہے تو پھر تو صادق بھی نہیں ہے ، تیرا ایمان مشکوک ہے۔

“قرآن کی نظر میں ، اسلام کے قاعدے کے مطابق ، مسلمانوں میں خالص وہ ہے جسکی زبان اللہ کی وحدانیت اور حضوؐر کی رسالت کا اقرار کرتی ہو اور جس کا قلب بھی اللہ کے نور سے منور ہے اور جس کا جسم بھی اللہ تعالی کی اطاعت و بندگی میں مصروف ہے۔سیدنا گوھر شاہی فرماتے ہیں کہ کافروں کی زبان اقرار نہیں کرتی ، منافقوں کے دل تصدیق نہیں کرتے اور فاسقوں کے جسم عمل نہیں کرتے”

تم نے زبان سے اقرار کیا تو کفر کٹ گیا اورجب دل میں اللہ اللہ ہوئی تو نفاق سے جان چھوٹ گئی  اور پھر جب جسم کو بھی عبادت میں روزوں میں نماز میں لگایا تو فسق سے بھی جان چھوٹ گئی، فسق، نفاق و کفر سے جان چھوٹ جائے ، تیری زبان بھی اللہ اللہ کرے، تیرا دل بھی اللہ اللہ کرے اور تیرا جسم بھی عمل کرے یہ ہے خالص مسلمان ہونا۔یہ ہماری رائے نہیں ہے یہ قرآن کی بات ہے قرآن کی نظر میں خالص مسلمان وہی ہے جس کی زبان اقرار کرے دل تصدیق کرے اور جسم بھی عمل کرے، اللہ کی اطاعت اور بندگی میں ہو۔

مندرجہ متن نمائندہ گوھر شاہی عزت مآب سیدی یونس الگوھر سے 18 ستمبر 2017 کی یوٹیوب پرکئے گئے سوال کے جواب میں براہ راست گفتگو سے ماخوذ کیا گیا ہے۔

متعلقہ پوسٹس

دوست کے سا تھ شئیر کریں