کیٹیگری: مضامین

اسم اللہ کے چار جزو ہیں :

اسم اللہ کے چار جزو ہیں اللہ ،للہ، لہ اور ھو۔ شریعت والے پورے اسم اللہ کا ذکر کرتے ہیں اور جن کا مقام و مرتبہ طریقت میں وارد ہو جاتا ہے تو اسم اللہ کا ایک پردہ ہٹ جاتا ہے اب وہ اللہ کے بجائے“ للہ” کا ذکر کرتے ہیں ۔“للہ ” کا مطلب ہے سب کچھ اللہ کے لیے۔ آپ نے سنا ہو گا مسلمان کی زکوۃ ڈھائی فیصد ہے، جو اللہ کا ذکر کرتے ہیں انکی زکوۃ ڈھائی فیصد ہے لیکن جب اللہ اللہ قلب و قالب میں چھا جاتا ہے اللہ سے میل ملاپ ہو جاتا ہے تو پھر اسم اللہ کا الف ہٹ جاتا ہے اور“ للہ” کا ذکر شروع ہوتا ہے یعنی اب سب کچھ اللہ کے لیے ، جب سب کچھ اللہ کے لیے ہو گیا تو اب زکوۃ بھی ڈھائی سے ساڑھے ستانوے فیصد ہو گی یعنی اگر سو کمایا تو ساڑھے ستانوے اللہ کو دئیے اور ڈھائی فیصد اپنے لئے رکھا اس ڈھائی فیصد میں بیوی بچے ہی آتے ہیں اور کچھ نہیں آتا ، پھر جب مقام و مرتبہ اور آگے بڑھتا ہے تو ایک پردہ اور ہٹ جاتا ہے اور اب “لہ ” رہ جاتا ہے ۔ قرآن میں یہ سب موجود ہے لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۔پھر جب کوئی اللہ کے روبرو ہو جاتا ہے تو ایک پردہ اور ہٹ جاتا ہے اور وہ“ ھو” رہ جاتا ہے۔ یہ زمان اور مکان سے متعلقہ چیزیں ہیں ، اللہ کے نام میں چار اسم ہیں اللہ ، للہ، لہ اورھو۔
اسم اللہ کی باطنی تفسیر بتانے کی نہیں دیکھنے کی ہے۔ اسم ذات اللہ پھول کی مانند ہوتا ہے ، اسم اللہ کا “الف” ہٹنا، پھر “ل ” کا ہٹنا یہ ایسے ہی ہے جیسے اُس پھول کی پتیاں جھڑ گئیں اور بیچ میں اُس پھول کا مغز رہ گیا، لیکن جب یہ پتیاں جھڑتی ہیں تو انسان بھی جھڑ جاتا ہے۔اسم اللہ سے“ الف” ایسے ہی نہیں ہٹ جاتا بہت کچھ قربان کرنا پڑتا ہے۔ “للہ” کا ذکر بہت جلالی ہے۔

رزق کی اقسام اور باطنی تشریح:

رزق کی دو اقسام ہیں ظاہری رزق اور باطنی رزق۔ رزق ظاہری ہو یا باطنی اللہ نے ہر انسان کے مقدر میں اسکا رزق لکھا ہوا ہے۔
ظاہری رزق:اس رزق میں گوشت، روٹی، دال، چاول یعنی خوراک ہے اس رزق کی آپ کےجسم کو ضرورت ہے۔
باطنی رزق: باطنی رزق سے مراد نورہے اور نور روحوں کی ضرورت ہے۔
انسان کو جو بھی رزق ملے گا وہ رزق کے اسی کوٹے میں سے ملے گا جو تقدیر میں لکھا ہوا ہے اب چاہے آپ اُس کوٹے میں سے دنیا کا رزق زیادہ لے لیں چاہے باطنی رزق زیادہ لیں رزق ایک ہی ہے۔ اگر باطنی رزق زیادہ ہوتا ہے توظاہری رزق کم ہوجاتا ہے لوگ یہ راز جانتے نہیں اور بدگمان ہو جاتے ہیں کہ جب سے اللہ ھو شروع کیا ہے مصیبتیں آنا شروع ہو گئیں ہیں ، قرضوں میں دب گیا ہوں ، یہ ہو گیا ہے وہ ہو گیا ہے۔ یہ سب کیوں ہورہا ہے اس بات کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔
اب ظاہری رزق کیوں بڑھے گا اس بات کو سمجھنا بھی بہت ضروری ہے۔قرآن مجید میں ارشاد ہوا کہ

وَمَنْ أَعْرَضَ عَن ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنكًا وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَىٰ
سورۃ طہ آیت نمبر 124
ترجمہ : جو شخص اللہ کے ذکر سے اعراض و کنارا کرے گا تو اللہ تعالی اس کے رزق کو تنگ کر دیگا۔

یہاں اس آیت میں جو رزق کا اشارہ ہے وہ باطنی رزق کی طرف ہے کہ ذکر اللہ کرے گا تو باطنی رزق ملے گا ، ذکر نہیں کرے گا تو باطنی رزق تنگ ہوجائیگا ، یہ اشارہ ظاہری رزق کی طرف تو نہیں ہے لیکن چونکہ لوگ صرف خوراک کو ہی رزق سمجھتے ہیں اس لیے وہی بات ذہن میں رہتی ہے اورقرآن کا یہ اشارہ وہ سمجھ نہیں پاتے۔

“باطنی رزق یعنی نور بڑھے گا تو ظاہری رزق کم ہو جائیگا اور ظاہری رزق بڑھے گا تو باطنی کم ہو جائیگا ۔ جن کا ظاہری رزق بڑھتا ہے ان کا جسم توانا ہو جاتا ہے اور ارواح کمزور ہو جاتی ہیں جن کا باطنی رزق بڑھ جاتا ہے ان کا جسم تو لاغر و کمزور نظر آتا ہے لیکن ان کی ارواح طاقتور ہو جاتی ہیں ”

اسم اللہ ھو کے اندر بہت سارے فلٹرز لگے ہوئے ہیں یعنی اسم اللہ ھو چھنی کی مانند ہے اس میں اتنا نور ہی آپ کے لیے بنے گا کہ جس سے آپ کی ڈھائی فیصد زکوۃ نکل جائے۔اگر کوئی یہ چاہتا ہے کہ اُس کا باطنی رزق بڑھ جائے تو وہ اللہ کے بجائے “للہ” کا ذکر کرنا شروع کر دے لیکن یہ یاد رہے کے باطنی رزق زیادہ ہونے سے ظاہری رزق کم ہو جائے گا،پھر وہ پتھر باندھ لے۔ حضورﷺ نے بھی تو پتھر باندھے تھے۔اللہ نے قرآن میں کہا “ہم جان کے خوف سے اور رزق اور ثمرات سے آزمائیں گے” اور وہ آزمانا یہی ہے، جو رزق لکھا ہے وہ ایک ہی ہے اب جنہیں اللہ سے محبت ہے تو وہ باطنی رزق کی تلاش کریں!

یا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِن يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَىٰ ذِكْرِ اللَّـهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ
سورۃ الجمعۃ آیت نمبر 9
ترجمہ: اے مومنو جب جمعہ کی نماز کی اذان دی جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف دوڑ کر جاؤ یعنی جلدی کرو کیونکہ جو لوگ ظاہری رزق جمع کرنے کے لیےاپنے کاروبار میں کھڑے ہیں وہ کاروبار بند کر دیں اور دوڑ کر جائیں ۔

اس آیت میں ظاہری اور باطنی رزق کا موازنہ کیا جا رہا ہےکہ جمعہ کے دن میں اللہ نے یہ بونس رکھا ہوا ہے کہ اُس دن نماز میں اللہ تعالی باطنی رزق کا اضافی نور دیتا ہے۔ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ وہ رزق تمہارے لیے بڑا بہتر ہوگا، إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ اگر تم کو معلوم ہو تو!

فَإِذَا قُضِيَتِ الصَّلَاةُ فَانتَشِرُوا فِي الْأَرْضِ وَابْتَغُوا مِن فَضْلِ اللَّـهِ وَاذْكُرُوا اللَّـهَ كَثِيرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ
سورۃ الجمعۃ آیت نمبر 62
ترجمہ : اور جب نماز سے فارغ ہو جاؤ تو زمین پر اِدھر اُدھر پھیل جاؤاور اللہ کا فضل تلاش کرو، اللہ کا ذکر کرو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ

نماز سے جو باطنی رزق مل گیا اب مزید باطنی رزق چاہیے تو ایسی ہستیوں کو ڈھونڈو جو اپنی نظروں سے اللہ کا فضل بانٹتے ہیں ۔جیسا کہ لوگ کبھی داتا صاحب، کبھی سلطان حق باھو صاحب وغیرہ کے مزارات پر چلے گئے، اب انسانوں کا دستور یہ ہے کہ جب اُن کے گھر کوئی مہمان آتا ہے تو وہ چائے پانی یا کھانے کا پوچھتے ہیں اُسی طرح جب کوئی کسی ولی اللہ کے مزار پر جاتا ہے تو وہ اللہ کا دوست بھی تم کو خالی تو نہیں لوٹائے گا ، لیکن اگر کسی کا سینہ ہی منور نہ ہو ،نہ اُس کے قلب کا دروازہ کھلا ہوا ہو تو اس بزرگ نے اگر نورعطا کرنا چاہا تو کہاں کرے گا؟ لہذا مزارات پر جانے کا فائدہ بھی انہی کو ہوتا ہے کہ جن کے دل کھلے ہوئے ہوں جن کے دلوں میں اللہ کا نور آ چکا ہو اللہ کا ذکر وہاں بس چکا ہو۔ یہ آیت انہی لوگوں کے لیے ہے کہ نماز سے اللہ کا نور لے لیا اب مزید نور کے لیے زمین پر جہاں بھی اللہ کا فضل نظر آئے وہاں چلے جاؤ اور پھر کہا وَاذْكُرُوا اللَّـهَ كَثِيرًا اور مزید نور لینے کے لیے اللہ کا ذکر کرو ۔ لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔

کامیابی کا راستہ کونسا ہے؟

قرآن مجید نے فلاں کا جو راستہ بتایا ہے وہ یہ کہ

يَوْمَ لَا يَنفَعُ مَالٌ وَلَا بَنُونَ إِلَّا مَنْ أَتَى اللَّـهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ
سورۃ الشعرا آیت نمبر 89
ترجمہ : اس دن نہ مال کام آئے گا نہ اولاد فلاح وہ پائے گا جو قلب سلیم لے کر آیا ہوگا۔

یہاں اللہ تعالی نے ذکر اللہ سے فلاح کو نتھی کر دیا ہے۔ تو معلوم ہوا ذکر اللہ قلب کو سلیم بنائے گا تب ہی فلاح ملے گی۔ باطنی رزق کا ایک مربوط طریقہ کار ہے، اگر آپ باطنی رزق بڑھانا چاہتے ہیں تو ظاہری رزق خود بخود کم ہو جائیگا اگر آپ ظاہری رزق کے پیچھے چلے گئے تو باطنی رزق خود بخود کم ہو جائیگا۔اللہ ھو کے ذکر میں فلٹرز لگے ہوئے ہیں اس میں نپا تلا ہی ملے گا اور“ للہ” کے ذکر میں کیا ہوگا؟ “للہ” کا مطلب ہے سب کچھ اللہ کے لیے، اپنے پیٹ ،اپنے جسم، اپنے بیوی بچوں کے لیے نہیں سارا رزق اللہ کے لیے لینا چاہے تو وہ“ للہ” کرے،اپنا حوصلہ اور ہمت سامنے رکھ کر “للہ” کا ذکر کرے۔“للہ” کے ذکر سے باطنی ترقی بہت تیزی سے ہوتی ہے۔کسی نے پتا چلانا ہو میرے قلب کا ذکر کونسا ہے ،اگر قلب اللہ ھو قبول کرتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اسکا مقام شریعت ہے، اگر قلب کی دھڑکنیں“ للہ” میں لگ جائیں تو یہ نشانی ہے کہ یہ طریقت کا بندہ ہے۔

مندرجہ بالا متن نمائندہ گوھر شاہی عزت ماب سیدی یونس الگوھر سے 14 اگست 2017 کو یو ٹیوب لائیو سیشن میں کئے گئے سوال کے جواب سے ماخوذ کیا گیا ہے۔

متعلقہ پوسٹس

دوست کے سا تھ شئیر کریں