کیٹیگری: مضامین

بنوری ٹاؤن کے مفتی کا سوال یہ آیت:

وَمَن يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَن يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ
سورة آل عمران آیت نمبر 85
ترجمہ : اور اگر کسی نے اسلام کے علاوہ کوئی اور دین اختیار کیا تو اللہ اُس کو قبول نہیں کریگا اور پھر ایسا شخص یومِ آخرت میں خاسرین کے گروہ میں ہوگا۔

قرآن کو اسطرح سے پڑھنا حرام ہے کہ بیچ میں سے ایک لفظ لے لیں اور اس کے معنی نکال لیں ۔ اس آیت کے معنی نکالنے سے پہلے قرآن کا شان نزول دیکھنا پڑتا ہے ، اُس آیت سے پہلے کونسا سبق چل رہا ہے اور اُس کے بعد کونسا چل رہا ہے اگر یہ ساری چیزیں نہ دیکھی جائیں تو پھر اسی طرح فرقے بنتے ہیں ۔ آیتوں کا شان نزول ضروری ہے ، بہت سی قرآن کی آیتیں ایسی ہیں جس میں اللہ صرف حضورﷺ سے مخاطب ہے اور بہت سی آیتوں میں اللہ تعالی براہ راست مومنین سے مخاطب ہے اور بہت سی آیتیں ایسی ہیں جس میں اللہ پوری انسانیت سے مخاطب ہے ۔مندرجہ بالا آیت ہمیں ایک مفتی نے بھیجی ہے اور کہا ہے کہ اس کا جواب دیں ۔ اور یہ سوال انہوں نے اس لئے کیا ہے کیونکہ ہم بتاتے ہیں کہ آخری زمانے میں امام مہدی اللہ کا دین متعارف کروا رہے ہیں تو یہاں مندرجہ بالا آیت میں اللہ کے دین کی جو بات کی جار ہی ہے تو آج کا مسلمان قرآن کی ایسی آیتوں کا حوالہ دے کر ہمیں غلط قرار دیتے ہیں ۔آج کے اس دور میں دین اسلام کہاں ہے، آج کے مسلمانوں کا دماغ بھی خراب ہے اور دل بھی خراب ہے یعنی وہ اللہ کے دین کو نیچا دکھانے کے لئے اللہ کا قرآن ہی استعمال کر رہے ہیں۔ اس کے جواب میں ہم نے بھی ایک آیت نکالی ہے جس میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے کہ

فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَتَ اللَّـهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّـهِ ذَٰلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ
سورة الروم آیت نمبر 30
ترجمہ : یا رسول اللہ ﷺ جب دینِ حنیف آئے تو اپنا چہرہ دینِ حنیف کی طرف قائم کر لینا کہ وہ جو دین ہوگا اُس نے قائم ہونا ہے لیکن انسانوں کی جو اکثریت ہے اُس کو اُس دین کا علم نہیں ہے۔

جس طرح نماز کے لئے ہے اقیمو الصلوٰۃکہ نماز قائم کرو!اسی طرح چہرے کو قائم کرنے کی بات آئی ہے فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا یا رسول اللہ ﷺ دینِ حنیف دینِ الٰہی کی طرف اپنا چہرہ پھیر لینااور اس کے بعد فرمایا ہے ذَٰلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ کہ وہ جو دین ہوگا۔ یہاں پر میں آپ کو بتاتا چلو ں کہ جتنے بھی مولوی ہیں طاہر القادری صاحب سمیت وہ اس سے مراد لے رہے ہیں اسلام۔ لیکن آپ ذرا اس لفظ کو دیکھیں یہ لفظ ہےذَٰلِكَ جس دور میں یہ قرآن آیا ہے اس دور میں دینِ اسلام تو زمین پر قائم ہوچکا تھا اُس وقت کہا جارہا ہے ذَٰلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ وہ جو دین ہوگا اُس نے قائم ہونا ہےذَٰلِكَ وہ دین۔ اسلام تو نیچے آگیا تھا اُس کے لئے وہ کی کیا ضرورت تھیذَٰلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَلیکن انسانوں کی جو اکثریت ہے اُس کو اُس دین کا علم نہیں ہے۔ اب اس کے اندر اللہ تعالیٰ نے تمام مذاہب کو سامنے کردیا ہے اس لئےالنَّاسِ انسانیت کا ذکر کیا ہے۔ مسلمانوں کے تو دین کا پوری دنیا کو پتہ ہے۔ یہاں تو اللہ تعالیٰ کہہ رہا ہےوَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ انسانوں کی اکثریت جو ہے اُس کا علم اُس کے پاس نہیں ہے۔

دین حنیف کا ہر پیروکار صراط مستقیم پر ہوگا :

عربی زبان کے دو لفظ آپ سیکھ لیں بہت آسانی ہوگی۔ایک تو لفظ ہے “حنف” اور ایک ہے “جنف” ۔ حنف کا مطلب ہے گمراہی ،باطل ،ضلالت، ہر شے سے پاک ہو کر صراطِ مستقیم پر آجانے والا۔ گمراہی ضلالت کفر شرک ہر شے سے پاک ہو کر صراطِ مستقیم پر قائم ہوجانے والا اس عمل کو حنف کہتے ہیں اور جو اِن میں مبتلا رہے اُس کو جنف کہتے ہیں ۔ اب یہاں پر جو قرآنِ مجید کی آیت ہےفَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا اپنا چہرہ دینِ حنیف کی طرف کر لیجئے۔ تو اب جب دینِ حنیف کی تشریح بیان کی جائے گی تو اُس سے مراد یہ ہو گاکہ دینِ حنیف کا ہر پیروکار حنیف ہےیعنی سب صراطِ مستقیم پر ہونگے لیکن دینِ اسلام میں تو ایسا نہیں ہوا۔ حضورﷺ کے دور میں خوارجین اور منافقین آگئے، مسلمان ہونے کے باوجود اہلِ بیتِ عظام کے ساتھ انہوں نے جنگ کی، امام حسین کو شہید کیا امامِ حسن کو شہید کیا، بی بی فاطمہ کو شہید کیا گیا۔ گزرا ہے کوئی دین ایسا جس میں کوئی منافق نہ آیا ہو؟ دینِ حنیف کی شان یہ ہے کہ اُس میں اُس کا ہر پیروکار حنفی ہوگا، صراطِ مستقیم پر ہوگا جبکہ اہلِ اسلام کو تو اللہ تعالیٰ کہہ رہا ہے کہ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ اُن لوگوں کا راستہ جن پر ہم نے اپنی نعمت کامل کردی۔ دینِ حنیف خالصتاً صراطِ مستقیم پر قائم کرنے والا دین ہے ۔ اللہ کی نظر میں سب سے زیادہ جو ضروری چیز ہے وہ یہ ہے کہ انسانوں کا تعلق اُس سے جُڑ جائے، اُن کے دلوں میں رب کا نور آجائے یہ بات اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ ضروری ہے جب صراطِ مستقیم پر آگئے اُس کے بعد کسی بھی مذہب میں ہو اپنے اپنے مذہب کے مطابق عبادتیں کرتے رہنا۔ وہ ثبوتِ بندگی ہے۔ اس سے فرق نہیں پڑتا کہ آپ کون سے مذہب کے مطابق عبادت کریں گے ۔ آپ اگر ہندو ہیں تو ہندو مذہب کے مطابق عبادت کرلیں ۔ عیسائی ہیں تو عیسائی مذہب کے مطابق عبادت کرلیں۔ عبادتیں تو عبادتیں ہی ہوتی ہیں یہ بندگی کا ثبوت ہیں اس سے فرق نہیں پڑتا۔فرق اس بات سے پڑتا ہے کہ تیرے دل میں رب آجائے، تیرے دل میں اسمِ ذات اللہ ھوکا ذکر جاری ہوجائے ، اُس میں نور آجائے یہ صراطِ مستقیم ہے۔ اب آپ نے پوجا کرنی ہے یا عیسائیت کے مطابق عبادت کرنی ہے یہ چیزیں دوسرے درجے پر ہیں اصل جو چیزہے وہ صراطِ مستقیم ہے،اللہ سے تعلق کہے۔ تو دینِ حنیف کا کام پوری انسانیت کو صراطِ مستقیم پر لگا دے، ہر انسان کے دل کو کعبہ بنا دے۔ ہر انسان کے دل کو عرشِ الٰہی بنا دے، ہر انسان کے دل کو اللہ کا گھر بنا دے،قلبِ مومن بیت الرب۔ قلبِ مومن عرش اللہ۔ یہ ہدایت ہے۔

قرآن کی نظر میں دین اسلام کی تشریح:

اور اسلام کی جو سب سے زیادہ خوبصورت تشریح قرآنِ مجید میں سورة الزمر میں آئی ہے جہاں اللہ تعالی فرماتا ہے کہ

أَفَمَن شَرَحَ اللَّـهُ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ فَهُوَ عَلَىٰ نُورٍ مِّن رَّبِّهِ فَوَيْلٌ لِّلْقَاسِيَةِ قُلُوبُهُم مِّن ذِكْرِ اللَّـهِ أُولَـٰئِكَ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ
سورة الزمر آیت نمبر 22

أَفَمَن شَرَحَ اللَّـهُ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ کہ اگر کوئی اسلام کو اختیار کرنا چاہتا ہے اسلام پر کاربند ہونا چاہتا ہے، اصولیاتِ اسلام اختیار کرنا چاہتا ہےاور سچا پکا راسخ العقیدہ مسلمان ہونا چاہتا ہےتو کیا کرے؟شَرَحَ اللَّـهُ صَدْرَهُ کہ وہ اللہ کے نام سے اپنے سینے کو کھول لے۔ ظاہر ہے کہ اب یہ ظاہری تعلیم تو نہیں ہے ظاہری تعلیم ہوتی توآپ چاقو لے کر سینہ کھولتے ،تو پھر یہ باطنی تعلیم ہوئی۔ باطنی تعلیم میں سینہ ایسےکھلے گاکہ سینے کے اندرجو پانچ لطائف ہیں لطیفۂ قلب، لطیفۂ روح، لطیفۂ سری، لطیفۂ خفی، لطیفۂ اخفیٰ؛ اِن کو منور کرلیا جائے ، کیونکہ جو پانچوں کے پانچوں مرسلین آئے ہیں آدم صفی اللہ، ابراہیم خلیل اللہ، موسیٰ کلیم اللہ، عیسی روح اللہ، محمدؐ رسول اللہ؛ اِن پانچوں کی نبوت کا فیض اِن پانچوں لطائف کو ہے۔ پورا اسلام یہ ہوگا کہ جب پانچوں مرسلین کا فیض تجھے مل جائے گا۔ اور جب تیرا شرح صدر ہوجائے ، سینہ کھل جائے گا؛ تو پھر اُس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ فَهُوَ عَلَىٰ نُورٍ مِّن رَّبِّهِاللہ کے نور پر گامزن ہوگا۔ یہ تو ہوگیا اسلام کا صحیح طریقہ۔
اسی آیت میں اللہ تعالی نے آگےفرمایا ہےفَوَيْلٌ لِّلْقَاسِيَةِ قُلُوبُهُم مِّن ذِكْرِ اللَّـهِاور ایسے لوگ جن کے قلب اتنے سخت ہوگئے ہیں کہ اُن میں ذکر اللہ سرایت نہیں کرتا تو اُن کے لئے کیا ہوگاأُولَـٰئِكَ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍتباہی آئے گی اور اُن کو اس کا ادراک بھی نہیں ہو گا۔ اب وہ تباہی کیسے آئے گی ؟ جو بھی اُن کے اعمال ہونگے روزہ نماز حج زکوٰۃیہ سارے وہ کرتے رہیں گے اور وہ غارت جائیں گے ایک بھی درجۂ قبولت کو نہیں پہنچے گا کیونکہلا صلوٰۃ الا بحضور القلبکہ قلب کی حاضری کے بغیر نماز نہیں ہے۔ اب اگر قلب کی حاضری کے بغیر نماز نہیں ہوگی تو کیا روزہ ہوجائے گا؟ اگر قلب کی حاضری کے بغیر نماز نہیں ہوتی اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ روزہ ہوجائے گا۔کچھ بھی نہیں ہوتا ۔ نماز جیسی اہم ترین عبادت اگر نہیں ہوتی قلب کی حاضری کے بغیر تو پھر کیا ہوتا ہوگا؟ اب اللہ تعالیٰ فتویٰ دے رہا ہے ۔ ایک تو یہ مفتی ہے ان کا مرشد شیطان ہے ابلیس ہے ۔ یہ مولانا صاحب ، یہ مولوی یہ علمائے سؤ ایک تو یہ فتویٰ دیتے ہیں ۔ یہ اللہ کا فتویٰ ہے، اللہ کا فتویٰ کیا ہے؟ کہ اگر تیرے دل میں اللہ کا ذکر سرایت نہ کرےأُولَـٰئِكَ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ یہ تو کھلی گمراہی ہے ۔ پھر تیری نمازیں بھی بے کار ، روزے بھی بیکار، ذکر فکر بھی بیکار۔ گمراہی یہ نہیں ہے کہ بندہ گناہوں میں لگا ہوا ہے۔ گمراہی یہ نہیں ہے کہ اُس سے روزہ چھوٹ گیا ہےنماز چھوٹ گئی ہے۔ اس سب کی قضا ہوجائے گی اگر یہ قلب کی زندگی ختم ہوگئی ،اُس کی قضا ممکن نہیں ہے اولئک فی ضلال مبین ، یہ کھلی گمراہی ہے۔ کھلی گمراہی سے مراد یہ ہے کہ اُس کے قلب میں اللہ کا نام داخل نہیں ہوتا ۔ مرشدِ کامل ڈالتا ہے نام واپس ٹکرا کے آجاتا ہے۔ اگر اللہ کا نام داخل نہیں ہورہا تو یہ جنس ِمخالفِ الٰہی ہے، اس کا اللہ سے تعلق نہیں ہے۔ اس میں نار اور شیطان جاسکتا ہےاللہ کا نام اور اللہ کا نور نہیں جارہا، یہ ازلی جہنمی ہیں۔ تو یہ اسلام کی تشریح ہے۔

نماز بے حیائی اور برائیوں سے کب روکتی ہے؟

آج آپ بتائیے کون سا فرقہ ہے جس سے پوچھیں ہم کہ اسلام کو کیسے اختیار کریں؟ وہ کہے گا کہ عمامہ باندھ لو!داڑھی رکھ لو!نماز پڑھ لو! اوہ خدا کے واسطے قرآن تو پڑھ لو پہلے!قرآن میں یہ بات تو پڑھ لو کہ نماز کس کے اوپر فرض کی گئی ہے؟ مومن بن گئے ہو تم کہ نماز پڑھ لو۔ اچھا! تو پڑھ لی نماز۔ بارہ بارہ سال ہوگئے۔ اب یہ لڑکے ہمارے یہیں پر پیدا ہوئے ہیں ان کے یار دوست بھی ہونگے اُن یار دوستوں میں کچھ ایسے بھی ہونگے جو نمازی ہونگے اُن نمازیوں کے اندر انہوں نے یہ بھی دیکھا ہوگا کہ ان کی گرلز فرینڈز بھی ہیں یہ ڈرگ بھی استعمال کرتے ہیں۔ تو اُن سے پوچھو کہ قرآنِ مجید میں تو لکھا ہے کہإِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِنماز برائیوں اور بے حیائیوں سے روکتی ہے۔ تم نمازیں بھی پڑھتےہو گرل فرینڈ بھی بناتےہو زنا بھی کرتےہو، تمھاری نماز کا کیا بھروسہ اور گارنٹی ہے ؟ داڑھی رکھنے سے کتنے بندے مومن بنے ہیں ۔ سکھوں کی بھی داڑھی ہے بھئی داڑھی رکھنے سے کوئی اگر اللہ والا بن جاتا تو سکھ بھی اللہ والے ہیں۔ ہمارے مسلمانوں میں تو کوئی ایک آدھ ہی پاگل ہوتا ہے جس کی اتنی بڑی داڑھی ہوتی ہے ۔ سکھ تو سارے اُن کی لمبی لمبی داڑھیاں ہوتی ہیں۔ تُو تو صرف داڑھی نہیں منڈواتا وہ تو کہیں کی چیز نہیں منڈواتے۔ سکھ جو ہے وہ کہیں کے بال نہیں کاٹتےتُو تو صرف داڑھی کے چھوڑتا ہے۔ رہ گیا عمامہ سکھوں نے بھی باندھا ہوا ہے عمامہ ۔بڑاخوبصورت عمامہ ہے اُن کا وہ بھی عمامہ باندھتے ہیں۔ لیکن ان چیزوں سے کیا کوئی جانور سے انسان بنا ہے؟تو یہ دھوکہ نہیں ہے یعنی آپ تصور کریں کہ آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے اور آپ ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں اور وہ آپ کے لئے کوئی دوائی تجویز کرتا ہے اور آپ وہ دوائی ایک ہفتہ تک لیتے ہیں اور آپ دیکھتے ہیں کہ صحت میں کوئی بہتری نہیں آرہی ۔ پھر آپ کیا کرینگے گھر پر بیٹھے رہیں گے؟ اور دوائی لیتے رہینگے؟ اور آپ اس چیز کی بالکل پرواہ نہیں کرینگے کہ آپ کی صحت میں کوئی بہتری نہیں آرہی ۔ آپ لازمی طور پر اپنی صحت کے بارے میں فکر مند ہونگے۔ آپ ڈاکٹر کے پاس پھر جائینگے اور اُسے بتائیں گے کہ دیکھیں میں پچھلے ایک ہفتے سے دوائی لے رہا ہوں لیکن صحت میں بہتری بالکل نہیں آرہی اور پھر ڈاکٹر نسخہ تبدیل کرے گا لیکن جب آپ کے مذہب میں اس طرح ہوتا ہے جب آپ پانچ دفعہ مسجد جاتے ہیں نماز پڑھنے کے لئے اور آپ سب کچھ کرتے ہیں اور پھر بھی آپ کا کردار میں کوئی تبدیلی نہیں آتی ۔ آپ اسی طرح ہی ہیں گرل فرینڈ بھی ہے آپ کی ہر طرح کے برے کام آپ کر رہے ہیں اور پانچ وقت کی نماز بھی پڑھ رہے ہیں۔ آئیے اب قرآن مجید سے مشورہ لیتے ہیں : بے شک نماز بے حیائی اور منکرات سے منع کرتی ہے تو پھر تمہاری نماز نے تمہیں روکا کیوں نہیں ۔ کیا وجہ ہے کہ تمہاری نماز نے کوئی اثر نہیں کیا تم پر؟ کیوں تمہاری نماز تمہیں برے کاموں سے نہیں روک رہی کیونکہ تمہاری نماز مکمل نہیں ہے۔لا صلوٰۃ الا بحضور القلب محمدؐ رسول اسلام کو بہتر جانتے ہیں، روئے زمین پر کوئی عالم نہیں ہے جو یہ دعویٰ کرسکے کہ وہ اسلام کو حضور پاکﷺ سے بہتر جانتا ہے ۔ کیا کوئی ولی، کوئی عالم، کوئی مفتی ہے جو یہ دعویٰ کرے کہ وہ اسلام کو نبی کریم سے بہتر جانتا ہے؟ تو حضور پاکﷺ نے فرمایالا صلوٰۃ الا بحضور القلب حضوریٔ قلب کے بغیر نماز نہیں یعنی اُس کا وجود ہی نہیں ہے قلب کے بغیر۔ تو آج جن نمازوں کے اوپر ہم نے تکیہ کیا ہوا ہے وہ تو سب ضائع جارہی ہیں اور زیادہ تر مسلمان اپنےتمام اعمال کا انحصار اپنی نیکیوں اور نماز کی ادائیگی پر کئے ہوئے ہیں اور وہ سوچتے ہیں کہ وہ صرف پانچ وقت مسجد میں جانے کی وجہ سے جنت میں چلے جائیں گے اور ان کے نام عبداللہ اور غلام رسول اور محمد احمد اور امام حسین ہے۔ یہ نام پاک ہیں لیکن یہ نام تمہارا عقیدہ درست نہیں کرینگے۔ جو چیز تمہارے اندر تبدیلی لائے گی وہ ہے دل کا منور ہوناہے،جب آپ کا قلب اللہ کے ذکر سے منور ہوجائے گا۔ آج کے زمانے میں مسلمانوں کا کام صرف ایک دوسرے کو کافر اور منافق کہنا رہ گیا ہے، یہ کافر ہے یہ منافق ہے یہ زندیق ہےاور اپنے اوپر نظر نہیں ڈالتے ہیں کہ وہ خود کیا کررہے ہیں۔ اپنے اوپر شریعت کا نفاذ نہیں کرتے ۔ شریعت تمہارے لئے ہےاور میں تو نافذ کرونگااس لئےیہ میرے لئے نہیں ہے۔

شرح صدر کی تعلیم ناپید ہونے کی وجہ سے فرقے بنے:

اب جو اللہ رب العزت نے فرمایا کہ اسلام کے علاوہ کوئی اور دین قبول نہیں ہوگاتو اسلام کی تشریح آپ نے سن لیأَفَمَن شَرَحَ اللَّـهُ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ تو اب ہم اسلام کو حاصل کرنے کے لئے شرح صدر کرنا چاہتے ہیں اب آپ بتائے کہ کہاں جائیں؟ کیا بریلوی کے پاس علم ہے جوہماری شرح صدر کر دے ! ہمارے جو شیعہ بھائی ہیں جب وہ نعرہ لگاتے ہیں یعنی نعرۂ حیدری، یا علیؑ؛ یہ بھی حق ہے۔ مولا علی مدد؛ یہ بھی حق ہے۔ غوثِ اعظم المدد؛ یہ بھی حق ہے۔ لیکن وہ تعلیم لے کے آؤ جس سے شرح صدر ہوجائے ، وہ تعلیم لے کے آؤجس سے میں اللہ کے نور پر گامزن ہوجاؤں کہاں ہے وہ تعلیم ؟ کیا اہلِ حدیث کے پاس ہے۔ سُنّیوں کے پاس بھی نہیں ہے بریلویوں کے پاس بھی نہیں ہے اس لئے کہ وہ تعلیم ناپید ہوگئی ہے۔ جب وہ تعلیم ناپید ہوئی اُس کے بعد ہی تو اُمت میں بہتر تہتر فرقے بنے۔ اسی قرآن کو پڑھتے ہیں اُس کے باوجود بھی اس کا مطلب کچھ اور سمجھا اس نے ، دیو بندی نے اسی آیت کا کچھ اور مطلب سمجھ لیاوہابی نے کچھ اور سمجھ لیا بریلوی نے کچھ اور سمجھ لیا۔
تو اب اسلام کے حصول کا جو طریقہ قرآنِ مجید نے فرمایا ہے وہ اب دنیا میں کہیں نظر نہیں آرہا ۔ اگر شیعہ یہ سمجھتا ہے کہ اُس کا شرح صدر ہوگیا ہے اور وہ اللہ کے نور پر گامزن ہے تو پھر شیعہ کو یہ بتانا ہوگا کہ شیعوں میں تو بتیس فرقے ہیں کون سا فرقہ جو ہے وہ ہدایت پر ہے اور نور پر گامزن ہے ۔ ایک فرقہ اگر نور پر گامزن ہے تو دوسرا شیعہ اُس کا کیا ہوگا۔ شیعہ میں بتیس فرقے ہیں جس طرح اہلِ سنت والجماعت میں چودہ فرقے ہیں۔ جو نظام اللہ نے بنا کر دیا ہے اُس نظام سے چلیں گے آپ تو ہدایت ملے گی اپنی مرضی سے اگر آپ کہانیاں بنائیں گے اپنی مرضی سے لوگوں کو اپنی رائے پر اسلام کا لیبل لگا کر لوگوں کو اُس طرف گھسیٹیں گے تو وہ منافقین ہی ہونگے، زندیق بنیں گے مومن نہیں بن سکتے ۔ مومن بننے کے لئے ضروری ہے کہ ہم شرح صدر کریں اپنے سینوں میں جو موجود ارواح ہیں اُن ارواح کو اللہ کے نور سے بیدار کریں۔
شرحِ صدر کا حصول درحقیقت اسلام اختیار کرنا ہے۔ جب تک اسلام کی مدت رہی ہے شرحِ صدر کرنے والی ہستیاں اس دنیا میں آتی رہی ہیں حسن بصری مولا علی اور بی بی فاطمہ سے شروع ہوجائیں وہاں سے یہ تعلیم شروع ہوگئی دلوں کو منور کرنے کی۔ پھر حسن بصری ، پھر اُس کے بعد امام ابو حنیفہ ، امام جعفر صادق ، امام زین العابدین یہ جتنے بھی اہلِ بیتِ عظام کے جو آئمہ کرام تھے اُس کے بعد جو بزرگانِ دین مصر میں آئے ہیں ترکی میں آئے ہیں شام میں آئے ہیں پاکستان اور ہندوستان میں آئے ہیں ، افغانستان میں جو بزرگانِ دین آئے ہیں اور عالمِ اسلام کے مختلف خطوں میں صوفیائے کرام کا آنا ہوا ہے یہ تمام وہ ہستیاں تھیں جن کے لئے قرآنِ مجید نے کہا کہ تم کو ہم نے اس اُمت سے نکالا ہےکہ پوری دنیا میں انسانیت میں پھیل جاؤ اور لوگوں کو تقویٰ سکھاؤاور اُس گروہ کو اللہ تعالیٰ نے بہترین گروہ قرار دیا ہے۔ حزب اللہ کا نام دیا ہے۔ لیکن اُس گروہ میں کون شامل ہیں؟ داتا علی ہجویری جیسی ہستیاں، غوثِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ جیسی ہستیاں ، شاہ کمال کیتلی ؒ، خواجہ معین الدین اجمیریؒ، خواجہ بختیار کاکیؒ ، نظام الدین اولیأ جیسی ہستیاں، سلطان حق باہوؒ جیسی ہستیاں، سائیں سہیلی سرکار ؒ جیسی ہستیاں، لعل شہباز قلندرؒ جیسی ہستیاں اور اِن سب کا امام گوہر شاہی جنہوں نے پوری کائنات میں عشقِ الٰہی کا دروازہ کھول دیا ہے ہر کس و عام کے لئے ، ہر مذہب کے لئے ، ہر دین کے لئے۔ آج کے دور میں اسلام ،جو قرآن میں آیا ہے اُس اسلام کی بات ہورہی ہے ، سُنّیوں بریلویوں کا اسلام نہیں ، وہابیوں شیعوں کا اسلام نہیں ۔ یہ اُمت نہیں ہے اُمت سے خارج ہیں۔اسلام وہ ہے جو قرآن میں آیا اور محمدؐ رسول اللہ نے قائم کیا۔ وہ اسلام آج کہیں نظر نہیں آتا۔ یہی وجہ ہے کہ پھر اللہ تعالیٰ نے حضورؐ کے بعد آنے والی ہستیٔ معظم امام مہدی علیہ الصلوٰۃ والسلام کو دینِ حنیف کے قیام کا مژدہ سنایا کہ آپ دینِ الٰہی کو عام کردیں اور دینِ الٰہی کیا ہے؟ اللہ سے محبت کرنے کا علم۔اللہ سے عشق کرنے کا دین۔ اللہ کا اپنا تو کوئی دین نہیں تھا ۔ نہ وہ نمازیں پڑھتا ہے نہ وہ داڑھی رکھتا ہے اُس کا دین کیا ہے پھر؟ اسلام بھی اُس کا دین نہیں ہے عیسائیت بھی نہیں ہے یہودیت بھی اُس کا دین نہیں ہے۔ اُس کا دین عشق ہے۔ خود عاشق خود معشوق اور خود عشق۔ یہی دین لوگوں کے دلوں اور روحوں کو اللہ کے نور سے آباد کرکے اُن کے لطائف اور ارواح کو نور سے طاقتور بنا کے تمام عالمین تک اُن کی رسائی ہوجائے یہاں تک کہ وہ مقامِ محمود پر پہنچ کے اللہ کے روبرو ہو کے اُس کا دیدار کریں ۔ جب دیدار ہوگیا تومحبت بھی چلی گئی اب عشقِ الٰہی آگیا۔ یہ دین ہے۔ دینِ الٰہی کی جڑیں اسلام میں ہیں اور اس کی انتہا دینِ الٰہی میں ہے۔ اس کی ابتداء محمدؐ رسول اللہ نے کردی دلوں کو کلمہ کرکے اور اس کی اتنہا سیدنا گوہر شاہی روحوں کو کلمہ پڑھا کے کر رہے ہیں۔

مندرجہ بالا متن نمائندہ گوھر شاہی عزت مآب سیدی یونس الگوھر سے 28 جون 2018 کو یو ٹیوب لائیو سیشن میں کئے گئے سوال کے جواب سے ماخوذ کیا گیا ہے ۔

متعلقہ پوسٹس

دوست کے سا تھ شئیر کریں