کیٹیگری: مضامین

لطیفہ قلب پر ایک لاکھ اسّی ہزار خرطوم ہوتے ہیں:

ذکر کے جلدی چلنے اور دیر سے چلنے میں کئی عوامل شامل ہوتے ہیں ۔ ایک توسیدنا گوھر شاہی کے مزاج اور موڈ پر بھی منحصر ہوتا ہے۔ کبھی اوسطا ًنظر ہوتی ہے، کبھی مزاج مبارک بہت اچھا تو اور زیادہ نظر کرم فرماتے ہیں ۔ انسانی دل کو ذکر میں لگانا مقصد نہیں ہوتا یہ وسیلہ ہےجیسے لطیفہ اخفی کا کام بولنے کا ہے لیکن لطیفہ اخفی زبان کو بلواتا ہے، اب ہماری تربیت تو سیدنا گوھر شاہی نے کر دی اگر ہم چاہیں تو زبان کو خاموش رکھیں اور صرف لطیفہ اخفی سے ہی اکیلے کلام کریں ، جس کا دل منور ہو گا اس کو آواز آئے گی۔ذرا غور فرمائیے جیسے چاند میں جو تصویر ہے اس میں سننے اور بولنے کی صلاحیت بھی ہے تو وہ تصویر ایک مکمل شخصیت ہو گی، بلوانے کا اصل کام لطیفہ اخفی کا ہے لطیفہ اخفی زبان کو بلواتا ہے اسی طرح ہمارا دل ہے دل کی دھڑکنوں میں ہم اللہ اللہ بساتے ہیں تاکہ نور بنے، رگڑا لگتا ہے نور بنتا ہے اور وہ نور اس سوئی ہوئی مخلوق کو بیدار کرتا ہے ، طریقہ کار یہ ہے۔ کچھ لوگوں کے ساتھ ایسا ہوتا ہے کہ سیدنا گوھر شاہی ان کی اس مخلوق کو براہ راست اللہ اللہ میں لگا دیتے ہیں لیکن جو عام کا طریقہ کار ہے اس میں پہلے دل کی دھڑکنیں اللہ کریں اور پھر نور اس مخلوق تک جائے۔ دل کی اس مخلوق لطیفہ قلب پر ایک لاکھ اسی ہزار زنار ہوتے ہیں جن کو خرطوم کہا جاتا ہے، اس میں تیس ہزار تکبر کے تیس ہزار شہوت کے تیس ہزار حسد کے یعنی ایک لاکھ اسی ہزار زنار ہوتے ہیں اور ادھر حدیث میں لکھا ہے کہ اگر تیرے دل میں رائی برابر بھی تکبر ہوا تو تو جنت کے قابل نہیں ، یہ ہی وجہ ہے کہ جن کے قلب منور نہیں ہوتے ان کو مرنے کے بعد سیدھا سجین میں ڈال دیتے ہیں ، اب وہ جو ایک لاکھ اسی ہزار زنار ہیں اس وقت کے لیے حدیث میں آیا تھا
اسم اللہ شئی طاہر لا یستقر الا بمکان الطاہر
جب تک یہ جالے ہٹیں گے نہیں اس وقت تک وہ مخلوق ذکر اللہ نہیں کرے گی اور وہ جالے صرف مرشد ہٹا سکتا ہے ورنہ جو مشق ہم بتا رہے ہیں وہ مشق ذکر قلب کی ہی ہے لیکن دل کی دھڑکنیں اگر اللہ اللہ میں لگ بھی جائیں نور بننا شروع ہو بھی جائے ان مخلوقوں تک تو نور تب ہی پہنچے گا نا جب وہ ایک لاکھ اسی ہزار جالے ہٹ جائیں گے، ان جالوں کو ہٹانے کے لیے مرشد کامل کی نظر چاہئیے۔ باقی دیگر لطائف پر کوئی جالے والے نہیں ہیں صرف قلب پر ہیں کیونکہ دروازہ ہی یہ ہے ، اب وہ ایک لاکھ اسی ہزار جالے جو ہیں کوئی بھی عبادت تو کر لے یہ ہٹتے نہیں ہیں ، ان کو ہٹانے کے لیے اب تجھے ضرورت ہے کہ تو کسی ولی کو آزمائے، سلطان باھو نے کہانظر جنھاں دی کیمیاہووئے۔۔۔ سونا کردے وٹ۔۔۔۔جن اولیاء کو اللہ تعالی نظر کیمیاء عطا کر دیتا ہےوہ پتھر پر نظر ڈال کر سونا بنا دیتے ہیں لیکن یہ کام شیطان بھی کر سکتا ہے اور پتھر کو سونا بنا بھی دیا تو دنیا میں ہی کام آئے گا نا اس سے تم اللہ تک تو نہیں پہنچ پائوگے تو پھر ولی کی وہ پہچان کیا ہے جو کوئی اور نہیں کر سکتا صرف ولی ہی کرسکتا ہو۔ولی کامل کی پہچان کے لئے سلطان حق باھو نے فرمایا کہ عیسی علیہ السلام مردوں کو زندہ کر دیا کرتے تھے لیکن ہم جو حضور پاک کےفقیر ہیں ہم کو اللہ تعالی نے ایسی طاقت دی ہے کہ اگر ہم کسی کے مردہ قلب پر نظر ڈال دیں تو اس کو ہمیشہ کے لیے عبد ل آباد کر دیتے ہیں ۔ وہ ایک لاکھ اسی ہازر جالے مرشد کامل کی نگاہ کیمیا سے جلتے ہیں ۔

ظاہری اور باطنی گناہوں میں فرق :

دنیا میں دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں ایک تو وہ ہوتے ہیں جو ظاہری گناہ میں زیادہ ہوتے ہیں اور ایک وہ ہوتے ہیں جو باطنی گناہوں میں زیادہ ہوتے ہیں جو دنیا دار ہوتے ہیں وہ ظاہری گناہوں میں زیادہ ہوتے ہیں اور جو مذہبی ہوتے ہیں وہ باطنی گناہوں میں زیادہ ہوتے ہیں۔ اب مذہبی لوگوں کو تو کم ہونا چاہئیے لیکن یہ باطنی گناہوں میں زیادہ کیوں ہوتے ہیں ؟ ظاہری آدمی دنیا دار آدمی ہے اس کو پیسے پر طاقت پر تکبر ہو گا نا ،اگر مذہبی آدمی ہے تو اس کو نمازوں پر ، روزوں پر ،حج اور اپنی پارسائی پر تکبر ہوگا اور یہ نہیں پتا تکبر عزازیل را خوار کرد، نمازیں تو وہ بھی پڑھتا تھا اور قرآن مجید میں جو آیا

فَوَيْلٌ لِّلْمُصَلِّينَ الَّذِينَ هُمْ عَن صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ الَّذِينَ هُمْ يُرَاءُونَ
سورة الماعون آیت نمبر 4 تا 6
ترجمہ : تباہی ہے ایسے نمازیوں کے لیے کہ جو نماز کی حقیقت سے غافل ہیں اور ریا کاری کرتے ہیں۔

روزآنہ جب تو نے نماز پڑھنا شروع کری تو اپنے آپ کو بہتر سمجھنا شروع ہو گئے ،جب تک انسان گناہوں میں ہوتا ہے اس کے اندر عجز و انکساری ہوتی ہے ، آج تم پانچوں وقت کی نماز پڑھنا شرع کر دو، داڑھی رکھ لو، کپڑے ویسے پہننا شروع کر دو تم خود بخود اپنے آپ کو لوگوں سے بہتر سمجھنے لگو گے اور ایک دن بے نمازی کو بڑی حقارت سے دیکھا اور کہا میں اس سے بہتر ہوں بھول گیا کہ یہ جملہ تو ابلیس نے بھی کہا تھا ، جب اللہ تعالی نے ابلیس کو آدم کو سجدہ کرنے کا حکم دیا تھا تو اس نے بھی کہا تھا انا خیر منہ میں اس سے بہتر ہوں ۔ تو نمازوں اورعبادتوں کا بھی تکبر ہوتا ہے۔ ظاہری گناہ جسم کے اوپر ہی رہتے ہیں اور باطنی گناہ انسان کے دل میں چلے جاتے ہیں۔باطنی گناہ کیا ہیں؟ جیسے تکبر ہے ، کسی انسان سے بغض رکھ لینا ، حسد کی بیماری ہے، ایک حدیث شریف میں آیا ، حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ سوکھی لکڑی کو کھا جاتی ہے۔

“جن لوگوں کے باطنی گناہ زیادہ ہوتے ہیں جو ایک دوسرے کی غیبتوں میں لگے رہتے ہیں ، حرص و حسد میں ہیں ،بغض میں ہیں ان کے دلوں میں یہ باطنی گناہ گھس جاتے ہیں، ان کا ذکر چلنے میں دیر لگتی ہے اور جن کے باطنی گناہ کم ہوتے ہیں ان کا ذکر فورا چل جاتا ہے”

ذکر قلب چلنے میں دیری گناہوں کی وجہ سے ہے:

اب تم کو ہمت چاہئیے اگر مہینہ ڈیڑھ مہینہ گزر گیا ہے اور ذکر نہیں چلا تو کیا تم اللہ کو چھوڑ دو گے؟ کیا تم اس راستے کو چھوڑ دو گے جہاں سیدنا گوھر شاہی کی نظر کیمیاء سے لاکھوں لوگوں کا ذکر قلب جاری ہوا ، عطا ہوا کیا وہاں سے تم مایوس ہو جائو گے؟ تمہیں کبھی یہ خیال نہیں آئے گا کہ میرا ذکر چلنے میں جو دیری ہو رہی ہے یہ میرے گناہوں کی وجہ سے ہے اور صبر بھی کرنا چاہیے اور جو ذکر کی مشق کا طریقہ بتایا جاتا ہے اس طریقے پر عمل بھی کرنا چاہیے۔آج کل تو زیادہ تر ایسا ہی ہوتا ہے کہ جن لوگوں کو ذکر دیتے ہیں یا تو فورا چل جاتا ہے یا دوسرے تیسرے دن چل جاتا ہے ، کوئی پانچ سو چھ سو بندوں میں سے ایک آدھ شکایت آتی ہے کہ میرا ذکر نہیں چلا ، اگر چھ سو آدمیوں کا ذکر چلا ہے اور تیرا نہیں چلا تو تیرا بھی چل جائے گا اگر تو امید اور آس باندھ کر رکھے، مایوسی کا شکار نہ ہو، کیونکہ یہ کوئی چھوٹی موٹی چیز نہیں ہے ،ذکر قلب اللہ کی دوستی کی طلب ہے، تو اللہ سے دوستی کرنا چاہ رہا ہے تھوڑا سا صبر تو کر لے۔
با یزید بسطامی فرماتے ہیں میں نے صرف ذکر قلب کی منظوری کے لیے بارہ سال کا چلہ کیا ، یہاں تو بارہ منٹ میں ذکر قلب جاری ہو جاتا ہے ، ایسا کرم کہاں ہوا ہے دنیا میں ، یہ ذکر قلب اللہ سے دوستی کی تحریک ہے کیونکہ مرشد تمہارا حلیہ لے کر اوپر بیعت المعمور میں جاتا ہے تو اللہ تعالی پوچھتا ہے اس کو کیوں لے کر آئے ہو تو جہاں سے ذکر ملتا ہے وہ کہتے ہیں کہ تجھ سے دوستی کرانے کے لیے، یہ ذہن میں رکھیں کہ

“اگر تیرا ذکر چل گیا تو اللہ تجھ سے راضی ہے ،تجھ سے محبت کرتا ہے ، تجھے چاہتا ہے تب تیرا ذکر چلا ہے”

آج دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے کہ لوگ مسجد مندر جاتے ہیں پوجا پاٹ کرتے ہیں ،حج بھی کر لیتے ہیں لیکن ان کو پتا نہیں ہوتا کہ رب ان سے راضی ہے یا نہیں ،لیکن جب تیرا ذکر چل گیا تو اب تو خوشی منا کہ رب تجھ سے راضی ہے تب تجھ سے دوستی کی طرف ہاتھ بڑھایا، اور جب رب نےدوستی کاہاتھ بڑھا دیا تو اس ذکر اور اس تعلیم کے لیے اب تو کسی قربانی سے دریغ نہیں کرے گا اس دوستی کو ٹھکرائے گا نہیں ۔بہت سے مواقعوں پر دیکھا گیا ہے کہ جب کسی کا ذکر چل گیا تو بہت سارے لوگوں نے ان کی مخالفت شروع کر دی، کسی نے ان کے کان بھرنا شروع کر دیے، شیطان باطن میں بھی ہے اور شیطان ظاہر میں بھی ہے ظاہر میں شیطان یہ ہی لوگ ہیں جو اس تعلیم کے خلاف ہیں ،وہ لوگ ماں باپ میں بھی ہو سکتے ہیں ، بھائی بہن میں بھی ہو سکتے ہیں ، رشتہ داروں میں بھی ہو سکتے ہیں ، یار دوستوں میں بھی ہو سکتے ہیں اور مولویوں میں تو ہوتے ہی ہیں ۔ اسی ذکر کے لیے قرآن مجید میں آیا کہ

وَمَن يَعْشُ عَن ذِكْرِ الرَّحْمَـٰنِ نُقَيِّضْ لَهُ شَيْطَانًا فَهُوَ لَهُ قَرِينٌ
سورة الزخرف آیت نمبر 36
ترجمہ : جس نے میرے ذکر سے اعراض و کنارہ کیا تو پھر اللہ تعالی اس پر ایک شیطان مسلط کر دیتا ہے۔

اگر تیرا ذکر چل جائے تو پھر اس راستے سے رکنا نہیں ہے اگر تو رک گیا تو پھر تیرے لیے جہنم ہے ، اسمیں واپسی کا راستہ نہیں ہے ، یہ راہ خاص ہے، یہ معمولی چیز نہیں ہے ۔ہے کوئی ایسا جس کو کسی سے محبت ہوئی ہو اور اس کی دھڑکنوں میں اس کا نام گونجے؟ ہے کوئی ایسی عبادت کہ تو عبادت کرے اور تیری عبادت سے عرش الہی پر جو مینار ہے وہ لرزنا شروع کر دے؟ جب کسی ذاکر قلبی کا دل ذکر اللہ سے لرزتا ہے تو عرش الہی پر ایک مینار ہے وہ لرزنا شروع ہو جاتا ہے تو فرشتے پوچھتے ہیں اے اللہ اس مینار کو کیا ہوا تو اس وقت اللہ تعالی فخر کا اظہار فرماتا ہے کہ یہ وہی بندہ ہے کہ جس پر انکار سجدہ ہوا تھا آج وہ بندہ نہیں اس کا دل میرے ذکر میں جھوم رہا ہے۔ عبادت کرو تو ایسی کرو نا کہ جس پر اللہ بھی فخر کرے، جس عبادت پر اللہ فخر کرے اس عبادت کی قبولیت کا کیا عالم ہو گا! یہ عطا ہے سیدنا گوھر شاہی کی، جس عبادت پر اللہ فخر کرے اس وقت پتا چلے گا کہ تو اشرف المخلوقات ہے، ذکر قلب چلنا چھوٹی موٹی چیز نہیں ہے، یہ اتنی بڑی چیز ہے کہ اگر تیرا ذکر چل گیا تو زندگی بھر شیطان تیرے دل میں داخل نہیں ہو سکے گا کیونکہ شیطان اس میں داخل نہیں ہو سکتا جس میں اللہ کا نور ہو ، اگر تیرا ذکر چل گیا تو تیرا شمار انہی میں ہو گا جن کے لیے اللہ تعالی نےقرآن میں کہا

قَالَ فَبِعِزَّتِكَ لَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ إِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ
سورة ص آیت نمبر 83
ترجمہ : شیطان نے کہا اے مولا تیری عزت کی قسم سب کو اغوا کر لوں گا سوائے تیرے ان بندوں کے جو درجہ اخلاص پا چکے ہیں ۔

درجہ اخلاص کیا ہے؟

ورہ اخلاص ، قل ھو اللہ احد، کہہ دے کہ اللہ ایک ہے۔جب حضور پاک کو اللہ نے کہا کہہ دیجئے کہ اللہ ایک ہے آپ نے آمین کہا اور جب آپ نے لوگوں کو کہا کہ تم بھی کہہ دو کہ اللہ ایک ہے جنہوں نے تسلیم کیا وہ مومن ہو گئے جنہوں نے حیل و حجت کی وہ منافق ہو گئے ، جنہوں نے انکار کیا وہ کافر ہو گئے۔ سیدنا گوھر شاہی فرماتے ہیں اب تو روز نماز میں کس کو کہتا ہے کہہ دے اللہ ایک ہے، تو اپنے دل کو کہتا ہے کہہ دے اللہ ایک ہے اور آگے سے دل کہتا ہے بیوی بیمار ہے، بتائو تیرا دل تو منافق تھا منافق دل کی نماز کیسے ہو گی؟ تو اخلاص یہ ہے کہ

“جب زبان کہے اللہ تو دل بھی کہے اللہ، زبان میں بھی وہی اور دل میں بھی وہی تو یہ درجہ اخلاص ہے”

مخلصین وہی ہوئے جن کی زبان میں جو ہے وہی ان کے دل میں بھی ہے، اب درجہ اخلاص کے سو درجات ہیں ، درجہ اخلاص یہاں سے شروع ہو جاتا ہے کہ جو زبان نے کہا وہی اگر دل کہے تو یہ درجہ اخلاص کا پہلا درجہ ہے، پھر زبان نے کہا اللہ اور دل نے بھی کہا اللہ اور پھر روح نے بھی اللہ کہا تو اب اخلاص کا درجہ بڑھ گیا ، پھر اس کے بعد تیسرے اور چوتھے لطیفے نے بھی اللہ کہا اور جب تو نے زبان سے ایک مرتبہ اللہ کہا اور ساتوں لطیفے بیک وقت بولے اللہ اللہ اللہ، تو اب کیا ہو گا؟ اب تجھے جثوں کا علم ملے گا ، کہ ان لطائف سے جثے نکال، پھر تیری زبان بھی اللہ کہے گی سارے لطیفے بھی اللہ کہیں گے اورسارے جثے بھی اللہ کہیں گے، جب زبان بھی اللہ کہے روحیں بھی اللہ اللہ کریں اور ان کے نکلے ہوئے جثے بھی اللہ اللہ کریں تو یہ خشوع و خضوع کا مقام ہے۔ اگر صرف روحیں اللہ اللہ کرتی ہیں تو یہ خشوع ہے اگر جثے بھی مل کر اللہ اللہ میں لگ جائیں تو وہ خضوع بھی ہے۔اگر ایک مرتبہ زبان سے سبحان اللہ نکل گیا تولاکھوں کروڑوں مرتبہ سبحان اللہ کہنے کا ثواب ملے گا اللہ کی بارگاہ میں۔اگر تجھے ایک لمحےکے لیے اللہ کا خیال آیا تو ثقلین کی عبادت سے بہتر ہوگا، جتنے بھی فرشتے ہیں جتنے بھی ملائکہ ہیں جتنے بھی جنات ہیں ان سب کی عبادات کو ملا کر بھی تیرا ایک لمحے کا جو خیال رب کے لیے ہو گا وہ اس تک نہیں پہنچ سکتا۔ایک مرتبہ حضور پاک قبرستان سے گزرہے تھے تو اچانک رونا شروع ہو گئے صحابہ کرام بھی آپ کے ساتھ تھے، تھوڑی دور چلے تو آپ مسکرانے لگ گئے تو صحابہ کرام نے پوچھا یا رسول اللہ کیا ماجرا ہےپہلے آپ روئے پھر توقف فرمایا اور مسکرائے تو آپ نے فرمایا میرے ایک اُمتی کی لاش سے ایک چھوٹی سی ہڈی کا ٹکڑا ایک کبوتر اپنی چونچ میں دبا کر لایا اور جب اس ذاکر قلبی کی ہڈی کا ٹکڑا قبرستان پر گرا تو اس کی برکت سے سارے قبرستان کے مردوں کے گناہ اللہ تعالی نے معاف کر دیے،اب ذاکر قلبی کی عظمت کا کیا اندازہ لگائو گے؟ اگر کوئی ذاکر قلبی خود اس قبرستان میں دفن ہو گا تو پھر کیا عالم ہو گا وہ تو اس پورے قبرستان کے لیے باعث رحمت ہوجائے گا نا، اور اگر کسی ولی کا مزار ہوا تو کیا ہو گا۔
یہ جو ذکر قلب ہے یہ روشن ضمیری کی ابتداء ہے اس کے ساتھ ساتھ اگر تم ظاہری عبادت بھی کرو گے تو ترقی بڑی جلدی ہو گی اور اگر معذور ہونہیں کر سکتے تو خیر ہے لیکن اس میں ٹائم زیادہ لگے گا لیکن پھر بھی ایک دن روشن ضمیر بن ہی جائو گے، اتنی بڑی عظمت تمہیں ملے گی تو ذرا صبر کرو ، ٹھنڈا کر کے کھائو، صبر سے مراد یہ ہے کہ سیدنا گوھر شاہی کی سخاوت سے امید رکھو، کہ جب کروڑوں پر کرم کیا ہے تو مجھ پر بھی کریں گے، سیدنا گوھر شاہی سے امید کا رشتہ باندھ لو جس نے سیدنا گوھر شاہی سے امید کا رشتہ باندھ لیا تو کرم کہیں نہیں گیا، ویسے بھی اللہ تعالی کا فرمان ہے کہ میں اپنے بندے سے ویسے ہی پیش آتا ہوں جیسا اس کا گمان ہے، اگر تیرا گمان یہ ہے کہ گوھر شاہی نے مجھ پر کرم کرنا ہی کرنا ہے تو پھر سن گوھر شاہی تجھ پر کرم کریں گے ہی مگر پہلے تو گمان تو ایسا رکھ ۔

ذکرِقلب کی مشق کا طریقہ:

رات کو جب سونے لگیں تو اپنی شہادت کی انگلی کو قلم خیال کریں اور تصور کریں کے سیدنا گوھر شاہی نے میری انگلی کو پکڑا ہوا ہے اور اس سے میرے دل پر اللہ لکھ رہے ہیں جب تم یہ تصور کرو گے تو تم دیکھو گے کہ سرکار تمہارے پاس ہی کھڑے ہیں اگر تمہارے تصور کرنے سے دل کی دھڑکنیں تیز ہو جائیں تو سمجھ جانا ازلی مومن ہوبس ، تصور سے اگر دھڑکن تیز ہوئی ہے تو ذکر چل ہی جائے گا کیونکہ وہ ریسپونڈ کر رہا ہے نا، کیونکہ اگر کوئی بے سدھ پڑا ہے اور آپ کے چٹکی لینے سے ہلتا جلتا ہے تو اس کا مطلب ہے وہ زندہ ہے ، اسی طرح اسم ذات کا یا سیدنا گوھر شاہی کا تصور کرو اور دھڑکنیں تیز ہو جائیں تو سمجھ جائو دل زندہ ہے ایک نہ ایک دن بول ہی پڑے گا نا، زندہ ہے تب ہی ہلا جلا اور اگر تصور کرنے سے اس میں کوئی حرکت پیدا نہیں ہوتی پھر دوسرا گئیر لگانا پڑے گا کیونکہ اُدھر کہا ہوا ہے چہ زندہ اور چہ مردہ، چہ مسلم چہ کافر۔ پھر بھی اگر دل میں ہل جل نہ ہو تو اور زیادہ سیدنا گوھر شاہی سے اُمید لگانا، کیونکہ کوئی ایسی چیز نہیں کہ جو آپ کی عطا اور دسترس سے خالی ہو ،کوئی عوامل ایسے نہیں ہیں کہ جہاں آپ کی عطا فیل ہو گئی ہو، کوئی انسان ایسا نہیں کہ جو سرکار گوھر شاہی سے فیض چاہے اور اسے فیض نہ ہو، فیض صرف ایک ہی صورت میں نہیں ہو گا کہ تو نہ چاہے ،اگر تو نہ چاہے تو پھر نہیں ہو گا ،جو فیض لینا چاہتا ہے تو پھر سرکار کی عزت کی قسم اس کو فیض ہو گا۔ گمان سدھار لے اپنا، سارا کا سارا معاملہ گمان کا ہے اور پھراپنےاندر بھی جھانک کہ ساری زندگی تو نے کتنے جھوٹ بولے ہیں ، کتنے لوگوں کے دل دکھائے ہیں ،کیا کیا نہیں کیا ، ساری زندگی تو گناہوں سے تعبیر ہے اور اب رب سےدوستی کرنا چاہتا ہے اور صبر بھی نہیں ہوتا ۔

مندرجہ بالا متن نمائندہ گوھر شاہی عزت ماب سیدی یونس الگوھر سے21 اگست 2018 کو یو ٹیوب لائیو سیشن میں کئی گئی گفتگو سے ماخوذ کیا گیا ہے ۔

متعلقہ پوسٹس

دوست کے سا تھ شئیر کریں