کیٹیگری: مضامین

حروف مقطعات میں کچھ حروف علم اور کچھ ذات کی طرف اشارہ ہیں:

قرآن مجید میں بہت سارے حروف ایسے ہیں جن کو حروف ِمقطعات کہا جاتا ہے جن کے بارے میں یہ گمان کیا جاتا ہے کہ اِن حروف کے معنی صرف اللہ اور اس کے رسول کو معلوم ہیں یا پھر بہت سے متولین اور مفسرین نے یہ بھی لکھا ہے کہ اُن فقراو صالحین کو بھی اِن حروف ِمقطعات کے معنی معلوم ہو گئے جن کو اللہ اور اس کے رسول نے بتا دیا ۔ اور یہ ایک ایک جو حروف ہیں وہ اپنی ذات میں ایک ایک علم یا کسی ذات کی طرف اشارہ کرتا ہے ۔ہم قرآن مجید میں موجود دو حروف مقطعات کا ذکر کر رہے ہیں جن میں سے ایک حروف مقطعات توقرآن مجید میں سورة البقرة کے شروع میں ہی آ گیا ہے ۔

الم ذَٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ
سورة البقرة آیت نمبر1 تا 2

نام نہاد علماء اس کی حقیقت سے قطعی بے خبر ہیں اور یہ کہنے کے بجائے کہ وہ اِس کے معنی نہیں جانتے ہیں اِس کی تاویلات پیش کر دیتے ہیں ۔ اُمت مسلمہ حروف مقطعات کے معنی کیا ہیں یہ جاننے کی پرواہ کئے بغیر اِسی چکر میں اُلجھی رہی کہ ان حروفِ مقطعات کو پڑھنے کا کتنا ثواب ہو گااور ہر مفسرین نے اپنی اپنی منطق سے اس کا ثواب بتایا۔

سینہ مصطفی میں موجود الم کا فیض کن لوگوں کو ہوا ؟

نبی کریم کے سینہ معظم میں اس کا نور، اس کےراز اور معنی اللہ رب العزت نے ودیت فرما دئیے ہیں اور سینہ مصطفی سے اس کا فیض ہوا ۔اب سینہ مصطفی سے “الم” کا فیض کن لوگوں کو ہوا ہے یہ بھی اسی آیت میں لکھا ہوا ہے کہ “الم” کا فیض متقیوں کو ملے گااور متقی وہ ہیں جو غیب پر ایمان لائے ، نماز کو قائم کیا اور رب نے اُن کوجو رزق ظاہری اور باطنی عطا کیا اس کو انہوں نے دیگر انسانوں کے ساتھ بانٹا۔ اس آیت سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ نبی کریم ﷺ ” الم ” کا فیض اُن لوگوں کو عنایت فرمائیں گے جنہوں نے دین ِ اسلام کو قبول کر لیا ہے اور دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے ہیں ۔پھر سورة ابراہیم کی پہلی آیت میں اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا کہ

الر كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ إِلَيْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ بِإِذْنِ رَبِّهِمْ إِلَىٰ صِرَاطِ الْعَزِيزِ الْحَمِيد
سورة ابراہیم آیت نمبر 1

یہ خطاب بھی اللہ تعالی کا نبی کریم ﷺ سے ہے۔یہ جو الرٰ ہے اس کا علم بھی ہم نے آپ کی جانب نازل کیا ہے ۔مندرجہ بالا سورة البقرة کی آیت میں تھا کہ هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ اور پھر متقیوں کی تشریح بھی بتائی کہ جو مذہب کے دائرے میں آ گئے ، نمازوں کو قائم کیا ۔اُن لوگوں کو “الم” کا فیض ہو گا۔ لیکن “الرٰ ” کے بارے میں لکھا ہے کہ اے محمد! آپ پوری انسانیت کو اندھیرے سے نکال کر نور کی جانب راغب کریں۔
سیدنا گوھر شاہی کا ایک مشہور و معروف قول مبارک ہے کہ ” اللہ کی پہچان اور رسائی کیلئے روحانیت سیکھ خواہ تمھارا تعلق کسی بھی مذہب یا فرقے سے ہو” علماء اسلام نے اس جملے پر بہت اعتراض کیا ہے اور آج تک یہی پوچھتے ہیں کہ جو مسلمان نہیں ہیں وہ اللہ والے کیسے ہو سکتے ہیں ! سیدنا گوھر شاہی نے اس اعتراض کا جواب دیا کہ دراصل روحانیت کا تعلق کسی مذہب سے نہیں ہے بلکہ روحوں کو رب کے نام سے بیدار کر کے اُن کو نور کی طاقت فراہم کرنے سے ہے ۔آج ہم (یونس الگوھر ) جشن ریاض کے اس موقع پر سیدنا گوھر شاہی کے اُس فرمان ذیشان کو قرآن مجید کا غلاف اُوڑھا رہے ہیں اور عالم اسلام کو یہ دعوت دے رہے ہیں کہ اِس غلاف کو دیکھ کر تبصرہ کیجئے ۔اس میں لکھا ہے کہ غیر مسلم کے دل اللہ اللہ کیسے کر سکتے ہیں ۔ جب الم کا فیض ہوا تو اس کو صراط مستقیم کہا گیا ۔ اور جب الرٰ سے فیض ہوا ہے تو اس کو صراط العزیز الحمید کہا گیا ہے ۔
الر كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ إِلَيْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِیہ وہ کتاب ہے جو ہم نے آپ پر نازل کی ہے تاکہ آپ انسانیت کو گمراہی کے اندھیروں سے نکالیں اور نور کی طرف گامزن فرمائیں ۔الرٰ کے فیض میں نمازوں کی شرط نہیں ہے ، مذہب کی قید نہیں ہے ۔ الم کے فیض میں یہ تھا کہ جومتقی ہوں گے، نمازیں قائم کرتے ہوں گےاور صراط مستقیم پر ہوں گے اُنہیں فیض ہو گا لیکن الرٰ میں کُل انسانیت کو نور عطا فرمارہے ہیں اور ظلمت کو ختم کر کے نور عطا فرمائیں ۔ اور پھراسی آیت میں آگے ارشادفرمایا کہ بِإِذْنِ رَبِّهِمْ إِلَىٰ صِرَاطِ الْعَزِيزِ الْحَمِيدِ آپکو رب کی طرف سے ایسا کرنے کا اِذن ہے ۔اب اگر مولوی اعتراض کرتے ہیں کہ غیر مذہب کو کیسے فیض ہوگا تو اس کا جواب اس آیت میں موجود ہےکہ مذہب کی کوئی قید نہیں ہے جن انسانوں کو آپ نے ظلمات سے نکال کر نور کی طرف لانا ہے اُن کے رب نے آپکو اِذن دیاہے ۔ وہ اُن کا رب ہے جو مندروں میں مارے مارے پھر رہے ہیں ، کوئی گرجا گھروں میں مارے مارے پھر رہے ہیں اور اُن کو رب کا نشان نہیں مل رہا ہے ۔ وہ اُن بھٹکنے والوں کا بھی رب ہے اُن ہی انسانوں کے رب نے آپ ﷺ کو اِذن دیا ہے کہ اُن کو ظلمات سے نکال کر میرے نور کی طرف لے آئیں ۔ اب سوال یہ ہے نبی کریم ﷺنے ایسا کب کیا ؟

نبی کریم ﷺ نے الرٰ کا فیض کب دیا؟

الم اور الرٰ کے راز دونوں نبی کریم پر نازل کر دئیے گئے ایک میں مذہب کی پابندی اور دوسرے میں مذہب کی قید نہیں ہے ۔لیکن اگر حضوؐرکے دور کو اگر دیکھا جائے تو حضوؐرکے دور سے لے کر غوث اعظم ؓ کی ثقلینی غوثیت تک الم کا ہی دور چلا ہے ۔ذکر قلب انہی کو ملا ہے جنہوں نے کلمہ پڑھا ہے ۔اگر حضوؐرنے الرٰ کا فیض دیا ہوتا تو گڑ بڑ ہو جاتی ہے کہ کس کو کلمہ پڑھا کر فیض دیا ہے اور کسے بناء کلمہ پڑھائے فیض دینا ہے ۔پھر اسلامی سلطنت کا قیام نہیں ہو سکتا تھااور مکے یا مدینے کی ریاست بنانے کا جواز ہی نہیں تھا۔قرآن مجید میں الرٰ کے بارے میں آیا تو ہے کہ اس کا فیض سینہ مصطفی میں رکھ دیا گیا ہے لیکن عملی طور پر اس کا فیض آپ نے کب دیا ہے ! پھر قرآن مجید میں آیا کہ

وَلَلْآخِرَةُ خَيْرٌ لَّكَ مِنَ الْأُولَىٰ
سورة الضحی آیت نمبر 4
ترجمہ : یا رسول اللہ ! آپ کا دوسرا دور پہلے دور سے زیادہ افضل ہو گا۔

اب مفسرین اسے مکے اور مدینے کے دور سے تعبیر کرتے ہیں جو کہ غلط ہے اور اسکی دلیل یہ ہے کہ ایک دور تو مکے کا تھا اور دوسرا دور مدینے کا تھا لیکن جب مدینے سے ہجرت کر کے دوبارہ مکے چلے گئے تو پھر یہ تیسرا دور ہو گیا۔ قرآن مجید نے حضور کے دو دور بیان کئے ہیں ۔اب یہ دیکھتے ہیں کہ وہ دوسرا دور کیا ہے ؟ آپﷺ جب شب معراج سے واپس آگئے تو آپ کے قریبی رفقاء اور چاہنےوالے تھے وہ کریدتے تھے کہ یا رسول اللہ شب معراج پر کیا کیا ہوا ہمیں بھی بتائیں تو پھر اس سے متعلقہ بہت سے احادیث ہیں ۔ آپ ؐنے اپنے خاص لوگوں کو کہا کہ آخری زمانے میں میری عطرت سے اک ذات جلوہ نما ہو گی اوروہ میری بیٹی فاطمہ کی اولاد سے ہو گا اور دنیا سے ظلم کو مٹا دے گا۔ اور یہ ظلم مظالم والا نہیں ہے بلکہ سورة ابراہیم میں جو ظلمات ہے اس کا ذکر ہے ۔حضوؐر نے انہی خطوط کے اوپر گفتگو فرمائی کہ وہ پوری دنیا سے ظلمت کو ختم کر دے گا۔ پھر صحابہ کرام نے پوچھا وہ کیسے ہوں گے، اُن کا قد کتنا ہو گا، اُن کی رنگت کیسی ہو گی ، اُن کی آنکھیں کیسی ہوں گی، اُن کا چہرہ کیسا ہوگا۔ اور ان سوالوں کے جواب جو حضوؐرعنایت فرماتے تو وہ اپنا ہی حلیہ ہوتا تھاجس پر صحابہ کرام پوچھتے کہ کیا آپ ہی ہوں گے ؟ اور اس کےجواب میں آپﷺ مسکرا دیتے تھے۔ اگر صحابہ کرام کو غلط فہمی ہوتی تو نبی کریم کبھی نہیں مسکراتے بلکہ اُس غلط فہمی کو دور فرماتے۔ لیکن جب صحابہ کریم کے استفسار پر مسکرائے تو اس کا مطلب ہے صحابہ کرام بالکل ٹھیک سمجھے تھے۔ اس کے بعد جو احادیث آئیں ہیں اس میں جا بجا لکھا ہے کہ ” امام مہدی سر تا پاؤں ہم شکل مصطفی ہوں گے”۔ ایک اور حدیث میں آیا کہ ” مہدی میں محمد ہو گا” ۔مفسرین نے یہ سمجھا کہ شاید اس حدیث کا یہ مطلب ہے کہ مہدی کا نام محمد ہو گاجو کہ غلط ہے ۔ سنی بریلوی اور شیعہ حضرات کہتے ہیں کہ امام مہدی کا نام محمد ہو گا ، نام میں محمد ہونا کوئی بڑی بات نہیں ہے ۔ امام مہدی کا نام محمد نہیں ہو گا بلکہ اُن میں ذاتِ محمد ہو گی ۔امام حسن کا آدھا دھڑ حضوؐرسے مشابہت رکھتا تھا اور دوسرا آدھا حصّہ امام حسین سے مشابہت رکھتا تھا یعنی امام حسن اور حسن کو ملا دیں تو حضوؐر کا پورا کا پورا نقشہ بن جاتا ہےاور امام مہدی علیہ الصلوة و السلام سر تا پاؤں ہمشکلِ مصطفی ہیں ۔

وجودِامام مہدی ، محمد الرسول اللہ کی کامل شباہت پر کیسے ہو گا؟

قرآن مجید میں ارضی اور سماوی ارواح کا ذکر آیا ہے ۔ سماوی روح ایک ہی جسم کے لئے مخصوص ہے لیکن ارضی ارواح ایک جسم سے دوسرے جسم میں منتقل ہوتی رہتی ہے ۔ ارضی ارواح تین حصّوں پر مشتمل ہوتی ہے جن میں روح جمادی، روح نباتی اور روح حیوانی ہوتی ہے یہ ارضی ارواح جسم کو تشکیل دیتی ہیں ۔ حضور کے پاس سماوی اور ارضی ارواح کا جوپورا سیٹ ہے اس میں سے کون کون سی چیزیں امام مہدی کو منتقل ہوئی ہیں ۔سیدنا گوھر شاہی نے اپنی کتاب مقدس دین الہی میں درج فرمایا ہے کہ “امام مہدی میں حضوؐر کی ارضی ارواح ہوں گی اور ہم مزید اضافہ کر رہے ہیں کہ اما م مہدی میں نبی کریم ﷺ کے کچھ لطائف بھی موجود ہیں۔ نبی کریم ﷺکا لطیفہ اِخفٰی جس پر نبوت نازل ہوئی اس کا نام حامد ہے ۔ حضوؐر کی روح مبارک کا نام احمد ہے اور جمادی ، نباتی اور حیوانی ارضی ارواح کاجو مجموعہ ہے اسکا نام محمد ہے ۔ سورة الضحی میں خطاب انہی ارضی ارواح سے ہوا ہے کہ وَلَلْآخِرَةُ خَيْرٌ لَّكَ مِنَ الْأُولَىٰ
اہلسنت و الجماعت کا متفقہ طور پر یہ عقیدہ الراسخ رہا ہے کہ نبی کریم ﷺ اپنی قبر انور میں حیات ہیں لیکن وہ حیات النبی کسطرح ہیں اس کا شعوران کے پاس نہیں ہے ۔ اب یہ حیات کیسے ہیں ؟ جب انسان مرتا ہے تو ارضی ارواح کو نکال لیا جاتا ہے اور جسم صرف رہ جاتا ہے کیونکہ اس میں سے حیات والی روح نہیں ہے ۔ اب حضور کی حیات کا جو عقدہ ہے وہ یہ ہے کہ آپ ﷺ کی ارضی ارواح کو آپ کے جسم میں ہی روک دیا گیا ہے اور حضوؐر کی قبر انور انتظارگاہِ مہدی بن گئی ۔ جب امام مہدی کا اِس دنیا میں آنا قرار پایا تو وہ ارضی ارواح جسم محمد سے نکال کراس دور کی آمنہ کے وجود میں ڈالی گئیں اُن ارضی ارواح سے امام مہدی کا جسم اطہر تشکیل پایا ۔ سیدنا گوھر شاہی کاجو جسم مبارک ہےوہ وہی ہےجو نبی کریم کی ارضی ارواح پر مبنی ہے ۔

نبی کریم ﷺ کے ارضی ارواح والے جسم کی حقیقت:

فرمان گوھرشاہی ہے کہ جسم محمد ﷺ انسانی نطفے کی پیداوار نہیں ہے بلکہ جبرائیل امین نےشجرة النور کا نوری بیچ سفید مادے میں گھول کر بی بی آمنہ کو پلایا تھا جس وہ حاملہ ہوگئیں تھیں اور پھر اُس نوری مادے سے جسمِ محمد تخلیق کے مراحل سے گزرا ۔ امام مہدی کا جوجسم مبارک ہے وہ انہی ارضی ارواح پر مبنی ہے جس سے نبی کریم ﷺ کے جسم مبارک کی تشکیل ہوئی لہذا جزوی طور پر امام مہدی علیہ الصلوة والسلام کی ذات میں محمد الرسول اللہ کی موجودگی ثابت ہے۔اور اُس کے ساتھ ساتھ محمد الرسول اللہ کے جو سماوی لطائف ہیں وہ بھی امام مہدی میں موجود ہیں ۔ کوٹری شریف میں کچھ صحافی سیدنا گوھر شاہی کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور پوچھا کہ جوتعلیم آپ بتاتے ہیں وہ کہاں سے آتی ہے تو آپ نے فرمایا جو محمد الرسول اللہ بتاتے ہیں وہی بیان کردیتے ہیں ۔ جس کا یہ مطلب ہے کہ وہ لطیفہ اخفٰی جو سینہ محمد میں ہمکلام ہوتا تھا وہ اب سینہ ٴگوھر شاہی میں موجود ہے ۔اس طریقے سے امام مہدی کےجسم میں محمد الرسول اللہ کی ارضی ارواح ، لطیفہ اخفی اور لطیفہ انا بھی ہوگا جس کا علم صرف حضور کو دیا گیا تھا ۔ڈھوک گوھر شاہی میں ایک دفعہ دوران خطاب سیدنا گوھر شاہی نے یہ راز منکشف فرمایا کہ ایک دن نبی کریم ﷺ کو نہ جانے کیا ہوا کہ وہ علم جو صرف اُن کیلئے تھا وہ انہوں نے ہم کو دے دیا ۔ وہ علم لطیفہ انّا کا علم تھا جس کے ذریعے دیدار الہی ہوتا ہے ۔تو یہ ارضی اور سماوی ارواح کا پورا سیٹ امام مہدی کو دے دیا گیا جس کے باعث اب سیدنا گوھر شاہی کے قدمین شریفین مقام محمود کے درجہ پا گئے۔جو گوھر شاہی کے قدموں میں آ گیا وہ مقام محمود پر پہنچ گیا ۔

“سیدنا گوھر شاہی کی ذاتِ والا جزوی طور پر محمد الرسول اللہ کا دوسرا دور ہے “

حضوؐرپر جو قرآن مجید نازل ہوا ہے وہ کچھ حضوؐرکے پہلے دور کیلئے تھا جس میں مذہب کی پابندی تھی اور کچھ دوسرے دور کیلئے ہے جس میں مذہب کی پابندی نہیں ہے ۔یہ الرٰ حضوؐر کی ذات پر ہی اُتری ہے لیکن اِس کے راز اور فیض دنیا پر امام مہدی گوھر شاہی کے ذریعے آشکار ہو رہے ہیں کیونکہ یہ حضوؐرکے دوسرے دور کیلئے ہےاور یہ رب کی پوری اجازت کے ساتھ ہے۔اب یہ کتاب بھی حضوؐرپر نازل کی گئی اور اس کتاب میں رٰ ریاض کا ذکر آ گیا تو کیاحضوؐرکے سینے میں رٰریاض نہیں دھڑکتا ہو گا! یہ جو الرٰ اُترا ہے وہ سینہ مصطفی پر اُترا ہے ہم تو صرف سنت مصطفی ادا کر رہے ہیں ۔ یہ نیا کلام نہیں ہے یہ نیا نام نہیں ہے ، یہ نیا طریقہ نہیں ہے یہ سنتِ مصطفی ہے جو کہ خصوصیت کے ساتھ ہے اور کسی کسی کو عطا ہو اہے ۔ یہ الرٰ کاذکر ، یہ الرٰ کے راز قرآن مجید کے مطابق حضوؐرکے سینہ مبارک پر نازل ہوئے ہیں اور جو اس کو رّدکرتا ہے وہ منکر قرآن اور منکر اللہ ہوگا۔ اگر یہ الرٰ کا فیض حضوؐر نے دورِ اوّل میں دیا ہوتا تو اِس کا ذکر کسی حدیث میں تو ہوتا کیونکہ یہ فیض اُس دور کیلئے نہیں تھا ۔ یہ جو امام مہدی والا دوسرا دور آیا ہے یہ فیض اس دور کیلئے ہے۔

سنتہ جدید کیا ہے ؟

و قال علیہ السلام : اذا خرج بامر جدید، و کتاب جدید ، وسنت جدیدة، و قضاء جدید ، علی العرب شدید،و لیس شانہ الا القتل ، لا یستقبی احدا، ولا تاخذہ فی اللہ لومتہ لائم
کتاب الغیبہ صفحہ 351

کتابوں میں سنتہ جدید کے بارے میں آیا ہے وہ جدید کتاب یہی “الرٰ” کی ہے۔ جدید سنت ہو گی ۔ ایک سنت تو وہ ہے جو پہلے دور کی تھی اور جو جدید سنت ِمصطفی ہے وہ افعال و اعمالِ گوھر شاہی ہے ۔ گوھر کا چلنا، گوھر کا بولنا، گوھر کا ہنسنا سنتہ جدید اور سنت مصطفی ہے اور قرآن کی تعلیم ہے ۔ اگر جدید دور میں محمد تشریف نہیں لائیں گے تو سنت جدید کیسے ہو گی! اب قرآن کی اس تعلیم کی روشنی میں ہم یہ کہتے ہیں کہ ہر ادائے گوھر شاہی سنتِ مصطفی ہے۔کچھ سنتیں پہلے دور کی ہیں اور کچھ سنتیں اس نئے دور کی ہیں ۔ کچھ سنتیں اُس دور کی ہیں جس میں دین اور مذہب کی پابندیوں کے ساتھ اُس پر عمل کرایا گیا اور کچھ سنتیں اِس دور کی ہیں جس میں مذہب کی قید نہیں ہے سب کو عشق الہی میں نہلایا گیا ۔ یہ وہ سنت مصطفی ہے جسمیں کوئی قید نہیں ہے جو بھی رب سے ملنا چاہے وہ بغیر کسی مذہب میں داخل ہوئے ، بغیر کسی پابندی کےاور بغیر کسی بیعت و نذرانے کے اکائی انسانیت کےطور پر آ جائےاور اپنا دامنِ قلب و روح “الرٰ” سنت مصطفی کے دوسرے دور سے مزین و منور کر لے۔ یہ نبی کریمﷺ پر اللہ کی بارگاہ سے نازل کردہ وہ راز ہے جس کا انکشاف حضوؐرکے دوسرے دور یعنی دورِ گوھر شاہی میں صورت ِگوھر شاہی سے ہو ا ہے ۔ یہ الرٰ کا کلام حضوؐرکی ذات والا پر نازل ہو گیا لیکن قرآن کا کچھ کلام حضوؐرنے خود کیا اور کچھ امام مہدی گوھر شاہی نے کرنا ہے جیسے حدیث میں آیا کہ امام مہدی ازسر نو دین کو تعمیر کریں گے الا منہاج النبوة ۔۔جب امام مہدی منہاج النبوة پر دین کا از سر نواحیاء فرمائیں گے تو وہ سنت جدید ہی ہو گا۔ قرآن کا کچھ حصّہ حضوؐرکیلئےاور قرآن کا بقیہ حصّہ حضوؐرنے امام مہدی کے ساتھ شئیر کیا ہے اورحضوؐرنے امام مہدی کو ہمیشہ ایک خاص اپنائیت کے ساتھ مخاطب کیا ہے کہا ” میرا بھائی “،”میرا مہدی “۔نبی کریمﷺ جب حجر اسود کے پاس تشریف لاتے تو خود بخود آپکی آنکھوں سے اشک رواں ہو جاتے تھے ۔ صحابہ کرام پوچھتے کہ یا رسول اللہ آپ کیوں روتے ہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ حجر اسود ایسا مقام ہے جہاں خود بخود آنسو گرتے ہیں اور اتنی یاد آتی تھی محمد الرسول اللہ کو امام مہدی کی کہ کئی دفعہ حجر اسود کو چمٹ کر روتے تھے ۔
ایسی بات جو حضوؐرنے کہی نہ ہو حضوؐرکا نام لیکر منسوب کر دی جائے اُس سے بڑا کائنات میں کوئی جرم نہیں ہے ۔ایسی بات جو اللہ نہ کہی نہ ہو اور اللہ سے منسوب کر دی جائے تو کائنات میں اس سے بھی بڑا کوئی جرم نہیں ہے ۔ اسی طرح ایسی بات جو سیدنا گوھر شاہی نے کہی نہ ہو اور اُن سے منسوب کر دی جائے تو کائنات میں اس سے بھی بڑا کوئی جرم نہیں ہے لیکن ہم (یونس الگوھر) تو لوگوں کو ذکر دیتے ہیں اور اُن کا ذکر چلتا بھی ہے اگر ہم نے ایسی کوئی بات کہی ہوتی تو یہ فیض نہیں ہوتا ۔

خاص نوٹ:

الرٰ پر جو پہرے لگے تھے آج وہ پہرے ہٹا دئیے گئے ہیں ۔ الرٰ کا معنی، اُسکا رازاور اس کا فیض آپ لوگوں تک پہنچا دیا ہے کیا خبر اگلے سال ملاقات ہو یا نہ ہو ۔ یہ الرٰ وہ رب کا خاص نام ہے جس کا سیدنا گوھر شاہی نے اپنی کتاب مقدس دین الہی میں ذکر فرمایا ہے کہ ” آخری زمانے میں رب کسی خاص روح کو بھیجے گا وہ رب کا ایک خاص نام عطا کرے گی وہ خاص نام “الرٰ” ہے ۔یہ الرٰ وہ خاص نام ہے کہ جب حضوؐرتنہا ہوتے تو یہی ذکر کرتے تھے اور جب شبِ معراج میں پہنچے اور قریب تھا کہ رب کے حضورنبی پاک سید لولاک حاضر ہوتے تو قدسیوں نے کہا کہ توقف فرمائیےابھی آپ کا رب بحالت مصّلی ہے ۔اب وہ بحالت مصّلی تھا تو وہ صلوة “الرٰ ” ہی کی تھی ۔ یہ الرٰ کا تحفہ دینے کیلئے ارشاد ہوا کہ آپ تھوڑا توقف فرمائیے۔ الم تو پہلے ہی عطا ہو گیا تھا اُس رات جو فرمایا کہ تیرا رب مصّلی ہے وہ یہ نام “الرٰ ” تھا۔ جب نبی کریم ﷺ نے فرمایا تھا کہ رب زدنی علماً تو اُس کا جواب “الرٰ” تھا۔ یہ رب کا خاص نام “الرٰ” حضوؐرکے سینے کے دائیں طرف اور “الم” آپ کے سینے کے بائیں طرف اور “المرٰ” حضوؐرکے سینے کے وسط میں جبرائیل امین نے رکھا اور پھر یہ فیض سیدنا گوھر شاہی کی ذاتِ والا سے ہم تک پہنچ گیا ۔

مندرجہ بالا متن نمائندہ گوھر شاہی عزت مآب سیدی یونس الگوھر سے 25 نومبر 2018 کو جشن ریاض کے موقع پر یو ٹیوب لائیو پر کئی گئی گفتگو سے ماخوذ کیا گیا ہے۔

متعلقہ پوسٹس

دوست کے سا تھ شئیر کریں