کیٹیگری: مضامین

وَأَنَّ السَّاعَةَ آتِيَةٌ لَّا رَيْبَ فِيهَا وَأَنَّ اللَّـهَ يَبْعَثُ مَن فِي الْقُبُورِ، و َمِنَ النَّاسِ مَن يُجَادِلُ فِي اللَّـهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَلَا هُدًى وَلَا كِتَابٍ مُّنِيرٍ
سورہ الحج آیت نمبر 7, 8
وہ گھڑی آنے والی ہے جو قبروں میں لوگ پڑے ہیں ان کو دوبارہ اُٹھایا جائے گا۔ان میں سے کچھ لوگ اللہ کے فیصلے پر اعتراض کریں گے۔ تو نا ان کے پاس علم ہو گا، نہ ہدایت ہو گی اور نا ان کے پاس کتا ب منیر ہو گی ۔

اس آیت کی تشریح میں اس علم کی روشنی میں بیان کروں گا جو علم مجھے سرکار گوہر شاہی کی بارگاہ سے عطا ہوا ۔میرا قانون میرا ذاتی اصول یہ ہے کہ میں قرآن ِ حکیم کے معاملے میں کسی مفسر کی رائے نہیں لیتا ،کسی مترجم کی رائے نہیں لیتا اسکے ترجمے پر یقین نہیں رکھتا ، اور آپ کو میں یہ بھی بتائوں کہ یہ جو کتابوں میں ترجمہ ہم پڑھتے رہتے ہیں یہ وہ ترجمہ ہے جو لوگوں نے اپنی مرضی سے کیا ہے ۔لہذا اس میں وہ چیزشامل نہیں ہے جسکو رب کی رضا کہا جاتا ہے ۔اور ایک بات کی تشریح اسکے ساتھ ساتھ میں بڑی ہی ضروری سمجھتا ہوں ۔

امتوں کی پہچان نور سے ہو گی :

بہت سے لوگ یہ پوچھتے ہیں کہ تم لوگوں کی مادری زبان عربی نہیں ہے تو قرآن کو سمجھنے کے لیئے تمہیں ترجمہ کرانا پڑتا ہے پھر تمہیں سمجھ میں آئے گا ۔اور جو بغیر ترجمہ کے قرآن پڑھتے ہیں ان کو کیا سجھ میں آئے گا ؟ میں اس بات سے پوری طرح متفق نہیں ہوں ۔قرآن ِمجید جو ہے وہ اللہ کا کلام ہے اگر آپ بغیر سمجھے بھی اسکی آیتوں کی تکرارکریں تو اس سے نور بنتا ہے ۔بھلے آپ کی سمجھ میں نہیں آئے گا لیکن اس کو پڑھ کے نور تو بنناشروع ہو جائے گا ۔اور اگر نور بننا شروع ہو گیا تو نور سے ہدایت ہو جائے گی ۔اور جنہوں نے اسکا ترجمہ سمجھ کے پڑھا اور نور نہیں بنایا تو انکو کیا فائدہ ہو گا ! روز محشر امتوں کی پہچان تو نور سے ہو گی ۔بچپن سے سنتے آئےہیں کہ یوم ِ محشر میں لوگوں کو ماں کے نام سے بلایا جائے گا ،باپ کے نام سے نہیں۔ہم نے اسکی بڑی تحقیق کی پھر یہ سوچا کہ بھئی ماں کے نام سے بلایا جائے گا تو یہ کیا بات ہے ۔ایک ہی نام کی کتنی ہزاروں عورتیں ہوں گی۔تو پھر معلوم یہ ہوا کہ وہ جو حدیث میں لفظ لکھا تھا ،وہ لفظ ’’ اُم ‘‘ لکھا تھا ،اُم کا مطلب ’’اُمّہ‘‘ ہوتا ہے کہ امتوں سے پہچان ہو گی ، ماں سے کیوں ہو گی؟ اگر وہ کافرہ ہے تویو م ِمحشر میں اسکی شناخت مومن بیٹا کیوں بنے گا ۔
فارسی میں بھی جو بیشتر الفاظ ہیں وہ سریانی کے ہیں اورعربی میں بھی بیشتر الفاظ سریانی کے ہیں ۔مولویوں کو پتہ نہیں اسکا کیا مطلب ہے ۔’’ اُم‘‘ کا مطلب ماں بھی ہوتا ہے اُم کا مطلب ’’اُمہ‘‘ بھی ہوتا ہے اگر ایک ہو ،اب عربی اور فارسی کا فرق سمجھ لیں ۔عربی میں ایک ماں ہو تو کہیں گے’’ اُم‘‘ اور ایک سے زیادہ ہوں تو’’ اُمّہات‘‘ ۔اور فارسی میں ایک ہو تو ’’اُم‘‘ اور ایک سے زیادہ ہوں تو’’ اُمم ‘‘۔یہ فرق ہوگیا۔مولویوں کو اس بات سے کیا فرق پڑتا ہے کہ صحیح بتائیں یا غلط بتائیں انہوں نے تو اپنے پیٹ کے لیئے قرآن پڑھانا ہے ، انہوں نے اپنے پیٹ کے لیئے خطبے دینے ہیں ۔انہوں نے تو پیٹ پالنا ہے اپنا ،مذہبی فریضہ کہا ں رہ گیا ہے اب ،یہ تو انکی جاب ہے ۔جسطرح آج کا مسلمان اپنے جاب میں فراڈاور بے ایمانیاں کرتا ہے ۔حالانکہ یہ تو دینی فریضہ تھا مولویوں کالیکن اسمیں بھی فراڈ کر رہے ہیں۔ اب یوم ِ محشر میں پہچان کس سے ہو گی؟ اُم سے ،یعنی تو کس کی امت کا ہے ۔اور پھر پتہ کیسے چلے گا کہ تم کس کی امت کے ہو ؟تیری پہچان تیری امت سے ہو گی کہ تو کون سی امت میں ہے اور امت کی پہچان اس نور سے ہو گی جو اس امت کو دیا گیا تھا۔

نبیوں اور مرسلین کو اسم عطا ہو ئے ہیں :

ہر نبی کو ہر مرسل کو رب نے اپنا کوئی نا کوئی اسم عطا فرمایا ۔اب آپ نے قرآن شریف کے پہلے صفحے پر لکھا دیکھا ہو گا اللہ کے وہاں پر ننانوے نام موجود ہیں ۔لیکن اسکا صرف یہ مطلب نہیں ہے کہ اللہ کے صرف ننانوے نام ہیں ،اللہ کے بہت سارے نام ہیں صرف ننانوے ہیں جو معلوم ہوئے ۔بے شمار اسکی صفات ہیں لیکن جو ہم کو پتہ چلے ہیں وہ ننانوے ہیں ۔اب جیسے ہم ریت پہ چلتے ہیں یا برف پہ چلتے ہیں تو ہمارا نقش ِ قدم رہ جاتا ہے ۔ اسی طرح اللہ جو بھی کام کرتا ہے اس کا م کا ایک اثر رہ جاتا ہے۔ مثلاً اللہ نے کہا عبدالخالق یہاں آؤ،اب یہ جو جملہ ہے ،عبدالخالق یہاں آؤ۔ یہ امر ہو گیا اب یہ جملہ گونجتا رہے گا ۔اسی طرح اللہ نے جس اپنی صفت کا اظہار کیا وہ صفت کا جو نور ہے وہ گونجتا رہے گا،گھومتا رہے گا ۔اب یہ جو اللہ کے نام ہیں جسطرح کہ آپ کا نام عبدالخالق ہے اس میں خالق اللہ کا نام ہے عبدل کا مطلب بندہ ،عبدالخالق یعنی خالق کا بندہ ۔اب اگر یہ جو لفظ خالق ہے اسکا ہم ورد کرنا شروع کر دیں ، یا خالق یا خالق یا خالق یا خالق،تو اسکا جو نور ہے وہ ہم کو ملنا شروع ہو جائے گا ۔اب ایک اسکا نام’’ رزّاق‘‘ بھی ہے اب ہم شروع کر دیں یا رزّاق یا رزّاق یا رزّاق یا رزّاق،بڑا آسان ہے ،لیکن نبیوں نے جو طریقہ سکھایا تھا اسمیں کیا تھا ،ویسے تو کوئی بھی بندہ سن کربھی ’’یا رزاق‘‘ کر سکتا ہے اور اس سے نور بنتا ہے ۔ہندو بھی اگر کرے گا ’’یا رزاق‘‘ تو نور بنے گا ،یہاں تک کہ دہریہ بھی کرے گا تو اسکا نور بنے گا ،عیسائی بھی کرے گا ’’یا رزاق‘‘ تو اسکا نور بنے گا ،یہودی کرے گا تو اس سےبھی نور بنے گا۔ تو پھر نبیوں کی کیا ضرورت تھی ؟ نبیوں کو علم الاسما ء دیا ۔یہ جواللہ کے نام جنکا اظہار ہواہے، ان سے نور بنا کے سینوں میں اتارنے کا علم ملا ۔’’یا رزاق‘‘ ،’’یا قدوس‘‘ ،’’یا ودود‘‘ ، کوئی بھی کر لے اس سے نور بنے گا لیکن وہ طریقہ نہیں ہو گا اسکے پاس کہ اس نور کو دل میں بھی اتارے ۔دل میں اتارنے کا جو علم ہو گیا وہ آدم صفی اللہ سے شروع ہو کے محمد رسول اللہ پر نبوت ختم۔
اب جیسے عیسی ؑ کو ’’یا قدوس‘‘ کا اسم ملا ،کیوں ملا ؟ کہ بھئی یہ جو نام ہے تم یہ لوگوں کے دلوں میں اتارنا تاکہ ان کے دلوں میں نور داخل ہو وہ مومن بنیں اور جسکے سینے میں نور داخل ہو گیا وہ تمہارا امتی ہو جائے گا ۔جسکے سینے میں نہیں گیا وہ تمہارا امتی نہیں ہو گا ۔موسی ؑ کو ’’یا رحمن‘‘ کا ذکر ملا ،موسی ؑ نے آگے جنکو یہ علم دیا انکے سینوں میں یارحمن کا ذکر گیا ، دل کی دھڑکنوں کے ساتھ ملا رگڑا لگا ’’یا رحمن یا رحمن‘‘ اسکا نور بننا شروع ہو گیا۔ وہ اتنے جلالی کیوں تھی؟

’’موسی ؑ یا رحمن کا ذکر کرتے تھے یا رحمن کا نور پتھر میں بھی ہوتا ہے پتھر پتھر سے ٹکراؤ تو چنگاری نکلتی ہے جب انکے اندر بھی ’’یا رحما ن‘‘ کا رگڑا لگتا تو چنگاری نکلتی ان کو جلال آتا‘‘

جنکے اندر وہ یا رحمان کا نور چلا گیا انکے سینے’’ یا رحمان‘‘ سے منور ہو گئے ۔

موسیقی حلال ہے یا حرام؟

پھر داؤد ؑ کی امت کو ’’یا ودود ‘‘ کا اسم عطا ہوا۔ انہوں نے لوگوں کو سمجھایا کہ آؤرب کی طرف اور یہ نام بھی دیا جب ان کے دلوں میں ’’یا ودود‘‘ کا نام گیا ۔ یا ودودکامطلب ہے محبت والا ۔جنکے دلوں میں ’’یا ودود‘‘ گیا انکو رب سے محبت ہو گئی ،جب انکو رب سے محبت ہو گئی تو بس وہ لہک لہک کے چہک چہک کے انکی امت ہر وقت اللہ کے قصیدے پڑھتی رہتی ۔داؤد ؑ کو’’ لہن ِ داؤد‘‘ جو کہتے ہیں ،وہ داؤد ؑ جب اللہ کی عبادت کرتے ذکر فکر کرتے چرند پرند وہ جو اڑتے ہوئے پرندے تھے وہ بھی مست ہو جاتے جھومتے ایسا اللہ نے انکی آواز میں ترنم رکھا۔ اور مولوی کہتا ہے کہ موسیقی حرام ہے ۔انہیں لہن داؤدی عطا کیا ۔

’’اگر موسیقی حرام ہوتی تو اللہ داؤد کے گلے میں اپنی محبت کی ترنم کیوں رکھتا ۔لہن داؤدی سے ثابت ہوتا ہے کہ موسیقی کو حرام کہنے والے خود حرام ہیں‘‘

اب رہ گئی بات وہ گندے گانوں کی جن میں عورتیں ننگی ناچتی ہیں وہ تو ویسے ہی حرام ہے ،نہ بھی گا ئیں تب بھی ،ننگی عورتوں کو دیکھنا کوئی حلال چیز ہے ۔بھئی غلط کام نے اس کام کو غلط بنایا نا ۔اب یہ جو تم تلاوت سنتے ہو قرآن کی اگر تم تلاوت کرو تو کوئی مزہ نہیں آئے گا لیکن ایسے ایسے قاری بھی آئے ہیں دنیا میں کہ وہ تلاوت کریں گے تو آپ مست ہو جائیں گے۔ اسکا مطلب ترنم کے ساتھ گا رہے ہیں ۔ہر نبی کو ایک اسم عطا کیا ، تم اسکا زبان سے ورد شروع کر وتو نور بننے گا لیکن قرآن میں ہے۔

قَالَتِ الْأَعْرَابُ آمَنَّا ۖ قُل لَّمْ تُؤْمِنُوا وَلَـٰكِن قُولُوا أَسْلَمْنَا وَلَمَّا يَدْخُلِ الْإِيمَانُ فِي قُلُوبِكُمْ
سورة الحجرات آیت نمبر 14

کہ نور بن تو رہا ہے جب تک دلوں میں نہیں اترے گا تو مومن نہیں بنو گے ۔اب تم نے تسبیح پکڑ کر الحمد اللہ ، الحمداللہ کرنا شروع کر دیااب اس سے نوربن تو رہا ہے لیکن انگلیوں میں ہے اندر داخل نہیں ہو رہا ہے۔ قرآن میں واضح طور پر ارشاد ہوا کہ ولَمَّا يَدْخُلِ الْإِيمَانُ فِي قُلُوبِكُمْ مومن تب بنو گے جب یہ نور تمہارے دلوں میں اترے گا ۔وہ جو دلوں میں اتارنے کا طریقہ تھا وہ نبیوں سے ولیوں کو ملا ۔جنہوں نے ولیوں کی تعظیم کی ،عزت کی وہ مومن بن گئے جنہوں نے نہیں کی وہ کوئی شیعہ ہوگیا ،کوئی وہابی ہو گیا ،کوئی دیو بندی ہو گیا کوئی مرزئی ہو گیا ،کوئی کچھ ہو گیا کوئی کچھ ہو گیا ،امت سے کٹ گئے ۔اب ہر نبی کو ہر رسول کو ایک اسم عطا ہوا ۔فرض کیا موسی ؑ کی امت کو ’’یا رحمن‘‘ کا ذکر عطا ہوا ۔اب موسی ؑ کی امت کی یوم محشر میں پہچان کیا ہو گی ؟کوئی آپ کا نام نہیں پوچھیں گے، آپ کی ولدیت نہیں پوچھیں گے،جس کے سینوں میں یا رحمان کانور ہو گا فرشتے سمجھ جائیں گے کہ یہ موسی کی امت ہے ۔

مثال:

اب جیسے پاکستان کی کرکٹ کی ٹیم انکی کرکٹ کی وردی ہری ہے ،انڈیا والوں کی نیلی ہے بس انکی وردی دیکھ کر ہی پہچان جاتے ہو تم کہ یہ پاکستان کا ہے ہری وردی والا یہ نیلی وردی والا انڈیا کا ہے ۔کوئی نام تھوڑی پوچھتے ہیں اس سے انکی وردیا ں دیکھ کے پہچانتے ہو نا۔ اسی طرح یوم محشر میں فرشتے تم سے نام نہیں پوچھیں گے ،ولدیت نہیں پوچھیں گے ،تمہارے نام کے ہزاروں لوگ ہو ں گے۔ تمہارے باپ کے نام کے بھی ہزاروں لوگ ہو ں گے ،اس سے تو پہچان نہیں ہو گی ۔پہچان کیسے ہو گی ؟ یہ یا ودود کے نور سے چمک رہے ہیں یہ داؤد ؑکی امت ہو گی کیونکہ یہ نام تو اسکے نبی کو دیا تھا۔ یہ ’’یا رحمن ‘‘کے نور سے چمک رہے ہیں یہ موسی کی امت ،یہ’’ یا قدوس‘‘ کے نام سے چمک رہے ہیں یہ عیسی کی امت ،اور یہ جو اسم ذات ’’اللہ ھو‘‘ سے چمک رہیں ہیں یہ حضور پاک ؐکی امت ہے ۔تو امتوں کی پہچان نور سے ہو گی ۔

وَأَنَّ السَّاعَةَ آتِيَةٌ لَّا رَيْبَ فِيهَا وَأَنَّ اللَّـهَ يَبْعَثُ مَن فِي الْقُبُورِ
وہ گھڑی آنے والی ہے جو قبروں میں لوگ پڑے ہیں ان کو دوبارہ اُٹھایا جائے گا۔
و َمِنَ النَّاسِ مَن يُجَادِلُ فِي اللَّـهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَلَا هُدًى وَلَا كِتَابٍ مُّنِيرٍ
ان میں سے کچھ لوگ اللہ کے فیصلے پر اعتراض کریں گے۔ تو نہ ان کے پاس علم ہو گا،نہ ہدایت ہو گی اور نہ ہی کتاب منیر ہو گی ۔

اب یہ جو قرآن مجید میں آیت سورۃالحج آئی یہ اسی طرف اشارہ ہے کہ جب بہت عنقریب وہ ساعت آنے والی ہے،کچھ لوگوں کا یہ خیال ہے کہ جی سنتے آرہے ہیں قیامت آئے گی یوم محشر بپا ہو گا ، اللہ تعالی نی ارشاد فرمایاکہ نہیں ،اسمیں شک نہیں کرنا کہ یوم محشر نہیں ہو گا ، وہ گھڑی آنے والی ہے اسمیں شک نہ کریں ،ایک تو یہ ہوتا ہے نا کہ بھئی اللہ کی مرضی ہے کہ کرے یا نہ کرے۔ اسکے اندر تو بات ذو معنی ہو گئی کہ اللہ کا موڈ ہوا تو کر لے گانہیں ہوا تو مرضی ہے اسکی جیسا کہ اب یہ بات ہے کہ اللہ میاں آپ کو ،مجھے ہدایت دے گا یا نہیں اب یہ اسکی مرضی ہے اگر اسکا مودڈہوا تو دے دے گا نہیں ہوا تو نہیں دے گا۔ یہ اسکی مرضی کے اوپر ہے لیکن کچھ چیزیں اللہ نے لکھ دی ہیں کہ یہ ہو کر رہیں گی،یہاں پر وہی چیز ہے کہ وہ جو گھڑی ہے وہ بس آنے والی ہے اسمیں کوئی شک نہیں ہے اب ہم اپنا موڈ بنا چکے ہیں کہ یہ ہو گا ۔یہ نہیں سمجھنا کہ بھئی ہم چاہیں گے یا نہیں چاہیں گے وہ گھڑی بس آنے والی ہے اسمیں شک نہیں کرنا ۔اور پھر وہ گھڑی جب آجائے گی تو اللہ کیا کرے گا ؟ اللہ جو ہے جو قبروں میں لوگ پڑے ہوئے ہیں ان کودوبارہ اٹھائے گا ،جسم نہیں انکے لطیفہ نفس کو اٹھایا جائے گا۔اور جب انکو اٹھایا جائیگا توپھر کیا ہوگا؟ اتنے انسان ہوں گے تو ان میں سے کچھ جو لوگ ہوں گے نا وہ اللہ سے بحث کریں گے،جھگڑیں گے کہ یہ تو نے ہمارے ساتھ کیسا فیصلہ کر دیا ۔اللہ کے فیصلے پر اعترض کریں گے ،اس سے منحرف ہوں گے ۔تو اسکے لیئے اللہ تعالی فرما رہا ہے کہ اور جب وہ ہم سے بحث کریں گے نا تو نہ انکے پاس علم ہو گا، نہ انکے پاس ہدایت ہو گی اور نہ انکے پاس کتاب ِمنیر ہو گی ۔ایویں بحث کر رہے ہوں گے ۔بھئی اگر علم ہو تیرے پاس ، ہدایت ہو ،کتاب منیر ہو تو پھر تو بحث کرتا ہو ا اچھا لگتا ہے کہ یہ جی تم نے جو سب شرطیں رکھی تھیں وہ تو سب ہیں میرے پاس پھر تم ایسا فیصلہ کیوں کر رہے ہو ؟ تیرے پاس تو کچھ ہے ہی نہیں ۔لیکن مسلمان اسکے بارے میں نہیں سوچتے کہ یہ جو قرآن میں کتاب منیر کا تذکرہ آیا ہے وہ کیا ہے؟ انکو پرواہ ہی نہیں ہے ،بس پڑھ لیا پڑھتے رہے ۔
تیرا دل کھلاندا منڈے کڑیاں توں سجدے کرے مسیتی
دل میں بیوی بچوں کو دنیا کو بسایا ہوا ہے اور ایسے ہی بس لگے ہوئے ہیں ۔ٹکا ٹک سجدے میں زور زور سے سر زمین پر مار مار کے ماتھے پر نشان بھی بنا لیا کالا سا اور یہ بھی کہتے ہیں کہ جس کے یہ نشان ہو گا وہ جنتی ہے ۔کچھ لوگوں کے میں نے دیکھا بغیر نماز پڑھے بھی یہ نشان ہے ۔

کتاب منیر کیا ہے ؟

یہ وہ کتاب ہے جو نور بناتی ہے ۔اب یہ کتاب نور کیسے بناتی ہے ؟ یہ علم سید نا گوہر شاہی نے کھولا،نور بنانے کی کتاب ۔کتاب یہی ہے اسکی جو Methodology ہے وہ کہلاتی ہے کتاب منیر ۔اب جو ہے قرآن مجید کی کچھ آیتیں ایسی ہیں جیسے سورہ جن ہے اسکی ایک خاص ترتیب کے ساتھ جب ہم تلاوت کرتے ہیں خاص عدد کے ساتھ ، فرض کیا سات دفعہ ، مرشد کی اجازت ہو ،سات دفعہ تکرار کرے تو ڈیڑھ سو جن آپ کے قبضے میں آجاتے ہیں۔ اور پھر جب تمہارا قلب پاک ہو جائے تمہارے قلب کے جسے نکل جائیں تو پھر سب کچھ آسان ہو جاتا ہے ۔کیسے؟۔تم نے سنا کہ بھئی یہ جو قرآن ہے اگر 786 دفعہ پڑھو تو حافظ ہو جائو گے ۔یہ میں باطنی علم کی بات کر رہا ہوں یہ کہیں بھی نہیں لکھاکہ 786 دفعہ پڑھو بغیر رکے تو حافظ ہو جائو گے ۔آپ نے دیکھا ہو گا نا لوگ پاکستان میں بسم اللہ کی جگہ 786 لکھتے ہیں ۔786 بسم اللہ الرحمن الرحیم کا عدد ہے اور قرآن بسم اللہ الرحمن الرحیم میں بند ہے ۔اگر وقفہ لیئے بغیر 786 دفعہ آپ نے قرآن پڑھ لیا تو آپ اسکے حافظ ہو جائیں گے اب یہ تو ممکن نہیں اگر روحانیت ہے تو ممکن ہے ۔وہ کیسے؟ آپ کے قلب کا جسہ نکلا آپ نے لطیفہ قلب کو 786 دفعہ قرآن پڑھنے پر لگا دیا اب آپ باتیں کر رہے ہیں کھیل رہے ہیں اٹھ رہے ہیں بیٹھ رہے ہیں بیوی بچوں کے ساتھ مصروف ہیں وہ جو آپ کے قلب کا جسہ ہے وہ پڑھ رہا ہے بغیر رکے اسکا سانس ہی نہیں پھولتا۔وہ تو اندرآپ کے ایک فرشتہ بند ہے اسنے 786 دفعہ پڑھا اور پورے قرآن کے موئکلات آپ کے تابع ہو گئے ۔جب وہ پورے قرآن کے موئکلات آپ کے تابع ہو گئے تو پھر کسی دن آپ نے کہا کہ یار وہ سورہ رحمن کہاں ہیں فوراًموئکلات وہ آپ کی memory میں لے آئے ۔یہ ہم نے علم کھول دیا ہے۔ جب آپ کو خیال آیا کہ یار سورہ رحمن پڑھنی چاہیے توسورۃ رحمن کے موئکلات کھڑ ے ہو گئےاور سورۃ رحمن شروع ہو گئی آپ کی زبان سے ۔پھر آپ کو کبھی خیا ل آیا کہ یار سورہ نور پڑھنی چاہیے وہ موئکلات لگ گئے ساتھ سورہ نور پڑھ رہے ہیں ۔کروا وہ موئکلات رہے ہیں لوگ سمجھ رہیں ہیں کہ یہ حافظ ہو گیا ۔

’’ تو یہ ایک ترتیب کے ساتھ قرآن کی آیتوں کو پڑھنا نور بناتا ہے اور یہ جو ترکیب ہے یہ جو اذن ہے یہ کہلاتا ہے کتاب منیر ‘‘

جس طرح کسی بھی قسم کا جادو ہو ،پیلا جادو ہو، نیلا جادو ہو ، سفید جادو ہو، کالا جادو ہو سورۃ والناس پڑھنی ہے ۔اگر تو ولی کامل ہے تو تین دفعہ پڑھ لے ،اگردرویش ہے تو ساتھ دفعہ پڑھ لے ، اگر تو مومن ہے تو پھر تو گیارہ دفعہ پڑھ لے جادو ختم ہو جائے گا۔ اور اگر گیارہ کیا، گیارہ سو دفعہ پڑھنے سے بھی جادو ختم نہیں ہوتا تو پھر تو نا مومن ہے نا ولی ہے پتہ نہیں کون ہے تو !!! بھئی حضور پاک کے اوپر بھی کافروں نے جادو کرا دیا تھا ااسکا اثر بھی محسوس ہوا لیکن فوراً اللہ تعالی نے سورۃ والناس نازل کری آپ ؐنے پڑھی تو جادوختم ہو گیا ۔اب مومن کے اوپر اثر کیوں ہو گا کہ اسکے دل میں نور ہے جب وہ سورۃ النا س پڑھے گا تو موئکل اسکی مدد کریں گے ۔اسی طرح یہ علم الاسماء جو ہے یہ اصل میں کتاب منیر کہلاتا ہے اب یہ جو تمہارے سامنے کاغذ پہ لکھا ہوا قرآن ہے مسلمان کہتا ہے اسمیں نور ہے ،ہم بھی کہتے ہیں کہ قرآن مجید نور ہے ۔سارے فرقے والے پڑھتے ہیں نور بنتا کیوں نہیں ہے ان سے ؟ ان الفاظوں میں نور نہیں ہے یہ ایک خاص طریقہ ہے جو ولیوں سے عطا ہوتا ہے اس طریقے سے پڑھیں تو پھر اس تکرار سے نور بنتا ہے۔ اور پھر جس کے سینے میں قرآن آجائے اس کو حافظ نہیں کہتے اس کو’’ صاحب ِ قرآن ‘‘کہتے ہیں۔بھئی جو حافظ بنا ہے تو موئکلات پڑھا رہے ہیں بس اسکو لیکن قرآن جس کے سینے میں آگیا تو وہ کتاب منیر بھی ہے وہ صاحب ِ قرآن بھی ہے بلکہ کہہ دو کہ وہ قرآن ہے ۔

قرآن کا باطن اور اس کے حصّے :

یہ قرآن ِمجید جبرائیل ؑ نے حضور ؐ کی قلب پہ نازل کیا، اب جو حضور ؐ کے قلب پہ نازل ہوا ،اتنا ولیوں کو پتہ ہے لیکن ہم چاہتے ہیں کہ تم کو ان سے زیادہ پتہ چلے۔قرآن مجید کا وہ علم جو تیرے دل کو شیطان سے محفوظ رکھتا ہے وہ علم حضور ؐ کے قلب ِ سلیم کے اوپر نازل ہوا ۔اور وہ علم جس سے انسان کا رخ رب کی طرف ہو جاتا ہے قرآن کا وہ جو باطن تھا وہ حضور ؐ کہ قلب منیب پہ نازل ہوا ۔سارا قرآن ایک ہی جسّے میں نہیں ہے الگ الگ جسّوں میں ہے ۔وہ جو دیدار والا علم تھا وہ قرآن کا حصہ انکے قلب شہید پہ نازل ہوا پھر جسکا قلب شہید ہو گا اسکو حضور ﷺ کے قلب شہید سے اسی علم کا فیض ہو گا نا ۔اگر داتا صاحب کا تعلق حضور کے قلب سلیم سے تھا تو وہ آگے کی بات کیسے کریں گے ۔بھئی خواجہ صاحب کو حضور کے قلب منیب سے فیض ہوا ان کو وہاں تک علم ہو گیا ۔جب اما م مہدی ؑ تشریف لائے تو وہ جو ان کے قلب شہید کی طرف قرآن کا علم تھا وہ سارا امام مہدی کی طرف آگیا ۔ہم سے اوپر والوں نے پوچھاکہ اگر حضور کے قلب پہ قرآن ہے تو دکھاؤ کہاں ہے ۔قلب کے تو حصے ہیں نا ،قلب کے تین حصے ہیں اب تم یہ بتاؤ کہ تم قرآن کے کونسے حصے کی بات کر رہے ہو تو وہ لوٹ گئے ۔ہاتھ جوڑ کے کھڑے ہوئے ،ہاتھوں کو چوما اور چلے گئے ۔
قرآن میں صرف یہی لکھا ہے نا کہ قلب پہ نازل ہوا ۔قلب کے تو تین حصے ہیں ۔تین جسّے تھے نا انکے ،ایک قلب سلیم تھا ،ایک قلب منیب تھا ایک قلب شہید تھا ۔پہلے ہم کو انکے قلب سلیم سے فیض ہوا لیکن جب وہ منیب ہوا تو وہ چینج ہو گیا تو ہم نے کہا کہ پہلے انہوں نے جو قرآن پڑھایا تھا اسکا مطلب کچھ اور تھا ۔اب یہ جب منیب ہوا قلب تو اب یہ کہہ رہے ہیں کہ نہیں اس آیت کا تو مطلب یہ نہیں ہے۔ اسکے بعد جب شہید ہوا تو اسکے بعد تو ساری چیزیں پھر اور ہو گئیں ۔جسطرح اب مولا علی ہیں انکو جو فیض ہوا وہ قلب سلیم سے ہوا ۔اب انکو کیا پتہ کہ آنے والے دور میں کچھ لوگ ایسے بھی ہوں گے جنکو منیب سے ہو گا ،کچھ ایسے بھی ہوں گے جنکو قلب شہید سے فیض ہو گا ۔وہ جو بات تھی

مَنْ كُنْتُ مَوْلاهُ، فَهذا عَلِىٌّ مَوْلاهُ
ترجمہ : جس کا میں مولا ہوں علی بھی اس کے مولا ہیں ۔

وہ قلب سلیم کے لیئے تھی جب بلھے شاہ ،سچل سرمد جیسے لوگ آئے انہوں نے کہا کہ یہ قلب سلیم کی تعلیم کونسی تعلیم ہے انکو منیب سے فیض ہوا نا وہ تھوڑا سا اس سے بھی آگے چلے گئے ۔پھر جو اصل جو قرآن کا مغز تھا وہ قلب شہید میں تھا اسکا رازبھی حضور کواسوقت کھلا جب وہ شب معراج میں گئے اور تجلیات کے آر پار ہوئے۔ تو اس قرآن کا جو حصہ اور مطلب تھا وہ ہی تبدیل ہو گیا نا ۔اب وہ جو قلب سلیم والی تعلیم ہے اسکو کتاب منیر کہتے ہیں ۔اور وہ جو منیب ہے اسکو قرآن حکیم کہتے ہیں ،اور وہ جو قلب شہید والی تعلیم ہے اسکو قرآن مبین کہتے ہیں کیونکہ وہ امام مبین کے لیئے ہے ۔یہ سب قرآن میں ہے ۔حدیثیں ساری سچی ہیں لیکن حدیثوں میں وہی کچھ ہے نا جو قرآن میں ہے وہ انکی تشریح ہے نا ۔اب جب تشریح امام مہدی کی طرف سے آ رہی ہے تواب حدیث پڑھنے کی ضرورت کیا ۔اس لیئے ہم قرآن کو رکھتے ہیں ،قرآن تو اللہ کا کلام ہے نا رد نہیں کر سکتے اسکو ،رد کر دکھائیں اور اگر قرآن کو بھی رّد کر دیا تو پھر کس بات کی مسلمانی ہے تمہاری ۔

چار آئمہ کرام اور ان کی شریعت الگ الگ کیو ں؟

اسی طرح یہ شریعت ہے ۔ہم بھی بڑے پریشان ہوئے کہ یہ چار آئمہ کرام بیٹھے ہوئے ہیں یہاں پر ایک ہی کافی تھا نا ۔بڑے ولیوں نے بھی ہم سے سوال کئیے۔چارآئمہ کرام کو حضور نے شریعت کا جو فیض دیا وہ لطیفہ نفس کے چار جسّوں سے دیا۔ ہر امام کو انکے کسی نا کسی نفس کے جسّے سےشریعت کا فیض ہوا ۔امام ابو حنیفہ کو نفس مطمئنہ سے فیض ہوا لہذا وہ اماموں کے امام ہو گئے ۔چاروں آئمہ کرام الگ الگ اور ان کی شریعت بھی الگ الگ ہو گئی ۔کیونکہ حضور کے نفس کے چار جسّے ہوئے نا ، تو ہر ایک جسّے نے ہر ایک امام کو تعلیم دی ۔جس جسےّمیں جتنی طہارت ہوئی اس امام کو اتنی ہی طہارت کی شریعت ملی۔یعنی فرض کیا کہ لطیفہ نفس کے لوامہ سے فیض ہوا تو اسکے اندر وہی رنگ غالب ہو گا ۔اما م ابو حنیفہ کو مطمئنہ سے فیض ہوا کیونکہ مکمل پاک ہے لہذا وہ تقویٰ کی بات کریں گے ۔یعنی درجہ کمال تک پہنچ گیا نفس لہذا چار شریعت کے مصلّے اسلیئے ہوئے کہ حضور کے نفس کے چار جسّوں سے مختلف شریعت کے فیض ہوئے ۔جس میں دم ہے اس تعلیم کو جھٹلا کر دکھائے ۔
امام ابو حنیفہ تقویٰ کی بات کرتے ہیں اس سے نیچے نہیں جا سکتے انکی شریعت سخت ہے ۔ کیوں سخت ہے ؟کیونکہ نفس مطمئنہ کی طرف سے آ رہی ہے ان کے ہاں چھوٹ کم ہے ،انکو فیض ہی ایسا ہوا ہے وہ تقوی کی بات کرتے ہیں ۔یعنی شریعت کہتی ہے اتنا گلاس پانی کا پی لو یہ حلال ہے لیکن وہ کہتے ہیں کہ یہ تو شریعت ہے نا ۔انہوں نے شریعت میں اپنا تقوی بھی ملا دیا اسمیں تو وہ بات عام آدمی کے لیئے سخت ہو گئی ۔اب آپ نے یہ دیکھا ہو گا کہ امام ابو حنیفہ کے ماننے والے زیادہ تر پاکستان ،ہندوستا ن میں ہیں ۔کیونکہ امام ابو حنیفہ کی جو تقلید تھی شریعت کی وہ خاص لوگوں کے لیئے تھی خاص سے مراد اولیاء کرام کے لیئے تھی ۔اس خطے میں اولیاء کرام آئے تو ان کی وجہ سے لوگ بھی حنفی ہو گئے ۔اصل بات یہ تھی ورنہ امام ابو حنیفہ کا تعلق تو عراق سے تھا عراق میں تو کوئی حنفی نہیں ہے ۔انکی تعلیم خاص لوگوں کے لیئے تھی نا تقوے والے جنکو بننا تھا ۔تو ولیوں نے جنکی تقلید کی انکے مریدوں نے بھی ان ہی کی تقلید کی۔ لہذا اس خطے میں پاکستان ،ہندوستان ،بنگلہ دیش میں امام ابو حنیفہ کے مقلد زیادہ ہیں ،عرب میں نہیں ہیں ۔عرب میں آپ کو مالکی مل جائیں گے احمد بن حنبل کے ماننے والے مل جائیں گے ۔اب آپ کہیں گے کہ کسی بھی امام کو پکڑ لو تو صحیح ہے ۔صحیح تو ہے لیکن تم کو یہ نہیں پتہ کہ اسکا فائدہ اور فیض کیا ہے ۔امام احمد بن حنبل کی تقلید کس کے لیے ہے یہ بھی دیکھ لیں ،امام مالک کی جو تقلید ہے کس کے لیئے ہے یہ بھی دیکھ لیں ،چار ہیں تو چار کس لیئے ہیں ؟ اگر سب کی شریعت ایک جیسی ہے تو پھر چار کیوں ہیں اور چاروں کی تقلید جائز ہے تو پھر چار کی کیا ضرورت تھی ،ایک ہی ٹھیک ہے ، نہیں ،یہ درجے ہیں تو نفس کے اس درجہ طہارت پہ پہنچنا چاہتا ہے تو اسکی تقلید کر ظاہر ہے اس مین کم محنت لگے گی ۔اس سے زیادہ اعلی نفس کی طہارت حاصل کرنا چاہتا ہے تو تُو اس والے کی کر اس میں محنت زیادہ ہے ۔سب سے زیادہ جو سخت شریعت ہوئی جس میں تقوی کی آمیزش ہے وہ اما م ابو حنیفہ ؒ کی ۔امام ابو حنیفہ ؒکی تقلید ان لوگوں نے کی جو باطنی علم کی طرف مائل تھے انہوں نے کہا کہ جی نفس کو پاک کرنا کون سی بری بات ہے ہمارا تو کام ہی یہی ہے ہم نے تو یہ کرنا ہی ہے اللہ تک پہنچنے کے لیئے تو پھر ایسے امام کا ہا تھ پکڑو نا کہ جس سے نفس کے تزکیے میں آسانی ہو ۔

یہ تعلیم براہ راست سینہ گوھر شاہی سے بہ زبان نمائندہ مہدی سیدی یونس الگوھر کی بارگاہ سے آ رہی ہے۔ کسی میں دم ہے تو اس تعلیم کو جھٹلا کر یا ردّ کر کے دکھائے۔

متعلقہ پوسٹس

دوست کے سا تھ شئیر کریں