کیٹیگری: مضامین

میں ایک عام سے لہجے میں ، ایک عام سی گفتگو کے انداز میں یہ بتانا چاہ رہا ہوں کہ شرک کیا ہے؟ اکثر لوگ دل میں بات رکھ کے بیٹھے رہتے ہیں پوچھتے نہیں ہیں اور شرما حضوری میں ایمان کو نقصان پہنچا لیتے ہیں ۔ اب ظاہری بات ہے کہ بچپن سے لیکرا سکول کالج یونیورسٹی اور پھر جوانی اور اب عمر کے اُس حصے میں داخل ہورہے ہیں جہاں پر مڈل ایج ہوجائیگی ۔ شروع سے یہی پڑھا ہےقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ اللہ ایک ہے کسی کو اسکا شریک نہ ٹھہراؤ۔ ہم نے بھی ایسا ہی سنا ، ایسا ہی پڑھا تھا ۔ ہم کو بھی یہی سمجھایا گیا اور یہی سب لوگوں کی کہانی ہے ، کچھ لوگ جرات کرکے پوچھ لیتے ہیں اور کچھ لوگ خاموشی میں ہی بیٹھے رہتے ہیں لیکن میں ایسے لوگوں کو بہت زیادہ قابل ِستائش نظروں سے دیکھتا ہوں جو اپنے ایمان کی بہتری کیلئے جرات کریں اور پوچھیں کہ اسکا کیا مطلب ہے کیونکہ یہ سننے والے کا حق ہے ۔ اگر دین کے حوالے سے کوئی گفتگو ہو اور کہا جائے کہ ایسا کرو ویسا کرو ، اِسکو مانو اُسکو مانو اور اگر آپ مان لیں اور وہ غلط ہو تو قبر میں تو آپ جواب دہ ہیں۔ قبر میں جاکے آپ یہ تو نہیں کہیں گے کہ فلاں صاحب سے پوچھو انکے کہنے پر میں نے یہ کام کیا ہے ۔ یہ بات تو سب جانتے ہیں لہذا ہر انسان کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ سوال کرے اوریہ کہے بھئی چونکہ جو باتیں آپ نے کہی ہیں اس سے میرے ایمان کا تعلق ہے مجھے یوم ِمحشر میں جوابدہ ہونا ہے لہذا آپ نے جو بات کہی ہے اسکو ثابت کریں ، اسکے حقائق بیان کریں۔

مثال:

تو یہ جو شرک کا قصہ ہے ، شرک باللہ یعنی اللہ کیساتھ کسی کو ملانا یعنی کسی کو اللہ کا ہمسر یا ہم پلہ ٹھہرانا ۔ اسکو آسان لفظوں میں اگر سمجھنے کی کوشش کریں تو یوں ہے جیسے عرب ممالک میں بزنس میں اکثر یہ ہوتا ہے کہ بزنس پارٹنرز ہوتے ہیں اور اس پر لکھا ہوتا ہے شرکہ تو ایک پارٹنر کا 51% مال اس میں لگا ہوتا ہے اور دوسرے کا 49% لگا ہوتا ہے لہذا وہ شرکہ کہلاتی ہے۔ اگر سارا بزنس ایک ہی آدمی کی ملکیت ہو پھر وہ اسکا اکیلا مالک ہے لیکن اگر اس میں دو پارٹنرز ہوں دونوں کہیں گے اس میں میرا بھی حصہ ہے اسکا بھی حصہ ہے یہ شرکت ہے۔
اب میں آپ سے یہ سوال پوچھتا ہوں اگر کوئی ناجائز طور پر یہ بات کہے کہ اس بزنس میں ،میں شریک ہوں اور وہ شریک نہ ہو تب تو بہت بڑا جھوٹ ہوگیا کیونکہ جو بزنس کا مالک ہے اس نے تو پورا قرآن اتار دیا کہ میرا کوئی شریک نہیں ہے ۔ اور واقعی اس بزنس میں اسکا کوئی شریک نہ ہو تو پھر تو یہ بہت بڑا جھوٹ ہوگیا۔لیکن اس بزنس کا مالک جب یہ کہے کہ اس میں کوئی میرا شریک نہیں ہے اور ہم اسکی بات کو مان لیں کہ ہاں اس بزنس میں واقعی تمہارا کوئی شریک نہیں ہے ۔ لیکن ہم ایک اور بزنس کی بات کر رہے ہیں جسکا مالک یہ ہے تو اس میں تو کوئی پریشانی کی بات نہیں ہے ۔ یعنی تمہارے بزنس کے تم اکیلے مالک ہو اس میں تمہارا کوئی شریک نہیں ہے ۔ لیکن یہ ایک الگ بزنس کی بات ہو رہی ہے جسکا مالک بھی کوئی اور ہے ۔

اللہ کا شریک ہونا :

اس پوری کائنات ، تمام مخلوقات کو اللہ نے تخلیق فرمایاہے ۔ تمام انسانوں ، ملائکہ،فرشتوں،جنتوں،جہنموں،سیاروں، نظام ِشمسی اور تمام انسانوں کو، سب کو تخلیق کرنے والا خالق ایک ہے اسکا نام ہے “اللہ” ، الرحمن الرحیم ۔ جس نے آدم صفی اللہ کو بھیجا، جس نے ابراہیم خلیل اللہ کو بھیجا، جس نے موسیٰ کلیم اللہ کو بھیجا، عیسیٰ روح اللہ کو بھیجااور محمد الرسول اللہ کو بھیجا ۔ اس تمام کائنات کا خالق ومالک ایک ہے اسکا نام ہے’’ اللہ‘‘۔ اگر میں یہ کہوں کہ اللہ نے سیدنا گوہرشاہی کیساتھ مل کر یہ دنیا بنائی ہے یا سیدناگوہرشاہی نے اللہ کیساتھ مل کر یہ مخلوق بنائی ہے تو یہ شرک ہوگا ۔ ہم نے ایسا تو کبھی کہا ہی نہیں۔ ہمارا تو ایمان وعقیدہ ہے کہ اس کائنات کو بنانے والا اکیلا اللہ ہی خالق ہے۔ ہم نے کبھی ایسا نہیں کہا کہ اس کائنات کو بنانے میں سیدناامام مہدی گوہرشاہی اللہ کے شریک ہیں یا یہ جو انسانی مخلوق اللہ نے بنائی ہے اس میں سیدنا گوہرشاہی کا حصہ شامل ہے۔ نہیں ، ہم ایسا نہ کہتے ہیں اور نہ یہ کہنے کا ہمیں حق ہے۔ہم اللہ کو خالق اور معبود مانتے اورجانتے ہیں اور اسکی احدیت پر کامل یقین رکھتے ہیں ۔ اللہ نے ہدایت کیلئے دنیا میں نبوت ، رسالت اور ولایت بھیجی ہیں اور اُن پر مکمل اعتقاد وایمان رکھتے ہیں۔ اب جو بات پریشان کرنے والی ہے وہلاالٰہ الاریاضہے۔ ہم نے اپنا عقیدہ بیان کردیا کہ

“اللہ واحد اس پوری مخلوقات کا اور پوری کائنات کا خالق ہے اور اس تخلیق میں اللہ کا کوئی بھی شریک نہیں ہے یہ ہمارا ایمان اور عقیدہ ہے۔ اب جب ہم نے اللہ کی صفت ِخلق ، صفت ِمعبودیت میں کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا تو ہم نے شرک نہیں کیا”

جس طرح پاکستان کا ایک وزیر اعظم ہے وہ صرف پاکستان کاوزیر اعظم ہے پوری دنیا کاوزیر اعظم نہیں ہے۔ انگلینڈ ایک الگ ملک ہے وہاں کا وزیر اعظم کوئی اور ہے وہاں پاکستان کے وزیر اعظم کی نہیں چلتی ۔ دوسری بات کیا کوئی شخص پوری انسانیت کے بچوں کا باپ ہو گایا صرف انہی کا باپ ہوگا جو اسکی اولاد ہے؟

“لا الٰہ الاریاض کلمہ سبقت ہے اور یہ کلمہ اس جہان کا نہیں ، یہ عالم غیب کا کلمہ ہے”

یہ کائنات اور یہ دنیا یہ چاندسورج ستارے یہ مریخ اور دیگر سیارے یہ ساتوں جنت، ساتوں جہنم یہ جو کچھ بھی تخلیق کیا ہوا ہے یہ سارا اللہ کا تخلیق کیا ہوا ہے اور جو جو کچھ اللہ نے تخلیق کیا ہے اسکا خالق اللہ ہے اور اسکی تخلیق میں کوئی اسکا شریک نہیں ہے ، اس بات میں کیا خامی ہے بتائیے؟

لمحہ وصل میں حضور پاک کا اللہ سے سوال :

جب حضور نبی کریم معراج پر تشریف لے گئے اللہ سے معانقہ، مصافحہ کیا اسکو قرآن میں لکھا ہے : قاب قوسین ، سرکار امام مہدی گوہرشاہی کا فرمان ذیشان ہے : قاب قوسین کا مطلب ہے اللہ اور محمد بغلگیر ہوئے اور قرب کا عالم یہ تھا اوادنی یعنی اتنے قرب میں چلے گئے کہ اللہ نے قرب کی کوئی حد بندی نہیں کی ۔ کتنا قرب؟ قاب قوسین، اللہ اور محمد کے بیچ کوئی فرق کوئی فاصلہ نہ رہا۔حضور پاک نے فرمایا اللہ نے اپنا ہاتھ میرے شانوں پر رکھا اور مجھے اللہ کے ہاتھ کی ٹھنڈک بھی محسوس ہوئی۔ جب اللہ نے محمد الرسول اللہ کو بغلگیر کیا ، گلے لگایا، سینے سے سینہ لگایا اور جب یہ مقام ِوصل پیش آیا تو محمد اللہ کے اتنے قرب میں چلے گئے اور وہ لمحہ وصال آگیا جو لمحہ وصال کسی نبی، کسی مرسل، کسی پیغمبر، کسی ولی، کسی غوث کی زندگی میں نہیں آسکتا تھا ۔ اتنے قرب میں چلے گئے کہ حدبندیاں ہٹ گئیں اور محمد الرسول اللہ کے وجود میں اور اللہ کے وجود میں کوئی ظاہری باطنی فرق وفاصلہ نہ رہا ۔ تب ایسے نازک موقع پر آپ نے اللہ سے ایک سوال کیا اور وہ سوال تھارَّبِّ زِدْنِي عِلْمًااور یہ کتنا نازک موقع تھا اسکو سمجھانے کیلئے ایک مثال دوں گا۔ ایک عورت کا شوہر بڑا جلادقسم کا تھا ، ایک دن اس عورت کا چھنا ٹوٹ گیا جس سے چاول چھانتے ہیں ۔ اب وہ سوچنے لگی میں شوہر کو کیسے بتاؤں ، بتایا تو مار پڑیگی، خیر جب شوہر گھر آیا ، وہ مباشر ت میں مصروف ہوئے اور جب عین اس لمحے پر پہنچے جب انسان اپنے ہوش وہواس کھودیتا ہے ، جب سب کچھ لب ِبام تھا تو اس وقت بیوی نے سوچا یہ اچھا موقع ہے یہ تو کیف وسرور کے نشے میں ہے اس وقت چھنے کی بات کردو ۔ تو اس نے کہا آج چھنا ٹوٹ گیا ہے تو وہ کہنے لگا خیر ہے چھنے اور بہتیرے یعنی چھنے کی بات معاف ہوگئی کیونکہ وہ لمحہ ایسا تھا ۔ بس اسی قسم کا وہ لمحہ تھا ، محمد الرسول اللہ نے پہلے سے سوچا ہوا تھا کہ جب میں عظیم ترین لمحہ وصال میں جاؤں گا تب یہ سوال کرونگا تاکہ اللہ عشق کے نشے میں مجھے جواب دیدے اور انکار نہ ہوسکے ۔ تو جب وہ لمحہ وصال آیا تو کہا:رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا، لیکن اسکے باوجود بھی انکار ہوگیا۔
اب سمجھنا یہ ہے کہ جب اللہ نے محمد الرسول اللہ کو بغلگیر کیا ، آپکے شانوں پر ہتھیلی رکھی آپ نے اسکی ٹھنڈک محسوس کی اور فرمایا : جب اللہ نے میرے شانوں پر ہاتھ رکھا تو چودہ صدیوں تک کے حالات و واقعات میری آنکھوں کے سامنے وارد ہوگئے ، سارا علم مجھے عطا کردیا گیا۔ محمد الرسول اللہ لمحہ وصال میں موجود ہیں ، اللہ سے بغلگیر ہیں قرب کا عالم یہ ہے کہ “اوادنی ”یعنی اتنا قرب دیا کہ کوئی حدبندی قائم نہیں تھی اور ایسے موقع پر سوال کیا جارہا ہے رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا۔ جب اللہ مل گیا ، سارا علم مل گیا ، اب اللہ کے علاوہ کونسے علم کا سوال تھا؟ جب اللہ کی معرفت ، عرفان حاصل ہوگیا وہ عظیم ترین لمحہ وصال حاصل ہوگیا ، اللہ کا ظاہر وباطن میسر آگیا، اللہ سے بغلگیر ہوگئے اب اللہ کے علاوہ کونسی شے تھی جسکے علم کی درخواست کی گئی تھی؟ یہ بڑا مسئلہ ہے ۔ اللہ کو نہ صرف دیکھا بلکہ اللہ کی باہوں میں جھوم رہے ہیں پھربھی کسی اور کا خیال کیوں آگیا؟ کیا یہ شرک نہیں تھا؟ پوچھا: اور علم عطا کرونا ۔ کس بات کا علم عطا کرے ، اگر اللہ کے علاوہ کچھ بھی نہیں تھا تو اللہ مل گیا ، بغلگیر ہوگئے پھر کس کا علم مانگا؟ بات یہ تھی کہ یار دوست مروا دیتے ہیں، یہ جب ام ہانی کے گھر لیٹے ہوئے تھے تو وہاں جبرائیل امین آئے اور اپنی آنکھیں انکے تلوؤں پہ ملیں اور کہا چلئے آپکو اللہ عزوجل نے بلایا ہے ۔ تو پہلے یہ بیت المقدس میں بیت اللحم گئے وہاں پر انہوں نے ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں کو نماز پڑھائی ، وہاں پہ انکی ملاقات سارے نبیوں سے ہوئی۔ اوپر پہنچے وہاں پر بھی بہت سے نبیوں اور عیسیٰ سے ملاقات ہوئی تو

عیسیٰ نے انکو کہا: یارسول اللہ ، اللہ نے آپکے بعد بھی ایک ہستی کو بھیجنا ہے وہ نہ نبی ہیں نہ وہ ولی ہیں آپ اللہ کے محبوب ہیں اللہ سے پوچھنا وہ کون ہیں؟

تو انہوں نے سوچا کہ بھئی کوئی بھی ہو وہ عالم ِارواح میں تو ہوگا کیونکہ ساری روحیں تو بن چکی ہیں۔ دنیا میں جب بچے پیدا ہوتے ہیں تو جو آج پیدا ہوا اسکی عمر زیادہ ہوگی بنسبت اسکے جو کل پیدا ہوگا یعنی پیدا ہونے کے وقت کی وجہ سے عمر میں فرق آگیا۔ لیکن روحوں کو تو ایک ہی وقت میں بنادیا تھا جتنی بھی روحیں بنانی تھیں ، اب انکے زمین پر آنے کا وقت مختلف ہے۔ اگر آپکے پاس طاقت ہو توآپ عالم ارواح میں جا کر لسٹ مانگ کر پتہ کر سکتے ہیں کہ پہلے یہ روح جائیگی یہ دادا ہوگا ، اسکے برابر والی روح یہ اسکا بیٹا ہوگا ، اسکے برابر والی روح یہ اسکا پوتا ہوگا، یہ اسکے برابر والی روح اسکا نواسا ہوگا ، پھر اسکے برابر والی روح اسکا پڑپوتا ہوگا یعنی دادا پوتا سب ایک ہی لائن میں بیٹھے ہوئے ہیں، بس زمین پر آنے کے بعد انکی عمریں مختلف ہونگیں۔ تو جتنی بھی روحیں اللہ نے بنائی ہیں وہ سب عالم ارواح میں موجود ہیں۔

امام مہدی سیدنا گوھر شاہی کا تعلق اللہ کے بنائے جہان سے نہیں ہے :

جس طرح واقعہ معراج کے حوالے سے بیان کیا جاتا ہے کہ جب حضور نبی کریم معراج شریف پر جارہے تھے تو عالم ِجبروت تک تو جبرائیل لیکر گئے لیکن عالم ِجبروت کے پاس شیخ عبدالقادر جیلانی کی روح ِمبارک حاضر ہوئی اور انہوں نے کہا یارسول اللہ اب یہ سعادت مجھے عطا فرمادیجئے اور میرے کاندھوں پر تشریف فرما ہوجائیں ۔ اور پھر کہا جاتا ہے حضور پاک شیخ عبدالقادر جیلانی کے کاندھوں پر سوار ہوگئے اور وہاں سے آگے کا سفر کیا ۔ ذرا غور فرمائیے! شیخ عبدالقادر جیلانی تو اس وقت زمین پر موجود ہی نہیں تھے آپکے زمانے میں اور شیخ عبدالقادر جیلانی کے زمانے میں کم وبیش آٹھ نو سو سال کا فرق ہے لیکن جب آپ اوپر گئے تو وہاں انکی روح موجود تھی اور زمین پر آنے سے پہلے ہی انکو دیدار مصطفی ہوگیا ۔ تو حضور پاک نے عالم ارواح میں اُس ہستی کو بھی تلاش کیا لیکن وہ ہستی وہاں پر نہیں ملی ، پھر جب اللہ کے ہاں پہنچے تو وہاں انتہائی قرب میں پہنچ کر سوال کیا۔
اللہ کی احدیت ، اللہ کی بادشاہت اور اللہ کی صفت ِتخلیق اسی عالم تک محدود ہے جو عالم اُس نے بنایا ہے۔ اور سیدنا گوھر شاہی کی ہستی مبارک وہ ہے جو اللہ کی مخلوق میں سے نہیں ہے ۔ یہ جو عالم اللہ نے بنایا ہے وہ ذات اس عالم سے باہر کی ہے ۔ جس طرح یوسف رضا گیلانی پاکستان کے صدر ہیں لیکن صدر کی حیثیت سے انکی طاقت صرف پاکستان میں چلتی ہے ۔ بنگلہ دیش چھوٹا ملک ہے لیکن اسکے باوجود پاکستان کے صدر کی بنگلہ دیش میں تو نہیں چلے گی ، اِسی طرح یہ جو عالم اللہ نے بنایا ہے اسکے علاوہ بھی عالم ہے جسکو عالم غیب کہا جاتا ہے، جسکے وجود کا ذکر اللہ نے قرآن میں کیا ہے اور عالم ِغیب کو مانے بغیر کوئی مومن نہیں بن سکتا، قرآن مجید میں لکھا ہے :

الم ذَلِكَ الْكِتَابُ لاَ رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ
(سورۃ البقرۃ)

کہ متقی کو غیب پر ایمان لانا ہوگا ، اسکے بغیر چارہ نہیں ہے۔ جب آپ نے قرآن پڑھا کلمے پڑھے تو آپ نے بغیر سوچے سمجھے جو اللہ نے کہا اسکو مانا اور اللہ نے سب سے اقرار کروایا کہ غیب پر ایمان لاؤ۔ غیب پر ایمان لاؤ سے کیا مراد ہے؟ یہ عالم جس عالم میں ہم رہتے ہیں تم رہتے ہو، فرشتے رہتے ہیں، ملائکہ رہتے ہیں، انبیاء رہتے ہیں، مرسلین رہتے ہیں جس عالم میں یہ نظام ِشمسی واقع ہے اسکو اللہ نے بنایا ہے ۔ یہ عالم تو اللہ کا تخلیق کردہ ہے لیکن جب کہا غیب پر ایمان لاؤ تو غیب اس عالم کا حصہ تو نہ ہوا ، وہ کوئی اور عالم ہے اُس عالم میں اللہ کی الوہیت نہیں چلتی ، اُس عالم میں اللہ خالق نہیں ہے۔ جیسے پاکستان کاوزیر اعظم پاکستان کاوزیر اعظم ہے لیکن جب پاکستان کا وزیر اعظم کسی دوسرے ملک میں جاتا ہے تو عام شہری کی حیثیت سے جاتا ہے ، اُسی طرح عالم غیب ہے ۔ اب غیب کے بارے میں بتادیں کہ غیب کن لوگوں کیلئے ہے؟ یہ عالم تو ہمارے لئے ، فرشتوں کیلئے ، ملائکہ کیلئے اور جنات کیلئے لیکن غیب کس کے کیلئےہے؟ قرآن مجید نے کہا :

فَقُلْ إِنَّمَا الْغَيْبُ لِلّهِ
( سورۃ یونس، آیت نمبر 20 )
ترجمہ : اور کہہ دو عالم ِغیب اللہ کیلئے ہے ۔

قرآن کے مطابق اللہ ایک قوم کا نام ہے :

جس طرح یہ عالم ہمارے لئے ہے ہم یہاں پر رہتے ہیں اور غیب پر بھی ایمان لانے کو حکم دیا گیا ہے اور غیب پر ایمان لائے بغیر آپ مومن ہی نہیں بنیں گے ۔ قرآن مجید میں لکھا ہے الم ذَلِكَ الْكِتَابُ لاَ رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ۔ یہ متقیوں کو ہدایت کرتا ہے اسکے بعد یہ بتایا کہ متقی کون ہیں ؟ متقی وہ لوگ ہیں يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ جو غیب پر ایمان رکھتے ہیں۔ غیب کیلئے ابھی میں نے آپکو قرآن کی ایک آیت پیش کی فَقُلْ إِنَّمَا الْغَيْبُ لِلّهِ کہہ دو کہ غیب اللہ کیلئے ہے ۔ معلوم یہ ہوا اللہ غیب میں رہتا ہے۔ اب آجائیے سیدنا گوہرشاہی امام مہدی کی بارگاہ میں ۔ آپ نے فرمایا:

“غیب میں ایک نہیں ساڑھے تین کروڑ اللہ رہتے ہیں، پھر یہ بھی فرمایا “اللہ” کسی ایک فرد کا نام نہیں بلکہ یہ ایک قوم ہے ”

جس طرح سلیم کہیں تو یہ اسم ضمیر ہے اس سے پتہ چلے گا کہ فلاں شخص کی طرف اشارہ ہے لیکن اگر انسان کہیں تو یہ پوری جمعیت ِانسانیت کی طرف اشارہ ہے ۔ انسان کا مطلب ہے پوری قومِ انسان۔ سلیم انسان ہے، ندیم انسان ہے اور رضوان بھی انسان ہے انسان تو بہت سارے ہیں لیکن انسان ہمارا نام نہیں ہے ۔ انسان ہماری جنس کا نام ہے۔ اُسی طرح اللہ جنس کا نام ہے ، جس طرح فرشتے، ملائکہ، جنات یہ سب الگ الگ جنس ہیں۔اگر کہا جائے ملائکہ تویہ کسی ایک کا نام نہیں بلکہ پوری قوم کی طرف اشارہ ہے ۔ جیسے راجپوت قوم ہے ، یہ کسی ایک آدمی کی طرف اشارہ نہیں ہے۔ پاکستان میں مسلمان راجپوت ہیں انڈیا میں ہندو راجپوت ہیں۔ پاکستان میں چوہان ہیں انڈیا میں بھی چوہان ہیں ۔ انڈیا کے چوہان ہندو ہیں ، پاکستان کے چوہان مسلمان ہیں لیکن یہ اشارہ قوم کی طرف ہے ۔ اِسی طرح پنجابی قوم ہے، پاکستان میں پنجابی مسلم ہیں اور انڈیا میں جو پنجابی ہیں وہ زیادہ تر سکھ اور کچھ ہندو ہیں ۔ اُسی طرح سندھی قوم ہے ، سندھ میں جو سندھی ہیں وہ زیادہ تر مسلمان ہیں انڈیا میں جوسندھی ہیں وہ سارے ہندو ہیں تو یہ بھی قوم کی طرف اشارہ ہے ۔ اُسی طرح آرائیں بھی ایک قوم ہے ، اگر کسی شخص کو آرائیں کہا جائے تو دراصل اسکی پوری قوم کی طرف اشارہ ہو گا کہ فلاںشخص آرائیں قوم کا فرد ہے ۔ اس طرح قرآن کی جو آیت ہے فَقُلْ إِنَّمَا الْغَيْبُ لِلّهِ ہاں اللہ سے مراد قوم کی طرف اشارہ ہے ۔ جیسے ہم عربی میں کہیں کہ بریڈفورڈ میں میر پورئیے رہتے ہیں ، فاقل انمابریڈفورڈ لل میرپوری، تو اسکا مطلب یہ تھوڑی ہے کہ وہاں ایک ہی میرپوری رہتا ہے ۔ اُسی طرحفَقُلْ إِنَّمَا الْغَيْبُ لِلّهِ یعنی کہہ دو عالم غیب صرف ایک قوم کیلئے ہے اور اس قوم کا نام اللہ ہے ۔یعنی یہ شخصیت نہیں ذات کی طرف اشارہ ہے یہ اسم ِذات ہے جس طرح ہر آدمی کی ذات ہوتی ہے کوئی راجپوت ، آرائیں ، قریشی ، ہاشمی ، کوئی کچھ کوئی کچھ ہے اس طرح یہ اللہ کی ذات ہے۔ یعنی عالمِ غیب ذات ِاللہ کیلئے ہے جہاں اللہ ذات یا اللہ کی قوم رہتی ہے اور قرآن مجید میں تو یہ بھی لکھا ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ مَن يَرْتَدَّ مِنكُمْ عَن دِينِهِ فَسَوْفَ يَأْتِي اللّهُ بِقَوْمٍ يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَهُ
( سورۃ المائدۃ، آیت 54)
ترجمہ :- جب مومنین اپنے دین سے پھرجائینگے تو اللہ اپنی قوم کیساتھ زمین پر آئے گا۔

لہذا قرآن ثابت کرتا ہے کہ اللہ کی قوم ہے۔ اب اگر کوئی قرآن کو بھی نہ مانے تو اسکو کیا سمجھا سکتے ہیں ؟ اللہ کی قوم ہے یہ بات قرآن کی نص سے ثابت ہے ۔ اس آیت میں صاف صاف بتایا گیا ہے کہ جب مومنین اپنے دین سے پھر جائینگے تو اللہ اپنی قوم کے ساتھ زمین پر آئے گا ۔ باقی چیزیں چھوڑدیں اگر اس میں جائینگے تو ایک نئی بات شروع ہوجائیگی ۔ اس آیت کو یہاں بیان کرنے کا مقصد اس حقیقت کو آشکار کروانا ہے کہ قرآن میں اللہ کی قوم کا ذکر موجود ہے ۔ اب جب قرآن میں آگیا ہے اللہ کی قوم ہے تو تسلیم کرو۔ اس طرح کی آیتوں کو سننے سے کیا ہوتا ہے لاہور پنجاب میں ایک شاعر گزرا ہے امام دین ، اسکے حمد کرنے کا طریقہ ہی مختلف ہے وہ کہتا ہے : حمد کرتا ہوں میں اس رب کی جس سے پھٹتی ہے ہم سب کی۔
قرآن مجید میں تو یہ بات آگئی کہ اللہ کی قوم ہے ۔ کوئی اس راز پر سے پردہ نہ ہٹا سکا لیکن سیدنا گوہرشاہی امام مہدی علیہ السلام نے اسکی تشریح فرمائی کہ ’’ عالم غیب میں اللہ کی قوم رہتی ہے‘‘ ۔ اللہ کی قوم کا ذکر تو اللہ نے خود کیااور قرآن میں بتادیا کہ غیب میں اللہ رہتا ہے۔ اب جب غیب کے بارے میں پتہ چل گیا کہ وہ عالم اللہ کیلئے ہے تو اللہ کی قوم وہیں رہے گی نا۔ اب یہ جو میرصاحب ہیں انکی قوم شاید میر کہلاتی ہے تو یہ سارے ہم جنس انسان ہونگے کوئی یہ نہیں کہے گا کہ ہوں تو میر قوم سے لیکن پٹھان بھی ہوں ۔ پٹھانوں میں بھی قومیں ہیں یعنی ککا زئی ، یوسف زئی انکے اندر بھی بیشمار قبیلے اور قومیں ہیں۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ جو اللہ کی قوم ہے کیا وہ اللہ جیسی ہے یا اللہ کی مخلوق ہے؟ اور اگر اللہ کی قوم اللہ کی مخلوق ہے تو پھر ہم اللہ کی قوم میں شامل کیوں نہیں ، ہم بھی تو اللہ کی مخلوق ہیں، اللہ نے ہم کو اپنی قوم کیوں نہیں کہا ؟ اور پھر اگر وہ مخلوق ہے تو ہماری طرح ماں کے پیٹ سے جنم کیوں نہیں لے گی، اللہ کیساتھ کیوں زمین پر آئے گی؟ اسکا مطلب وہ ہماری طرح مخلوق نہیں وہ اللہ کی طرح ہے ۔ قرآنی حوالوں اور دلائل کی روشنی میں اب اللہ کی قوم کا عقدہ سمجھ میں آگیا ہو گا ۔

اللہ اور الٰہ کا فرق سمجھنا نہایت ضروری امر ہے:

فرض کریں اللہ اپنی قوم کیساتھ کھڑا ہوکر یہ کہے ’’لا الٰہ الااللہکوئی الٰہ نہیں ہے سوائے میرے ۔ ایک تو بہت بڑی غلط فہمی مسلمانوں میں یہ ہے کہ وہ اللہ اور الٰہ کے فرق کو نہیں جانتے ، جسکو بھی دیکھو وہ کہتا ہے اللہ ایک ہے اور اس کلمہ سے مراد یہ لیتے ہیں کہ اس کلمہ میں کہا گیا ہے اللہ ایک ہے لیکن یہاں پر یہ بات نہیں ہے ۔ اگر کلمہ میں یہ ہوتا کہ اللہ ایک ہے اللہ کے علاوہ کوئی نہیں ہے تو کلمہ یوں ہونا چاہئے تھا ’’لا الٰہ الااللہ‘‘ لا اللہ کوئی اللہ نہیں ہے الاللہ سوائے اللہ کے لیکن یہ تو کلمہ نہیں ہے کلمہ کلمہ لا الٰہ الااللہ ہے کوئی الٰہ نہیں ہے سوائے اللہ کے ۔یعنی اللہ کے علاوہ کوئی ہے یا نہیں ہے کلمے میں اسکا ذکر نہیں ہے ، نہ اسکا اثبات ہے نہ اسکا انکار ہے۔ کلمے میں اثبات اور انکار الٰہ کا ہے ۔ معبود ، خالق ، پیدا کرنے والے کا ہے یعنی یہ جو اللہ کی قوم ہے یہ سب اللہ تو ہیں لیکن ان میں سے الٰہ ایک ہے ۔ اور اگر اللہ کے علاوہ کوئی اور اللہ نہیں ہے تو یہ بتانے کی ضرورت کیا ہے کہ میں اکیلا الٰہ ہوں؟ اس بات کو سمجھانے کیلئے ایک مثال دی جاتی ہے ۔ فرض کریں ایک کمرہ ہے جس میں صرف ایک مرد ہے باقی سب عورتیں ہیں ۔ اگر مرد ایک ہی ہے تو کیا وہ اپنی بیوی کو یہ کہے گا کہ ان میں سے صرف میں تیرا شوہر ہوں؟ کیونکہ کوئی عورت تو شوہر نہیں بن سکتی اسکا مطلب ہے کمرے میں کوئی اورمرد بھی ہے جسکو شوہر سمجھا جاسکتا تھا تبھی اس نے کہا کہ ان میں سے صرف میں تیرا شوہر ہوں ۔ اسی طرح اللہ نے جو یہ کہا لا الٰہ کہ کوئی اور الٰہ نہیں ہے اسکا مطلب ہے وہاں کوئی اور اللہ ہے جسکو الٰہ سمجھا جاسکتا تھا ۔

سیدنا گوہرشاہی امام مہدی علیہ السلام نے فرمایا : جس نے مخلوق تخلیق کی ہے وہ خالق ومعبود ہے اور تمہارا سجدہ اور عبادت اسی کو ہوگی کسی اور کو نہیں کرسکتے بھلے کوئی اللہ ہو۔ اب اللہ کی قوم میں سارے اللہ ہیں تو کیا تم سارے اللہ کو سجدہ کروگے؟ نہیں ، تم صرف اسکو سجدہ کروگے جو تمہارا خالق ہے تم صرف اسکی عبادت کروگے جو تمہارا خالق ہے”

اور یہی بات قرآن میں آئی :

وَاعْبُدُواْ اللّهَ وَلاَ تُشْرِكُواْ بِهِ شَيْئًا
( سورۃ النساء ، آیت 36 )
ترجمہ : اور اللہ ہی تمہارا معبود ہے اُس کیساتھ کسی کو شریک نہیں کرو۔

یعنی یہاں پر عبادت کا ذکر کردیا کہ میں تمہارا معبود ہوں میری عبادت کرو کسی اور کی عبادت مت کرو۔ پھر اسکے علاوہ قرآن مجیدمیں یہ بھی آیا :

وَاللَّهُ خَيْرُ الرَّازِقِينَ
( سورۃ الجمعہ آیت نمبر 11)
ترجمہ: اور اللہ تمام رازقین میں سب سے بہتر رازق ہے۔

یہ بات بڑی عجیب وغریب لگتی ہے اگر اللہ کے علاوہ کوئی رزق دینے والا نہیں ہے تو قرآن نے یہ موازنہ کیوں کیا ہے؟ فرض کیا ہندو اپنے ہاتھوں سے تراشے ہوئے بتوں کو اپنا رازق سمجھتے ہیں وہ تو ہندو سمجھتے ہیں کیا اللہ نے بھی اِن بتوں کو رازق سمجھ لیا ہے؟ اللہ نے رازق نہیں سمجھا تو رازقین میں شمار بھی نہیں کریگا لیکن قرآن میں وہ کہہ بھی رہا ہے وَاللَّهُ خَيْرُ الرَّازِقِينَ اسکا مطلب ہے بہت سارے رازقین ہیں ، بہت سارے رزق دینے والے ہیں لیکن اللہ نے کہا کہ رزق دینے والوں میں سب سے بہتر میں ہوں لیکن یہ تو نہیں کہا کہ کوئی اور رازق نہیں ہے۔ عالم غیب اللہ کیلئے ہے اور اللہ کی قوم ہے یہ دونوں باتیں قرآن مجید سے ثابت ہے آپکو ان دونوں آیتوں کی تشریح بیان کردی گئی ہے ، قرآن وحدیث کی روشنی میں ثابت ہوگیا ہے کہ اللہ کی قوم بھی ہے اور وہ عالم ِغیب میں رہتا ہے۔

اللہ کے ننانوے صفاتی اسماء میں مومن بھی شامل ہے :

اب اس سے آگے کی بات یہ ہے کہ اللہ کا دین بھی ہے اور اللہ مومن بھی ہے ۔ میں اور آپ اللہ پر ایمان لائے تو مومن ہوگئے لیکن اللہ مومن کیسے بنا، اللہ کس پر ایمان لایا؟ مجھے اور آپکو دین کی ضرورت ہے تاکہ ہم اپنے معبود و خالق تک پہنچ جائیں ، اللہ کو دین کی ضرورت کیوں ہے؟ اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ اللہ کا دین ہے قرآن مجید میں لکھا ہے:

إِذَا جَاء نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا
( سورۃ النصر آیت نمبر 1 اور 2)
ترجمہ: جب اللہ کی قوم کی مددکرنے والا آئے گا، تو پھر دیکھنا جو اللہ کی قوم کا دین ہے اس میں انسانوں کی قوم فوج درفوج داخل ہوگی ۔

اللہ نے اپنے دین کیلئے یہ بات کہی’ اور تو دیکھنا وَرَأَيْتَ النَّاسَانسان کی قوم فوج در فوج اللہ کے دین میں داخل ہوگی ۔ اس میں دو جنسوں کا ذکر ہے ، دین تو اللہ کا ہے لیکن انسان بھی اس میں داخل ہوجائینگے ۔ اب اللہ کے دین سے کیا مراد ہے ، کیا یہ صرف ایک اللہ کا دین ہے یا پوری اللہ کی قوم کا دین ہے؟ جس طرح دین ِاسلام ، دین عیسائیت ، دین یہودیت مٹی کیلئے آیا اور دین ِطریقت نور کیلئے آیا اِسی طرح اللہ کا دین صرف ایک اللہ کیلئے نہیں بلکہ پوری اللہ قوم کیلئے ہے ۔ اور پھر اس نے کہا إِذَا جَاء نَصْرُ اللَّهِ ۔ جب اللہ کی قوم کی مددکرنے والا آئے گا ،وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًاو پھر دیکھنا جو اللہ کی قوم کا دین ہے اس میں انسانوں کی قوم فوج درفوج داخل ہوگی ۔ جو انسانوں کا دین تھا اس میں کلمہ تھا۔
لاالٰہ الااللہ آدم صفی اللہ         (آدم ؑ کا کلمہ)
لاالٰہ الااللہ ابراہیم خلیل اللہ      (ابراھموں کا کلمہ)
لا الٰہ الااللہ موسیٰ کلیم اللہ    (یہودیوں کا کلمہ)
لا الٰہ الااللہ عیسیٰ روح اللہ      (عیسائیوں کا کلمہ)
لاالٰہ الااللہ محمد الرسول اللہ    (مسلمانوں کا کلمہ)

“اور جو اللہ کی قوم ہے اسکا کلمہ ہے لاالٰہ الاریاض۔ یہ کلمہ انسانوں کیلئے نہیں ہے ، یہ تو اللہ برادری کا کلمہ ہے انسانوں کیلئے ہے ہی نہیں تو تم اعتراض کیوں کرتے ہو؟ یہ عالم غیب کا کلمہ ہے، یہ وہاں کا الٰہ ہے، یہ اللہ کی قوم کا کلمہ ہے اور یہ کرم ہوگیا کہ اللہ کی قوم کا رب اور اللہ کی قوم کا کلمہ زمین پر آگیا”

اللہ کی قوم جس کلمے کو پڑھتی ہے ، اللہ کی قوم جس رب کے آگے جھکتی ہے ، اللہ کی قوم جسکے آگے اپنا ماتھا ٹیکتی ہے وہ رب الارباب زمین پر آگیا اور قوم ِالٰہی کے ساتھ ساتھ قوم ِانسانیت کوبھی یہ مرتبہ مل گیا ، یہ شرف عطاہوگیا کہ وہ بھی یہ کلمہ پڑھے جو اللہ کی قوم پڑھتی ہے ۔ وہ بھی اسی رب کے آگے جھکے جہاں اللہ کی قوم کے سجدے ہوتے ہیں۔

مندرجہ بالا متن نمائندہ امام مہدی سیدی یونس الگوھر کے یو ٹیوب پر لائیو گفتگو سے لیا گیا ہے۔

متعلقہ پوسٹس

دوست کے سا تھ شئیر کریں