کیٹیگری: مضامین

دنیا میں بھیجے جانے والے اولیاء کاملین کو منجانب اللہ ازلی مومن ارواح کا کوٹہ دیا جاتا ہے ، مومن ارواح کا نصیبہ جس ولی کے پاس ہوتا ہے وہ کامل ولی ان ارواح کو راہ سلوک میں چلاتا ہے۔ایسا نہیں ہے کے ساری مومن ارواح ایک وقت میں اس ولی کو مل جائیں ،مختلف عرصہ میں وہ مومن ارواح ملتی رہی اور اس کے علاوہ ایک روحانی ضابطہ کے مطابق صرف ازلی مومن ارواح جن میں رب کو پانے کی جستجو ہو وہ ہی اس طرف آتے تھے، سب سے پہلے ان کو باطنی شریعت کے مطابق نفس کی طہارت سیکھنا پڑتی تھی جس میں کم سے کم بارہ سال لگتے تھے۔
مرشد کی نظروں سے نفس پاک ہوتا ہے یہ کہانی سیدنا گوہر شاہی امام مہدی نے بتائی،اگر اس سے پہلے بھی مرشد کی نظروں سے نفس پاک ہوتا تو پھر لوگ جنگلوں میں کیوں گئے؟
روحانیت دراصل ایک سائنس ہےاورجو لوگ پیری فقیری کرتے ہیں وہ جہالت ہے۔جہاں بے تکی باتوں کو روحانیت بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ جیسے جاہل پیرومرشد ، ویسے جاہل مرید ، ان کی کیا مجال کے پیر ومرشدپرانگلی اٹھا سکیں ان کے لیے تو یہ ان کے پیرومرشد کی کوئی رمز ہوتی ہے۔
جس طرح سائنس کا ایک مضمون Biology بائیولوجی ہے’’ Bio ‘‘ لاطینی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی زندگی ہیں اور ’’logia ‘‘ کا مطلب ہے مطالعہ۔ تو بائیولوجی کا مطلب ہو گیا to study life اسی طرح روحانیت بھی سائنس ہے اور کس طرح کام کرتی ہے اس کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے لطیفہ نفس کی بات کرتے ہیں ۔

انسانی جسم میں موجود ارواح اور ان کی خصوصیات:

انسان میں سات روحیں موجود ہیں ان سات لطائف میں سے ایک کا نام لطیفہ ’’نفس ‘‘ہے جس کا تعلق قوم جنات سے ہے۔ باقی کے چھ لطائف کا تعلق عالم بالا سے ہے ۔لطیفہ نفس کو ہمارے اندر امتحان کےلئے ڈالا گیا ہے۔ یہ عالم ناسوت ( جہاں ہم رہتے ہیں ) ہمارا وطن نہیں تھا یہ جنات کے لیے بنایا گیا تھا ہم تو ملکوت سے یہاں آئے ہیں جہاں آدم ؑکو بنایا گیا تھا وہیں کی فضا اور اثرات ہمارے لئے سازگار تھی۔ ہماری ارواح نے تو یہاں ہائبرنیشن اختیار کر رکھی ہے۔ایک خلیے والے جانوروں کی بھی کچھ اقسام ایسی جو عارضی طور پر اپنے تحفظ کےلئے Hibernation (عارضی طور پر سو جانا) میں چلے جاتے ہیں ۔
مثال کےطور پر جب ہم کسی دوسرے ملک میں جائیں جہاں ہماری جان پہچان کا کوئی نہ ہو تو وہاں اتنا زیادہ دل نہیں لگتا لیکن اگر کوئی قریبی دوست یا جان پہچان والا مل جائے تو دل لگ جاتا ہے۔ اسی طرح ہمارے جسم میں چھ مخلوقیں عالم بالا سے ہیں اور ایک کا تعلق اسی عالم سے ہے اسی وجہ سے انسانوں کا دل یہاں لگ گیا ہے، نفس دنیا میں لگا کر رکھتا ہے ۔عالم بالا کی چھ ارواح کی غذا یا خوراک نور ہے۔ عام انسان کی وہ ارواح بیدار نہیں ہیں خفتہ حالت میں خون میں تیر رہی ہیں ۔بے سدھ بے ہوش ہونے کی وجہ سے ان میں موجود صفات اور خصوصیات کا اظہار یا کوئی اثر بھی انسان کے کردار پرنہیں ہو گا۔عالم بالا کی مخلوق ہونے کی وجہ سے ان میں بہت سی اعلی خصوصیات ہیں جیسا کے قلب کو ہی لے لیں، قلب کی ایک خاصیت تو یہ ہے کہ قلب رب اور بندے کے درمیان ایک ٹیلی فون آپریٹر کا کام کرتا ہے۔یعنی اللہ کا پیغام آپ کے پاس لائے گا، وحی ، القا اور الہام قلب پرہی آتا ہے، یہ قلب کا صرف ایک فنکشن ہے۔ قلب کے ذریعے انسان کا رب سے رابطہ ہو جاتا ہے لیکن اگرآپ کا قلب بے ہوش ،بے سدھ اور خفتہ ہے تو قلب کی اس خاصیت سے آپ محروم ہیں ۔

عالم بالا کی ارواح آپ کے اندر ہیں لیکن بے سدھ بے ہوش ہونے کی وجہ سے آپ کی شخصیت میں ان ارواح کی خصوصیات کا کوئی اثر نظر نہیں آرہا۔

ہمارے جسم میں موجود ان ارواح کا تعلق ان کے اپنے جہان سے ہے ، اگر یہ بیدار ہو جائیں تو اپنے متعلقہ جہان تک جا سکتی ہیں۔ہمارے جسم میں صرف ایک ہی مخلوق لطیفہ نفس بیدار ہے اور اس لطیفہ نفس نے توعالم ناسوت سے باہر نہیں جانا۔ لیکن قلب کا تعلق ملکوت سے ہے وہ مخلوق وہاں جا سکتی ہے لیکن اس سے آگے نہیں ۔روح کا تعلق جبروت سے ہے اس سے آگے نہیں جا سکتی۔

ارواحوں کی غذا :

چھ لطائف کی غذا نور ہے نور ان کو مل نہیں رہا اس لیے آپ کے جسم میں بے سدھ پڑی ہیں اور لطیفہ نفس کی خوراک نار ہے وہ ہی جس سے جہنم بنائی گئی تھی۔دنیا میں طائرانہ نظر ڈالیں اور دیکھیں توکوئی بھی پھل سبزی بغیر دھوپ یا نار کے نہیں پکتا، گوشت یا کھانا بغیر آگ کے نہیں پکتا۔ہوا میں بھی نار ہے سانس لے رہے ہیں تو بھی نار ، کھانا کھایا نار اندر داخل ہو رہی ہے ، سورج کی تپش سے نار۔ جب سے پیدا ہوئے چوبیس گھنٹے جسم میں نار ہی نار جا رہی ہےاور لطیفہ نفس کو خوراک مل رہی ہے ۔ تو نفس کتنا طاقتور ہو گیا ہو گا ۔یہ ہی وجہ ہے وہ آزاد مخلوق ہے اورنار کی خوراک سے مزید طاقت ور ہو گئی۔ ادھر آپ سوئے اور نفس جسم سے نکل گیا، کچھ لوگ تو ایسے ہیں دس منٹ کے لیے سوئے اس عرصہ میں بھی خواب دیکھ لیتے ہیں ۔جن کا نفس طاقت ور ہے تو جنات کی صفات مثلا حسد، غیبت ، بہتان ، نفرت، انانیت پالنا ان کے کردار میں ہوتی ہیں ۔اور ان تمام چیزوں کے باوجود کلمہ پڑھ کرپکے مسلمان بھی بن گئے اور جنات کی صفات بھی ہیں ۔
ضروری بات:
جس طرح اللہ نے انسان کی فطرت میں عبادت رکھی ہےاسی طرح کچھ جنات کی فطرت میں شر ہے،اس لطیفہ نفس کا تعلق جنات کی قوم سے ہے اس لئے اس کی فطرت میں شر ہے ۔کلمہ پڑھ کر آپ مسلمان ہوئے لیکن اندر شیطان بیٹھا ہے، سر پرامامہ رکھ کےمولوی بن کر مسجد میں بیٹھ گئے لیکن انسانوں والی صفات حیاء ، مروت، مساوات ، ذہن کی طہارت ، سوچ کی طہارت، بیدار ہی نہیں ہوئی ۔ شہوت کے کتے بنے ہوئے ہیں اپنی عورت کو پردہ کرواتے ہیں اور باقی سب کو نظریں گاڑ گاڑ کر دیکھتے ہیں ۔اگر اندر کی ارواح بیدار ہوتیں تو ایسا نہ ہوتا۔ بس اب تو شیطان ہی بیدار ہے اندر اور ہاتھوں میں قرآن پکڑا ہوا ہے اور نفس کے کہنے ہر قرآن کو استعمال کر رہے ہیں اور خود کو اشرف المخلوقات بھی سمجھ رہے ہیں ۔ جبکہ اسلام کی شرط ہے
اقرار بالسان و تصدیق القلب
جہاں تم نے زبان سے اقرار کیا ہے قلب کو صدق بھی دو۔ قلب کا تصدق تو حاصل نہیں ہوا۔چوبیس گھنٹے آنے والی نار کے علاوہ ہم گناہ بھی کرتے ہیں لہذا ہر وقت کی نار سے نفس طاقت ور سے طاقت ور ترین ہوتا چلا جا رہا ہے۔ماضی کے بزرگان دین نے تحقیق کر کے پتہ چلایا ، گوشت ،دودھ دہی اور پنیر میں زیادہ ظلمت یا نار ہوتی ہے ، لہذا سبزیاں کھانا بہتر ہے اور روزہ رکھیں ۔ روزہ رکھنے سے مراد ہی یہ تھا کہ کھانے کے ذریعے جو نار، مل رہی ہے وہ بند ہو جائے۔روزہ دار کو یہ سوچنا چاہیے تھا کہ روزہ نار کو بند کرنے کے لیے تھا کہ جو نار کھانے سے جسم میں جا رہی ہے کم سے کم وہ بند ہو جائے اور نفس طاقتور نہ ہو اورکوئی ایسا کام نہیں کیا جانا چاہیے جس سے کھانے سے زیادہ نار ملے جیسا کے غیبت کرنا یا فلم لگا کر دیکھنا۔

نفس کو کمزور کرنے کا طریقہ:

نفس کو کمزور کیا جانے کے طریقہ کار کو اس مثال کے تناظر میں دیکھیں جیسے جب ہمارا وزن بڑھ جائے اور ہم وزن کم کرنے کے لیے ورزش کرتے ہیں لیکن صرف ورزش سے وزن کم یا کنٹرول نہیں ہو گا اس کے ساتھ ساتھ خوراک کو بھی مد نظر رکھنا ہوتا ہے۔ساڑھے تین ہزار کیلوریز کھا نے سے چار سو گرام وزن بڑھے گا، فرض کیا کہ جسم کو روزآنہ ڈھائی ہزار کیلوریز کی ضرورت ہےاور روزآنہ ڈھائی ہزار کیلوریز جلا دی جائیں تو ساری زندگی وزن جوں کا توں رہے گا۔ اگر روز ساڑھے تین ہزار کیلوریز کھائی جائیں تو ایک ہفتہ میں ایک پائونڈ وزن کا اضافہ ہوجاتا ہے۔ عام طورپرکھانا کھاتے وقت کیلوریز کا حساب کتاب ذہنوں میں نہیں ہوتا۔ نہ جانے کتنی کیلوریز ہم روزآنہ کھا رہے ہیں ۔ وزن کم کیسے ہو گا یہ بات توجہ طلب ہے کیونکہ اس تمام تر گفتگو کا تعلق نفس کی پاکی سے ہے۔ اگر جسم کو ڈھائی ہزار کیلوریز کی ضرورت ہے تو ڈھائی کے بجائے دو ہزار کیلوریز کھائیں ،سات دن میں ڈھائی ہزار کیلوریز کم جائیں گی اور اس ہفتہ ایک پائونڈ وزن بھی کم ہو جائے گا، یہ بغیر ایکسر سائز کے ہے اور اگر ساتھ ساتھ ورزش سے بھی روزآنہ پانچ سو کیلوریز جلائی تو ایک پائونڈ اور وزن کم ہو گا ۔
یہ ہی چیز طہارت نفس کے لیےبھی اپلائی کی جائے اور نار کا راستہ بتدریج روکا جائے۔روزہ رکھنے کا فائدہ بھی تب ہے جب نار بنانے والی خوراک اور اعمال سے اجتناب برتیں تاکہ روزہ کا اثر شخصیت پر ہو۔الٹا عالم یہ ہے کے روزہ رکھ کر لوگ اعلان کرتے ہیں کے’’ میرے منہ نہ لگنا میں روزے سے ہوں ‘‘۔ رہ گئی بات کے مرشد کی نظر سے نفس پاک ہو گا، لیکن جو نار آرہی ہے اس کو روکنا آپ کا کام ہے جیسے دوا دینا ڈاکٹر کا کام ہے لیکن پرہیز کرنا آپ کا کام ہے، ورنہ دوا شفا کیسےکرے گی۔جب مرشد نفس کی پاکی کرتا ہے تو ابتدائی طور پر نفس کو کمزور کیا جاتا ہے جس کےکئی طریقے ہیں ایک تو ذلت و رسوائی اور ملامت سے نفس بہت جلد کمزور ہوتا ہے ۔یزید نے امام حسین کو سات دن بھوکا پیاسا رکھا کمزور کرنے کے لیے ورنہ وہ جانتا تھا وہ کس کے نواسے ہیں ! ہو سکتا ہے پہلے آپ نے غور نہ کیا ہو ، یہ تقاضہ بشریت کی باتیں ہیں ۔
اسی لیےغوث پاک ابتدائی دنوں میں جنگل میں جا کر ساری رات ایک ٹانگ پر کھڑے ہو کر تلاوت قرآن کیا کرتے تھے تاکہ نفس کمزور ہو ۔ مقصد جسم کو تکلیف دینا نہیں بلکہ نفس کو کمزور کرنا تھا اس سے ڈبل فائدہ ہوا ایک تو تلاوت سے نور بن رہا ہے اور دوسرا یہ کے ایک ٹانگ پر کھڑے ہونے کی مشقت سے نفس کمزور ہو رہا ہے ۔ مرشد پہلے چلے مجاہدے، ریاضتوں میں لگواتے ، سخت مشقت کرواتے یا کسی سے بھیک منگواتے ۔ اسی طرح ملامت سے بھی نفس بہت جلد کمزور پڑتا ہے۔

جنید بغدادی کا واقعہ:

ابو بکر شبلی ان کے بہت با ادب مرید تھے ایک دن جنید بغدادی کی مجلس میں آئے تو سب مریدوں نے ادب کے طور پر ان کے لیے رستہ چھوڑا کے یہ زیادہ بڑے مرید ہیں ۔ جنید بغدادی نے جب یہ دیکھا تو سخت لہجے میں کہا رک جائو۔ جہاں سب کی جوتیاں پڑی ہیں وہاں جا کر بیٹھ جائو۔اس عمل کا مقصد یہ تھا کہ جھوٹی عزت سے نفس طاقتور ہوتا ہے۔جھوٹی عزت کو سمجھنے سے پہلے سچی عزت کیا ہے یہ سمجھ لیں ، اگر سینے میں سیدنا گوہر شاہی یا اللہ ہےاور اس کی وجہ سے لوگوں میں عزت ہو تو وہ سچی عزت ہے لیکن اگر سینے میں اللہ نہیں ہے اور آپ کے مرتبہ یا مال دولت کی وجہ سے لوگ عزت کر رہے ہیں تو ایسی عزت جھوٹی ہے اور اس سے نفس طاقت ور ہو گا۔جس کے سینے میں رب رہتا ہو اس کی عزت سے تجھے بھی فائدہ اور اس کو بھی فائدہ ۔لیکن غیر اللہ کی خاطر عزت جس نے کی اس کا اپنا بھی بیڑا غرق ہو جائے گا۔جس عزت کے آپ مستحق نہیں اور آپ کی عزت کی جا رہی ہو وہ آپ کی عزت نہیں بلکہ لوگ اپنی جان بچانے کے لیے خاموش ہیں کہ کیا کتوں کے منہ لگنا۔بے جا عزت کرنے سے نفس میں اکڑ پیدا ہوتی ہے۔

با یزید بسطامی کا واقعہ:

ایک مرتبہ رمضان میں ہاتھ میں روٹی لے کر کھاتے ہوئے باہر نکل گئے مریدوں نے رمضان کے مہینے میں یہ منظر دیکھ کر تھو تھو کی اور کچھ بھاگ گئے کچھ رہ گئے انہوں نے پوچھا تم کیوں نہیں بھاگے۔ کہا آپ کی حکمت ہو گی، آپ بتائیے۔بایزید بسطامی نے فرمایا جو بھاگ گئے ان لوگوں کا سینے سے تعلق نہیں تھا ان کے ہاتھ پائوں جوڑنے سے نفس پر غلاظت آرہی تھی نفس کی گردن موٹی ہو گئی تھی ، اس کے لیے یہ عمل کیا تاکہ ریا کاری کرنے والے بھاگ بھی جائیں اور نفس سے غلاظت بھی اتر جائے۔روزہ کی قضا ادا کر لوں گا لیکن نفس کی قضا گوارہ نہیں ۔
ہم میں سے ہر ایک یہ ہی چاہتا ہے اوقات بھلے دھیلے کی بھی نہ ہو اس کی عزت کی جائے ۔دنیا میں ایک فلسفہ عام ہے عزت دو عزت لو، یہ عزت نہیں یہ جھوٹ کا نظام ہے۔عزت و تعریف سے جہاں نفس میں اکڑ آتی ہے وہاں،اس کا الٹ یعنی اگر نفس کی نفی یا ملامت کی جائے تو اس سے نفس میں کمزور ہوتا ہے۔جب نفس لاغر ہو جاتا ہے تو مرشد نفس کے گرد نور کا ایک دائرہ بنا دیتا ہے جس سے باہر سے آنے والی نار نور کے دائرے سے ٹکرا کر لوٹ جاتی ہے۔ جب باہر سے نفس کی غذا بند ہو جاتی ہے نفس چلاتا ہے ہائے بھوک ہائے بھوک، مرشد کہتا ہے ہمارے پاس تو نور کی غذا ہے چاہئے تو کھا لو، کچھ نفس ضدی سرکش ہوتے ہیں نور کی غذا نہیں لیتے اور اسی اکڑ میں مرجاتے ہیں لیکن اگر نفس سرکش نہ ہوتو بحالت مجبوری زندہ رہنے کے لیے نور کا لقمہ لے لیتا ہے، اب بھوک تو روز لگتی ہے دو تین دن بعد نور اندر جانے سے ہلکی ہلکی تبدیلی آتی ہے اب مرشد نفس کو کہتا ہے روز نور کی غذا دے نہیں سکتا تم کلمہ پڑھو اور خود اپنا نور بنائو ۔ جب کسی کا نفس کلمہ پڑھ لیتا ہے تو ناف کے گرد حرکت محسوس ہوتی ہے، جیسے جیسے کلمہ کا نور نفس میں جاتا رہتا ہے نفس جس کی شکل کالے کتے جیسی ہوتی ہے وہ کالا کتا سفید ہونے لگتا ہے اور نفس امارگی سے نکل کر نفس لوامہ کی جانب بڑھنے لگتا ہے۔اس مقام پر باہر کی ملامت نہ بھی ہو تونفس اندر سے ملامت کرتا ہے اس سے نفس میں مزید طہارت آتی ہے۔

’’اصل میں نار کا راستہ روکنے اور نور کی فراہمی بحال کرنے سے کردار میں تبدیلی آتی ہے‘‘

ہمارے اندر چھ روحیں خفتہ ہیں ان کی خصلتیں کردار میں نہیں ہیں اور ایک لطیفہ نفس جو کہ قوم جنات سے ہے اور بیدار بھی ہے جسے چوبیس گھنٹے غذا مل رہی ہے تو اُسی کی خصوصیات ہمارے کردار پر نمایاں ہوں گی، لہذا آج کا انسان جانوروں کی مانند جی رہا ہے ،جنات کی طرح حرکات ہیں اور وہ خود کو اشرف المخلوقات سمجھ رہا ہے ۔ جب ہماری عالم بالا کی یہ روحیں بیدار ہو جائیں گی تو تب تم فرشتوں سے افضل اور اشرف المخلوقات کہلانے کے حق دار ہو گے۔

نفس کے درجات:

نفس کےچار درجات ہیں۔ نفس امارہ ، لوامہ، الہامہ مطمئنہ۔ پیدائش کے وقت ہر انسان کا نفس، نفس امارہ ہوتا ہے۔مرشد کی نظروں میں آنے کے بعد تزکیہ نفس اور پرہیز گاری چلے، مجاہدے کرنے سے نفس امارہ تبدیل ہو کر نفس لوامہ بن جاتا ہے، اوراگر نور کا سلسلہ جاری رہے تو نفس لوامہ تبدیل ہو کر نفس الہامہ بن جاتا ہے یہاں تک کوئی بھی مومن پہنچ سکتا ہے اس سے آگے ولی کا مقام ہے ۔جب اللہ کسی سے راضی ہو جاتا ہے تو اس پر اپنی تجلی ڈالتا ہے جس کی زد میں آنے سے نفس مطمئنہ اور قلب شہید ہو جاتا ہے یعنی یہ راضیہ مرضیہ کا مقام ہے۔

متعلقہ پوسٹس

دوست کے سا تھ شئیر کریں