کیٹیگری: مضامین

ملک پاکستان میں مراقبے کے حوالے سے ایک تنظیم اُبھر کر سامنے آئی جس کا نام عظیمیہ سلسلہ ہے۔سخی حسن کے علاقے میں قلندر بابا اولیا ایک بزرگ کا مزار ہے اُن کے ایک مرید ہیں خواجہ شمس الدین عظیمی ، انہوں نے ایک تنظیم بنا رکھی ہے اور وہ ایک روحانی ڈائجسٹ بھی لکھتے تھے۔ انہوں نے کئی مراقبہ ہال بنوا رکھے تھےلوگ اس میں جاتے تھے ، وہ لوگوں کو کہتے کہ دیکھو اب تم جنت میں پھر رہے ہو ، ادھر پہنچ گئے ہو اور اُس جگہ کے تصورات قائم کر رہے ہیں ۔ہم نے گوروں کو بھی دیکھا ہے وہ Meditation کس طرح کرتے ہیں ، وہ ایک میوزک لگا دیتے ہیں اور پھر بڑی دھیمی انداز میں کہتے ہیں کہ اب تم یہاں داخل ہو گئے ہو ، وہی تصورات وہاں بھی قائم کر رہے ہیں ۔ یہ سب تو محض تصورات ہی ہیں مراقبہ نہیں ہے ۔جب سیدنا گوھر شاہی کی بارگاہ میں حاضری ہوئی تو آپ نے فرمایا کہ مراقبہ روحانی طیر و سیر کا نام ہے۔انسان کی روح پہلے بیدار ہو ، پھر نور سے طاقتور ہواور اُس کو پرواز سکھائی جائے۔ جب آپ کی روح بیدار ہو گئی اور نور سے طاقتور ہو گئی تو پھر آپ نے سوچا کہ جبرائیل امین کیا کررہے ہیں ، یہ روح آپ کی سوچ کی غلام ہو گئی اور فوراً اُڑ کر اوپر پہنچ گئی ۔

مراقبہ قلب اور مراقبہ روح کی وضاحت:

مراقبہ بالکل ابتدائی چیز ہے جب روح بیدار اور طاقتور ہو جاتی ہے پھر مراقبے کی ضرورت نہیں ہے ۔سب سے پہلا مراقبہ جو لگتا ہے اس کی شرط ہے کہ لطیفہ نفس پاک ہو چکا ہواور لطیفہ قلب اللہ کے نور سے بیدار ہو چکا ہو ۔قلب کی بیداری کے بغیر مراقبہ لگ ہی نہیں سکتا ۔جب قلب بیدار ہو جاتا ہےاور جس کے قلب کو ذکر اللہ کرتے ہوئے تین سال گزرگئے ہوں اور کم ازکم قلب کا ایک جسّہ نکل گیا ہو، پھر جب وہ مراقبہ کرتا ہے تو اُس کا یہ طریقہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے قلب پر اسم ذات اللہ کا تصور کرتا ہے اور جب تصور سے اس کو اپنے دل پر اسم اللہ لکھا ہوا نظر آتا ہے تو اُس وقت وہ چیز وہاں سے نکل جاتی ہے اور آناً فاناً عالم ملکوت پہنچ جاتی ہے ۔اب وہ چیز جو نکل کر عالم ملکوت میں چلی گئی وہ ایک سیٹیلائٹ کی مانند ہو گیا ، وہ جو کچھ بھی عالم ملکوت میں دیکھ رہا ہے وہ سب آپ کو بھی نظر آرہا ہوتا ہے ۔عالم ملکوت میں جانا کوئی بڑی بات نہیں ہے کم از کم انسان کی رسائی عالم جبروت تک ہونی چاہیےجہاں بیت المامور اور عالم ارواح ہے ۔انبیا و اولیا سمیت جتنی بھی ارواح ہیں وہ سب وہیں طواف کرتی رہتی ہیں جہاں بیت المامور میں اصل کعبہ ہے ۔عالم جبروت میں مراقبہ کرنے کے لئے انسان کو لطیفہ روح کو بیدار کرنا پڑتا ہے ۔قلب جاری ہونے کے بعد اگرکسی کو یہ خیال آئے کہ میرا قلب جاری ہو ا یا نہیں ، تو وہ یہ علامات یاد رکھے کہ قلب سے اللہ اللہ کی آوازیں تو آئیں گی لیکن اس کے ساتھ ساتھ آنکھیں بند کرنے پر زرد رنگ کی شعاعیں نظر آئیں گی جو کہ عالم ملکوت کا نور ہے کیونکہ قلب کا تعلق عالم ملکوت سے ہےلہذا اُس کا نور اس کی آنکھوں میں آنا شروع ہو جاتا ہے ۔اور جب لطیفہ روح بیدار ہو جائے گی تو اس کا تعلق عالم جبروت سے ہے اور اس کا رنگ سرخ ہے لہذا آنکھوں میں سرخ رنگ کی شعاعیں وقتاً فوقتاً محسوس ہونے لگیں گی ۔ جب لطیفہ روح بیدار ہونے کے بعد طاقتور ہو جاتی ہے تو اس کے زریعے عالم جبروت کا مراقبہ قائم ہوتا ہے ، عالم جبروت میں اصل کعبہ بیت المامور موجود ہے ۔جس کو عالم جبروت میں مراقبہ کرنے کی طاقت حاصل ہو گئی پھر اُس کی نماز معراج بن جاتی ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ الصلوة معراج المومنین ۔۔ مومنوں کی معراج نماز کے زریعے حاصل ہو گی مبتدی کا جسم یہاں نماز میں گیا اور نماز کے دوران ہی نکل کر بیت المامور پہنچ گئی۔پھر وہاں دیکھیں گے موسیٰ بھی نماز پڑھ رہے ہیں اور آدم صفی اللہ بھی وہیں نماز پڑھ رہے ہیں ۔نماز کا مقام یہ دنیا نہیں ہے آپ اس وقت تک اس جسم کو نماز پڑھاتے رہیں جب تک آپ کی روح نماز پڑھنے کے قابل نہ ہو جائے۔یہ لطیفہ روح کا مراقبہ ہے ۔

مراقبہ الموت کیا ہے ؟

فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ
سورة الجمعتہ آیت نمبر 6
ترجمہ : اگر تو مرتبہ صدق پر فائز ہے تو پھر مراقبہ موت کی تمنا کیا کر۔

مولوی اس آیت کا یہ ترجمہ کرتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو مرنے کی آرزو کرو، جو کہ غلط ہے ۔صحیح ترجمہ یہی ہے کہ اگر تیرا شمار صادقین میں ہوتا ہے یا مرتبہ صدق پر فائز ہے تو پھر مراقبہ موت کیا کرو۔ یہاں اُن کو مراقبہ موت کی دعوت دی جاری ہے جن کو اللہ نے مرتبہ صدق عطا کر دیا ہے ۔ موت تو آنی ہی ہے پھر تمنا کیوں کی جائے ، تمنا تو اُس چیز کی کی جاتی ہے جس تک رسائی نہ ہو ۔جیسے ایک اور حدیث میں ہے کہ موتو قبل انت موتو ۔۔۔یعنی مرنے سے پہلے مر جاؤ۔ کیا یہاں خود کشی کا پیغام دیا جارہا ہے ، ایسا تو نہیں ہے اللہ نے تو خود کشی کو حرام قرار دیا ہے ۔ جو لوگ علم روحانیت کو رد کرتے ہیں اور کہتے کہ باطنی علم کچھ نہیں ہوتا تو پھر اس حدیث کا مطلب بتا کر دکھائیں۔کچھ باتیں قرآن و حدیث میں بات نہیں ہیں بلکہ اشارے کے طور پر استعمال ہوئیں ہیں اور اُس کی جو حقیقت ہے وہ اللہ کے رسول سے سمجھ میں آئے گی اگر اُن سے تعلق جڑ گیا ہو گا۔ جب ہم دنیا میں آئے تو شیطان نے ہماری عقل کے اوپر ایک پردہ ڈال دیا ہے ، اُس پردے کی وجہ سے ہم اللہ کی ذات سے غافل ہو جاتے ہیں اور کوئی نصیحت اثر نہیں کرتی ہے۔یہ پردہ اُس وقت ہٹایا جاتا ہے جب انسان پر حالت نزع طاری ہو، جب مرنے سے پہلے شیطان یہ پردہ ہٹاتا ہے تو پھر اس کو پچھتاوا ہوتا ہےاور وہ یہ چاہتا ہے اب مجھے مہلت مل جائے تو بالکل اللہ کے فرامین پر عمل کروں گالیکن وہ وقت تو نکل گیا ۔ اللہ کے رسول نے فرمایا کہ جو شیطانی پردہ موت کےوقت ہٹتا ہے تم اسی زندگی میں اسے پہلے ہی پھاڑ لو تاکہ تمھیں عقل آ جائے۔اب وہ پردہ کیسے پھٹتا ہے ؟ جس طرح یہ دل اللہ اللہ کرتا ہے ۔۔۔۔۔ جب لطیفہ انا جو کہ دماغ میں واقع ہوتا ہے بیدار ہو جاتا ہے تو یہ انسان کو اللہ کا دیدار کراتا ہے ، اسی کو تیسری آنکھ بھی کہتے ہیں ۔اسی لطیفہ انا کے لئے عثمان مروندی نے کہا تھا کہ
عیاں عثمان مروندی چراں مستی دریں عالم
کہ جز یاھو و من یاھو جگر چیزے نمی دانم

کہ اے عثمان مروندی یہ جو ہر وقت کیف و مستی اور سرور کا عالم آپ پرطاری رہتا ہے یہ کیسے حاصل ہوا ۔پھر آگے کہا کہ ذکر یاھو اور ذات یا ھو کے علاوہ میں کسی کو جانتا ہی نہیں ۔ یہ “یاھو” کا ذکر ہے جو انسان کے اندر مستی اور سرور کی کیفیت پیدا کر دیتا ہے ۔تین پردے ہوتے ہیں جو ایک کے بعد ایک ہٹتے جاتے ہیں اور باقاعدہ محسوس ہوتا ہے کہ شعلہ سا اندر کوئی جل رہا ہے ۔ذکر یا ھو ، اسم اللہ کا نچوڑ ہے ۔اسلام میں چار علم ہیں ،پہلا علم شریعت، پھر طریقت ، معرفت اور حقیقت ہےاور اللہ کے ناموں کے بھی چار درجے ہیں ۔ایک “اللہ” ہے یہ شریعت والوں کے لئے ، پھر ایک الف کا پردہ ہٹا دیں تو “للہ “رہ جائے گایہ طریقت والوں کے لئے ہے ،ایک اور پردہ لام کا ہٹا دیں تو “لہو” رہ جائے گایہ حقیقت والوں کے لئے ہے ، ایک اور لام کا پردہ ہٹا دیں تو صرف “ھو” رہ جائے گایہ معرفت والوں کے لئے ہے اور یہ ھو اسم ذات اللہ کا نچوڑ ہے ۔سیدنا گوھر شاہی نے کیا ہے کہ” اللہ” مقام شریعت کا پکڑا اور “ھو” مقام معرفت کا پکڑا اور دونوں کو ملا دیا ، یہ اسم اللہ لوگوں کے قلوب میں داخل فرمایا اللہ ھو ۔ یعنی ابتدا اللہ سے ہو گی اور یہ ذات ِ ھو تک جائے گا۔تو جب یہ “یاھو” کا ذکر لطیفہ انا میں شروع ہو گا تو ابتدا میں آنکھیں میں لال ہو جائیں گی اور ایسی حالت میں دیوار کو دیکھا تو گر جائے گی ۔جب یہ یا ھو کا ذکر لطیفہ انا میں جائے گا تو اس سے وہ شیطانی پردے جلیں گے اور جب یہ پردے جل جائیں گے تو پھر روح یہاں ٹھہرے گی نہیں ، بلکہ وہ کہے گی نکلو یہاں سے ۔پھر لطیفہ انا اور لطیفہ روح کا مشترکہ مراقبہ لگتا ہے اور اس مراقبے کو مراقبہ الموت کہتے ہیں ۔اس مشترکہ مراقبے میں روح تمام عالموں کو پار کر کے مقام احدیت میں پہنچ جاتی ہے جہاں اللہ کا دیدار ہوتا ہے ۔اس مراقبے کے لئے سونا ضروری نہیں ہے بیٹھے بیٹھے بھی یہ مراقبہ لگ جاتا ہے ، اب لطیفہ انا اور لطیفہ روح نکل کر عالم احدیت میں چلی جاتی ہے اور جسم یہیں زمین پر بیٹھا رہ جاتا ہے ، جب تک وہ دونوں چیزیں واپس نہیں آئیں گی اُس وقت تک جسم حرکت نہیں کر سکتا ۔
عبدالقادر جیلانی جب جنگلوں میں ریاضت اور مجاہدہ کرتے تھے اور اکثرو پیشتر اُن کو جب یہ مراقبہ لگتا سترہ سترہ دن تک اُن کا جسم ایسے ہی زمین پر پڑا رہتا ۔ لوگوں کا وہاں سے گزر ہوتا تو وہ اُس کو مردہ سمجھ کر دفناتے ، جب مٹی ڈالنے لگتے تو وہ اُٹھ کر بیٹھ جاتے تھے یہ مراقبہ الموت کہلاتا ہے ۔روحانیت او ر تصوف کے بغیر اگر آپ مراقبہ کرتے ہیں تو آپ جنت کا تصور کیوں کر رہے ہیں ، گارڈن کا تصور کیوں کررہے ہیں ، اللہ کا تصور کیوں نہیں کرتے کیونکہ کسی نے دیکھا ہی نہیں ہے !!! پھر ایسے مراقبے کا کیا فائدہ جس میں گارڈن میں گھومتے رہیں اس سے بہتر ہے کہ گارڈن میں ہی جا کر بیٹھ جائیں۔یہاں صرف یہ تعلیم نہیں ہے بلکہ اس کا فیض بھی موجود ہےاور لوگوں کو دعوت ہے کہ آئیں اور خود مشاہدہ کریں ،آزمائش شرط ہے ۔

مندرجہ بالا متن نمائندہ گوھر شاہی عزت ماب سیدی یونس الگوھر سے 12 نومبر 2017 کو یو ٹیوب لائیو سیشن میں کئے گئےسوال کے جواب سے ماخوذ کیا گیا ہے ۔

متعلقہ پوسٹس

دوست کے سا تھ شئیر کریں