کیٹیگری: مضامین

امیر معاویہ کا مولیٰ علی کے لئے بغض:

فرمان گوھر شاہی ہے کہ اگر کسی مزار پر جائیں اور وہاں صرف ہڈیاں اور گوشت دفن ہو ، اس میں اللہ کا کوئی نور نہ ہو تو ایسے مزار کی تعظیم کرنا شرک ہےاسی طرح اگر کوئی زندہ ہو اور اس میں کوئی نور نہ ہو تو اس کی تعظیم کرنا بھی شرک ہے ۔ قرآن مجید میں بھی یہ بات اسطرح سے موجود ہے کہ

وَلَا تُطِعْ مَنْ أَغْفَلْنَا قَلْبَهُ عَن ذِكْرِنَا
سورة الکہف آیت نمبر 28
ترجمہ : اور ایسے لوگوں کی اطاعت نہ کرو جس کو ہم نے اپنے ذکر سے غافل کر رکھا ہے ۔

یہاں اس آیت میں اللہ تعالی صاف صاف فرما رہے ہیں کہ ایسے لوگوں کی پیروی نہ کرو جن کو ہم نے اپنے ذکر سے غافل کر رکھا ہے اور نور جب ہی ہو گا جب ذکر بھی جاری ہو گا۔ اب تاریخ میں قصے اور کہانیاں لکھی ہوئی ہیں اتنی احادیث جھوٹی بنا دی گئی ہیں جس میں بڑھا چڑھا کر امیر معاویہ کی جھوٹی تعریفیں کی گئی ہیں ۔مجھے اس بات کا بھی دکھ ہے کہ صوفی اسکالر ڈاکٹر طاہر القادری جیسے لوگ جو مولیٰ علی کی محبت کی بات بھی کرتے ہیں ، اہل بیت کے ادب کی بات بھی کرتے ہیں ، صوفیاکرام کی بھی بات کرتے ہیں ،غم حسین بھی منانا سنت سمجھتے ہیں ،مولیٰ علی کی عظمتوں کا بیان بھی بڑے جوش و خروش سے کرتے ہیں لیکن طاہر القادری جیسے جید عالم دین کی زبان سے امیر معاویہ کے لئے رضی اللہ تعالی عنہ نکلتا ہے تو دل کو بڑا دکھ ہوتا ہے ۔ طاہر القادری یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ ایک مسلمان کا عقیدہ کیا ہونا چاہیے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے ہمارا عقیدہ کیا ہونا چاہیے یہ بھی بیان کرتےہیں ، اولیا اللہ کے لئے ہمارا ادب کیا ہونا چاہیے یہ بھی بہت اچھا بیان کرتے ہیں لیکن جب امیر معاویہ کی بات آتی ہے تو اس کے ساتھ رضی اللہ تعالی عنہ کیوں لگاتے ہیں !! مستند احادیث میں لکھا ہے کہ سعد ابن وقاصؓ کو امیر معاویہ کہتا تھا کہ تم علی کو برا کیوں نہیں کہتے ، اور یہ بات کئی احادیث میں موجود ہے کہ امیر معاویہ لوگوں کو حکم دے کر کہتا تھا کہ مولیٰ علی کو گالیاں دو۔امیر معاویہ کا ایمان کتنا مستند ہے اسی بات سے پتہ چل جاتا ہے کہ وہ لوگوں کو اکساتا تھا کہ مولیٰ علی کو گالیاں دو۔

طلحہ بن زبیر اور مولیٰ علی کے خلاف امیر معاویہ خطبے کے دوران کہتا تھا کہ معاذ اللہ سب مسلمان ان پر لعنت بھیجیں۔ اُس دور میں کچھ صحابہ ایسے تھے کہ انہوں نے اس خوف سے کہ ہم مسجد میں جا کر نماز پڑھیں گے توامیر معاویہ لعنتیں دلوائے گا ، مسجد جانا چھوڑ دیا ۔کہاں ہے آج کا عالم ، یہ تو حدیثوں میں لکھا ہوا ہے کہ ایک لمبے عرصے تک مولیٰ علی پر خطبے میں لعنتیں بھیجی جاتی رہیں یہ تو جب بغداد میں عباسی خلافت آئی ہے تو خلیفہ عمر بن عبدالعزیز نے ان کفریہ کلمات کو نکلوادیا ۔ جس میں اتنی جرات نہیں ہے کہ وہ حق کو حق کہے وہ کہاں کا مفکر اسلام ہے۔امیر معاویہ نے مولیٰ علی پرخطبے کے دوران معاذ اللہ لعنتیں بھجوائیں ہیں یہاں بطور ثبوت کئی احادیث اور روایت نقل کی جا رہی ہیں تاکہ شائبہ نہ رہے ۔

ثبوت نمبر 1:

عن عامر بن سعد بن أبي وقاص، عن أبیه، قال أمر معاویة بن أبي سفیان سعدا فقال ما منعك أن تسب أبا التراب فقال أما ما ذكرت ثلاثا قالھن له رسول اللہ صلى اللہ علیه وسلم فلن أسبه لأن تكون لي واحدة منھن
ترجمہ : جب معاویہ نے سعد کو گورنر بنایا تو سعد کو حکم دیا اور کہا کہ تمہیں کس چیز نے روکا ہے کہ تم ابو تراب یعنی علی ابن ابی طالب پرسب( لعنت) نہ کرو ۔ اس پر سعد نے کہا میں نے رسول ص سے علی کے متعلق تین ایسی باتیں سنی ہیں کہ جس کے بعد میں کبھی علی پر سب (لعنت) نہیں کہہ سکتا۔
صحیح مسلم، کتاب الفضائل الصحابہ، باب من فضائل علی بن ابی طالب

ثبوت نمبر 2:

وعند أبي یعلى عن سعد من وجه آخر لا بأس به قال لو وضع المنشار على مفرقي على أن أسب علیا ما سببته أبدا
ترجمہ: اور ابی یعلی نے سعد سے ایک اور ایسے حوالے [سند] سے نقل کیا ہے کہ جس میں کوئی نقص نہیں کہ سعد نے [معاویہ ابن ابی سفیان سے کہا]: اگر تم میری گردن پر آرہ [لکڑی یا لوہا کاٹنے والا آرہ] بھی رکھ دو کہ میں علی ابن ابی طالب پر سب کروں [گالیاں دینا، برا بھلا کہنا] تو تب بھی میں کبھی علی پر سب نہیں کروں گا۔
فتح الباری شرح صحیح البخاری، ج 8 ص 424

ثبوت نمبر 3:

وقال أبو زرعة الدمشقي : ثنا أحمد بن خالد الذھبي أبو سعید، ثنا محمد بن إسحاق، عن عبد اللہ بن أبي نجیح، عن أبیه قال : لما حج معاویة أخذ بید سعد بن أبي وقاص . فقال : یا أبا إسحاق إنا قوم قد أجفانا ھذا الغزو عن الحج حتى كدنا أن ننسى بعض سننه فطف نطف بطوافك . قال : فلما فرغ أدخله دار الندوة فأجلسه معه على سریرہ، ثم ذكر علي بن أبي طالب فوقع فیه . فقال : أدخلتني دارك وأجلستني على سریرك، ثم وقعت في علي تشتمه ؟ واللہ لأن یكون في إحدى خلاله الثلاث أحب إلي من أن یكون لي ما طلعت علیه الشمس، ولأن یكون لي ما قال حین غزا تبوكاً ) ) إلا ترضى أن تكون مني بمنزلة ھارون من موسى إلا أنه لا نبي بعدي ؟ ( ( أحب إلي مما طلعت علیه الشمس، ولأن یكون لي ما قال له یوم خیبر : ) ) لأعطین الرایة رجلاً یحب 377 ( أحب إليّ / اللہ ورسوله ویحبه اللہ ورسوله یفتح اللہ على یدیه، لیس بفرار ( ( ) ج/ص : 7مما طلعت علیه الشمس، ولأن أكون صھرہ على ابنته ولي منھا الولد ماله أحب إليّ من أن یكون لي ما طلعت علیه الشمس، لا أدخل علیك داراً بعد ھذا الیوم، ثم نفض رداءہ ثم خرج
ترجمہ : ابو زرعہ الدمشقی عبداللہ بن ابی نجیح کے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب معاویہ نے حج کیا تو وہ سعد بن ابی وقاص کا ہاتھ پکڑ کر دارالندوہ میں لے گیا اور اپنے ساتھ تخت پر بٹھایا۔ پھر علی ابن ابی طالب کا ذکر کرتے ہوئے ان کی عیب جوئی کی۔ اس پر سعد بن ابی وقاص نے جواب دیا: “آپ نے مجھے اپنے گھر میں داخل کیا، اپنے تخت پر بٹھایا، پھر آپ نے علی ابن ابی طالب کے حق میں بدگوئی اور سب و شتم شروع کر دیا۔ خدا کی قسم، اگر مجھے علی کے تین خصائص و فضائل میں سے ایک بھی ہو تو وہ مجھے اس کائنات سے زیادہ عزیز ہو جس پر سورج طلوع ہوتا ہے۔ کاش کہ نبی اللہ ص نے میرے حق میں یہ فرمایا ہوتا جب کہ آنحضور ص غزوہ تبوک پر تشریف لے جا رہے تھے تو آپ نے علی کے حق میں فرمایا:”کیا تم اس پر راضی نہیں کہ تمہیں مجھ سے وہی نسبت ہے جو کہ ہارون کو موسی سے تھی سوائے ایک چیز کہ میرے بعد کوئی نبی نہ ہو گا۔ یہ ارشاد میرے نزدیک دنیا و مافیہا سے زیادہ محبوب تر ہے۔ پھر کاش کہ میرے حق میں وہ بات ہوتی جو آنحضور ص نے خیبر کے روز علی کے حق میں فرمائی تھی کہ “میں جھنڈا اس شخص کو دوں گا جو اللہ اور اسکے رسول سے محبت رکھتا ہے اور اللہ اور اسکا رسول ص اس سے محبت رکھتے ہیں۔ اللہ اسکے ہاتھ پر فتح دے گا اور یہ بھاگنے والا نہیں ]غیر فرار[۔ یہ ارشاد بھی مجھے دنیا و مافیہا سے زیادہ عزیز تر ہے۔ اور کاش کہ مجھے رسول ص کی دامادی کا شرف نصیب ہوتا اور آنحضور)ص( کی صاحبزادی سے میرے ہاں اولاد ہوتی جو علی کو حاصل ہے، تو یہ چیز بھی میرے لیے دنیا و مافیہا سے عزیز تر ہوتی۔ آج کے بعد میں تمہارے گھر کبھی داخل نہ ہوں گا۔ پھر سعد بن ابی وقاص نے اپنی چادر جھٹکی اور وہاں سے نکل گئے۔
البدایہ و النہایہ، جلد 7، صفحہ 565 ، باب فضائل علی ابن ابی طالب

ثبوت نمبر 4:

حدثنا علي بن محمد حدثنا أبو معاویة حدثنا موسى بن مسلم عن ابن سابط وھو عبد الرحمن عن سعد بن أبي وقاص قال قدم معاویة في بعض حجاته فدخل علیه سعد فذكروا علیا فنال منه فغضب سعد وقال تقول ھذا لرجل سمعت رسول اللہ صلى اللہ علیه و سلم یقول من كنت مولاہ فعلي مولاہ وسمعته یقول أنت مني بمنزلة ھارون من موسى إلا أنه لا نبي بعدي وسمعته یقول لأعطین الرایة الیوم رجلا یحب اللہ ورسوله
ترجمہ : حج پر جاتے ہوئے سعد بن ابی وقاص کی ملاقات معاویہ سے ہوئی اور جب کچھ لوگوں نے علی کا ذکر کیا تو اس پر معاویہ نے علی کی بدگوئی کی۔ اس پر سعد بن ابی وقاص غضب ناک ہو گئے اور کہا کہ تم علی کے متعلق ایسی بات کیوں کہتے ہو۔ میں نے رسول اللہ ص کو کہتے سنا ہے کہ جس جس کا میں مولا، اُس اُس کا یہ علی مولا، اور یہ کہ اے علی آپکو مجھ سے وہی نسبت ہے جو کہ ہارون ع کو موسی ع سے تھی سوائے ایک چیز کہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا، اور میں نے [رسول اللہ ص] سے یہ بھی سنا ہے کہ کل میں علم ایسے شخص کو دوں گا جو اللہ اور اسکے رسول سے محبت کرتاہے۔
سلسلہ الاحادیث الصحیحہ’ ج 1 ص 58

ثبوت نمبر 5:

حدثنا عبد اللہ حدثني أبى ثنا یحیى بن أبى بكیر قال ثنا إسرائیل عن أبى إسحاق عن عبد اللہ الجدلي قال دخلت على أم سلمة فقالت لي : أیسب رسول اللہ صلى اللہ علیه و سلم فیكم قلت معاذ اللہ أو سبحان اللہ أو كلمة نحوھا قالت سمعت رسول اللہ صلى اللہ علیه و سلم یقول من سب علیا فقد سبني
ترجمہ: یحیی بن ابی بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ اسرائیل نے ابو اسحاق سے بحوالہ ابو عبداللہ البجلی ہم سے بیان کیا کہ میں حضرت ام سلمہ کے پاس گیا تو آپ نے مجھے فرمایا کہ کیا تم میں رسول اللہ (ص) کو سب و شتم کیا جاتا ہے؟ میں نے کہا کہ معاذاللہ ۔ آپ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ (ص) کو فرماتے سنا ہے کہ جس نے علی کو گالی دی اس نے مجھے گالی دی۔
مسند احمد بن حنبل، ج 18 ص 314 حدیث 26627

ثبوت نمبر 6:

وكان معاویة وعماله یدعون لعثمان في الخطبة یوم الجمعة ویسبون علیاً ویقعون فیه
ترجمہ : معاویہ اور اسکے گورنر جمعے کے خطبوں میں عثمان کی تعریف کرتے تھے اور علی کو گالیاں دیتے تھے۔
تاریخ ابو الفداء، جلد 1، صفحہ 120

ابو بکر صدیقؓ نے فرمایا کہ انہوں نے خود حضورنبی کریم سے سنا ہے کہ علی کے چہرے کو دیکھنا عبادت ہے ۔ نبی کریمؐ نے یہ بھی فرمایا کہ میرا علی سے تعلق ایسا ہی ہے جیسا موسیٰ اور ہارون کا تھا ۔ اور ایسی ذات جس کے لئے نبی کریم نے فرمایا ہوکہ

مَنْ كُنْتُ مَوْلاهُ، فَهذا عَلِىٌّ مَوْلاهُ
مشکوة شریف جلد پنجم ، حضرت ابی ابن طالب حدیث 719

کہ محمدؐ جس کے مولا ہیں علی بھی اس کے مولا ہیں ، اُس ذات کے لئے امیر معاویہ کہتا ہے کہ لعنت بھیجو ۔ جس جماعت کے خطبے میں مولیٰ علی پر لعنت دی جارہی ہے وہ کونسا دین ہے ۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ

حدثنا دعلج بن احمد السجزی، ثنا علی بن عبدالعزیز بن معاویة ثنا ابراھیم بن اسحاق الجعفی، ثنا عبداللہ بن عبد ربہ العجلی، ثنا شعبة، عن قتادة، عن حمید بن عبد الرحمن، عن ابی سعید الخدری، عن عمران بن حصین قال: قال رسول اللہ النظر الی علی عبادة
مستدرک الصحیحین، الحاکم اشاعت 3 ، صفحہ 152

اب طاہر القادری صاحب سے سوال ہے کہ آپ کو اپنا ایمان پیش کرنا ہے کہ جب امیر معاویہ مسجدوں میں زبردستی لوگوں کو اُکساتا تھا کہ مولیٰ علی اور طلحہ بن زبیر پر لعنت ہوتو آپ کا ایمان کیسے گوارہ کر رہا ہے کہ آپ امیر معاویہ کے ساتھ رضی اللہ تعالی عنہ لگا رہے ہیں کیا اللہ تعالی نے آپ کو آ کر کہا ہے کہ میں اُس سے راضی ہو گیا ہوں ۔ ان روایت کے پڑھ لینے کے بعد بھی اس کی طرف کھڑے ہوئے ہیں اور خود کو صوفی اسکالر بھی کہہ رہے ہیں ۔ محمد الرسول اللہ نے جس ہستی کو اُمت مسلمہ کا مولیٰ مقرر کیا ہے ، کیا وہ اُمت اُس مولا پر لعنت بھیجے گی اور پھر بھی مسلمان کہلائے گی ۔ جن لوگوں کو آپ صحابہ کا درجہ دے رہے ہیں وہ تو منافق تھے اور ایسے لوگوں کی عزت کرنا شرک ہے ، آپ اُنکی عزت دین کی وجہ سے کر رہے ہیں لیکن دین اُن کے اندر موجود نہیں ہے تو پھر آپ شیطان کی ہی عزت کر رہے ہیں تو پھر یہ شرک ہو گیا ۔

امیر معاویہ شقی القلب ماں کی نسل میں سے ہے:

ان احادیث کی روشنی میں آپ خود فیصلہ کریں اور اپنے ایمان سے پوچھیں کہ امیر معاویہ مسجد میں جاکر لوگوں کو خطبے کے دوران مولیٰ علی کے خلاف اُکسا رہا ہے کہ مولیٰ علی پر لعنت بھیجو تو اس کے بعد بھی کیا آپ اپنے دل میں امیر معاویہ کی عزت رکھ سکتے ہیں !! جس کے چہرے کو دیکھنا عبادت ہے اُس کے اوپر لعنت کیسے بھیجی جا سکتی ہے ۔ امیر معاویہ کی ماں ہندہ تھی جس نے نبی پاکؐ کے بہت ہی مشفق اور مہربان چچا اور حضوؐرسے والہانہ محبت کرنے والے امیر حمزہ کو شہید کیا اور اُن کا سینہ چیر کر کلیجہ نکالا اور چبا لیا ، اندازہ لگائیں کتنی شقی القلب عورت ہو گی ، اللہ اسے جہنم کے نچلے درجے میں جگہ دے۔ اُسی ماں کی نسل ہے امیر معاویہ جو مولیٰ علی اور طلحہ بن زبیر پر لعنتیں بھیجوا رہا ہے ۔ ایک اور صحابی عمار بن یاسر تھے جو حضوؐرسے بڑی محبت کرتے تھے اور جو بعد میں امیر معاویہ اور مولیٰ علی جنگیں ہوئیں ہیں ان جنگوں میں وہ شہید ہوئے تھے ۔حضوؐرنے ایک بار اُس کو کہا کہ تو بڑا پیارا مومن ہے لیکن مسلمانوں کی ایک جماعت باغی ہو جائے گی اور وہ جماعت تجھے مارے گی ۔ جب میدان جنگ میں امیر معاویہ اور مولیٰ علی کی فوجیں آمنے سامنے ہوئیں اور وہ صحابہ جنہوں نے حضوؐرسے سنا ہوا تھا کہ مسلمانوں کی ایک باغی جماعت عمار بن یاسر کو مارے گی تو وہ فوراً سمجھ گئے کہ ہم تو باغیوں کے ساتھ کھڑے ہوئے ہیں لہذا امیر معاویہ کی صف چھوڑ کر مولیٰ علی کے ساتھ آ کر کھڑے ہو گئے۔ ایسی بھی احادیث موجود ہیں جس میں حضوؐرنے صاف فرمایا ہے کہ یہ بغاوت کرنے والے لوگ ہیں جس کے چہرے کو دیکھنا عبادت ہے اس پر لعنت بھیج رہے ہو ،تو یہ بغاوت نہیں تو اور کیا ہے ۔
آج کا مسلمان بھی یہ تمام احادیث اور رسول اللہ کی گستاخی سننے کے باوجود بھی اُن باغیوں کے ساتھ کھڑا ہوا ہے ۔ یہ نہ تو مسلمان ہیں اور نہ ہی ان کا کوئی دین ہے بلکہ یہ وہ خوارجین ہیں جنہوں نے مسجد ضرار بنائی تھی ۔ اگر کوئی ایک بھی غیرت مند مسلمان ہے تو ان احادیث کو پڑھ کر کہے کہ امیر معاویہ پر لعنت ہو کیونکہ نبی کریمؐ نے فرمایا کہ جو مجھے مولا سمجھتا ہے تو علی بھی اس کا مولیٰ ہے ۔آقائے دوجہاں نے جس ذات کو ہمارا مولیٰ مقرر کیا ہے اگر کوئی اس پر لعنت بھیجے گا اور ہم خاموش بیٹھے رہیں گے ، ہمارے دل میں برائی بھی نہ آئے اس کے لئے تو پھر ہمارا ایمان مشکوک ہے۔

فرقہ وہابیہ میں کافرانہ عقائد عمربن خطاب کی جانب سے آئے ہیں :

یہ تو وہی دورِ فتن ہےجس کے لئے فرمایا تھا کہ صبح مومن اور شام میں کافر ہوں گے ۔میں تو آپ کی مد د کر رہا ہوں کہ کوئی کافر آئے اور اس کو یہ حدیث سمجھ میں آ جائے کہ ہمارےمولیٰ پر اس امیر معاویہ نے لعنت بھیجوائی تھی ہم اِس کے اوپر لعنت بھیجتے ہیں ، جو صبح کافر تھا اس عمل کی وجہ سے شام میں مومن ہو جائے گا۔ آج کے دور میں جو مسلمان ہیں جو فتنہ وہابیہ میں پڑ گئے ہیں وہ سب اہل بیت عظام اور مولیٰ علی کے دشمنان ہیں ۔ ایک کتاب ہے “تقویتہ الایمان” جس کو شاہ اسماعیل نے تالیف کیا ہے جو کہ بہت بڑا دیو بندی عالم تھا ۔ نام اس کتاب کا تقویتہ الایمان ہے کہ اس سے ایمان کو تقویت ملے گی اور اندر کیا اصول لکھے ہوئے ہیں کہ نماز میں کسی کا بھی خیال نہ آئے یہاں تک کہ حضوؐر کا بھی نماز میں خیال نہ آئے ، معاذ اللہ اگر حضوؐرکا خیال بھی نماز میں آگیا تو نماز فاسد ہو جائے گی ۔اگر کسی کا خیال آ جائے تو اس کو جھڑک کر کسی گدھے کا خیال کر لینا ۔ اس کتاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ پتھروں کی تعظیم شرک ہے جبکہ حجر اسود جو کہ خانہ کعبہ میں نصب ہےوہ بھی ایک پتھر ہے جسے آدم علیہ السلام جنت سے لائے تھے اور حضوؐراس کو شدت کے ساتھ بوسہ دیا کرتے تھے اور زاروقطار رویا کرتے تھے ۔ مزید براں یہ کتاب “تقویتہ الایمان” پورا ترجمہ ہے “کتاب التوحید ” کا جو کہ عبد الوہاب نجدی کی تالیف کردہ ہے۔ لیکن عبدالوہاب نجدی کے پاس یہ نظریات کہاں سے آئے یہ تو حضوؐرکے دور میں موجود نہیں تھا ، یہ عقائد عمربن خطاب کی جانب سے آئے ہیں جن کے لئے احادیث میں یہ روایت موجود ہےکہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِيرٍ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَابِسِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ جَائَ إِلَی الْحَجَرِ الْأَسْوَدِ فَقَبَّلَهُ فَقَالَ إِنِّي أَعْلَمُ أَنَّکَ حَجَرٌ لَا تَضُرُّ وَلَا تَنْفَعُ وَلَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُکَ مَا قَبَّلْتُکَ
صحیح بخاری ۔ جلد اول ۔ حج کا بیان ۔ حدیث 1534
راوی: محمد بن کثیر , سفیان , اعمش , ابراہیم , عابس بن ربیعہ , عمر
ترجمہ : محمد بن کثیر، سفیان، اعمش، ابراہیم، عابس بن ربیعہ، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ حجر اسود کے پاس آئے اور اس کو بوسہ دیا پھر فرمایا کہ کہ میں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے نہ تو نقصان پہنچا سکتا ہے اور نہ نفع پہنچانا تیرے اختیار میں ہے، اگر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھتا تو تجھے کبھی بھی بوسہ نہ دیتا۔

ایک دفعہ نبی کریمؐ شام کے وقت مسجد میں صحابہ کی جھرمٹ میں بیٹھے ہوئے ہیں اور ایک مسلمان آتا ہے اور کہتا ہے کہ اے محمد ! تمھیں نماز کا کوئی خیال نہیں ہے اپنے دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر تم گپیں لڑا رہے ہو اور نماز کا وقت نکلا جا رہا ہے ۔ یہ کہہ کر وہ اندر چلا گیا اور نماز کی نیت باندھ لی ۔ محمد الرسول اللہ نے فرمایا کہ عمر جاؤ اور اس کو مار دو یہ امت کے لئے ایک فتنہ ہے ۔عمر بن خطاب مسجد میں اندر گئے اور تھوڑی دیر بعد واپس آ گئے اور کہا کہ یارسول اللہ وہ ابھی نماز میں ہے اس لئے میں نے نہیں مارا ۔اس کے بعد نبی کریمؐ نے مولیٰ علی کو بھیجا کہ جاؤ تم اسے مار دو ، جب مولیٰ کو اس نے پیچھے آتے ہوئے دیکھا تو وہ کھڑکی سے کود کر بھاگ گیا کیونکہ اُس کو پتہ تھا کہ مولیٰ علی محمد الرسول اللہ کی نافرمانی نہیں کریں گے ۔ جب حضوؐرنے عمر بن خطاب کو حکم دیا کہ جاؤ اس کو جا کر مار دو تو پھر عمر نے عذر کیوں پیش کیا ، کیا محمد الرسول اللہ کو پتہ نہیں تھا کہ یہ نماز پڑھنے جا رہا ہے ، درحقیقت عمر بن خطاب ہی ان عقائداور خوارجین کا بانی ہے ۔
روزِ اول سے اسلام کے دشمن اسلام کو گزند پہنچاتے آئے ہیں ، یہ تو آل محمدؐ ، اولیا و فقرا کا ، درویشوں کا احسان ہے کہ سینہ بہ سینہ اسم ذات اللہ کے نور کو لیتے چلے آرہے ہیں ۔ ہمارا ایمان تو مولیٰ علی، امام حسین کی قدموں کی خاک میں ہے، ہم ان کے آگے اپنی جبین نیاز رکھتے ہیں ۔ مولیٰ علی اور مولیٰ گوھر شاہی سے بغض رکھنے والے نیست و نابود ہو کر رہیں گے ۔ ایک دفعہ واقعہ کربلا ہو گیا اب نہیں ہو گا ، اب تاریخ مکافات عمل سے گزرے گی ۔

مندرجہ بالا متن نمائندہ گوھر شاہی عزت مآب سیدی یونس الگوھر سے 18 جنوری 2018 کو یو ٹیوب لائیو سیشن میں کئے گئے سوال کے جواب سے ماخوذ کیا گیا ہے۔

متعلقہ پوسٹس

دوست کے سا تھ شئیر کریں