کیٹیگری: مضامین

امام مہدی کی نشانیوں کے بارے میں قرآن و احادیث میں آ گیا ہے ان کے زمانے کی نشاندہی کیسے کریں گے یہ بھی احادیث کے زریعے معلوم ہو رہا ہے ۔امام مہدی کا زمانہ کون سا ہو گا اس بات پر علما ءکرام اور اہل اسلام کا بڑا زور ہے ۔دوسرا اہل اسلام میں امام مہدی کے حوالے سے جو عام تصور پایا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ

”امام مہدی اہل بیت میں سے ہوں گے “

جب ہم یہ کہتے ہیں کہ فلاں شخص اہل بیت میں سے ہے تو اس کا آپ کیا مطلب سمجھتے ہیں اور حقیقت میں اس کا مطلب کیا ہے ۔جو عمومی طور پر اہل اسلام جانتے ہیں وہ یہ ہے کہ ”اہل بیت عظام کی جو نسل چلی آ رہی ہے اور جو شجرہ نصب ہے اس میں سے جو نطفہ اہل بیت چلا آ رہا ہے اس کی پیدائش جو ہو گی تو وہ اہل بیت ہو گا“۔ اہل اسلام کے زہن میں اہل بیت ہونے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے لیکن اہل بیت میں شامل ہونے کا دوسرا بھی طریقہ ہے ۔
لوگ یہ کہتے ہیں کہ آپ سرکار گوھر شاہی کو امام مہدی مانتے ہیں اور احادیث میں لکھا ہے کہ اُن کے والد کا نام ”عبداللہ“ اور والدہ ماجدہ کا نام ” آمنہ“ ہو گا، جبکہ سرکار گوھر شاہی کے والدکا نام فضل حسین ہے اور اُن کی والدہ کا نام آمنہ نہیں ہے تو اس حدیث کے حساب سے یہ نشانی سیدنا گوھر شاہی پر ثابت نہیں ہوتی ہے ۔اس کے جواب میں ہم یہ کہتے ہیں کہ ان کے والد کا نام فضل حسین ہی ہے لیکن اُن کے والد کا نام عبداللہ بھی ہے ۔ان کی والدہ کا نام آمنہ نہیں ہے لیکن وہ آمنہ کے لعل بھی ہیں ۔یہ بات لوگوں کے لئے پریشان کن ہے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے ۔اس نکتے کی میں وضاحت کرنا چاہتا ہوں۔

اہل بیت میں داخل ہونے کے طریقے :

اہل بیت میں داخل ہونے کے دو طریقے ہیں ۔ ایک حدیث شریف میں آیا

علما من صدری سادات من صلبی فقرمن نور اللہ تعالی
ؑترجمہ : عالم وہ ہوں گے جن کو میرے سینے سے فیض ہوگا۔ سادات وہ ہوں گے جو میرے صلب سے نکلیں گے ۔اور فقیر وہ ہوں گے جو اللہ کے نور سے نکلیں گے۔

جو صلب سے نکلنے کا طریقہ ہے وہ عام ہے اور یہی لوگوں کو پتہ ہے ۔ سلمان فارسی ایک برگزیدہ صحابی گزرے ہیں ان کے حوالے سے آپؐ نے فرمایاکہ سلمان فارسی کو میں نے اپنی اہل بیت میں شامل کر لیا ہے ۔اب قول رسول دو ہو گئے ، پہلا قول سادات من صلبی ہو گیا یعنی سادات جو ہوں گے وہ میری صلب سے نکلیں گے اور پھر اس کے ساتھ یہ بھی فرما دیا آپ ؐنےکہ سلمان فارسی کو میں نے اپنی اہل بیت میں شامل کر لیا ہے جبکہ وہ فارس سے آئے تھے ، عرب بھی نہیں تھے ، حضور کی صلب سے نہیں نکلے ۔حضور ؐ نے سلمان فارسی کو کس طرح اہل بیت میں شامل کیا اس کو سمجھانے کے لئے یہاں میں غوث پا ک کی ایک کتاب ”فتح ربانی، فیوض یزدانی “سے حوالہ دینا چاہوں گا ۔غوث پاک نے اس کتاب میں فرمایا کہ” ہر متقی محمد کی آل ہے “ ۔

متقی کی تشریح:

جب سیدنا امام مہدی گوھر شاہی کی صحبت سے فیض یاب ہوئے اور شعور عطا ہوا پھر معلوم ہوا متقی اُس کو کہتے ہیں جس نے قلب کو منور کر لیا ہو، اپنے نفس کا تذکیہ کر لیا ہو اور اپنے جسم کو حرام سے محفوظ کر لیا ہو ۔ ایک تو حرام اشیاء ہوتی ہیں اور ایک حرام طریقہ ہے ۔جیسے خنزیر حرام ہے لیکن گائے ، دنبے ، مرغی اور بکرے وغیرہ کا گوشت حلال ہے ۔لیکن اگر یہی اشیاء حرام مال سے خرید کر کھائی تو حرام ہو جائے گی ۔جسم کو پاک صاف رکھنے کےلئے شریعت کو متعارف کروایا گیا اور شریعت کا فائدہ اُس کو ہوتا ہے جس کے اندر پاکیزگی قائم ہو گئی ہے ۔جسم کو پاک رکھنا ایسا ہی ہے جیسے برتن ناپاک ہے اور کھانا پاک ہے اگر اُس ناپاک برتن میں کھانا ڈالا جائے تو وہ کھانا بھی ناپاک ہو جائے گا۔تو متقی بننے کے لئے حرام چیزیں اور حرام طریقہ دونوں ترک کرنا ہو گا اس لئے کہ آپ کی روحیں آپ کے جسم میں خون میں تیرتی ہیں اگر وہ خون ناپاک ہو گا تو اُس کا اثر روحوں کے اوپر پڑے گا اور آپ کی گاڑی جو صراط مستقیم کے اوپر چل رہی ہے وہ رک جائے گی ۔حرام طریقے سے مکمل اجتناب برتنا ہو گا۔

غوث پاک کےوالد گرامی کا واقعہ :

جیسے غوث اعظم کے والد گرامی بہت متقی آدمی تھے ۔ آپ جنگل کے نیچے سے گزر رہے تھے ، بھوک لگی تو ایک درخت کے نیچے سیب گرا ہوا تھا ، بھوک کا عالم اتنا شدید تھا کہ کچھ سوچے بغیر ہی وہ سیب اُٹھا کر کھا لیا ۔پھر بعد میں خیال آیا کہ پتہ نہیں یہ کس کا سیب تھا ؟ اب سیب ہے تو حلام لیکن جس طریقے سے اُسے حاصل کیا گیا تھا وہ حرام تھا ۔جس کی وہ سیب ملکیت ہے یا تو اُس کو اُس کا معاوضہ دیا جائے یا اُس کی اجازت لی جائے ۔ اب اُن کو اس بات کا خیال کیوں آیا کیونکہ وہ متقی تھے انھوں نے سوچا کہ جب یہ سیب کے اجزا ء جسم میں جائیں گے اور میں نے بغیر اجازت اور بغیر معاوضے کے یہ سیب کھایا ہے تو میرا تقوی متاثر ہو جائے گا ۔لہذا انہوں نے اُس سیب کے مالک کو ڈھونڈنا شروع کیا اور ڈھونڈتے ڈھونڈتے جس کا باغ تھا اُس تک پہنچ گئے ۔وہ کوئی کامل ولی تھا اس نے جب دیکھا کہ اس نوجوان کا سینہ منور ہے اور یہ متقی ہے تو اس نے سوچ لیا کہ اب اس کے اوپر کرم کر دیں ۔باغ کے مالک نے کہا ہاں کون ہو تم اور کیوں آئے ہو ؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ آپ کے باغ کے پاس سے گزر رہا تھا ، سیب پڑا ہوا تھا وہ میں نے کھا لیا ہے اب یا تو آپ مجھے معاف کر دیں یا پھر اس کا معاوضہ لے لیں ۔ تو باغ کے مالک نے کہا ٹھیک ہے میں اس کا معاوضہ لوں گا تم میرے باغ کی خدمت کرو جب وہ معاوضہ پورا ہو جائے گا تو میں تم کو کہہ دوں گا چلے جاؤ پھر تم چلے جانا ۔لہذا وہ لگ گئے اور دس پندرہ سال تک خدمت کرتے رہے اور پھر پوچھا کہ اب میں جائوں تو باغ کے مالک نے کہا ہاں تم جاتو سکتے ہو لیکن ابھی تمھاری سزا باقی ہے اور تمھاری سزا یہ ہے کہ میری ایک بیٹی ہے ،آنکھوں سے اندھی ہے ، ہاتھوں سے ٹوٹی ہے ، ٹانگوں سے لنگڑی ہے ، بو ل نہیں سکتی ، سن نہیں سکتی تم اس سےشادی کرو پھر سزاپوری ہو گی ۔انہوں نے کہا ٹھیک ہے میں شادی کر لیتا ہوں اور شادی ہونے کےبعد پتہ چلا کہ وہ لڑکی توبڑی حسین تھی چل بھی سکتی تھی ، بول بھی سکتی تھی ۔ تو انہوں نے باغ کے مالک کے کہا کہ آپ نے تو کہا تھا کہ یہ لنگڑی ، گونگی، اندھی اور بہری ہے تو اس نے کہا کہ ہاں اندھی اس لئے کہا تھا کہ اس نے کبھی کسی غیر محرم کو نہیں دیکھا تھا ، بہر ی اس لئے ہے کہ کبھی کوئی حرام آواز نہیں سنی اورلنگڑی اس لئے ہے کہ غلط راستے کی طرف کبھی ایک قدم نہیں اُٹھایا ۔اور وہ عورت غوث اعظم کی والدہ ماجدہ تھیں ۔
اس واقعے کے بتانے کا مقصد یہ ہے کہ متقی کو اتنا خیال کرنا پڑتا ہےکیونکہ جو خون ہمارے جسم میں دوڑ رہا ہے اس خون کے اندر ہماری روحیں تیر رہی ہیں ۔جن لوگوں کی روحیں منور ہوتی ہیں ان کو یہ پتہ ہوتا ہے کہ یہ جسم حفاظت کے لئے ہے اور اِ س میں جو خون دوڑ رہا ہے اُس کو ہمیں پاک وصاف رکھناہے اگر اُس کو پاک صاف نہیں رکھیں گے تو روح کی پرواز میں فرق آ جائے گا۔شریعت کا اولین کام باطن کی حفاظت ہے اور جب باطن ہی نہیں رہا تو شریعت ، شریعت ِ ناقصہ کہلائی ۔جیسے پھلوں کے اوپرموجود چھلکا پھل کی حفاظت کرتا ہے اسی طرح شریعت آپ کے اندرونی جسم کو پاک و صاف رکھنے کے لئے ہے۔

شریعت کی اقسام :

شریعت دو طرح کی ہوتی ہے ایک ظاہر ی شریعت اور دوسری باطنی شریعت کہلاتی ہے ۔

ظاہری شریعت:

ظاہر ی جسم کے تعلقات ، اس کی نسبتیں ہیں ، ان سے کیسے معاملہ کرنا ہے ،ان تمام آئلی معاملات کے جو اصول وضع کئے گئے ہیں ان کا خیال رکھنا ہی شریعت ظاہری کہلاتی ہے ۔

باطنی شریعت :

نفس اور جسم کے جو اندرونی معاملات ہیں جیسے خون کو صاف کرنا یہ باطنی شریعت کہلاتی ہے ۔
متقی وہ ہو گا جس کا نفس بھی پاک ہو گیا ہو ، جس کا قلب بھی پاک ہو گیا ہو اور جس کا جسم بھی پاک ہو گیا ہو ۔ جسم پاک ہونے سے مراد یہ ہے کہ اس کی نس نس میں نور دوڑ رہا ہو ۔کشف المحجوب داتا گنج بخش علی ہجویری کی لکھی ہوئی کتاب ہے جس میں آپ نے رقم فرمایا کہ” میں ایک بازار سے گزر رہا تھا تو ایک شخص بڑے انہماک سے تجارت میں مصروف تھا۔ میرے دل میں خیال آیا کہ یہ بندہ کتنے انہماک سے اپنی تجارت میں مصروف ہے اس کو اللہ کا کوئی خیال ہی نہیں ہے اسی اثناء میں ایک پتھر اس کے سر پر آ کر لگا اور اُس کا سر پھٹ گیا اور جوخون نکلا وہ دیوار پر گیا اور وہاں اسم ذات اللہ خون سے لکھا گیا ۔پھر داتا علی ہجویر ی نے کشف کی حالت میں دیکھا کہ یہ تو ذاکر قلبی ہے اس کی نس نس میں نور دوڑتا ہے “ جب نس نس میں خون دوڑنے لگ جائے تو یہ مقام باطنی شریعت کا ہے اس مقام پر انسان نور کہلاتا ہے ۔اور جب انسان مرتبہ نور پر فائز ہو جائے تو کیا ہوتا ہے ؟

آل محمدؐ کی حقیقت :

یہ جن کو ہم سادات کہتے ہیں ، ایک تو ہو گئے اہل بیت ، بیت کا عربی میں مطلب ہوتا ہے گھر ۔تو اہل بیت کا مطلب ہو گیا گھر والے اور گھر والوں میں حضور ؐ کی بیگمات ، بی بی عائشہ اور دیگر امہات المومنین بھی شامل تھیں ۔اور ایک ہوتا ہے آلِ محمد ۔ یہاں دلچسپ بات جو سمجھنے کی ہے وہ یہ ہے کہ قرآن مجید نے کہا ہے کہ

مَّا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَـٰكِن رَّسُولَ اللَّـهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ
سورة الاحزاب آیت نمبر 40

ترجمہ : محمد ؐ تمھارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں لیکن وہ اللہ کے آخری رسول ہیں ۔

عربی زبان میں ”ما“ اس وقت لگاتے ہیں جب کوئی سوال کیا جائے اور ”کان“ ماضی کی طرف اشارہ ہے ۔حالانکہ حضور ؐ کے دو بیٹے پیدا ہوئے تھے لیکن ان کا انتقال ہو گیا ۔تمام اہل اسلام شیعہ ، سنی ، وہابی سمیت سب یہی کہتے ہیں کہ آل مرد سے چلتی ہے اور حضور ؐ کے دونوں بیٹوں کا انتقال ہو گیا ہے ۔اور امام حسن ، امام حسین ، بی بی زینب اور دیگر لوگ حضور ؐ کی بیٹی کی اولاد ہیں ۔توپھر آل کہا ں ہوئی ؟ لیکن اگر میں یہ کہوں کہ محمد رسول اللہ کی آل مرد سے ہی چلی ہے تو آپ پریشان ہو جائیں گے ۔حضور ؐ کی صاحبزادی فاطمتہ الزہر ہ سلطان فقرا ء واقع ہوئیں ۔اُن کے سینے میں طفل نوری تھالیکن اس سے پہلے یہ بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ جب طفل نوری سینے میں داخل ہوتا ہے تو کیا ہوتا ہے ۔

طفل نوری کی تشریح:

طفل نوری ایک اضافی مخلوق ہے اور اُس کا تعلق عالم احدیت سے ہے جہاں اللہ مقیم ہے ۔اور یہ طفل نوری تب بنے تھے جب اللہ کو خیال آیا تھا کہ میں دیکھوں کتنا حسین ہوں تو اُس کا جو حسن ہے وہ سامنے پڑا اور مجسم ہو گیا ۔اس کو دیکھ کر اللہ کو غش طاری ہو گیا اور سات جنبشیں لیں اور ہر جنبش پر ایک نور کا بھپکا نکلا جو مجسم ہو کر ایک روح بن گیا ۔اس روح کو طفل نوری کہا جاتا ہے ۔ طفل نوری کا باقاعدہ ایک وجود ہے اور وہ ہم شکل اللہ ہو تا ہے ۔اگر کسی نے اللہ کو دیکھا ہے تو طفل نوری کو دیکھ کر یہی کہے گا کہ یہ تو اللہ ہی ہے ۔
جسطرح بچے پیدا ہوتے ہیں تو آب منی کا ایک قطرہ عورت کے رحم میں داخل ہوتا ہے اور اُ س سے پھر بچے کی ماں کی کوکھ میں پرورش ہوتی ہے۔ اسی طرح اس طفل نوری کے لئے نطفہ نور طالب کے سینے پرورش کے لئے ڈالا جاتا ہے اور جب یہ نطفہ نور پرورش پاکر باہر نکلتا ہے تو بارہ سال کے لئے حضور ؐ اس کو اپنے ساتھ پرورش کے لئے رکھ لیتے ہیں ۔بارہ سال میں جب یہ طفل نوری جوان ہو جاتا ہےتو محمد رسول اللہ اس کو تاج سلطانی پہنچاتے ہیں اور یہ فقر کے اُس درجے پر فائز ہو گیا کہ اب یہ مخلوق اور خالق دونوں میں سے کسی کا محتاج نہیں رہا ۔ پھر واپس اُس طالب کے وجود میں داخل کر دیا جاتا ہے ۔ اسی پر حضور ؐ نے فخر فرمایا تھا

الفقر فخری والفقر منی
ترجمہ : فقر میرا فخر ہے اور فقر مجھ سے ہے

کیونکہ وہ اللہ کا ایک چھوٹا سا ایک وجود ہے جومخصوص انسانوں کو عطا ہوا ۔جب سے یہ دنیا تخلیق ہوئی ہے صرف پانچ یا چھ لوگوں کو عطا ہوا ہے ۔تو جب یہ بارہ سال کی تیاری کے بعد طالب کے سینے میں واپس آتا ہے تو سب سے پہلے آکر طالب کے نفس کے جسّوں کو کہتا ہے کہ مجھ سے بغلگیر ہو جاؤ، وہ جب بغلگیر ہوتے ہیں تو تاب نہیں لا سکتے کیونکہ وہ طفل نوری تو نور ہی نور ہے اور جل کر بھسم ہو جاتے ہیں ۔ یہ مقام فنا کہلاتا ہے ۔اس کے بعد پھر قلب کے جّسے بغلگیر ہوتے ہیں وہ بھی تاب نہ لا کر جل کر خاکستر ہو جاتے ہیں اور پھر روح کے جسّوں بغلگیرہوتے ہیں اور وہ بھی جل کر بھسم ہو جاتے ہیں ۔جب سارے جسّے جل جاتے ہیں تو وہ طفل نوری سینے میں بیٹھ جاتا ہے ۔اُس کی جلالیت کا یہ عالم ہے کہ نفس، قلب اور روح کے تمام جسّے تاب نہ لا کر جل گئے ۔

جب حضور ؐکی صاحبزادی فاطمتہ الزہرہ کے سینے میں وہ طفل نوری آیا تو اُس کے نور کی وجہ سے آپ کا جو عورت کا نظام تھا وہ جل گیااور آپ کو ماہواری ختم ہو گئی یہی وجہ ہے کہ فاطمتہ الزہرہ کو ” بتول “ بھی کہا جا تا ہے ۔اور پھر اس طفل نوری کے نوری نطفے سے آپ کی کوکھ میں وہ اولاد ہوئی ۔ وہ طفل نوری مرد ہے ۔ تو حضور ؐکی جو آل ہے وہ جسمانی آل نہیں بلکہ نورانی آل ِ محمدؐ ہے ۔آپ کا تو کوئی بیٹا ہی نہیں تھا اور جس کو آپؐ نے بیٹا کہا ہے وہ طفل نوری ہے ۔اور جب طفل نوری سے کوئی عام انسان متصّل ہو کر فقر میں داخل ہو جائے تو اس کا شمار بھی آل ِ محمد میں ہوتا ہے ۔

کیونکہ اُسی فقر کی وجہ سے حسین آل محمد بنے اگر تم کو اُس طفل نوری سے نسبت ہو جائے گی تو تم بھی آل محمد ہو جاؤ گے ۔اب امام حسن اور امام حسین طفل نوری والے نطفے سے بنے تھے اس لئے نور تھے اور اگر حضرت علی کا نطفہ داخل بھی ہوتا تو اس سے حمل نہیں ٹھہر سکتا تھا ۔عورت کے رحم میں جو زائیگوت بنتا ہے وہ ایگ فرٹی لائیز ہوتا ہے تو اس میں مرد کے ایکس کروموزمز اور وائی کروموزمز ہوں اور ایک عورت کے ایگس کے بھی ایکس کروموزمز اور وائی کروموزمز ہوں تو ان کی کراس ضر ب ہوتی ہے ۔ لڑکااس لئے ہوتا ہے کہ مرد کا جونطفہ ہے اس کے میل کروموزمززیادہ طاقت ور ہوتے ہیں لیکن اس میں عورت کے کروموزمز کی بھی ضرب ہے تو اُس میں عورت کی بھی صفات آئیں گی ۔آج لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ اپنی جنس انہوں نے تبدیل کر لی ہے اور لوگ کہتے ہیں کہ انہوں نے اللہ کے کاموں میں مداخلت کر دی ہے ، ایسا نہیں ہے ۔ اگرمرد کا کروموزمز اور عورت کاکروموزمز دونوں ہم پلہ ہیں تو پھر وہ معلق ہو گیا کوئی بھی جنس بن سکتا ہے ۔یہ عین حق کے مطابق ہے ۔ کچھ بچے آپ نے دیکھا ہو گا اپنے باپ پر زیادہ چلے جاتے ہیں کیونکہ باپ کے کروموزمز کی ضرب زیادہ ہے اور جو بچے ماں پر زیادہ چلے جاتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ ان میں ماں کے کروموزمز کی ضرب زیادہ ہے ۔لیکن اگر عورت کا ایکس اور وائی کروموزمز ہی نہ ہو اور صرف مرد کا ہو تو اس صورت میں اولاد نہیں ہو سکتی ۔
پھر بی بی فاطمہ کو اولاد کہاں سے ہوئی ؟ وہ نوری نطفہ تھا اور وہ نور طفل نوری سے آیا تھا اور اگر تم کو بعد میں اُسی طفل نوری سے فیض ہو گیا تو تم بھی مقام نور پر پہنچ گئے اور اہل بیت میں شامل ہو گئے ۔تو یہ ایک طریقہ ہے کہ جو سادات کا زریعہ ہے اس زریعے سے تم بھی منسلک ہو جاؤ توآل محمد میں شامل ہو جاؤ گے۔یہ دوسرا طریقہ ہے ، ایک اور بھی طریقہ ہے
اگر امام مہدی آل محمد سے ہوں اور طریقہ وہی ہوجو عام لوگوں کے لئے تھا تو پھر خصوصیت کیا ہو گی ! وہ طریقہ یہ ہے کہ قرآن مجید میں ارضی اور سماوی ارواح کا ذکر آیا ہے ارضی ارواح دنیا میں ہوتی ہیں ۔ ابتدائی طو ر پر جب کوئی سیارہ نہیں تھا صرف سورج ایک آگ کا گولہ تھا ۔جب اللہ نے اس کائنات کو بنایا تو اُس آگ کے گولے کو حکم ہوا ٹھنڈا ہوجا ۔ جب وہ ٹھنڈا ہوا تو راکھ بنی ۔ وہ راکھ منتشر ہوگئی تو اللہ نے جمادی روحوں کو بھیجا اس سے وہ آگ جمود میں آ گئی اور سیارے معرض وجود میں آ گئے ۔مریخ ، عطارد، زہل ،چاند، پلوٹو ، مشتری اور زمین یہ سب سورج کا حصہ ہیں ۔ پھر اللہ تعالی نے روحِ نباتی کو بھیجا اور اس میں درخت اُگ آئے اور پھر روح حیوانی کو بھیجا تو یہ جانور بن گئے ۔ پھر انہی ارواح سے انسانوں کے جسموں کو بھی بنایا ۔ انسانی جسم میں پتھر ہڈیوں کی صورت میں موجود ہیں جو روح جمادی پتھروں میں ہوتی ہے وہ روح ہڈیوں میں موجود ہے ۔جو روح نباتی درختوں میں موجود ہوتی ہے انسانی جسم میں بھی وہ روح نباتی موجود ہوتی ہے جس کی وجہ ہمارے جسم کی نشونماہوتی ہے ۔پھر انسان کو شکل وصورت دی جو روح حیوانی کی وجہ سے ہے ۔ یہ جو انسانی جسم ہے اس کو بنانے کے لئے ارضی ارواح کام آتی ہیں ۔سماوی روحیں اوپر سے آتی ہیں ۔جب عورت کے رحم میں نطفہ پڑا تو وہ ابھی خون ہی ہے ۔اس خون کے اندر اللہ روح جمادی ڈالتا ہے تو پھر وہ خون گوشت کا لوتھڑا بن جاتا ہے ۔

تخلیق ِ انسانی کا راز:

لوگ کہتے ہیں کہ حمل گرانا حرام ہے اگر جمادی روح آنے سے پہلے حمل گرا دیا جائے تو پھر کس کا قتل ہوا کوئی روح تو آئی ہی نہیں تھی ۔مرداور عورت کے خون کو ملنے میں بارہ ہفتے لگتے ہیں بارہ ہفتے سے پہلے پہلے اگر حمل گرا دیا جائے تو کوئی قتل نہیں ہوا اس لئے حرام نہیں ہے ۔رب کی ناراضگی اس وقت شروع ہو گی جب اس میں روح جمادی پڑ گئی ، کیونکہ یہ ارضی ارواح جوڑے میں ہوتی ہے روح جمادی تو آ گئی لیکن ابھی روح نباتی اور روح حیوانی آنا باقی تھی ۔ اگر روح جمادی کے آنے کے بعد تم نے حمل گرا یا تو پھر وہ روح جمادی بھی ضائع ہو گئی اور جو روح نباتی اور روح حیوانی نے آنا تھا وہ بھی ضائع ہو گئیں اس لئے رب نے اس کے اوپر پابندی لگائی ہے کہ ایسا نہیں کرو ۔اب جب یہ تینوں ارضی ارواح جسم میں آ گئیں اور نو مہینے بعد جب بچہ پیدا ہونے والےہوتا ہے آدھا ماں کے پیٹ میں ہے اور آدھا باہر ہوتا ہے ۔ ابھی بچہ نکل ہی رہا ہوتا ہے اس وقت فرشتے سماوی روح لے کر آتے ہیں ۔ جیسے ہی وہ بچہ باہر نکلتا ہے فرشتے اس میں سماوی روح داخل کر دیتے ہیں اور برابر میں شیطان بھی کھڑا ہوتا ہے پھر وہ بھی لطیفہ نفس داخل کرتا ہے اور چار پرندے بھی داخل کرتا ہے ، خناس داخل کرتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اپنا تھوک اس کے خون میں شامل کر دیتا ہے جس کی وجہ سے اس کے خون میں نار پھیلنا شروع ہو جاتی ہے ۔
تو وہ سماوی روح اوپر سے آتی ہیں اور ان کا کام ہی انسان کو اللہ سے جوڑنا ہے ۔اب یہ جو ارضی ارواح ہیں پاکیزہ لوگوں کی ارضی ارواح اس کے مرنے کے بعد کسی دوسرے میں داخل ہو جاتی ہیں کیونکہ ارضی ارواح کا کام جسم کو بنا کر دینا ہے اصل چیز تو وہ روح ہے جس نے اوپر سے نیچے آنا ہوتا ہے ۔ اب اگر کسی روح نے نیچے آنا ہے تو یہ اللہ کا کام ہے کہ اس روح کے لئے زمین پر کوئی جسم بنوائے ۔ارضی ارواح ایک جسم سے دوسرے میں منتقل ہوتی رہتیں ہیں لیکن فرشتے اس بات کا خیال رکھتے ہیں کہ جو منافق، زندیق اور کافر جیسے لوگوں کی ارضی ارواح کو الگ رکھتے ہیں اور پھر اگر کسی کافر نے زمین پر آنا ہے تو انہی گندی روحوں سے اس کافر کا جسم بنایا جاتا ہے ۔اور اگر پاکیزہ روح نے زمین پر آنا ہے تو اس کے لئے پاکیزہ لوگوں کی جو ارضی ارواح ہوتی ہیں وہ استعمال کی جاتی ہے

” اسی طرح حضور پاک ؐ کی ارضی ارواح کو امام مہدی کے لئے روکا ہوا تھا ۔ یعنی حضور ؐ پاک کی روح کا جو دوسرا حصہ ہو گا وہ امام مہدی کے جسم میں ہو گا ۔ اُدھر نطفے کی وجہ سے آل محمد ؐ ہو گئی لیکن یہاں امام مہدی کے پاس حضور ؐ کی روح کا دوسرا پورا حصہ آ گیا۔اِس طرح امام مہدی آل محمدؐ ہوں گے“

درجہ شہادت کیا ہے ؟

جسطرح امام مہدی کے جسم میں حضورؐ کی ارضی ارواح ہو ں گی جس کی وجہ سے اُن کو آمنہ کا لعل کہا جا سکے گااسی طرح بہت سارے جلیل القدر صحابہ اور اولیاء گزرے ہیں اُن کی ارضی ارواح بھی ریسائیکل ہوتی رہتی ہیں ۔ صرف وہ لوگ جن کو اللہ درجہ شہادت دیتا ہےاُن کی ارضی ارواح ریسائیکل نہیں ہوتی کیونکہ قرآن مجید میں آیا ہے کہ

وَلَا تَقُولُوا لِمَن يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ أَمْوَاتٌ ۚ بَلْ أَحْيَاءٌ وَلَـٰكِن لَّا تَشْعُرُونَ
سورۃ البقرہ آیت نمبر 154
ترجمہ : جو لوگ راہ خدا میں ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں انہیں مردہ مت کہو بلکہ وہ زندہ ہیں لیکن ان کی زندگیوں کا تمھیں شعور نہیں ۔

راہ خدا اس راستے کو کہتے ہیں جو رب کی طرف جا رہا ہے ۔ جو صوفیاءکرام اور طلب العلم جو اپنے نفس کے تذکیئے میں ، قلب کے تصفیے میں ، روح کے تجلیے میں لگے ہوئے ہیں تو وہ راہ خدا میں چل رہے ہیں ، ان کی منزل ابھی پوری نہیں ہوئی اور موت آ گئی تو اس طرح کے لوگوں کو اللہ تعالی درجہ شہادت دیتا ہے ۔اللہ اس طرح کے لوگوں کو درجہ شہادت کیوں دیتا ہے اور اس کے کیا معنی ہے ؟ اللہ ایسے لوگوں کو درجہ شہادت اس لئے دیتا ہے کہ وہ ارضی ارواح مرنے کے بعد بھی اُن کے جسم میں ہی رہتی ہیں جس کی وجہ سے جسم گلتا سڑتا نہیں ہے ۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ اعمال کا تعلق اسی دنیا سے ہے اور مرنے کے بعد اعمال کا شمار نہیں کیا جائےگا ۔اب وہ لوگ جو راہ خدا میں چل رہے تھے اور ان کی منزل مکمل نہیں ہوئی تھی ہو سکتا ہے کہ ان کو رب کے دیدار میں جانا ہو یا پھر ہو سکتا ہے اللہ سے ہم کلام ہونا ہو اگر اُن کی مکمل موت ہو جائے گی تو وہ اُس مقام سے محروم رہ جائیں گے لہذا اُن کی ارضی ارواحوں کو روک لیا جاتا ہے تاکہ اُن کی تربیت جاری رہے ۔ایک اور حدیث میں آیا ہے کہ ”علم ماں کی کوکھ سے قبر تک ہے“۔ اب ماں کی کوکھ سے قبر تک علم ایسے ہوتا ہے کو جو لوگ راہ خدا میں چل رہے تھے اور ان کی مو ت واقع ہو گئی اور ان کی تعلم و تربیت بیچ میں رہ گئی تو پھر اللہ تعالی ایسے لوگوں کی ارضی ارواح مرنے کے بعد میں ان کے جسم میں رہنے دیتا ہے تاکہ وہ تعلیم و تربیت مکمل کر سکیں ۔جیسے غوث پا ک نے کہا کہ” قرآن کے سترہ سپارہ مجھے ماں کی کوکھ میں ہی یاد ہو گئے تھے “سیدنا امام مہدی گوھر شاہی کی تعلیم سے معلوم ہوا کہ اُن کی ارضی ارواح کو سترہ سپارے یاد ہو گئے تھے تو پھر یہاں سے ثبوت ملتا ہے کہ ماں کی کوکھ میں بھی علم ہے اور پھر قبر میں علم انہی کے لئے ہو گا جن کا زندگی میں علم پورا نہیں ہوا ۔

”وہ لوگ جن کا اپنی منزل ملنے سے پہلے وصال ہو گیا تو اُن کی ارضی ارواح کواُن کے جسم میں روک لیا جاتا ہے اور اس کو درجہ شہادت کہا جاتا ہے “

اب جو سیاسی تنظیموں کے لوگ ایک دوسرے کا قتال کرتے ہیں اور پھر انہیں شہید قرار دیتے ہیں یہ غلط ہے وہ شہید نہیں ہیں ۔ شہید تو وہ ہے جو راہ خدا میں چل رہا ہے اور موت آ گئی ۔ اگر وہ سیاسی تنظیموں کے لوگ واقعی شہید ہیں تو تین مہینے بعد اُن کی قبر کھول کر دیکھ لیں اگر وہ واقعی رب کی طرف سے درجہ شہادت پر فائز ہیں تو ان کو جسم بالکل تروتازہ ہو گا جیسے سو رہا ہو کیوں کہ اللہ نے اگر اسے درجہ شہادت دیا ہے تو اُس کی ارضی ارواح بھی اُس کے اندر موجود ہوں گی جس کی وجہ سے جسم کی حیات برقرار رہتی ہے ۔
اب ستم ظریفی یہ ہے کہ علماء کرام جو اس آیتوَلَا تَقُولُوا لِمَن يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ أَمْوَاتٌ ۚ بَلْ أَحْيَاءٌ وَلَـٰكِن لَّا تَشْعُرُونَ کا ترجمہ کرتے ہیں وہ غلط ہے ۔یہاں قتل کا مطلب لوگ عمومی طور پر لیتے ہیں ”مر جانا“حالانکہ اسکا مطلب یہ نہیں ہے یہاں یہ استعارہ کے طور پر استعمال ہوا ہے ۔جسطرح گوشت کے ہم ٹکڑے کرتے ہیں تو اس کو ”قتلا “کہتے ہیں اسی طرح یہاں اس آیت میں بھی يُقْتَلُٹکڑے ٹکڑے کے لئے استعمال ہوا ہے ۔

انسان مختلف نوع اجزائے حیات کامجموعہ:

انسان مختلف نوع اجزائے حیات کامجموعہ ہے جیسے جسم ، نفس، ارواح یہ تمام چیزیں مل کر انسان کو بناتی ہیں ۔جب انسان کو موت آتی ہے تو یہ اجزائے حیات منتشر ہو جاتے ہیں ۔ ارضی ارواح جسم سے نکل گئی تو جسم کی نشونما ختم ہو گئی ،سماوی روح فرشتے اوپرآسمانوں میں لے گئے اور جسم قبر میں چلا گیا۔ہر چیز ٹکڑے ٹکڑے یا الگ الگ ہو گئی ۔ ایک کیفیت موت کےوقت ایسی ہوتی ہے کہ انسان جو کہ اجزائے حیات کا مجموعہ ہے جو اس انسان میں اکھٹے ہو گئے تھے اور جسم ، روح ، نفس اور ارضی ارواح کا اتحاد بالحیات ہو گیاتھا اور تمام چیزوں کی حیات قائم تھی ایک مرکز پر لیکن جب موت آئی تو وہ سب اجزاء منتشر ہو گئے ۔جب موت آتی ہے تو اجزائے حیات کلی طور پر منتشر ہو جاتےہیں لیکن جزوی طور پر موت سے پہلے بھی ہو جاتے ہیں ۔جیسے ماں کے پیٹ میں بچہ تھا تو اُس وقت اُس کے اندر صرف ارضی ارواح تھیں نہ سماوی روح تھی اور نہ نفس تھاتو اُس کی زندگی کے دوسرے اجزاء کہیں اور تھے تو یہاں بھی اجزائے حیات منتشر تھے لیکن اُسے موت نہیں کہا گیا کیونکہ زندگی قیام کے سفر میں ہے ۔لیکن ایک صوفی ، درویش اور فقیر کی زندگی میں یہ اجزائے حیات جزوی طور پر ، بالعموم اور بالخصوص منتشر ہوتے رہتے ہیں لیکن اِن کی جو بنیاد ہے وہ ارضی ارواح کا جسم میں رہنا ہے جب وہ نکل جاتی ہے تو پھر کلی انتشار ہے ۔یعنی اثاث ِ حیات فی الدنیا ارضی ارواح کا جسم میں رہنا ہے اور جو دیگر اجزائے حیات سماوی آئے ہیں ، نفس کے آئے ہیں صوفی کی زندگی میں وہ یک بعد دیگرے مختلف نوع مقامات پرمصروف سفر رہ سکتے ہیں لیکن اثاث حیات ارضی ارواح کا جسم میں رہنا ہے ۔اب اثاث ِ حیات یعنی ارضی ارواح جسم میں ہوں اور دیگر جو اجزائے حیات ہیں وہ کسی بھی غرض وغایت سے منتشر ہو جائیں دیدارِ الہی کے لئے، کلام الہی کے لئے یا سیرو طیر کے لئے چلے جائیں تو اس کو موت نہیں کہا جا سکتا ۔
جسطرح غوث اعظم جب جنگل میں جاتے تھے تو مراقبتہ الموت لگاتے تھے ۔ مراقبتہ الموت یہ ہوتا ہے کہ اس میں لطیفہ روح اور لطیفہ انا دونوں ایک ساتھ جسم سے نکلتے ہیں ۔ روح کا وہی کام ہے جو جبرائیل ؑ کا تھا ۔ عرش الہی کے لئے جو سفر شروع ہوتا ہے وہ مقام جبروت سے شروع ہوتا ہے ۔ لطیفہ انا روح کے اوپر بیٹھ کر مقام جبروت تک جاتا ہے اس کے بعد لطیفہ انا نے مقام محمود تک جانا ہے ۔جب یہ اکھٹے لگتا ہے تو اس کو مراقبتہ الموت کہتے ہیں ۔اب جب یہ دونوں چیزیں غو ث اعظم کی ان کے جسم سے نکل جاتی تھیں تو جسم بے سدھ ہو جاتا تھا ۔غوث پاک نے بھی سترہ سترہ دن کا مراقبہ لگایا ہےلوگ سمجھتے تھے کہ انتقال ہو گیا ہے اور اُن کو دفنانے کے لئے لے کر جاتے تو وہ مراقبےسے کھڑے ہو جاتے تھے۔ تو یہاں پر جزوی طور پر اجزائے حیات منتشر ہوئے لیکن موت جب قائم ہو گی جب اثاث ِ حیات منتشر ہو گی ۔
وَلَا تَقُولُوا لِمَن يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ أَمْوَاتٌ ۚ ان کی حیات ان کے جسموں میں اور قبروں میں موجود ہے ان کی موت واقع نہیں ہوئی ان کو مردہ کیوں کہہ رہے ہو ۔ ارضی ارواح اسی جسم میں رہتی ہیں تو اثاث ِ حیات وہاں قائم ہے اس لئے موت نہیں کہہ سکتے ۔وہ زندہ ہیں لیکن تمھیں اس کا شعور عطا نہیں ہوا ۔
زندگی کیا ہے ؟ اجزائے عناصر کی ترتیب
موت کیا ہے ؟ انہی اجزائے کا بکھر جانا

سیدنا امام مہدی گوھر شاہی کی کتنی بڑی کرم نوازی ہے کہ آج ہم کو یہ شعور عطا فرما دیااور کائنات اور تخلیق کے وہ راز جن پر آج تک پردہ پڑا ہوا تھا آج منکشف ہو گئے ۔

متعلقہ پوسٹس

دوست کے سا تھ شئیر کریں