کیٹیگری: مضامین

کیا مسلمان ، یہودی اور عیسائی اللہ کی پسندیدہ قوم ہیں ؟

ملت ابراہیم یعنی یہودی ، عیسائی اور اسلام تینوں مذاہب سنجیدگی سے اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ اللہ کی پسندیدہ قوم کونسی ہے ۔ قرآن کے مطابق مسلمانوں اور بنی اسرائیل کو اللہ کی پسندیدہ قوم کہا گیا ہے اور اللہ نے اُن کو تمام عالمین پرفوقیت دی ہے لیکن قرآن میں ان دو مختلف قوموں کے بارے میں ایک ہی بیان ہے کہ وہ بہترین قوم ہیں ۔

يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ اذْكُرُوا نِعْمَتِيَ الَّتِي أَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ وَأَنِّي فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعَالَمِينَ
سورة البقرة آیت نمبر 47
ترجمہ : اے بنی اسرائیل ! میرے وہ انعام یاد کرو جو میں نے تم پر کئے اور یہ کہ میں نے تمہیں سب لوگوں پر فضیلت دی۔

ہاں مسلمانوں کا یہ ماننا ہے کہ وہ سب سے بہترین اُمت ہیں وہاں یہودیوں کا بھی یہ ماننا ہے کہ وہ سب سے بہترین اُمت ہیں اور اس مقابلے میں عیسائی بھی کچھ پیچھے نہیں ہیں کیونکہ اُن کا یہ ماننا ہے کہ وہ اللہ کی بیٹے کی اُمت میں سے ہیں لہذا وہ سب سے بہترین اُمت ہیں ۔ مسئلہ یہ ہے کہ ان تینوں مذاہب میں سے کوئی بھی غلط نہیں ہے ۔ قرآن کے مطابق بنی اسرائیل کو بہترین اُمت کہا گیا ہے اور یہ دنیا کے نظام کو چلائیں گے اور عیسائی مذہب کے عقیدے کے بارے میں اگر دیکھیں تو وہ بھی بہت منفرد ہے کہ عیسی علیہ اسلام نہ صرف اللہ کی طرف سے منتخب کردہ ہیں بلکہ اللہ کے بیٹے بھی ہیں ۔ ان مذاہب کے مذہبی اسکالزر کتنے ہی سمجھدار کیوں نہ ہوں لیکن ایک دوسرے مذہب کے خلاف ہیں اور خود کو سب سے بہترین اُمت سمجھتے ہیں ۔ کئی عرصہ قبل سیدنا گوھر شاہی نےرب کی پسندیدہ اقوام کے حوالے سے اپنا ایک تاریخی، واضح اور انقلابی فرمان جاری فرمایا تھا کہ

مذاہب سے بالا تر رب کی محبت :

یدنا گوھر شاہی کا یہ فرمان بہت ہی منفرد اور انقلابی ہے جس کو باآسانی رد نہیں کیا جا سکتا ہے ، یہ انقلابی پیغام قرآن سے ثابت ہے اور کسی بھی مذہب کو ماننے والا اس کو باآسانی قبول کرلے گاکیونکہ اس پیغام میں اللہ کی محبت کو ترجیح دی گئی ہے کہ جس کے بھی دل میں اللہ کی محبت ہو گی وہ سب سے بہترین اور بلند ہو گا۔ یہ بات قرآن، توریت ، زبور اور انجیل کے ماننے والے کے لئے بھی قابل قبول ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اس پیغام نے تمام مذاہب کی اہمیت کو بھی صفر کر دیا ہے ۔ پہلے جملے میں سیدنا گوھر شاہی نے تمام مذاہب کو مساوی کھڑا دیا اور فرمایا ہے کہ اللہ کی پسندیدہ اُمت ہونے کے لئے اللہ کی محبت کا دل میں ہونا ضروری ہے جو کہ تمام مذاہب کا نچوڑ ہے خواہ آپ ان میں سے کسی مذہب پر بھی عمل پیرا نہ ہوں ۔ لہذا فرمان گوھر شاہی کی روشنی میں رب کی پسندیدہ اُمت ہونے کے لئے رب کی محبت کا دل میں جاگزیں ہونا ضروری ہے بھلے آپ کسی مذہب میں بھی نہ ہوں ۔ جو لوگ اس بحث پر گھنٹوں اپنا وقت صرف کرتے ہیں کہ اللہ کی پسندیدہ اُمت کون ہے دراصل وہ اپنا وقت ضائع کر رہے ہیں کیونکہ عظمت اور بلندی رب کی طر ف سے ہےاگر عظمت رب کی طرف سے ہے تو پھر واضح ہو گی اور اگر عظمت آپ کی طرف سے آ رہی ہے تو پھر وہ آپ کے کردار میں جھلکے گی اور اللہ کی صفات کا آپ سے اظہار ہو گا۔جب اللہ کسی کے قلب کو اپنا ٹھکانہ بنا لیتا ہے اور وہ اللہ کا ولی بن جاتا ہے تو رب اس کی شکل میں زمین پر چلتا ہے اور اس مرحلے پر وہ ہر مذہب سے افضل ہو جاتا ہے ۔ یہودی، عیسائی اور مذہب دین اسلام تو اللہ تک پہنچنے کا راستہ ہیں جب رب آپ کے اندر جاگزیں ہو جاتاہے تو وہ عبادت گاہوں میں نہیں جاتا بلکہ عبادت گاہیں اُس کا طواف کرتی ہیں کیونکہ آپ رب کی توجہ کا مرکز بن گئے۔جو چیزا ٓپ کو اللہ کی پسندیدہ اُمت بناتی ہے وہ قرآن ، بائبل اور توریت میں نہیں ہے جوچیز رب کی طر ف سے آئے گی وہی رب کی طرف لے کر جائے گی۔منجانب اللہ آنے والی چیز کی پہچان یہ ہے کہ وہ تمھارا تعلق رب سے جوڑ دے گی۔ اللہ کی پسندیدہ اُمت وہی ہیں جن کے دلوں میں رب کی محبت ہے۔
بدقسمتی سے یہودی ، عیسائی اور اسلام کے ماننے والوں کا خیال ہے کہ اللہ ان کے اندر رہتا ہے ، فرمان گوھر شاہی کی روشنی میں اگر آپ یہودی ، عیسائی یا مسلمان ہیں اور رب کی محبت دل میں موجود نہیں ہے تو پھر مذاہب میں ہونے کے باوجود آپ اللہ کی پسندیدہ اُمت نہیں ہیں کیونکہ آپ تو ایک دوسرے سے لڑ رہے ہیں اور اُن کی گردنیں مار رہے ہیں اور اگر اللہ کی محبت دل میں موجود ہے تو پھر کسی مذہب میں نہ بھی ہوں تو کوئی فرق نہیں پڑتا، جس قوم میں بھی اللہ کی محبت ہو گی وہ اللہ کی پسندیدہ قوم کہلائے گی ۔ جب اللہ کسی کے دل میں جاگزیں ہو جاتا ہے تووہ تمام انسانیت کے لئے رحمت کا باعث بن جاتا ہے ، اسکی رحمت کسی ایک مذہب کے لوگوں تک محدود نہیں رہتی وہ سب سے محبت کرنے لگتا ہے ۔وہ یہودی، عیسائی اور مسلمان میں فرق نہیں کرتا اس کی نظر میں سب مساوی ہو جاتے ہیں کیونکہ سب ہی رب کی مخلوق ہیں اور وہ سب سے محبت کرتا ہےلیکن وہ اُن سے محبت نہیں کرتا جو دین میں فساد کرتے ہیں ۔ تمھارا کسی بھی مذہب سے تعلق ہو اگر تم انسانیت سے نفرت کرتے ہواور فساد پھیلاتے ہو تو تمھارا مذہب بھی تمھیں اللہ کے عذاب سے نہیں بچا پائے گا ۔فساد پھیلانا چھوڑ دیں، دلوں کو توڑنا چھوڑ دیں ،لوگوں کو توڑ کر فرقہ واریت میں تقسیم نہ کریں بلکہ انھیں اللہ کی محبت پر اکھٹا کریں ۔ ہمیں پوری انسانیت کے لئے سوچنے کی ضرورت ہے جب ہم یہ کہتے ہیں کہ میرا مذہب ، میرا ایمان تو دراصل ہم یہی پیغام دے رہے ہیں کہ آپ رب سے محبت نہیں کرتے ۔ اگر آپ کا رب سے تعلق ہے اور اس سے محبت کرتے ہیں تو پھرمجموعی طور پر پوری انسانیت کے لئے آپ کے دل اور ذہن میں سوچ ہونی چاہیےاگر ایسا نہیں کر رہے ہیں تو اللہ کی محبت سے دور جا رہے ہیں ۔اگر اللہ کی محبت آپ کے دل میں ہے تو مجموعی طور پر پوری انسانیت سے خود بہ خود محبت ہو جائے گی ۔ لوگ یہودی ، عیسائی اور مسلمان ہونے میں فخر محسوس کرتے ہیں لیکن اُن کے دل رب کی محبت سے خالی ہیں جو اللہ کی پسندیدہ قوم بننا چاہتا ہے اسے اللہ کی محبت کو دل میں لانا ہو گا، صفائے قلب کرنا ہو گی تاکہ اللہ اسے اپنا مسکن بنا لے ، اگر اللہ کی محبت دل میں نہیں ہے تو آپ سب سے برے ہیں اور اگر محبت ہے تو سب سے بہتر اورافضل امت ہیں ۔

بنی اسرائیل اللہ کی پسندیدہ قوم کیوں ہے ؟

یں یہاں ایک راز آپ لوگوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ بنی اسرائیل اللہ کی پسندیدہ قوم کیوں ہے ۔عیسائی اسکالرز عیسائیت کے بارے میں بات کر تے ہیں یہودی اسکالزر نے اپنے مذہب میں مہارت حاصل کی ہے اور اسی طرح مسلم اسکالرز بھی موجود ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ اللہ نے کیوں کہا کہ بنی اسرائیل اللہ کی پسندیدہ قوم ہے ؟ اور مسلم اُمہ کے بارے میں اللہ نے کیوں کہا ہے کہ اللہ نے انھیں تمام اقوام میں سب سے بہتر قوم منتخب کیا ہے ۔

كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّـهِ
سورة آل عمران آیت نمبر 110

بنی اسرائیل اللہ کی پسندیدہ قوم کیوں ہے اور مسلم امت کو کیوں انسانیت کی بھلائی کے لئے منتخب کیا گیا ہے ؟ اگر مسلمان ، یہودی اور عیسائی کو ایک قطا ر میں کھڑا کر دیا جائے اور اُن سے پوچھا جائے کہ اگر تمھارے پاس طاقت ہو تو تم اس طاقت سے کیا کرو گے اور ان تینوں مذاہب کی طرف سے جو جواب آےگا وہ تقریباً ایک ہی ہو گا کوئی خاص بات نظر نہیں آئے گی ۔مثال کے طور پر اگر کوئی بہت اچھا مقرر ہو اور دوسرے جو تقریر کرنے والے ہیں ان سے بہتر ہو تو فرق نظر آجا تا ہے کہ وہ مقرر اچھا ہے ۔بالکل اسی طرح اگر ہم ان مذاہب کے ماننے والوں کو ایک قطار میں کھڑا کر دیں اور اُن میں سے یہودی سے پوچھیں کہ آپ مسلمانوں سے کس طرح بہتر ہیں کوئی خاص بات بتائیں تو وہ کہیں گے ہمارے مذہب میں بہت سے انبیاء رہنمائی کے لئے تشریف لائے ہیں ۔لیکن ہم آپ کے بارے میں پوچھ رہے ہیں کہ آپ مسلمان سے کسطرح بہترہیں ، انبیاء تو سب ہی بہتر ہیں کیونکہ وہ رب کی طرف سے مقرر ہوئے ہیں ۔ اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ آپ کے انبیاء بہتر ہیں اور آپ نہیں ہے تو پھر یہ موضوع یہیں پر اختتام پذیر ہو جاتا ہے ۔ انبیاء کو عظمت رب کی طرف سے عطا ہوئی ہے وہ کیا چیز ہے جو آپ کو بہتر بناتی ہے ؟ ہو سکتا ہے وہ اپنی آسمانی کتاب توریت پیش کریں کہ اس میں لکھا ہے ہم عظمت والی قوم ہیں لیکن ہم وہ عظمت آپ میں دیکھنا چاہتے ہیں ۔ تمام آسمانی کتب توریت ، زبور، انجیل اور قرآن کو ایک طرف رکھ دیں اور یہ ثابت کریں کہ آپ بہترین اُمت ہیں ۔چاروں آسمانی کتب رب کی بھیجی گئی ہیں اور ان میں کوئی موازنہ نہیں ہو سکتا سوال یہ ہے کہ آپ تمام امتوں میں کسطرح بہترین ہیں ، اگر آپ سمجھتے ہیں کہ پیسے کی وجہ سے آپ بہتر ہیں تو ایسے بہت سے لوگ ہیں جو رب کو نہیں مانتے دہریے ہیں لیکن ان تمام مذاہب کے ماننے والوں سے ذیادہ اُن کے پاس پیسہ ہے ۔

بنی اسرائیل میں اللہ برادری سے تین انبیاءآئے ہیں :

یں آپ لوگوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ بنی اسرائیل اللہ کی پسندیدہ قوم کیوں ہے ؟ وہ اس حقیقت سے نا آشنا ہیں کہ وہ اللہ کی پسندیدہ قوم کیوں ہیں لیکن ہمیں معلوم ہے ۔ نہ صرف یہ کہ بنی اسرائیل اللہ کی پسندیدہ قوم ہے بلکہ انھیں تمام عالمین پر فوقیت عطا کی ہے کیونکہ ان میں تین انبیاء ایسے آئے ہیں جو اللہ کی طر ف سے نبی کی صورت میں آئے ہیں لیکن اُن کا تعلق عالم غیب سے ہے۔ عیسیٰ ، ادریس اور الیاس کا تعلق اللہ کی برادری سے ہے اور یہ عالم غیب سے یہاں انبیاء کے بھیس میں آئے ہیں ۔ ادریس اور الیاس نے اپنے عالم غیب سےتعلق کے بارے میں کوئی بات نہیں کی لیکن عیسیٰ نے بے باکی سے اپنے جہان کے بارے میں بات کی ہے اور اپنے لوگوں سے کہا کہ ” میں تمھیں ایسے جہان میں لے جاؤں گا جس کا کسی آنکھ نے تصور نہیں کیا ہو گا، کسی دل نے اسکی خواہش نہ کی ہو گی اور نہ ہی کسی کان نے اُس کے بارے میں سنا ہو گا”۔ سوائے قوم بنی اسرائیل کے آدم کی کسی بھی نسل کو ایسے نبی کی صحبت میسر نہیں ہوئی جو کہ اپنی فطرت میں رب کے مساوی ہو۔جب اللہ نے بنی اسرائیل کی قوم کو پہلے ہی عظمت اور پسندیدہ قرار دے دیا ہے تو پھر کسی مسلم امت کی فوقیت کی ضرورت نہیں ہے کہ وہ یہ دعوی کریں کہ وہ بہترین اُمت ہیں ۔

“قوم بنی اسرائیل کو اللہ کی پسندیدہ قوم اللہ نے قرار دیا ہے کیونکہ قوم بنی اسرائیل سے تین انبیاء ایسے آئے ہیں جن کا تعلق اللہ کی برادری سے ہے ، جن کے پاس اللہ کے مساوی طاقت، اختیارات اور فطرت میں بھی اللہ کے ہم پلہ ہیں، جو کہ عالم غیب سے آئے ہیں “

آخر میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آخری نبی بنا کر بھیجا اور اُمت مسلمہ کو منتخب شدہ قرار دیا گیا ہے کہ وہ ہر انسان کو اپنے روحانی مرتبے کے برابر پہنچا دیں گے ۔ضروری تھا کہ روحانیت کی عظمت میں ہر انسان کی شراکت شامل ہو جائے اوردورِ آخر میں اس قوم کے منتخب کرنے کا مقصد یہ تھاکہ یہ گروہ جس کو اللہ نے منتخب کیا ہے یہ دنیا کے ہر گوشے میں پھیل جائیں گے اور رب کی عظمت ہر انسان کے ساتھ بانٹیں گے ۔ قرآن میں ہے کہ كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ ۔۔۔۔ہم نے تم کو لوگوں کے لئے بہترین اُمت بنایا ہے تاکہ تم سب کی فلاح کرواور اپنی عظمت سب کے ساتھ بانٹو۔اوراُن کو بہترین اُمت کیوں منتخب کیا گیا کیونکہ اُن میں سے ایک ہستی اُبھر کر دنیا کے اُفق پر سامنے آئے گی جس کے کئی القابات ہوں گے ، وہ ہستی یہودیوں کی بھی نمائندگی کرے گی ، وہ ہستی عیسائیوں کی بھی نمائندگی کرے گی اور عیسیٰ ، الیاس اور ادریس بھی ان کے ساتھ شامل ہو جائیں گے اور وہ ہستی بذات خود اللہ برادری کی سردار ذات ہو گی ۔ تمام محب ارواح خواہ اُن کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو گااُس ہستی مکرم کے گرد جمع ہو جائیں گے ۔ مسلمانوں میں اُس ہستی کو امام مہدی کے نام سے جانا جاتا ہے ، یہودی اور عیسائیوں میں اُس ہستی کو مشائخ کے نام سے جانا جاتا ہے ، ہندؤوں میں اُس ہستی کو کالکی اوتار کے نام سے جانا جاتا ہے جو کہ سب کو ایک بار پھر حیات بخش دیں گے لیکن وہ کسی بھی مذہب کا حصہ نہیں ہوں گے ۔ وہ سب سے محبت کریں گے اور سب کو اس بات پر مائل کر دیں گے وہ بھی سب سے محبت کریں ۔ وہ ہستی تمام مرسلین سے افضل ہو گی ، یہی وجہ ہے جو بھی اس کی پیروی کرے گاوہ بھی سب سے افضل ہو گا۔ اور وہ دن دور نہیں ہے جب لوگ یہ کہیں گے کہ یہ سب سے بہترین لوگ ہیں کیونکہ یہ کسی سے نفرت نہیں کرتے ، یہ کسی کو نقصان نہیں پہنچانتے ، یہ دوسروں کے مددگار ہیں ، یہ سب سے محبت کرنے والے ہیں اُن کا کسی سے کوئی تنازعہ نہیں ہے ،لوگوں کو خوش کرنے کے لئے وہ ہر چیز کی قربانی دیں گے یہی وجہ سے کہ وہ سب سے بہترین ہیں ۔ کیونکہ اُن کی اپنی کوئی خواہش نہیں ہے ، نہ ہی پیسے کی کوئی ہوس ہے ،نہ اقتدار کی ہوس ہے ،نہ ہی زمین کی ہوس ہے ،وہ یہاں دینے کے لئے آئے ہیں لینے کے لئے نہیں آئے ہیں ، انکی نظر میں لینے والے محتاج ہوتے ہیں ۔ جو لینے والے ہیں وہ ضرورت مند ہوتے ہیں ۔ کیونکہ جہاں سے اُن کا تعلق ہے ان کے پاس اتنا ہے جس کا تم تصور نہیں کر سکتے۔ یہ انسانی بھیس میں یہاں آئے ہیں لیکن اُن کے پاس اتنا ہی اختیار اور تصرف ہے جتنا رب کے پاس ہو سکتا ہے ۔ وہ دن دور نہیں جب ہندو ، مسلم ، سکھ، عیسائی ، یہودی سب ناپید ہو جائیں گے اور اللہ کی قوم آئے گی جس کر ہر فرد غیر معمولی طاقت کا حامل ہو گااور اُن کا مقصد یہ ہو گا کہ وہ ہر انسان کو غیر معمولی اور اپنے جیسا بنا دیں پھر کوئی کسی سے کمتر یا برتر نہیں ہو گا۔ جب سب برابر ہوں گے پھر حسد ختم ہو جائے گا، یہ راز ہے ۔

مندرجہ بالا متن نمائندہ گوھر شاہی عزت مآب سیدی یونس الگوھر کے 9 دسمبر 2017 میں یو ٹیوب لائیو سیشن پر خصوصی گفتگو سے ماخوذ کیا گیا ہے ۔

متعلقہ پوسٹس

دوست کے سا تھ شئیر کریں