کیٹیگری: مضامین

حسن ِالہی کا اظہار،عکسِ اوّل اور طفل نوری کا وجودمیں آنا :

ہم یہ بات بلیک بورڈ پر نقشہ بنا کرسمجھائیں گے کہ جہاں پراللہ کا تخت و تاج ہے، جہاں اللہ تعالی قیام کرتا ہے ، جہاں پر حضور پاکﷺ تشریف لے گئے تھے، جو قاب قوسین کا مقام ہے جو نقطہ ابتداء اور نقطہ انتہاء ہے۔مقام ِاحدیت اور مقام ِمحمدی کے بیچ میں ایک بفر زون ہے، جس طرح دو ممالک کے بیچ میں ایک پٹی ہوتی ہے جسے نو مین لینڈ کہتے ہیں ۔اس بات کو سمجھنے کے لیے آپ کو وہاں جانا ہوگا ۔
مرکز خط عالم احدیت کے عین وسط میں اللہ مقیم ہے اورایک دن اللہ کو خیال آتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو دیکھے کہ وہ کیسا ہے ۔اُس خیال کے آتے ہی جو اللہ کا حسن تھا اُس کا اظہار ہوا ، اب وہ سارا حسن باہرنکلا اور اللہ کے سامنے آ کرمجسم ہو گیا ، اللہ نے جب اپنے حسن کو دیکھا تو وارفتگی کا یہ عالم ہوا کہ اللہ نے اُس عکسِ اوّل کو دیکھ کر سات جنبشیں لیں ، ہندو اُس کو کہتے ہیں کے اللہ ناچا اور فقیر کہتے ہیں جنبشیں لیں ، یہ ناچنا ، یہ محبت کرنا یہ سب اللہ کی اداؤں سے نکلا ہے۔ آج کا مسلمان گھٹیا سوچ کا حامل ہے جو کہتا ہے ناچنا حرام ہے ، موسیقی حرام ہے، حرام نہیں ہے، اللہ کے پہلے مشغلوں میں سے پہلا مشغلہ ہی یہ تھا ۔ جب اللہ نے اپنے آپ کو دیکھنا چاہا توعکسِ اوّل نکلا اور مجسم ہو گیا ، اب دیکھنے کے بعد ہوا کیا ؟
پہلے ہوا ہے اظہار حسن کا پھر جب اس نے اپنا حسن ملاحظہ کیا تو اب پھر ایک اظہار ہو گا وہ اظہارِ وارفتگی ہے، ہر جنبش پر وارفتگی کا نور برآمد ہو گا اور ہرجنبش پر ایک طفل نوری بنا ، سات جنبشیں لیں تو سات طفل نوری ہوگئے۔ اللہ کے بائیں ہاتھ کی طرف عکسِ اوّل ہے اور وارفتگی سے نکلنے والے طفل نوری اللہ کے دائیں طرف ہیں ۔اللہ سے پہلا طفل نوری جو جڑا ہے وہ محمد رسول اللہ کا ہے اور جو دوسرا طفل نوری جڑا ہے وہ عبد القادر جیلانی کا ہے اس کے بعد فرق نہیں پڑتا کہ کس کس کا جڑا ہے!

محمد الرسول اللہ کا طفل نوری اللہ سے براہ راست متصل ہے:

دائیں طرف سےاللہ سے متصل ہونے والوں میں سب سے پہلے محمد رسول اللہ ہیں اور محمد رسول اللہ سے غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ جڑے ہیں ، اب اگر کوئی اللہ تک جانا چاہتا ہے توبراہ راست کیسے پہنچیں گے؟ محمد رسول اللہ کے طفل نوری اور غوث پاک کے طفل نوری کو ہم کہیں گے “وسیلہ “اسی وسیلے کے اندر حبل اللہ جڑی ہے، اب زمین سےاگر کسی نے اللہ تک پہنچنا ہو گا تو زمین پر غوث پاک آگئے وہ غوث اعظم سے متصل ہوگا اور غوث اعظم کا باطنی وجود حضور پاک سے متصل ہے اور حضور پاک کا باطنی وجود اللہ سے متصل ہے وہ، اللہ تک پہنچ جائیگا اور جو غوث اعظم تک نہیں پہنچا یا نہیں مانتا وہ یہیں بھٹکتا رہے گا۔
ولی تو لاکھوں اور کروڑوں آئے ہیں لیکن غوث پاک ہی کو صرف پیران پیر دستگیر کیوں کہا گیا؟ یہ کیوں کہا کہ میرا قدم اُمت کے تمام ولیوں کے کاندھے پر ہے؟ ہر ولی نے غوث اعظم کے قدموں کو اپنے کاندھوں پر رکھا، جب غوث اعظم نے یہ اعلان کیا تھا کہ “میرا قدم حضورکی امت کے تمام ولیوں کے کاندھے پر ہے “، تو اس وقت خواجہ معین الدین چشتی ایران میں جیلان کی پہاڑیوں پر ریاضت میں مصروف تھے، باطنی طور پر انہوں نے جب غوث پاک کی یہ آواز سنی تو اپنی گردن جھکا لی ، اس لیے کہ کوئی بھی ولی کوئی بھی صحابی کا کتنا ہی بڑا مرتبہ کیوں نہ ہو اُس کے پاس طفلِ نوری ایسا نہیں جو کہ غوث پاک کا ہےان کا طفل نوری عالمِ احدیت میں محمد رسول اللہ سے جڑا ہوا ہے، باقی تمام مرتبے نیچے نیچے ہی ہیں وہ راستہ صراط مستقیم والا جو اللہ تک جاتا ہے وہ تو اللہ سے محمد رسول اللہ تک آتا ہے اور محمد رسول اللہ سے غوث اعظم تک آتا ہے ، جس نے غوث اعظم کو نہیں مانا وہ اللہ تک نہیں پہنچا ذلیل و خوار ہو گیا ۔پھر جب غوث اعظم چلے گئے تو اپنا باطنی تصرف و تعلق اپنےمقرر کردہ ولیوں کے پاس رکھا کہ تم میرے سلسلے میں بیعت کرتے رہو لوگ مجھ تک پہنچتے رہیں گے اورمیں انھیں اللہ تک پہنچاتا رہوں گا ۔اس کے بعد کیا ہوا؟ کہ جب امام مہدی نے آنا ہوگا تو غوث پاک اسمِ ذات کی کنجی امام مہدی کے حوالے کر دیں گے۔

امام مہدی اور اللہ کے درمیان وسیلہ حائل نہیں :

اب امام مہدی آ گئے، امام مہدی اللہ کے بائیں طرف کے وسیلے سے ہیں ، جو غوث اعظم سے وابستہ ہوا وہ پہلے غوث پاک تک پھر غوث پاک سے حضور پاک تک پھر حضور کے بعد وہ اللہ سے منسلک ہوگا ، بیچ میں دو وسیلے آ گئے اور جو امام مہدی کے ذریعے اللہ سے واصل ہوگا تو امام مہدی اور اللہ کے بیچ میں کوئی بھی نہیں ہے، یہ جو دائیں طرف والا سلسلہ آ رہا ہے اسی میں سے نبوت بھی آئی ، اسی میں سے ولایت بھی آئی ، اس میں لوگوں نے نبی کا کلمہ بھی پڑھا ، اس میں ولیوں کی بیعت بھی کی اس میں بہت ساری جھنجھٹیں بھی ہوئیں اور اس میں جو آ رہا ہے تو اب امام مہدی نہ ولی ہیں اس لیے کسی کو بیعت بھی نہیں کی نہ امام مہدی نبی ہیں اس لیے کوئی دین بھی نہیں بنایا، امام مہدی نے براہ راست ان کو اللہ تک پہنچا دیا ۔اسی کے لیے حدیث آئی تھی کہ “آخری زمانے میں سورج مغرب سے برآمد ہوگا ” ۔ اللہ کا دایاں مشرق کہلاتا ہے اور اللہ کا بایاں مغرب کہلاتا ہے ۔
طفل نوری کون ہیں؟ جو اللہ کے حسن پر عاشق تھا ، اُس سے تم کو فیض ملے گا تو وارفتگی کا فیض ملے گا اور اگرعکسِ اوّل سے فیض آیا تو پھر تم اللہ کے محبوب اور معشوق بنو گے ، پھر اللہ تم کو چاہے گا۔

“اللہ کے دائیں طرف والے فیض میں لوگوں نے اللہ کی طلب کری، اللہ کو چاہا، بائیں طرف کے فیض میں خریدار خود اللہ ہو گیا “

جس کو امام مہدی کے ذریعے” اللہ ھو” کا اذن مل گیا اب اللہ نےبات چیت نہیں کرنی، کیونکہ وارفتگی کا طفلِ نوری کا فیض جو آیا وہ دین سے ہوتا ہوا آرہا ہے اس میں شرائط ہیں اور جو عکسِ اوّل سے فیض آرہا ہے اس میں کوئی دین نہیں ہے ، سب کے لیے امام مہدی ہیں ! ہندو ہے سکھ ہے، عیسائی ہے ، امام مہدی کوئی دین نہیں لائے اللہ کا عشق زمین پر لائے ہیں اس لیے یہاں سے دین الہی، عشق الہی قائم ہوا۔ کوئی بیعت نہیں کوئی نذرانہ نہیں ، کوئی بندش نہیں کوئی قید نہیں ، کوئی عہدو پیماں نہیں اور پھر فیض کونسا ؟اس سے فیض جس کو دیکھ کر اللہ عاشق ہو گیا ، اگر اُس سے فیض ہوا ہے تو پھر تو جو بھی ہو گا، جہاں بھی ہو گا خود بخود اللہ کی نگاہوں کی تعریف میں آجائیگا۔ کیونکہ تو اُس سے فیض یافتہ ہے جسے دیکھ کر اس نے جنبشیں لی تھیں ، تجھے تو اللہ ردّ کر ہی نہیں سکتا، تو تو اس کے حسن کا شاہکار ہو گیا ۔

دینِ اسلام کے نظام میں ذکر قلب کے لئے وسیلہ حائل ہے:

دینِ اسلام کے طریقےسے ذکرِ قلب لینے میں پہلے آپ کی فائل غوث اعظم کی طرف جائیگی خانہ پوری ہوگی اس کے بعد اگرغوث اعظم کو پسند آئےتو وہ فائل اور آگے بھیجیں گے پھر حضور پاک ہیں ان کو اگر پسند آئے تو وہ فائل کو آگے بھیجیں گے اس میں وقت لگ جاتا ہے، لیکن امام مہدی کے یہاں یوں سمجھ لیں گرین چینل لگا ہوا ہے، جس طرح ایئرپورٹ پر کسٹم کلیرنس کے دو چینل ہوتے ہیں گرین اور ریڈ، ریڈ کا مطلب ہےچیکنگ کروانی ہے اس میں بڑی دیر بھی لگتی ہے، اور گرین چینل کا مطلب ہے بھروسہ کیا ہے کہ یہ کوئی ایسا سامان ہی نہیں لائے، چپ کر کے نکل جاؤ۔ امام مہدی وہی چپ کر کے نکل جاؤ والا چینل ہے ۔ اب یہ چپ کر کے نکل جانے والا کیوں ہے؟
کیونکہ یہاں سے جو جائیں گے نہ وہ کسی دین کے نہ کسی فرقہ کے ہیں بس اللہ کے متلاشی ہیں تو چپ کرکے آ جاؤ، خاموشی سے چپکے چپکے آ جاؤ،جیسے ہی تم امام مہدی سے ملے ادھر امام مہدی اللہ سے ملے ہوئے ہیں وہاں کوئی دیر ہی نہیں لگی۔جو لوگ دائیں وسیلے سے لگے ان کے اور اللہ کے درمیان دو وسیلے اور بھی ہیں ، اگر کوئی اللہ کے انتہائی قرب میں بھی چلا جائے تو پھر بھی اللہ کا اتنا مقرب نہیں ہوسکتا جتنا دوسری یعنی بائیں طرف سے جانے والا ہے، کیونکہ یہاں بیچ میں کوئی وسیلہ ہی نہیں ہے براہ راست اللہ سے واصل ہو رہا ہے، یہ تکنیکی باتیں ہیں جن کو سمجھنا ہوگا۔

“طفل نوری سے جو فیض ہوا تھا وہ فیض ناچنے گانے والا فیض تھا اور بائیں طرف اللہ معشوق بن کر بیٹھا ہے،وہ عاشق کا فیض ہے اور یہ اللہ کے معشوق ہونے کا فیض ہے ، جس کو امام مہدی سے اُس عشق کا ایک قطرہ بھی مل گیا تو پھر اُسےنظام الدین اولیاء کے پاس دہلی جانے کی ضرورت نہیں کیونکہ اب تو وہ خود ہی محبوبِ الہی ہے۔ پھر تجھے عشق کے لیے سہون جانے کی ضرورت نہیں ہے، کہاں سہون اور کہاں تو، کہاں قلندر اور کہاں تو! تجھے فیض وہاں سے آ رہا ہے جس کو دیکھ کر اللہ نے وارفتگی میں سات جنبشیں لیں ،تو وہاں سے فیض یافتہ ہو گیا ہے”

اللہ کا دین کب قائم ہوا؟

تو بائیں طرف سے جو قائم ہو رہا ہے وہ اللہ کا دین ہے ۔اللہ کا دین کب قائم ہوا تھا؟ جب اللہ کو خیال آیا کہ دیکھوں میں کیسا ہوں، اگر تو چاہتا ہے کہ اُس لمحے میں داخل ہو جاؤں کہ جب اللہ کو خیال آیا کہ دیکھوں میں کیسا ہوں اور اُس کا حُسن مجسم ہو گیا ، جو اُس لمحے میں داخل ہونا چاہتا ہے وہ پھر دین الہی اختیار کرے، اسکی روح وہیں پہنچ جائے گی، وہ اُن ہی احساسات ، اُن ہی محسوسات میں چلا جائے گا، کون سا احساس؟ وہ احساس جو اللہ کے دل میں آیا تھا، کہ میں اپنے آپ کو دیکھوں میں کیسا ہوں ،اور پھرجب اسکا حُسن مجسم ہو کر اسکے سامنے آیا تو اب دیکھ لیں اسکا اثر اللہ پر کیا ہوا تھا، سات دفعہ جنبشیں لی اور ہر جنبش پر انوار و تجلیات اُچھٹ اُچھٹ کر گریں اور مجسم ہو کر ایک ایک روح بنتی گئی جس کو طفلِ نوری کہتے ہیں اور جس انسان میں وہ طفل نوری آ جائے اُسے سلطان الفقراء کہتے ہیں اور سلطان الفقراء وہ ہے جس کو اللہ کی تصویر کہتے ہیں اُس کو دیکھا تواللہ کو دیکھا ، اُس کو کھلایا تو اللہ کو کھلایا، اگر اُس کو اللہ کا بندہ کہا تو قابل معافی ہے اللہ کہا تو حق کہا! اسی کے لیے حضور پاک کی حدیث آئی کہ ؛

فاإذا تم الفقر فهو الله
المواھب سرمدیتہ ، ص 124 اور الانوار القدسیتہ، ص 132
ترجمہ:جو فقر میں کامل ہو گیا پھر وہ اللہ ہی ہے۔

اللہ کا بندہ سمجھنا قابل معافی ضرور ہے لیکن گناہ کے برابر میں کھڑی ہے یہ بات! فقر میں کامل صرف وہ ہوتا ہے جس میں طفل نوری آ جائے۔ فقر میں کامل ہونا کیا ہے؟ سر سے پاؤں تک فقر آنا ہےاور سر سے پاؤں تک فقر صرف اس وقت آتا ہے جب طفل نوری سر سے پاؤں تک انسان کے رگ و پے میں سرائیت کرجاتا ہے۔ اسکا چلنا اللہ بن جائے ، اسکا بولنا اللہ بن جائے، اسکی پکڑدھکڑ اللہ بن جائے۔ اگر وہ کسی کی گرفت کر لے تو زمین پراسکی گرفت اللہ کی گرفت قرار پائے۔ اگر وہ کسی جہنمی کو ایک نظر محبت سے دیکھ لے تو چالیس سال تک اُس کےاوپر کسی قہر کا اثر نہ ہو ، یہ ہے فاإذا تم الفقر فهو الله ، یہ یہاں کی بات ہے تو وہاں کی کیا ہوگی؟ وہاں قوانین نہیں ہیں وہاں بس مستی الستی ہے، وہاں گناہ نہیں ہے، وہاں ناں نہیں ہے، کیونکہ جس کو دیکھ رہا تھا اس وقت اسکو خود ہوش نہیں ،اب سوال کیا پوچھےگا جو اُدھر سے آیا تو!جو ادھر سے آیا ہے جس سے بڑی شدت کی محبت ہو کوئی اسکے پیچھے آکرکھڑا ہو جائے تو کہاں اس کو ڈانٹو گے۔جس سے شدت کی محبت ہو اس کو ڈانٹا کیسے جائے؟ اس کو ڈانٹا نہیں جاتا اس کو بس پروں میں چھپا لیتے ہیں۔یہ ہے سیدنا گوھر شاہی کا فیض۔

جو امام مہدی سے ٹکرا گیا وہ عشق ہی عشق ہے:

عکسِ اوّل ! یہاں کوئی وسیلہ بیچ میں نہیں ، یہاں پر تو حضور پاک کے بعد غوث پاک ہیں ، تجھے اگر امام مہدی سے عشق الہی کا فیض ملا ہے توتجھے قرب ِالہی کم سے کم اتنا ملے گا جتنا شیخ عبد القادر جیلانی کو ملا ہے، کیونکہ وہاں حضورﷺ کے ساتھ جو طفل نوری چمٹا ہوا ہے وہ عبد القادر جیلانی کا ہے،توعبد القادر جیلانی اور اللہ کے بیچ صرف حضور ؐرہ گئے اور اگر تو یہاں سے گیا تو پھر تو چمٹا امام مہدی کو اور امام مہدی اللہ سے چمٹے ہوئے ہیں، یہاں بیچ میں حضور ہیں اور وہاں بیچ میں مہدی ہے ، یہاں آخر میں غوث پاک ہیں اور یہاں تو ہے۔اتنا ہی قرب ملے گا جتنا اِس طرف غوث اعظم کو قرب ملا تو اگر امام مہدی سے چمٹ گیا ، ٹکرا گیا تو پھر عشق ہی عشق ہوگیا ۔ وہاں شیخ عبد القادر جیلانی حضور سے چمٹے ہوئے ہیں اور حضور اللہ سے چمٹے ہوئے ہیں بیچ میں ایک وسیلہ ہے یہاں توامام مہدی سے ٹکرایا ، امام مہدی اللہ کی ذات سے پیوستہ ہیں وہاں بیچ میں امام مہدی، یہاں غوث اعظم کے بیچ میں محمد رسول اللہ کی ذات ہے تو نے یہاں آ کر وہ مقام حاصل کر لیا جو وہاں کھڑے ہوئے حاصل ہوا، اب فرق یہ رہ گیا غوث اعظم حضور سے چمٹ گئے اور حضور اللہ سے یہ تو انتہائی مقام ہو گیا اب فرق کیا رہا ؟ فرق یہ ہوا وہاں چمٹنے والوں کو وارفتگی ملی اور یہاں چمٹنے والوں کو وہ ملا جس کے نتیجے میں وارفتگی کا اظہار ہوا تھا یہ بعد میں جنم لینے والی چیزیں ہیں ، یہ حادث ہے وہ قدیم ہے ، یہ حادث کے ماننے والے ہیں جن کو ادیان میں وسیلہ ملا ہے اور یہ قدیم ہے جس میں وسیلہ نہیں ہو سکتا ۔امید ہے سمجھ آ گیا ہو گا نہ بھی آئے تو خیر ہے نور سینوں میں چلا گیا ہے کیونکہ جس نےسمجھنا ہے اس نے تو وہاں جانا ہی نہیں ہے اور جس نے وہاں جانا ہے اس کو بھر دیا ہے۔دائیں طرف کا فیض وارفتگی کا ہے، یہ طفل نوری تالیاں بجانے والے تھے تم کو تالیوں کا فیض ہوا ہے اور یہاں بائیں طرف سے جو جا نے والے ہیں یہ اسکو دیکھ رہے ہیں جس کو دیکھ کر طفلِ نوری تالیاں بجا رہے تھے، یہ اس کو دیکھ رہے ہیں یہ اُس سے واصل ہو گئے ہیں کہ جس کو دیکھ کے وہ ناچا ،اِنہوں نے تالیاں بجائیں ، تم ان کے چیلے ہوگئے اور وہ معشوقِ اول رہی ، کون فائدے میں ہے؟ اب تو کہنا پڑے گا ، یہ کتنی بڑی خوش قسمتی ہے کہ ہم سرکار گوھر شاہی کے نعلین مبارک سے پیوستہ ہو گئے۔
یہ وارفتگی ، یہ طفل نوری ، تماشائی ہیں ، حسن کو دیکھ کر واہ واہ کرنے والے ،کہ کیا حسن ہے ، کیا حسن ہے، اس ادا میں نور نکلا تو طفل نوری بن گئے، ارے اسکا تو سوچو جس کے لیے تالیاں بج رہی تھیں ، اگر اس سے پیوستہ ہو گئے تو کیا ہو گا! لہذا امام مہدی کی زمین پر جو بھی نشانی اتری اللہ نے اس کو کہا یہ میری نشانی ہے۔

سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنفُسِهِمْ حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ
سورۃ فصلت آیت نمبر 53
ترجمہ : ہم انھیں اپنی نشانیاں آفاق عالم میں بھی دکھائیں گے اور خود اُن کی ذات میں بھی حتی کہ وہ کہہ اُٹھیں کہ یہی حق ہے۔

اس وقت تک نشانیاں دکھاتے رہیں گے کہ جب تک وہ یہ کہہ نہ اُٹھیں کہ یہ ذات ِگوھر شاہی ہی حق ہے۔سیدنا گوھر شاہی کا کرم دیکھیں ، لوگ انٹرنیٹ پر گفتگو سنتے ہیں سرکار خواب میں تشریف لےآتے ہیں ، کسی کے دل میں اللہ بسا دیتے ہیں ، لوگ سو رہے ہوتے ہیں گھر والے اس کے دل سے ہونے والی اللہ اللہ کو سنتے ہیں،یہ پہلے کہاں ہوا تھا؟ یہ مغرب سے اٹھنے والی شعاؤں کا اثر ہے ۔ یہ عکسِ اوّل کا فیض ہے، یہ اُسکا فیض ہے جس کو تالیاں بجانے کے لیے دین بنے تھے، یہ تالیاں بجانے والے ہیں ان کے جن کا فیض اب ہو رہا ہے سینوں میں ۔

امام مہدی جو اسم اللہ عطا فرما رہے ہیں اُس میں اسم اللہ کی روح موجود ہے:

حدیث میں آیا کہ” مستقبل میں سورج مغرب سے طلوع ہو گا”، لوگوں نے سمجھا کہ یہ ظاہری سورج کی طرف اشارہ ہے، جب سورج مغرب سے نکلے تو سمجھو قیامت آ گئی ہے، لیکن اسکا یہ مطلب نہیں ہے ، سورج وہیں سے نکلتا رہے گا جہاں سے نکلتا ہے، یہ باطنی سورج کی طرف اشارہ ہے اور وہ جو مغرب سے سورج نکلنے کی بات ہے وہ نکل چکا ہے اور وہ سورج یہ نہیں دیکھتا کہ تمہارا دین کیا ہے اُسکو صرف یہ دیکھنا ہے کہ کیا تم اللہ کو چاہتے ہو ، اللہ سےعشق کرنا چاہتے ہو تو بس آ جاؤ ، محبت کی بات نہیں کرو عشق کرنا چاہتے ہو اللہ کا تو آ جاؤ۔ جس کو بھی اللہ کا عشق چاہیے وہ آجائے سیدنا امام مہدی کی چوکھٹ پر اور جو ذکر قلب سے بات شروع ہو رہی ہے کہ اللہ ھو کا ذکر قلب اس کو پہلے دیا جائے ، اب یہاں ایک چیز اور ہے یہاں پر غور کرنے کی ضرورت ہے ، ہوسکتا ہے آپ کو جھٹکے لگیں ہوسکتا ہے کہ آپ کے تصورات کا عالم کرچی کرچی ہوجائے ، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آپ انتہائی مسرت کا شکار ہو جائیں ، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وارفتگی حد سے گزر جائے۔یہ جو اللہ ھو امام مہدی سرکار گوھر شاہی عطا فرما رہے ہیں اس نامِ خدا میں اور وہ اللہ ھو جو اُس سلسلے سے آیا ہے اس میں بھی فرق ہے!

“جب اللہ کا یہ سوچنا کہ اپنے آپ کو دیکھوں تو ایک عکس بن گیا تو ذرا خود سوچیں اللہ کا اسم بھی تو اللہ کی ذات کے ساتھ ہے جسطرح اللہ کا حسن باہر آیا اسی طرح اللہ کا اسم بھی باہر آیا اور اسم الہی کی روح عکسِ اوّل کے ساتھ کھڑی رہی، اس میں جو اسم آیا اس میں تحریراً اور نورانی طور پر ہوا، اور جو اسم اللہ امام مہدی سے آ رہا ہے اس اسم میں اسم اللہ کی روح موجود ہے، وہی روح جو تحت الثری سے لیکر عرش اعلی تک موجود ہے “

جب ایک مرتبہ ہم نے لوح محفوظ کو ایسے ہی دیکھ رہے تھے تو پہلے صفحے پر اسم اللہ لکھا دیکھا تو پوچھا کہ اس اسم اللہ کی حقیقت دکھائیں کہاں ہے؟ تو اس کی حقیقت دکھائی ، پوری کائنات اسم اللہ پر ٹکی ہوئی ہے، نیچے تحت الثری سے لیکر عرش اعلی تک اسم اللہ ہے اور بیچ میں ایک پلر اورمرکز کا کام کر رہا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ نے فرمایا

اللَّـهُ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ
سورۃ النور آیت نمبر 35

یہ اُسی اسم ذات اللہ کے لیے کہا ۔ وہ اسم اللہ جس میں روح ہے وہ عکسِ اوّل کے پاس ہے، وہ اسم جو اُس سلسلے سے آ رہا ہے وہ اسم اللہ کا چھلکا یا دھان ہے جیسے چاول پر دھان ہوتا ہے، یہ اسم مذاہب کے ذریعے آیا اور جو غوث پاک نے تم کو دیا اور وہ جو دھان کے اندر چاول ہے یعنی اسم اللہ کی روح جس کو کہیں اسم با مسمی ، وہ اسم اللہ ایسا ہے کہ اگر وہ اسم ِاللہ عالم احدیت میں کھڑا ہو جائے تو اس کی ہیئت ، شکل و صورت اللہ جیسی ہے، وہ اسم اللہ اگر اپنی روح کے ساتھ کھڑا ہو جائے تو پتا نہ چلے کہ سامنے اللہ کا اسم ہے یا اُس کی ذات ہے کیونکہ اسکے اسم کا وجود بھی ویسا ہے جیسی اسکی ذات ہے۔اسی اسم ذات اللہ کے لیے ہے سورۃ الشعراء میں اللہ نے کہا

أَفَمَن شَرَحَ اللَّـهُ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ فَهُوَ عَلَىٰ نُورٍ مِّن رَّبِّهِ
سورۃ الزمر آیت نمبر 22

اوروہ شخص جس کا سینہ اسم اللہ سے کھل گیا ،اور یہ جو اسم غوث اعظم کی معرفت اُمت کو ملا وہ تحریر والا ہے اور یہ اسم جو ہے یہ تقریر والا ہے۔ یہ اِسم اللہ دلوں پرنقش ہوتا ہے اورو ہ اسم اللہ گفتگو کرتا ہے، بولتا ہے زبان بن جائے گا، اِس اسم اللہ اور اُس اسم اللہ میں یہ فرق ہے۔جو اسم اللہ امام مہدی بانٹ رہے ہیں یہ اسم با مسمی ہے، یہ اسم دل میں اللہ کی تصویر جیسا نظر آئیگا۔قرآن شریف نے کہا

أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّـهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ
سورۃ یونس آیت نمبر 62

یہ بڑی اہم بات ہے یہ اللہ نے ولیوں کے لیے کہا ، وہ ولی جنہوں نے اللہ کا دیدار کر لیا انکو کوئی خوف نہیں ۔اور مزے کی بات دیکھیں کہ جس نے امام مہدی سے اسم ذات اللہ ھوکا ذکر لیا اور وہ چل گیا تو وہ ذاکر قلبی عاشقِ الہی کے برابر ہے کیونکہ اُس کے قلب میں وہ اسمِ ذات اللہ ھو ہے جسکا اپنا وجود ہےجب جی چاہے گا آنکھوں کے سامنے آکر کھڑا ہو جائیگا کیونکہ یہ اسم ذات امام مہدی نے اپنے حصےسے دیا ہے تو ہے تو وہ اسمِ ذات لیکن اسکا پورا وجود اوراسکی روح ہے، وہ آکر سامنے کھڑا ہو جائیگا تو کبھی لگے گا کہ یہ اللہ کی ذات ہے کبھی بھی وہ اسمِ ذات تحریر میں نظر نہیں آئیگا۔
یہ بات سمجھنا بڑا ضروری ہے کہ جس کو اسم ذات اللہ ھو سرکار گوھر شاہی امام مہدی اللہ ھو دیا ہے اسکو اپنے دل پر اسم ِذات لکھا ہوا کبھی نظر نہیں آئے گا کیونکہ وہ تحریر میں نہیں ہے وہ اسم ِبا مسمی ہے، لیکن جس کو وہ اسم ذات حاصل ہو گیا وہ جنت الفردوس کا حق دار ہےاور اسکا ذکر ایسا ہے کہ پانچ دفعہ دل دھڑکے، پچاس دفعہ یا ڈیڑھ لاکھ دفعہ، اُس اسم کی برکت سےاس کا روزآنہ کا ذکرسوا لاکھ متصوّر ہوگا۔ سوالاکھ عبادت کی حد ہے اس کے بعد عبادت نہیں ہے قلم ٹوٹ گیا ۔ بھلے وہ گناہ بھی کرے ، یوم محشر میں جب اسکا گناہوں سے بھرا ہوا اعمال نامہ پیش کیا جائے گا تو اللہ تعالی سوال کرے گا کہ کتنے بجے گناہ کیا تھا تو کہا جائے گا اتنے بجے گناہ کیا تھا ، جبرائیل سے اللہ پوچھے گا کہ تم بتاؤ تو وہ کہے گا غلط کہہ رہا ہے ، اس وقت تو اسکا دل اللہ اللہ کر رہا تھا ، یہ گناہ کہاں کر رہا تھا ۔

” ایک تو اللہ ھو کا دھڑکنوں میں مکس ہونا ہے ، مکس اس لیے کے وہ ذکر رگڑا کھائے گا تو نور بنے گا لیکن یہ اسم اللہ نور بنانے والا نہیں ہے نور بنانے کی محتاجگی اس اسم اللہ کو نہیں ہے بس وہ اسم اللہ آ کر تیری مخلوق لطیفہ قلب کو قبضے میں کر لے گا اور بیٹھا رہے گا اور اللہ ھو اللہ ھو کی آوازیں آتی رہیں گی”

امام مہدی گوھر شاہی اسم ذات ، اسم بامسمی والا تقسیم فرما رہے ہیں:

جس طرح تمہارے دل کی دھڑکنیں ہیں اسی طرح زمین کا بھی ایک مغز ہے،مرکزہے اوراس کی دھڑکن بھی ہے اس دھڑکن کی وجہ سے کشش ثقل ہے، جب تیرے دل میں وہ اسم اللہ بس گیا جو امام مہدی نے عطا کیا ہو گا تیرے دل کی دھڑکن کایہ زمین پیچھاکرے گی۔ تو زمین پر کھڑا ہو گا تو کبھی تو کہے گا زلزلہ آرہا ہے کبھی زمین کہے گی وہ ہل رہی ہے۔غوث پاک نے کہا پوری کائنات ڈھائی قدموں کا فاصلہ ہے اور اگر وہ اسم اللہ ذات تیرے اندر آ گیا تو تو کہے گا زمین کہاں ہے کائنات کہاں ہے یہ تو میرے دل میں کہیں چلی گئی ہے۔ وہ اسم ذات کسی کو نہیں ملا۔ ایک تو دیدار والا اسم ذات تھا وہ تو مل گیا ، یہ وہ اسم ذات ہے جس کے بارے میں ہے کہ وہ رب کا ایک خاص اسم عطا کرے گا جو کسی کو نہیں ملا اس لیے نہیں ملا کہ یہ جو اسم ذات رب کا اسم با مسمی ظاہر ہوا اس کو امام مہدی کے لیے روکے رکھا اسکی تحریر نہیں تھی ،اس کی تحریر الگ تھی پھر امام مہدی کا جو “را” تھا جب وہ عالم غیب سے آیا جس کا اللہ کو بھی انتظار تھا اس نے کہا مجھے کلمہ سبقت کا انتظار ہے وہ ” را” تھا جب وہ “را” اسم اللہ کے ساتھ لگا تب وہ پورااسم ذات اللہ ہوا ! جب یہ پورا اللہ ھو ہو گیا تو یہ نہ اِدھر کا نہ اُدھر کا دونوں طرف کا ہو گیا پھر جس کے دل میں یہ “را” والا اسم اللہ گیا تو پھر وہ عالم احدیت بھی گیا ، عالم غیب بھی گیا ۔تو یہ جو اسم ذات “اللہ ھو” ہے یہ امام مہدی کے پاس بھی ہے اور اگر آپ چاہیں کہ مجھے اسلامی طریقے سے ذکر قلب ملے توپھرغوث پاک، حضور پاک سے ہوتا ہوا ملے گا اور وہ اسم ذات اللہ تحریری ہےاور یہ اسم ذات اللہ اسم با مسمی اور جسمی ہے ، جو اسم ذات اللہ ھو امام مہدی عطا کر رہے ہیں یہ اللہ کے اسم کا جسہ قولی ہے جب یہ تیرے سینے میں چلا گیا تو پھر کتاب مقدس دین الہی میں سرکار گوھر شاہی نے لکھ دیا کہ پھر تیرا شمار اُن ہی میں ہے جن کے لیے کہا لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ اُس سلسلے کے دیدار الہی والا ولی اور اس سلسلے کے ذاکر قلبی مرتبے میں برابر ہیں بلکہ ادھر والے ذاکر قلبی کا پلڑا بھاری ہو گا کیونکہ اس کے پاس اسم با مسمی ہے۔ایک امام مہدی کے سلسلے والا اللہ ھو ہے ایک دین اسلام والا اللہ ھو ہےتم فیصلہ کرو تم کو کیا چاہیے!!
اگر امام مہدی والا اسم اللہ چلا گیا تو پھر تم بہکی بہکی باتیں کرو گے کبھی جن ولیوں کی جوتیاں اٹھاؤ گے پھرجب وہ اسم ذات اپنی آب و تاب پر ہوا تو اس ولی کو کہو گے تم جیسے منافق بہت ہیں چلو ادھر سے تم کون ہو، کیونکہ وہ اسم اللہ شکل صورت والا ہے وہ مقام وصل والا ہے اس اسم والا صرف ذاکر قلبی نہیں رہتا مقام وصل میں چلا جاتا ہے ۔ وہ اسم اللہ جب تیری نسوں میں جائے گاتو اللہ تیرے وجود میں چلا گیا نا اگر اللہ تیری نسوں میں اتر گیا تو تو وصل میں چلا گیا نا۔اُسی کے لیے پھر کہے گا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے یہ پکڑے گا، زبان بن جاتا ہوں جس سے یہ بولے گا ، آنکھیں بن جاؤں گا جس سے یہ دیکھے اگ، جب ایسا ہو جائے گا تب ہی دنیا میں اللہ کا دین قائم ہو گا نا اور یہ تب ہی ہوگا نا جب اُدھر کی چیزیں اِدھر آئیں گی، تو اب اوپر اللہ کا دین جو قائم ہوا وہ یہ ہے کہ وہ اسے دیکھے اور وہ اسے دیکھے وہی چیزیں جب زمین پر آئیں گی تب ہی ایک دوسرے کو دیکھیں گی نا۔ اگر وہ چیزیں اوپر ہی رہیں تو نیچےکیسے اللہ کا دین قائم ہو گا ، اللہ کا دین اوپر ہی رہے گا نا۔ اچھا کام یہ ہوا کہ جب امام مہدی نیچے آئے تو سارا سامان گٹھری میں باندھ کر نیچے لے آئے کہ اب عام آدمی تو اوپر جا نہیں سکتا چلو یہ دکان ادھر ہی لگا لیں ۔ایک بڑھیا نے کہا تھا یہاں بازار مصطفی لگے گا اس کو کیا پتا کہ یہ بازار مصطفی نہیں بازار الہی لگ گیا ۔اگر وہ اسم ذات اندر چلا گیا اب تجھے اللہ اور اس کے عشق میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں بس یہی کافی ہے۔ پھر سارے مرتبے پیچھے رہ گئے ، قسم اللہ کی پھر سلطان بھی پیچھے رہ گئے!! کیونکہ یہ تو وہ اسم ہے جس کو دیکھ کر اللہ خود جنبش بر اندام ہوا تھا اس تک تو وہ پہنچ ہی نہیں پائے اسی اسم کے لیے حضور نے کہا تھا رب زدنی علما اب وہ آگیا ہے تو کرم ہی کرم ہے۔ علامہ اقبال نے بھی کہا تھا
دنیا کو ہے اس مہدی برحق کی ضرورت
ہو جس کی نظر زلزلہ عالم افکار

علامہ اقبال کو جو لوگ مانتے ہیں تو وہ ان کی یہ بات بھی مانیں کے امام مہدی کی نظر ایسی ہو گی کہ وہ عالم افکار میں زلزلہ لے آئیں گے اور آج تم کو وہ زلزلہ محسوس ہو رہا ہو گا لیکن یہ چھوٹے موٹے جھٹکے ہیں ریکٹر اسکیل پر 1/1 کے جھٹکے ہیں ابھی تو 10 اور 12 کے جھٹکے بھی آئیں گے ، جیسے جیسے تمہارے اندر جھٹکوں کو برداشت کرنے کی ہمت آئے گی جھٹکوں کی شدت بھی بڑھ جائیں گے۔ اب یہ جھٹکا نہیں ہے کہ ایک طرف فضیل بن عیاض نےساری زندگی جنگل میں پتے کھاتے گزاری کہ اللہ کا دیدار ہو اور دوسری طرف عام گناہ گار آدمی جسے گوھر شاہی کا پتا چلا وہ پہنچا بھی نہیں internet پر ہی سنا اور وہ خواب میں آ گئے اور وہ والا اسم ذات دے کر چلے گئے جو نبیوں کو بھی نہیں ملا۔ وہ اسم ذات اگر مل گیا تو اللہ اور اسم بامسمی ایک ہی ہے، وہ اسم اللہ جس کو ملا اسے وہی اللہ ملا جو قدیم ہے اور جس کو تحریر والا ملتا تھا اس میں تو مرتبہ الٰہ اور معبود ہی سے بات ہو گی اللہ کی ذات سے تو مخاطب نہیں ہو سکے گا۔ اور وہ اللہ جو مخلوق بنانے سے پہلے والا اللہ ہے اس سے فیض ہو گا نا تو پھرتخلیق سے ایک قدم آگے چلا گیا ۔تحریر والا اللہ بننے یا تخلیق کے مراحل سے گزرا ، اور اس نےاسم بامسمی کو اپنے سامنے موجود پایا ، اس اسم کے ذریعے تو ادھر اسی گروپ میں چلا گیا جو ازل سے پہلے والی روحیں ہیں ، اس علاقے میں چلا گیا جہاں قرب جلوے اور محبت والی روحیں ہیں ۔اب یہ تو بہت بڑا کرم ہو گیا !!
کچھ لوگوں نے ہمیں کہا ہے کہ ذکر قلب لینے کے بعد بھی ہمارا ذکر چل نہیں رہا ہے ۔ ذکر قلب کی نعمت حاصل کرنے کے خواہشمندوں کو لٹکانے سے بہتر ہےکہ ہم یہ جملہ کہہ دیں کہ” ذکر قلب تو میسر ہے اگر تم نے اسلام کے طریقے سے لینا ہے تو اسکا انتظار کرو جب اسکی منظوری اللہ کی طرف سے آئے گی اُس وقت ذکر چلے گا اور اگر تم انتظار نہیں کر سکتے فوری طور پر چلانا ہے یعنی ذکر قلب امام مہدی کے طریقے سے لینا ہے تو اس کی گارنٹی موجود ہے فورا چل جائے گا”۔

مندرجہ بالا متن نمائندہ گوھر شاہی عزت ماب سیدی یونس الگوھرسے 28 اگست 2017 کی یوٹیوب لائیو پر کی گئی گفتگو سے ماخوذ کیا گیا ہے۔

متعلقہ پوسٹس

دوست کے سا تھ شئیر کریں