کیٹیگری: مضامین

کچھ دنوں پہلے پاکستان کے ایک ٹی وی چینل پر غالباً بول علماء کا ایک پینل بیٹھا تھا اور ہندوستان سے کسی مسلمان نے کال کی اور اس میں جو ہے ذاکر نائک کا حوالہ دیا۔ ذاکر نائک کے حوالے سے کہا کہ بھئی اُس کے مطابق حضورﷺ سے مانگنا بھی شرک ہے اور یہ کہ محمد رسول اللہ جو ہیں ْ میں تو ایسے الفاظ استعمال نہیں کرسکتاٗمفہوم یہ تھا کہ بھئی نبی کریم ﷺ تو اس دنیا سے چلے گئے ہیں اب وہ کسی کی کوئی مدد نہیں کرسکتے ۔ تو اس کے اوپر جو ہے بڑا شور اُٹھا۔اور پھر پاکستان سے ذاکر نائک کے جو ہم خیال وہابی فرقے کے جو علماءہیں انہوں نے بڑا اُودھم مچایا اور انہوں نے قرآن کی آیتیں پیش کرکر کے اپنی دانست میں یہ سچ ثابت کردیا کہ حضوؐر (معاذ اللہ) اس دنیا سے چلے گئے ہیں اور اب کچھ نہیں کرسکتے۔ اور دوسرا یہ کہ قرآن کی آیت کا کوئی حوالہ دیا ہے اب نجانے وہ کون سی آیت ہے لیکن مفہوم یہ ہے اُس کا کہ اگر حضور ﷺ کا انتقال ہوجائے تو کیا تم دین کو چھوڑ دوگے؟ جب سے انہوں نے یہ قرآن کی آیتوں کے حوالے دئیےہیں تو وہ جو سُنی علماء ہیں خاموش بیٹھ گئے ہیں۔ کوئی بول نہیں رہا۔ میں سوچ رہا تھا کہ کوئی آگے آئے بولے لیکن کوئی بولا نہیں۔ اب چونکہ کوئی بول نہیں رہا تو اس سے عالم اسلام یہ تاثر قائم ہوجائے گاکہ جیسے معاذ اللہ حضورﷺ اس دنیا سے رخصت ہونے کے بعد مدد نہیں کرسکتے۔
میرا یہ ماننا ہے کہ حضور نبی پاکﷺ کی ذاتِ والا ،آپ کی حیات اور آپ کی طاقت اور پھر حضوؐر کے ہاتھ ا ُمتیوں کی مدد کرنے کا جو عمل ہے اُس کو قرآن کی مدد سے سمجھا نہیں جاسکتا کیونکہ نبی کریمﷺ کا جو تعارف قرآن میں پیش کیا گیا ہے وہ تعارف اِس طریقے سے پیش کیا گیا ہے کہ صرف اُس کو پڑھ کر وہی آپ کو سمجھا سکتا ہے جو صاحبِ قرآن ہو، جس کے سینے میں نبی پاک ﷺ کے سینے سے نکلا ہوا ہے قرآن آیا ہے۔ کوئی بدبخت اگر یہ کہتا ہے کہ معاذااللہ ثم معاذ اللہ ، نقلِ کفر کفر ناباشد، حضورﷺ کا وصال ہوگیاہے اور اب وہ کسی کی مدد نہیں کرسکتے اور پھر قرآن کی اس آیت کو دلیل بنا کے پیش کردے کہ ہاں انتقال تو ہونا تھا ہوگیا تو میں سمجھتا ہوں کہ یہ حضورﷺ کی بارگاہ میں انتہائی درجے کی گستاخی ہے لیکن جن لوگوں کا تعلق باطنی علوم سے نہیں ہے جو باطنی علم جانتے نہیں ہے جو اصفیا،صالحین صدیقین اور اہلِ نظر ہستیوں میں سے نہیں ہیں وہ قرآن مجید کی تعلیم اورحضور ﷺ کے تعارف کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ سیدنا امام مہدی سرکار گوہر شاہی نے جو باطنی علوم ہم پر افشاں فرمائے ہیں اُن علوم کی روشنی میں ہم نبی پاکﷺ کی حیاتِ طیبہ کی کامل تشریح بیان کریں۔ ایک عام آدمی مرتا ہے تو کیا ہوتا ہے ایک مومن مرتا تو کیا ہوتا ہے اور ایک ولی اس دنیا سے رخصت ہوتا ہے تو پھر کیا ہوتا ہے اور اُس کے بعد اگر کوئی نبی اس دنیا سے رخصت ہوتا ہے تو پھر کیا ہوتا ہے اور اگر امام الانبیا ءسید المرسلین خاتم النبین محمد رسول اللہ ﷺ جب اس کائنات سے رخصت ہوتے ہیں تو پھر کیا ہوتا ہے؟

انسانی جسم ارضی اور سماوی ارواح کا مرکب ہے:

انسان کو اللہ تعالیٰ نے دو قسم کی ارواح کا مرکب بنایا ہے،سماوی ارواح اور ارضی ارواح۔ارضی ارواح کیا ہیں؟ جب ماں کے پیٹ میں نطفہ پڑتا ہے تو اُس نطفے کوگوشت کا لوتھڑا بنانے کے لئےجمادی روح اللہ کی طرف سے ڈالی جاتی ہےجس سے اُس میں جمود آجاتا ہے ، سخت ہوجاتا ہے۔ پھر اُس کی نشونما کے لئے روحِ نباتی ڈالی جاتی ہے جس سے اُس کی نشونماشروع ہوجاتی ہے اور چھ مہینے تک ماں کے پیٹ میں روحِ جمادی اور روحِ نباتی ہی رہتی ہے۔ چھ مہینے کے بعد جب وہ نطفہ ایک موٹی سی گیند کی طرح ہوجاتا ہے تو اُس میں پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے روحِ حیوانی ڈالی جاتی ہے روحِ حیوانی جو ڈالی جاتی ہے روحِ حیوانی کے آنے سے پھر اُس نطفے کے جسم کی بناوٹ شروع ہوتی ہے ۔ شکل بننا ،ہاتھ پاؤں کا بننا، پورے وجود کا بننا روحِ حیوانی کی موجودگی کی وجہ سے ہوتا ہے ۔ روحِ حیوانی کے اندر اللہ تعالیٰ نے ایک تو شکل و صورت رکھی ہے دوسرا حرکت رکھی ہے روحِ جمادی اور روح نباتی میں حرکت نہیں ہے۔ پہاڑوں میں روحِ جمادی ہوتی ہے اور درختوں میں پودوں میں روحِ جمادی اور روحِ نباتی دونوں موجود ہوتی ہیں ۔ اب ہم جو سجدہ کرتے ہیں تواس کے لئے حرکت کی ضرورت ہے تو ہمارے اندر تو روحِ حیوانی ہے جس کی وجہ سےحرکت ہوتی ہے اور ہم سجدے کے اُس عمل سے گزرتے ہیں لیکن قرآنِ مجید میں سورۃ رحمن میں یہ بھی آیا کہ

وَالشَّجَرُ وَالحَجَرُ يَسْجُدَانِ
سورة الرحمن
ترجمہ : شجر اور حجر یعنی پتھر رحمن کو سجدہ کرتے ہیں۔

تو معلوم یہ ہوا کہ سجدے کا ایک عمل ایسا بھی ہے جو بغیر حرکت کے ہے۔ کسی پہاڑ کو آپ نے سجدہ کرتے ہوئے دیکھا ہے لیکن اللہ نے فرمایا وہ سجدہ کرتے ہیں۔ اب وہ کیسے کرتے ہیں یہ اگر میں آپ کو بتاؤں گا تو آپ پریشان ہونگے۔

“جب کوئی کامل ذات اس دنیا میں آتا ہے یا حضور پاکﷺ اِس دنیا میں آکے گزرے تو وہ جو روحِ جمادی اور روحِ نباتی ہے وہ حضور ﷺ کے قدموں میں جھک جاتی ہے اور حضوؐر کے آگے جھکنے کو اللہ نے اپنے آگے سجدہ قرار دیا ہے”

تو چھ مہینے جب ماں کے پیٹ میں ہوجاتا ہے نطفہ ، تو روحِ حیوانی اُس میں آتی ہے اُس کے آنے سے شکل صورت بنتی ہےاور یہ تین ارضی ارواح انسان کے جسم کو بناتی ہیں۔ روحِ حیوانی تین مہینے لیتی ہے۔ چھ مہینے ہوتے ہیں تو آتی ہے نو مہینے کے اندر بچہ پورا مکمل ہوجاتا ہے ۔ جب تک ماں کے پیٹ میں بچہ رہتا ہےبس اُس میں یہ تین ہی روحیں ہوتی ہیں۔ روحِ جمادی، روحِ نباتی اور روحِ حیوانی۔ ابھی تک وہ بچہ انسان نہیں ہے۔ کیونکہ انسانی روح ابھی تک آئی نہیں ہے۔ یہ تینوں روح جانوروں میں بھی ہیں۔ شیر میں ،گدھے میں ،گھوڑے میں سب میں یہ تین روحیں موجود ہیں جمادی روح، نباتی روح، حیوانی روح۔ یہ تین روحیں جانوروں میں بھی ہیں اور یہ تین روحیں ماں کے پیٹ میں جو بچہ ہے اُسمیں بھی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اگر پیٹ میں ہی کوئی بچہ مردہ، مرجائے پیدا نہ ہو ، پیٹ میں ہی اُس کا انتقال ہوجائے تو اُس کا نمازِ جنازہ نہیں ہوتا کیونکہ وہ ابھی انسان ہی نہیں بنا تھا مغفرت کس کی کراؤگے۔ جب وہ ماں کے پیٹ سے باہر نکلتا ہے تو اُس وقت فرشتے کھڑے ہوتے ہیں وہ اُس وقت اُس کے اندر سماوی روح ڈالتے ہیں۔

سماوی ارواح کی بیداری اور راہِ خاص کے لئے چالیس سال مقرر ہیں:

ماں کے پیٹ میں جب بچہ تھا توبغیر انسانی روح کے زندہ تھا۔ ماں کے پیٹ میں اگر وہ بغیرروحِ انسانی کے زندہ رہ سکتا ہے تو ماں کے پیٹ کے باہر بھی وہ زندہ رہ سکتا ہے۔ اب وہ آگیا پیدا ہوگیا روحِ انسانی آگئی۔ لطائف اور روحِ انسانی فرشتوں نے بچے کے اندر پیوستہ کردی ڈال دی۔ لطیفہ روح یہاں آکے بیٹھ سیدھے ہاتھ پہ، لطیفہ قلب اُلٹے ہاتھ پہ دل کے اوپر آکے بیٹھ گیا۔ تو روح کے ساتھ خفی لگایا لطیفہ خفی یہاں آکے بیٹھ گیا ۔ دل کے ساتھ لطیفہ سری لگایا وہ سری یہاں آکے بیٹھ گیا۔ اور بالکل بیچ میں سینے کے لطیفہ اخفی آکے بیٹھ گیا، لطیفہ اَنا جو ہے وہ سر میں داخل ہوگیا۔ یہ سب لطائف اپنے اپنے مقامات پر چلےگئےاور فرشتوں نے اپنا کام ختم کردیا۔فرشتوں کے ساتھ برابر میں شیطان بھی کھڑا ہوتا ہے وہ لطیفہ نفس داخل کرتا ہے۔ اس طرح ساتوں لطائف آپ کے اندر آجاتے ہیں ۔ تو یہ جسم سماوی ارواح کا گھر ہوا،سماوی ارواح کے بغیر ہی وہ جسم زندہ تھا تو سماوی ارواح کا زندگی سے تعلق تو نہ ہوا۔ اگر یہ جسم جو بنا ہے اور اس میں جو روحیں ہیں وہ سب خفتہ حالت میں ہیں جیسی فرشتوں نےڈالی تھیں ویسی کی ویسی ہیں۔ پھر تُو اس دنیا میں بیس سال تیس سال چالیس سال پچاس سال تُو نے گزارے ، روحانیت کا راستہ نہیں سیکھا ، دل کو منور کرنے کا طریقہ نہیں سیکھا، اِن روحوں کو بیدار نہیں کیا، جگایا نہیں، اِن میں نور نہیں گیا، اِن کے اوپر نار کی تہہ چڑھتی رہیں، اِن کے اوپر نار چڑھتی رہی اور یہ بیہوش ہی رہیں ، چالیس سال تک از خود زندہ رہنے کی اللہ نے اِن میں طاقت رکھی ، یہ جو سماوی ارواح ہیں یہ از خود چالیس سال تک زندہ رہ سکتی ہیں۔ چالیس سال ہی اللہ تعالیٰ نے نبوت کے اعلان کے لئے مقرر کیا اور چالیس سال ہی اللہ تعالیٰ نے صوفیوں کے لئے دورانیہ رکھا کہ جس نے صوفی بننا ہو ، جس نے اللہ کا دوست بننا ہو تو پیدا ہونے سے لے کر چالیس سال کی عمر کے بیچ میں وہ اِن چیزوں کو بیدار کر لےکہ چالیس سال کے اندر اندر تک اُس کے پاس ٹائم ہے پھر چالیس سال جب ہوجاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ فرشتوں کو حکم دیتا ہے کہ اس کی جو اعمال کی کتاب ہے وہ میرے پاس لے کے آؤ دیکھوں اس نے چالیس سال میں کیا کیا ہے تاکہ میں اِس کو نوازوں۔کتاب میں تو لکھا ہوا ہے کہ جوان ہی ہوں ابھی ، کیونکہ اب ہمارا دستور کیا ہے جیسے ہی بچہ تین چار سال کا ہوتا ہے، سکول میں بھیج دیتے ہیں، اسکول کے بعد فارغ ہوا کالج میں ، کالج کے بعد یونیورسٹی میں، کوئی انجینئر بنے گا کوئی ڈاکٹر بنے گا ڈاکٹر انجئینر بنتے بنتے تیس بتیس سال ہوگئے ، پھر اُس کے بعد جاب اچھی ہوجائے پھر شادی کرینگے ۔ پھر جاب اچھی ہونے میں دو چار سال لگ گئے ، پھر شادی کرلی چالیس سال پورے ہوگئے۔ راہِ خاص بند ہوگئی۔ مولانا روم نے فرمایا تھاکہ
در جوانی توبہ کردن شیوہِ پیغمبری۔ کہ جوانی میں توبہ تائب ہونا گناہوں سے دور ہوکر اپنے اندر کو منور کرنا یہ پیغمبروں کا شیوہ ہے۔

عام آدمی مرتا ہے تو کیا ہوتا ہے ؟

عام آدمی جس نے اِن کو بیدار نہیں کیا جب وہ مرتا ہے تو کیا ہوتا ہے؟ اُس کا سماوی روح کا بلاوا آیا ہے ۔ زندگی اور موت کا جسم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ کیونکہ بار بار آپ نے پڑھی ہے موت، موت ، موت ، موت، موت۔ نہیں ۔ موت کا مطلب جو سریانی زبان میں ہے وہ ہے اونگھنا ، سونا، موت کا یہ مطلب ہے۔ آپ عربی کی ڈکشنری نکال کے دیکھیں گے تو اُس کے اندر لوگوں نے اپنی رائے لکھی ہے۔ کوئی ڈکشنری عربی کی اللہ تعالیٰ نے عرشِ الٰہی سے تو نہیں بھیجی جو کہ بالکل درست ہو ۔ لوگوں نے خود ہی ڈکشنریز بنائی ہیں ، انسانوں نے بنائی ہیں ناں ۔ قرآنِ مجید تو انسان کا کلام نہیں ہے قرآنِ مجید تو اللہ کا کلام ہے تو اللہ تعالیٰ نے اُس میں جو الفاظ لکھے ہیں وہ تمہاری ڈکشنری کے مطابق تو نہیں لکھے ناں ۔ موت کا مطلب کیا ہے :اونگھنا۔ جب عام آدمی کا وقت پورا ہوتا ہے تو اُس کی روح کا بلاوا ہے کہ اب اِس نے جانا ہے۔ اب یہ جو ہم کہتے ہیں کہ زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے اور اللہ تعالیٰ نے جتنی زندگی انسان کی لکھی ہے اُتنی ہی زندگی وہ جئیے گا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اللہ نے کسی کو چالیس سال کی عمر میں مارا، کسی کو پچاس کی عمر میں کسی کو ساٹھ کی عمر میں کسی کو ستّر کی عمر میں مارا ، کسی کو پچپن کی عمر میں مارا ۔ یہ اللہ نے کیوں کیا ایسا؟ یعنی کسی کو اِس عمر میں کسی کو اُس عمر میں ، یہ ایسے ہی اللہ نے رکھا ہے یا اس کے پیچھے بھی کوئی راز ہےکہ بھئی اسے پچاس سال میں اللہ نے مارنا ہے ، کیوں؟یہ طےکیسے ہوا ہے کہ اس کو پچاس سال کی عمر میں اللہ نے مارنا ہے۔ اور وہ ساٹھ سال کی عمر، وہ پینسٹھ، وہ ستّر، پچھتر، وہ اَسّی سال کی عمر میں اُس کو کیوں مار رہے ہیں؟ جاننے کی ضرورت ہے ناں بھئی یہ۔ جب تم یہ جان لوگے تو پھر تم خضر بن جاؤ گے۔

عمروں کی میعاد کا تعین اللہ تعالی کس طرح کرتا ہے ؟

اب جو موسیٰ علیہ السلام اور خضر علیہ السلام کا معرکہ ہوا ، سورۃ کہف میں پورا آیا ہے !تو اُس کے اندر خضر علیہ السلام نے ایک بچے کو مار دیا اور باطنی علم کے مطابق وہ ٹھیک تھا۔مار دو۔ لیکن جو ظاہری علم ہے شریعت ہے دنیا کا قانون ہے اُس کی نظر میں خضر علیہ السلام قاتل ہیں۔ اگر تم کو بھی اللہ کے راز پتہ چل جائیں اللہ کا رہن سہن پتہ چل جائے ۔ اللہ کسی کو چالیس سال تک زندہ کیوں رکھتا ہے کسی کو ساٹھ سال تک زندہ کیوں رکھتا ہے کسی کو ستّر کسی کو اَسّی سال تک زندہ کیوں رکھتا ہے اور کسی کو چالس سال سے پہلے بھی اگر مر جائے تو خیر ہے اور کوئی ساٹھ سال کی عمر میں جس نے مرنا ہے تو اُس کو پہلے نہیں مار سکتے پہلے اگر مارا تو پھر جہنمی ہوجاؤ گے ایسا کیوں ہے ؟ یہ سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ تو اللہ تعالیٰ نے وہیں سے ، وہیں سے فیصلے کئے ہوئے ہیں ۔ اب یہ فیصلے کیسے ہوئے جنہوں نے رب کی گواہی میں کلمہ وہاں پڑھ لیا تھا اُن سب کو اکٹھا کردیا۔ چلو ! تم اِدھر آجاؤ ۔ پہلے تو اللہ نے یہ کہا الست بربکم کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ قالو بلی سب نے کہا ہاں، پھر جنہوں نے رب کی گواہی میں کلمہ پڑھا تھا اُن سب کو اکٹھا کرلیا۔ اب اکٹھا کرکے کیا کیا؟ اکٹھا کرکے وہی کیا جو یہ پوسٹ آفس میں جب سارے اِدھر اُدھر سے خطوط آتے ہیں تو اُن کی چھانٹی ہوتی ہے۔ جیسےکہ بھئی یہ لندن سٹی کے لیٹرز ہیں یہ سارے الگ کردو، یہ نیویارک کے ہیں یہ الگ کردو، یہ شکاگو کے ہیں یہ سب الگ کردو۔

“اللہ تعالیٰ نے جوپانچ مرسلین بھیجےتھے آدم صفی اللہ سے لے کر نبی اکرم ﷺ تک اِ ن لوگوں میں اُن ازلی مومن روحوں کو بانٹنا شروع کردیا۔ وہیں پر اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کرلیا کہ بھئی یہ جو ازلی مومن روح ہے اِس کو کتنا قرب دینا چاہئے، اِس کو کتنی محبت دینی چاہئے ، اِس کو کتنا روحانی مرتبہ دینا چاہئے ۔ پھر اُسی حساب سے اُسی درجے کے پیغمبر کے ساتھ اُن کو لگایا۔ تو کچھ ازلی مومن روحیں آدم صفی اللہ کے کھاتے میں چلی گئیں۔ جو ازلی مومن روحیں آدم صفی اللہ کے کھاتے میں گئیں اُن کو نکالا اور اُن کو آدم صفی اللہ کے محلے میں رکھا۔ تم اِدھر رہو، تاکہ آپس میں رہنے سے تمہارے اندر تمہارے نبی کی محبت شروع ہوجائے۔ یہ باتیں کسی کتاب میں نہیں لکھیں۔ وہ جو حضور پاکﷺ کا فرمان ہے کہ میں یہاں آنے سے پہلے بھی نبی تھا ۔ سرکار گوھر شاہی نے فرمایا کہ یہاں آنے سے پہلے نبی تھے تو سردار اُسی وقت ہوتے ہیں جب قومیں ہوں ۔ بھئی حضور یہاں آنے سے پہلے نبی تھے تو اُمتی بھی ہونگے اُمتی نہیں ہوتے تو نبی کیسے ہوتے”

تو حضور ﷺ سے ، عیسیٰ سے ، ابراہیم علیہ السلام سے، آدم صفی اللہ سے ، موسیٰ کلیم اللہ سے ، اِن ہستیوں اِن کے اُنہی اُمتیوں نے پیار اور محبت کیا جو یومِ ازل میں اِن کے ساتھ تھے۔ جو وہاں ساتھ ہے وہ ہر جگہ ساتھ ہوگا۔ جو وہاں ساتھ تھا وہ ہرجگہ ساتھ ہوگا۔ جس طرح قرآنِ مجید میں ایک آیت آئی اِس دنیا کے حوالے سے کہ جو یہاں اندھا ہے وہ وہاں بھی اندھا ہوگا یعنی رب کو یومِ محشر میں یا قیامت کے بعد وہی دیکھے گا جس نے اِس دنیا میں رب کا دیدار حاصل کرلیا تھا جس نے یہاں دیدار حاصل نہیں کیا وہاں نہیں ہوگا۔ جس نے یہاں کیا وہاں پر اُس کو دیدار ہوگا۔ اب وہ جو ازلی ارواح تھیں فرض کیا حضورﷺ کو جو ازلی ارواح دی تھیں مومن اب اُن کا کیا کیا؟ اُن میں سے کچھ ازلی ارواح جو تھیں وہ حضوؐر کے اپنے دور کے لئے رکھ دیں ۔ تو جو حضوؐر کے دور کے لئے روحیں تھیں اُن کو حضوؐر کے ساتھ رکھا کہ یہ پہچان لیں جب حضوؐر کا دور آئے تو اور جو حضوؐر کے دور کے بعد آنے والے ادوار میں جن ازلی مومن ارواح کو آنا تھا پھر اُس کا حساب کتاب لگایا۔ کہ بھئی اس کے بعد مولا علیؑ کا زمانہ آئے گا تو اُن کو بھی تو کچھ ازلی ارواحوں کی ضرورت ہوگی ناں تو کچھ کو مولا علی کے ساتھ رکھا تاکہ روح اُن کے ساتھ رہے تو محبت اور اُنسیت اُن میں آجائے ۔ کچھ روحوں کو غوثِ اعظم کے ساتھ رکھا ،کچھ کو اور ولیوں کے ساتھ رکھا ۔ اس طرح وہیں پر ولیوں کی محبت بھی ان کے اندر داخل ہوگئی اور اللہ کے رسول کی محبت بھی ان کے اندر داخل ہوگئی۔ اب جس جس نے دیدارِ الٰہی کرنا تھا صرف دیدارِ الٰہی کرنا تھا تو وہ دیدارِ الٰہی اس روح کوکس نے کرانا ہے اُس ولی کا نام اُس کے مقدر میں لکھا۔ پھر اُس ولی کے پاس کتنی طاقت اُس نے دینی ہے کتنے عرصے میں اس کو دیدار کرائے اس کا حساب لگایا۔پھر دیدار اس کو ہوجائے گا اُس کے بعد اور بہت سے جو ازلی مومن ہونگے جو صرف مومن ہی رہیں گے وہ اس کی صحبت سے منور ہوں پھر وہ دورانیہ بھی رکھا اُس کے حساب سے اُس کی عمر کا تخمینہ لگایا۔ جب آدمی اب مرجاتا ہے جس کے مقدر میں ایمان، ولایت ،فقر یا عشق لکھا ہو اور اس تعلیم کو پوری ہونے میں جتنا وقت درکار ہو اُس کے حساب سے اللہ تعالیٰ اُس کی عمر کا تخمینہ نکالتا ہے۔

مرشد ازلی واقعات کو خواب میں تبدیل کر دیتا ہے :

اب جیسے مجھے سرکارگوھر شاہی نے فرمایاکہ تمہاری موت جو ہے سن 2000ء میں ہونی تھی لیکن ہم نے اُس کو باطن میں تبدیل کردیا اور وہ ہوئی۔ میں اُس وقت فرانس میں تھا اور میں گفتگو کر رہا تھا سرکار کے حوالے سے تو میں نے دیکھا کہ دو فرشتے آئے ہیں اور کہتے ہیں کہ تمہارا سر چاہئے سرکار کا حکم ہے۔تو میرے دل میں خیال آیا کہ کہیں یہ شیطانی نہ ہو ، تو ابھی یہ خیال آیا ہی تھا کہ سرکار کا چہرہ انورسامنے نظر آیا۔ فرمایا نہیں ہم نے بھیجا ہے۔ تو جب میں نے یہ سن لیا براہِ راست سرکار سے ، کہ ہم نے بھیجا ہے تو میں اِدھر اُدھر ڈھونڈنے لگا کہ کوئی چیز ہو جس سے سر کاٹ کے دے دوں۔ تو وہ جو فرشتے تھے وہ کہنے لگے نہیں ہم تلوار ساتھ لائے ہیں۔ تو انہوں نے تلوار دی میں نے یوں رکھا اور گردن کٹ گئی۔ گردن تو کٹ گئی لیکن خون نہیں نکلا۔ اب وہ گردن کٹ گئی اب وہ گردن میں ہاتھوں میں پکڑ کے کھڑا ہوں اب سرکار کی آواز آتی ہے کہ اُستاد تم کوٹری آجاؤ۔ اب میں سوچتا ہوں کہ گردن میرے ہاتھ میں اب میں جاؤں گا کیسے؟ اور میں مرا نہیں ہوں ، گردن کٹ گئی ہے اور میں زندہ ہوں۔ تو میں نے عرض کیا کہ سرکار میں ایسی حالت میں کوٹری کیسے جاؤں گا۔ فرمایا تم یہ جو اپارٹمنٹ ہے اس سے نیچے اُترو تو سامنے بس کھڑی ہے اُس بس میں بیٹھ جانا وہ تم کو پھاٹک میں اُتار دے گی۔ تو میں نیچے گیا سر ہاتھ میں پکڑا ہوا ہے ،سامنے دیکھا کہ وہ کوٹری میں جو بسیں چلتی ہیں وہ نیچے کھڑی ہے۔ اُس میں جا کے بیٹھ گیا۔ لوگ مجھے دیکھ رہے ہیں کہ یہ کیا ہے ۔ ڈر رہے ہیں لوگ کہ ہاتھ میں سر لے کے اپنا بیٹھا ہوا ہے،کون ہے یہ؟ آناً فاناً جو ہے وہ بس وہاں چلی گئی اور جب میں سرکار کے گھر کے سامنے آکے اُترا تو میں نے دیکھا کہ وہ گیٹ پورا کھلا ہوا ہے۔ اور سرکار لان میں بیٹھے ہوئے ہیں اکیلے صوفے پر ، کوئی نہیں ہے۔ اور میں داخل ہوا تو سرکار مجھے دیکھ کے مسکرائے کہا جلدی آ جا یونس۔ میں گیا اور سرکار نے فرمایا کہ تم سوچ رہے ہو گے کہ خون نہیں نکلا اس میں سے ، تو میں نے عرض کیا جی سرکار مجھے یہ خیال آیا تھا، خون تو نکلا نہیں۔ سرکار نے فرمایا خون اس لئے نہیں نکلا ، تم نے دعا کی تھی کہ “جاں ہو دستِ اجل ” کہ ہمارے قدموں میں تیرا خون نکلے تو ہم اپنا وعدہ نبھا رہے ہیں اور پھر کہا گردن اِدھر لاؤ۔ سر پکڑ کے بیچ میں جو شہ رگ ہوتی ہے اُس کو سرکار نے کُھرچا، اور پھر گردن کو ، فرمایا تم نے کہا تھا پاؤں میں رکھنا ہے ۔ چلو پاؤں میں دیکھو رکھتے ہیں،تمہاری خواہش پوری کرتے ہیں۔ اور وہ یعنی جو سر تھا وہ سرکار نے رکھا اپنے پاؤں میں اور پھر اُس میں سے خون نکلا اور پھر سرکار جو ہے اپنا جو ٹوہ ہے وہ اُس خون پہ یوں یوں رکھتے اور میں نے دیکھا کہ خون جیسے ہی سرکار کے یعنی پاؤں سے ٹکراتا تو اُس میں سے آواز آتی : یاگوہر ، یا گوہر، یا گوہر۔ اُس میں سے آواز آتی۔ اور اس کے بعد جو ہے وہ خواب، خواب نہیں یعنی یہ غنودگی میں ہوا سب کچھ۔ تو یہ ختم ہوگیا۔ اور مجھے جب میں نے یوں آنکھیں کھولیں تو میں اُسی اپارٹمنٹ کے دروازے پر کھڑا تھا لیکن میری جو گردن تھی اُس میں بڑا شدید درد تھا ،سر میں شدید درد تھا اور گردن ہلانے میں تکلیف ہو رہی تھی۔ اُس وقت تک گردن کا اور نیچے کا رنگ کچھ اور تھا۔ ۔ پھر فون کیا سرکار کی بارگاہ میں سرکار نے فرمایا کہ اب تم کو جو ہے تمہاری موت واقع ہوگئی اب ہم نے تم کو اپنے لئے زندہ کیا ہے۔ تو ایسا بھی ہوتا ہے کہ مرشد جو ہے وہ ازلی واقعات کو بھی خواب میں اور غنودگی میں تبدیل کردیتا ہے۔ علامہ اقبال نے بھی اپنی شاعری میں اس بات کو کچھ یوں کہا ہے کہ
نگاہِ مردِ مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں
جو ہو یقین پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں

وہ ازلی تقدیریں جو بدلتی ہیں تو وہ جو ازل میں کفر کیا ہو اگر کسی نے یا کوئی اور غلط کام کیا ہو تو اُس کو خواب میں کرادیتے ہیں تاکہ وہ اُس کی تقدیرِ ازل پوری بھی ہوجائے اور اُس کو جو ہے ایمان بھی عطا کردیں۔

عام آدمی جب دنیا سے رخصت ہوتا ہے تو کیا ہوتا ہے ؟

مرنا کیا ہے؟ وہ جو سماوی روح زمین پر اُس کے جسم میں آئی تھی ، اُس روح کا واپس جانا موت ہے۔ موت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تیری زندگی ختم کر دی گئی ہے،موت کا مطلب یہ ہے کہ تیری روح جو یہاں پر جس مقصد کے لئے آئی تھی وہ مقصد حاصل ہوا یا نہیں ہوا جتنے ٹائم کے لئے آئی تھی اُس کے بعد اب اُس نے واپس جانا ہے۔ اور کیا ہوگا پھر اِنا للہ واِنا الیہ راجعون اب وہ واپس جارہی ہے۔ اب جو وہ واپس چلی گئی ہے تو اب یہ جو جسم ہے اس کا کیا کرینگے اگر یہ جسم خالی رہے گا تو اس میں شیطان آجائینگے ۔ اس لئے پھر اِس جسم کو مار دیا جاتا ہے۔ بت پرستی کیوں حرام تھی؟ کہ بت بناتے تھے تو اُن بتوں میں شیطان آجاتے تھے۔ شیطانی مخلوقیں اُن کے اندر آجاتی تھیں۔ جب فتح مکہ ہوا تو وہ جو کعبے میں بت رکھے ہوئے تھے جب اُن پہ تلواریں چلاتے خالد بن ولید تو اُس کے اندر سے آگ نکلتی چنگاڑنے کی آوازیں آتیں ۔ تو انہوں نے حضور کی بارگاہ میں یہ کہا کہ یہ بت میں سے آواز آرہی ہے۔ تو آپ نے فرمایا کہ اس کے اندر شیطان جن ہے۔ بت میں وہ شیطان جن گھس سکتے ہیں تو تیرے جسم کے اندر بھی گھس سکتے ہیں ۔ روح آئی اور روح واپس چلی گئی اس جسم کو پیدا اس لئے کیا گیا تاکہ اُس روح کا یہاں قیام ہو۔ اب وہ روح واپس چلی جاتی ہے یہ جو جسم ہے اس کا ختم ہونا ضروری نہیں ہے۔ تو پھر یہ جسم ختم کیوں کیا جاتا ہے تاکہ اس میں کوئی شیطان جن نہ گھس جائے۔ خلقِ خدا کو نقصان پہنچائے گا۔ اس لئے پھر اُس جسم کو فرشتے منتشر کردیتے ہیں ، اب یہ جسم پھر منتشر کیسے ہوتا ہے۔ اس کے اندر ارضی ارواح ہیں۔ روحِ حیوانی ، جب وہ نکال دیتے ہیں تو وہ جو لاش ہوتی ہے اُس کی شکل بگڑنا شروع ہوجاتی ہے۔ روحِ نباتی اُس میں سےنکل جاتی ہے تو اُس کی نشونما رُک جاتی ہے بد بو آنے لگ جاتی ہے ورنہ خلیات کی توڑ پھوڑ روحِ نباتی کا کام ہے۔گہری نیند میں جانا بھی اسی لئے ضروری ہے کہ جو روزانہ کا خلیات کا توڑ پھوڑ کا عمل ہے وہ سیلف ہیلینگ کا عمل ہے ۔ جب کسی کی سرجری وغیرہ ہوتی ہے تو کہتے ہیں کہ بیڈ ریسٹ کرو۔ اور اُس کو جو ہے نیند کی گولیاں دیتے ہیں تاکہ وہ لمبا سوتا رہے۔ جتنا زیادہ وہ گہری نیند سوئے گا مریض اُتنی ہی زیادہ جلدی صحتیاب ہوگا۔ کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ نے خلیات کی توڑ پھوڑ کا یہ عمل جو رکھا ہے یہ خود بخود ہوتا ہے اور روح نباتی اس کی انچارج ہے ۔
تو لاش سے بدبو تب آتی ہے جب روحِ نباتی نکل جاتی ہے، ہڈیاں پس کے مٹی بن جاتی ہیں جب روح ِ جمادی اُن میں سے نکل جاتی ہے۔ اب یہ موت واقع ہوگئی لیکن وہ تو روح چلی گئی اب یہ جسم ختم ہو یا نہ ہو وہ تو روح چلی گئی۔ اچھااگر مرنے والا چالیس سال سے زیادہ کا تھا اور اس کے جسم کے اندر ہی چالیس سال کے بعد تو یہ روحیں مرجاتی ہیں، اندر کی لطائف اُس کےجسم میں ہی اگر مرگئےتھے تو پھر قبر میں کچھ بھی نہیں ہوتا۔ صرف لطیفہ نفس رہ جاتا ہے۔ روح اوپر چلی گئی اور اُس کے جو لطائف تھے وہ اُس کے جسم میں رہتے ہوئے مرگئے تھے کیونکہ چالیس سال اللہ تعالیٰ نے اُس کی معیاد رکھی ہے ۔ اب جس طرح یہ آئی فون کی بیٹری ہے ناں فرض کیا بیس گھنٹے اس کی معیاد ہے بیس گھنٹے بعد اب اس نے دوبارہ چارج کرنا ہے۔ اسی طرح وہ جو لطائف ہیں اُن کی معیاد چالیس سال ہے۔ چالیس سال تک وہ خود زندہ رہتے ہیں ۔ چالیس سال تک اگر اُن کو منور نہ کیا جائے تو پھر وہ مرجاتے ہیں۔ اب یہ جو لطائف کے مرنے کا عمل ہے اُن کی زندگی کے ختم ہونے کا عمل ہے یہ چالیس سال کے بعد ختم ہوتے ہیں لیکن اگر کوئی بیس پچیس سال کی عمر میں ہی کسی نبی کی ولی کی شان میں گستاخیاں کردے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ختم اللہ علی قلوبھم۔ تو پھر بیس پچیس سال کی عمر میں ہی ان لطائف کی زندگیوں کو اللہ ختم کردیتا ہے اور کہتا ہے کہ اِن کو تبلیغ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ کیونکہ جن چیزوں کے ذریعے اس کو مومن بننا تھا وہ چیزیں تو اُس کی ہم نے ختم کردی ہیں۔ اب عام آدمی تھا لطیفے بھی مرگئے روح واپس چلی گئی، جسم ختم ہوگیا ، یہ موت واقع اس کی ہوگئی۔ یہ بندہ کسی کی مدد نہیں کرسکتا۔ اپنی مدد نہیں کرسکا وہ کسی اور کی کیا مدد کرے گا۔

مومن دنیا سے رخصت ہوتا ہے تو کیا ہوتا ہے ؟

مومن وہ ہے کہ جس نے اپنے قلب کو بیدار کرلیادل میں اللہ کا نور آگیا، لطیفے منور ہوگئے ۔ یہ بندہ جب مرا تو کیا ہوا؟ اس کی روح بھی اوپر چلی گئی۔ اور جو اس کے لطائف اللہ اللہ میں تھے وہ قبر میں بیٹھ کے اللہ اللہ کرتے رہیں گے ۔ اور اِس کا ثواب اس کی روح کو ملتا رہے گا۔

باطنی علم کی روشنی میں حیات النبی کی حقیقت:

ولی وہ ہے جس نے رب کو دیکھا ہو اللہ کا دیدار کیا ہو۔ اب کچھ لقا باللہ والے ہوتے ہیں ۔ لقا باللہ کا مطلب ہے اللہ کا دیدار کرنے والے۔ اور کچھ بقا باللہ والے ہوتے ہیں جیسے خواجہ باقی باللہ ؒ۔ وہ جو بقا باللہ ہے وہ کیا ہے۔ ایک تو ولی وہ ہوتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اُس کو دیدار اپنا دیتا ہے تو تجلی اُس کے جسم پر پڑتی ہےوہ کامل حیات ہوگیا۔ اگر اُسکی کسی روح کے اوپر تجلی پڑی، اگر اُس کی تجلی کسی روح کے اوپر پڑی تو وہ کامل ذات ہوگیا۔ پھر کامل ذات کے اندر سے چھانٹی ہوتی ہے اگر اس ولی کے جثے بھی تجلی کی زد میں آجائیں جیسا کہ لطیفہ قلب کے جثے ہیں قلبِ منیب ہے، قلبِ شہید ہے ، اگر یہ تجلی کی زد میں آجائیں تو جب جب ان پہ تجلی پڑے گی تو ایک جثہ 81 سے تقسیم ہوجائے گا ۔ جب جب تجلی پڑے گی اُس ایک جثے کے 81 جثے ہوجائیں گے۔ محمد ﷺ رسول اللہ وہ ذات ہے کہ وہ تجلی ہر وقت اُن کے جسم پر بھی پڑتی تھی اُن کی روحوں پر بھی پڑتی تھی اُ ن کے جثوں پر بھی پڑتی تھی۔ ہر وقت تجلی پڑتی تھی اور ہر وقت وجودِ محمدﷺ تقسیم ہوتا رہتا تھا۔ ہر وقت محمدﷺ رسول اللہ کا ایک وجود اکاسی دفعہ تقسیم ہوتا تھا ۔ محمد ﷺ رسول اللہ پر ہر وقت تجلی پڑتی تھی ۔ سیدنا امام مہدی گوہر شاہی نے فرمایاکہ نبی کریمؐ کے جثوں کی تعداد اتنی ہوگئی ہےکہ جب تم خالی کمرہ کھولو اور اس میں جاؤتو کہنا الصلوۃ والسلام علیک یا رسول اللہ ، جہاں کوئی نہیں ہوگا وہاں محمد ﷺ کا جلوہ ہوگا۔ جہاں کوئی نہیں ہوگا وہاں حضورﷺ ہونگے یعنی اتنی تعداد اُن کی ہوگئی ہےاور یہ راز ہے

وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ
سورة الانبیاء آیت نمبر 107

پوری کائنات میں حضور ﷺ کے جثے پھیل گئےہیں جس کی وجہ سے ہر خطے پر رحمت پڑتی ہے۔ یہ نہیں ہے کہ بھئی حضورﷺ فلاں کے لئے بھی رحمت بن کر آئے اُس کا وہ مطلب ہی نہیں ہے۔ جتنے بھی خطے ہیں پوری کائنات میں جگہ جگہ حضور ﷺ کے وجود پھیل گئے اور حضورﷺ کے وجود ہائے مبارکہ کی برکت سے وہاں رحمتوں کا نزول ہوتا ہے خواہ اُس دیش کے رہنے والے مسلم ہوں یا غیر مسلم، ماننے والے ہوں یا نہ ماننے والے ہوں، ملحد ہوں یا احد کو ماننے والے ہوں۔ حضورﷺ کی موجودگی ساری کائنات میں ثابت ہے۔ اب بات رہ گئی کہ وہ اندر سے جوہر نکلا اور پوری کائنات میں پھیل گیا۔ کیا جو کچھ اُن کے وجود سے نکل کر پھیل گیا ہے پورے عالمین میں اُس کو اُس وجود میں دوبارہ رکھا جاسکتا ہے؟ نہیں! اب وہ جو جسمِ مبارک آیا ہے ، وہ اندر کی چیزیں تو نکل گئی ہیں ۔ اب وہ جسم اِدھر رہے یا کہیں اور چلا جائے محمد ﷺ رسول اللہ تو حاضر اور ناظر ہیں ۔
ہم سب ایک آدم اور ایک حوا کی اولاد ہیں جس نے ہمیں پیدا کیا وہ تو چلے گئےاور ہم تو گھوم رہے ہیں ۔ یہ ظاہری نسل ہے۔ ایک تمہارے اندر تمہاری باطنی اولاد یہ جثے بھی ہے ۔ جس نے ان جثوں کو بیدار کرلیا ، نکل گئے، پھر تمہارا جسم بھلے قبر میں ہو، بھلے بیڈ میں ہو،بھلے کہیں اور ہو وہ جو تمھارے اندر کے عناصر ہیں وہ تو نکل گئے ۔ اب اگر حضورﷺ کا جسم چلا بھی گیا چلو مدینہ شریف میں ہے خیر ہے لیکن حضورﷺ کا جو باطن ہے ،حضور ﷺ کے جو جثہ ہائے مبارک ہیں وہ تو نکل کے پوری کائنات میں پھیلے ہوئے ہیں ناں اگر قرآن نے کہا بھی کہ انہوں نے بھی جو ہے مرنا ہے تو وہ حضورﷺ کی ذات کے لئے نہیں کہا وہ اُس وجود کے لئے کہا ہے لیکن اُس وجود کے اندر جو ارواح تھیں وہ نکل کرکے اربوں کھربوں اُس کے وجود ہوگئے اُس کو تو موت نہیں آئی ۔ اب دیکھو کتابوں میں بھی لکھا ہے پہلے مجدد صاحب کی بات کرتے ہیں ۔ کچھ لوگ مجدد الف ثانی کے پاس آئے کہنے لگے ہم نے آپ کو فلاں دن خانہ کعبہ میں دیکھا ہے ۔ آپ نے فرمایا میں تو نہیں گیا، ایک اور قافلہ آیا اُس نے کہا جی ہم نے اُسی دن آپ کو حضور پاکﷺ کے روضے پہ دیکھا ۔آپ نے کہا میں تو نہیں گیا۔ کچھ لوگ آکے کہنے لگے ہم نے آپ کو اُس دن غوث پاکؒ کے روضے پہ دیکھا۔ تو انہوں نے کہا کہ میں نہیں گیا۔ تو لوگ کہنے لگے کہ ہم تو قرآن پہ ہاتھ رکھ کے گواہی دینے کو تیار ہیں کہ ہم نے آپ کو کعبے میں دیکھا انہوں نے غوث پاکؒ کے دربار پہ، انہوں نے حضور پاکﷺ کے دربار پہ دیکھا تو آپ کہتے ہیں کہ گئے ہی نہیں ۔ وہ اگر آپ نہیں گئے تو پھر وہ کون تھا ؟ آپ نے فرمایا: وہ میرا اندر تھا۔ اور سیدنا گوہر شاہی فرماتے ہیں کہ وہ اندر سب کے اندر موجود ہے۔ جنہوں نے اُس اندر کو بیدار کرلیا وہ اِدھر بھی حاضر اُدھر بھی حاضر۔ ایک دفعہ سرکار نے محفل میں یہ فرمایا کہ غوث پاکؒ کےنو مریدوں نے ایک ہی وقت میں دعوت کردی اور آپ نے کسی کو بھی منع نہیں کیا ۔ کہا ہاں آئیں گےاور پھر وہ نو آدمیوں کے گھر غوثِ اعظم ایک ہی وقت میں دعوت کھانے کے لئے گئے۔ اور اُس کے ساتھ ساتھ مسجد میں نماز بھی پڑھ رہے تھے اور وہاں کھانا بھی کھا رہے تھے۔ اب جب یہ میں نے بات سنی تو میری عمر تو بہت چھوٹی تھی اُس وقت زیادہ بڑا نہیں تھا میں۔ پندرہ سولہ سال کا ہونگا۔ جب سرکار کی محفل میں یہ بات سنی تو میں سوچنے لگا کہ کاش میں بھی اُن کی دعوت کرتا ۔ ہیں۔ پھر مجھے خیال آیا کہ وہ تو اندر کی چیزیں نکل کے گئی تھیں اُن کا موت سے کیا تعلق ہے۔ تو وہ دعوت تو میں آج بھی کرسکتا ہوں۔ تو میں نے دل میں کہاکہ سرکار آج غوث پاک سے کہہ دیں کہ آج میری طرف سے اُن کی دعوت ہے۔ لعنت اللہ علی الکاذبین۔ سرکار کی ذات حاضر و ناظر ہے گواہ ہے۔ مجھے کہا کہ ٹھیک ہے جی تمہاری دعوت میں آئیں گے۔ اب میں انتظار کرنے لگا ایک ڈیڑھ منٹ ہی گزرا تھا تو ہمارے گھر کے دروازے پر دستک ہوئی۔ ہوتی رہی دستک کسی نے کھولا نہیں۔ تو میں گیا میں نے کھولاتو میں نے گھر والوں سے پوچھا دروازہ بج رہا ہے تم کو آواز نہیں آرہی، وہ بولےنہیں ۔ میں گیا میں نے کھولا تو ایک سفید ریش بزرگ کھڑے ہوئے ہیں۔ کہنے لگے کہ بھئی یونس صاحب کے ہاں دعوت یہیں پر ہے۔ میں نے کہا جی یہیں پر ہے آجائیں۔ اُن کو بٹھایا۔ پھر دروازہ بجا۔ پھر میں کھولنے گیا ایک اور بزرگ آگئے۔ دعوت یہیں پر ہے ۔ ہاں جی یہیں پر ہے۔ اب وہ سات آٹھ بزرگ جو ہے وہ آگئے۔ اور وہ کہنے لگے کہ کہاں ہے کھانا؟ میں نے کہا ابھی لاتا ہوں میں۔ اب باہر جا کے کمرے سے میں سوچنے لگا میں نے تو بندوبست ہی نہیں کیا میں نے تو ابھی دعا ہی کی تھی مجھے کیا پتہ تھا ابھی آجائیں گے لیکن میں پریشان حال جو ہے کھڑا ہوا تھا تو سرکار کی طرف سے خیال آیا وہ ہم نے کسی سے منگوا لیا ہے تم باورچی خانے میں جاؤ۔ اب یہ ظاہر میں ہورہا ہے سب کچھ ۔ اب میں باورچی خانے میں گیا ہوں وہاں دیکھا کہ بھئی روٹیاں بھی رکھی ہوئی ہیں تیار دسترخوان میں ، سب کچھ رکھا ہوا ہے۔ میں اُٹھا کے لایا اور اُن کو جو ہے پیش کیا۔ اب وہ باتیں کر رہے ہیں آپس میں مختلف موضوعات پرکہ ہمارے زمانے میں یہ ہوتا تھا ذکرِ قلب جاری ہونے میں یہ مسائل تھے یہ پریشانیاں تھیں۔ وہ اپنے قصے سنا رہا ہے۔ وہ کہہ رہا ہے کہ جی میرے پاس بھی ایک ازلی مومن روح آئی تھی اُس کے ازل میں لکھا ہوا تھا ایمان لیکن اُس کے گناہ اتنے زیادہ تھے کہ اُس کے قلب میں کوئی حرکت ہی نہیں ہوئی۔ پھر مجھے جو ہے وہ غوثِ اعظم سے درخواست کرنا پڑی۔ پھر غوث پاک نے نظرِ کرم فرمائی تو اُس کا قلب جاری ہوا۔ اس طرح کی وہ باتیں کررہے ہیں۔ اور میں سن رہا ہوں آرام سے۔ اچانک جو ہے مجھے خیال آیا میں نے اُن کو کہا کہ آپ سارے بزرگ ہی ہیں لیکن میں نے غوث پاک کی دعوت کی تھی۔ تو پتہ نہیں آپ میں سے غوث پاک کون ہیں؟ اب وہ سب ہنسنے لگے۔ کہنے لگے تم نے غوث پاک کی دعوت ایسے ہی کردی تجھےپتہ ہی نہیں ہے کون غوث پاک ہیں اس میں سے۔ میں نے کہا جی مجھے تو بالکل ہی نہیں پتہ کون غوث پاک ہیں اس میں سے۔ اچھا پھر اچانک جو ہے سرکار کی طرف سے خیال آیا کہ جو بالکل خاموش اور سنجیدہ بیٹھے ہیں وہ غوث پاک ہیں۔ تو میں نے اُن کو کہا نہیں ایسی بات نہیں ہے مجھے معلوم ہے۔ مجھے معلوم ہے غوث پاک کون ہیں۔ تو وہ کہنے لگے کہ اچھا بتاؤ کون ہیں؟ تو میں نے کہا وہ جو بیٹھے ہوئے ہیں سامنے ، کالی ٹوپی پہنے ہوئے وہ غوث پاک ہیں۔ خیر انہوں نے بہت پیار اور محبت کا اظہار کیا۔ سب لوگوں نے اپنا تعارف کرایا۔ اُس میں ایک خواجہ معین الدین چشتی ؒتھے ،ایک داتا علی ہجویریؒ تھے ،ایک بابا فریدؒ تھے اور ایک امام حسین علیہ السلام تھے وہ سب موجود تھے اور اُس کے بعد جو ہے کھڑے ہوئے اور اُسی طرح دروازہ کھول کے وہ باہر جانے لگے ۔ میری جو امی تھیں وہ سامنے سے آرہی تھیں تو وہ کہنے لگیں کہ یہ پلیٹیں یہ کھانا تو اکیلا کیسے کھا گیا؟ میں نے کہا میں نے اکیلے نہیں کھایا آپ کو یہ بزرگ جاتے ہوئے نظر نہیں آرہے ۔ کہتیں نہیں مجھے تو نظر نہیں آرہے ۔ میں نے کہا دیکھیں یہ کھڑے ہوئے ہیں بزرگ۔ کہتیں نہیں یہ تم اکیلے بزرگ ہو۔ تمہارے علاوہ تو کوئی بزرگ نہیں یہاں۔ تو میرے دل میں خیال آیا کہ سرکار کچھ نظر کردیں کوئی آدھا ہی بزرگ نظر آجائے ان کو تو جاتے جاتے جو ہے ناں غوثِ اعظم نے میری والدہ کی طرف دیکھا اور اُن کے اوپر یوں پھونک مار کے دم کیا جب تو اُس وقت وہ اُن کو نظر آگئے۔
یہ باطن پورا ایک نظام ہے۔ اچھا! ہم نے لوحِ محفوظ پر پڑھا کہ یہ جو دین ہیں یہ جو مرسلین کو اللہ تعالیٰ نے وحی نازل کی اور نبوت عطا کی رسالت عطا کی اس کا فیض قیامت تک جاری رہے گا۔ میں ان علما ءکو جنہوں نے بکواس کی ہے ناں حضورﷺ کی بارگاہ میں ، گستاخیاں کیں، اُن کو پوچھ رہا ہوں کہ اگر حضورﷺ معاذ اللہ ثم معاذ اللہ چلے گئے ہیں اور مدد نہیں کرسکتے ہیں تو اس اُمت کی غمخواری کون کریگا، اس اُمت کو سنبھالے گا کون؟ نبی آکر کے چلے گئے اب اُمت کو کون سنبھالے گا۔کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ ساقی نہ رہے جام رہے۔ کیا ایسا ممکن ہے؟ یہ اُمت کا نظام کون چلا رہا ہے؟ وسیلہ محمدﷺ کیسے ہے پھر؟ اگر وہ مدد ہی نہیں کرسکتے معاذ اللہ اُن کا وصال ہوگیا ہے چلے گئے وہ اب مدد ہی نہیں کرسکتے تو پھر اللہ اور بندے کے بیچ میں جو نبوت کا وسیلہ ہے وہ استعمال ہونا ختم ہوگیا اب۔ تو پھر ہم میں سے تو کوئی بھی مسلمان نہیں ہے۔ ہم میں سے تو کوئی بھی جنت میں نہیں جائے گا۔ ہم میں سے تو کوئی بھی اللہ سے محبت نہیں کرپائے گا۔ ہم میں سے تو کوئی بھی مومن نہیں بن پائے گا۔ بدبختو! حضورﷺ کی بارگاہ میں کچھ بھی کہنے سے پہلے تحقیق کرو !

“نبی کریم ﷺ کی جو ذاتِ والا ہے اُس کے حوالے سے ایک بات تو کان کھول کرکے سن لیں کہ جیسے جیسے وقت گزرا ویسے ویسے حضور ﷺ کی جو طاقت ہے اُس میں اضافہ ہوا ہے اور جو آپ کی موجودگی ہے اُس میں اضافہ ہوا ہے۔ جیسے جیسے وقت گزرتا جائے گا حضور نبی پاکﷺ کی طاقت کا دائرہ بڑھتا گیا ہے۔ کیونکہ وہ وجود مبارک کی تقسیم ہوتی جارہی ہے ۔ اِس وقت تو حضورﷺ کی اُتنی طاقت ہوگئی ہے جتنی کبھی بھی نہیں تھی ۔ حضور ﷺ کے زمانے میں حضورﷺ کی اتنی طاقت نہیں تھی جتنی آج حضورﷺ کی طاقت ہے۔ دن بدن اُن کی طاقت کا گراف بڑھتا رہا ہے۔ تو جونبی پاک ﷺ کے حوالے سے یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ معاذ اللہ ثم معاذ اللہ اُن کا انتقال ہوگیا، وصال ہوگیا اور اب وہ کسی کی مدد نہیں کرسکتے وہ لوگ مردود ہیں وہ لوگ گستاخ ہیں نبی کریم ﷺ کی جو حیات ہے ایسی حیات کسی کو عطا ہی نہیں ہوئی”

امام مہدی کے جسم کی تشکیل ارضی ارواح محمد سے ہوئی ہے :

مدینہ شریف میں جو حضور نبی پاک ﷺ کا جسدِ مبارک ہے وہ بھی زندہ ہے روحِ مبارک آپ کی اوپر چلی گئی لیکن جسم کو زندہ رکھنے کے لئے تو ارضی ارواح ہیں ! ماں کے پیٹ میں بھی تو زندہ تھا ناں اُس وقت روح کہاں تھی جسم میں۔ تو بغیر روح کے بھی تو زندہ رہ سکتا ہے ،ماں کے پیٹ میں تو روح نہیں آئی تھی لیکن ارضی ارواح کی وجہ سے وہ جسم زندہ تھا۔ اُس روح کے جانے کے بعد بھی وہ جسم ارضی ارواح کی وجہ سے زندہ رہ سکتا ہے ۔ یہی وجہ تھی کہ وہ ارضی ارواح وہاں رہیں جسم میں ،رُکی رہیں اُس وقت تک جب تک امام مہدی کا بھیجنے کا ارادہ نہیں ہوا۔ پھر جب امام مہدی علیہ الصلوۃ والسلام کا اس دنیا میں آنے کا وقت آیا تو وہ ارضی ارواح امام مہدی کے جسم کو بنانے میں کام آگئیں۔ وہی ارضی ارواحِ محمدﷺ۔ یہی وجہ ہے کہ احادیث میں آیا کہ امام مہدی ہو بہو ہم شکلِ مصطفیٰ ﷺ ہونگے۔ کچھ حدیثوں میں تو آیا اُن کا نام ہی محمد (ﷺ) ہوگا۔ اب صرف نام محمد ﷺ ہو تو کیا فائدہ ہے۔ اب یہ اگر اِس کا نام غلام رسول ہے تو نام ہونے کی وجہ سے یہ اللہ کے رسول کا غلام تو نہیں ہے ناں غلام بنے گا تو غلام ہوگا ناں۔ صرف نام سے تو نہیں۔ اسی طرح بہت سارے لوگ ہیں جن کے نام محمد ہیں جب امام مہدی کے لئے کہا جاتا ہے کہ اُن کا نام محمد ہوگا تو اس کا مطلب ہے محمد ﷺ کی ذات اُن کے اندر ہوگی۔ جس طرح روحوں کے دو حصے ہیں ایک ارضی ارواح ایک سماوی ارواح ۔ سماوی روح ایک جسم کے لئے مخصوص ہے دوسرے جسم میں جانہیں سکتی۔ اور یہ جو ارضی ارواح ہیں یہ ایک جسم سے دوسرے جسم میں جاسکتی ہیں۔ حضورﷺ کی ارضی ارواح کو امام مہدی علیہ السلام کے لئے روکا ہوا تھا۔ اب جب وہ ارضی ارواحِ محمدﷺامام مہدی کا جسم اُن ارضی ارواح نے بنایا تو امام مہدی کا نام اس حوالے سے محمد پڑ گیا۔ اُن کو چھونا حضورﷺ کو چھونا ہے، اُن کو دیکھنا حضورﷺ کو دیکھنا ہے۔ امام مہدی ہمشکلِ مصطفیٰ اور ہم سیرتِ مصطفیٰ ﷺ ہیں ۔

مندرجہ بالا متن نمائندہ گوھر شاہی عزت ماب سیدی یونس الگوھر سے 01 جون 2018 کو یو ٹیوب لائیو سیشن میں کی گئی براہ راست گفتگو سے ماخوذ کیا گیا ہے ۔

متعلقہ پوسٹس

دوست کے سا تھ شئیر کریں