کیٹیگری: مضامین

اجزائے حیات کیا ہیں؟

موت جو ہے وہ اجزائے حیات کا منتشر ہوجانا ہے۔ اجزائے حیات یہ ہیں کہ جس نے دو خون کے قطروں کو ملا کر گوشت بنایا وہ جمادی روح تھی۔ یہ حیات کا جُز ہے۔ دو خون کے قطروں کو اُس نے جوڑاور ٹھوس شکل دے کرگوشت بنا دیا۔ پھر اُس میں اب نشونما کیلئے نباتی روح ڈالی گئی ہے ورنہ وہ ویسا کا ویسا ہی رہتا۔ اب آپ دیکھیں کہ یہ جو پتھر ہیں یہ پچاس سال بھی یہاں رکھا رہے گا تو اِسی طرح رہے گا کیونکہ اِس میں صرف جمادی روح ہے جوکہ اِس کے مالیکیول کو مستحکم کرتی ہے لیکن اِس میں نشونما نہیں ہے۔ اگراِس پتھر میں جمادی روح کے ساتھ نباتی روح بھی آجائے تو پھر یہ بڑھے گا۔ ایٹمز کو مستحکم کرنے کیلئے ہمیں جمادی روح کی ضرورت ہے تو یہ حیات کا ایک جز ہے۔ جب روحِ جمادی آگئی تو اُس میں نشونما کیلئے روحِ نباتی آئے گی۔ پھر اُس کو شکل صورت دینے کیلئے روحِ حیوانی چھ مہینے کے بعد آئے گی تو یہ تین جُز ہیں، روحِ جمادی، روحِ نباتی اور روحِ حیوانی۔ حیوان کا مطلب جانور نہیں ہوتا بلکہ حیوان کا مطلب ہوتا ہے زندگی “حیات والا”، وہ کوئی بھی ہو۔ اب جسطرح یہ پتھر ہیں یہ کامل حیات نہیں رکھتے جُزوی حیات رکھتے ہیں۔ پھر اُس کے بعد یہ جو درخت ہیں اِن کے اندر دو روحیں ہیں روحِ جمادی اور روحِ نباتی کیونکہ ہم بیج ڈالتے ہیں تو وہ نکل کے باہر آتا ہے اور پھل بھی دیتا ہے تو اُس میں نشونما ہوتی ہے۔ اِن درختوں کی جو زندگی ہے وہ پتھروں کی زندگی سے ذیادہ اعلٰی درجے کی ہے۔ قرآن نے کہا ہے کہ

وَالنَّجْمُ وَالشَّجَرُ يَسْجُدَانِ
سورة الرحمٰن آیت نمبر 6

وَالشَّجَرُ (درخت) اور وَالحَجَر (پتھر) دونوں اللہ کو سجدہ کرتے ہیں۔ جب زندگی شروع ہوگئی ہے تو جو زندگی کا ابتدائی جُز روحِ جمادی ہے وہ بھی اللہ کی اطاعت میں چلی گئی ہے۔ یہاں کی زندگی تب پوری ہوگی جب یہ تین جُز (روحِ جمادی، روحِ نباتی اور روحِ حیوانی) مجتمع ہوجائیں گے مل جائیں گی تو اب حیات کی یہ جو صورت ہے پچھلی صورتوں سے ذیادہ ترقی یافتہ صورت ہے۔ یہ تین اجزائے حیات ہوگئے جوکہ پتھر میں بھی ہے ، درخت میں بھی ہے۔ اب درختوں کی کوئی شکل و صورت نہیں ہوتی کیونکہ اُن میں روحِ حیوانی نہیں ہے۔ روحِ حیوانی سے شکل و صورت اور حرکت ہوتی ہے۔ کبھی آپ نے دیکھا ہے کہ درخت آہستہ آہستہ چلا جارہا ہے تو ایسا نہیں ہے۔
درخت اور پودوں میں نشونما ہوتی ہے لیکن حرکت نہیں ہوتی۔ چھوٹی چھوٹی زندگی کے یہ نشان ہیں کہ پتھروں میں روحِ جمادی ہوگئی، یہ حیات کا ایک جُز ہے۔ اِن میں روحِ نباتی بھی ہوگئی تو اِن کی حیات پتھروں کی حیات سے زیادہ واضح ہے۔ پھر جانوروں میں روحِ حیوانی بھی ہے کیونکہ ان کی شکل و صورت بھی ہوتی ہے تو اِن میں حیات کے تین جُز ہوگئے۔ حرکت بھی ہے، نشونما بھی ہے اور سب کچھ ہے۔

انسان کو اللہ تعالی نے یہاں کی حیات اور وہاں کی حیات دونوں کا مجموعہ عطا کیا ہے۔ حیاتِ ارضی اور حیاتِ دائمی۔ وہ جو باطنی حیات ہے وہ انسان کے اندر موجود ارواح سے منسلک ہے۔ لطیفہ قلب ملکوت کی حیات تو ملکوت کی حیات کا عنصر بھی آپ کے اندر آگیا

قرآن مجید میں اللہ تعالی نے فرمایا کہ

أُولَـٰئِكَ كَالْأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ ۚ أُولَـٰئِكَ هُمُ الْغَافِلُونَ
سورة الأعراف آیت نمبر 179

جب اللہ تعالی نے فرمایا کہ جو اللہ کا ذکر نہیں کرتا وہ چوپایوں جیسا ہے تو اِس میں کوئی ناراضگی بات نہیں ہے کہ اللہ نے آپ کو کوئی جانور کہا ہے۔ اللہ تعالی نے آپ کو ایک سیدھی سادھی حقیقت کی مساوات سمجھائی ہے کہ یہ جو چوپائے ہیں اِن میں بھی حیات کے تین جُز ہیں اور تم انسان ہو تو تمھارے اندر بھی حیات کے تین جُز ہیں اور ملکوتی حیات کا عُنصر شامل نہیں ہے تو تُجھ میں اور جانور میں فرق کیا ہے! اب آپ نے اپنی حیات کو ترقی پذیر کرنا ہے۔ اب حیات کے تین جز آپ کو مل گئے جو پتھروں، درختوں اور چوپایوں کو بھی مل گئے لیکن آپ میں بھی حیات کے وہی تین جُز ہیں تو عملی طور پر آپ میں اور چوپایوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔

ملکوتی، جبروتی اور عنکبوتی حیات:

حضرتِ انسان تو وہ ہے کہ جس کو اللہ تعالی نے عالمِ بالا کی حیات کے عناصر بھی عطا فرمائے ہیں اور اُن کی کنجیاں ہمارے سینے میں رکھی ہیں کہ تم لطیفہ قلب کو بیدار کرکے عالمِ ملکوت کی حیات سے رُوشناس ہوجاؤ اور تمہاری حیات کو چار چاند لگ جائیں۔ جب تم ملکوتی حیات سے متعارف ہوجاوٴ گے تووہاں تمھارا آنا جانا ہوگا اور پھر تمھارے اندر لطیفہ روح رکھا یعنی جبروتی حیات۔ جبروت وہ جگہ ہے جہاں سارے انسانوں کی اوراح کو اللہ تعالی نے مقیم کیا تھا۔ اصل ہماری حیات وہی ہے۔ اُس حیات کا نشاں ہمیں تب ملے گا جب وہ بیدار ہوجائے گی۔ علامہ اقبال نے کہا ہے کہ
دلِ بیدار پیدا کر کہ دل خوابیدہ ہے جب تک
نہ تیری ضرب ہے کاری، نہ میری ضرب ہے کاری

آپ بغیر قلب کی بیداری کے اللہ ھو کی ضرب لگاتے رہیں تو اللہ ھو تو ہورہا ہے لیکن حیاتِ جاویداں حاصل نہیں ہورہی۔ وہ تب ہوگی جب قلب بیدار ہوگا۔ ایک تو یہ جسم کی حیات ہے۔ پورے نظامِ شمسی کی حیات کو دریافت کرنے کیلئے لطیفہ نفس کو بیدار اور پاک صاف کرنا ضروری ہے۔ جسم سے زیادہ سے زیادہ لوگ چاند پر چلے گئے اور مریخ تک کبھی پہنچے نہیں ہیں، یہ جسم کی رسائی ہے۔

پورے نظامِ شمسی تک اگر رسائی حاصل کرنی ہوگی تو آپ کے اندر ایک لطیفہ نفس ہے اُس کو پاک صاف کرنا ہوگا اور عالمِ ناسوت کی حیات سے اُس کو وابستہ کرنا ہوگا۔ پھر آپ آنکھیں بند کریں گے اور دیکھیں مریخ میں کیا ہورہا ہے تو مریخ میں پہنچ گئے، مشتری پر کیا ہورہا ہے تو آنکھیں بند کیں تو مشتری پرپہنچ گئے۔

آج لوگ ٹیلی پورٹیشن (Teleportation) کی بات کررہے ہیں اوریہ علم سیکھنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن روحانیت میں پتہ نہیں کون کونسے علوم پہلے سے ہی موجود ہیں۔ اب یہ کیسا علم ہے! ایک ایسا زمانہ تھا کہ صرف ٹی وی اسٹیشن ہی نشر کرتے تھے۔ کبھی آپ تصور کرسکتے تھے کہ چھوٹا سا موبائل فون ہوگا اور اِس کے اندر نشر کرنے کی قابلیت پیدا ہوجائے گی تو آپ یہ کبھی تصور بھی نہیں کرسکتے تھے لیکن آج کرسکتے ہیں۔ آپ سوشل میڈیا کے اوپر فیس بک اور یوٹیوب لائیو پر آکر اپنے آپ کو نشر کریں اب آسان ہوگیا ہے۔ آپ نے اب دیکھ لیا ہے تو آپ مان رہے ہیں۔ کیا یہ ممکن ہے کہ ہر کوئی چاند اور مریخ پرچلاجائے تو یہ ممکن نہیں ہے کیونکہ بڑی مشکل سے یہ خود چاند پرپہنچے ہیں حالانکہ کوششیں بہت کررہے ہیں کہ ایسا بھی کوئی چھٹی کا دن رکھا جائے جس پر لوگوں کو چاند پر لے جایا جائے لیکن اُس میں خاطر خواہ کامیابی ہوئی نہیں ہے۔ لیکن ایسا بھی توہوسکتا ہے کہ کوئی اللہ کیطرف سے ایسا علم سیدنا امام مہدی گوھرشاہی کھول دیں کہ جسطرح ہرآدمی نشر کرسکے اِسی طرح ہرآدمی کے اندر یہ صلاحیت پیدا ہوجائے کہ وہ جب چاہے مریخ پرپہنچ جائے، جب چاہے مشتری پر پہنچ جائے، جب چاہے زحل ہر پہنچ جائے، کہکشاں میں چلا جائے، بلیک ہول میں کیا ہے وہاں چلا جائے۔ وہ سب تو پتھر ہی ہیں۔ ایک حیات کا جُز ہے مشتری، سورج، چاند، زمین, ستارے اور یہ جتنے بھی فلکیاتی اجسام ہمیں نظر آرہے ہیں یہ حیات کا ایک جُز ہیں اِن میں روحِ جمادی ہے۔ اور ہم انسان اشرف المخلوقات ہیں اور اُس کے باوجود ہم مریخ پر رسائی حاصل نہ کرسکیں تو پھر ہم کہاں کے اشرف المخلوقات ہیں! یہ نظامِ شمسی اور سیارے سب پتھر ہی ہیں اور جب اِن پتھروں کے اندر روحِ نباتی ڈال دی تو گھاس اُگ آئی، درخت اُگ آئے تو دو حیات کے جُز ہوگئے۔ روحِ حیوانی بھی آگئی تو جانور بھی ہوگئے۔ یہ ساری اٹھارہ ہزار مخلوق اللہ کی ایک طرف اور انسان ایک طرف۔ اُن تمام میں حیات کے تین جُز ہیں اور انسان کے اندر حیات کے تین جُز یہ ہیں اور سات اور ہیں تو زندگی کے دس حصے ہوگئے۔ اب رب پوچھے گا کہ بتا تیری رضا کیا ہے تو کونسی زندگی کا حصہ تُجھے سب سے زیادہ مضبوط کرنا ہے ملکوتی زندگی کا کرنا ہے، جبروتی زندگی کا کرنا ہے، احدیت کا کرنا ہے کہاں کا کرنا ہے! تم خود جب روحانیت پر چلو گے اور آگے پہنچو گے تو پھر تجھے پتہ چلے گا کہ بہت سے لوگ ایسے ہیں کہ موت اور زندگی اُن کے نزدیک کچھ معنی نہیں رکھتی۔ جینا اور مرنا اُن کی نظر میں ایسا ہی ہے جیسے آپ کپڑے بدلتے ہیں یہ کپڑا اُتار کے بدل لیا اور کل دوسرا کپڑا پہن لیا۔ جب پہلی مرتبہ امامِ عالی مقام امامِ حسین سے ملاقات ہوئی تو اُنہوں نے ہمیں (یونس الگوہر) پہلا لفظ یہی کہا کہ بیٹا جسطرح ہم نے اپنا لباس کربلا میں اُتار کے پھینک دیا موقع ہے تُو بھی اپنا لباس اُتارلے اور نور کا لباس پہن لے۔

ہمارا جسم ایک لباس ہے اور کچھ بھی نہیں ہے۔ کل اگر کوئی چھوڑ کر چلا جائے گا تو وہ چھوڑ کے اپنی زندگی کو نہیں جائے گا۔ یہ ایک لباس یہیں چھوڑ دے گا لیکن جس جس نے ملکوتی زندگی قائم کرلی ہے اُس اُس کے ساتھ وہ ہمیشہ رہے گا

تم نے اگر ملکوتی زندگی قائم کرلی ہے تو تُو اُس کے ساتھ ملکوتی زندگی سے جُڑا ہوگا بھلے وہ کل یہاں ہو یا نہ ہو لیکن یہ جو ملکوتی اور جبروتی زندگی قائم ہوگئی ہے اِس سے تُو اُس کے ساتھ اَمر ہوجائے گا۔ اگر صرف لیکچر ہی سُنتا رہا اور یہ نورانی رشتہ قائم نہیں کیا، بہت سے تو ایسے ہوئے ہیں کہ جنہوں نے اِس کا مذاق اُڑایا کہ یہ نورانی رشتہ کیا ہوتا ہے! یہ نورانی رشتہ ہی ہے جس سے آدمی اَمر ہوجاتا ہے، جس سے آدمی انسان بن جاتا ہے۔ جبروتی، ملکوتی اور عنکبوتی زندگی کا سُراغ۔ آپ ہماری زندگی میں کس حساب سے داخل ہیں کیا ہماری زندگی میں رشتہ فنائیت پر مبنی ہے یا ہم نے کوئی ایسا رشتہ بھی اُستوار کیا ہے کہ جس کی زندگی ملکوتی، جبروتی اورعنکبوتی ہے، یہ دیکھنا پڑے گا۔ اگر یہ ہمارے رشتے جمادی، نباتی اور حیوانی یہی ہیں تو فنائیت کے رشتے ہیں ختم ہوجائیں گے۔

پائیدار رشتہ وہ ہوگا کہ جمادی، نباتی، حیوانی، جبروتی، ملکوتی، عنکبوتی اور اِدھر بھی اگر عنکبوتی، ملکوتی اور جبروتی رشتہ قائم ہوا تو مرنے کے بعد بھی زندہ۔ تم بھی ساتھی وہ بھی ساتھی، نہ تم اُس کیلئے مرو گے اور نہ وہ تیرے لئے مرے گا اگر تم نے بھی جبروتی زندگی کا یہ تعلق قائم کرلیا۔

زندگی کے تو بہت پہلو ہیں۔ قبر میں حیات کہاں جاتی ہے! جو حیات ہمیں قبر میں لے جائے اُس حیات پر لعنت بھیجتے ہیں۔ ایسی زندگی کو تو ہم نے کب کا چھوڑ دیا ہے۔ وہ تو دھوکہ ہے۔ جمادی، نباتی، حیوانی جو اجزائے حیات ہیں یہ حیات کہاں ہیں یہ تو زندگی جیسی کوئی تمثیل ہے حیات نہیں ہے۔ حیات وہ ہے جس کو ختم نہیں ہونا ہے۔ اب اگر تمہاری ملکوتی حیات بیدار ہوجائے اور تم اُس ملکوتی حیات کے ساتھ ہی رہو جیسے اب انسٹگرام یا یوٹیوب ہیں تو آپ جب یوٹیوب کی آئی ڈی بنائیں گے اور سائن اِن کریں گے تو نیچے لکھا آتا ہے کھاتہ بدلیں کہ کبھی آپ اِس اکاؤنٹ سے آجائیں کبھی آپ اُس اکاؤنٹ سے آجائیں، اِسی طرح یونس الگوھر کو سیدنا گوھر شاہی نے حیات کی مختلف جہت سکھائی ہیں۔ یہ حیات جو جمادی روح، نباتی روح اور حیوانی روح کی ہے اِس کو تو ہم حیات سمجھتے ہی نہیں ہیں۔ ایک حیات ملکوتی، ایک حیات جبروتی اور ایک حیات عنکبوتی ہے۔ جسطرح خضرؑ کو جبروتی حیات حاصل ہے کیونکہ کتنے عرصے سے زندہ ہیں اِسی طرح ہم کو عنکبوتی حیات حاصل ہے۔ اب آپ کی نظروں کا دھوکہ ہے کہ آپ یہ جانیں کہ جو بندہ آپ کے سامنے بیٹھا ہے وہ کونسی حیات سے بیٹھا ہے! کیا خبر وہ ملکوتی حیات سے بیٹھا ہو اور اُس کی جو روحِ جمادی، روحِ نباتی، روحِ حیوانی والی حیات ہے وہ بہت عرصہ پہلے معدوم ہوچکی ہو لیکن تمہاری آنکھ اُس کو دیکھ نہیں سکتی تو اگر وہ اپنی ملکوتی حیات کو غالب کرلے گا تو پھر جن جن کا ملکوتی حیات سے تعلق جُڑگیا ہے صرف وہ اُس کے ساتھ رہ جائیں گے باقی سب بھاگ جائیں گے۔ جیسے غَیبت کے مقام پرہوا کہ جس کو اِن اجزائے حیات کے علاوہ سرکار گوھر شاہی نے حیات عطا کی وہ ساتھ کھڑا ہوا ہے اور باقی سب کیلئے وہ جو اشتہارِحیات ہے وہ غائب ہوگیا ہے تو درحقیقت غَیبت تو انسانوں کی ہوئی ہے مولیٰ تو وہیں کھڑا ہے۔ پھر کچھ ایسا بھی ہو کہ جس کے ساتھ جبروتی حیات کا تعلق قائم ہوجائے تو ایک وقت ایسا بھی آئے گا کہ ملکوتی حیات والوں کیلئے وہ غائب ہوجائے گا، صرف جبروتی حیات والے اُس کو دیکھ پائیں گے۔

ملکوتی، جبروتی اور عنکبوتی زندگی کونسی ہوتی ہیں؟

ملکوتی زندگی وہ ہوتی ہے کہ انسان کا ایک قلب کا جو جثہ ہے وہ اتنا طاقتور ہوجائے کہ جسم کی جگہ پر وہ زندگی گزارے اور کسی کو پتہ نہ چلے کہ یہ اِس کا جسم ہے یا اِس کا جثہ ہے۔ وہ جو جسم ہے وہ پہلے ہی چھوڑ چکا ہو اور تمہیں پتہ ہی نہیں چلے گا کہ وہ اپنا جسم چھوڑ چکا ہے۔ جسم کہاں گیا! تم کو تو یہ بات پتہ نہیں چلے گی کیونکہ تم تو اُس کو دیکھ رہے ہو، تمھارے تو گمان میں بھی نہیں آئے گی کہ اب وہ جو کوئی ہستی ہے تمہارے سامنے جو کھڑا ہے بیٹھا ہے اور روز مل رہے ہو وہ کونسے جسم کے ساتھ ہے کیونکہ یہ عام بات تو نہیں ہے۔ تم نے تو یہی سُنا ہے کہ یہ انسان کا جسم ہے پھر روح نکل جاتی ہے تو وہ مرجاتا ہے، اِس کے آگے آپ کو کچھ پتہ نہیں ہے۔ یہ پتہ نہیں ہے کہ کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ جن کے لطیفہ قلب کے جثے کو، فرض کیا کہ دل میں تین جگہیں خالی ہوگئیں اور اُن تین جگہوں پر آپ کے قلب میں سرکار گوھر شاہی کے جثہ ہائے مبارک آگئے تو اب آپ کے جثے کہاں رہیں گے! ظاہر ہے کہ آپ کے جو قلب کے جثے ہونگے اُن میں سے ایک آپکو بطورِوجود استعمال کرنے کو دیا جائے گا یا پھر کوئی جبروتی زندگی ہو جس کے اندر انسان کی روح جسم پرقابض ہوجائے تو ایسے لوگ وہ ہوتے ہیں جن کی موت پہلے واقع ہوچکی ہوتی ہے۔ اب اُن کی زندگی یا تو جبروتی ہے یا وہ ملکوتی ہے یا عنکبوتی ہے۔ یہ چیزیں عام نہیں ہیں نہ اِن کو سمجھایا جاسکتا ہے نہ آپ کی سمجھ میں آئیں گی۔ اِس کے اندر یہ ہوتا ہے کہ اگر کسی کی ملکوتی زندگی ہے تو بیٹھے بیٹھے وہ غائب ہوسکتا ہے۔ آپ کو کہے گا کہ اُدھردیکھو اور غائب، کرسی خالی۔ ایسے کوئی آپ کے درمیان بھاگنے والے ہوں تو اُس کا تو کوئی سُراغ جان ہی نہیں سکتا لیکن بھاگنے والوں کے ساتھ ایسی نوبت آتی کہاں ہے۔ یہ عطائیں تو اُن کے ساتھ ہوتی ہیں جورب کا نام لیکر مرجاتے ہیں، اُس کے نام پرزندگی گزار دیتے ہیں، قدم نہیں ہلاتے جو بھی ہوگا دیکھا جائے گا، مرجائیں گے مٹ جائیں گے لیکن جہاں مرشد نے بٹھایا ہے وہیں کھڑے رہیں گے۔ طاقت ہے کہ غائب ہوجائیں بھاگ جائیں تو کسی گاڑی کی ضرورت ہی نہیں ہے آنکھیں بند کیں اور غائب ہوگئے۔ یہ ملکوتی زندگی ہے۔ اگر موٴمن کو گالی دی ہے تو آپ فاسق ہوگئے لیکن اگر کسی ایسے بندے کوکہا کہ یہ جاہل اور مردود ہے کہ جس کا وجود ہی نہیں تھا، وہاں پر لطیفہ قلب کا وجود تھا۔ لطیفہ قلب کے وجود سے مراد یہ ہے کہ پورےعالمِ ناسوت میں اُس سے زیادہ محترم کوئی چیز نہیں ہے، پورے عالمِ ملکوت میں اُس سے زیادہ کوئی محترم چیز نہیں ہے اور اگر جبروتی زندگی ہے تو بیت المامور سمیت ہو عبادت گاہ اُس کا طواف کرتی ہے۔ ایک تو رابعہ بصری تھی جس کا طواف کعبہ کرتا تھا۔ ایسی بھی ہستیاں ہیں جن کا طواف بیت المامور کرتا ہے اور پھر ایسی بھی ہیں جن کا طواف عرشِ الہی کرتا ہے۔ ایسی بھی ہستیاں دیکھی ہیں کہ جن کا طواف عالمِ غیب کرتا ہے۔

مندرجہ بالا متن نمائندہ گوھر شاہی عزت مآب سیدی یونس الگوھر سے 14-15 اکتوبر کو یو ٹیوب لائیو سیشن میں کی گئی خصوصی گفتگو سے ماخوذ کیا گیا ہے۔

متعلقہ پوسٹس
دوست کے سا تھ شئیر کریں