کیٹیگری: مضامین

اللہ جب یقین کی دولت عطا فرماتا ہے تو کیا ہوتا ہے ؟

ہمارے عالم اسلام میں بہت فرقے ہو گئے ہیں اورسب اپنے آپ کو حق پر سمجھتے ہیں لیکن حق کی کسوٹی ان میں سے کسی کے پاس نہیں ہے ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ہمارے علماء نے قرآن مجید کئی بار تفسیر کے ساتھ پڑھا ہے لیکن اس کے باوجود اُن کی گفتگو میں صراط مستقیم، شرح صدر اور ہدایت کیا ہے، ہدایت کی نشانی کیا ہے، شرح صدر کیا ہے ان باتوں پر کبھی مولوی گفتگونہیں کرتے ۔جب ہم سرکار گوھر شاہی سے وابستہ ہوئے تو ماحول کی وجہ سے دیوبندی عقائد کا کچھ اس طریقے سے سر پر بوجھ تھا کہ ولیوں کی تعلیم پڑھتا تھا تو اس کو پڑھ کر شکوک وشبہات پیدا ہوتے تھے کہ پتہ نہیں یہ صحیح ہے یا غلط اور ایک بات ذہن میں گونجتی تھی کہ اگر اولیاء کی تعلیم اور اُن کی باتیں صحیح ہے تو پھر قرآن مجیدمیں کیوں نہیں ہے ۔ اگرقرآن مجید میں نہیں ہے تو پھر ہمارے لئے اس کو ماننا بڑا مشکل ہے کیونکہ ایک مسلمان کے لئے قرآن سے زیادہ مستند بات کس کی ہو گی ۔کبھی بریلوی تو کبھی وہابیوں کے پاس جاتے تھے لیکن تھک ہار کر بیٹھ گئے جبکہ پانچوں وقت کی نماز پڑھتا تھے بچپن میں اورپھر بدگمان ہو کر سب کچھ چھوڑ دیا ۔ 1985 میں کالج کی لائبریری میں بیٹھا ہوا تھا کہ وہاں میری کلاس کا ایک دوست دوسرے لڑکے کو سمجھا رہا تھا ۔ ہمیں اُس وقت روحانیت اور تصوف کی تعلیم کا کچھ پتہ نہیں تھا، ہمارا ایک دوست دوسرے دوست کو قائل کر رہا تھا کہ تم شاہ صاحب کے پاس چلولیکن وہ قائل نہیں ہو رہا تھا۔ پھر میں نے کہا اگر یہ نہیں جا رہا ہے تو میں چلوں گا۔ تو اس نے کہا کہ کل شاہ صاحب کراچی آ رہے ہیں تم وہاں چلنا۔ پھر سرکار گوھر شاہی سے ملاقات ہوئی اور دل کو بڑا سکون میسر ہوا اور چہرہ مبارک پر سے نظر نہیں ہٹ رہی تھی اور سرکارگوھر شاہی کی باتیں دل میں اُتر رہی تھیں۔ ہمارا ذہن بچپن سے ہی تحقیقی تھا ، لیکن جب سرکار کی گفتگو اور حسن دیکھ کر دل میں باتیں اتر رہی تھیں۔مسرت اس بات کی تھی کہ جب بھی مولوی کا خطاب سنا شکوک و شبہات ہوتے تھے اوریقین نہیں آتا تھا مگر سرکارگوھر شاہی کی باتیں دل میں گھر کر گئیں ۔اگر کسی کو سن کر آپ کو وسوسے اور منفی خیال آتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ اللہ آپ یقین کی دولت عطا نہیں کی ہے کیونکہ اللہ جن پر کرم کرتا ہے انہیں یقین کی دولت عطا فرما دیتا ہے ۔اگر رب کی طرف سے یقین کی دولت عطا ہو جائے تو کسی بھی مذہب کا آدمی سچ کہہ رہا ہو تو دل کو یقین آ جاتا ہے۔جب سیدنا گوھر شاہی کو سنا تو وہ باتیں دل میں گھر کر گئیں اور دل میں القا یہی آیا کہ جو سرکارگوھر شاہی نے بات کی ہے وہ یقیناً قرآن مجید میں ہو گی پھروہ سرکار کی باتیں قرآن مجید میں ڈھونڈتا تھااور اگر وہ بات قرآن میں نہیں ملتی تھی تو ساری رات ڈھونڈتا اور نکال کر اپنے پاس ڈائری میں لکھ لیا کرتا تھا ۔ پھر اتنا زیادہ مطمئن ہو گیا کہ اب پرواہ نہیں تھی کہ مجھے مشن کس کو بتانا ہے وہابی ہے یا اہلحدیث۔ میرے ذہن میں یہ آیا کہ سرکار گوھر شاہی کی اس تعلیم کو سنیت، بریلویت کا نام کیوں دوں حتکہ یہ بھی اپنی ڈکشنری سے نکال دیا کہ یہ ولیوں کی تعلیم ہے کیونکہ یہ ولیوں کی تعلیم نہیں ہے بلکہ اللہ کی تعلیم ہے جو ولیوں نے اپنائی ہے ۔اگر سرکار گوھر شاہی کی تعلیم کو ولیوں کی تعلیم کہا جائے گا تو اس کا مطلب ہے کہ قرآن سے ہٹ کر کوئی بات کر رہے ہیں ۔داتا اور خواجہ نے جو تعلیم لوگوں کو بتائی وہ قرآن مجید سے ہی آئی ہے اس لئے یہ اللہ کی تعلیم ہوئی ۔ہم نے اس کو ذکر قلب کے بجائے توحید کی حقیقت قرار دیا ہے۔ ایمان کی تشریح یہ ہے کہ دل کی دھڑکنیں اللہ اللہ کریں ۔ کسی مذہب کے رہنما میں اتنی جرات نہیں ہے کہ اس تعلیم کے خلاف بول سکے ۔

آج کے علماء قرآن کے مطابق ہدایت کی بات نہیں کر رہے ہیں :

آج کے اس دور میں بڑے بڑے جید علماء کرام ہیں لیکن گفتگو کا ڈھب یہ نہیں ہے جہاں سے ایمان کی ابتداء ہوتی ہے وہاں آپ نے کیا اقدامات لینے ہیں اس پر بات نہیں کرتے ہیں ۔ہم علماء کرام پر تنقید نہیں کرتے ہیں لیکن یہ بات بتا رہے ہیں کہ ان موضوعات پر آپ بات کیوں نہیں کرتے ہیں جب قرآن مجید میں یہ سب کچھ ہے

أَفَمَن شَرَحَ اللَّـهُ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ فَهُوَ عَلَىٰ نُورٍ مِّن رَّبِّهِ فَوَيْلٌ لِّلْقَاسِيَةِ قُلُوبُهُم مِّن ذِكْرِ اللَّـهِ أُولَـٰئِكَ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ
سورة الزمر آیت نمبر 22
ترجمہ : جس نے اسلام کے لئے شرح صدر کر لی تو اسے رب کی طرف سے نور میسر ہو جائے گا۔ اور ہلاکت ہے اُن لوگوں کے لئے جن کے دل اتنے سخت ہو گئے ہیں کہ اُن میں ذکر اللہ سرائیت نہیں کرتا ہے ۔ایسے لوگ کھلی گمراہی میں ہیں۔

آج کے علماء اور مولویوں نے ہدایت کامعیار داڑھی نماز اور روزہ کو رکھا ہے ، ہاتھ میں تسبیح ، سر پر عمامہ ، پائنچہ کتنا اوپر ہونا چاہیے ، داڑھی کتنی بڑی ہونی چاہیے بھلے کرتوت کافرانہ ہوں بس انہی چیزوں میں لوگوں کو اُلجھایا ہو اہے ۔ہدایت کی وہ تشریح کیوں نہیں لے رہے ہیں جو کہ قرآن مجید میں موجود ہے ۔قرآن کی سب سے واضح خوبی یہ ہے کہ ہدایت کیا ہے ، کون دیتا ہے اور جسم کے کس عضو کو ہدایت ملتی ہے لیکن ہمارے علماء قرآن کو بیان کیوں نہیں کر رہے ہیں کس بات کے عالم ہیں یہ ۔ ہدایت اور گمراہی کیا ہے اس میں فرق پتہ نہیں چلا اتنے عرصے درس نظامی کرنے کے بعد بھی ۔اگر قرآن سے پوچھیں کہ ہدایت اور گمراہی کیا ہے تو قرآن مجید کہتا ہے جس کے دل میں اللہ کا ذکر ہے وہ ہدایت پر ہے اور جس کے دل میں اللہ کا ذکر داخل نہ ہو وہ گمراہ ہے ۔ لیکن یہ مولوی کبھی یہ باتیں بیان نہیں کرتے ہیں ۔ لچھے دار گفتگو کریں گے ، جنت اور حوروقصور کی باتیں کریں گے، محلات کی باتیں کریں گے لیکن ہدایت کیا ہے اس کا بیان نہیں ہوتا ہے ۔ہمارے علماء کہتے ہیں نماز پڑھ لو لیکن نماز سے پہلے کیا کرنا ہے یہ کیوں نہیں بتا رہے ہیں ۔

روحانی سلاسل تصدیق بالقلب کے حصول کے لئے اختیار کرتے ہیں :

آج کے عالم نے اسلام کے پہلے رکن کی افادیت،اہمیت اور فرضیت کو یکسر بُھلا دیا ہے ۔اسلام کا پہلا رکن کلمہ طیب ہے اور کلمہ طیب افضل الذکر میں آتا ہے اور ذکر کے لئے قرآن مجید کا حکم ہے اُٹھتے ، بیٹھتے حتی کہ کروٹوں کے بل بھی میرے ذکر سے غافل نہ رہنا ۔پہلے رکن پر تم رکے نہیں اور فورا ً نماز میں کھڑے ہو گئے اور نماز میں دنیا کے خیالات بھرے ہوئے ہیں ۔نماز میں مزا کیوں نہیں آ رہا ہے ، نماز اللہ سے کیوں نہیں ملا رہی ہے ، برائیوں سے کیوں نہیں روک رہی ہے ، نماز کو معراج کا درجہ کیوں نہیں مل رہا ہے ! یہ اس لئے ہے کہ اسلام کی جو تم نے ابتداء کی ہے اُس میں ہی کھوٹ ہے زبان سے ایک مرتبہ کلمہ پڑھ لیا تو اقرار باللسان کے درجے پر فائز ہو گئے اور اب تک عمر کا ایک طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود بھی اقرار باللسان کے درجے پر ہی اٹکا ہوا ہے تصدیق بالقلب کا مقام حاصل نہیں ہوا ۔اگر جاننا چاہتے ہو کہ فرقے واریت کا وجہ کیا ہے تو سن لو کہ تمھارا دین اقرار باللسان سے آگے نہیں بڑھا جو تصدیق بالقلب میں چلے گئے وہ اُمتی بن گئے ، کوئی قادری بنا، کوئی سہروردی بنا، کوئی چشتی بن گیا یہ سارے اُمت کے دھڑے ہیں اگر ان کے دل میں نور آ جائے۔اگر آپ مسلمان ہیں تو پھر قادری بننے کی ضرورت اس لئے ہے کہ قادری سلسلے سے تصدیق بالقلب ملی ہے ۔اقرار باللسان مولوی نے بتا دیا پھر تصدیق بالقلب کے لئے کسی روحانی سلسلے میں داخل ہو گئے ۔حضوؐرکے دور میں قادری سلسلہ اس لئے نہیں تھا کہ اُس وقت حضورپاک خود موجود تھے ۔ جب آپ رخصت ہو گئے تو پھر کئی سلاسل بنا دئیے تاکہ اُمت کا معیار بڑھتا رہے اور اُن کے سینوں میں نور آتا رہے ۔اقرار باللسان تمھارے اپنے اختیار میں ہے جب جی چاہی کلمہ پڑھ لےلیکن تصدیق بالقلب کے لئے قادری ، نقشبندی ، چشتی یا سہروردی بننا پڑتا تھا کیونکہ ان کے پاس روحانی سلسلوں کی تعلیم اور طاقت تھی ان سلاسل کے مرشد سینوں میں اسم ذات اللہ نظروں سے یا چلے مجاہدے سے اُتار دیتے تھے ۔ بہت سے لوگوں کا قلب مرشد کی نگاہوں سے بھی چل جاتا ہے ، سیدنا گوھر شاہی نے اپنی نظر کیمیا سے کئی لوگوں کے قلب جاری فرمائے ہیں ۔قادری اس لئے بنتے ہیں کہ تصدیق بالقلب حاصل ہو جائے اگر کسی سلسلے میں جانے کے باوجود بھی اللہ کا ذکر قلب میں سرائیت نہیں کرتا تو پھر یہ سلاسل اختیار کرنا بیکار ہو گیا ۔قادری بن کر بھی اگر ذکر قلب سے نا آشنا ہے تو پھر کہاں کا قادری ہے ۔قادری وہ ہے جس کے دل کی دھڑکنیں اللہ اللہ کرتی ہیں ، نقشبندی وہ ہے جس کے دل کی دھڑکنیں اللہ اللہ بھی کرتی ہوں اور دل پر اللہ بھی لکھا ہو ، چشتی وہ ہے جس کے دل کی دھڑکنیں اللہ اللہ کریں یا پھر اس کے مرشد کے نام سے جاری ہو جائیں۔ لہذا تصدیق بالقلب حاصل کرنے کے لئے ان روحانی سلاسل میں داخل ہونا پڑتا تھالیکن اس وقت موجودہ حالات میں تمام سلاسل روحانیہ میں تصدیق بالقلب کا علم نہیں رہا، یہ روحانی سلاسل ذکوریت اور طریقت سے دور ہو گئےیہی وجہ ہے کہ آج کا چشتی، قادری، نقشبندی اور سہروردی اندر سے خالی ہو گیا ہے ۔فرمان گوھر شاہی ہے کہ اگر تو قادری بن جاتا تو پھر تجھے چشتی بننے کی کیا ضرورت تھی۔اگر قادری ہی صحیح طرح سے بن جاتا تو پھر غوث اعظم سے بڑا تو کوئی مرشد نہیں ہے۔

اسلام کا روحانی نظام فتنے کا شکا ر ہو گیا ہے :

جسطرح یہ اُمت میں فرقے بن گئے اسی طرح اسلام کا روحانی نظام فتنے اور انتشار کا شکار ہو گیا۔اب شریعت کے چار مصّلے تھے احمد بن حنبل ، امام مالک، امام شافعی ، اما م ابو حنیفہ ۔ اسی طرح طریقت کے بھی چار مصّلے تھے ۔ اب نہ شریعت حقہ ان سلسلوں میں ہے نہ اب امام ابو حنیفہ کے ماننے والے صحیح شریعت پر ہیں اور نہ ہی امام مالک کے ماننے والے صحیح شریعت پر ہیں کیونکہ یہ آئما کرام جب آگے شریعت کا فیض دیتے تھے تو لوگ ان سے کامل شریعت بنتے تھے ان کے پاس نفس کو پاک کرنے کا طریقہ بھی تھا جبھی انہوں نے اتنی سخت شریعت بنائی کہ بے نمازی کو مسلمان کے قبرستان میں دفن نہ کیاجائے۔یہ شریعت اس لئے سخت بنائی کہ جن کو انہوں نے باطنی شریعت یعنی نفس کو پاک کرنے کی تعلیم دی تو اُن کا نفس پاک ہو گا اب وہ ہر گز نماز نہیں چھوڑے گا۔امام ابو حنیفہ کی کامل تقلید تب ہو گی جب امام ابو حنیفہ کی ظاہری شریعت ، شریعت ناقصہ اور شریعت حقہ یا کاملاں دونوں پر عمل پیرا ہو تو صحیح حنفی ہے اور اگر صرف ظاہری شریعت اپناتا ہے اور باطنی شریعت کا کوئی علم نہیں ہے تو وہ صحیح حنفی نہیں ہے ۔لہذا چار مصّلے شریعت کے اور چار ہی مصّلے طریقت کے ہیں جو شریعت کے مصّلے ہیں اُن کے پاس باطنی شریعت نہیں رہی اور طریقت کے مصّلوں کے پاس کوئی طریقت نہیں رہی ۔
اسی لئے سیدنا امام مہدی گوھر شاہی نے اس اُمت محمد ﷺکو دوبارہ زندہ کرنے کا راز بتایا ہے ۔ سرکار گوھر شاہی نے بتایا کہ جب تمھارے سینوں میں نور تھا تو تم اُمتی تھے جب نور تمھارے سینوں سے نکلتا چلا گیا تو شیعہ سنی وہابی بنتا چلا گیا ۔ وہ نور جب تمھارے سینوں میں دوبارہ آ جائے گا تو تم پھر اُمتی بن جاؤ گے پھر کبھی بھی یہ نہیں کہو گے میں شیعہ ہوں، سنی ہوں ، وہابی ہوں یا دیو بندی ہوں بلکہ یہی کہو گے کہ بس اُمتی ہوں تمھارا یا رسول اللہ ۔جب مولویوں نے یہ راز بھانپ لیا کہ سیدنا گوھر شاہی جو باتیں کر رہے ہیں اس سے پتہ چل گیا کہ وہ اللہ کی طرف سے آئے ہیں اور اس سے ہماری دکانیں بند ہو جائیں گی اس لئے خوب مخالفت کی ۔ اس کے باوجود سیدنا گوھر شاہی کبھی بھی مخالفت سے پریشان نہیں ہوئے بلکہ فرمایا کہ جس کے مقدر میں اللہ نے ایمان لکھا ہے وہ ہمارے پاس آ کر رہے گایہ مخالفت صرف اُن کو دور کرے گی جو ازلی مومن نہیں تھے۔بلکہ یہ تو ایک طرح کی مدد ہے کہ ہماری خوبصورت تعلیم کو سن کر جو لوگ لگ جاتے ہیں یہ مخالفت اُن کو نکال کر لے جاتی ہے لیکن اگر ازلی مومن ہو ا اور وسوسے بھی آئے پھر بھی کہاں جائے گا اس کے دل میں موجود نور یہیں لے کر آئے گا۔اس سلسلے میں وہی ٹک کر رہے گا جس نے رب کی گواہی میں کلمہ پڑھ لیا تھا۔تم ظاہر میں اس کے اعمال دیکھو گے لیکن رب کہتا ہے کہ اس نے روز ازل میں کلمہ پڑھا ہوا ہے اسے کیسے نکالوں کیونکہ رب مستقبل دیکھتا ہے ۔ فرمان نبوی ہے کہ جس نے میری ایک سنت کو زندہ کیا اس کو سو شہیدوں کا ثواب ملتا ہے ۔ سرکارگوھر شاہی سے بھی کسی نے سوال کیا کہ ہم تو سنتوں کا کام کر رہے ہیں ۔ اس کے جواب میں آپ نے فرمایا کہ سنت وہی زندہ ہو گی جو مردہ ہو گئی ہو۔ عمامے تو جاری ہے کونسا ایسا دور ہے جس میں لوگوں نے عمامے نہیں پہنے ! وہ سنت جو ناپید ہو گئی ہے وہ کونسی سنت ہے ؟ حضوؐرنے فرمایا کہ ہماری آنکھیں سوتی ہیں مگر ہمارے دل نہیں سوتے۔یہ دل کا اللہ اللہ کرنا بھی حضورﷺ کی سنت ہے اب یہ سنت اِس دور میں نظر نہیں آتی ہے جس نے اس سنت کو زندہ کیا اُسے سو شہیدوں کا ثواب ہو گا۔ عمامے والی سنت ، پائنچے ٹخنوں سے اوپر اسی طرح کی سنتوں میں لوگوں کو الجھایا ہوا ہے ۔ قرآن مجید نے اتنی صراحت کے ساتھ یہ بات کہی ہے

فَوَيْلٌ لِّلْقَاسِيَةِ قُلُوبُهُم مِّن ذِكْرِ اللَّـهِ ۚ أُولَـٰئِكَ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ
سورة الزمر آیت نمبر 22
ترجمہ : اگر کسی کے قلب میں ذکر اللہ سرائیت نہیں کرتا تو یہ گمراہی میں ہے ۔

اس کی تمام عبادات رائیگاں چلی جائیں گی۔ یہ وہ سنت ہے جو اس دور میں مردہ ہو گئی ہے اس کو زندہ کرنا ہے ۔علامہ اقبال نے بھی اپنی شاعری میں یہ بات کہی تھی کہ
دل بیدار پیدا کر کہ دل خوابیدہ ہے جب تک
نہ تیری ضرب ہے کاری نہ میری ضرب ہے کاری

یہ تعلیم کسی ولی کی تعلیم نہیں ہے بلکہ قرآن مجید ہے اگر ان تعلیمات کا پرچار کرنے کے باوجود بھی کوئی مخالفت کرتا ہے تووہ ہمارا نہیں بلکہ قرآن اور االلہ کا مخالف ہے ۔ نجات سرکار گوھر شاہی کے قدموں سے مربوط ہے آج نہیں تو کل دنیا سمجھ ہی جائے گی ۔ سرکار گوھر شاہی کی تعلیم فیصلہ کن تعلیم ہے جس کو کوئی رد نہیں کر سکتا ، وہ کتنا ہی بڑا مخالف کیوں نہ ہو سر ہلانے پر مجبور ہو جاتا ہے ۔آج جو علماء مخالفت کرتے ہیں سیدنا گوھر شاہی نے ان سب کو دعوت دی کہ آؤ اور ہم کو بتاؤ ہماری کونسی چیز شریعت کے خلاف ہے اگر تم اس کی نشاندہی کر دو کہ یہ چیز نہیں ہونی چاہیے تو میں وہ چھوڑنے کو تیار ہوں لیکن پھر بھی کوئی نہیں آیا ۔اس لئے نہیں آئےکہ اُنکو پتہ ہے کہ آپ کی بات میں کوئی جھول نہیں ہے بلکہ اُن کی اپنی دکانیں بند ہو رہی ہیں ۔

مندرجہ بالامتن نمائندہ گوھر شاہی عزت ماب سیدی یونس الگوہر سے 2 اگست 2018 کو یو ٹیوب لائیو سیشن میں کی گئی گفتگو سے ماخوذ کیا گیا ہے ۔

متعلقہ پوسٹس

دوست کے سا تھ شئیر کریں