کیٹیگری: مضامین

عملِ دعوت کیا ہے؟

عملِ دعوت دنیا کے بڑے عملیات میں سے ہے اس عمل کو عمل ِاکسیر یا عمل ِتکسیر بھی کہا گیا ہے، دعوت کا عمل وہ ہے جو کہ ایک عام مومن نہیں کر سکتا اُس کے کیے کم سے کم ولی ہونا ضروری ہے۔عملِ دعوت کی اجازت ہوتی ہے اور عملِ دعوت عام ولی کے دربار پر نہیں کیا جاتا بلکہ کسی کامل ولی کی قبر پر کیا جاتا ہے ، جب کوئی شخص کسی کامل کے اذن سے عملِ تکسیر کرتا ہے ، کیونکہ قانونِ خداوندی ہے کہ مرنے کے بعد جب روح عالم بالا چلی جاتی ہے تو پھر وہ دنیا میں نہیں آسکتی ، عملِ دعوت وہ چیز ہے کہ اجازت یافتہ شخص جب کامل کے مزار پر عملِ دعوت کرے گا تو اُس کامل کی روح کو عالمِ ارواح سے زمین پر آکر فیض دینا ہوگا یعنی المختصر جو روحیں دنیا سے چلی جاتی ہیں اُن روحوں کو بلانا عملِ دعوت کہلاتا ہے۔جس نے کامل کی سربراہی کے بغیر یہ عمل کیا وہ دیوانے اور تباہ ہوئے یہاں تک کے مرگئے اس لیے مشہور ہو گیا کہ عملِ دعوت بہت خطرناک چیز ہے۔ خطرناک اس لیے کہا جاتا ہے کہ جس کامل کی روح کو آپ بلانا چاہ رہے ہیں عالمِ ارواح سے وہ وہاں سے آنا نہیں چاہتی اور جو کچھ اُس نے ساری زندگی میں کمایا تھا وہ سارا فیض اور نورآپ ایک رات میں اُس سے حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔

مرنے کے بعد اروح کا عارضی ٹھکانہ کیا ہو گا؟

عالم جبروت میں دومختلف مقامات ہیں ، ایک مقام اُن روحوں کا ہے جنہوں نے ابھی دنیا میں آنا ہے اُس مقام کو عالمِ ارواح کہتے ہیں اور دوسرا مقام اُن روحوں کے لیے ہے جنہوں نے دنیا میں وقت گزار لیا اور انتقال ہونے کے بعد وہ دنیا سے واپس وہاں چلی گئی ہیں اُس مقام کو عالمِ برزخ کہتے ہیں اور عالم ِبرزخ میں بھی دو اور مقام ہیں ایک کا نام ہے “علیین” دوسرے مقام کا نام “سجیین” ہے۔علیین اور سجیین کیا ہیں ؟ ۔۔۔۔۔عربی زبان کا ایک لفظ ہے سجن ،سجیین سجن سے نکلا ہے سجن کا معنی ہے جیل۔ علیین جنت کا ماڈل ہے، علیین میں وہ ساری سہولتیں ہونگی جو جنت میں ہیں اور سجیین جہنم کا ماڈل ہے اس میں وہ تمام دکھ درد اور جلنا ہوگا جو جہنم میں ہیں ۔مرنے کے بعد کس روح نے سجین میں جانا ہے کس روح نے علیین میں جانا ہے اس بات کا فیصلہ اس پر ہوتا ہے کہ قلب سلیم کون لایا ہے۔سورة ابراھیم میں اللہ رب العزت نے فرمایا

يَوْمَ لَا يَنفَعُ مَالٌ وَلَا بَنُونَ إِلَّا مَنْ أَتَى اللَّـهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ
سورة الشعراء آیت نمبر 89
ترجمہ : اس دن یوم محشر میں کوئی چیز منافع نہیں دے گی نہ آپ کی دولت نہ آپ کے بیٹے۔سوائے اُن لوگوں کے جو قلب سلیم لائے۔

یہاں اس آیت میں علما نے” قلب سلیم” کا ترجمہ سلامتی اور بے عیب والا دل کیا ہے جوکہ غلط ہے۔ قلب سلیم کسے کہتے ہیں؟۔۔۔قلب سلیم ایسے قلب کو کہتے ہیں جو سلامت ہو گیا ہو، شیطان کے قبضے سے آزاد ہو گیا ہو ، شیطان کی سازشوں اور فتنوں سے محفوظ ہو گیا ہو۔یہ آیت اُس خاص مرحلے کے لئے ہے جومرنے کے فوراً بعد ابتدائی مرحلہ درپیش ہو گا جس میں کوئی قلب سلیم لے کر جائے گا۔
اہم نکتہ: تمام قلب سلیم والوں کو ساتوں جنتوں میں کیسے ڈالیں گے وہاں تو اعلی سے اعلی جنتیں ہیں ،قلب سلیم لے کر جانے کی بات اُس دن کے لیے یعنی یوم محشر کے لیے ہے ، نماز ، روزہ، حج ، زکوة،عمرہ یہ تمام چیزیں یوم محشر میں بیان ہونگی ، لیکن مرنے کے فورا بعد جو ابتدائی مرحلہ در پیش ہو گا اُس میں کامیابی کے لیے اور عالم برزخ میں مقام علیین جو کہ اچھا مقام ہے اور جنت کا ماڈل ہے اس میں جانے کی شرط “قلب سلیم “ہے۔ جو قلب سلیم والا ہوگا وہ علیین میں جائے گا بھلے وہ گناہ گار ہو، بھلے وہ اللہ کا ولی ہو اگر وہ قلب سلیم ہے تو وہ علیین میں جائے گا جو جنت کا ویٹنگ روم ہے اور اگر قلب سلیم نہیں ہے تو کامیابی نہیں ہے۔مندرجہ بالا آیت میں “مال یا بیٹوں کا کام آنا” کیا معنی رکھتا ہے؟ ۔۔۔۔مال تو آدمی اپنے ساتھ قبر میں لے کر نہیں جاتا تو وہ کیوں سوچے گا کہ وہاں مال کام آئے گا، یہ خیال کیوں آئے گا کہ بیٹا وہاں کام آئے گا، اس کا یہ مطلب نہیں ہے، اسکا مطلب یہ ہے کہ جو آپ کے پاس پیسہ آیا تھا آپ نے زکوة اور خیرات میں بانٹا تھا اس پر آپ میں ایک احساس تکبر بیدار ہوتا ہے کہ میں نے تو اللہ کی راہ میں اتنا پیسہ خرچ کیا ہے، یہاں اس مال کے بارے میں اللہ کہہ رہا ہے اور اُن بیٹوں کے بارے میں کہہ رہا ہے جو درود و فاتحہ خوانی اپنے باپ کی قبر پر کروا رہے ہیں ، یہ بھی وہاں کام نہیں آئے گا جتنا مرضی صدقہ جاریہ ہو جائے ، جتنی چاہے سخاوت دکھا دو ۔

روز محشر کس کو شفاعت کی ضرورت ہو گی؟

مرنے کے بعد دو دن اہم ہیں ایک تو جب روح نے عالم ِبرزخ جانا ہے اس دن کی کامیابی قلب سلیم پر ہے، اب نہ جانے کتنا عرصہ وہاں پر گزارنا ہے قیامت تو قائم نہیں ہوئی اسلام کو قائم ہوئے کم و بیش ساڑھے چودہ سو سال ہو گئے تو ساڑھے چودہ سو سال پہلے جو مسلمان مرا وہ کہاں جائے گا؟ تو اس دن یہ چیزیں مال اور بیٹے یہ کام نہیں آتے اور شفاعت بھی ان ہی لوگوں کے لیے ہے یعنی حضوؐر کی شفاعت کی ضرورت بھی ان لوگوں کو ہوگی جن کا قلب سلیم نہیں ہوگا ورنہ اگر ایک عام گناہ گار کی بھی شفاعت ہونی ہے اور ایک ایسے انسان کو بھی شفاعت کی ضرورت ہے جس نے ساری زندگی اللہ اللہ میں گزار دی شریعت کے احکام بھی پورے کیے تو پھر فائدہ کیا ہوا، یعنی اس کی تو حوصلہ شکنی ہو گی نا کہ میں بھی شفاعت سے بخشا جائوں گا اور یہ گناہ گار بھی شفاعت سے بخشا جائے گا تو پھر میں بھی زندگی کے مزے کرتا ہوں ،خوب عیاشی کرتا ہوں تو اس کی حوصلہ شکنی ہوگی، یوم محشر میں شفاعت کی ضرورت ان کو ہو گی کہ جن کا قلب سلیم نہیں ہو گا لیکن جنہوں نے نمازیں پڑھی ہونگی، روزے رکھے ہونگے، حج کیا ہو گا ، راسخ العقیدہ مسلمان ہونگے شیعہ ، سنی وہابی فرقوں والے نہیں ہوں گے، فرقہ واریت کا شکار نہیں ہونگے اللہ ،رسول پر یقین رکھنے والے ہونگے تو پھر اللہ کا رسول شفاعت فرمائے گا۔صرف مسلمان ہی میں سلسلہ شفاعت نہیں ہے یہ سلسلہ آدم صفی اللہ کی اُمت میں بھی تھا ، موسی ، عیسی علیہ السلام کی امتوں میں بھی تھا ، شفاعت کی ضرورت اُن کو ہوگی جن کا باطن پاک صاف نہیں ہوگا جن کی روحیں منور نہیں ہونگی، جن کے قلب منور نہیں ہونگے اُن کی شفاعت اُن کے نبی کریں گے۔کتنے لوگوں کی شفاعت کرنی ہے یہ اختیار نبی کے پاس نہیں ہے یہ اجازت اللہ کی طرف سے ہوگی۔ جس طرح آیت الکرسی میں لکھا ہے؛

مَن ذَاالَّذِي يَشْفَعُ عِندَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ
سورة البقرة آیت نمبر 255
ترجمہ: ہے کوئی ایسا جو شفاعت کر دے اپنی طرف سے، اللہ کے اذن کے بغیر؟

ہر نبی کی شفاعت کا کوٹہ مقرر ہے اور پھر ان نبیوں کے بعد ان کی امت کے ولیوں کو بھی اللہ شفاعت کا تھوڑا تھوڑا کوٹہ دیتا ہے۔جیسا کہ حضور پاک نے عمر بن خطاب اور حضرت علی کو اپنا جبہ دے کر یمن بھیجا اور کہا وہاں میرا ایک دیوانہ ہے جس کا نام اویس قرنی ہے اس سے ملاقات کرنے جائو اور اس سے کہنا میری اُمت کے لیے دعا کرے۔ کیا یہ بات آپ کو سمجھ میں آتی ہے کہ ایک نبی اپنے ایک اُمتی کو دعا کے لیےکہے گا؟ یہ بات آپ کے مرتبے کے خلاف ہے، دراصل بات دعا کی نہیں شفاعت کے کوٹے کی تھی کہ جتنا شفاعت کا کوٹہ اللہ نے مجھے دیا ہے اس سے میں اپنے امتیوں کی شفاعت تو کروں گا اور میری ہی امت میں سے اس کو اللہ نے ایک ولایت عطا کی ہےاور جو کوٹہ شفاعت کا اس کو ملا ہے وہ بھی میں استعمال کر لوں تاکہ میری امت کے زیادہ سے زیادہ لوگ بخشے جائیں تو ان کے پاس صرف کوٹہ ہوتا ہے لیکن انبیاء اولیاء کو شفاعت کا جو کوٹہ ملا اس کے ساتھ ساتھ حدیث میں یہ لکھا ہے کہ اللہ تعالی نے حجر اسود کو بھی شفاعت کا کوٹہ دیا ، حدیث میں لکھا ہے کہ “جس نے محبت اور عقیدت کے ساتھ حجر اسود کو بوسہ دیا تو یہ پتھر قیامت میں اس بندے کی اللہ کو گواہی دے گا اور اس کی شفاعت کرے گا”۔
اس لیے ہمارا زیادہ زور قلب سلیم کے حصول کے لیے ہے ، عام لوگوں کو یہ بات سمجھ نہیں آتی، جب ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ گالیاں دے رہے ہیں تو وہ اس لیے دیتے ہیں کہ یہ بات انہیں سمجھ نہیں آ رہی لیکن انکی گالیاں ہمیں سمجھ آ رہی ہیں کیونکہ جب صحابہ کرام نے ابو ہریرہ سے پوچھا تھا کہ بتائو تمہیں حضوؐر سے کون کون سے علم ملے تو ابو ہریرہ نے کہا مجھے حضور سے دو طرح کا علم ملا ایک تو تمہیں بتا دیا اگر دسرا علم تم کو بتائوں تو تم مجھے قتل کر دو۔ اب جو علم ہم بتا رہے ہیں وہ علم صحابہ کرام کے دور میں بتایا جاتا تو لوگ صحابیوں کو قتل کر دیتے یہ بیچارے تو ڈرپوک صرف گالی دے رہے ہیں ،بڑی بات تو نہیں ہے، ہونا تو یہ چاہئیے تھا کہ یہ تلوار لے کر آئیں اور ہمیں مار دیں اس زمانے میں تو یہ ہی تھا ، وہ دوسرا علم جس کے بتانے پر مسلمان آپ کو قتل کر دیں ظاہر ہے وہ علم قرآن میں تو نہیں ہو گا اگر ہے تو لوگ آپ کو کیوں قتل کریں گے آپ تو فورا حوالہ دکھا دیں گے، تو وہ علم کہاں ہے؟ وہ علم اللہ کے خزانہ خاص میں ہے، جس کا تعلق اللہ سے جڑ جاتا ہے اللہ تعالی اس کو وہ علم عطا کرتا ہے۔سوا ل پیدا ہوتا ہے کہ قرآن مجید میں یہ تمام باتیں موجود ہیں کہ قلب کو ہدایت ملتی ہے، قلب اللہ کا ذکر کرتا ہے تو مولوی اس علم کو بیان کیوں نہیں کرتےکہ دل میں اللہ کے نام کو کس طرح بسایا جائے، کیونکہ انہیں یہ علم ملا ہی نہیں ان کے پاس تو بس قرآن کو رٹا لگانے کا علم ہے اسکا فیض نہیں ہے اور یہ جو گالی دینے والے ہیں ان کی بچت اس لیے ہے کہ یہ نادان ہیں ، گالی دینے والوں سے استدعا ہے کہ وہ پہلے یہ تعلیم سن لیں اگر یہ باتیں جو ہم کہہ رہے ہیں یہ قرآن و حدیث میں نہ ملیں تو ہم مجرم ہیں پھرصرف گالی دینے پر اکتفا نہ کریں بلکہ تلوار لے آئیں ۔ ایک حدیث نبوی صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہے کہ “جب اہل تصوف میں سے کوئی آواز دے تو لبیک کہو، اگر تم نے اسکی کہی ہوئی بات سنی ان سنی کر دی تو تمہارا شمار جاہلین میں سے ہوگا “۔

مندرجہ بالا متن نمائندہ گوھر شاہی عزت مآب سیدی یونس الگوھرکی 14 نومبر 2017 کو یو ٹیوب لائیو پر کئی گئی گفتگو سے ماخوذ کیا گیا ہے۔

متعلقہ پوسٹس

دوست کے سا تھ شئیر کریں