کیٹیگری: مضامین

امام مہدی کی پہچان کے حوالے سے لوگوں میں بہت سے الجھنیں ہیں اور ہر فرقے کا امام مہدی کے حوالے سے اپنا ایک نظریہ ہے ، ایک فرقہ کچھ روایتیں اور حدیثیں لے کر بیٹھا ہوا ہے اور اس کی روشنی میں وہ امام مہدی کا نظریہ پیش کرتا ہے جبکہ دوسرا فرقہ دوسری روایتیں لے کر بیٹھا ہوا ہے اور اس کی روشنی میں وہ امام مہدی کا نظریہ پیش کرتا ہے اور ایک فرقہ دوسرے فرقے کی روایتوں اور حدیثوں کو ضعیف کہتا رہتا ہے اور اپنی حدیثوں کو مستند باندھتا ہے ۔لہذافرقہ واریت کی وجہ سے امت مسلمہ میں یہ ایک بہت بڑا مسئلہ ہے اور دوسرا باطنی علم کی محرومی ہے ۔ امام مہدی علیہ الصلوة و السلام کی عظمت بہت افضل اور اعلی ہے ، اللہ تعالی کی پوری طاقت اُن کے ساتھ ہو گی ، نبی کریمؐ اور دیگر انبیاکی پوری طاقت امام مہدی کے ساتھ ہو گی اور جب اُنکا ظہور ہو گاتو اُن کا جو جھنڈا ہے وہ بیت المقدس پر بھی لہرائے گااور خانہ کعبہ پر بھی لہرائے گااور وہ اسلام آباد پر بھی لہرائے گا۔

یہودی مذہب میں امام مہدی کا تصور:

امام مہدی علیہ الصلوة و السلام صرف مسلمانوں کے لئے نہیں ہو گےبلکہ ایک ہی ذات کے کئی خطاب ہیں ہر مذہب والا ایک عظیم المرتبت ذات کا منتظر ہے ۔ یہ سوچ غلط ہے کہ ہم مسلمان ہی بس ٹھیک ہیں اور ہمیں ہی سارا اختیار ہے جو دیگر ادیان انبیا کرام کے زریعے بنائے گئےوہ بھی دین حق تھے۔ یہودی میں بھی یہ نظریہ ہے کہ مسیحا آئے گاجس کو وہ اپنی زبان میں مشائخ کہتے ہیں ،مشائخ کا جب انگریزی ترجمہ کیا گیا تو اسے مسایا کہہ دیا گیا لیکن اصل لفظ مسیحا ہے ۔ ایک لفظ مسیحا ہے اور ایک مسیح ہے ، لفظ” مسیح” اور” مسیحا” دونوں سریانی زبان کے الفاظ ہیں ، مسیح کا مطلب ہے سیاحت کا دلدادہ اور مسیحا کا مطلب ہے روحوں کو بیدار کرنے والا ۔ قرآن مجید نے عیسیؑ کو مسیح کہا ہے ۔ مسیح اور مسیحا میں بڑا فرق ہے ، روم کے جو لوگ عیسیؑ کو صلیب پر چڑھانا چاہتے تھے اُن کو یہی گمان تھا کہ شاید عیسیؑ اپنے آپ کو مسیحا کہہ رہے ہیں لیکن انہوں نے مسیحا نہیں کہا تھا بلکہ مسیح کہا تھا۔ مسیحا کا خطاب امام مہدی کے لئے ہے ۔

ہندومت میں امام مہدی کا تصور:

اسی طرح ہندو مت سناتن دھرما میں ایک عظیم المرتبت شخصیت کا انتظار ہو رہا ہے جس کو “کالکی اوتار” کے خطاب سے جانا جاتا ہے ۔ کالکی ، کل یوگ سے ماخوذ کیا گیا ہے اور مزے کی بات یہ ہے کہ امام مہدی کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی جو پیشن گوئی فرمائی ہےکہ امام مہدی تب آئیں گے جب دور دور اندھیرا ہو گااور کوئی ایک آدھ چراغ جگمگا رہا ہو گا۔لوگ اس کا ظاہر میں مطلب ڈھونڈتے ہیں کہ یہ ابھی جو بجلی کا نظام ہے وہ تباہ برباد ہو جائے گااور اُس وقت چراغ ہو ں گے لیکن فرض کریں کہ یہ مان لیتے ہیں کہ بجلی کا نظام تباہ ہو جائے گااور دور دور چراغ جلیں گے لیکن سوال یہ ہے کہ دور دور ایک چراغ کیوں ہو گا؟ یا تو ہونا چاہیے تھا کہ برقی قمقمے نہیں ہوں گے بلکہ چراغ ہوں گے تب تو بات سمجھ میں آتی ہے ۔ وہ سیاہی دلوں کی ہے اور وہ چراغ نورِ توحید ، اسم ذات اللہ کا ہے۔اس حدیث میں بھی حضوؐرنے سیاہی کا ذکر فرمایا ہے اور سناتن دھرما میں یہ کہا جاتا ہے کہ کالکی اوتار تب آئیں گے جب دلوں میں اندھیرے ہو جائیں گے ۔ اب دین اسلام میں جو اصطلاحات ہیں وہ مختلف ہیں اور سناتن دھرما میں جو اصطلاحات ہیں وہ مختلف ہے لیکن بات ایک ہی ہے ۔اللہ تعالی نے اپنی ذات سے صفات میں ظہور فرمایا ، صفات سے اسما میں اور پھر آثار میں ، اعیان میں اور پھر اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کو اپنی کسی نہ کسی صفت سے متصف کیا ۔ یعنی اپنی کوئی صفت اُن میں ڈال دی اور انہوں نبی یا پیغمبر بنا کر اس دنیا میں بھیجا ۔ ہندؤوں کے یہاں مختلف صفات کی ہستیاں آئیں جن کو یہ بھگوان کا اوتار بولتے ہیں ، دین اسلام میں انھیں نبی کہا جاتا ہے اور ہندو دھرم میں انہیں اوتار کہا جاتا ہے لیکن بات تو ایک ہی ہے ۔
ہندو مت میں بھی ایک عظیم المرتبت ہستی کالکی اوتار کا انتظار ہو رہا ہے اور یہودیوں کی مذہبی کتابوں کے حوالے سے مسیحا یعنی مشائخ کا انتظار ہو رہاہے اوراہل اسلام بھی ایک عظیم المرتبت ہستی کا انتظار کر رہے ہیں ۔ نبی کریمؐ کا یہ فرمان ہے کہ امام مہدی علیہ الصلوة و السلام ان کی اولاد میں سے ہوں گے او ر یہودی یہ کہتے ہیں کہ مسیحا داؤد کی اولاد میں سے ہوں گے ۔اب اس کو سمجھنے کا فرق ہے یہاں یہ دیکھنا ہو گا کہ حضوؐرکی جو آل ہے وہ کیسی ہے ؟ اعلی حضرت نے اہل بیت عظام کے لئے ایک بہت خوبصورت بات فرمائی ہے کہ
تیری نسل پا ک میں ہے بچہ بچہ نور کا ۔۔۔۔۔۔تو ہے عین نور تیرا سب گھرانہ نور کا

امام مہدی آل محمؐد میں سے ہوں گے :

نبی کریمؐ کے حوالے سے اللہ نے جہاں اپنا نقطہ نظر ختم نبوت کے حوالےسے واضح کیاہے وہاں اس بارے میں بھی وضاحت ملتی ہے کہ آپؐ کسی مرد کے باپ نہیں ہیں ، تو پھر نسل کہاں سے چلی ؟

مَّا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَـٰكِن رَّسُولَ اللَّـهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ ۗ وَكَانَ اللَّـهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا
سورة الااحزاب آیت نمبر 40
ترجمہ : محمد ؐ تم میں سے کسی ایک جیسے مرد کے باپ کہاں ہیں

پہلے اس آیت میں نفی اس بات کی ہے کہ تمھارے جیسے مردوں کے باپ نہیں ہیں ۔ آل تو مردوں سے چلتی ہے لیکن یہاں اس آیت میں یہ فرمایا جا رہا ہے کہ آپ کسی مرد کے باپ نہیں ہیں تو پھر آل محمؐدکون ہے؟ نبی کریمؐ کی آل کو سمجھنے کے لئے علم باطن کو سمجھنا پڑے گا ، بی بی فاطمہ کو سمجھنے کے لئے ، امام حسینؓ کو سمجھنے کے لئے ، امام حسن کو سمجھنے کے لئے ، امام زین العابدین کو سمجھنے کے لئے ، مولیٰ علی کو سمجھنے کے لئے وہ علم سیکھنا ہو گا کہ جس علم نے ان تمام گتھیوں کو سلجھایا ہے ۔شریعت کے بارے میں حضوؐر نے نہیں فرمایا کہ مجھے اس علم پر فخر ہے ، طریقت کے بارے میں بھی نہیں فرمایا کہ مجھے اس علم پر فخر ہے لیکن ایک علم ، علم فقر ایسا ہے کہ جس کے لئے آپؐ کا ارشاد گرامی ہے کہ

الفقر فخری والفقر منی
ترجمہ : فقر میرا فخر هے اور فقر مجھ سے هے ۔

یہ تعلیمات فقر وہ علم ہے جو حضوؐر کی ذات سے نکلا ہے ، وحی کے ذریعے نازل نہیں ہوا۔یہ علم فقر محمد الرسول اللہ کی ذات سے ایسے ہی برامد ہوا جیسے آپؐ کی چہیتی بیٹی فاطمتہ الزہرہ ؓ برامد ہوئیں ۔پھر ایک موقع پر حضوؐرنے یہ بھی فرمایا کہ ۔۔۔ انا من الفاطمہ و الفاطمہ منی ۔۔۔۔کہ میں فاطمہ سے ہوں اور فاطمہ مجھ سے ہے۔ تعلیمات فقر کے بارے میں ایک حدیث شریف میں آیا ہے کہ

اذا تم الفقر فھو اللہ
کتاب اصطلاحات الصوفیة ، صفحہ 88
ترجمہ : جو فقر میں کامل ہو جاتا ہے وہ اللہ ہی ہو جاتا ہے ۔

آج اگر آپ یہ کہتے ہیں کہ مولیٰ علی اللہ ہیں اور آپ کی زبانوں سے نعوذباللہ جاری ہو جاتا ہے تو یہ آپ کی اپنی جہالت کی وجہ سے ہے اگر آپ کو علم باطن ہو تا اور پھر یہ جملہ سنتے کہ مولیٰ علی اللہ ہیں تو پھر نعوذ باللہ نہیں کہتے بلکہ اس کی جگہ ماشااللہ کہتے ۔ علم باطن کی کمی ہے اگر آپ کو تعلیمات فقر حاصل ہو جاتیں تو وہ بات سمجھ میں آ جاتی کہ جب نبی پاکؐ شب معراج پر گئے تو دیکھا کہ جو انگوٹھی نبی پاک نے مولیٰ علی کو دی تھی وہ انگوٹھی اللہ نے اپنی انگلی میں پہنی ہوئی ہے اب وہ انگوٹھی مولیٰ علی کی انگلی سے اللہ کی انگلی میں کیسے چلی گئ لیکن وہ لوگ اس بات کو نہیں مانیں گے جو اللہ کے دیدار کے ہی قائل نہیں ہیں ۔ مولی ٰ علی کی انگوٹھی اللہ کے ہاتھ میں کیسے چلی گئی یہ ایک معمہ ہے اور تب تک معمہ ہی رہے گا جب تک تمھارا سینہ تعلیمات فقر سے مزین نہیں ہو جاتا ۔ تعلیمات فقر اللہ کی انوار و تجلیات سے قدیم جو تجلیات ہیں ، جب اللہ نے اپنے آپ کو دیکھنا چاہا تھا تو سات دفعہ جنبش لی تو نور کی شعاعیں نکلیں اور مجسم ہو کر روح کی شکل اختیار کر گئیں جن کو طفل نوری کہا جاتا ہے ۔ایک طفل نوری محمدالرسول اللہ کے سینے میں تھا ، اس طفل نور ی میں ہی اسم ذات اللہ اور فقر کا نورہوتا ہے اور ایک طفل نوری آپؐ کی صاحبزادی بی بی فاطمہ کے وجود میں آیا اور جو بی بی فاطمہ کو اولاد ہو ئی وہ بھی اسی طفل نوری کی برکت سے ہوئی کیونکہ اس میں انسانی خون شامل نہیں تھا ۔ بی بی فاطمہ تو بتول تھیں اُن کو ماہواری نہیں آتی تھی ، اُن کے یہاں غلاظت کا تصور نہیں کیا جا سکتا ، لہذا وہ طفل نور ی اور فقر کی وجہ سے وہ اسم ذات کا نور تھا اُس نور سے امام حسن اور حسین جیسے شہزادے پیدا ہوئے جن کی فطرت ہی نور ہے۔ آل محمد یہیں سے نکلی ہے ، ظاہر نطفہ تو تھا نہیں لہذ ا جہاں سے آل محمد نکلی ہے وہی فقر ہے اور وہیں سے امام مہدی آئیں گے ۔

مندرجہ بالا متن نمائندہ گوھر شاہی عزت ماب سیدی یونس الگوھر سے 3 دسمبر 2017 کو یوٹیوب لائیو سیشن میں کی گئی گفتگو سے ماخوذ کیا گیا ہے ۔

متعلقہ پوسٹس

دوست کے سا تھ شئیر کریں