کیٹیگری: مضامین

کچھ احادیث ایسی ہیں جن کو تبدیل کر دیا گیا ہے اور تبدیل کر کے ایسا اس کا مفہوم بیان کر دیا گیا ہے جس سے لوگوں کو مزید گمراہی پھیلانے کا اذن مل گیا ہو جیسے کہ حدیث شریف جو یہ بیا ن کرتے ہیں کہ

امام مہدی کا جو نام ہو گا وہ محمد ہو گا ۔ ان کے والد کا نام عبداللہ ہو گا ۔ اور ان کی والدہ کا نام آمنہ ہو گا۔
(کتاب الفتن ، باب المہدی 3603/3 )

دلیل:

اس حدیث کے اندر گڑ بڑ کی گئی ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ حضور ﷺ کی پیدائش حضرت عبداللہ کے وصال کے دو سال بعد ہوئی ۔کیا ایسا ممکن ہے کہ کوئی بچہ دو سال تک ماں کے پیٹ میں رہے ؟ اب غور کریں نو مہینے کے بعد بچہ پیدا ہو گیا ۔ تو دو سال میں پندرہ مہینے کا عرصہ رہ گیا۔ پیدا ہونے کے بعد جب پندرہ مہینے گزر جائیں پھر اس بچے کو ماں کے پیٹ میں دوبارہ ڈال کر دیکھیں ۔ اب وہ کتنا بڑا ہو گیا ہے پھر اس کے لئے عورت کا پیٹ نہیں اس کے لئے گائے کا پیٹ چاہیے۔ اب جب مولویوں نے اس کے اوپر غور کیا کہ اب اس کا کیا کریں ۔ اب ان مولویوں کا اللہ سے تو کوئی تعلق نہیں ہے ، حضور ﷺ سے کوئی رابطہ یا ان تک رسائی نہیں ہے۔ اور نا ہی باطنی علم ہے اب کریں کیا مولوی ۔
مولویوں نے کہا کہ اب یہ بات ناموس مصطفےٰ پر آگئی ہے اب اسکو بچانا ہے ۔ لہذا انہوں نے شریعت کا قانون ہی بنا دیا کہ شوہر کے دوسال انتقال کے بعد بھی بچہ پیدا ہوا تو اُسی کا تصور کیا جائے گا۔ کتنے بڑے حرام کا راستہ کھول دیا ۔ اب یہ بتائیں کہ شوہر کے انتقال کے بعد 40 دن عدت کیوں کی جاتی ہے ؟ اس طرح اب دونوں شریعت کے قوانین ٹکرا گئے نا ! طلاق کے بعد اب وہ عورت کسی سے بھی شادی کر سکتی ہے لیکن شریعت نے قانون کیا رکھا ہے کہ عدت لازم ہے ۔ عدت کیوں لازم ہے تاکہ اگر کوئی حمل ٹھہر گیا ہو تو اس کے اثرات نمایاں ہو جائیں ۔اور ایسا نا ہو کہ دوسرے بندے جس سے شادی کی ہے اس کے کھاتے میں چلا جائے ۔ اور جو مردوں سے منع کیا گیا ہے عدت میں ملنے سے وہ بھی یہی ہے کہ کسی سے کوئی مسئلہ نہ ہو جائے ۔اچھا اب چالیس دن عدت کے پورے ہو گئے اور وہ معاملہ صاف ہو گیا ۔ تو پھر وہ دوسال والا مسئلہ سامنے آگیا نا ۔ اسطرح معلوم یہ ہوا کہ یہ جھوٹی بات ہے جو مولویوں نے رکھی ہے۔ یہاں پر عدت نے عورت کو صاف کر دیا اور وہ دو سال بعد پھر بھی اسی کا کہلائے گا ! یہ کیسے ہو سکتا ہے ۔
امام مہدی کے والد کا نام عبداللہ کیسے ہو گا ۔ جب حضور کے والد کا نام عبداللہ نہیں ہے ۔ پھر حضور کے والد کا کیا نام ہے ؟ ان کا کوئی والد ہی نہیں ہے ۔ وہابی یہی تو دھوکہ دیتا ہے آپ کو ، نور اسی لئے تسلیم نہیں کرتا ہے وہ ۔ اب یہ کہتے ہیں کہ بناء والد کے کیسے پیدا ہو سکتے ہیں ؟ ہم یہ کہتے ہیں کہ عیسیٰ بغیر والد کے کیسے پیدا ہوئے تھے ؟ اور ان مسلمانوں کے اوپر تعف ہے لعنت ہے کہ عیسیٰ کو تسلیم کر لیتے ہیں کہ ان کا والد نہیں تھا ۔ او ر والد زبردستی ثابت کرنے کیلئے ان مولویوں نے حضور ﷺ کے لئے جھوٹی کہانیاں بنا کر اُمت کو ایک بڑی گمراہی میں ڈال دیا۔ یہ باتیں تو اب کھولنی پڑیں گی ۔ ہم یہ بات کہہ دیں کہ

’’ امام حسین سراپا نور تھے ، امام حسن بھی سراپا نور تھے اور بی بی زینب بھی سراپا نور تھیں اور یہ نا کہیں کہ محمد ﷺ بھی سراپا نور ہیں تو کتنی بڑی زیادتی ہو گی ۔آپ اس بات کو لکھ لیں چیلنج کے ساتھ کہہ رہا ہوں کہ محمد رسول اللہ کا کوئی باپ نہیں‘‘

حضور ﷺ کی پیدائش کا راز:

آپ کی تشریف آوری کا جو طریقہ واردات ہے وہ کیا ہے ؟ اللہ تعالی نے جبرائیل امین کو بھیجا اور جبرائیل امین نے سفید دودھ کی طرح کا اس میں کوئی مادہ مکس کیا اور وہ آپؐ کی والدہ کو پلا دیا گیا ۔ اس کو پینے سے بی بی آمنہ کے رحم میں وہ حمل ٹھہرا ۔ اس میں ارضی ارواح تھیں ۔ حضرت عبداللہ کا انتقال تو بہت پہلے ہو چکا تھا ۔
اب اس حدیث کو ہم سچا کیسے مانیں کہ امام مہدی کا نام محمدؐ ہو گا ، ان کے والد کا نام عبداللہ ہو گا ۔ اچھا چلو تم کو غلط فہمی ہو گئی نا یہ لیکن حدیث تو وہ ہوتی ہے جو حضور خود بیان کرتے ہیں ۔ حضور خود بیان کریں گے میرے باپ کا نام عبداللہ ہے ۔ حضو ر کو پتہ نہیں ہے ان کا باپ کون ہے ؟ پھر وہ یہ کیوں کہہ رہے ہیں کہ انا من نو راللہ والمومنین من نوری ۔
’’امام مہدی کا نام محمدؐ ہو گا اور باپ کا نام عبداللہ ‘‘ یہ جھوٹی حدیث ہے اس طرح کی جھوٹی حدیثوں کو مانتے مانتے کئی لوگوں نے مختلف جگہہ پر امام مہدی کا جھوٹا دعویٰ کیا ۔ لیکن احادیث میں یہ ہے کہ امام مہدی اور عیسیٰ کا دور ایک ہو گا ۔ اسی طرح مرزا غلام احمد قادیانی نے بھی کہا کہ وہ جو عیسیٰ تھے ان کا انتقال ہو گیا ہے اب انہوں نے نہیں آنا ہے اور میں عیسیٰ کے طور پر آ گیا ہوں ۔ تو بہت سے لوگوں نے جھوٹے امام مہدی ہونے کے دعوے کئے ہیں ۔ اب اتنے لوگ جو مان رہے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے پاس کسوٹی نہیں ہے ۔ اب اگر تمھارے پاس کسوٹی ہوتی تو کوئی بھی نہیں مانتا ۔
یہی ہم آپ کو بتا رہے ہیں کہ یہ نشانیاں ہیں ۔ ایک نشانیاں تو یہ ہے جو حجر اسود پر ، چاند پر ، مریخ پر سرکار گوھر شاہی کی تصاویر کی صورت میں آئی ہیں ۔ اور دوسری نشانی یہ ہے کہ آپ ذکر قلب کی دولت حاصل کر لیں دل کی دھڑکنوں میں جب اللہ اللہ ہو گا تو یہ سرکار گوھر شاہی کے کرم سے ہو گا۔ اگر یہ گوھر شاہی کے کرم کے بغیر ہے تو کر کے دکھائیں ۔ کسی بھی بزرگ کے پاس جائیں ، کسی بھی مزار پر جائیں ، مزار کو تو چھوڑیں آپ مدینہ منورہ چلے جائیں ، اس سے تھوڑا اور آگے مکہ بھی ہے ۔ آپ خانہ کعبہ میں جا کر بیٹھ جائیں چمٹ جائیں غلاف کعبہ کھانا شروع کر دیں ، ذکر قلب نہیں چلے گا کیونکہ یہ سرکار گوھر شاہی کی عطا ہے کہ آپ سوتے رہیں آپ کا دل اللہ اللہ کرتا رہے ۔ یہ اور کوئی کر ہی نہیں سکتا ۔

متعلقہ پوسٹس

دوست کے سا تھ شئیر کریں