کیٹیگری: مضامین

کیا محبت میں انانیت کا رہنا ممکن ہے؟

محبت بدل دیتی ہے۔ اگرآپ کسی سے محبت کرتے ہیں اوریہ محبت آپ کوتبدیل نہ کرے توآپ کی محبت جھوٹی ہے۔ ہم (یونس الگوھر) آپ سے اپنا ذاتی تجربہ بیان کرنا چاہتے ہیں ۔ ہم نے تزکیہ نفس کیلئے سب کچھ کیا۔ ہم نے سخت ظاہری عبادات میں گھنٹے اور گھنٹے گزارے لیکن تزکیہ نفس کیلئے اس سے اتنی مدد نہیں ہوئی۔ انانیت ہمیشہ نفی کیطرف جھکتی ہے۔ سخت عبادات سے بھی انانیت پرکچھ اثرنہیں ہوا لیکن جب سیدنا گوھرشاہی سے محبت ہونا شروع ہوئی تو یہ محبت کی پہلی کی کِرن تھی جس نے ہماری انانیت کوختم کردیا۔ کوئی بھی عبادت اتنی اثراندازنہیں ہے جتنی محبت ہے۔ سچی محبت آپ کے انانیت کے بُت کوتوڑدے گی۔ اگرآپ کے دل میں سچی محبت ہے بھلے وہ خدا کیلئے ہویا کسی انسان کیلئے، اگرآپ کسی سے محبت کرتے ہیں توکم ازکم اُس کیلئے آپ کی انانیت نہیں ہوگی۔ اگرآپ کسی سے محبت کرتے ہیں اورآپ میں انانیت ہے توآپ کی محبت جھوٹی ہے۔ قیس کوپاکستان میں مجنوں کہا جاتا ہے۔ وہ لیلی کی گلیوں میں جاتا جہاں وہ رہتی تھی اور جب بھی مجنوں لیلی کودیکھنے جاتا تولیلی غریبوں کی مدد کرتی۔ جب بھی مجنوں آتا تولیلی اُسے خالی ہاتھ بھیج دیتی۔ لیلی اُسے رُسوا کرتی کہ تم چلے جاوٴ۔ وہ اُسے اتنا رُسوا کرتی کہ مجنوں لیلی کی گلیوں میں جاتا اوراُس گلی کے کُتوں کوچومتا۔ ایک آدمی نے مجنوں کوروکا اورکہا کہ تم اِس کتوں کوکیوں چوم رہے ہوتواُس نے کہا کہ یہ لیلی کی گلی کے کُتے ہیں۔ اُس آدمی نے کہا کہ یہ کتے ہیں لیکن اِن کتوں کا لیلی سے توکوئی تعلق نہیں۔ مجنوں نے کہا کہ میں جانتا ہوں کہ یہ کُتے ہیں لیکن یہ میرے سے ذیادہ قسمت والے ہیں کیونکہ جب یہ لیلی کی گلی سے گزرتے ہیں تولیلی کودیکھتے ہیں، اس لئے میں اُن آنکھوں کوچوم رہا ہوں جولیلی کودیکھتی ہیں۔ صرف محبت ہی آپ کوانانیت کے طوق سے آزاد کرے گی۔ نورمیں بھی اتنی طاقت نہیں ہے جتنی محبت میں ہے۔ محبت میں آپ عاجزہوتے ہیں اورمحبت میں آپ کی انانیت نہیں ہوتی۔ یہ راز ہم نے پایا کہ جب محبت آگئی تواُس آدمی میں انانیت نہیں رہ سکتی۔ محبت اورانانیت کبھی بھی ایک ساتھ ایک دل میں نہیں رہ سکتے۔
جدھوں دی میں جوگی دی ہوئی
میں وچ میں رہ گئی نہ کوئی

محبت سب سے بہترین دوائی ہے کیونکہ صرف محبت ہی آپ کی انانیت کے بُت کوتوڑسکتی ہے۔ صرف عشق ہے جوانسان کے نفس سے انانیت کوختم کردیتا ہے۔ اسی لئے توعلامہ اقبال نے کہا تھا کہ
اگر ہو عشق تو ہے کفر بھی مسلمانی
نہ ہو تو مردِ مسلماں بھی کافر و زندیق
قوتِ عشق سے ہرپست کو بالا کردے
دہر میں اسمِ محمد سے اُجالا کردے

محبت اور عشق کے اثرات:

محبت اورعشق کہانیاں تو بہت ہیں لیکن یہ محبت اورعشق نہ انسان کے اختیارمیں ہے اور نہ کوئی ایسا عمل ہے جس کے کرنے سے محبت اور عشق آجائے۔
عشق روحوں کی شناسائی ہے، عشق کب اختیارکرتے ہیں
جس سے مل جائے دل وہی محبوب، مرکزِدل میں یاررکھتے ہیں
اُن کا وعدہ ہے لوٹ آوٴں گا، اس لئے انتظارکرتے ہیں

عشق انسان کواندرسے ایسا بنادیتا ہے کہ محبوب کے علاوہ اُس کوکوئی نظرنہیں آتا۔ یہ صرف الفاظ ہیں اس لئے آپ کی سمجھ میں نہیں آئیں گے۔ عشق کا ایک کارنامہ یہ بھی ہے کہ اگرآپ کوکسی سے عشق ہوگیا ہے توآپ دین ودنیا سے گئے۔ جن کوعشق ہوجاتا ہے اُن کوبائبل قرآن سمجھ میں نہیں آتا۔ اُن کونہ لاالہ الااللہ سمجھ میں آتا ہے اورنہ محمدالرسول اللہ سمجھ میں آتا ہے کیونکہ اُن کوعشق ہوگیا۔ عشق کا مذہب اورکلمہ ہی کچھ اورہے۔ عشق کا کلمہ یہ ہے لاموجودالاانا کہ میرے اوریارکے علاوہ کچھ ہے ہی نہیں۔ کسکی مسجد کسکے مندرجاوٴں کیونکہ میرے اوریارکے علاوہ کوئی ہے ہی نہیں۔ یارکےعلاوہ اُس کوکچھ سمجھ میں ہی نہیں آتا حتی کہ آپ اُس کوماردیں اُس کوسمجھ میں ہی نہیں آئے گا۔ اگرتم کوکسی سے عشق ہوگیا ہے توتم کہوگے کہ بس یہیں سجدہ کرلو، یہ جوبول رہے ہیں یہ قرآن سمجھ لو، اِن کی جوجوتیاں ہیں اُن کوبیت المامورسمجھ لواور اِن کے چہرے کودیدارسمجھ لو تویہ کہانی اندرگھس جاتی ہے۔ آپ اُس کوقرآن و بائبل پڑھائیں تووہ پڑھ لے گا لیکن اُس کوسمجھ میں نہیں آئے گا۔ بابا بلھے شاہ نے کہا ہے کہ
اساں عشق نماز جدوں نیتی اے
سانوں بھل گئے مندر مسیتی اے

میرتقی میرنے بھی کہا کہ
سخت کافر تھا جنے پہلے میر
مذہبِ عشق اختیار کیا

عشق میں ایک کہانی یہ ہوجاتی ہے تواب اِس کواورآسانی سے سمجھانے کیلئے کہہ دیتا ہوں کہ اگر آپ کوکسی سے عشق ہوگیا اوراللہ نے اُس کے خلاف کوئی بات کہہ دی توآپ سے وہ برداشت نہیں ہوگی کیونکہ آپ کووہ اللہ نہیں دکھے گا بلکہ آپ کودکھے گا کہ یہ میرے محبوب کوتنگ کرنے والا ہے کہ میرے محبوب کے بارے میں اِس نے ایسا کیوں کہا۔ وہ رب سے ٹکرا جاتا ہے۔ یہ عشق ہے۔ عشق کوآپ الفاظ میں سمجھا نہیں سکتا کیونکہ جب تم جلوگے توپتہ چلے گا۔ عشق کے درکی نوکری توحید کرتی ہے۔ توحید میں اتنا مزہ نہیں جتنا عشق میں ہے۔ توحید یہ ہے کہ رب کوایک مانواورعشق یہ ہے کہ دو ہے ہی نہیں توایک کسکو مانیں۔
جس دے نال میں نیوں لگایا اوہدے ورگی ہوئی
اس کا مطلب ہے کہ جس سے میری نسبت جڑگئی ہے توبس اب میں وہی ہوں۔ اگریہ عشق سمجھ میں آجائے توپھربندہ کیا اورخدا کیا! اگرعشق سمجھ میں آجاتا توتم خدا کوکہاں ڈھونڈتے کیونکہ جس کے سامنے بیٹھے ہیں وہی بیٹھے رہ جائیں۔ اگرعشق سمجھ میں آجائے تونہ کعبہ دورہے، نہ بیت المامور دورہے اورنہ عرشِ اللہ دورہے لیکن مصیبت یہ ہے کہ یہ سمجھ میں نہیں آتا اور سمجھ میں آبھی جائے توتب آتا ہے جب وقت گزرجائے۔ اگرعشق میں ابھی تک تمہیں اپنے میں اوریارمیں فرق لگتا ہے توتم جھوٹے عاشق ہو، منافق ہو۔ اگرتجھے یارسے عشق ہوگیا ہے اورتجھے یاریاد آتا ہے توتم منافق ہو۔ اگرتم عشق کرتے ہواوریارکا ادب کرتے ہوتوتم منافق ہو، مشرک ہوکیونکہ عشق میں تودو ہوتے ہی نہیں ہیں کیونکہ بندے کویاد ہی نہیں رہتا کہ وہ کون ہے!

محبت کی طاقت:

محبت اس لئے طاقتورہے کہ ذکرِقلب چلے گا تواُس میں ذکرکی تعداد ہوگی تونوربنے گا اورجب محبت ہوجاتی ہے توبندے کا ہروقت دھیان یارکی طرف ہوتا ہے توہروقت یارکا نوراُس کی طرف آرہا ہوتا ہے۔ ذکرسے اتنا نورنہیں آتا جتنا محبت سے آتا ہے۔ اس لئے ایک ذکرِقلب ہے ،روحانیت ہے اور ایک محبت کا راستہ ہے۔ یہ جوروحانیت، ذکرفکراورطریقت کا راستہ ہے یہ عام لوگوں کیلئے ہے کیونکہ پتہ نہیں کب جاکرنفس اورقلب پاک ہوگا لیکن محبت والے راستے میں یہ ہوتا ہے کہ ذکرِقلب تو دل کی دھڑکنیں کرتی ہیں لیکن محبت میں انسان کا پورا باطن جل جاتا ہے، اُسکی یاد میں جل رہا ہے، اُسکی محبت کے شعلے نکل رہے ہیں اورخاکسترہوگیا۔ عام روحانی لوگوں کوتصورِشیخ کرایا جاتا ہے لیکن محبت میں ہروقت اُسی کا خیال رہتا ہے۔ تم ذکرکی محفل کرتے ہوتواسمِ اللہ کا تصور کرتے ہو لیکن اگرمحبت ہوگئی توہروقت آنکھوں میں وہی رہے گا۔ اگرتمہیں یارسے محبت ہوگئی تو محبت میں خودبخود دھیان اُدھرہی ہوتا ہے کیونکہ ذکروفکرمیں تومحفل میں بیٹھوگے تودھیان دل کی طرف جائے گا لیکن اگرمحبت ہوگئی توہروقت اُسی کا خیال ہے۔ روحانیت محبت کا مقابلہ کہاں کرسکتی ہے! جوبھی کہے کہ اُسے سچی محبت ہے تودیکھنا کہ اُس میں انانیت ہے یا نہیں ہے کیونکہ اگر اُس کے اندرانانیت ہے تووہ جھوٹی محبت ہے۔ جوبھی کہے کہ اُسے تم سے محبت ہے تواُسی وقت اُس کی خوب بے عزتی کرو، لان تان کرواوردھکے دے کرباہرنکال دواورتھوڑی دیربعد پوچھو کہ ابھی بھی محبت ہے تواگرسچی محبت ہوگی توپٹے گا، ذلیل ہوگا اوررسوا ہوگا لیکن تیرے ہی پیر چاٹتا رہے گا۔ محبت کا قانون ایک ہی ہے کہ انسان کیلئے ہو یا اللہ کیلئے ہو یا رسول کیلئے ہو جو محبت کرتا ہے وہ محبوب کے قدموں میں آجاتا ہے بھلے انسان کی محبت کیوں نہ ہو۔ پھرمحبوب اگر تم کوتمانچا بھی مارے توتمہیں تکلیف ہی نہیں ہوتی۔ تمہیں دھتکاردے توبھی تکلیف نہیں ہوتی۔ علامہ اقبال نے کہا کہ
جفا جو عشق میں ہوتی ہے وہ جفا ہی نہیں
ستم نہ ہو جو محبت میں کچھ مزہ ہی نہیں

جس کوسچی محبت ہوگئی ہے وہ سرنہیں اُٹھاتا اورانانیت ختم ہوجاتی ہے۔ اگرمحبت دین ہوتی تومحبت کا پہلا فرض “وفا” ہوتا۔ مرزاغالب کا ایک شعر ہے کہ
وفاداری بشرط استواری اصل ایماں ہے
مرے بت خانے میں توکعبہ میں گاڑو برہمن کو

پھرایک شعر ہے کہ
تجھی کو دیکھنا تیری ہی سننا تجھ میں گُم رہنا
یہ اُن کی عنایت نہیں ہے تو کیا ہے

اتنا نظم و ضبط کسی فوج میں نہیں ہے جتنا محبت میں ہے۔ دین میں توحید ہے، رسالت، نبوت، ولایت اور امامت بھی ہے، مرشد سے بھی محبت کرو، نبی سے بھی محبت کرواوراللہ سے بھی محبت کرو تویہ دین ہے لیکن عشق میں صرف یارہے اورکچھ نہیں ہے۔ دین میں تواتنی ذاتوں سے محبت کرکے پھرآدمی رب تک پہنچتا ہے۔ جوعشق میں پہنچ جاتے ہیں یہ پھردین دار، روحانیت اورمذہب والوں کو کہتے ہیں کہ اِن کے دل توطوائفہ ہیں کہ نجانے کتنی کتنی ہستیوں سے انہوں نے معشوقہ چلایا ہے کہ کبھی مرشد سے محبت کی ہے، کبھی نبی سے محبت کی ہے تواِن کا دل توطوائفہ ہے، جوعاشق ہیں وہ یہ کہتے ہیں۔ بابا بلھے شاہ کہتے ہیں کہ
اے عشق بلھے شاہ اوکھا اولیٰ
صورت اے صنم دی عرشِ معلیٰ
تے یار بنا نہ کوئی اللہ ہے
بھاواں رب نال جھگڑا پیجاوے

یہ سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ آپ کواِس سے کم محبت ہے اوراِس سے ذیادہ کیونکہ یہ دنیا میں ہے لیکن ہم جس محبت کی بات کررہے ہیں وہ اصل اور پاکیزہ محبت ہے جس میں کسی اورکیلئے جگہ نہیں ہے۔ اب مجنوں نے تولیلی سے محبت کی تھی لیکن محبت سچی اورپاکیزہ تھی۔ اس لئے اللہ تعالی نے اُس کوانسان سے محبت کرنے پربھی نوازدیا۔ اگرآپ نے کسی انسان سے بھی سچا پیارکرلیا ہے جیسے لیلی نے مجنوں سے کیا اور مجنوں نے لیلی سے کیا اوراگرتجھ سے بھی ایسا عشق ہوگیا ہے توتم اللہ کی نظرمیں ولیوں میں اُٹھایا جائے گا۔ اس لئے فرق ہی نہیں پڑتا کہ کس سے محبت کرنی ہے کہ مرشد سے ہوجائے، نبی پاکؐ سے ہوجائے یا اللہ سے ہوجائے ایک ہی بات ہے لیکن کامل محبت ہونی چاہئیے۔ مرشد کوچھوڑوکسی انسان سے بھی کامل محبت ہوگئی توجسطرح اللہ نے فرمایا کہ الْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ کہ ساری تعریفیں اللہ کیلئے ہیں تواِس کا مطلب یہ ہے کہ کسی کی بھی تعریف کردواللہ اُس کا خالق ہے تودراصل وہ تعریف اللہ ہی کی ہے۔ اسی طرح وہ کہتا ہے کسی سے بھی محبت کرلومحبوبِ حقیقی وہ ہی تم کو بن کریومِ محشرمیں تمہیں نظرآئے گا۔ آج یہاں لیلی کا روپ ہے، آج یہاں محمدؐ کا روپ ہے، آج یہاں رام کا روپ ہے اور آج یہاں آدمؑ کا، موسٰیؑ کا اورعیسٰیؑ کا روپ ہے اورتم کومحبت ہوگئی ہے تویومِ محشرمیں جب وہ پردہ ہٹائے گا تولیلی بھی وہی ہے محمدؐ بھی وہی ہے۔ اِدھرہی ہے کہ یہ لیلی، مجنوں، اللہ، محمدؐ، عیسی اورموسی ہے لیکن اُدھرجب اُس نے اپنا چہرہ دکھایا توکوئی کہے گا کہ یہ لیلی ہے، کوئی کہے گا کہ نہیں یہ محمدؐ ہے، کوئی کہے گا کہ نہیں یہ سیدنا گوھرشاہی ہیں اورکوئی کہے گا کہ نہیں یہ اللہ ہے کیونکہ اُس کے مختلف روپ ہیں، پتہ نہیں کس روپ میں کسکو مل جائے۔ کبھی وہ سسی اورپنوں ہوتا ہے، کبھی وہ لیلی اورمجنوں ہوتا ہے، کبھی وہ شیریں اورفرہاد ہوتا ہے، کبھی وہ اللہ اورمحمد ہوتا ہے، کبھی وہ قلندراوراللہ ہوتا ہے اور کبھی وہ گوھرکے روپ میں بھی آجاتا ہے۔ اب بتاوٴکہ جب وہ گوھرکے روپ میں آئے گا تو تم کیا ہونا چاہو گے، لیلی یا مجنوں، شیریں یا فرہاد، سسی یا پنوں، سونی یا مہیوال تویہ سب اُسی کے جلوے ہیں۔ عشق ذات ایک ہے اوریہ اُس کے جلوے ہیں کہ کہیں وہ دنیا پرلیلی اورمجنوں کیطرح چھا گیا ہے، کہیں اُس نے عیسی کا روپ بھرا ہے، کہیں ابراہیم کا روپ، کبھی وہ محمد کے جلوؤں میں آیا ہے لیکن وہ عشق ہے۔ سلطان باھو نے کہا کہ
ایمان سلامت ہرکوئی منگے عشق سلامت کوئی ہو
عشق سلامت رکھیں باہو دیاں ایمان دھروئی ہو

اس کا مطلب یہ ہے کہ ایمان توسلامت ہرکوئی مانگتا ہے لیکن میرے عشق کوسلامت رکھنا اور مجھے عشق کی سلامتی چاہئیے بھلے عشق کی سلامتی کیلئے مجھے دین تباہ کرنا پڑے۔

محبت کی توحید کیا ہے؟

دین میں ہوتا ہے کہ نماز روزہ کرو، طریقت روحانیت میں ذکرفکرکرو اور عشق میں یہ ہوتا ہے کہ مرشد اپنی نگاہوں سے تیری روح کوپلاتا رہتا ہے اوراُس میں کچھ کرنا نہیں ہے بلکہ اُس میں صرف قوتِ برداشت پیدا کرنی ہے کہ میرے مرشد نے نظرِکرم ڈالنی ہے تومیں اپنی روح اورقلب میں اتنا ظرف پیدا کرلوں کہ روزانہ جووہ مجھے نظروں سے پلائیں گے وہ میرے برتن میں سما سکے۔ اُس کیلئے پھروہ مختلف کام کرتا ہے جیسا کہ کبھی وہ اپنے نفس کوذلیل کرتا ہے اور کبھی اپنے جسم کو مشقت میں ڈالتا ہے۔ دل شکستہ ہوجائے، روح تڑپتی رہے اورجویارکی نگاہ پڑتی ہے وہ پھروہاں اثر دکھاتی ہے۔ دل کا شکستہ ہونا اوردل کا ٹوٹنا ضروری ہے کیونکہ جب تک کوئی تیرا دل نہیں توڑے گا اُس وقت تک سوزوگدازدل میں پیدا نہیں ہوگا۔ جب تک دنیا تیرے اوپراُف تُف نہیں کرے گی، جب تک دنیا تم سے نفرت نہیں کرے گی توتیرا دل کیسے ٹوٹے گا۔ تم تواپنے دل کوہاتھ میں لے کرچل تاکہ آنے جانے والا ہردشمن ہربندہ تیرے دل کے اوپرتھوکے اورتیرے دل کوتوڑدے، تیرے دل کے سوٹکڑے کردے توجب تک وہ دل پاش پاش، شکستہ اورٹوٹے گا نہیں تواُس وقت تک اُس میں عشق کی نظرسہنے کی تاب نہیں آئے گی۔ اُس کا قاعدہ ہی یہی ہے کہ اگروہ محبت کرے توکوئی اورتجھ سے محبت نہ کرے۔ محبت کی یہ توحید ہے۔ ایک توآپ کے اختیارمیں ہوتا ہے کہ میں صرف آپ سے محبت کروں گا اورکسی سے نہیں کروں گا لیکن یہ عشق میں نہیں ہوتا۔ عشق میں یہ ہوتا ہے کہ جب اُس نے اپنا عشق دے دیا تواب پوری دنیا تیرے اوپرتُھوتُھوکرے گی تونوبت ہی نہیں آئے گی کہ تم کسی کودیکھو۔ تم دنیا میں قابلِ نفرت نشانہِ ملامت بن جاوٴگے کیونکہ وہ محبت کررہا ہے۔ یہ خود خدا کی طرف سے ہوتا ہے تاکہ تمہاری کسی کے اوپرنظرہی نہ جائے۔ اگروہ محبت دیتا ہے تواِسطرح دیتا ہے کہ بس وہی محبت کرے کوئی اورنہ کرے۔ جس سے رب محبت کرتا ہے اُس سے اگرکوئی اورمحبت کرنا شروع کردے تورب اُس کواُٹھا لیتا ہے۔ جس سے وہ محبت کرتا ہے اُس سے کوئی محبت نہیں کرسکتا۔ جواُس سے محبت کرے گا یا یہ کسی اور سے محبت کرے گا تووہ تباہ ہوجائے گا۔ محبت کی یہ پہلی شرط توحید ہے۔ محبت کی حقیقت بس یہیں سے شروع ہوتی ہے۔
محبت کے مذہب میں تونظروں سے پیتے ہیں۔ ابھی توآپ نے نظرالبشردیکھا ہے۔ ایک توتربیت نظروں سے ہوتی ہے تویہ نظروں کی تربیت نظرالبشرتوچھوٹی سی چیزہے۔ جوعشق کی مہ پلائی جاتی ہے وہ بہت خطرناک ہے۔ اُس میں عشق کا ایک قطرہ جوعاشق روزپیتا ہے اُس کا ایک قطرہ اگرایک عرب کافروں کی آبادی پرڈال دیں توسب مسلمان ہوجائیں۔ اس لئے اُن کی صحبت میں اگر کوئی عاشق مل گیا توکچھ بھی نہ بولے خاموش ہی اُس کے پاس بیٹھے رہو تو
یک زمانہ صحبتِ بااولیا
بہترازصد سالہ طاعت بے ریا

شعر بقولِ نمائندہ گوھر شاہی عزت مآب سیدی یونس الگوھر:
اُن کی نگاہِ نازجب بندہ نوازہوگئی
اپنی نوائے شوق بھی زم زمہ سازہوگئی
قلب میں اک تڑپ اُٹھی آنسووٴں سے وضو ہوا
آپ جو یاد آگئے اپنی نماز ہوگئی

محبت کے حوالے سے اہم نکات:

محبت اگرسچی ہوجائے تواُس کا سب سے بڑا جوفائدہ ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ انسان کے اندر جو انانیت کا بت ہے وہ ٹوٹ کرپاش پاش ہوجاتا ہے۔ محبت کے بغیرانانیت کوختم کرنا ممکن نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب آدمی کوکسی سے محبت ہوجاتی ہے تووہ اُس کے جوتے بھی سرپراُٹھا کرچلتا ہے۔ یہ محبت کا ہی کرشمہ ہے۔ محبت کے بغیرنہ نماز کا مزہ ہے، نہ روزے کا مزہ ہے اور نہ دین کا مزہ ہے۔ اگررب کی محبت دل میں آجائے توپھرنمازوں کا بھی مزہ ہے اور روزوں کا بھی مزہ ہے۔ ہر مذہب کا نچوڑمحبت ہے۔ سیدنا گوھر شاہی نے فرمایا ہے کہ

جس دل میں رب کی محبت نہیں ہے توکتا اُس سے بہترہے۔ اگر کسی کے دل میں رب کی محبت ہے تووہ اُن مذہبی لوگوں سے بہتر ہے جن کے دلوں میں رب کی محبت نہیں ہے لیکن صرف عبادتوں میں مشغول ہیں۔

اللہ کی محبت سے بڑی کوئی بھی شے نہیں ہے۔ ہرمذہب سے بالاتراللہ کی محبت ہے۔ جب اللہ کی محبت کسی کے دل میں آجاتی ہے توپھرمخلوق سے بھی اُس کومحبت محسوس ہوتی ہے الغرض یہ کہ محبت انسان کی ہو یا محبت اللہ کی ہو، اگرمحبت سچی ہے توبھلے ہی انسان کی محبت کیوں نہ ہو اللہ تعالی اُس کا تمہیں اجردے گا۔ حضورنبی پاکؐ کی بارگاہ میں کوئی آکرکہتا کہ یارسول اللہ! مجھے فلاں صحابی سے بڑی محبت محسوس ہوتی ہے توحضورؐاُس کوفوراً فرماتے کہ جاوٴاُس کوجاکربتاوٴ کہ میرے دل میں تمہارے لئے محبت ہے۔ محبت کونبی پاکؐ نے اسلام اورصحابہ اکرام میں اِس طرح فروغ دیا ہے کہ اگرکوئی کسی کیلئے ذرا سی بھی محبت محسوس کرتا توحضورؐاُس کوفوراً روانہ کرتے کہ جاوٴاوراپنے بھائی کوبتاوٴکہ تم اُس سے محبت کرتے ہو۔ آج ہم اپنی مسجدوں میں حال دیکھتے ہیں توہمارے مولانا صاحب محبت کی بات ہی نہیں کرتے۔ انہوں نے محبت کوشرک اور عذاب قراردے دیا ہے۔ اسی لئے شاید ہماری قوم محبت کی پٹری سے اُترگئی ہے۔ محبت کے بغیر دنیا بیکار ہے۔ محبت نہیں ہے توپھرکچھ بھی نہیں ہے۔ جہاں دینِ الہی عشقِ الہی سیدنا گوھرشاہی کی کتابِ مقدس محبت اور عشق کی تعلیم سے بھری ہوئی ہے وہاں سرکار گوھر شاہی نے یہ بھی تحریر فرمایا ہے کہ

جوزبان سے کہتے ہیں کہ مجھے تم سے محبت ہے وہ مکارہیں کیونکہ محبت کا تعلق زبان سے نہیں دل سے ہے۔

مقامِ محبت انسان کا دل ہے۔ دل میں محبت آجائے توپھربات ختم ہوجاتی ہے۔ اگر دل میں محبت آگئی توبس تم اپنی منزل کوپہنچ گئے۔ دل میں محبت بسانے کا طریقہ بھی ہے کہ دل کوپاک اورمنورکیا جائے۔ حدیث میں بھی آیا ہے کہ

مَنْ اَحَبَّ شَیْئاً اَکْثَرَ ذِکرَهُ
ترجمہ: جس کوجس سے محبت ہوتی ہے تووہ اکثراُس کا ذکرکرتا ہے۔

المرءُ مع من اَحَبَّ
ترجمہ: جوجس سے محبت کرتا ہے وہ یومِ قیامت میں اُس کے ساتھ ہوگا۔

محبت سے بڑھ کرکوئی شے نہیں ہے۔ انسان کی محبت ہو یا رب کی محبت ہو، محبت کا پلڑا آج بھی اور یومِ محشرمیں بھی بھاری ہے۔ اگرکسی انسان سے بھی تم نے سچا پیارکرلیا تویقین کرووہ محبت تیری یومِ محشرمیں شفاعت کرادے گی لہٰذا اب اس مسئلے میں نہ پڑوکہ یہ ہندو، مسلمان یا عیسائی ہے بلکہ انسانیت سے محبت کرو۔ محبت سے بڑا کوئی مسیحٰا نہیں ہے، محبت سے بڑا کوئی ڈاکٹر نہیں ہے، محبت سے بڑی کوئی دوائی نہیں ہے، محبت سے بڑی کوئی رحمت نہیں ہے اورمحبت سے بڑی کوئی اللہ کی صفت نہیں ہے۔ محبت کائنات کی جان ہے۔ یہ محبت ہے جس کی وجہ سے یہ کاروبارِ زندگی چل رہا ہے۔ محبت نہیں ہے توپھرکچھ بھی نہیں ہے۔ میاں محمد بخش نے کہا ہے کہ
جس دل اندرعشق نہ رچیا کتے اُس تو چنگے
مالک دے درراکھی کردے صابر، بُھکے، ننگے

جن کے دلوں میں اللہ کا عشق نہیں اُترا اُس سے بہترتوکتے ہیں۔ کوئی بھی دھرم ہوکوئی بھی مذہب ہو رب سے محبت کریں۔

کیا اظہارِ محبت کرنا بھی ضروری ہے؟

اظہارِمحبت کرنا ضروری نہیں ہے۔ اگرآپ نے قبرپرجاکرکسی مردہ سے بولا ہے کہ آپ کواُس سے محبت ہے تووہ اظہارِمحبت جائزہے کیونکہ وہ نہ دیکھ سکتا ہے نہ سُن سکتا ہے۔ اگرآپ کوکسی زندہ سے محبت ہوگئی ہے توکہا جاتا ہے کہ عشق اور مُشک چھپتے نہیں ہیں۔
مشک آں است کے خود بگوید نہ کہ عطار بگویت
تم اظہارکیوں کررہے ہو، محبت کی خوشبوتوخودہی لوگوں کے نتھنوں میں چلی جائے گی۔ تجھے کہنے کی ضرورت ہی نہیں ہے کہ مجھے فلاں سے عشق ہے۔ لوگ تیری چال ڈھال تیرے طور طریقوں سے پہچان لیں گے کہ تم کسکی زلفوں کے اسیرہو، تیرا دل کسکے حسن پرفریفتہ ہوچکا ہے۔ جب عشق اور مشک کوچھپایا نہیں جاسکتا ہے توپھرآپ کو اظہارِمحبت کرنے کی ضرورت کیا ہے! خوشبو خود پھیل جائے گی۔
وہ تو خوشبو ہے ہواوٴں میں بکھر جائے گا
مسئلہ پھولوں کا ہے کہ مسلا تو کدھر جائے گا

یار خوشبو کیطرح ہے اور تم پھول کی طرح ہو۔ جب تک تمہیں مسلا نہیں جائے گا خوشبو برآمد نہیں ہوگی۔ پھول کا مسلا جانا خوشبو کی آمد کیلئے ضروری ہے۔ جب تمہارے اندر محبت اور عشق آجائے گا تو مولانا روم نے کہا ہے کہ
عشق آمد عقل آوارہ شد
ایسا نہیں ہوسکتا کہ تمہیں عشق بھی ہوجائے اورتم عقلمند بھی ہو۔ عقل کوخدا حافظ کہنا پڑتا ہے اور جنہوں نے عقل کوخدا حافظ نہیں کہا توعشق بھاگ گیا۔ عقل اورعشق دونوں اکٹھے نہیں رہ سکتے۔ علامہ اقبال نے بھی کہا ہے کہ
لازم ہے دل کے پاس رہے پاسبان عقل
لیکن کبھی کبھی اِسے تنہا بھی چھوڑدیں

عشق کے حوالے سے جوباتیں ہم نے آپ کو بتائی ہیں وہ سب ایک ذاتی تجربے کی بنیاد پرکہی گئی ہیں۔ کسی قرآن اور حدیث کا حوالہ نہیں ہے تو جو کچھ بھی آپ کو بتایا ہے وہ ذاتی تجربے کی روشنی میں آپ کو بتایا ہے۔

مندرجہ بالا متن نمائندہ گوھر شاہی عزت مآب سیدی یونس الگوھر سے 3 جون 2020 کو یو ٹیوب لائیو چینل الرٰ ٹی وی پر کی گئی گفتگو سے ماخوذ کیا گیا ہے۔

متعلقہ پوسٹس
دوست کے سا تھ شئیر کریں