کیٹیگری: مضامین

سیدنا را ریاض گوھر شاہی امام مہدی علیہ السلام نے اپنے خطبات میں کئی مرتبہ کامل حیات کے بارے گفتگو فرمائی اس کے علاوہ آپ کی کتاب مینارہ نور میں بھی اِن تینوں مرتبوں کی تشریحات موجود ہیں ۔ آپ نے فرمایا کامل حیات وہ ہوتا ہے جو سات دن میں ذکرِ قلب جاری کر دیتا ہے ،کامل حیات کا فیض اس کی زندگی میں ہی ہوجاتا ہے لیکن وصال کے بعد اُس کا یہ فیض بند ہوجاتا ہے ۔ کامل ممات کا فیض اِس کی وفات کے بعد اِس کے مزارسے شروع ہوتا ہے اور کامل ذات کا فیض حیات و ممات دونوں میں یکساں رہتا ہے۔
اولیاء اللہ کے تین گروپ ہیں کامل حیات، کامل ممات ، کامل ذات
کامل حیات: کامل حیات سات دن میں قلب جاری کرتا ہے ۔
کامل ممات: مزار سے تین دن میں قلب جاری کرتا ہے ۔
کامل ذات: اور کامل ذات ایک نظر میں ہی قلب کو زندہ کر دیتا ہے ۔

کامل، اکمل ،مکمل کی تشریح:

غوث الزما ں عمومی طور پر کامل شریعت ہوتا ہے ۔

کامل شریعت سے مراد کیا ہے ؟

نفس کو پاک کرنا شریعت حقا یعنی شریعت کامل ہے۔ کامل شریعت ولی کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ لوگوں کے نفوس کو پاک کرے اور ان کو پیر طریقت کی جانب بڑھا دے،پیر طریقت کو پیر اکمل کہتے ہیں۔ کامل شریعت کو کامل کہتے ہیں اور یہ غوثیت کے مرتبہ پر فائض ہوتاہے۔ پیر اکمل یعنی پیر طریقت اگر واقعی طریقت والا ہے تو اس کے پاس ذکر قلب کا فیض ہونا چاہیئے، اس کے بعد حقیقت والوں کی باری آتی ہے، ان کو پیر مکمل کہتے ہیں۔
کامل: شریعت والا ولی ہوتا ہے۔اکمل: طریقت والا ولی ہوتا ہے۔مکمل: حقیقت والا ولی ہوتا ہے

دوسری اہم بات:

پوری دنیا میں بیعت کرنے کا حق صرف غوث الزماں یعنی اس وقت کے غوث کو ہوتا ہے اوراس کے قطب اس کی اجازت سے بیعت کرسکتے ہیں لیکن وہ بیعت غوث ہی کی کرواتے ہیں، اسی لیے ان اقطاب کو آدھا پیر بھی کہتے ہیں اس طرح کل ٹوٹل چار انسان ہوگئے جو بیعت کرسکتے ہیں۔ اسی طرح فقر کی بھی اقسام ہیں۔ فقر با کمالیت ،فقر با کمالیت کا تعلق اللہ کی ذات سے ہے۔ فقر با کرم ،فقر با کرم کا تعلق اللہ کی ذات سے نہیں ہے۔ صرف ان اولیاء کا اللہ کی ذات سے تعلق قائم ہوتا ہے جو فقر با کمالیت پر فائض ہوں، ایک ولائیت ایسی ہے جس کا تعلق اللہ کی ذات سے ہے، ولائیت کا لفظ دو طرح سے لکھا جاتا ہے ایک پر (و) کے اوپر زبر ہے اور ایک میں(و) کے نیچے زیر لگتی ہے۔
زبر والی ولائیت کا تعلق اوپر والی ولائیت سے ہے اور زیر والی ولائیت کا تعلق نیچے والی ولائیت سے ہے۔
ولائیت فقربا کمالیت میں ہے یعنی یہ اوپر کی ولائیت ہے، ولائیت فکر با کرم میں ہے یعنی اس ولائیت کا تعلق نیچے کی ولائیت سے ہے، فقر با کمالیت والے ولی اللہ سے وابستہ ہوتے ہیں اور ان کے سینے سے حبل اللہ جڑی ہوتی ہے ان کی ولائیت کا تعلق اللہ سے ہوتا ہے۔ فقر باکرم والوں کی ولائیت کا تعلق محمد رسول اللہ سے ہوتا ہے، فقر با کرم کی ولائیت صرف ایک مرتبہ ہے،اس میں فیوض و برکات نہیں ہوتے، اس میں باطنی تصرفات نہیں ہوتے، فقر با کرم والے ولی کسی کو اللہ تک پہنچانے کے قابل نہیں ہوتے۔

زکوة کا باطنی قانون:

ہرولی کی ولائیت پرزکوة ہوتی ہے اورغوث الزماں کی ولائیت کی زکوة یہ ہےکے ساری زندگی میں زکوة کے طور پر دو ذاکر قلبی بنانے ہیں۔یہ فیض کے طور پر نہیں بلکہ ولائیت کی زکوة کے طور پر بنانے ہیں۔
زکواة کئی اقسام کی ہیں جس طرح مال کی زکوة ہوتی ہےاسی طرح جسم کی بھی زکوة ہوتی ہے، مال کی زکوة ڈھائی فیصد ہے اور جسم کی زکواة بیماری ہے یہ حدیث میں لکھا ہےاور باطنی قانون ہے ۔اگر آپ مومن ہیں تو چالیس دن میں آپ کو کوئی نہ کوئی بیماری لگے گی یا کوئی مصیبت آئے گی اگر ایسا نہیں ہے تو آپ ایمان سے خارج ہیں۔جسم کی زکوة بلا اورمصیبت اور جسم کی بیماریاں ہیں۔جب مال کی زکوة دے دی تو مال پاک ہو گیا جب جسم کی زکوة دے دی تو جسم بھی پاک ہو گیا۔
آپ نے یہ ضرور سنا ہو گا کے بیمار کی عیادت اور مزاج پرسی کوجاؤ کیونکہ بیماراللہ کی رحمت کی زد میں ہے، مگر یہ بات صرف مومنین کے لیے ہے، یعنی صرف اس مریض کی زیارت باعث ثواب ہے کس کا جسم بطور زکوة بیماری میں مبتلا ہوا لیکن جومریض بطورعذاب مرض میں مبتلا کر دیے گئے ان کی زیارت فضول ہے۔

تشریح:

جو لوگ نفس کی طہارت اور پاکیزگی میں لگے ہیں لیکن دنیا میں رہنے کی وجہ سے ہوسکتا ہے کوئی حرام لقمہ کھا لیا جس سے ناراندر ٹہرگئی اورجسم ناپاک ہوگیا تواس ناپاکی کودور کرنے کے لیے یہ باطنی سسٹم رائج ہے کے مومن پر ہر چالیس دن کے دورانیے میں چھوٹی موٹی بیماری ضرور آئے گی اور اس بیماری کی وجہ سے اس پر رحمت کا نزول ہوتا ہے اوراس کا جسم طہارت میں مبتلا کر دیا جاتا ہے یہ جسمانی زکوة کہلائے گی۔ اسی طرح ولائیت کی بھی زکوة ہے جب ولی کا اس دنیا سے جانے کا وقت آتا ہے تو اس کو اپنی زکوة دینا ہوتی ہے اورغوث الزماں اس زکوة کے لیے دو مریدین ایسے رکھ لیتا ہے جو بہت زیادہ خدمت گذار ہوں، بہت زیادہ قابل بھروسہ قابل اعتماد ہوں، ساری زندگی خدمت کی ہو تو بوقت موت بطور زکوة ان دو مریدوں کو ذاکر قلبی بنا دیتا ہے،یہ ان کی حد ہے اور زکوة ہے یہ فیض نہیں ہے۔ اسی طرح نبیوں کی زکوة کی بھی تعداد ہے چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نبی بھی ہوئے رسول بھی ہوئے اور سلطان الفقراء بھی ہوئے تو ان کی تعداد تمام انبیاء اوررسل کی تعداد پرمبنی تھی یعنی ایک لاکھ چوبیس ہزار مومنین امتی وہ دنیا میں بنائیں،اس زکوة کے بعد وہ دنیا سے جاسکتے ہیں اس سے پہلے نہیں۔
اسی طرح امام مہدی کی بھی زکوة ہے ،امام مہدی علیہ السلام پوری دنیا کے لیے آئے ہیں، امام مہدی علیہ السلام کی زکوة کل نوع انسانی ہے یعنی پوری دنیا زکوة و خیرات کے طور پر امام مہدی علیہ السلام سے اپنا تعلق جوڑے۔ جب تک امام مہدی علیہ السلام رب سے انسانیت کا تعلق جوڑ نہ دیں اس دنیا سے نہیں جائینگے اورجس دن امام مہدی اس دنیا سے چلے گئے تو پھر اس دنیا کوجینے کا حق ہی نہیں ہے، کیونکہ انہوں نے اپنی زکوۃ پوری کردی اب کوئی انسان مستحق بچا ہی نہیں کے جسے تعلق باللہ دینا ہو۔

مثال:

کسی ولی کی موت کا وقت قریب آجاتا ہے تو جب تک وہ اپنی زکوة نہیں دے گا تب تک اس کی روح عالم بالا میں نہیں جائے گی یہ ہی وجہ ہے کے جو کامل ممات ہوتے ہیں ان کی روح قبر میں ہی رہتی ہے ان کی قبر سے فیض جاری ہوتا ہے جب ان کی زکوة پوری ہو جاتی ہے تب ان کی روح قبر سے نکل کر عالم بالا میں جاتی ہے۔ کامل ممات کے لیے یہ آیت اتری ہے

وَلاَ تَقُولُواْ لِمَنْ يُقْتَلُ فِي سَبيلِ اللّهِ أَمْوَاتٌ بَلْ أَحْيَاء وَلَكِن لاَّ تَشْعُرُونَ
سورة البقرة (154)
جو اللہ کی راہ میں مارے جائیں ان کو مقتول کہا جائے گا، اللہ نے کہا ان کو مردہ مت کہو یہ اللہ کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے مختلف ٹکڑوں میں منتشر ہو گئے ان کو مردہ مت کہو بَلْ أَحْيَاء ان کی حیات ثابت ہے وَلَكِن لاَّ تَشْعُرُونَ لیکن تمہیں ان کی حیات کا شعور نہیں ہے ۔

جو لوگ رب کی راہ میں ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں ، قتل کا مطلب کسی کو جان سے مارنا نہیں عربی میں قتل کا مطلب مختلف ٹکڑوں میں ہوجانا ہے، قتل کا مطلب ہے قتلے ہوجانا، کسی کا جسم زمین پر ہو،جسے ملکوت میں اور روح جبروت میں تو یہ قتل ہی ہو گیا یعنی قتلہ قتلہ ہو گیا، اس کا وجود مختلف عناصر میں منتشر ہو گیا، ایسے لوگوں کے لیے کہا يُقْتَلُ فِي سَبيلِ اللّهِ کے وہ مختلف جگہوں پر رب کی تلاش اور رب کے شوق میں بکھر گئے ہیں۔ ان کی شخصیت مختلف اجزائے ارواح میں منتشر ہوگئی ہے۔
کامل ذات وہ ہے زندگی یا موت سے اسے کوئی فرق نہیں پڑتا اس کا فیض حیات و ممات دونوں میں یکساں رہتا ہے چاہے اس کی ظاہری حیات میں اس کے سامنے چلے جاؤ وہ ایک ہی نظر میں قلب جاری کر دے گا اور اس کی وفات کے بعد اس کے مزار پر جاؤ تو مزار کے فیض سے بھی ایک نظر میں قلب جاری ہو جائے گا۔ کامل حیات کا فیض اس ولی کی زندگی تک محدود ہے بس، وفات کے بعد اس کا فیض بھی ختم ہو جاتا ہے کامل حیات تین دن میں قلب جاری کرتا ہے، کامل ممات اپنی زندگی میں کسی کو فیض و برکات نہیں دیتا اس کا فیض صرف اس کی وفات کے بعد اس کے مزار سے شروع ہوتا ہے جب اس کی ولائیت اور تعلیم مکمل ہوجاتی ہے تو اس کی قبر سے فیض جاری ہوتا ہے، جیسا کہ سندھ میں شاہ عبد الطیف بھٹائی ہیں وہ بھی کامل ممات ہیں، کامل ممات تین دن میں قلب جاری کر سکتا ہے۔ سلطان حق باھو رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا اگرکوئی شخص اپنے آپ کو ولی کہے تو اس کو کہو میرا قلب جاری کردے ،قلب جاری ہونے میں زیادہ سے زیادہ سات دن لگتے ہیں ، سات دن کی شرط اس لیے رکھی ہے کیونکہ ادنٰی ترین ولی کامل حیات ہے اور اس کی حد سات دن ہے اگر سات دن میں بھی قلب جاری نہ کر سکے تو معلوم ہوا کے وہ کامل حیات بھی نہیں ہے پھر وہ فقر با کرم والا ولی ہے اور ایسے ولیوں کا فائدہ بھی کیا ہے کیونکہ ان کا اللہ سے تعلق نہیں ہے۔
تصدیق یافتہ بے شمار کہانیاں آپ کو بہت ملیں گی کے فلاں بھی ولی ہے فلاں بھی ولی ہے لیکن ولی دو ہی قسم کے ہیں ایک فقر با کرم والے اور ایک فقر با کمالیت والے ایک اہم بات جو ولائیت کے لیے بہت ضروری ہے صرف وہ ولی قلب جاری کر سکتے ہیں جو فقر با کمالیت والے ولی ہیں اور فقر با کمالیت والے ولی اس وقت بنتے ہیں جب دیدار الہی ہو جائۓ ، دیدارالہی کے بغیر فقر با کمالیت کی ولائیت ثابت نہیں ہے، فقر با کمالیت کا ادنٰی ترین ولی بھی وہ ہے جس کو دیدار الہی میسر ہے اور دیدار الہی ہی کی وجہ سے اس کی نظروں میں یہ طاقت آتی ہے کے اس کی نظر سے پتھر سونا بن جائے اور مردہ قلب اسم ذات اللہ سے زندہ جاوید ہوجائے

نظر جنہاں دی کیمیاء ہوئے سونا کردے وٹ

کہ جن کی نظروں کو رب کی بارگاہ سے کیمیاء گری عطا ہوگئی وہ اگر پتھروں پر نظر ڈالیں تو سونا بنا دیں اور اگر مردہ قلب پر نظر ڈالیں تو اسے زندہ جاوید کر دیں۔ سلطان حق باھو رحمة اللہ علیہ نے فرمایا کے عیسی علیہ السلام تو مردوں کو زندگی دیتے تھے چونکہ ہر ذی نفس نے ایک دن مرنا ہےکل نفس ذائقہ الموت تو زندگی پا لینے کے بعد کبھی نہ کبھی تو اس نے مرنا ہی ہے نا، لیکن محمد رسول اللہ کی امت کے جو ولی فقر با کمالیت والے ہیں ان کو رب نے اتنی طاقت دی ہے کہ اگر وہ مردہ قلب پر ایک نظر ڈال دیں تو پھر وہ دائمی طور پر ابدی حیات پالیتا ہے اس کو موت آتی ہی نہیں ہے۔ یہاں تک کی وضاحت سے اب یہ سمجھ آ گیا کے ذکر قلب صرف فقر با کمالیت والا دے سکتا ہے۔ فقر با کمالیت میں دو گروہ ہیں
۱۔ وحدت الوجود
۲۔وحدت الشہود

متعلقہ پوسٹس

دوست کے سا تھ شئیر کریں