کیٹیگری: مضامین

یو ٹیوب پر ہمارا خطا ب سننے والے ایک شخص کیض خان جن کا شیعہ فرقے سے تعلق ہے،نے کہا ہے کہ آپ کی جو تعلیم ہے اسکو تو مولوی سن بھی نہیں سکتے یہ بہت اعلی تعلیم ہےاور آپ کی جماعت کو دنیاکی سب سے بڑی جماعت ہونا چاہیے تھا لیکن وہ دنیا کی سب سے بڑی جماعت اسلیئے نہیں ہوئی کیونکہ تم لوگوں نے امام مہدی کی بات کی ہوئی ہے اور امام مہدی کا سن کے لوگ اسطرف راغب نہیں ہوتے ہیں۔انکا یہ اپنا تجزیہ ہے لیکن ان کو یہ سوچنا چاہیے کہ جس تعلیم کی عظمت کاآپ اقرار کر رہے ہیں وہ تعلیم امام مہدی کی ہے ۔جو دلیل ،جو برھان ،جو ثبوت ہے وہ تو آپ کو سمجھ میں آگیا لیکن جس کی دلیل ہے،جسکا برھان ہے اسکی وجہ سے لوگ چلے جائیں!!!دنیا میں کونسا ایسا ولی ہے کونساایسا مذہبی اسکالر ہے کہ جس کے پاس یہ طاقت ہو کہ وہ لوگوں کو اللہ سے جوڑ دے۔

سیدنا گوھر شاہی دور قحط الرجال میں اللہ منقسم فرما رہے ہیں :

اِس دور کا المیہ یہ ہے کہ لوگوں نے علم کو صرف کتاب پڑھ کر کسی چیز کے بارے میں جاننا سمجھ لیا ہے۔قلبی فیض ہونا ،روحوں کا منور ہونا اور تعلق باللہ ،اللہ سے تعلق جڑنا یہ چیزیں انکی لغت میں نہیں ہیں۔آج کا جو مذہبی شخص ہےوہ بائبل پڑھ کے بائبل کا عالم کہلاتا ہے ،قرآن پڑھ کے قرآن کا عالم کہلاتا ہے لیکن اسکے پاس نہ بائبل کا علم ہے نہ بائبل کا عرفان ہے نہ قرآن کا علم ہے ۔نہ قرآن کا عرفان ہے اور جو عام لوگ ہیں انکی مذہبیت صرف یہاں تک محدود ہے کہ وہ عذاب قبر سے ڈرتے ہیں اور جنت میں جانے کے خواہش مند ہیں۔اللہ سے تعلق جوڑنے کی جو بات ہے نہ وہ انہوں نے کبھی سنی ہے اور نہ اب سننے کے بعد اُن کو سمجھ میں آتی ہے ایک دور تو یہ تھا کہ لوگ اللہ کے طلب گار تھے جب لوگ اللہ کے طلب گار تھے تو اُسوقت تعلق باللہ ،اللہ سے تعلق جڑنا، اللہ کو پا لینا بڑا مشکل تھا۔

مثال:

یہ ایسے ہی ہے جیسے کہ تیل جب زیادہ مقدار میں نکلتا ہے تو اسکی قیمتیں دنیا بھر میں کم ہو جاتی ہیں اور جب اسکی پیداوار کم ہوتی ہے تو اسکی قیمتیں بڑھ جاتی ہے۔ابھی حال ہی میں آئل کی قیمتیں بہت زیادہ کم ہو گئیں اسکی وجہ تھی کہ پروڈکشن زیادہ تھی اب اس کم قیمت سے لوگ گبھرا گئے پریشان ہو گئے جو ٹریڈرز ہیں جو گورنمنٹس ہیں کیونکہ بہت سی کرنسی ایسی ہیں جو کہ تیل سے جڑی ہوئی ہیں جیسا کہ امریکن ڈالر ہے وہ آئل کی قیمت سےجڑا ہوا ہے،آئل کی قیمتیں کم ہوں گی تو ڈالر کی قیمت بھی کم ہو جائے گی لہذاانہوں نے ڈالر کی قیمت بڑھانے کےلئےتیل کی پروڈکشن کم کردی لہذا ڈالر کی قیمت بڑھ گئی۔اِسی طرح جب دس آدمی میں سے پانچ آدمی اللہ کی طلب کرنے والے تھے ،طلب کا مطلب یہ نہیں کہ زبان سے کہتے تھے بلکہ گھر بار بیوی بچے چھوڑ کے جنگلوں میں چلے جاتے تھےاس سے پتا چلتا تھا کہ طلبگا رہیں۔جب آدمی ہر چیز داؤ پہ لگا دے اور سب کچھ کرنے کو تیار ہو جائے،گھر بار چھوڑ دے، بیوی بچے چھوڑ دے،جنگلوں میں بسیرا کر لے اِس سے بڑھ کر اور کیا ثبوت ہے کہ وہ اللہ کا طلبگار ہے۔اس موقع پر بھی سیدنا گوھر شاہی کا ایک زبردست فرمان موجود ہے فرمایا کہ

”قطع نظر اسکے کہ اس بندے کو اللہ ملے یا نہ ملے، لیکن رب کو پانے کی خاطر جب وہ اپنے بیوی بچوں کو، گھر بار کو چھوڑ کے جنگل کی طرف جاتا ہے تو اُس کے اس عمل کا اجر نہیں ہے اسکا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا“

اب آپ ذرا خود سوچیں کہ جب سال چھے مہینے کے لیئے گھر والوں کوچھوڑ کے جاتے ہیں اپنے پیاروں کو تو آدمی اُداس سا ہو جاتا ہے اور جب ساری زندگی کے لیئے چھوڑ کر جارہے ہوں رب کے لیئے تو انسان کے اندر کوئی نہ کوئی آگ تو ہے جو اسکو کھینچ کر لے جا رہی ہے ۔لیکن جب اللہ کے طلبگار تھے تو اُسوقت اللہ تعالی نے بڑی سختیاں کر رکھی تھیں،اب لال باغ کا واقعہ ہی لے لیں،لال باغ میں جب تجلیات الہی کا نزول ہواتو سیدنا گوھر شاہی فرماتے ہیں کہ اسوقت مزید دس آدمی کھڑے تھے ہمارے ساتھ اور جب تجلی آکر پڑی تو وہ سیدنا گوھر شاہی کے وجود مبارک پہ آکر پڑی تو سب کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے اور سب نے بیک وقت یہ کہا کہ شاید کوئی غلطی ہو گئی۔دوبارہ جب تجلی آئی تو پھرسیدنا گوھر شاہی کے وجود مبارک پر آگئی،لوگ پریشان ہو گئے،اُن میں ایسے لوگ بھی تھے جو بیس بیس سال سے وہاں جنگلوں میں پتے کھا رہے تھے۔
خیر جب بیس میں سے پانچ آدمی اللہ کے طلبگار تھے اُس وقت اللہ تعالی نے نظام بھی بڑا سخت بنا رکھا تھا۔صرف ذکر قلب کی منظوری کے لیئے لوگوں نے جنگلوں میں بارہ بارہ سال کے چلے کئے،اب جیسے بایزید بسطامی ؓ ہیں بارہ سال انہوں نے جنگلوں میں جو ریاضتیں اور مجاہدے کئے ۔بارہ سال کے مجاہدے اور ریاضت کے بعد اُن کو منظوری ملی تھی کہ اب تمہیں ذکر قلب ملے گا ۔آج سیدنا گوھر شاہی کا کرم لوگوں کو نظر نہیں آتا ہے کیونکہ لوگوں کو طلب نہیں ہے ۔اگر آپ صوفیوں کی کتب اٹھا کے دیکھیں ،اُنکے حالات زندگی ملاحظہ فرمائیں تو آپ کو اپنے اوپر رشک آئے گا ۔بابا فریدکے چھتیس سال اللہ کی عبادت کرنے کے بعد بھی اللہ کا کوئی سراغ نہیں تھا، تنگ آکر کنوئیں میں الٹے لٹک گئے ۔سیدنا گوھر شاہی نے فرمایا کہ اللہ کہاں ملتا ہے!!آپ نے اپنی منظوم کتاب ”تریاق قلب“ میں بھی اس بات کو کچھ اسطرح بیان فرمایا ہے کہ
دینی پڑتی ہے جان و مال کی قربانی اس راہ میں چلنے والوں کو
پھر بھی بڑی مشکل سے ملتا ہے یہ سوداان صابرین جیالوں کو

ہم تو بڑے ہی عیاشی میں جی رہے ہیں ہمیں کوئی قربانی نہیں دینی پڑی اور پھر آپ یہ نہ سمجھیں کہ اس دور میں چونکہ اللہ کی طلب نہیں رہی تو اللہ نے قیمتیں کم کر دی ہیں۔

”آج جو روحانیت صدا لگا لگاکر کےلوگوں کو دی جا رہی ہے اِس میں اللہ کی سخاوت کا عمل دخل نہیں ہے وہ سیدناگوھر شاہی کی جودوسخا سے متعلق ہے“

اور جتنی سخاوت کے ساتھ دنیا کی بھلائی،انسانیت کی بھلائی کےلئےسیدنا گوھر شاہی نے جو صدائے عشق لگائی ہے ،دلوں میں عشق جائے گاانسانوں کےاوراسکی قیمت سیدنا گوھر شاہی نے اداکی ہے۔پانچ اولادیں قربان کر دیں اور نہ جانے کیا کیا چیزیں قربان کیں۔اوراسکے طفیل آج ہم لوگوں کو یہ دعوت دے رہے ہیں کہ آجاؤ اجازت ذکر قلب حاصل کرو،نہ کوئی بیعت کی جھنجھٹ ہے،نہ کوئی نزانہ کا مسئلہ ہے اگر دل میں اللہ کا نام چلا جائے تو دعا دے دینااور کیا دے سکتے ہو ،اگر نہ ہو تمھارا کیا بگڑا دو چار دن جو تم نے اللہ اللہ کی ہو گی اسکا ثواب ہی ملے گا عذاب تو نہیں ہو گا۔ورنہ تم اپنے گھر خوش ہم اپنے گھر۔
لوگ اکثر پوچھتے ہیں کہ یہ قحط الرجال کیا ہے؟رجال سے مراد یہ ہے یہاں پر ”مرد“اور مرد سے مراد ہے ”طالب مولا“ یعنی اللہ والوں کی کمی۔جسطرح پانی کا قحط ہوتا ہے تو پانی کی کمی،خوراک کی کمی واقع ہو جائے تو وہ خوراک کا قحط ہوتا ہےاگر اللہ والوں کی کمی ہو جائے تو وہ قحط الرجال،اور اللہ والوں کی کمی ہے۔اب ہم اسکو کمی ہی کہیں گے کیونکہ جو ولی بھی آئے وہ نہ ہونے کے برابر ہیں۔کھڑی شریف،اچ شریف،گولڑہ شریف،یہ سارے وہ شرفاءخطے ہیں جہاں شریعت کے ولی آئے۔ان کے پاس ذکر قلب دینے کی طاقت تھی نہ اللہ کی طرف سے اذن تھا ظاہر ہے کہ جب شفاعت کے لیئے اللہ کے اذن کی ضرورت ہے تو پھر لوگوں کا اللہ سے تعلق جوڑنے کے لئےبھی اللہ کے اذن کی ضرورت پڑتی ہو گی۔قحط الرجال کے اس دور میں روحانیت نا پید ہے،جب روحانیت ناپید ہو گئی، لوگوں نے روحانی کتابیں پڑھ لیں،مراقبے پڑھ لئے،ذکر کرنے کا طریقہ پڑھ لیااور بیٹھ کر کے حلقہ بنا کرذکر کرنے لگ گئے،گردن بھی ہلانے لگ گئے مجھے یاد ہے 1993 میں لندن دارلاحسان والوں نے ہمیں بلایا ذکر کے موضوع پر تقریر کے لئے اسکے بعد انہوں نے ذکر کیا بتی بجھ گئی آنکھیں بند کیں اور وہ ذکر کرنے لگے،بسم اللہ الرحمن الرحیم ،اب اس میں یہ نہیں پتا چل رہا تھا کہ وہ ضرب لگا رہے ہیں کہ نہیں اور اگر ضرب لگا رہے ہیں تو کون سے لفظ کی لگا رہے ہیں حالانکہ اُن کے جو مرشد ہیں ابو انیس صوفی بر کت وہ ولی ہیں لیکن وہ ایسے ولی نہیں ہیں کہ تمہارے دل کی دھڑکنوں کو اللہ اللہ میں تبدیل کر دیں۔آج کے دور میں اگر کسی کے مرشد کے بارے میں اگر یہ بات بتا دیں کہ بھئی وہ ولی تو ہیں لیکن یہ ذکر قلب دینے کی طاقت اِن کے پاس نہیں ہے تو ناراض ہو جاتے ہیں کہ بھئی تم نے ایسی بات کہہ دی۔بات ایسی ہی ہے تبھی تو کہی ہے ۔تو لوگ کتابوں میں پڑھ کر کہ بھئی اسطرح گردن ہلا کے ذکر کرتے ہیں وہ اسطرح گردن ہلا کے ذکر کر رہے ہیں  لیکن اُن کو پتا ہی نہیں ہے کہ گردن کیوں ہلاتے ہیں؟

ققنس کا واقعہ:

آپ یقین کریں کہ میں نے سیدناگوھر شاہی سے ملنے سے پہلے کسی کو اللہ ھو کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔لوگوں کو پتا ہی نہیں تھااور جن لوگوں کو پتا تھا وہ ڈرتے تھے وہ کہتے تھے کہ ھو تو جلا دیتا ہےتو چیدہ چیدہ لوگوں سے یہ بات سنی کہ بھئی ھو تو جلا دیتا ہے پھر وہ پرندے والی بات انکے سامنے تھی کہ ایک درویش کو کسی پرندے نے اللہ ھو کرتے ہوئے دیکھاتو اس پرندےکو انگریزی میں فینکس اور اردومیں کہتے ہیں ققنس،کسی درویش کو اس نے اللہ ھو کرتے ہوئے سنا تو وہ بھی اللہ ھو کرنے لگ گیا اللہ ھو کی گرمی سے بچنے کے لئے اُس پرندے نے اپنے دائیں بائیں، آگے پیچھے درختوں کے پتے اور تنکے اٹھا کے رکھ لئے کہ آگ لگے گی تو اُن تنکوں کو لگے گی میں بچ جاؤں گا لیکن جب آگ لگی تو وہ تنکے بھی جل گئے اور پرندہ بھی جل گیا پھر وہ راکھ جو تھی وہ بھی اللہ ھو کرتی تھی اس راکھ سے پھر وہ پرندہ بنا اور پھر وہ پرندہ اللہ ھو کرتا ہے، پھر وہ جل جاتا ہے پھر وہ راکھ اللہ ھو کرتی ہے پھر وہ پرندہ االلہ ھو کرتا ہے تو اس سے جو ہےلوگ ڈرنے لگ گئے کہ اللہ ھو تو جلا لی ہے اس سے تو جل جاتے ہیں۔ سیدنا گوھر شاہی نے اس کو اپنی گفتگو میں بڑی جگہ دے کر فرمایا کہ اُس پرندے نے اللہ ھو تو سنا تھا ،بے شک اللہ ھو کی جو فطرت ہے وہ جلال ہے لیکن اس نے محمد الرسول اللہ نہیں سنا تھا ،بات تو یہ بھی حق ہے کہ محمد الرسول اللہ تو وہ پڑھتے تھے لیکن طاقت کسی مرشد کی ان کے شامل حال نہیں تھی جیسے کہ سرکار گوھر شاہی کی طاقت۔اب سرکار گوہر شاہی تو اپنےآپ کو چھپاتے ہیں کرم کر دیتے ہیں لیکن اسکا اظہار نہیں فرماتے سب کچھ عطا کر دیں گے آپ کو لیکن اسکا اظہار نہیں فرماتے۔یہ نہیں کہیں گے کبھی کہ ٹھیک ہے ہو جائے گا یہ فرمائیں گے کہ چلو اللہ کرم فرمائے گاآپ سمجھیں گے کہ شاید مجھےنظر انداز کر دیا ہے لیکن ایک دو گھنٹے بعدآپ کو پتا چلے گا کہ وہ تو کام ہو گیا،لیکن کہیں  گے نہیں یہ سیدنا گوھر شاہی کا مزاج مبارک ہے۔

آج کا مسلمان تصوف سے نابلد:

اب اس دور میں جیسے جیسے وہابیت کا زور بڑھ رہا ہے لوگ روحانیت سے دور جا رہے ہیں۔اب اس میں قصور کس کا ہے ،تصوف سے دور کیوں جا رہے ہیں؟کیونکہ ان کے پاس تصوف کی روح نہیں رہی ،جو صوفی ہیں انکے پاس تصوف کا فیض اور عرفان نہیں رہا لہذااب لوگ صوفیوں سے دور ہونے لگ گئےہیں۔اگر آج بھی لوگوں کے پاس تصوف ہوتا ان کے دل روشن ہوتے تو کبھی بھی صوفیوں کو چھوڑ کے لوگ شیعہ سنی وہابی نہ بنتے۔وہابیت کا فروغ ہوا ہی اس لئے ہے کہ آپ کے سینے خالی ہو گئے،آپ کے دلوں سے نور چلا گیا۔ہدایت تو یہی ہے سینے میں نور کا آجا نا شرح صدر ہو جانا ،یہی قرآن نے کہا ہے ۔صاف صاف قرآن مجید نے کہہ دیا ہے کہ بھئی صحیح اسلام یہ ہے کہ تیری شرح صدر ہو جائے اور تو اپنے رب کے نور کی طرف گامزن ہو جائے۔اور انکے اعمال غارت جائیں گے کہ جن کے دلوں میں اللہ کا نام سرائیت نہیں کرتا جب ہم یہ کہتے ہیں کہ

أَفَمَن شَرَحَ اللَّـهُ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ فَهُوَ عَلَىٰ نُورٍ مِّن رَّبِّهِ  فَوَيْلٌ لِّلْقَاسِيَةِ قُلُوبُهُم مِّن ذِكْرِ اللَّـهِ  أُولَـٰئِكَ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ
﴿سورۃ الزمر آیت نمبر 22
ترجمہ: جن لوگوں نے شرح صدر کر لی وہ اپنے رب کی طرف سے نورپر ہیں اورتباہی ہے ان کے لئے کہ جن کے دل اتنے سخت ہو گئے کہ اللہ کا ذکر ان کے دلوں میں سرائیت نہیں کرتا وہ کھلی گمراہی میں ہیں۔

تو ہم صرف اتنا ترجمہ کر دیتے ہیں کہ تباہی ہے ان کے لئے،کس چیز کی تباہی ہے ،تباہ تو نہیں ہوئے وہ،تباہی ہے ان کے لئے کہ جن کے دل اتنے سخت ہو گئے کہ اللہ کا ذکر ان کے دلوں میں سرائیت نہیں کرتا ،تباہی کس چیز کی ہے؟ وہ جو اعمال کر رہے ہیں نماز،روزہ،حج،زکوٰۃ کر رہے ہیں وہ اعمال تباہ ہوتے رہیں گے اگر دل میں اللہ کا نام نہیں اترا تو ورنہ اور کونسی تباہی،کہ تباہی ہے ان لوگوں کے لیئے کہ جنکے دل اللہ کے ذکر کےلئے سخت ہو گئے۔اب یہ جو دور ہے اس دور میں نہ تو لو گ قرآن مجید کو مانتےہیں،کہتے نہیں ہیں کہ ہم نہیں ماتنے لیکن قرآن میں صاف صا ف لکھا ہو اہے اسکے بعد بھی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں،ایمان کی تشریح قرآن سے جاننے کے بعد بھی ان کا من اُسکی طرف نہیں جا تا کہ کسی نا کسی طرح شرح صدر حاصل ہو جائے قلب میں نور آجائے،یہ تو لکھا ہوا ہے أَفَمَن شَرَحَ اللَّـهُ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِکہ اسلام پر عمل پیرا ہونے کےلئے،سچا مسلمان بننے کے لئے جس شخص نے شرح صدر کر لی اللہ کے نا م سے فَهُوَ عَلَىٰ نُورٍ مِّن رَّبِّهِ  وہ اپنے رب کی طرف سے نور پر گامزن ہو گا اور فَوَيْلٌ لِّلْقَاسِيَةِ قُلُوبُهُم مِّن ذِكْرِ اللَّـهِ اور جن لوگوں کے دل اتنے سخت کہ ان میں اللہ کا ذکر سرائیت نہیں کرتا ہے ان کے لئے تباہی ہے اور تباہی یہ ہے کہ سارے روزے ،نماز، حج سب آپ کے غارت جائیں گے ۔ وَأَنتُمْ لَا تَشْعُرُونَ اورآپ کو پتا بھی نہیں چلے گا آپ یہی سمجھتے رہیں گے کہ صبح صبح اٹھ کے فجر کی نماز پڑھنے جاتا ہوں میرے دل میں سچائی ہے تبھی تو جاتاہوں ،صبح صبح نیند کو خیر باد کہہ کے فجر کی نماز کے لئے جاتا ہوں تسبیح کرتا ہوں، زکوٰۃ دیتا ہوں،خیرات کرتا ہوں مدینے شریف کے چکر لگا لئے،مکہ ہو کےآ گیا حج کر لیا اور کیا چاہیے یہ ہدایت نہیں ہے تو کیا گمراہی ہے ،بھئی نماز بھی پڑھ رہا ہوں روزے بھی رکھ رہا ہوں زکوۃ بھی دے رہا ہوں تو وہ آدمی اپنے آپ کو گمراہ کب سمجھے گا لیکن اگر قرآن مجید ان کی سمجھ میں آجائے تو قرآن مجید میں تو یہ لکھا ہے کہ قلب کے اندر اگر اسم ذات سرائیت نہیں کرتا ہے تو یہ ایک ہی بات کافی ہےآپ کے گمراہ ہونے کے لئے، یہ اتنی کھلی گمراہی ہے  أُولَـٰئِكَ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ جن لوگوں کے دلوں میں اللہ کا نام سرائیت نہیں کرتا ہے ان لوگوں کے لیئے اللہ نے صاف صاف لکھ کے لگا دیا ہے کہ وہ کھلی گمراہی میں ہیں۔

کھلی گمراہی کیا ہوتی ہے ؟

کسی کو کافر قرار دینے کے لئے، گمراہ کر نے کے لئے شریعت نے بڑے پیمانے رکھے ہیں۔ یہ کیسے کرتا ہے،وہ کیسے کرتا ہے،فرشتوں پر ایمان ہے کہ نہیں ہے،انبیا پر ایمان ہے کہ نہیں ہے،چاروں کتابوں پر ایمان ہے کہ نہیں ہے ،بہت ساری چیزیں دیکھنے کے بعد پھر بڑی احتیاط سے فیصلہ کیا جاتا ہے کہ بھئی یہ کون ہے۔ لیکن قرآن نے کہا کہ اگر دل میں اسم ذات سرائیت نہیں کرتا ہے تو یہ ایک ہی بات کافی ہے اسکے گمراہ ہونے کے لئے دوسری بات دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے ۔لیکن اب مولوی یہ کیسے دیکھے گا کہ تیرے دل میں نور سرائیت کرتا ہے یا نہیں کرتا ہے؟ یہی وجہ ہے کہ دلوں میں نور کا ہونا یا نہ ہونا اسکا پیمانہ نہیں ہے اس کے پاس کہ وہ یہ اندازہ لگا لے کہ اُس کے دل میں نور گیا ہے اور اس کےدل میں نور نہیں گیا ہے۔اس مولوی کے اپنے دل میں نور نہیں ہے تو وہ تیرے دل میں نور ہے یا نہیں ہے اس کا وہ کیا اندازہ لگائے گا ۔اب یہ بڑی توجہ طلب آیتیں ہیں ،جیسے کہ ایک یہ آیت ہے ۔

وَلَا تُطِعْ مَنْ أَغْفَلْنَا قَلْبَهُ عَن ذِكْرِنَا وَاتَّبَعَ هَوَاهُ وَكَانَ أَمْرُهُ فُرُطًا
سورۃ الکھف آیت نمبر 28
ترجمہ:ایسے لوگوں کی پیروی مت کرنا جن کے دلوں کو اللہ نے اپنے نام سے غافل کر رکھا ہے۔

ہم نہیں کریں گے ایسے لوگوں کی پیروی لیکن ہم کو پتا کیسے چلے گا کہ فلاں آدمی اللہ کے ذکرسے غافل ہے،اب تو پیروی کسی کی کرنا مشکوک ہو گیا ،پہلے تو پتا کرو کہ اسکا قلب ذکر کرتا ہے یا غافل ہے ۔ان باتوں میں تو مولوی جو ہیں وہ آئیں بائیں شائیں کریں گے کیونکہ ان کے پاس یہ علم ہے ہی نہیں اور قرآن کے عالم ہیں سارا انکو علم آتا ہے قرآن کا لیکن یہ نہیں  پتا ان کو کیا کوئی عالم ہے طاہر القادری سمیت ایساکہ جو یہ بتا دے کہ فلاں آدمی کا دل اللہ اللہ نہیں کرتا،تو اب پیروی کریں یا نہ کریں یہ بات ہی کھٹائی میں پڑ گئی اب کس کی پیروی کریں گے جب آپ کو پتا ہی نہیں چلے گا تو کس کی پیروی کریں گے!!سیدنا امام مہدی گوھر شاہی کی نعلین مبارک پر کروڑوں اربوں سلام ،سرکار نے فرمایا کہ ہم تم کو کسوٹی دے رہے ہیں،آپ شیعہ بن جائیں ،سنی بن جائیں ،بریلوی بن جائیں ،کچھ بھی بن جائیں اگر آپ کو دعوی ٰ ہے کہ جی آپ بہت بڑے صوفی ہیں ،تو چلو بس اتنا سا بتا دو اپنے تصوف کی روشنی میں کہ جی فلاں آدمی کا دل ذکر کرتا ہے یا نہیں۔اور اگر تم طاہر القادری کے ماننے والے ہو تو چلو یہ بتاؤ کہ کیا طاہر القادری کا دل اللہ اللہ کرتا ہے ،اگر تم کو پتا ہے کہ کرتا ہے تو پیروی کرتے جاؤ لیکن تم کو اپنا نہیں پتا کہ تمہارا اپنا دل اللہ اللہ کرتا ہے کہ نہیں تو اب تو تمہارے لئے کسی کی بھی پیروی کرنااندھیرے میں چھلانگ لگانے والی بات ہو گئی کہ آپ کو پتا ہی نہیں۔
قرآن نے جو پیمانہ دیا ہے کسی کی پیروی کرنے کے لئے، کسی کی اطاعت کرنے کے لئےکہ کہیں اللہ نے اسکو اپنے ذکر سے غافل تو نہیں کر رکھا ۔کچھ لوگوں کو اللہ نے خود غفلت میں ڈالا ہوا ہے غفلت کا مطلب یہ ہےکہ اللہ نے خود اُن کے دل پر پردہ ڈالا ہوا ہے کہ اُن کے دل میں اللہ کا ذکر نہ جائے،اللہ کو پسند نہیں ہیں وہ لوگ۔یہاں پر یہی کہہ رہا ہے ،ایک وہ شخص ہے کہ جس کا دل اللہ کے ذکر سے غافل ہے اور ایک وہ ہے جس کے دل کو اللہ نے خود غفلت میں ڈالا ہوا ہے،جس کا دل غافل ہے وہ ہدایت پر آسکتا ہے لیکن جس کے دل کو اللہ نے غفلت میں ڈالا ہے وہ ہدایت پر نہیں آسکتا کیونکہ اللہ اس سے ناراض ہے یہاں پر اُسی کا ذکر ہےمَنْ أَغْفَلْنَا،جس کے قلب کو میں نےاپنے ذکرکی غفلت میں ڈالا، مسلمانوں کے پاس اسکا جواب ہی نہیں ہے ،ہاں اگر ہے تو مفہوم ہے اور مفہوم کو تبدیل کر دیں گے کہ جی اسکا یہ نہیں یہ مطلب ہے تم کو کیا پتا تم تو عالم ہی نہیں ہو ۔وَلَا تُطِعْ کا کوئی اور مطلب نکال لیں گے، غفلت کا کوئی اور مطلب نکال لیں گے ،اگر یہ اعمال سے غفلت مراد ہوتی تو آپ بتائیے کہ زانی ،شرابی، جواری، لفنگے ،لوفر ،بدمعاش کی پیروی کرنے کے لئے آپ کسی کے پاس جائیں گے۔ اگر ظاہری اعمال کی غفلت کی طرف اشارہ ہے یہ تو کیا آپ نے دیکھا ہے یہ کہ کسی لوفر لفنگے فاسق و فاجر کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دے دیں کہ جی میں آپ کے ہاتھ پر بیعت کرتا ہوں ،توظاہری اعمال کی طرف تو اشارہ نہیں ہوا ،یہ تو قلب کی طرف اشارہ ہے اور اللہ نے اپنی رضا بھی بتا دی کہ میں نے غفلت میں ڈالا ہے ۔ایک تو غفلت یہ ہو گئی کہ اپنے اعمال کی وجہ سے دنیا کی لالچ میں آکر پیسے کی ہوس کسی اور چیز کی ہوس کی وجہ سے وہ دنیا کی طرف لگ گیا،ہے رب والا لیکن لگا ہواہے دنیا میں ،وہ ایسی غفلت ہے جو آپ کے اعمال نےآپ کو ڈالا ہے جس میں لیکن اس غفلت کا کیا کریں گے جس میں اللہ نے آپ کو ڈالا ہے ۔اسکا مطلب صرف وہ غفلت نہیں ہے جس کو ہم اُردو میں سمجھتے ہیں ،غفلت کا مطلب جو اُردو میں لیا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ غافل ہیں ہم، یہ اُردو میں غفلت کا مطلب ہے ،لیکن عربی میں سریانی میں اسکا مطلب ”پردہ“ ہےمَنْ أَغْفَلْنَا قَلْبَهُ کہ اسکے قلب کے اوپر ہم نے غلاف ڈالے ہوئے ہیں ،اب جب اللہ نے غلاف ڈالے ہوئے ہیں کسی کے قلب پر تو اس میں اسم ذات تو داخل نہیں ہو سکتا۔

سیدنا گوھر شاہی کا تصرف :

اب آجائیے سرکار گوھر شاہی کی طاقت کی طرف ،سرکار گوھر شاہی نے ان غلافوں کو بھی اپنی نظر کیمیا سے جلا کر خاکستر کردیا جو اللہ نے کسی کے قلب پر ڈالے تھے کہ اسکا ذکر جاری نہ ہو،یہ طاقت ہے سیدنا گوھر شاہی کی ۔اب آپ کہہ رہے ہیں کہ ان کا ذکر نہ کریں ،ان کی بات نہ کریں تو سب بیکار ہے۔ اگر سرکار گوھر شاہی کا نام نہ لیں ،انکا ذکر نہ کریں تو یہ روحانیت، یہ محفل سب بے کار ہے ،یعنی اگر ہمیں یہ لالچ نہ ہو کہ یہ تعلیم بیان کرنے سے سیدناگوھر شاہی کا نام دنیا میں پھیلے گا تو ہم یہ کام ہی نہ کریں ۔ہم تو یہ پھیلا ہی اسی لئے رہے ہیں کہ دنیا گوھر شاہی کو جانے یہ ہماری نیت ہمارا ارادہ ہے جسکو ہم مشتہر کر رہے ہیں یعنی عمداً قصداً اس تعلیم کا جو فروغ ہے وہ اس لئے ہے کہ دنیا گوھر شاہی کو پہچانے اگر گوھر شاہی نا م ہی نہیں لینا تو پھر ایسی روحانیت کو چولہے میں ڈال دو ،ایسی شہرت کو چولہے میں ڈال دو ،ایسی شہرت کا کیاکرنا ہے ۔ہم بڑی جماعت بنانے کے لئے نہیں بیٹھے ۔

”ہم اس چہرہ مبارک کو روشناس کرنے کے لئے بیٹھے ہیں کہ جس چہرہ سے پوری انسانیت کا مستقبل وابستہ ہے ،کل اگر پناہ ملے گی کسی کو تو اسی چہرہ کی بدولت ملے گی ،یہی چہرہ گوھر شاہی اسکا پروردگار ہو گا ،اسکا بچانے والا ہو گا۔اسکی تمام حاجتوں کو روا کرنے والا ہو گا“

یہ تعلیم آئی سرکار گوھر شاہی کی طرف سے ہے اس تعلیم کے آنے کے بعد قرآن تو اب یسرنا القرآن لگتا ہے ،تو سرکار کی نسبت سے پہلے قرآن سمجھ میں نہیں آتا تھا بس غلاف پکڑ کے چوم کے رکھ دیتے تھے کہ یہ کیا ہے یار پتا نہیں کیا لکھا ہوا ہے ،اور جب سرکار نے اپنے قدموں میں جگہ دے دی تو پھرسمجھ میں آ گیا اسکی یہ تشریح ہے جو مولویوں نے بیان کیا ہے وہ غلط ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اگر امام مہدی کی بات نہ کریں تو لوگ یہاں آجائیںگے ان لوگوں کو سرکار گوھرشاہی سے چڑ کیا ہے ،بات تو یہ پوچھنی ہے کہ سرکار گوھر شاہی سے چڑ ہے یا مرتبہ مہدی سے چڑ ہے ،یا آپ یہ کہناچاہ رہے ہیں کہ امام مہدی نے نہیں آنا بس تم جو سیدھی سیدھی بات ہے وہ کرو ۔امام مہدی نے آنا ہے یا نہیں آنا اپنا عقیدہ بتا دو ،کیا دنیا میں کوئی ایسا آیا ہے کہ جس کی یہ تعلیم ہو،یہ تعلیم پہلے کیوں نہیں آئی کیونکہ مہدی پہلے نہیں آیا یہ تعلیم اسلئے پہلے نہیں آئی ۔
لوگوں نے جب پوچھا نا حضور ﷺ سے کہ اس ذات کے بارے میں بتائیں جس نے آنا ہے آخر میں تو اللہ تعالی نے صرف ایک ہی جواب دیا پہلے تو انہوں نے یہ کہاکہ کوئی نشانی بھیجیں اسکی یا کوئی فرشتہ بھیجیں جو آکر بتائے ہمیں کہ اسنے آنا ہے ۔اللہ تعالی نے فرمایا کہ ایسی باتیں نہیں کرو کہ نشانی بھیجیں ،جب ہم نے نشانیاں بھیج دیں اسکی تو تم مانو گے نہیں ،ابھی کہہ رہے ہو کہ نشانی بھیجو اور جب ہم نے وہ نشانیاں بھیج دیں ان کا اظہار ہو گیا تو الٹے پاؤں لوٹ جاؤگے تم،اور دیکھو وہی ہو رہا ہے ۔چاند میں تصویر صاف نظررہی ہے ،سورج پہ بھی تصویر ہے ،نیبولہ سٹار پہ بھی تصویر ہے ،حجر اسود پہ بھی تصویر ہے ، حجر اسو د کا فوٹو اتنی دور سے سامنے رکھ کے دیکھو کہ حجر اسود نظر آئے جتنی دور سے حجر اسود نظرآتا ہے اتنی ہی دور سے تصویر نظر آئے گی آپ کو دور بین کی ضرورت نہیں ہے بلکہ جتنی دور ہو گی اتنی زیادہ واضح نظر آئے گی۔

وَيَقُولُونَ لَوْلَا أُنزِلَ عَلَيْهِ آيَةٌ مِّن رَّبِّهِ  فَقُلْ إِنَّمَا الْغَيْبُ لِلَّـهِ فَانتَظِرُوا إِنِّي مَعَكُم مِّنَ الْمُنتَظِرِينَ
سورۃ یونس آیت نمبر 20

لیکن آج کا مسلمان الا ماشااللہ،ایسے بھی مسلمان ہیں کہ جن کو رب نے توفیق دی ہے کہ وہ حق کو پہچان پائیں اور اگر پہچان نہ بھی پائیں تو توفیق ایک ایسی چیز ہے کہ جس کی وجہ سے وہ حق کے آگے سر نگوں ہو جاتے ہیں۔ سارے جھوٹے نہیں ہیں، سارے دغا باز نہیں ہیں لیکن اکثریت ایسی ہے کہ جو چاند میں، حجر اسود میں تصویر دیکھ کے سرکار گوھرشاہی کی تعلیم ملاحظہ فرما کر جھٹلا دیتے ہیں ،اسکو کہتے ہیں کذب ،اورقرآن مجید نے کہا ہے لعنت اللہ علی الکاذبین،انہوں نے کاذب کا مطلب جھوٹا کر دیا ،اللہ نے خود ابراہیم ؑ سے جھوٹ بلوایا اگر جھوٹوں پر لعنت ہوتی تو کیا اللہ خود ہی جھوٹ بلوا کے خود ہی لعنت بھیجتاان پر ۔یوسف سے بھی اللہ نے کہا کہ تم یہ کہہ دینا، تھا نہیں ایسا لیکن اللہ نے کہا کہ تم یہ کہہ دینا جس طرح اللہ نے کہنے کو کہا حقیقتا ایسا تھا نہیں لیکن اللہ نے کہاکہ تم ایسا کہہ دینا تو انہوں نے ایسا کہا اور بات بن گئی،اب آپ اس کو غلط بیانی سے تعبیر کر لیں ،غلط بیانی کو ہی تو جھوٹ کہتے ہیں ،اور پھر حضور نے بھی کہہ دیا کہ جھوٹا میرا امتی نہیں ہو سکتا یہ ترجمہ ہے جو میں بتا رہا ہوں ،حالانکہ حدیث میں جھوٹا نہیں ہے کاذب ہے ۔کاذب کا مطلب یہ ہے کہ جو حق کا مشاہدہ کر لے پھر بھی نہ مانے ، بہت سے لوگوں کو دیکھا ،چاند سورج حجر اسود یہ جو اللہ کی نشانیاں ہیں،بہت سے لوگ تو خاموش ہو جاتے ہیں ،بہت سے لوگ مان لیتے ہیں لیکن مسلمانوں کی ایک اکثریت ایسی ہے جو تمسخر اُڑاتے ہیں اس بات کا بلکہ دشنام طرازی پر اُترآتے ہیں اب کوئی اندر ان کے پل رہا ہے شیطان جو اللہ کی طرف سے ظاہر کردہ ان نشانیوں کو ماننے میں مانع ہے ۔یعنی ایک ان کے اندرمزاحمت شیطان نے پیدا کر دی ہے کہ گوھر شاہی کی طرف سے کوئی چیزآئے تو نہیں ماننا ۔میں نے خود دیکھا کہ جب تعلیم بتائی لوگوں کو تو بڑی پسند آئی لیکن جیسے ہی یہ بتایا کہ یہ تعلیم سرکار گوھر شاہی کی ہے توبدک گئے ،پاکستان میں سرکار کا نام سنیں گے تو ،یہ کیسی نفرت ہے کیسا جھوٹ ہے کیسا کذب ہے یہ ،یہ بتا رہا ہے کہ تم لعنتی لوگ ہو،تمہارا رب سے تعلق نہیں ہے ،تم ازلی جہنمی ہو ،اگر تمہارا رب سے تعلق بننا ہوتا تو پھر رب تمہارے دلوں میں سرکار گوھر شاہی کی عظمت کھول دیتا ۔اگر رب چاہتا کہ تم کو ہدایت ملے تو پھر رب تم کو سرکار گوھر شاہی کے قدموں میں جھکا دیتا ،اور جنکو چاہا ہے کہ ہدایت ملے جس جس کو چاہا ہے کہ ہدایت ملے اللہ کی عزت کی قسم! اللہ نے اسکو سرکار گوھر شاہی کے قدموں میں جھکا دیا ،جو جھکا وہ عظیم ہو گیا ۔
آج کے اس دور میں جہاں پر ہم شیعہ ،سنی، وہابی، دیوبندی ،کی صدائیں سنتے ہیں ،جہاں ہم یہ سنتے ہیں کہ اسکو مار دیا اسکو مار دیا اسکا سر قلم کر دیا اسکے بازو کاٹ دیے اسکو زندہ جلا دیا ۔نا تو کوئی اس میں اسلام کی بات ہے یہ تو سراسر شیطانیت ہے ،یہ تو سراسر دنگا فساد ہے یہ تو سراسر فتنہ ہے ۔اور آج اس فتنے کو لوگ اسلام کا نام دے رہے ہیں۔ اقوام عالم کو یہ سوچنا ہو گا خاص طور پہ ویسٹرن لوگوں کو کہ امریکہ میں اور کینیڈا میں بیٹھ کر تو تم مولانا رومی کے قصے بڑے پڑھتے ہو بلکہ جو نیو ایج والے لوگ ہیں انہوں نے مولانا رومی کو اپنا مرشد سمجھا ہوا ہے کہ جو انہوں نے محبت کا فلسفہ بیان کیا ہے روحانیت کا فلسفہ بیا ن کیا ہے اسکے شیدائی ہیں ،یاد رکھو وہ بھی مسلمان تھا اگر اسلام فتنہ پرور مذہب ہے تو مولانا رومی کو کیوں مانتے ہو ؟وہ تو صحیح آدمی تھا ،کتنے بڑے بڑے بزرگ گزرے ہیں ،عبدالقادر جیلانی جیسے ،طاؤس کے اندر ایک قبرہے ایک گورے مرشدسیموئل کی ،اسکی قبر پہ کتبہ بھی لکھا ہوا ہے ،The sun will rise from the west لاما فاؤنڈیشن کا جو ریٹریٹ ہے ، وہاں پہ ایک گورے کی قبر ہے وہاں یہ لکھا ہوا ہے ، ان لوگوں نے بھی مسلم صوفیوں سے ہی فیض حاصل کیا ہے ۔اور مسلم صوفیوں نے ہی اس دنیا میں امن کو قائم کیا ہے ۔

دہشت گردی کا علاج تصوف اختیار کرنے میں ہے:

تو اسکا مطلب یہ ہے کہ یہ صوفی ازم کوئی ایسا اینٹی ڈوٹ نہیں ہے کہ جن لوگوں کے ہاتھوں میں تلواریں ہیں ،یا گنز ہیں تو ان سے گنز چھین لے گا اور ایسے امن قائم ہو گا ۔نہیں ہر گز ایسا نہیں ہے۔ اگر آپ دہشت گر د ہیں تو اس کا مطلب ہے آپ دماغی طور پر منتشر ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ قلب میں بھی فشار ہے۔قلب میں بیماری ہے جس کی وجہ سے دل اور دماغ کرپٹ ہوگیا ہے ۔ ایسے انسان کو درست کرنے کے لئے سب سے پہلے اُس کے قلب کو جاری کرنا ہو گا اور جب قلب جاری اور منور ہو جائے گا تو وہ کسی معصوم انسان کی جان نہیں لے گاکیونکہ معصوم کا قتل رب کوبھی پسند نہیں ہے بھلے آپ کا مذہب کوئی بھی ہو ۔تو انسان کے قلب میں ڈسڑبنس ہے ،کرپشن اسکے دل میں ہے دماغ بعد میں کرپٹ ہوتا ہے دل پہلے کرپٹ ہوتا ہے ۔تو جب دل میں کرپشن موجود ہے تو اس دل سے کرپشن کو دور کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ اس دل کو کھولا جائے اور وہ دل کا کھولناانسانی کوشش سے نہیں ہوتا،بلکہ مرشد کامل کے پاس وہ طاقت ہوتی ہے کہ وہ اُس کے قلب کواسم اللہ سے زندہ و منور کر دیتا ہے۔اسطرح صوفی ازم سےامن قائم ہوتا ہے کہ جب نور کے ذریعے انسان کا قلب کرپشن سے چھٹکارا حاصل کر لیتا ہے ۔قلب اورد ماغ کا ربظ قائم ہوجاتا ہے۔جو دل میں ہے وہی دماغ میں جائے گا تو لوگوں میں فتنہ فساد نہیں کرے گاایساآدمی قتل و غارت نہیں کرے گا۔محمد الرسول اللہ نے بھی کہا ہے

اے بنی آدم ! تیرے جسم میں گوشت کا ایک لوتھڑا ایسا ہے جس کی اصلاح ہو جائے توپورے جسم کی اصلاح ہو جاتی ہے ، یاد رکھ وہ تیرا قلب ہے ۔

یہاں تک کہ جو شیطان لطیفہ نفس کی صورت میں آپ کے اندر بیٹھا ہوا ہے وہ بھی ایسے نہیں جائے گا کہ آپ ڈنڈا ماریں اور وہ نکل کے بھاگ جائے گا ،وہ بھی تبھی جائے گا جب یہ دل منور ہو گا جسطرح ایک دفعہ میں نے سیدنا گوھر شاہی کی بارگاہ میں عرض کیا کہ یہ وسوسوں کا علاج کیا ہے ؟ فرمایا کہ ابھی فی الحال تو یہی ہے کہ جو خیال آئےاسکو جھٹک دو،توجہ نہ دو لیکن اسکا مستقل علاج قلب کے منور ہونے میں ہے۔ جب قلب میں اتنا نور آگیا کہ پورا قلب نور سے بھر گیا تو وہ جو خناس ہے ہاتھی کی شکل میں ہوتا ہے وہ مرتا نہیں ہے نور کی تپش سے وہ جگہ چھوڑ کے بھاگ جاتا ہے اور اگر کوئی ابھی بھی یہ کہتا ہے کہ مجھے وسوسے آرہے ہیں تو اسکا مطلب ہے اس میں قلب کمزور ہے نور ہی نہیں ہے۔وسوسوں سے چھٹکارا حاصل کرنا ہے تو قلب کو مضبوط کرنا پڑے گا،اب قلب ذکر اللہ سے نہیں ہوتا مضبوط ،قلب اسوقت مضبوط ہوتا ہے جب مرشد کی نظروں میں آجائے،مرشد کی نظر اسکے اوپر پڑنا شروع ہوجائے۔تودہشت گردی سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے یہ دیکھنا پڑے گا کہ یہ جو لوگ دہشت گرد بنے ہوئے ہیں اُن میں کتنے لوگ ازلی جہنمی ہیں اور کوئی ایسا بھی ہے جو ازلی جہنمی نہ ہونے کو باوجود اُن میں پھنس گیا ہے تو جو اُن میں پھنس گیا ہے اسکو نکالا جا سکتا ہے لیکن جو ازلی جہنمی ہیں وہ تو دہشت گردی ہی کریں گے۔ایک عیسیٰ کی مشہورکہاوت ہے One who lives by the sword he dies by the sword. توان لوگوں کو دیکھ لیں آپ کیسے کتے کی موت مر رہے ہیں یہ بھی۔
قرآن کی یہ جو باتیں ہیں ان پر میں یہ چاہوں گا کہ لوگ غور فرمائیں ہم سب یہ جانتے ہیں کہ ایک اللہ،ایک رسول،ایک کعبہ،ایک مدینہ اور ایک قرآن ہونے کے باوجود کوئی وہابی ہے، کوئی سنی ہے،یہاں پر پہلے ہم ذرا غور کر لیں کہ کیا سنیوں نے قرآن کو ویسے ہی سمجھا ہے جیسا شیعہ نے سمجھا،وہابیوں نے قرآن کو ویسا ہی سمجھا جیسا سنیوں اور شیعوں نے سمجھا ،اب مسئلہ یہ کہ قرآن شریف کواپنے حساب سے سمجھ کر اسکا مفہوم بیان کرتے ہیں۔اسی قرآن مجید کو سمجھ کرہی کوئی شیعہ بن گیا، کوئی سنی بن گیا، کوئی وہابی بن گیا ،کوئی دیوبندی بن گیا،بریلویوں کے بارے میں بات کرلیں تو وہ قرآن مجید کے بارے میں کہتے ہیں کہ پورا قرآم حضور کی نعت شریف ہےاور اگر وہابیوں سے سنیں تو وہ کہتے ہیں کہ حضور کا نام چومنا بھی بدعت ہے اور وہ اسی قرآن سے نکال کر کہتے ہیں کہ جی بس حضورؐ میں او ر عام آدمی میں اتنا فرق ہے کہ اُن پر وحی آتی تھی ہم پہ وحی نہیں آتی ۔
قرآن مجید کو سمجھنا آج عالم اسلام کے لئے ایک معمہ بن گیا ہے ۔کیا کوئی مسلمان یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ ہاں مسلمانوں نے قرآن کو صحیح سمجھا ہے؟اگر کوئی دعوی ٰکرے گا تو کوئی ایک فرقہ کرے گا اپنے لئے ۔جیسے وہابی کہیں گے کہ ہم نے صحیح سمجھا ہے ،سنی کہیں گے کہ ہم نے صحیح سمجھا ہے اگر وہ یہ نہیں کہیں گے تو پھر سنی نہیں ہوتے وہ ،شیعہ کہے گا نہیں ہم نے قرآن کو صحیح سمجھا ہے۔اب یہ اتنے سارے جو دعوے دار بن گئے ہیں قرآن کو صحیح سمجھنے والے اگر انہوں نے واقعی قرآن کو صحیح سمجھا ہے تو پھر شیعہ شیعہ کیوں ہے؟ سنی سنی کیوں ہے؟وہابی وہابی کیوں ہے؟بریلوی بریلوی کیوں ہے ؟ تو جو قوم قرآن مجید کو صحیح نہیں سمجھ سکی وہ حدیث کو کیا سمجھے گی۔باالفاظ دیگر آج کے دور میں مسلمان وہ صلاحیت کھو چکا ہے کہ جس کی بناء پر وہ قرآن شریف سے صراط مستقیم حاصل کر سکےاور اگر مسلمان یہ کہتے ہیں کہ انہوں نے صراط مستقیم حاصل کرلی ہے تو کونسا مسلمان کہتا ہے،شیعہ ،وہابی تو اسکو کافر کہتا ہے۔دونوں نے اگر صراط مستقیم حاصل کر لی ہے تو ایک دوسرے کو کافر کیوں کہتے ہیں۔
آج پاکستان میں دیکھیں صوفیوں کا قتل عام ہو رہا ہے اور شیعوں کا قتل عام ہو رہا ہے۔اب اگر یہ صوفیوں اور شیعہ کو مسلمان سمجھتے تو کافر نہیں کہتے اور نہ اُن کو قتل کرتے۔آئے دن دیکھیں آپ خاص طور پر کوئٹہ کا جو علاقہ ہے وہاں پر کتنے نہتے معصوم شیعہ ان کو بڑے بہیمانہ طور پر اُن کی امام بارگاہوں میں بم بلاسٹ کیا جاتا ہے اُن کو قتل کیا جاتا ہے تو کیا ہم ان لوگوں کے بارے میں یہ گمان کرلیں کہ یہ جو قتل کرنے والے ہیں مسلمانوں کو مسجدوں میں جس کو ہم اللہ کا گھر کہتے ہیں جہاں قرآن شریف بھی رکھا ہوتا ہے اسکی بھی بے حرمتی ہوتی ہے اور جو نمازی نماز پڑھ رہے ہوتے ہیں وہ بھی جاں بحق ہوتے ہیں تو کیا انہوں نے قرآن کو پڑھ کے صراط مستقیم حاصل کرلیا ہے۔مانیں یا نہ مانیں لیکن حالات و واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ آج کا مسلمان قرآن مجید سے صراط مستقیم حاصل کرنے میں ناکام ہے اگر کامیاب ہیں تو دلیل دے دو،کون ہے کامیاب؟چور کبھی تھوڑی کہتا ہے کہ میں چور ہوں نہ پاگل کہتا ہے کہ میں پاگل ہوں ،کسی پاگل کو سائیکاٹرسٹ کے پاس لے جانا جوئے شیر لاناہے اسکو لے کر جا ہی نہیں سکتے آپ کہے گا کہ کیا میں پاگل ہوں جو جاؤں۔ وہاں پہ اگر کہہ دیا کہ ہاں جی آپ پاگل ہیں تو وہ پھر آپ ہی کو پاگل کر دے گا اسی طرح کوئی بھی فرقہ یہ کہنے کو تیار نہیں کہ میں راہ راست پر نہیں ہوں ہر فرقہ قرآن شریف کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کر رہا ہے اور قرآن کو ماننے والوں میں بوہری بھی ہیں اسماعیلی بھی ہیں اور شیعہ بھی ہیں اب صرف شیعہ ہی لے لیں ویسے تو امت میں بہتر تہتر فرقے ہو چکے ہیں لیکن صرف شیعہ کے 32 فرقے ہیں اب ان ۳۲ میں کس نے قرآن کو صحیح سمجھا ہے اور سب مولا علی کو مانتے ہی ،مولا علی کو بھی مانتے ہیں اور پھر بھی 32 فرقے ہو گئے معلوم یہ ہوا کہ نہ مولا علی کو سمجھے نہ مولا علی کی تعلیم کو سمجھے اور نہ ہی قرآن کو سمجھے۔

امت مسلمہ کے لئے ایک فکر:

اب میرا سوال یہ ہے کہ جب مسلمان قوم قرآن شریف سے صحیح راستہ تلاش کرنے میں ناکام رہے ہیں تو امام مہدی کو قرآن کی روشنی میں کیسے پہچانیں گے ؟ اسی دور کے لئے اللہ کا فرمان قرآن میں آیا تھا کہ

سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنفُسِهِمْ حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ 
سورۃ فصلت آیت نمبر 53
ترجمہ:ہم دکھائیں گے ان لوگوں کو اپنی نشانیاں آسمانوں اور اُن کی ہستیوں میں حتیٰ کے تم کہہ اٹھو گے کہ یہی حق ہے ۔

سَنُرِيهِمْدکھائیں گے ان لوگوں کو آيَاتِنَا ہم اپنی نشانیاں فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنفُسِهِمْ آسمانوں میں اور ان کی زندگیوں میں ان کی ہستیوں میں، کب تک دکھائیں گےحَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ اسوقت تک دکھائیں گےجب تک یہ حق روز روشن کی طرح ان پرآشکارا نہ ہو جائے،کب تک جب تک وہ حق کو پوری طریقےسے پہچان نہ لیں ۔اللہ اپنی نشانیاں دکھاتا رہے گا۔سیدنا گوھر شاہی سے کسی نے پوچھا بھری محفل میں ،ہزاروں لوگوں کے مجمع میں کہ سنا ہے کہ آپ نے چاند میں اپنی تصویر کا دعویٰ کیاہے تو آپ نے فرمایا کہ نہیں میں نےتو نہیں کیا یہ دعویٰ ،یہ تو اللہ کی طرف سے ہواہےدعویٰ،اور قرآن بھی یہی کہتا ہے آيَاتِنَا میری نشانی ہے،یہ نشانیاں جو چاند سورج پر ہیں یہ سرکار گوھر شاہی کی نشانیاں نہیں ہیں یہ اللہ کی نشانی ہے اور سرکار نے فرمایا کہ میں اسکی تائید کرتا ہوں اور تم کو بھی دعوت دیتا ہوںکہ تحقیق کرو۔
اب اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ آج کے مسلمان کے پاس یہ صلاحیت نہیں ہے،وہ روحانی شعور نہیں رہا کہ وہ قرآن مجید سے صراط مستقیم حاصل کر لے تو پھر تم شیعہ کیوں ہو؟ سنی کیوں ہو؟ بریلوی کیوں ہو ،وہابی کیوں ہو؟امتی کیوں نہیں ہو ؟ کیوں کہ تمہارے پاس اتنا شعورہی نہیں رہا کہ قرآن شریف سے صراط مستقیم تلاش کر لو۔اور پھر ایسی حالت میں کہ جب قرآن یہ فرماتا ہو کہ بہت سوں کو میں گمراہ کر دوں گا اور بہت سوں کو ہدایت دوں گا۔جو تصوف کی تعلیم کو ماننے کا اقرار کرے اور حاصل نہ کرے وہ فاسق ہے ۔جو حق کو ماننے کا اقرار کرے لیکن حاصل نہ کرے وہ بھی فاسق ہے اور جو پھر اللہ کی نشانیوں پر اور منجانب اللہ بھیجے گئے امام مہدی پر انگلیاں اٹھائے ،اعتراض بھی کرے اور اسکو پایہ تکمیل تک نہ پہنچائے مشتہر نہ کرے ،اگر کوئی کہتا ہے کہ میں سیدنا گوھر شاہی کوامام مہدی نہیں مانتا تو وہ ثابت کرے اور اس کے دلائل بھی ہمراہ لائے۔ہم اگر سیدنا گوھر شاہی کو امام مہدی کہتے تو ثابت بھی کرتے ہیں۔ تم اگر سچے ہو تو تم بھی ثابت کرو۔یہ جو تعلیم ہے یہ بتا رہی ہے کہ امام مہدی آگئے ہیں۔اگر قرآن شریف سے مسلمانوں کو ہدایت مل جاتی تو وہ شیعہ سنی وہابی نہ ہوتے ،کیونکہ وہابی بھی یہی دعوی ٰکر رہا ہے کہ اُسے قرآن سے ہدایت ملی ہے شیعہ بھی یہی کہتا ہے ،سب کو ہدایت ملی ہے تو سب الگ الگ کیوں ہیں؟شیعہ شیعہ کیوں ہے؟وہابی وہابی کیوں ہے؟بریلوی بریلوی کیوں ہے؟معلوم یہ ہوا کہ آپ کے پاس قرآن کا اصل مفہوم نہیں ہے آپ اس میں اپنے ہی بنائے ہوئے،اپنی ہی دی ہوئی رائے میں غلطاں ہیں۔آپ خود دیکھیں کہ قرآن شریف سےآپ کوصراط مستقیم حاصل نہیں ہو رہا تو قرآن شریف سے امام مہدی کوآپ کیا پہچانیں گے!!

متعلقہ پوسٹس

دوست کے سا تھ شئیر کریں