کیٹیگری: مضامین

سیدنا امام مہدی گوھر شاہی نے اپنی کتاب مقدس ”دین الہی “ میں امام مہدی کی دوبارہ آمد کے بارے میں فرمایا ہے کہ

”اگر کوئی ساری عمر عبادت کرتا رہے ، لیکن آخر میں امام مہدی اور حضرت عیسیٰ کی مخالفت کر بیٹھا جن کو دنیا میں دوبارہ آنا ہے (عیسیٰ کا جسم سمیت اور مہدی کا ارضی ارواح کے ذریعے آنا ہے ) تو وہ بلیعم باعور کی طرح دوزخی اور ابلیس کی طرح مردود ہے ۔اگر کوئی ساری عمر کتوں جیسی زندگی بسر کرتا رہا لیکن آخر میں اُنکا ساتھ اور اُن سے محبت کر بیٹھا تو وہ کتے سے قطمیر بن کر جنت میں جائیگا۔“

اب لوگ اس حقیقت سے تو آشنا ہے کہ سیدنا گوھر شاہی منجانب اللہ امام مہدی ہیں اور آپ نے غیبت اختیار کی ہے اور دوبارہ اپنی شان و شوکت کے ساتھ واپس آنا ہے ۔سیدنا گوھر شاہی کی اس تحریر سے یہ تو طے ہےکہ آپ نے دوبارہ آناہے اوردین الہی میں لکھا ہوا ہے کہ ارضی ارواح کے ذریعے آنا ہے۔ اب ارضی ارواح کے ذریعے جو آنا ہے ارضی ارواح تو جسم کی ہوتی ہیں جو جسم کی تشکیل میں مدد گار ہوتی ہیں۔سماوی ارواح کے ذریعے نہیں آناہے کیونکہ وہ صرف ایک ہی جسم کے لئے مخصوص ہوتی ہیں بلکہ ارضی ارواح کے ذریعے آنا ہے۔آپ اپنی کتاب میں یہ بھی لکھ سکتے تھےکہ ”جسم کے ذریعے آنا ہے“ لیکن آپ نے یہ نہیں لکھا ۔اگر آپ یہ لکھ دیتے کہ جسم کے ذریعے آنا ہے تو پھرہو سکتا ہے کہ لوگ کہتے کہ جو کوٹری حیدرآبادمیں تھا اس جسم کے ذریعےدوبارہ آنا ہے ۔تو اب یہ اس لیئے نہیں کہا کہ جو کوٹری میں آپ نے دیکھا ہو سکتا ہے کہ وہ جسم ہی نہ ہو کیونکہ آپ نے اپنی کتاب ”روحانی سفر “ میں لکھا ہے کہ لال باغ میں کسی کو دم کیا تو جنات آگئے اور جنات کی فوج نے حملہ کر دیا توسیدنا گوھر شاہی نے فرمایا کہ میرا ایک جسّہ نکل کر کے ان کے اوپر حملہ آورہوا اور وہ جو جسّہ ہے میرا وہ اڑتا ہوا ان کے پیچھے گیا اور ان کو مارااور پھر بعد میں میرے ان ہی جسّوں نے دنیا میں مشن کا کام کیا ۔پھر اسکے علاوہ دین الہی میں سرکار نے یہ بھی لکھا ہے کہ پچیس سال کی عمر میں جسّہ گوہر شاہی کو باطنی لشکروں کا سپہ سالار نامزد کیا گیا اب وہ جو پچیس سال کی تصویر ہے وہ بھی لگادی سرکار نے اور اس کو جسّہ قرار دیا ہے ۔جب ان باتوں میں انجمن سرفروشان اسلام (سابقہ تنظیم ) والوں نے ردّوبدل کر دیا تو پھر اب آپ کو کہاں ہدایت ملے گی ۔لوگ غلط فہمی کاشکار نا ہوں لہذا لفظ جسم استعمال نہیں کیا کیونکہ جس وجود کے ساتھ آپ کوٹری حیدرآباد میں بیٹھتے رہے ہیں ،صحبت کی جس وجود کے ساتھ، لوگ اس کو جسم سمجھتے ہیں اس لئے جسم نہیں کہا ۔۔لہذا دین الہی میں یہ رقم فرمایا کہ ارضی ارواح کے ذریعےدوبارہ آنا ہے سے مراد ہے کہ ّاس جسم مبارک سےآنا ہے جس میں محمد ﷺ کی ارضی ارواح موجود ہیں ۔

ارضی ارواح کیا ہیں؟

ارضی ارواح تین قسم کی ہیں
جمادی روح۔۔۔۔نباتی روح۔۔۔۔ حیوانی روح
جب رحمِ مادر میں نطفہ پڑتا ہے تو اس میں جمود قائم کرنے یا اُس نطفے کو جمانے کے لیے روح جمادی ڈالی جاتی ہے، پھر اس کی نشو ونما کے لیے کچھ عرصے کے بعد روح نباتی ڈالی جاتی ہے، چھہ ماہ کے بعد اُس میں حیوانی روح ڈالی جاتی ہے جس سے شکل و صورت بن جاتی ہے، یہ تین ارضی ارواح جسم کو زندہ رکھتی ہیں۔ان ارضی ارواح کا تعلق جسم کو بنانے سے ہے۔ یوم محشر یاحساب کتاب سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔جب کسی آدمی کو موت واقع ہو جاتی ہے تو فرشتے اُس کی ارضی ارواح نکال کر رکھ لیتے ہیں۔ اور جب کوئی نیانطفہ پڑتا ہے تو اللہ کے حکم سے ان ارضی ارواح کو کسی بھی بچہ کو بنانے کے لیے استعمال کر لیا جاتا ہے،لہذا یہ ارضی ارواح ایک جسم سے دوسرے جسم میں منتقل ہوتی رہتی ہیں، پاکیزہ لوگوں کی ارضی ارواح پاکیزہ لوگوں میں منتقل ہوتی رہتی ہیں، مثلاً کوئی متقی تھا پاکیزہ تھا جب وہ مر گیا تو اُس کی ارضی ارواح کو رکھ لیا اور جب کسی اور متقی نے پیدا ہونا ہے تو اس کے لیے وہ پاکیزہ روحیں استعمال کی جاتی ہیں، لیکن حضور پاک کی ارضی ارواح کو امام مہدی علیہ السلام کے لیے روک لیا گیا۔
جس طرح عربستان میں حضورﷺ کے جسم سے فیض ہوا،جسم سے فیض ہوا تو اِسلام بنا، جس طرح حضور ﷺکے قلب سے فیض ہوا تو ولائیت بنی، روح سے فیض ہوا تو شریعتِ احمدی بنی،محمدﷺ کی ارضی ارواح کا ایک رُخ یہ بھی ہے کہ اُن کو وجود ِامام مہدی علیہ السلام کو بنانے میں استعمال کیا گیا، لہذا امام مہدی علیہ اسلام کو دیکھنا جزوی طور پر حضور پاک کو دیکھنا ہے،امام مہدی علیہ السلام سے ملنا جزوی طور پرحضور پاک سے ملنا ہے،لہذا اِسی طرح امام مہدی علیہ اسلام کی بارگاہ میں گستاخی کرنا جزوی طور پر حضور نبی کریم کی شان میں گستاخی کرنا ہے۔
احادیث میں آیا ہے کے امام مہدی علیہ السلام حضور کی مشابہت میں ہوں گے۔اب یہ مشابہت کس طرح ہو گی، جسموں کی مشابہت میں کون سے عوامل کار فرما ہوں گے؟
کلی طور پر ہُوبہو وہ ہی مشابہت اس طرح ہو گی کے جن ارضی ارواح نے جسم محمد بنایا تھا وہی ارضی ارواح جسم ِمہدی علیہ السلام بنا رہی ہیں۔
کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ امام مہدی کے جسم میں خون نہیں ہو گا دودھ ہو گا تو سیدنا گوھر شاہی نے اس کی وضاحت فرمائی کہ دودھ ہو گا تو جسم میں گرمائش کیسے ہو گی ،خون کی وجہ سے جسم میں گرمائش ہوتی ہے۔پھر فرمایا امام مہدی کے وجود میں دودھ نہیں ہوگا بلکہ نور ہو گا۔اور امام مہدی اس وجود کو کہتے ہیں کہ جس میں نور نسوں میں سرائیت کر گیا ہے۔ایک اور موقع پر آپ نے فرمایا کہ اُس وجود کے ساتھ اگر ہم لوگوں کے سامنے آئیں گےتو اس وجود کا پرٹوکول لازم ہو جائے گا اسلیئے ُاس وجود کو چھپا کے رکھا ہے جب اس مرتبے کے ساتھ آئیں گے تو پھر کسی کی جرات نہیں ہو گی۔ اگر کسی نے پیٹھ بھی کر دی تو اسی وقت اسکا حساب کتاب ہو جائے گا ۔وہ وجود کیا ہے ؟ سیدنا گوھر شاہی کا کسی جسم سے تعلق نہیں ،بلکہ آپ کا کوئی جسم ہی نہیں ہے ۔

وجودِ امام مہدی کی تشکیل اور باطنی شخصیت کے حقائق :

وجودِ امام مہدی کی تشکیل میں انیس سے لیکر بائیس سال تک لگے ہیں ۔وہ وجود کہ جس کو حضور نبی پاک ﷺ کی ارضی ارواح سے تشکیل دیا گیا وہ وجودِ مبارک حضور کی ارضی ارواح ہیں جو منور اور نورانی ہیں ۔مثال کے طور پر یہاں کی زمین کی مٹی دیکھیں اور ایک گلاب کا پھول دیکھ لیں کون سا زیادہ بہتر ہے ؟ یقینا آپ کا جواب گلاب کا پھول ہو گا۔ایک جسم یہاں زمین کی مٹی سے بنائیں اور ایک گلاب کے پھول کی پتیوں سے بنائیں ، گلاب کی پتیوں سے بنا ہوا جسم زیادہ نازک ہو گا۔اسی طرح آدم صفی اللہ کو جنت میں جنت کی مٹی سے بنایا گیا تھا اور محمد رسول اللہ کو شجرۃالنور سے ۔کہاں مٹی اورکہاں شجرۃ النور۔جو مٹی سے آیا ہے وہ مٹی میں جائےگا۔سرکار گوہر شاہی کا مٹی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔شجرۃالنورکےدرخت سے ایک بیج لا کےصفاتی نور میں گھول کر جبرائیل نے بی بی آمنہ کو پلایااور اس سے حمل قائم ہوا ۔جب لوگوں نے حضور سے پوچھا کہ عیسیؑ کی پیدائش کے بارے میں بتائیں کہ یہ کیا ماجرہ ہے؟ بی بی مریم کو کسی مرد نے نہیں چھوا تو عیسی ؑ کہاں سے آئے ؟ تو اللہ تعالی نے آیت نازل کی اور حضور کو مطلع فرمایا کہ یا رسول اللہ آپ یہ کہہ دیں کہ عیسی ؑ کی پیدائش کا معاملہ بالکل ایسا ہے جیسا آدم صفی اللہ کی پیدائش کا معاملہ ۔ہم نے کہا ہو جا ، وہ ہو گیا ۔تو وہ اللہ تعالی نے کہا ہو جا تو وہ ہو گیا ۔اب یہاں تک جو آپ نے سنا ہے یہ بہت گڑبڑ معاملہ ہے ۔عیسیٰ کی پیدائش کے وقت رب نے ”کن “ کہا تو وہ لفظ ”کن“ کی طاقت سے حمل قائم ہو گیا ۔ اورآدم کے وقت فرشتوں کو کہا کر دوتو انہوں نے کردیا ۔اسلیئے بائبل نے کہا کہ Jesus is word of God. اسی لیئے نبی کریم ﷺ نےبھی فرمایا کہ عیسیؑ جو ہیں وہ کلمۃ اللہ ہیں ،کلمۃاللہ کیوں کہا ؟امر ظاہر کیا ”کن “۔ہو جا ،فیکون تو وہ ہو گیا ۔
محمد رسول اللہ ﷺ کی ارضی ارواح سے امام مہدی کا وجود تشکیل دیا گیا ۔وہ تشکیل ماں کے پیٹ میں نہیں ہوئی ۔جیسے عیسی ؑ کے ساتھ تو یہ چیز لگی ہے کہ ماں کے پیٹ میں رہے ،امام مہدی کے لیے یہ سوچنا بھی کفر ہے ۔اس وجود میں کوئی آمیزش نہیں ۔
ایک مولوی سیدنا گو ھر شاہی کی پاس آیا اور ایک عیسائی بھی آیا ہوا تھا ۔ عیسائی کہنے لگا کہ آپ حضور کی تو بڑی شان بیان کرتے ہیں لیکن عیسیٰ کی یہ شان ہےکہ ان کا باپ ہی نہیں تھا۔سیدنا گوھر شاہی نے فرمایاکہ اگر یہ عظمت کی وجہ ہے تو پھر آدم صفی اللہ کا مرتبہ ان سے بڑا ہے کیونکہ ان کی تو ماں بھی نہیں تھی ۔حدیث شریف میں ہے کہ تمام انبیا ءکو اللہ تعالی نے جنت کی مٹی سے بنایا لیکن وجود امام مہدی کی تشکیل جنت کی مٹی سے نہیں ہوئی بلکہ شجرۃ النور کے پھول سے ہوئی ۔اندازہ لگائیں کیا وجود نازنین ہو گا ۔پہلے اس بات کا جائزہ لے لیتے ہیں کہ حضور کے جسم میں طفل نوری کب گیا ۔حضور کے جسم میں طفل نوری جب گیا تو اس وقت آپ کی عمر سات سے نوسال کے بیچ میں تھی ۔جب وہ طفل نوری جسم میں گیا تو کیا ہوا ؟ آپ خانہ کعبہ میں ہیں اور جبرائیل ؑ آگئے ۔انہوں نےآپؐ کا سینہ چاک کیا ،دل نکالا ،دھویا اور پھر اسکے اندر طفل نوری ڈال دیا ۔
لیکن جب سیدناگوہر شاہی کے وقت تو جسم میں کوئی لطیفہ ہی نہیں ہے تو طفل نوری کہاں ڈالیں گے ۔ارضی ارواح محمد سے تشکیل ہوا وہ وجود مبارک ، پورا کا پورا طفل نوری اُس وجود میں سما گیا ۔قلب میں نہیں اُس وجود میں سما گیا ،ناخن ناخن میں ،انگلی انگلی میں ،ناک ناک میں ،ہونٹ ہونٹ میں ،دانت دانت میں ،آنکھ آنکھ میں اور پھر اسکے بعد نس نس میں۔ طفل نوری کے اپنے لطیفے ہوتے ہیں ۔سرکار گوہر شاہی کے لطیفے ہی نہیں ہیں تواس لئے طفل نوری کے لطیفے استعمال ہوئے ہیں ۔پھر طفل نوری اس وجود میں سماگیا اور پھر انیس سال تک اس طفل نوری کے وجود سے چلے پھر ے۔انیس سال کی عمر جب ہو گئی تو پھر جسّہ توفیقِ الہی باطنی شہباز وہ نس نس میں چلا گیا ۔ہمارے نس نس میں تو اسم ذات کا نور خون میں گیا ۔ لیکن سیدنا امام مہدی گوھر شاہی کی نسوں میں جسّہ توفیق الہی گھسا ہوا ہے ۔ اب جب جسّہ توفیق الہی نسوں میں گھسا ہے تو اب وہاں خون کیسے ہو گا!!
جیسے کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ دجال جب آئیگا اسکے ماتھے پہ کافر لکھا ہو گا ہم فوراً پہچان کے بھاگ جائیں گے کہ چلو جی یہ دجال ہے ۔اتنا آسان ہے یہ ؟ اتنا آسان ہوتا تو یہ ستر ہزار علماء دجال کے ہاتھ پہ بیعت کیوں کر لیں گے ۔دجال کو نہیں پہچان سکتے تم امام مہدی کو کیا پہچانو گے ۔
مام مہدی کے ارضی ارواح والے وجودکو نہ سونے کی حاجت ہے ،نہ گاڑی کی حاجت ہے ،اور نہ کھانے کی حاجت ہے ۔ اس وجود کی ساری خوبیاں اس جسم کی ایسی ہیں کہ جیسےلَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمنا اسکو اونگھ آتی ہے نا اسکو نیند آتی ہے۔وہ ایساوجود ہے کسی کے ہاتھ نہ آنے والا ۔اس وجود کے اندر مادہ عشق ہے ۔ایک حدیث شریف میں آیا ہے کہ

’’ امام مہدی کے ایک پاؤں میں جلال ہو گا اور ایک پاؤں میں جمال ہو گا ‘‘

وہ جلال جسّہ توفیق الہی کی طرف اشارہ ہے اور جمال طفل ِنوری کی طرف اشارہ ہے ۔پھر یہ جو چاند اور سورج ہے ،جب ہم (سیدی یونس الگوھر )کوسیدنا گوھر شاہی کے جسّہ توفیق الہی سے فیض ہوا تو وہ ہم کو سورج کی شکل میں نظر آیا تو ہم نے دیکھا کہ وہ سورج جو ہے ،جسّہ توفیق الہی سرکار کا وہ ہمارے قلب کے اوپر منعکس ہو رہا ہے تو ہم نے یہ سامنے والے سورج کو کہا کہ تیری کیا اوقات ہے ۔پھر ایک دن ہم نے دیکھا کہ طفل نوری چاند کی صورت میں ہمارے سینے پہ منعکس ہو گیا تو ہم نے پھر کہا کہ
چاند سورج کیا گواہی دیں گے تیری اے گوہر
ہے ثبوت حق تیرا اس دل میں آ جانے کا نام

یہ تو نقلی چاند اور سورج ہے، اصل سورج تو وہ ہے جو سینے میں آگیا ،جسّہ توفیق الہی کا جو عکس منعکس ہو رہا ہے وہ اصل سورج ہے اسمیں بھی تصویر ہے۔ اصل چاند تو وہی ہے نا طفل نوری۔ وہ جب منعکس ہوا سینے پر تو کہا کہ جو عام لوگ ہیں ان کا سورج اور چاند اُدھر ہے ۔اور جو خاص ہوگئے ان کا چاند اور سورج اِدھر ہی ہے
سیدنا گوھر شاہی کا جسم مبارک نہیں ، وہ جو وجود ہے جس سے آنا ہے اسکا دین الہی میں ذکر کر دیا ہے کہ ارضی ارواح کے ذریعے آنا ہے اب وہ جو ارضی ارواح والا وجود ہے جس میں خون کی بجائے جسّہ توفیق الہی کا مادہ عشق دوڑتا ہے۔ جسکے اندر ٹھنڈک کے لیئے طفل نوری ہے اور گرمائش کےلیئے جسّہ توفیق الہی جلوہ افروز ہے اس کے اندر۔اورجلوہ افروز اسطرح نہیں ہوں گے کہ اسکے اندر گھسے ہوئے ہوں گے بلکہ اسکے اوپر عکس ِ ریاض ،ذات ِ ریاض منعکس ہو کے نظرآئے گی ۔یعنی اس وجود میں تاب نہیں ہے کہ ذات ِریاض وہاں جلوہ گر ہو براہ راست یعنی باطنی انعکاس ہو گا ۔
یہی حضور کے لیئے بھی کہا تھا اللہ نے قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ یعنی مثالی بشر ہیں۔یعنی دیکھنے میں ہمارے جیسا لگتا ہے ۔اسی طرح ہم بشر مٹی کے بنے ہوئے ہیں اورحضور کا جو وجود ہے وہ نورسے تخلیق ہوا ہے ۔مثال کا مطلب یہ ہوا کہ جیسے ہمارے ناک کان ہیں اسی طرح اس وجود کے بھی ناک کان ہیں لیکن اسکا جو ہے نور کا مسئلہ ہے ہمارا جو ہے مٹی کا ہم مٹی کے ہیں وہ نور کے ہیں ۔اسی طرح امام مہدی کا بھی وجود ہے وہ مثالی طور پر بشری ہے یعنی ویسا شکل وصورت میں ،دکھنے میں ،لگنے میں ویسا ہے لیکن اس کی ہیت مختلف ہے ۔ہیولہ ویسا ہے ہیت مختلف ہے ۔نور کو موت نہیں مٹی کو موت ہے جس نے ہم کو زندگی دی ہے اسکا موت سے کیا تعلق!!
وہ جسم مرمریں نازک ترین از لالہ وگل ہے ۔۔۔۔۔۔وہ شجر نور کی کونپل سے نکلا اِک فسانہ ہے
وہ جسم عنبریں مکتوب اسمائے الہی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وجود ِ نور سے معمور ہے نوری ترانہ ہے

متعلقہ پوسٹس
دوست کے سا تھ شئیر کریں