کیٹیگری: مضامین

ہمارا کام دنیا بھر میں لوگوں کو سرکار گوھر شاہی کا تعارف پیش کرنا ہے ،ساتوں لطائف کا چلنا سرکار گوھر شاہی کا تعارف ہے فیض نہیں ہے فیض تو سرکار نے آ کر دینا ہے۔ جتنا تعارف ہمیں ہوا ہے اتنا ہی تعارف پیش کریں گے۔ طاقت ور بندہ وہی ہے جو دنیا کا بوجھ اٹھا لے، سرکار گوھر شاہی کے تعارف کا معاملہ تو پہلے ایسے ہی چلتا رہا لیکن جب سرکار گوھر شاہی نے دین الہی رقم فرمائی تو اپنے دو تعارف اس میں لکھے، ایک تعارف اپنی باطنی شخصیت کا اور ایک اپنا شخصی تعارف لکھا۔ان دو تعارف سے آگے بھی ایک اور تعارف تھا وہ کتابوں میں نہیں بلکہ سرکارگوھر شاہی نے دلوں پر لکھا اس تعارف کو کتابوں میں نہیں لکھ سکتے تھے۔جب ہم سرکار گوھر شاہی سے جڑی چھوٹی چھوٹی حقیقتیں بیان کرتے ہیں تو لوگوں کو سمجھ نہیں آتا خواہ ان لوگوں کا تعلق وابستگان ِسرکار گوھر شاہی سے ہو یا عام مسلمان سے ،پھر ہمیں سرکار گوھر شاہی کا وہ قول یاد آتا ہے کہ، ابراہیم بن ادھم نے کہا میں نے اللہ سے چار مسئلے سیکھے ان چار میں سے ایک مسئلہ دنیا والوں کو بتایا تو انہوں نے اس کا انکار کر دیا ۔ جب اتنی بڑی بڑی ہستیوں نے جب کوئی خاص بات بتانا چاہی اور لوگوں نے اس کا انکار کر دیا تو یہ و ہی والی بات ہے جس کے لیے محمد بخش نے کہا تھا ،مٹھی کھیر پکا کے محمد بخشا کتیاں اگے دھرنی۔
سرکار گوھر شاہی نے فرمایا لوگ ہمیں کہتے ہیں آپ کی باتیں درست ہیں لیکن یہ باتیں خاص لوگوں کے لیے ہیں ،عام کو نہ بتائیں ، تو سرکار گوھر شاہی نے فرمایا اس دور میں عام اور خاص مکس ہو گئے ہیں اب پتا نہیں چل رہا کون عام ہے کون خاص ہے جن کی سمجھ میں یہ خاص علم آ گیا وہ خاص ہیں اور جن کو سمجھ نہیں آ رہا وہ عام ہونگے یہ ہی ایک طریقہ ہے خاصوں کو عام سے نکالنے کا۔ اس دنیا میں بڑی بڑی ہستیاں آئیں لیکن اُن کا کام اتنا مشکل نہیں تھا کیونکہ ان کے ادوار میں طالبین میں اللہ کی تڑپ اور اللہ کی طلب تھی وہ اللہ کو حاصل کرنے کے لیے کسی بھی قسم کی آزمائش دینے کے لیے تیار تھے جب ان ہستیوں نے ان کو یہ علم دیا تو وہ اس میں لگ جاتے لیکن سرکار گوھر شاہی کو دو کام کرنا پڑے ایک تو اس دور میں کسی کو اللہ کی طلب نہیں اس لیے سرکار نے سب سے پہلے لوگوں میں اللہ کی طلب پیدا کی اس کے بعد اُن کو اللہ کے راستے پر لگایا اگر کوئی طلب پیدا کرنے کے عرصے میں ہی بھاگ گیا تو اس کی چھٹی ہے۔عرصہ بیس سال تک لوگوں میں اللہ کی طلب پیدا کرنے میں لگائے جب لوگ تیار ہوئے تو پھر ہمیں کہا اب تم ان کو تعلیم دو ،اب جب سرکار گوھر شاہی تشریف لائیں گے تو آپ کو فیض دیں گے۔

سرکار گوھر شاہی کا ادنی ترین فیض کیا ہے؟

فیض دینا یہ ہو گا کہ طلب خود پیدا کر گئے ہیں اور اب ہم تعلیم دے رہے ہیں لوگ جب بالکل تیار ہو جائیں گے اور جب سرکار تشریف لائیں گے تو ایک نظر میں لوگ دیدار الہی تک پہنچ جائیں گے ۔قدرت کا قانون ہے کہ مجذوب کی گالیوں سے فیض ہوتا ہے، محبوب کی باتوں سے فیض ہوتا ہے ، کچھ ہوتے ہیں سالک مجذوب۔مجذوب کون ہے اور سالک مجذوب کیا ہوتا ہے؟مجذوب وہ ہے جب اس پر اللہ کی تجلی پڑتی ہے تو برداشت نہ ہونے کی وجہ سے اس کا شیشہ عقل ٹوٹ جاتا ہے اب وہ حالت جذب میں ہے جب بھی تجلی پڑے گی تو وہ گالی گلوچ ہی کرے گا، جب تجلی پڑ کر ختم ہو گئی تو دوبارہ اپنی حالت صحو میں آ جائے گا ۔ درجہ محبوبیت والے کی پہچان یہ ہے کہ محبوب کی باتوں سے فیض ہوتا ہے، وہ لوگوں کو چلوں اور مجاہدوں میں نہیں لگاتا بس اس کے پاس بیٹھ کر اس کو سنتے رہو اس کی باتوں سے نور نکل نکل کر سینوں میں جائے گا۔سیدنا گوھر شاہی کا ادنی ترین فیض کیا ہے؟

“ذکر قلب یا ساتوں لطائف کا ذکر کرنا بہت بڑا فیض ہے لیکن یہ سرکار گوھر شاہی کے فیض میں شمار نہیں ہوتا ۔سرکار گوھر شاہی کا جو سب سے ادنی ترین فیض ہے وہ لوگوں کو اللہ کا دیدار کرانا ہے اس سے نیچے فیض نہیں ہے ، اب وہ کوئی ہو بھلے اس کی تقدیر میں دیدار ہو یا نہ ہو امام مہدی کی ذات والا کوئی کمی کوئی محرومی لے کر نہیں آئے گی، ان کے سر پر ایک تاج ہے جس کا نام ہے “میری مرضی”جس کو چاہیں جہاں چاہیں عطا کر دیں “

اس کو نیک و بد کی کیا پرواہ۔۔۔۔۔جسے چاہے اللہ کے رو برو کر دے
جس دور میں ہم رہ رہے ہیں یہ وہ دور ہے جب ہر طرف نار ہی نار ، لذات کا انبار لگا ہوا ہے اس دور میں داتا صاحب، خواجہ صاحب کسی کو مرید کیسے قبول کرتے کیونکہ کوئی روحانی اصولوں پر پورا اترنے کے لائق ہی نہیں اس کے لیے تو بہت ہی خطرناک ذات کی ضرورت تھی ایسی ذات جس کے تصرف کی کوئی انتہا نہ ہو ۔ایک مرتبہ سیدنا گوھر شاہی نے بڑے ہی خوشگوار موڈ میں فرمایا ، سلطان صاحب نے فرمایا انسان کا قلب جاری کرنا تو کوئی بڑی بات نہیں ہے ہم نے کتے کا قلب زندہ کر دیا۔ جانوروں میں تو لطائف ہی نہیں ہوتے قرآن میں بھی ہے کہ انسانوں اور جانوروں میں فرق لطائف کا ہے۔ سرکار نے مزید ارشاد فرمایا کتے کا ہی دل تھا مگر زندہ تو تھا ہم یہ کہتے ہیں کہ “انڈا خراب ہو جائے پھر اس میں سے کوئی صحت مند چوزہ نکال کر دکھائے ہم اس کو کرامت مانتے ہیں”روحانی زبان میں انڈا قلب کی طرف اشارہ ہے۔انڈے کا خراب ہونا کیا ہے؟علامہ اقبال نے بھی کہا
اس قوم کے انڈے گندے ہیں پھینک دو ان کو گلیوں میں
گوشت پوست کے دل کے اوپر جو مخلوق بیٹھی ہے اس کو لطیفہ قلب کہتے ہیں ۔ گناہوں کی کثرت اور سیاہی سے دل بالکل کالا ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے لطیفہ قلب کی روح بیمار ہو جاتی ہے اگر وہ روح بیمار ہو تو اس قلب کو کوئی بیدار نہیں ک سکتا، دنیا میں کوئی مرشد ایسا آیا ہی نہیں جو بیمار قلب کو ذکر دے۔ جس طرح بیمار شخص کو ہلکی پھلکی غذائیں دیتے ہیں اسی طرح بیمار قلوب کو لوگوں نےہلکے پھلکے صفاتی اسماء کا ذکر دیا ، اسم ذات اللہ تو مرغن غذا کی مانند ہے بیمار قلب کو اس کی تاب نہیں ۔صفاتی نام سے چلنے والا قلب تو اللہ تک نہیں پہنچے گا ، اگر مرشد کامل ذات ہو اور پھر اس کا جی بھی چاہے تب وہ آدم صفی اللہ سے دم ملاتا ہے، اور اس کے لیے پہلے حضور سے اجازت لینا پڑتی ہے کہ میں فلاں نبی سے رابطہ کر لوں ۔قرآن مجید میں بھی آیا ہے کہ اور ہم نے سارے نبیوں سے وعدہ لیا کہ میرے حبیب کی مدد کرنا۔سوچنے کی بات ہے کہ حضورﷺ تو آخر میں تشریف لائے ہیں تو ان سے پہلے آنے والے نبی حضور کی مدد کیسے کریں گے؟ وہ مدد یہ ہو گی کہ آدم صفی اللہ پر قلب کی نبوت اتری قلب کا علم صرف آدم صفی اللہ کے پاس ہے اگر حضور کی امت میں کسی کا قلب بیمار ہو گیا تو اگر اس کا مرشد طاقت ور ہوا تو جب وہ حضور پاک کی اجازت سے آدم صفی اللہ سے دم ملائے گا تو آدم صفی اللہ کی طاقت اس کےقلب کی بیماری کو دور کرے گی۔

تصرِفِ گوھر شاہی کیا ہے؟

گندے انڈے یا بیمار قلب کو چلانے کی طاقت نہ پہلے کسی کو تھی نہ ہی کسی نے جرائت کی لیکن سیدنا گوھر شاہی نے فرمایا ہمیں کسی سے رابطے کی ضرورت نہیں ہے ۔ گندے انڈوں سے بچہ نکالنا صرف سرکار گوھر شاہی کا کرم اور طاقت ہے۔ اب یہ سرکار گوھر شاہی نے ایسے کیا کہ بیمار دلوں کو شفاء بخشنے والی تعلیم جو صرف آدم صفی اللہ کو ملی تھی جب سیدنا گوھر شاہی اس دنیا میں تشریف لائے تو آدم صفی اللہ کا قلب اور اس کی تعلیم امام مہدی علیہ السلام کو عطا ہوا یعنی سیدنا گوھر شاہی کے سینہ مبارک میں جو دل دھڑکتا ہے وہ آدم صفی اللہ کا ہے اب سرکار کو کہیں جانے کی کیا ضرورت ہے؟ یہی وجہ ہے کہ سیدنا گوھر شاہی نے ذکر قلب کو ریوڑیوں کی طرح بانٹاجس کی تاریخ میں کوئی نظیر نہیں ملتی ہے۔ حضور پاک آخری مرسل ہیں ان کے پاس پانچویں لطیفے اخفی کی تعلیم تھی ان کے پاس لطیفہ قلب کی تعلیم نہیں تھی ان کی امت میں بھی اگر کسی کو قلب کی بیماری ہوئی تو ان کو بھی آدم صفی اللہ سے مدد مانگنی پڑی، غوث پاک ہوں یا سلطان صاحب سب ذکر چلانے کے لیے آدم صفی اللہ سے مدد مانگنا پڑی، یہاں تک کہ لال شہباز قلندر کو بھی آدم صفی اللہ سے مدد مانگنا پڑی کیونکہ قلب کی بیماری کا علاج آدم صفی اللہ کی نبوت میں ہی تھا لیکن امام مہدی کی ذات والا کی عظمت ملاحظہ ہو۔مولا علی کتنی بڑی ذات ہیں انہوں نے یہ فرمایا کہ “اگر مجھے امام مہدی علیہ السلام کا زمانہ مل جائے تو میں ساری زندگی ان کی غلامی میں گزار دوں ”
اب امام مہدی کیا چیز ہوں گے، کیا شان ہوگی ان کی، لوگ تو شان اس کو سمجھتے ہیں کہ ان کے آنے سے ٹیوب لائٹ جلانے کی ضرورت نہیں ہوگی، یا وہ مہنگی ترین عالیشان کار میں تشریف لائیں گے، ان کی شان ان چیزوں میں نہیں ہے۔
امام مہدی گوھر شاہی کی شان یہ ہے کہ ان کے سینہ میں قلب آدم صفی اللہ کا ہے، یہ عظمت تو پہلے کسی کو نہیں ملی اسی لیے ذکر قلب کی دولت کو جس طرح سرکار گوھر شاہی نے بانٹا ہے اس کی نظیر اس زمانے یا تاریخ میں نہیں ملتی۔ تاریخ انسانی اٹھا کر دیکھ لیں کہیں ذکر قلب کو اتنا ارزاں نہیں کیا گیا، جو آیا اس کو اسی لمحے کہا چلو آنکھیں بند کرو اور سامنے سے اللہ ھو پڑھتے ہوئے گزرتے جائو۔بیس بائیس سال کے عرصہ میں سرکار گوھر شاہی نے نہ جانےکتنے لوگوں کو ذکر قلب دیا ہو گا یہ بات احاطہ شمارسے باہر ہے، صرف چند ایک پروگرامزکا حال یہ ہے کہ نشتر پارک لاہور کے عوامی جلسہ میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ جب ذکر قلب کے لیے کھڑے ہوئے تو صرف ان کو سرکار کے سامنے سے گزرنے میں ہی ایک گھنٹہ لگ گیا ، پھر اس کے بعد موچی دروازہ لاہور کے ایک دوسرے عوامی جلسہ میں خلقت اس طرح امڈ کر آئی کہ آرمی والوں نے اندازہ لگا لیا کہ وہاں کم سے کم پانچ ملین لوگ موجود تھے واضح رہے کہ یہ تعداد صرف ذاکرین کی نہیں تھی، وہاں تمام نئے لوگ آئے تھے۔ ایسا تاریخ میں کہاں ہوا ہے کہ ایک ہی دن میں کسی بزرگ نے پنتالیس کروڑ افراد کو یک نشت میں یک لمحہ ذکر قلب سے نواز دیا ہو؟ یہ صرف گوھر شاہی کی شان ہے۔حساب تو لگائیں کہ چودہ سو سالوں میں بھی مجموعی طور پرامت محمد کے پنتالیس لاکھ افراد کوذکر قلب نہیں ملا اور یہاں سرکار گوھر شاہی ایک نشست میں اتنی بڑی تعداد کو ذکر قلب عطا فرما رہے ہیں ، کیا شان ہے سرکار گوھر شاہی کی ، یہ ہی کہہ سکتے ہیں کہ
کتھے مہر علی کتھے تیری ثناء گستاخ اکھیں کتھے جا لڑیاں
یہ تو نری سرکار گوھر شاہی کی سخاوت ہے۔غوث پاک کا گھنٹا اتنا بجتا رہا کہ میرا سورج کبھی غروب نہیں ہو گا ، اللہ نے ان کو کہا ذرا ٹہر جائو ابھی امام مہدی نے آنا ہے، اور ان کا سورج اسی دن غروب ہو گیا جب اسم ذات کی کنجی غوث پاک نے امام مہدی کو پیش کی، سوچنے کی بات ہے جبتک اسم ذات کی کنجی ان کے پاس رہی اس عرصہ میں بھی ان سے اس تصرف کا اظہار کیوں نہ ہو سکا جو کہ امام مہدی نے کیا؟کراچی میں سمندر کنارے ایک بزرگ غلام نبی عرف سمندری بابا ہوتے تھے جب ذاکرین ان کے پاس جاتے تو وہ برہمی کا اظہار کرتے کہ دیکھو سرخی پاؤڈر لگانے والوں ، ناچنے گانے والوں اور گناہ گاروں کو گوھر شاہی نے ذاکرقلبی بنا دیا ہے ایسا ہونا تو نہیں چاہئیے میں تیس سال سے یہاں بیٹھا ہوں ذکر قلب کے انتظار میں ، میرے مرشد نے اسم اللہ کی اجازت مجھے نہ دی ۔ اب سیدنا گوھر شاہی نے سمندری بابا کی اس بات پراظہار فرمایا کہ ” ایک دن ہم کو بھی خیال آیا کہ سرخی پوڈر لگانے والوں ناچنے گانے والوں کے ذکر چلنے تو نہیں چاہئیں ،پھر جب اللہ سے اس بابت پوچھا تو اللہ نے جواب دیا کہ یہ رعائیت صرف امام مہدی کے لیے ہے”
غوث پاک تو اس کو مرید ہی نہیں کرتے تھے جس کے جسم میں ایک لقمہ بھی حرام ہو اور یہ وہ دور ہے کہ جس میں ایک لقمہ تو دورکی بات ہے سر تا پا ہم حرام ہی حرام ہیں ۔مکمل حرام ہونا بھی ہمارے حق میں رہا کیونکہ اگر ہم میں آدھا حرام آدھا حلال ہوتا تو یہ بھی باعث تکبر بن جاتا کہ میں تو بڑا اچھا ہوں ، جو سر سے پائوں تک ہم برے ہیں تو ہم کو ہماری اوقات کا پتا ہے کہ اگر ہمارا ذکر قلب چلا ہے تواس میں ہمارے اعمال کا کوئی دوش نہیں نہ ہمارا کردار ایسا ہے یہ صرف سیدنا گوھر شاہی کا کرم ہے۔گوجر خان (سیدنا گوھر شاہی کا آبائی گائوں) میں عوام سے خطاب میں یہ راز بھی کھلا کہ سیدنا گوھر شاہی کے سینہ مبارک میں صرف آدم صفی اللہ کا قلب ہی نہیں ہے بلکہ وہ بازار مصطفی جس کے بارے میں ایک بڑھیا کہا کرتی تھی کہ یہاں بازار مصطفی لگے گا، اور آج ہم نے دیکھا کہ وہ بازار مصطفی بھی لگ گیا۔ایک اور موقع پر سرکار نے فرمایا، ” ایک دن پتا نہیں حضور پاک کو کیا ہوا جو علم صرف ان کے کیے تھا وہ علم انہوں نے ہمیں دے دیا”حضور کا وہ علم کیا تھا اور انہوں نے کس طرح وہ علم امام مہدی کو دیا؟وہ علم باطن تھا اور وہ باطنی علی کہاں ہوتا ہے؟ جس لطیفے کو وہ علم باطن ملتا ہے اسی لطیفے میں وہ علم ہوتا ہے اسی سے نکلتا ہے۔ ( یہ گفتگو سننے کے بعد اگر تم سب کچھ چھوڑ چھاڑ سرکار کے قدموں میں پناہ نہ لو یا تمہاری زندگی نہ بدلے تو تم کافر و منافق ہو ، تمہاری زندگی بے کار ہے)نبی کریم کو تین طرح کا علم عطا ہوا تھا ۔ایک علم لطیفہ نفس کے لیے۔دوسرا علم لطیفہ اخفی کا ملااور تیسرا علم لطیفہ انا کا ملا۔قرآن کے تیس پارے لطیفہ نفس کی تعلیم ہیں ۔لطیفہ اخفی کی تعلیم حضور پاک کے سینے میں ہے جس کی رسائی سینہ مصطفی تک ہوئی اس کو وہ علم ملا، اور لطیفہ انا کا علم دیدار الہی کا علم ہے جس کو حضور ﷺنے منتخب کیا اسی کو دیدار الہی والا علم ملا۔

بازار مصطفی کیا ہے؟

حضور کے لطیفہ اخفی کا نام “حامد” ہے اور لطیفہ انا کا نام “محمود” ہے باطن میں حضور کا لطیفہ انا جس مقام پر رہتا ہے اسی کی نسبت سے اس مقام کا نام مقام محمود ہے۔ مقام محمود کے سامنے عالم احدیت ہے اور عالم احدیت کے بالکل سامنے مقام وحدت ہے جہاں پر حقیقت محمدی یا حضور کی روح مبارک رہتی ہے اور اس سے تھوڑا آگے جو مقام محمودہے وہاں پر ولیوں کا لطیفہ انا جب جاتا ہے تو اس کو اللہ کا دیدار ہوتا ہے۔حضور نبی کریم نے اپنا لطیفہ انا ، لطیفہ محمود اور لطیفہ اخفی سرکار گوھر شاہی کے قدموں میں رکھ دیا۔ یعنی سرکار گوھر شاہی کے پاس صرف تعلیم نہیں آئی بلکہ سرکار کے تصرف میں پورا کا پورا سیٹ اپ پورا نظام موجود ہے تواب آپ ہی بتائیں سرکار گوھر شاہی پہلے قلب چلانے کی اجازت کا انتظار کریں گے؟ یا اگر کسی کو اللہ کےدیدار میں لے جانا ہوا تو پہلے دیدار کا سبق پڑھائیں گے یا براہ راست اللہ کے دیدار میں لے جائیں گے۔
جب ہم یہ سوچتے کہ سرکار آپ کو لال باغ جانے یا وہاں کی صعوبتیں برداشت کرنے کی کیا ضرورت تھی اس بات کا جواب سرکار نے امریکہ میں گفتگو کرتے ہوئے فرمایا ،اگر ہم جنگل نہ جاتے تو لوگ انگلی اٹھاتے کہ یہ تو کسی ریاضت میں گئے ہی نہیں ،پھر سرکار نے مزید ارشاد فرمایا کہ جنگل میں جانے کے بعد بھی جو مقامات ہم دیکھتے تھے وہ تو ہم بچپن یعنی چار پانچ سال کی عمر میں ہی دیکھ چکے تھے، چار پانچ سال کی عمر سے ہی بیت المامور اور مقام محمود پر آنا جانا تھا پھرفرمایا ہم بچے تھے تو ان مقامات کے نام معلوم نہیں تھے ، اگر مقام محمود سرکار کے قدموں میں آگیا اور فیضان نبوت جو علی کو ملا ، سلمان فارسی اور اویس قرنی کو ملا وہ پورا کا پورا سرچشمہ علم اور فیض و عرفان بصورت گوھر شاہی آ گیا اب ہم کو کس چیز کی محرومی رہ گئی ،اب ہم نے کہاں جانا ہے ، وہ حامداور وہ محمود اور پھر جب اخفی آیا تو وہ بھی جڑ گیا پھر حضور نبی کریم کے جسم کی ارضی ارواح بھی امام مہدی میں آگئیں ۔اب ہم نے کون سی آئیتیں یا کون سا درود پڑھنا ہے، جن چیزوں کی وجہ سے درود پڑھا جاتا تھا وہ سب چیزیں تو امام مہدی میں آگئیں۔ یہی بازار مصطفی ہے۔

مندرجہ بالا متن نمائندہ گوھر شاہی عزت مآب سیدی یونس الگوھر سے 4 دسمبر 2017 کویو ٹیوب لائیو سیشن میں کئے گئے سوال کے جواب سے ماخوذ کیا گیا ہے ۔

متعلقہ پوسٹس

دوست کے سا تھ شئیر کریں