کیٹیگری: مضامین

وَالضُّحَىٰ وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَىٰ مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَىٰ وَلَلْآخِرَةُ خَيْرٌ لَّكَ مِنَ الْأُولَىٰ وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَىٰ أَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيمًا فَآوَىٰ وَوَجَدَكَ ضَالًّا فَهَدَىٰ وَوَجَدَكَ عَائِلًا فَأَغْنَىٰ فَأَمَّا الْيَتِيمَ فَلَا تَقْهَرْ وَأَمَّا السَّائِلَ فَلَا تَنْهَرْ وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ
آیت نمبر1تا11

آیت الضحی کا پسِ منظر کیا ہے؟

نبی پاکؐ کی حیاتِ طیبہ میں ایک موقع ایسا آیا ہے کہ تین سال کیلئے اللہ تعالی نے ہر قسم کا کلام اور وحی منقطع کر دی۔ اس دوران اللہ کا حضوؐر سے نہ کلام ہوا اور نہ اللہ نے جواب دیا اور نہ کوئی وحی آئی۔ حضوؐر نے چالیس سال کی عمر میں اعلانِ نبوت کیا اور پھر قرآن نازل ہونا شروع ہوا۔ قرآن کو اُترنے میں 23 سال لگ گئے۔ ان میں سے تین سال وحی کا جو سلسلہ منقطع رہا ہے ان تین سالوں کے بارے میں مختلف احادیث اور روایات میں آیا ہے کہ نبی پاکؐ پر سخت پریشانی کا عالم تھا کیونکہ ان تین سال کے دوران اللہ کی طرف سے حضوؐر پر نہ کوئی وحی نازل ہوئی اور نہ ہی آپؐ کا اللہ سے رابطہ ہوا۔ ایک عام آدمی کا توزندگی بھر اللہ سے کوئی رابطہ نہیں ہوتا کیونکہ وہ آدمی صرف دنیا میں آتا ہے اور چلا جاتا ہے۔ لیکن آپ ایسی شخصیت کا تصور کریں کہ جس کے اندر طفلِ نوری بھی ہو ،جثہ توفیقِ الٰہی بھی ہو۔ طفلِ نوری ہونے سے مراد یہ ہے کہ سلطان حق باھو نے طفلِ نوری کے بل بوتے پر فرمایا تھا کہ میں جب چاہوں اللہ کا دیدار کرلوں ۔ اب حضوؐر کی کیا شان ہوگی کہ آپؐ کے اندر بھی طفلِ نوری ہونے پر آپؐ جب چاہیں اللہ کا دیدار کرلیں اور اگر دیدار کرسکتے ہیں تو بات چیت بھی ہوسکتی ہے۔ لیکن وہ تین سال کا عرصہ ایسا ہے کہ جس میں نہ جثہ توفیقِ الٰہی کی طرف سے کوئی مراقبہ لگا ہے اور نہ طفلِ نوری کے ذریعے دیدارو گفتگو ہوئی ہے۔ فرض کیا کہ اگرحضوؐر رابطے میں تھے اور سب کچھ معلوم تھا تو آپؐ اُحد پہاڑ پر چڑھ جاتے تھے اورپھر یہ کہتے تھے کہ میرا جی چاہتا ہے کہ میں یہاں سے خود کو گرالوں اور اپنی زندگی ختم کرلوں۔ یہ انتہائی درجے کی مایوسی کی بات ہوگئی۔ جب انتہائی درجے کی مایوسی ہوتی ہے تو تب آدمی یہ انتہائی قدم اٹھانے کا سوچتا ہے۔ خاص طور پر ایسی ذات و شخصیت کہ جو رب کے محبوب ہوں ، امام الانبیاء ہوں ،خاتم المرسلین ہوں اور بہت سی خوبیاں آپؐ کی ذاتِ والا میں موجود ہیں لیکن رب کی طرف سے بے رُخی اتنی جان لیوا ہوتی ہے کہ امام الا نبیاءلولاک لما خلقت الافلاکزمین اور آسمان نہ بناتا اگر تجھے پیدا کرنا مقصد نہ ہوتا۔ ایسی ذات بھی اللہ تعالٰی کی طرف سے اس بے رُخی کو شاید برداشت کرنے کی قوت نہیں رکھتی۔ حضوؐر کیلئے اللہ نے دنیا کو بنایا تو ان کا اللہ کی ذات اور رضا کیلئے تڑپنا و سسکنا با معنٰی ہے۔ تین سال کےعرصہ کےدوران نہ جبرائیل آئےاورنہ وحی آئی اورنہ ہی کوئی اللہ سے کلام ہوااور آپؐ اس قدر پریشان ہوگئے۔ ہمارے پاس توصحیح الفاظ بھی نہیں ہیں کہ جو آپؐ کی کیفیت ان تین سالوں میں گزری ہے اس کیفیت کو الفاظوں میں بیان کرسکیں لیکن وہ جو تین سال کاعرصہ گزرا ہےاوران تین سالوں میں بسا اوقات نبی پاکؐ جب اُحد پہاڑ پر چڑھ جاتے اورارادہ کرتے کہ میں اپنےآپ کو ختم کرلوں تواس طرح کی سوچ اسی وقت پیدا ہوتی ہے کہ جب ہم چاروں طرف سےایک بے یارومددگاری کا شکار ہوں۔ ایک ایسی غیر یقینی کیفیت کہ جس میں انسان کو اپنی بے مائیگی کا مکمل احساس ہو۔ وہ تین سال کا عرصہ ان کیفیات میں نبی کریمؐ نے گزارا ہےاور پھر تین سال کے بعد اچانک یہ آیت نازل ہوئی کہ

وَالضُّحَىٰ
سورۃالضحی آیت نمبر1

اس آیت کی تشریح کرتے ہیں کہ جب رات ہوتی ہے تو آسمان پر کالی کالی چادریں تنی ہوتی ہیں۔ پھر جب صبح صادق کا وقت آتا ہے تو آسمان سے کالی چادریں ہٹ جاتی ہیں اورآسمانوں پر ایک سفیدی نمودار ہوجاتی ہے۔ اس کو پوپھٹنا کہتے ہیں یعنی انگریزی میں Break of Dawnکہتے ہیں۔Dawnکا مطلب ہے کہ صبح صادق کی سفیدی۔ صبح صادق تب ہوتی ہےجب اندھیرے چھٹ جائیں اور روشنی نمودارہو۔اللہ نے ان تین سالوں کواندھیروں سے تعبیر کیا ہےاورجو اللہ نے اپنا پیغام بھیجا ہے اس کو صبح کی روشنی قرار دیا ہے۔ ایک تو وہ اندھیرا ہے جورات کا ہے جب صبح صادق کی سفیدی آگئی اوردوسرا اندھیرا تین سال کی بے رُخی کا ہے۔ جب تین سال کے بعد آخر میں اللہ نے کلام کیا ہے تو اس کلام اوررابطہ کرنےکوضُّحَیٰکہا گیا ہے۔ پھرفرمایا کہوَالضُّحَىٰکہ یا رسول اللہ تین سال کا اندھیرا چھٹ گیا ، رابطہ بحال ہوگیا اوراس رابطے کے بحال ہونے کی قسم اُٹھاتا ہوں اور پھرقرآن مجید میں آیا ہےکہ

وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَىٰ
سورۃ الضحی آیت نمبر2
ترجمہ:اور اس کی بھی قسم اُٹھاتا ہوں جب اندھیرے کے پردے ڈال دئیے تھے۔

پھران کی بھی قسم جو اندھیرے کی چادریں تان دیں تھی۔وَالضُّحَىٰاس لمحے کی قسم جب وہ اندھیرے ختم ہوئے،صبح کی سفیدی آئی اوررابطہ بحال ہوااُس لمحے کی قسم اوروَاللَّيْلِ إِذَا سَجَىٰاوران لمحوں کی بھی قسم ہے جب اندھیرے کی چادریں ڈال دی تھیں اور بے رُخی اختیار کرلی تھی۔

اللہ تعالٰی کی حضورﷺسے بے رُخی کی وجہ:

اب اللہ رابطے کی بحالی کی بھی قسم اُٹھا رہا ہے اور بے رخی کی تاریکی کی بھی قسم اُٹھا کر کہتا ہے کہ

مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَىٰ
سورۃ الضحی آیت نمبر 3

یہ لفظوَدَّعَكَوہ ہی ہے جس لفظ کو ہم الوداع کہتےہیں یعنی چھوڑ کے جانا۔مَا وَدَّعَكَکہ ہم نے آپ کو چھوڑا کب تھا۔وَمَا قَلَىٰکہ اور نہ ہی کوئی ناراضگی ہوئی تھی۔ یارسول اللہ! نہ آپ کو چھوڑ دیا تھا اور نہ ہی آپ سے ناراض ہوئے تھے۔ تین سال کی بے رُخی کی قسم اس کے بعد جو رابطہ کیا اس کی بھی قسم جو صبح کی روشنی چھائی۔ اللہ دونوں واقعات کی قسم اُٹھا کر کہتا ہے کہ آپ کو میں نے کبھی نہیں چھوڑا تھااوروَمَا قَلَىٰکہاں ناراض ہوا تھا۔مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَىٰیہ جملہ بتا رہا ہےکہ جو تین سال کا وقت اللہ نے لیا ہے اور حضوؐر سے رابطہ نہیں کیا ہے اس کے اندر وہ امام مہدی ؑ کی ذات کے حوالے سے کوئی منصوبہ بندی میں مصروف تھا کیونکہ یہ جملہ کہتا ہے کہ میں نے آپ کو چھوڑا ہی نہیں تھا اور نہ آپ سے ناراض تھا ۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر اللہ نے تین سال تک حضوؐر سے رابطہ کیوں نہیں کیا؟ اس سے پہلے کہ پوچھا جائےاللہ نے فوراً یہ آیت نازل کی کہ

وَلَلْآخِرَةُ خَيْرٌ لَّكَ مِنَ الْأُولَىٰ
سورۃ الضحی آیت نمبر 4

آپ کے دوسرے دور کی تیاری کررہا تھا۔ اس آیت کی مزید تشریح یہ ہے کہ آپؐ کا جو دوسرا دور آنے والا ہے آپؐ کے پہلے دور سے اعلٰی ہوگا اور اللہ تعالٰی اُسی میں مصروف تھا۔ یہ تین سال کی بے رخی کا جواب دیا جارہا ہے۔

سورۃ الضحی میں آپﷺکے دوسرے دور سے کیا مراد ہے؟

اللہ تعالٰی نے فرمایا کہ

وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَىٰ
سورۃ الضحی آیت نمبر 5

جو آپ کا دوسرا دور ہوگا اس میں رب کی عطا آپ کی مرضی پر چھوڑدی جائے گی۔ جو آپؐ کہیں گے بس وہ ہی ہوگا۔وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَىٰکہ میری عطا آپ کی مرضی پر ختم ہوجائے گی۔ جو آپ کی زبان سے نکلا وہ میری رضا ہوگی کہ جب آپ کا دوسرا دور آئے گا اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم امام مہدی گوھر شاہی کے روپ میں آئیں گے تو جو آپ کی زبان کہے گی وہ میری عطا ہوگی۔ جوسرکارسیدنا گوھرشاہی نے کہا ہوگا وہی میری منظوری ہوگی۔ فیصلے اوپر سے نہیں بلکہ فیصلے نیچے سے اوپر جائیں گے۔ تیرا رب اتنا دے گاکہ جب تک تم نہ کہہ دو کہ میں راضی ہوگیا۔ رب کی عطا تیری رضا پرموقوف ہوجائے گی۔ اللہسَوْفَبھی کہہ سکتا تھا لیکنسَوْفَکے ساتھللگا دیالَسَوْفَ۔سَوْفَعربی میں مستقبل کیلئے لگاتے ہیں لیکن اگرللگادو تو اس کا مطلب ہے کہ خاص مستقبل۔ خاص مستقبل سے مراد کہ مستقبل میں وہ واقعہ جب آپؐ دوبارہ تشریف لائیں گے۔ پھر یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ اوپر کیا کہا جارہا ہے۔ پھر اوپر سے پیغام نیچے آئے گا کہ نیچے کیا حکم صادر ہورہاہے۔ جو فیصلے زمین پر ہوں گے وہی رب کی رضا ہوگی جوسرکارامام مہدی گوھرشاہی فرمائیں گے وہی رب کی رضا ہوگی۔ اب اللہ نےدو جملے مستقبل کے کہہ کر آپؐ کو خوش کردیا لیکن اب اللہ ماضی کے دو جملے کہہ کرشکرگزار بنانا چاہتا ہے۔ قرآن مجید میں ماضی کے بارے میں آیا کہ

أَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيمًا فَآوَىٰ
سورۃ الضحی آیت نمبر6
ترجمہ:اور ہم نے پناہ نہیں دی جب ہم نے دیکھا کہ آپ یتیم ہیں۔

نبی کریمؐ ابتدائی طور پردائی حلیمہ کے ساتھ رہے ۔ پھر جب والدہ کا انتقال ہوگیا تو آپؐ کے دادا عبدالمطلب نے آپؐ کو اپنے پاس رکھا۔ جب آپؐ کے دادا کا بھی انتقال ہوگیا تو پھر آپﷺ اپنے چچا ابوطالب کے ساتھ رہے۔ یہاں سے یہ بات ثابت ہورہی ہے کہ عبدالمطلب کی کفالت میں بھی اللہ نے ہی دیا تھااورابوطالب کی کفالت میں بھی اللہ نے ہی دیا تھا۔أَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيمًا فَآوَىٰاور جب ہم نے آپ کو یتیم پایا تو ہم نے پناہ دی توعبدالمطلب اورابوطالب کی پناہ قرآن نے کہا کہ آپﷺکو اللہ نے دی تھی۔اس کے بعد اللہ نے فرمایا کہ

وَوَجَدَكَ ضَالًّا فَهَدَىٰ
سورۃ الضحی آیت نمبر7

اور اس کے بعد جب آپ ہمیں ڈھونڈ رہے تھے اور ہمارازمیں پر آپ کو کوئی نشان نہیں ملتا تھا تو پھر ہم نے آپ کو بتایا کہ اس طرح ہم تک پہنچو۔ اس کے بعد قرآن مجید میں آیا کہ

وَوَجَدَكَ عَائِلًا فَأَغْنَىٰ
سورۃ الضحی آیت نمبر8

اور جب ہم نےیہ دیکھا کہ آپؐ غنی نہیں ہیں تو ہم نے آپ کو غنی بنا دیا۔ آپ لوگوں کا خیال ہے کہ غنی کا لفظ غنا سے نکلا ہے اورغنا کا مطلب ہے دولت مند لیکن آپ سمجھ لیں کہ غنا زہد کا اُلٹ ہے، یعنی پرہیز گاری کا اُلٹ ۔ اس سے مراد یہ ہے کہ یا رسول اللہﷺ! جو جی چاہتا ہےوہ آپ کریں اور جس کے پاس چاہے بیٹھیں جس کو آپ چاہتے ہیں اپنے پاس بلالیں۔اس کے بعد اللہ نے فرمایاکہ

فَأَمَّا الْيَتِيمَ فَلَا تَقْهَرْ
سورۃ الضحی آیت نمبر9
ترجمہ :جو یتیم وغیرہ آئیں ان پر ظلم نہ ہونے دیں۔

پھر قرآن مجید میں آیا کہ

وَأَمَّا السَّائِلَ فَلَا تَنْهَرْ
سورۃ الضحی آیت نمبر10
ترجمہ :اور اگر کوئی مانگنےوالا آئےتواس کو بھگائیں نہیں۔

اس کےبعد پھراللہ نےقرآن مجید میں فرمایاکہ

وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ
سورۃ الضحی آیت نمبر11
ترجمہ: اور جو رب نے آپ کو نعمت دی ہے اس کا خوب چرچہ کریں۔

اسی بات سے قصیدے نکلتے ہیں اور اسی بات سے نعت شریف آتی ہے اور اسی کے تحت فضائل بیان ہوتے ہیں۔ اسی کے تحت سیرتِ مصطفٰی ﷺ بیان ہوتی ہےکہوَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْکہ جو رب نے آپ کو نعمت دی ہے اس کا خوب چرچہ کریں۔ جس طرح سرکار گوھر شاہی کی جتنی ہم کو ٹوٹی پھوٹی عظمت معلوم ہےاس کا ہم زور و شور سے ذکر کریں گے کیونکہ وہ نعمتِ گوھر شاہی ہے اور اس کا چرچہ کرنے کا حکم ہے۔ جوسرکار گوھر شاہی کی ذات میں تم نے دیکھا ہے اس کا چرچہ کرو بھلے منافقین اور مجرمین کو بُرا لگے۔ جب تک سانس رہے گا عظمتِ گوھر شاہی کا بیان ہوگا۔
مندرجہ بالا متن نمائندہ گوھر شاہی عزت مآب سیدی یونس الگوھر سے8مارچ2019 کو یو ٹیوب لائیو سیشن میں کئے گئے سوال کے جواب سے ماخوذ کیا گیا ہے۔

متعلقہ پوسٹس

دوست کے سا تھ شئیر کریں