کیٹیگری: مضامین

حج کی استطاعت سے کیا مراد ہے ؟

جو کچھ ہم عمرہ میں کرتے ہیں وہی کچھ تقریباً حج میں بھی کرتے ہیں لیکن حج کی الگ بات ہے کیونکہ حج میں اللہ کی نوازشات زیادہ ہوتی ہیں ، عمرے کے وقت اتنی زیادہ نہیں ہوتی ہے ۔قرآن مجید میں لکھا ہے کہ

فِيهِ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ مَّقَامُ إِبْرَاهِيمَ ۖ وَمَن دَخَلَهُ كَانَ آمِنًا ۗ وَلِلَّـهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا ۚ وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ اللَّـهَ غَنِيٌّ عَنِ الْعَالَمِينَ
سورة آل عمران آیت نمبر 97
ترجمہ : اس میں کھلی نشانیاں ہیں ابراہیم علیہ السلام کی جائے قیام ہے، اور جو اس میں داخل ہوگیا امان پا گیا، اور اللہ کے لئے لوگوں پر اس گھر کا حج فرض ہے جو بھی اس تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو، اور جو اس کا منکر ہو تو بیشک اللہ سب جہانوں سے بے نیاز ہے۔

لوگوں سے اس استطاعت سے مراد مالی استطاعت لے لیا ہے ۔ اگر کسی کا زریعہ معاش ٹھیلہ لگانا ہے یا کچھ اور بیچنا ہے تو اس کو حج کر نے کے لئے کتنی محنت کرنے کی ضرورت ہو گی لیکن یہ سوچ تو آج کے دور کی ہے لیکن جس وقت یہ آیت نازل ہوئی تھی اُس وقت تو سب کعبے کے اطراف میں ہی رہتے تھے ۔ خانہ کعبہ کی پرانی تصاویر دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے اس کے اطراف میں لوگوں کے گھر تھے لہذا جس وقت اس آیت کا نزول ہوا ہے اُس وقت تو استطاعت کا کوئی مسئلہ نہیں تھا ۔مولویوں نے جو یہ بتایا ہے کہ جس کے پاس مالی استطاعت ہو وہ حج کرنے چلا جائےجس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ امیر آدمی حج کر لے اور غریب آدمی حج نہ کرے ، جب اللہ کی نظر میں پیسے کی کوئی اہمیت نہیں ہے تو پھر اللہ پیسے کی بنیاد پر کسی کو اتنی بڑی چیز سے کیسے محروم رکھے گا!! اگر کوئی شخص غربت کی وجہ سے حج نہیں کر پاتا ہے تو اس میں اس کا اپنا کیا قصور ہے ، یہ بات تو پھر اللہ کی طرف چلی جاتی ہے کہ اے اللہ ! تو نے مجھے مال وزر سے نہیں نوازہ ہے کہ میں حج کر سکوں ۔لہذا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت میں جو اللہ نے استطاعت والی بات کی ہے وہ مالی استطاعت کی طرف اشارہ ہو ہی نہیں سکتا ہے کیونکہ جس وقت یہ آیت نازل ہوئی تھی اُس وقت لوگ جہاز پر بیٹھ کر حج کرنے تو نہیں جاتے تھے لہذا یہ مالی استطاعت کی طرف اشارہ ہر گز نہیں ہے ۔
حج کی استطاعت کیا ہے ؟ یہ ایک اشارہ ہے کہ جب انسان کی تکمیل ہوتی ہے ۔ جب ایک لطیفہ جاری ہو گیا یا دو لطیفے جاری ہو گئے تو ابھی کامل استطاعت نہیں آئی ۔ خانہ کعبہ کو جو اللہ کا گھر کہا جاتا ہے وہ اس لئے کہا جاتا ہے کہ بیت المامور اصل خانہ کعبہ ہے اور وہا ں سے ایک نور کی تجلی نیچے خانہ کعبہ پر پڑ رہی ہے ۔ وہ تجلی ہر وقت نہیں پڑتی ہے بلکہ ایام معدود میں پڑتی ہے اور جس وقت پڑتی ہے اُس وقت کے لئے اللہ نے فرمایا تھا کہ مناسک حج کے دوران زور زور سے شدت کے ساتھ اللہ کا ذکر کرو جسطرح تم اپنے آباو اجداد کا ذکر کرتے تھے اس سے ذیادہ ۔

فَإِذَا قَضَيْتُم مَّنَاسِكَكُمْ فَاذْكُرُوا اللَّـهَ كَذِكْرِكُمْ آبَاءَكُمْ أَوْ أَشَدَّ ذِكْرًا ۗ فَمِنَ النَّاسِ مَن يَقُولُ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا وَمَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ
سورة البقرة آیت نمبر 200

اُن ایام میں وہ تجلی خانہ کعبہ پر نیچے پڑتی ہے اور جونورکی تجلی بیت المامور سے خانہ کعبہ کے اوپر پڑ رہی ہے اس سے اپنے ساتوں لطائف کو منور کر سکواور انسانیت کی تکمیل ہو جائے ۔ اب آپ کے لطائف منور نہیں ہیں اور آپ حج کرنے کے لئے چلے گئے تو وہ تجلی پڑی اور ضائع ہو گئی آپ کا حج تو بیکار ہو گیا ۔جو علم ظاہر والے لوگ ہیں ان کی نظر میں حج کی قبولیت کا معیار ہی کچھ اور ہے یہ اس بات کو دیکھتے ہیں کہ احرام صحیح باندھا ہے یا نہیں، پاکی ہے یا نہیں لیکن حج کی حقیقت سے ناواقف ہیں ۔ حج کے سات طواف اسی لئے ہیں کہ آپ کے اندر سات لطائف موجود ہیں ۔ جن لوگوں کا نفس حج سے پہلے پاک ہو چکا ہوتا ہے پھر وہاں خانہ کعبہ میں نفس کی قربانی اللہ قبول کرتا ہے ، اور جو لوگ نفس کی قربانی نہیں کر پائے اُن کے لئے یہ ہے کہ وہ جانور قربان کریں ۔ جب ساتوں لطیفے پر تجلی پڑ جاتی ہے تو پھر وہ مومن کامل اور مر د مومن بن جاتا ہے ، اس سے پہلے صرف مومن ہے ۔ تو قرآن کا اشارہ اس باطنی استطاعت کی طرف ہے کہ اگر وہ مل جائے تو ضرور کرواور اگر نہیں ملی ہے حج کرنا رائیگاں چلا جائے گا، فیض ملنے کے لئے لطائف کی استطاعت کا ہونا ضروری ہے ۔

حاصل کلام :

خانہ کعبہ کو جو اللہ کا گھر کہا جاتا ہے وہ اس لئے کہا جاتا ہے کہ بیت المامور اصل خانہ کعبہ ہے اور وہا ں سے ایک نور کی تجلی نیچے خانہ کعبہ پر پڑ رہی ہے ۔ وہ تجلی ہر وقت نہیں پڑتی ہے بلکہ ایام معدود میں پڑتی ہے۔ اُن ایام میں وہ تجلی خانہ کعبہ پر نیچے پڑتی ہے اور جونورکی تجلی بیت المامور سے خانہ کعبہ کے اوپر پڑ رہی ہے اس سے اپنے ساتوں لطائف کو منور کر سکواور انسانیت کی تکمیل ہو جائے، حج کی استطاعت سے یہی مراد ہے کہ لطائف منور ہوں تاکہ بیت المامور سے پڑ رہی تجلی سے ساتوں لطائف منور ہو جائیں ، مالی استطاعت کی طرف ہر گز اشارہ نہیں ہے ۔

مندرجہ بالا متن نمائندہ گوھر شاہی عزت مآب سیدی یونس الگوھر سے 8 مارچ 2018 کو یو ٹیوب لائیو سیشن میں کئے گئے سوال کے جواب سے ماخوذ کیا گیاہے ۔

متعلقہ پوسٹس

دوست کے سا تھ شئیر کریں