کیٹیگری: مضامین

ایک عمومی تصور عالم اسلام میں امام مہدی کے حوالے سے پایا جاتا ہے کہ

” امام مہدی غلبہ اسلام کے لئے آئیں گے اور پوری دنیا کو مسلمان بنا دیں گے “

ؐقران اورا حادیث کی روشنی میں اگر دیکھا جائے توامام مہدی کا جو منجانب اللہ جو مقام ہے وہ آخری نبی محمد مصطفی سے بڑا تو نہیں ہے ۔ یہ کام محمدرسول اللہ نے نہیں کیا کہ پوری دنیا کو مسلمان بنا دیں تو امام مہدی کے بارے میں ایسا کیوں سوچا جاتا ہے ؟ اس تصور کی وضاحت ضروری ہے۔

کیا موسی ؑ مسلمان تھے ؟

امام مہدی کے حوالے سے مسلم علماءایسی باتیں کرتے ہیں کہ جن باتوں میں نہ تو قرآن مجید کی آیت کا ذکر ہے اور نہ احادیث کی طرف اُن کا رخ ہے ۔اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق شوشے چھوڑ دیتے ہیں ۔ بہت سے مسلمان تو یہ بھی کہتے ہیں کہ موسی ؑبھی مسلم تھے، ابراھیم ؑبھی مسلمان تھے اور یہ حوالہ دیتے ہیں کہ قرآن شریف میں موسی کے حوالے سے لکھا ہے کہ موسی ؑ نے کہا

لَا شَرِيكَ لَهُ ۖ وَبِذَٰلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ
سورة الا نعام آیت نمبر 163
ترجمہ : اس کا کوئی شریک نہیں اور اسی کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلا مسلم ہوں۔

اس آیت کو بنیاد بنا کر یہ کہہ دینا کہ وہ مسلمان تھے وہ ایسا ہی ہے جیسے قرآن شریف میں شیعہ کا لفظ آیا ہےاور شیعہ فرقے نے اپنے لئے سمجھ لیا ہے ۔موسی ؑ اگر مسلم تھے تو اُن کا دین اسلام تھا کیا !! موسیؑ کے بعد عیسیٰ آئے ہیں پھر اُن کے چھ سو سال بعد محمد رسول اللہ تشریف لائے ہیں اور اسلام کو قائم کیا ہے ۔موسی ؑ تو اسلام سے ڈیڑھ یا دو ہزار سال پہلے آئے تھے۔یہاں میں لفظ ”مسلم “ کی وضاحت بھی کر دیتا ہوں ۔ہر لفظ کا ایک اشارتی مفہوم ہوتا ہے ۔جس طرح عیسیٰ کے جو اُمتی تھے ان کو” حواری“ کہتے ہیں ، حواری کا مطلب ساتھ دینے والا ہوتا ہے ۔حضور ؐ کے زمانے میں جن لوگوں نے اُن کا ساتھ دیا اُن کو حواری نہیں کہا جاتا ۔ جسطرح انگریزی زبان میں ایک لفظ بولا جاتا ہے (Conviction)۔اس لفظ کا یہ مطلب ہے کہ آپ کے اوپر کوئی مقدمہ چلا اس میں آپ کو سزا ہو گئی تو وہ (Conviction) ہے ۔لیکن اس لفظ کا یہ بھی مطلب ہوتا ہے کہ یہ میری سوچ ہے ۔اب یہ اشارتی مفہوم ہے جس کے کئی مطلب نکلتے ہیں ۔اسی طرح ”مسلم“ کا مطلب ہوتا ہے تسلیم کرنے والا ۔
اگر موسی ؑ یہ کہیں کہ أَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ میں مکمل طور پرپہلا رب کو تسلیم کرنے والا ہوں تو اِس سے کیا مراد لیا جائے گا ؟ کیا وہ انبیاء کے حلقے میں پہلے تسلیم کرنے والے ہیں ، اُن سے پہلے جو انبیاء آئے کیا وہ اللہ کو تسلیم نہیں کرتے تھے ۔ موسیؑ کا ہر گزیہ مطلب نہیں تھا بلکہ وہ اپنی قوم کو مدّ نظر رکھتے ہوئے یہ بات کہہ رہے تھے۔کیونکہ موسیؑ کوئی مذہبی آدمی نہیں تھے اور نہ ہی اُن کو رب کی تلاش تھی ۔ وہ تو اپنی بیوی کے ساتھ سفر کررہے تھے ۔ بیوی نے راستے میں کہا کہ مجھے سردی لگ رہی ہے تو آگ کا بندوبست کرو ۔ تو آگ حاصل کرنے کےلئے وہ پہاڑی پر چڑھےکہ پتھر سے پتھر رگڑ کر آگ حاصل کروں ۔ تو وہاں انہوں نے دیکھا کہ جھاڑیوں میں آگ لگی ہوئی ہے ، وہ سہم گئے ۔ جب وہ سہم گئے تو اُس آگ میں سے آواز آئی موسی ڈرو مت میں تمھار ا رب ہوں ۔اس طرح اللہ تعالی نے اُن کو چن لیا ۔ آگ لینے گئے تھے اور نبوت مل گئی ۔سیدنا امام مہدی گوھر شاہی نے اپنی کتاب مقدس ” دین الہی “ میں تبصر ہ بھی فرمایا ہے کہ ”کیا کوئی شخص یہ کہہ سکتا ہے کہ نبی بننے کے لئے عابد ہونا ضروری ہے “ ۔ اب نبوت کے لئے یہ شرط نہیں ہے تو ولایت کے لئے کیا شرط ہو گی ۔موسی ؑ کے رہن سہن کا جو طریقہ تھا وہ فرعون کے گھر پر رہتے تھے ، مذہب کی طرف کوئی رجحان نہیں تھا ۔پہلی دفعہ اُن کو زندگی میں یہ سننے کو مل رہا ہے کہ موسی ڈرو مت میں تمھارا رب ہوں اور انہوں نے تسلیم کر لیا ۔ اس واقعے کے لئے قرآن نے کہا ہےکہ أَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ میں اپنی قوم میں پہلا اللہ پر ایمان لانے والا ہوں۔آپ یہودی ، عیسائی یا اسلام مذہب میں ہوں جب آپ نے اُس مذہب کی حقیقت کو تسلیم کر لیا تو پھر آپ مسلم ہی ہیں بھلے آپ عیسائی مذہب میں ہوں ۔

ایمان کے درجات :

ایمان کے چار درجات ہیں

  • درجہ اسلام : جو کسی مذہب کی حقانیت کو تسلیم کر لے اور حلقہ بگوش ِ دین ہو جائے وہ مسلم ہے ۔درجہ اسلام کا مطلب ہے سپرد کر دینا ۔جب آپ مسلمان بنے تو آپ نے کیا سپرد کیا اور کس کو سپرد کیا؟ آپ نے تو کسی کو کچھ سپرد ہی نہیں کیا ۔اپنے نفس کو احکامات ِ الہی کے سپرد کر دیناہی درجہ اسلام ہے ۔
  • درجہ ایمان : پھر جب اس کے قلب میں رب کا نور آ جائے تو وہ مومن ہے اور یہ درجہ ایمان ہے ۔درجہ ایمان میں آپ کا قلب سلیم ہوتا ہے ۔ اپنے قلب کو انوارِ الہی کے سپرد کر دینا ہی درجہ ایمان ہے۔
  • درجہ ایقان :جب آپ کا قلب سلیم سے منیب ہو جائے گا تو اب یہ درجہ ایقان ہے ۔یہ یقین کی منزل ہے یعنی درجہ ایمان سے بڑھ کر موقن ہو گیاہے۔اپنی سوچ اور عقل کو رب کے حوالے کر دینا ہی درجہ ایقان ہے ۔
  • درجہ احسان : اگر قلب منیب سے ترقی کر کے قلب شہید ہو جائے تو اب یہ درجہ احسان ہے ۔قلب شہید کا مطلب وہ قلب جو رب کے سامنے حاضر ہو گیا۔حدیث جبرائیل ہے کہ جبرائیل ایک صحابی کا روپ بھر کےتعلیم و تربیت کے لئے آپ ؐکے پاس آئے اور سوالات کرنے لگے کہ اسلام کیا ہے ؟ ایمان کیا ہے ؟ آپ ؐ نے اس کی تشریح فرمائی ۔ پھر ایقان کا پوچھا ، آپ نے اس کی بھی تشریح فرمائی ۔ پھر مرتبہ احسان کے بارے میں پوچھا کہ یہ کیا ہوتا ہے ؟ آپ ؐ نے مرتبہ احسان کی تشریح فرماتے ہوئے کہا کہ درجہ احسان یہ ہے کہ جب رب کی عبادت کرے تو تجھے رب نظر آئے ورنہ اگر تو اس قابل نہیں ہے کہ عبادت کے دوران رب کو دیکھے تو خود کو ایسا بنا لے کہ رب تجھے دیکھے ۔رب تمھیں دیکھے ایسا کیسے بنتے ہیں ۔اللہ تعالی نے فرمایا

إِنَّ اللَّهَ لَا يَنْظُرُ إِلَى صُوَرِكُمْ وَ اعمالِكُمْ وَ لَكِنْ يَنْظُرُ إِلَى قُلُوبِكُمْ وَ نیاتکم
ترجمہ: اللہ تعالی نہ تمھاری شکلوں کو دیکھتا ہے نہ اعمالوں کو دیکھتا ہے بلکہ تمھاری قلب اور نیتوں کو دیکھتا ہے۔

لہذا جس نے اپنے دلوں کو چمکالیا اللہ کی نظر رحمت ان کے دلوں پر پڑنا شروع ہو گئی اس طرح تم اللہ کی نظر میں آ گئے ۔اور جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ عبادت کریں اور رب کو دیکھیں تو انہوں نے قلب سے آگے کی منزل کی طرف سفر کیا ، لطیفہ انا تک پہنچ گئے ، لطیفہ انا کی تعلیم حاصل کر کے اسے بیدار کیا ۔ لطیفہ انا کے زریعے مقام محمود تک پہنچ گئے اور رب کا دیدار کر لیا ۔بلھے شاہ نے فرمایا
اساں عشق نماز جدوں نیتی اے ۔۔۔ سانوں بھل گئے مندر مسیتی اے
کہ جب سے ہم نے نماز عشق کی نیت کی ہے تو اس وقت سے مسجد اور مندر جانا چھوڑ دیا ہے ۔وہ نماز عشق کیا ہے ؟ وہ نماز عشق یہی ہےکہ تیرا جسم نماز میں رکوع اور سجود میں کھڑا ہے ، تیرے قلب میں اس کا تصدق ہے اور تیرا لطیفہ انا رب کے دیدار میں ہے ۔ پس معلوم ہوا درجہ احسان پر فائز ہونے کے لئے علم دیدار ہے ۔اور پھر جس کو درجہ احسان کے طفیل رب کا دیدار ہو جائے اُس کو محسن کہتے ہیں ۔ محسنین کے لئے قرآن میں آیا ہے کہ

إِنَّ رَحْمَتَ اللَّـهِ قَرِيبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِينَ
سورة الااعراف آیت نمبر 56
ترجمہ: اللہ محسنین کے قرب میں ہے ۔

سراپا حسن بن جاتا ہے اسکے حسن کے عاشق ۔۔۔۔۔۔بھلا دل ایسا بھی ہے کوئی حسینوں میں
اللہ تعالی نے قرآن مجید میں ایک خوبصورت بات یہ بھی فرمائی ہے کہ انسان ہم نے دو قسم کے بنائے ہیں ۔ایک وہ جو درجہ کمال پر پہنچ گئے اوردرجہ فی احسن تقویم (جن کے اندر رب کا حسن قائم ہو گیا ) کے حامل ہو گئے ۔

لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ ثُمَّ رَدَدْنَاهُ أَسْفَلَ سَافِلِينَ
سورۃ التین آیت نمبر 4

مقبول اور مردود کی تشریح:

لوگ غصے کی حالت میں ایک دوسرے کو مردود کہہ دیتے ہیں لیکن ان کو اسکا مطلب نہیں پتہ ۔مردود اُس کو کہتے ہیں جس کو رب نے رد کر دیا ہو ۔نا تمھارا رب سے تعلق ،اور نہ رب کا پتہ ہے پھر کیسے پتہ چلے گا کہ تم کو رب نے مردود کر دیا ہے ؟ اس کا طریقہ اسلام میں نہیں بلکہ ایمان میں ملے گا ۔جب تم کسی کامل ذات کی بارگاہ میں حاضر ہو گے اور پھر وہ تیری فائل لے کر اللہ تعالی کے پاس بھیجے گا اور کہے گا اے اللہ یہ تیرا دوست بننا چاہتاہے آپ دیکھ لیں کہ دوست بنانا ہے یا نہیں ۔اللہ اگر راضی ہو جائے کہ میں اس کو اپنا دوست بنانا چاہتا ہوں ۔ تو اللہ کے حکم سے دو فرشتے اس بندے کے ساتھ لگا دئیے جاتےہیں اور اُن فرشتوں کا کام یہ ہوتا ہے کہ اس بندے کی دل کی دھڑکنوں میں اللہ ھو بساتے رہیں ۔جس کو اللہ نے قبول کر لیا وہ مقبول ہو جاتاہے ۔اور اگر اللہ تعالی نے رد کر دیا کہ نہیں میں اس بندے کو اپنا دوست نہیں بنانا چاہتا ، یہ تو میرے دوستوں کو بُرا کہتاہے ، میرے حبیب کو بُرا کہتاہے یا پھر یہ کہ یوم ازل میں اس نے ایمان نہیں مانگا تھا تو اب میں کیوں اس کو ایمان دوں۔ان تمام تاویلات کے بعد اللہ کہے کہ مجھے منظور نہیں کہ میں اس بندے کو اپنا دوست بناؤں،تو جس کو اللہ نے رد کر دیا وہ مردود کہلاتا ہے ۔
اب یہ تمام معاملات باطنی طور پر ہیں تو آپ کو کیسے پتہ چلے گا کہ اللہ نے آپ کو رد کیا ہے یا نہیں کیا ہے ؟ لیکن قرآن نے عام لوگوں کو بھی پہچاننے کے لئے فارمولا بتا دیا ہے ۔قرآن نے کہا۔

أَفَمَن شَرَحَ اللَّـهُ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ فَهُوَ عَلَىٰ نُورٍ مِّن رَّبِّهِ فَوَيْلٌ لِّلْقَاسِيَةِ قُلُوبُهُم مِّن ذِكْرِ اللَّـهِ
سورة الزمر آیت نمبر 22
ترجمہ : جو یہ چاہتا ہے کہ اپنے آپ کو رب کے سپرد کر دے پھر وہ اسم اللہ سے شرح صدر کر لے ۔ اور تباہی ہے ان کے لئے جن کے دل اتنے سخت ہیں کہ اللہ کا ذکر اس میں داخل نہیں ہوتا ۔

اللہ کا ذکر قلب میں اللہ کے حکم سے داخل ہوتا ہے ۔اور اگر اللہ نے رد کر دیا ہے تو کوئی پیغمبر، کوئی مرسل ، کوئی ولی ، کوئی فقیر اُس شخص کے دل میں اسم ذات اللہ داخل نہیں کر سکتا۔ اس شخص کے لئے قرآن میں ایک اور جگہہ پر آیاہے کہ جس کو اللہ گمراہ کرنا چاہے وہ ہرگز نا پائےگاکوئی وکیل۔اگر اللہ نے رد کر دیا ہے تو اس کا پتہ اس بات سے چلے گا کہ اُس بندے کا قلب جاری نہیں ہو گا۔مسلم بننے کےلئے آپ کو تسلیم کرنا ہے لیکن مومن بننا نہ آپ کے اختیار میں اور نہ ہی مرشد کے اختیار میں ہے ۔مرشد تو سرجن کی مانند ہوتا ہے اگر دل میں کمی ہے تو وہ پیوند کاری کر کے اسے درست کر دیتا ہے ۔لیکن اس کو زندگی دینا سرجن کا کام نہیں اللہ کا کام ہے ۔مرشد کا کام یہ ہے کہ اُس بندے کی فائل لے کر اللہ کے پاس جائے اور کہے کہ یہ بندہ آپ سے دوستی کرنا چاہتا ہے اب آپ دیکھیں کیا کرنا ہے ۔اگر اللہ راضی ہو جائے تو کہتا ہے تم اس کی گارنٹی لے لو۔ اور سیدنا گوھر شاہی امام مہدی کی آمد سے قبل مرشد گارنٹی اتنے آرام سے نہیں لیتا تھا۔مرشد خون چوس لیتا تھاسارے کس اور بل نکال دیتا ہے پھر گارنٹی لیتا تھا۔اور جنھوں نے گارنٹی لی انہوں نے منہ سے بات نہیں کی انہوں نے ڈنڈا رکھا ہوا تھا کہ سیدھے سیدھے چلو ۔  ایک حدیث میں آیاہے کہ

”مرید مرشد کے ہاتھوں میں ایسا ہوتا ہےجیسے مردہ غسال کے آگے ہوتا ہے “

مرشد مرید کے ساتھ جوچاہے معاملہ کرے ،مرید کو حق ہی نہیں ہے ۔ کیونکہ مرشد نے گارنٹی لی ہوئی ہے ۔ اور مرشد کو اللہ نے کہا ہوا ہے کہ میرے پاس لانے سے پہلے اس کو بارہ سال کا رگڑا لگانا ہے جب نفس میں طہارت و پاکی آ جائے اس کے بعد پھر منظوری کےلئے لانا۔جیسے بلھے شاہ کی مثال دیتا ہوں کہ ان کے مرشد کے بیٹے کی شادی تھی ۔ بلھے شاہ سید زادے تھے اور ان کے مرشد آرائیں تھے ۔بلھے شاہ مرشد کے بیٹے کی شادی میں نہیں آئے کہ میں کیا کروں گا شادی میں جا کر یہ کوئی روحانی کام تو ہے نہیں ۔اس بات پر مرشد بلھے شاہ سے ناراض ہو گئےاور بلھے شاہ کا ذکر بند کر دیا ۔ پھر بلھے شاہ نے کئی جتن کئےاور ناچے تب مرشد کو راضی کیا ۔ جسطرح ماں اپنے بچے کو اپنی کوکھ میں نو مہینے پالتی ہے اور مرشد وہ ہے جس نے اس غلیظ انسان کو اپنے سینے سے چمٹایا ہوا ہے ۔ اس کو نوری دودھ پلا کر اس کی پرورش کر رہا ہے اور اس وقت تک پرورش کرنی ہے جب تک وہ بندہ رب سے واصل نہ ہو جائے۔وہ گارنٹی اور سختی اسی لئے ہے کہ یہ سیدھا سیدھا چلتا رہے ،گمراہ ہو کر بھٹک نہ جائے ، رب تک اس کو پہنچا کر چھوڑوں گا۔
درجہ اسلام تو آپ کے اپنے اختیار میں ہے لیکن مومن بننے کے لئے رب کی اجازت کی ضرورت ہے ۔ اب اسلام کا غلبہ امام مہدی کیوں کریں گے اس کی تو ضرورت ہی نہیں ہے ۔ تو مسلمان بنانے کےلئے جو کام تمھارے اختیار میں ہے اُس کام کے لئے اللہ تعالی امام مہدی کو کیوں بھیجے گا !! جو کام آپ خود کر سکتے ہیں اُ س کے لئے اللہ تعالی دو ہزار سال پہلے اعلان کر دیتے ہیں کہ دور آخر میں ایک ہستی کو بھیجوں گا ۔حضور ؐ بھی اس ہستی کی یاد میں زارو قطار آنسو بہاتے ہیں ، صحابہ کرام اور حضرت علی بھی اس ہستی کی یاد میں روتے ہیں اور غوث اعظم بھی اس ہستی کی یاد میں روتے ہیں اور یہ تمنا کرتے ہیں کہ کاش میں اُن کا دیدار کر پاتا ۔ اسی وجہ سے انہوں نے اپنے پوتے ”حیات الامیر “ کو کہا کہ ”جب تک نہ مرنا جب تک میرا سلام امام مہدی تک نہ پہنچا دو “ اور وہ چھ سو سال زندہ رہے ۔مری کی پہاڑی بارہ کوہ میں آج بھی اُن کے بیٹھک کے نشان موجود ہیں ۔ چھ سو سال بیٹھ کر وہ امام مہدی کا انتظار کرتے رہے کہ میں اپنے دادا کا سلام پہنچا دوں ۔جس ہستی کا انتظار اتنی شدت سے ہو رہا ہے اور وہ لوگوں کو مسلمان کرنے کےلئے آئیں گے!
امام مہدی اسلام کے لئے نہیں آ رہے بلکہ اُس کام کے لئے آ رہے ہیں جس کے لئے تمھیں اللہ کی اجازت کی ضرورت ہوتی ہے اور تم میں کوئی ایسا نہیں ہے جو اللہ کی اجازت کے قابل ہو جائے محمد رسول اللہ نے انہی لوگوں کو اللہ کی اجازت لے کر دی جنہوں نے اُن کا دین اختیار کیا ۔ امام مہدی کو اللہ تعالی اس لئے بھیج رہا ہے کہ پوری انسانیت بھلے کسی بھی مذہب سے تعلق ہو یا نہ ہو، سب کو اللہ کی اجازت لے کر دیں گے ۔

”امام مہدی کا آنا غلبہ اسلام کے لئے نہیں ہے بلکہ غلبہ عشق الہی کے لئے ہے “

متعلقہ پوسٹس
دوست کے سا تھ شئیر کریں