کیٹیگری: مضامین

مسلمان اس وقت ابتر حالت میں اسی لیے ہیں کیونکہ انہوں نے دین کوچھوڑ دیا ہے۔عورتوں کی بے حیائی عام ہو چکی ہے۔مسلم قوم اخلاقیات سےاس درجہ گرچکی ہے کہ دین اسلام تو ایک طرف اب لوگوں میں انسانیت تو بہت دور آدمیت بھی ختم ہوچکی ہے۔ ایک وقت یہ تھا کہ کلمہ کا کہ اثر ایسا تھا ، لوگوں میں مروت تھی ، آنکھوں میں حیاء اور رشتوں کا پاس ہوتا تھا، لیکن اب یہ دور ہے کے کسی رشتے کا تقدس قائم نہیں رہا۔ پھر بھی لوگوں کو ایسا مسلمان ہو نے پر فخر ہے۔قرب قیامت کی تمام نشانیاں ہمارے سامنے ہیں ۔ ایک حدیث میں ہےکہ
لوگ صبح مومن اور شام کو کافر ہوں گے۔
امریکی صدر ابامہ کہتا ہے دہشت گرد دہشت گرد ہے یہ مسلمان نہیں ہیں ۔اسلام کے نام کی اتنی پرواہ ہے لیکن مسلمانوں کو اس کی پرواہ نہیں ہے، سعودیہ عرب کے شیوخ کو ہی دیکھ لیجئے ان کا پیسہ ان کی دولت انھی کے لیے ہے عوام تو بھوکی مر رہی ہے، ساری دنیا سے اسلحہ خرید کر یمن میں لوگوں کو مار رہے ہیں ۔لوگوں کو صوفی ، سنی یا شیعہ ہونے کی بنا پر موت کے گھاٹ اتار دینا مذہبی شدت پسندی اور جنونیت نہیں تو اور کیا ہے ہم اس کے خلاف ہیں ۔ جوغلط ہے اللہ اس کا فیصلہ کرے گا ، اللہ نے یوم محشر کس لیے لگایا ہے؟ آپ کو کیسے معلوم ہوا وہ صحیح مسلمان نہیں ہے، کیونکہ امتی تو آپ بھی نہیں ہیں ۔آج مسلمان سنی شیعہ، وہابی ، اہل حدیث ہے کوئی یہ نہیں کہتا میں محمد رسول اللہ کا امتی ہوں۔اسی لیے آج مسلمان پوری دنیا میں ذلیل و رسوا ہے۔

لوگوں میں حیاء نہ ہونے کی وجہ کیا ہے؟

دانشوروں کا خیال ہے ،ہالی وڈ اور بالی وڈ کی فلموں کی وجہ سے لوگوں میں سے حیاء چلی گئی ہے ، لیکن قرآن و حدیث کا جواب کچھ اور ہے ۔حدیث میں ہے کہ

الحیاء جز من الایمان ۔
ترجمہ : حیاء ایمان کا حصہ ہے۔

مثال کے طور پر کار خریدتے وقت اس کے پارٹس الگ الگ نہیں خریدے جاتے کیونکہ یہ سب کار کا حصہ ہیں ۔اسی طرح اگر ایمان ہو گا تو حیاء بھی ہو گی ، ایمان نہیں ہوا تو حیاء بھی نہیں ہوگی۔اب یہ جو دہشت گردجو خود کو مجاہد کہتے ہیں یہ مجاہد واقعاتا سچے مسلمان ہوتے تو کیا لوگوں کی مساجد جلاتے جہاں مسجد کے ساتھ ساتھ قرآن بھی جل جاتے ہیں ۔اللہ کا گھر بھی تباہ ہوتا ہے ۔اس کا مطلب یہ ہے جو بھی آپ کا فرقہ ہے باطل ہے۔اگر قرآن شریف کسی کافر نے پکڑا ہوتو کیا قرآن کی بے حرمتی جائز ہے؟ اسی طرح مسجد جس کی بھی ہے مسجد تو اللہ کا گھر ہے ، اس میں قرآن و حدیث بھی رکھا ہوا ہے ۔اگر تم اللہ والے ہو تو اللہ کے گھر اور اللہ کے کلام کا پاس کیوں نہیں کیا وہ تو صحیح قرآن ہے اور صحیح مسجد ہے۔اس کا مطلب ہے آپ کا اسلام اور اللہ سے دور دور کا کوئی واسطہ نہیں ہے ۔یہ تو بس ایک فرقہ پرستی ہے ۔آپؐ نے فرمایا ایک فرقہ ناجی ہو گا ۔ ناجی اس کو کہتے ہیں جس کو نجات ملے گی وہ قرآن و حدیث پر عمل کرنے والا ہو گا۔اس وقت ہر فرقے والا قرآن و حدیث سے زیادہ اپنے فرقےکے عالم و مولوی کی بات کو زیادہ ترجیح دیتا ہے ۔اور اس کی توجیح یہ دیتے ہیں کے ہم کو قرآن کی سمجھ نہیں ہے اس لیے ہم عالموں سے پوچھتے ہیں ۔تو کیا جب لاکھوں کروڑوں کا کاروبار کرتے ہو تب بھی ان ہی سے پوچھتے ہو؟ لوگ پائلٹ بن گئے ، خلاء میں چلے گئے یہ تو سمجھ آ رہا ہے لیکن قرآن سمجھ نہیں آرہا۔یہ سب جھوٹ کا پلندا ہے ، لوگوں کو اب ایمان نہیں چاہئیے، اللہ سے تعلق نہیں چاہیے۔ اس وقت ایمان دنیا سے رخصت ہو چکا ہے۔ اب لوگوں کو اللہ کے بجائےخود نمائی ، ریاکاری ، پیسہ اورعیاشی چاہئیے۔لوگ خود پرست ہو چکے ہیں ۔

علم نجوم کی تشریح:

علم نجوم کتابوں کا علم نہیں ہے اگر ہوتا توکوئی بھی پڑھ کرنجومی بن جائے۔ نجومی لفظ’’ نجم ‘‘سے نکلا ہے، نجم کا عربی میں مطلب ہے ستارہ۔امام جعفر صادقؓ کے پاس علم نجوم تھا۔ اس لیے اس علم کو ’’علم جعفر‘‘ بھی کہتے ہیں ، اس علم میں ستاروں کی چال دیکھ کر حساب کتاب لگاتے ہیں ۔حضور پاک نے امام مہدی کے بارے میں فرمایا، امام مہدی عرب والوں سے ان کی سلطنت چھین لیں گے۔مستقبل کی پیشنگوئی کے لیے مختلف ذرائع ہوتے ہیں۔ان میں سےایک علم نجوم ہے۔ لیکن محمد رسول اللہ نے علم نجوم کے ذریعےپیشن گوئی نہیں کی۔جب حضورؐ معراج میں قرب اللہ اورقاب قوسین کے مرحلے کو بیان فرمایا کہ

’’اللہ رب العزت نے اپنا دایاں ہاتھ میرے شانوں پر رکھا جس سے مجھے پورے وجود میں ٹھنڈک محسوس ہوئی اور چودہ صدیوں تک کے حالات منکشف ہوگئے‘‘

اُسی وقت اللہ تعالی نے مختلف مناظر دکھائے جس میں ایک منظر یہ بھی تھا جس میں خنزیر مسجد میں بیٹھ کرخطبے دے رہے ہیں ، قرآن کی تلاوت کر رہے ہیں۔حضور نے فرمایا صحابہ کرام سے ان واقعات کا ذکر اس لیےنہیں کیا کے وہ ان کونہ سمجھتے ہوئے پریشان ہو جاتے۔ایک منظر یہ دیکھا مسجد کے منبر پر لوگ بیٹھے ہیں اور زبان سانپ کی مانند نکل نکل کر لوگوں کو ڈستی ہے دل آزاری کرتی ہے۔آج یہ ہی تو ہو رہا ہے یہ مولوی ملا اپنی تقریروں سے فرقہ ورانہ فسادات میں ملوث کر کے لوگوں کی دل آزاریاں کرتے ہیں ۔اسلام میں نئے نئے مسئلے بنا لیتے ہیں۔ کبھی بشر اور نور کا جھگڑا چھیڑ دیتے ہیں ،کبھی کہتے ہیں اللہ جھوٹ پر قادر ہے ۔کوئی کہتا ہے حضور نور ہیں کوئی کہتا ہے ان کا نام لینا شرک ہے۔کبھی ولایت کو نہیں مانتے، جبکہ قرآن میں سب موجود ہے۔
حضور پاکؐ کےعلم کی بنیاد علم نجوم نہیں ہے، وہ علم براہ راست اللہ سے ان کو ملا ہے۔ اللہ نے جس قدر نوازا بس وہ ہی ہے ان کے پاس۔ان کا اپنا کچھ نہیں ہے ، کسی کے پاس جو کچھ بھی ہے وہ اللہ ہی کی عطا ہے۔سنی بریلوی کہتا ہے حضور کا علم ذاتی تھا، وہابی کہتا ہےنہیں وہ اللہ نے عطا کیا تھا۔ محبت میں بڑھا چڑھا کر بات کرنے سے ہو سکتا ہے تم عزت گھٹا رہے ہو۔ آدم صفی اللہ کی یا کسی بھی نبی کی قدر ومنزلت اس لیے ہے کے اللہ نے ان کو پیغمبر بنایا۔ان کے مراتب وہ ہی ہیں جو اللہ نے ان کو عطا کیے ہیں ، کسی کی عزت نہ کوئی گھٹا سکتا ہے نہ بڑھا سکتا ہے۔ مقام عظمت مرتبہ اللہ دیتا ہے ، اللہ نے عظیم بنایا تو عظیم ہوئے ، لیکن لوگ ان باتوں کو لے کر لڑتے ہیں ۔قرآن میں صاف صاف کہا

وَتُعِزُّ مَن تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَن تَشَاءُ
سورۃ آل عمران آیت 26
ترجمہ : جس کو چاہوں عزت دوں جس کو چاہوں ذلت دوں

رزق ایمان ہدایت اورعطائیں کرنے والا اللہ ہی ہے اسمیں دو رائے ہو نہیں سکتی۔ لیکن مسلمانوں کا حال دیکھیں کسی نے صحابہ کرام کا جھنڈا چڑھا دیا ، کسی نے اہل بیت کی عظمت کو ایسا بڑھا چڑھا دیا کہ باقی بے وقوف لگنے لگے۔اصل حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے جس کو جیسا مقام مرتبہ اور عزت دی ہے آپ اسی حساب سےانکی عزت و تکریم کریں کیونکہ کسی کے عزت بڑھانے یا گھٹانے سے حقیقت تو تبدیل نہیں ہوگی ہاں البتہ آپ کا ایمان تباہ ہو جائے گا۔علم نجوم سے یہ تو معلوم کیا جا سکتا ہے کہ مستقبل میں کیا ہونے والا ہے ۔لیکن علم نجوم اللہ سے ملا نہیں سکتا، یہ علم یوم محشر میں شفاعت نہیں کرا سکتا۔ اللہ سے ملانے والا علم اللہ کی جانب سے آتا ہے۔کسی علم کے سچے ہونے کی دلیل بھی یہ ہے کے علم کے سچے ہونے کی یا کسی اللہ کے بندے یا ولی کی تصدیق بھی وہ علم کرائے گا۔اگر وہ اللہ کا ولی ہوا توانسان کا رابطہ اللہ سے کروا دے گا۔ہم بھی مارے مارے پھر رہے تھے جب سرکار گوہر شاہی کے سامنے پہنچے تو آپ نے فرمایا شیعہ ، سنی اور ہابی یہ سب چیزیں بھول جائو ، تم بس صرف اللہ کی محبت حاصل کرو۔اس کا طریقہ ہم بتا دیتے ہیں ۔کہ یہ جو دل کی دھڑکنیں ہیں ہر دھڑکن کے ساتھ ایک کے ساتھ ’’اللہ ‘‘ اور دوسری کے ساتھ’’ ھو‘‘ ملائیں ۔ آیت الکرسی میں قران کا مغز ’’اللہ ھو ‘‘ عطا ہوا ہے۔ اللہ ھو کا رگڑا لگتا گیا اور نور بنتا گیا ایک دن دیکھا کہ خوش خط دل کے اوپر لفظ ’’اللہ ‘‘ لکھا ہوا نظرآ رہا ہے ۔اور پھر قرآن سے اس کی تصدیق بھی ہو گئی کہ یہی ایمان ہے ۔قرآن مجید میں لکھا ہے

أُولَـٰئِكَ كَتَبَ فِي قُلُوبِهِمُ الْإِيمَانَ
سورة المجادلة آیت 22

کہ مومن وہ ہیں جن کے دلوں پر ہم نے ایمان نقش کر دیا اور لکھنے کے لیےسب سے بہتر لفظ’’ اللہ ‘‘ ہی ہے۔جو آپ کے دلوں کو اللہ اللہ کرنے کا طریقہ سکھا دےوہ اللہ والا ہے ، یا آپ کے دلوں پر اسم اللہ لکھ دے وہ اللہ والا ہے۔مولوی نماز روزہ سکھانے میں ہی لگے رہتے ہیں جبکہ ان نمازوں نے تو ادھر ہی رہ جانا ہے۔ کیونکہ حضور نے فرما دیا۔ لا صلوۃ الا بحضور القلب
قلب کے حا ضری کیا ہے کہاں سے آئے گی ؟ یہ کوئی بتاتا ہی نہیں ہے۔یہ بات پھر صوفیاکرام نے بتائی کہ یہ جو دل ہے اس کے اوپر ایک فرشتہ ہے اگر تم کو کو ئی منجانب اللہ رہبر مل جائے جس کو اللہ نے بھیجا ہو کہ لوگوں کو ہدایت دے،تو اللہ کی اجازت سے دل کی دھڑکنوں کو اللہ ھو میں لگا دے۔پھر تم سوتے رہنا دل اللہ اللہ میں لگا رہے گا۔ ابھی بھی دل دھڑک تو رہا ہے لیکن یہ دھڑکنیں بے کار جا رہی ہیں کسی کو پرواہ ہی نہیں ہے۔ایک دفعہ حضورؐ نے حضرت علی سے کہا ان عینی تنامان ولا ینام قلبی ہم سوتے ہیں ہمارے دل نہیں سوتے۔
اگر سوچا جائے دل کا کام تو سونا ہے ہی نہیں ، دل سو گیا تو بندہ تو مر جائے گا، یہ ایک روحانی اشارہ ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ آنکھیں بند ہو جائیں توعبادت رک جاتی ہے لیکن جب کسی کا دل بیدار ہو جائے تو آنکھیں بند ہو بھی جائیں یعنی وہ سو بھی جائے تب بھی اس کا دل اللہ اللہ کرتا رہتا ہے۔فارسی میں ہے
دست بہ کار دل بہ یار۔۔۔۔۔۔ ہاتھ کام کاج میں اور دل یار یعنی اللہ سے جڑا ہوا ہے۔بابا۔ سلطان صاحب نےپنجابی میں کہا۔۔۔۔۔۔ہتھ کار ول دل یار ول
سیدنا گوہر شاہی نے بالکل سچے راستے کا پتہ دیا جو کہ راہ ہدایت ہے۔کتاب کی ہدایت الفاظ کی ہے، ایک ہدایت نور سے ہوتی ہے جب کوئی دل کو اللہ اللہ کرنا سکھا دے اور اسم اللہ کی تکرار سے بننے والا نور قلب میں داخل ہو جائے تو اس کو کہیں گے نور کی ہدایت مل جانا۔قرآن وحدیث تو جس کا جی چاہے پڑھ لے ،بھلے کافر قرآن پڑھے یا منافق ، اللہ کو کوئی پریشانی نہیں ، لیکن دل میں اللہ کا نام بسانے کا کام اللہ نے اپنے ہاتھ میں رکھا ہے، یہاں تک کے اللہ نے یہ کام حضور کو بھی نہیں دیا۔قرآن میں لکھا ہے کہ

إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَـٰكِنَّ اللَّـهَ يَهْدِي مَن يَشَاءُ
سورة القصص آیت 56
ترجمہ : یا رسول اللہ ایسا نہیں ہوگا کہ آپ کو کوئی بندہ پسند آ گیا اور آپ اسے ہدایت دے دیں ،جس کو ہم چاہیں گے ہدایت دیں گے۔

جب یہ کام اللہ نے حضور کو نہیں دیا تو کسی اور کو کیا دے گا۔قرآان میں ایک جگہ اور کہا

يَهْدِي اللَّـهُ لِنُورِهِ مَن يَشَاءُ
سورۃ النور آیت 35
ترجمہ : جس کو اللہ چاہتا ہےا س کو نور سے ہدایت دیتا ہے۔

یہ پڑھنے کے بعد بھی کوئی گھر پر بیٹھ جائے تو ہدایت کیسے ملے گی۔ کیسے معلوم ہو گا میں ہدایت پر ہوں یا نہیں ؟ اس کے لیے اللہ کا انتظام ہےایسے رہبر ڈھونڈنے پڑتے ہیں جن کو اللہ زمین پر ہدایت دینے کے لیےاپنا نمائندہ اور اپنا خلیفہ مقررکرتا ہے۔ قرآن مجید میں ان کے بہت سے نام ہیں ۔ عام طور پرلوگوں نے صرف ایک لفظ مرشد کا نام سنا ہے۔سورہ کہف ۱۷ میں اللہ نے کہا ۔

وَمَن يُضْلِلْ فَلَن تَجِدَ لَهُ وَلِيًّا مُّرْشِدًا
سورۃ الکھف آیت 17
ترجمہ : جس کو میں گمراہ کرنا چاہوں اس کو مرشد عطا نہیں کرتا ۔

کہ ہدایت والا وہی ہو گا جس کو اللہ نے ہدایت دی ہے ۔یہ تو ہدایت کی بات ہے لیکن اگر کسی کو گمراہ کرے گا تو اس کے لیے کہا وَمَن يُضْلِلْ جس کو وہ گمراہ کرے فَلَن تَجِدَ لَهُ وَلِيًّا مُّرْشِدًا تو اس کو کوئی مرشد عطا نہیں کرے گا ۔اللہ جن مرشدوں کو بھیجتا ہے وہ لوگوں کو اللہ اللہ کرنے کا طریقہ سکھاتے ہیں۔مرشد لفظ ’’رشد ‘‘ سے نکلا ہے جیسے خلفائے راشدین۔ راشد ، رشدسے نکلا ہے ،کچھ مرشد سے بھی بڑے ہیں ان کا باطن میں لقب’’ وکیل اللہ ‘‘ ہے۔
ان کو بروکر بھی کہہ سکتے ہیں ۔فرض کیا کسی گناہ گار بندے نے دعا کی اے اللہ! میں گناہ گار ہوں کاش تو مجھے مل جائے مگر بات نہیں بنتی پھر اس کو کوئی مرد کامل ٹکرا جائے اور بتائے تیری تقدیر میں ایمان تو ہے لیکن تمہارے گناہ بہت زیادہ ہیں ۔ جو طریقہ تم کو سکھائیں گے وہ تم پر اثر نہیں کرے گا ،تم فلاں عمل کرو میں اس عرصے میں تمہارے لیے کوئی وکیل اللہ ڈھونڈتا ہوں ۔ تاکہ وہ وکیل اللہ سے تمہاری منظوری لے کہ یہ بندہ تیرا ہونا چاہتا ہے لیکن اس کے گناہ بہت زیادہ ہیں ، اب بات ساری اللہ کی منظوری پر ہے کے وہ اپنا اسم دے یا نہ دے۔جس کی منظوری اللہ کی جانب سے ہو جاتی ہے، اس کے سارے گناہ اللہ معاف کر دیتا ہے تب وہ مرشد اس بندے کے قلب کو اللہ اللہ میں لگا دیتا ہے۔قرآن میں ہے

اے مومنوں جب تم سے کوئی فحش کام ہو جائے تومحمد کے پاس جائو اور محمد کو وسیلہ بنا کر مجھ سے مانگو تو میں تمہیں بخش دوں گا۔

اسی طرح وہ وکیل بندے اور اللہ کے درمیان وسیلہ ہے۔دلوں کو اللہ اللہ میں لگانا بڑا ضروری ہے۔ کیونکہ لوگوں کا دل ہی تو دنیا میں لگا ہوا ہے ، داڑھی ،عمامہ ، نماز سب ہے مگر دلوں میں شیطان ۔ داڑھی گناہ کرنے کا لائسنس ہے ، دس دس حج کرنے کے بعد بھی چور ہیں جب تک دل نہیں بدلے گا آپ نہیں بدلیں گے۔بخاری شریف کی ایک حدیث میں ہےکہ

ان فی جسد بنی آدم مضغتہ اذا صلحت صلح الجسد کلہ الا وھی القلب
( بحوالہ مشکوٰة شریف)
ترجمہ : اے بنی آدم تیرے جسم میں گوشت کا ایک لوتھڑا ایسا ہے کہ اگر اسکی اصلاح ہو جائے تو پورے جسم کی اصلاح ہو جائے ۔یاد رکھ وہ تیرا قلب ہے۔

ہم نے اس دل کو پاک صاف کرنا ہے ، دل اللہ کے نام سے ہی تو پاک صاف ہو گا، کیونکہ دل کا وضو پانی سے نہیں ہوتا۔ایک حدیث میں ہے جس کے قلب میں رائی برابر تکبر بھی دل میں ہوا تو وہ جنت کے قابل نہیں ۔اب کسی کو اس تکبر کو دل سے نکالنے کا طریقہ ہی معلوم نہیں ۔تکبر تو اس وقت انسان کا سب سے بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے،جس کے پاس پیسہ ہو یا چار پانچ لڑکے ہو جائیں تو چال ہی بدل جاتی ہے۔اب یہ تکبر دل سے جائے گا کیسے ؟ اگر تکبر نماز روزے پڑھنے سے نکل جاتا تو ان نمازوں سےتو اب تک نکل چکا ہوتا۔دل سے تکبر اسی وقت نکلے گا جب دل پاک ہو گا۔

دل ناپاک کیسے ہوتا ہے؟

حضور کا ارشاد گرامی ہے، بندہ جب کوئی گناہ کرتا ہے تو کراما کاتبین اس گناہ کوکتاب میں درج کر لیتے ہیں اور ساتھ ہی ایک سیاہ دھبہ دل پر لگا دیتے ہیں ۔گناہوں کی کثرت سے وہ سیاہ دھبے دل ہی کالا کر دیتے ہیں۔ جب دل پورا کالا ہو جائے تو کوئی قرآن ، حدیث ، نصیحت اثر نہیں کرتی۔ ایسے لوگوں کی نشانی یہ ہے وہ زیادتی کریں گے، بدزبانی کریں گے، عزتیں اچھالیں گے کسی بات کا ان پر اثر نہیں ہو گا، انسان کے اپنے گناہوں سے دل کالا اور ناپاک ہو تا ہے۔ جب صحابہ کرام نے یہ سنا تو پریشان ہو گئےاور پوچھا اس کا علاج کیا ہے؟ حضورؐ نے فرمایا

لکل شئی ثقالہ، ثقالۃ القلوب ذکر اللہ
ہر چیز کو دھونے کا کوئی نہ کوئی آلہ ہے،دل کو دھونے کے لئے ذکراللہ ہے ۔

جب اللہ کا نور جائے گادل میں نور ،ایمان، روشنی جائے گی، پھر آپ مومن اور امتی بنیں گے ۔اب کردار میں حیاء بھی ہوگی، خوف خدا بھی ہو گا، اب کسی سے زیادتی نہیں کریں گے، کسی بے گناہ کا مال نہیں ماریں گے۔مکر ، جھوٹ اور نفاق سے دورہو جائیں گے۔قلب میں نور کا جانا ہی ایمان ہے۔حضور کے دور میں کچھ اعرابی جنہوں نے کلمہ پڑھ لیا تھا ، انہوں بڑے بڑے صحابہ کو کہا تم اگر مومن ہو تو ہم بھی تو مومن ہیں ۔ اللہ نے فوراآیت نازل کی

قَالَتِ الْأَعْرَابُ آمَنَّا ۖ قُل لَّمْ تُؤْمِنُوا وَلَـٰكِن قُولُوا أَسْلَمْنَا وَلَمَّا يَدْخُلِ الْإِيمَانُ فِي قُلُوبِكُمْ
سورة الحجرات آیت نمبر 14

اعراب نے کہا ہم مومن ہیں ، اللہ نے کہا ان کو کہہ دو تم کلمہ پڑھ کرمسلمان ہوئے ہو اسلام لائے ہو مومن تم نہیں ہو ، مومن اس وقت بنو گے جب قلب میں اسی کلمہ کا نور اتر جائے گا۔جن کے دلوں میں لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ نہیں اترا انہوں نے مسلمان ہو کر مولا علی، امام حسین اور حضور کے گھرانےکو شہید کیا، نفاق کیا۔ یہاں تک کے حضور کا ادب نہیں کیا۔آج یہ وہ ہی مسلمان ہیں جو دوسروں کے گلے کاٹ رہے ہیں ، ان کے دلوں میں ایمان نہیں ہے اسلام ان کے زبان پر ہے۔مومن وہ ہے جس کے قلب میں کلمہ کا صدق اترے۔ جب یہ چیز امت سے چلی گئی تب امت بہتر تہتر فرقوں میں بٹ گئی۔ آج اسلام کا کہیں نام و نشان نہیں ہے ،ہر طرف فرقہ واریت پھیلی ہوئی ہے، ہر طرف مسلمان ذلیل و رسوا ہو رہا ہے۔
جبکہ امت مصطفی کے لیے تو کہا یہ امت بہترین امت ہے۔ جس کو ہم نے نکالا ہے کہ یہ امت پوری دنیا کو ہدایت دے۔ ہدایت تو کیا دے گی الٹا ساری دنیا اس امت کو ذلیل کر رہی ہے۔کیونکہ ہم میں وہ اوصاف ہی نہیں رہے جو محمد رسول اللہ کے امتی کے اوصاف ہیں ۔ امتی تو وہ تھے جن کے سینوں میں اللہ کا نور تھا، جن کی آنکھوں میں ایمان کی روشنی تھی۔ جب وہ نور نکل گیا تو امت سے نکل گئے۔آج ہم سنی ، شیعہ، بریلوی ، وہابی ، سلفی ، اہل حدیث ہیں ہم امتی نہیں رہے، کیونکہ سینوں سے نور نکل گیا ہے اب وہاں شیطان بیٹھا ہے۔

متعلقہ پوسٹس

دوست کے سا تھ شئیر کریں