کیٹیگری: مضامین

نوری رشتہ کیا ہوتا ہے ؟

فرمان ِگوھر شاہی ہے کہ ہم تمھیں بیعت نہیں کرتے بلکہ ہم تمھیں کسوٹی دینا چاہتے ہیں ، ہم تمھیں جوہر ی بنانا چاہتے ہیں ۔ پہلے جوہری بن جاؤ پھر ہیرے کی تلاش میں نکلنا ، ملے گا ہیرا تو اصلی ہی ملے گا۔ سیدنا گوھر شاہی کا یہ بھی فرمان ہے کہ چور کو چور پہچانتا ہے اور ولی کو ولی پہچانتا ہے ، تم کسی ولی کو پہچان نہیں سکتے کہ کون ولی ہے لیکن ایک طریقہ کسوٹی کا ہے جو ہم تمھیں بتا دیتے ہیں ، پہلے اپنے دل کو اللہ کے ذکر سے آباد کر لو ، ذاکر قلبی بن جاؤپھر داتا صاحب کے دربار پر چلے جانا ، داتا صاحب میں بھی اللہ ہے اور تمھارے دل میں بھی اللہ ہے ، تمھارے دل کا اللہ جب داتا صاحب کے اللہ سے ٹکرائے گاتو رقت طاری ہو جائے گی اور دھڑکنیں تیز ہو جائیں گی۔پھر سلطان صاحب کی طرف چلے جانا اُدھر بھی اللہ ہے اور تمھارے اندر بھی اللہ ہے ، اُدھر کا اللہ جب تمھارے سینے کے اللہ سے ٹکرائے گاتو رقت طاری ہو جائے گی سمجھ جانا ولی تھا۔ پھر تم اپنے مرشد کے پاس چلے جانا لیکن اب تو ولائیت ختم ہو گئ ہے اب کس کے پاس جائیں گے ۔ لیکن جس نے ذکر چلایا ہے کیا اب اس کو جا کر پہچانیں گے !! نہیں ایسا نہیں ہے بلکہ یہ کسوٹی اس مہدی فاؤنڈیشن کو پہچاننے کے لئے سرکار گوھر شاہی نے عطا کی تھی تاکہ حق تمھارے سمجھ میں آ جائے۔ کسوٹی جب ہو گی تو جہاں دل تمھیں بٹھائے وہاں بیٹھ جانا ۔ جس کی محفل میں بیٹھنے سے دل اللہ اللہ میں لگ جائیں وہی اللہ کا دوست ہے ۔پھر سرکار گوھر شاہی کے پاس بھی گئے لیکن جیسی کیفیت وہاں ہوتی تھی ویسی کیفیت کہیں اور نہیں ہوتی ہے، پھر وہ کیفیت جو سرکار گوھر شاہی کے پاس جانے سے ہوتی تھی وہ کیفیت ڈھونڈنے کے لئے لوگ کوٹری چلے گئے لیکن وہ وہاں نہیں ملی ، پھر وہ کیفیت مزاروں پر بھی نہیں ملی ، تو پھر وہ کیفیت کہاں ہے ؟ یاد کریں سرکار گوھر شاہی نے فرمایا تھا کہ “سارے آستانے والے انٹرنیٹ لگا لو اب ہمارے پیغامات تمھیں انٹرنیٹ کے زریعے ملیں گے”۔ اب وہ پیغامات ہی نہیں بلکہ وہ صحبت بھی انٹرنیٹ کے زریعے جا رہی ہے اور خوشبوئے گوھر شاہی بھی پھیلنا شروع ہو گئی ۔
ہے وہی تیرے زمانے کا امام ِ برحق ۔۔۔ جو تجھے حاضرو موجود سے بیزار کرے
جس کی صحبت میں بیٹھ کر تو سرکار گوھر شاہی کی محبت میں والہانہ جذبات کا شکار ہو جائے، اس کی گفتگو سن کر محبت گوھر شاہی میں اضافہ ہو ، وہ گفتگو سننے کو دل کیوں چاہتا ہے یقیناً کچھ ملتا ہو گا ۔ کچھ لوگ گفتگو سنتے ہیں تعلیم کے لئے، جو تعلیم کے لئے سنتے ہیں وہ سن سنا کر چلے جاتے ہیں ۔زیادہ تر وہ لوگ سنتے ہیں جن کے سمجھ میں نہیں آتی ، سن رہے ہیں واہ واہ بھی ہو رہی ہے لیکن سمجھ میں نہیں آ رہا ہے ، پھر کیوں سن رہے ہیں کیونکہ وہ گفتگو دل کی غذا ہے ۔جسطرح خون میں بیماری چلی جائے تو اس کے بیکٹریا خون میں ہوتے ہیں جب اچھی خاصی مقدار میں وہ بیکٹریا خون میں چلا جائے اور خون کے سائیکل میں آ جائے تو پھر وہ بیماری مستقل ہو جاتی ہے جسطرح لوگ سگریٹ پیتے ہیں جب اس کی نکوٹین خون میں چلی جاتی ہے تو پھروہ سگریٹ کا عادی ہو جاتا ہے اسی طرح سرکار گوھر شاہی نے لوگوں کے دلوں کو اللہ اللہ میں بھی لگایا جس کی وجہ سے دلوں میں نور آ گیا اس کے علاوہ اپنا ایک ذاتی نور بھی رکھاجس کے لئے کوئی پریکٹیس نہیں کرنی پڑتی بلکہ وہ نظروں سے عطا ہوتا ہے ۔ جب وہ نظروں سے سینے میں گیا اور خون میں شامل ہو گیا اب وہ نور کہے گا سنو بات، چین نہیں آئے گا ۔ اب جو نور خون میں چلا گیا ہے وہ نکلے گا نہیں ، اُسی نور کے لئے سرکار گوھر شاہی نے فرمایا تھا کہ جس کے اندر وہ نور چلا گیا اس کے پاؤں میں ہم نے بیٹریاں ڈال دی ہیں اب بھاگ کر دکھاؤکیونکہ وہ نور اُسی کے پاس کھینچ کر لے جائے گا جہاں سے وہ آتا ہے ۔ اسی کو نوری رشتہ کہتے ہیں اور یہ جو نور دینے کا رشتہ ہے اس کو سُریانی زبان میں “نیت” کہتے ہیں ۔ جسطرح بچہ ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے تو ماں کے پیٹ سے ہی ایک پائپ لگا ہوتا ہے جس بچے کو خوراک ملتی رہتی ہے ، ساری غذائیت ماں کے وجود سے ہی بچے میں داخل ہوتی رہتی ہے ، اسی طرح مرید کا بھی کوئی کام نہیں ہوتا ، مرشد کے دل سے ایک تار مرید کے دل کو لگی ہوتی ہے اُسی تار سے اس کے ایمان کی پرورش ہوتی ہے ۔

عبدالبشر اور نظر البشر کا طریقہ فیض:

دنیا میں دو سلسلے آئے ایک عبدالبشر تھا اور ایک سلسلہ نظر البشر تھا۔ نظر البشر والا سلسلہ اللہ نے اپنے لئے رکھا اور عبدالبشر والا سلسلہ نبیوں کو دیا ۔خود اللہ نے نبیوں سے عبادت نہیں کرائیں ۔ جب موسیٰ کو نبوت ملی تو اس سے پہلے انہوں نے کونسی عبادت کی تھی وہ تو فرعون کے ساتھ بھائیوں کی طرح رہتے تھے اور اسی گھر میں جوان ہوئے، انہوں نے کوئی عبادت نہیں کی تھی اور اچانک ولائیت مل گئی ۔ تو وہ نظر البشر والے سلسلے کی مدد سے ان کے سینوں کی صفائی ہو گئی ، اللہ کی نظر سے ان کے نفس اور دل پاک ہو گئےتھے۔ نظر البشر والا طریقہ اللہ کا ہے اللہ نبیوں ا ور مرسلین کواس طریقے سے فیض دیتا ہے ۔کیا تم نے دیکھا ہے کہ کسی نبی یا مرسل نے مرشد کو تلاش کیا ہو ، پھر یہ مذہب بنانے کے قابل کیسے ہو گئے۔بغیر وسیلےکے ان کی اللہ نے نظروں کے زریعے تربیت کی اور پھر جب نبوت کے درجے پر فائز کیا ، رسالت دی تو ان کو عبدالبشر کا طریقہ دیا کہ تم اس طریقے پر لوگوں کو فیض دو۔نبیوں نے لوگوں کو عبادت میں لگایا ، عابد بنا کر اُن کو رب کی بارگاہ میں پہنچایا کہ تم اپنا نور عبادت کے زریعے بناؤ۔ اسی لئے جتنے بھی مذاہب قائم ہوئے اُن میں عبدالبشر کا نظریہ موجود رہا ، عبادتوں کے زریعے لوگوں نے نور بنایا اور اُن کے ایمان کی گاڑی چلتی رہی۔ آدم صفی اللہ عبدالبشر ، ابراہیم خلیل اللہ عبدالبشر، موسی کلیم اللہ عبدالبشر، عیسی روح اللہ عبدالبشر، محمد الرسول اللہ عبدالبشر۔عبادتوں کے زریعے انہوں نے نور بنایا ، عبادتوں کے ذریعے ہی ان کے دلوں میں نور قائم ہوا ، عبادتوں کے ذریعے ہی ان کے ایمان کی گاڑی چلتی رہی ۔ اب یہ دور آ گیا ہے کہ جس دور میں
الہی تیرے سادہ لوح بندے کدھر جائیں ۔۔۔۔۔کہ درویشی بھی عیاری ، شہنشاہی بھی عیاری
آج کا وہ دور ہے جس میں عالم بھی جاہل ہو گیا اور صوفی بھی جاہل ہو گیا ہے، اب ہدایت کہاں سے ملے گی تمھارا عقیدہ بھی خراب ہو گیا اور فیض لینے کے لئے جو صوفی مرشد ہوتے تھے وہ بھی کرپٹ ہو گئے تو پھر اب تم رب تک کیسے پہنچو گے ؟ اب جب تمھارا عقیدہ بگڑ گیااور تم بہتر ، تہتر فرقوں میں تقسیم ہو گئے تو پھر کیسے پتہ چلے گا کہ کونسا فرقہ صحیح ہے ۔اب کونسی عبادت کی جائے ایک آدمی کہتا ہے کہ ٹوپی پہن کر عبادت کی جائے تو دوسرا کہتا ہے ٹوپی اُتار کر عبادت کی جائے، ایک کہتا ہے کہ ہاتھ باندھ کر نماز ادا کرو جبکہ دوسرا فرقہ کہتا ہے رفع یدین کرو، عبادت کیسے کرنی ہی یہی فیصلہ ابھی تک نہیں ہوا ہے ۔ جب تمھاری عبادات بھی بیکار ہو گئیں تو پھر عبادت کے ذریعے مومن کیسے بنو گے !! اسی لئے اس دور میں جتنے زیادہ عبادت گزار ہوئے اتنے زیادہ فراڈی ہو گئے ، جتنا بڑا عابد اُتنا بڑا کنجوس ۔اب جب تم عبادت کے ذریعے مومن نہیں بن سکتے تو پھر اللہ تعالی نے قرآن میں ایک آیت اس زمانے کے لئےنازل کی ؛

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا مَن يَرْتَدَّ مِنكُمْ عَن دِينِهِ فَسَوْفَ يَأْتِي اللَّـهُ بِقَوْمٍ يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَهُ
سورة المائدة آیت نمبر 54
ترجمہ : جب لوگ اپنے ادیان سے پھر جائیں گے پھر اللہ اپنی قوم کو بھیجے گا وہ اللہ سے اور اللہ ان سے محبت کرے گا۔

امام مہدی گوھر شاہی کا فیض نظر البشر کا ہے:

اب اللہ خود آئے یا اپنا طریقہ رائج کرے بات تو ایک ہی ہے ۔ اگر طریقہ رائج کرے گا تو پھر فیض دینے بھی آئے گا۔ پھر وہ اپنی قوم کے ساتھ آیا اور اس نے امام مہدی گوھر شاہی کو نظر البشر والا طریقہ عطا کیا ، اس طریقے میں عبادتیں نہیں ہیں اُن کی نظروں سے ہی مومن بن جائے گا۔اب عبادتوں سے سینے روشن نہیں ہوں گے بلکہ سیدنا گوھر شاہی کی نظروں سے سینے روشن ہو جائیں گے ۔ اگر تمھارے سینے روشن ہو گئے ہیں تو پھر تم مرتد کیوں ہو ، وہابی کیوں ہو ، اہل حدیث کیوں ہو ، سنی بریلوی اور شیعہ کیوں ہو ۔ اگر تمھارا عبدالبشر کا سلسلہ ابھی بھی قائم ہے تو پھر تم عبادتوں اور نمازوں سے برائی کرنے سے رک کیوں نہیں رہے ہو ۔قرآن مجید میں ہے کہ نماز برائیوں اور بے حیائی سے روکتی ہے ، عبادتیں بیکار ہونے کی وجہ سے برائیوں سے نہیں رک رہے ہیں ۔ اب عبادتیں ہی بیکار ہو گئیں ہیں تو عبادت سے مومن کیسے بنے گا ، اسی لئے سیدنا گوھر شاہی نے فرمایا کہ لوگ کہتے ہیں کہ رب عبادت سے ملتا ہے ، ہم کہتے ہیں بلکل غلط۔عبادت تو دل کو صاف کرنے کے لئے ہے رب تو دل سے ملتا ہے تم اپنے دل کو چمکا لو۔ پہلے دل کو چمکانے کے لئے عبادتیں، چلے، مجاہدے کرتے تھے پھر اس کے بعد اُن کے دل میں صدق آتا تھا لیکن سیدنا گوھر شاہی کے تشریف لانے کے بعد سرخی پاؤڈر والوں کے دل بھی اللہ اللہ کرنے لگ گئے ، ولیوں نے بھی کہا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے یہ تو سخت عبادتوں کے بعد بھی حاصل نہیں ہوتا تھاکیونکہ وہ تو عبدالبشر والے تھے ۔ پھر سیدنا گوھر شاہی کی بارگاہ میں یہ بات جب پہنچی تو آپ نے فرمایا ہاں چلنا تو نہیں چاہیے تھا اتنے بڑے بڑے بزرگ ناراض ہو گئے ، یہ تیس تیس سال سے عبادتوں میں لگے ہوئے ہیں اور یہاں سرخی پاؤڈر لگانے والوں کے دل اللہ اللہ کر رہے ہیں تو ہمیں بھی خیال آیا کہ ان کے ذکر چلنے تو نہیں چاہیے۔پھر اللہ کی طرف سے جواب آیا کہ یہ رعایت صرف امام مہدی کے لئے ہے ۔ اب وہ سرخی پاؤڈر والے عبادتیں تو نہیں کرتے تھے پھر اُن کا ذکر کیسے چلا ، یہ عبدالبشر والا سلسلہ نہیں بلکہ نظرالبشر والا سلسلہ ہے جس میں جو بھی مقام ہے وہ نظر گوھر شاہی سے عطا ہو گا ۔ یہ نظر گوھر شاہی ہی ہے کہ ٹیلیفون پر لوگوں کو ذکر قلب دیا جا رہا ہے اور اُن کے دل اللہ اللہ کر رہے ہیں ، یہ صرف نظر گوھر شاہی کا کمال ہے عبادتوں کا سلسلہ اب ختم ہو گیا ہے ۔ اللہ نے عبدالبشر کا سلسلہ کتاب کے ساتھ بند کر دیا ہے ، چاروں کتابیں بھی بند ہو گئیں ہیں اور عبدالبشر والا سلسلہ بھی بند ، اب نظرالبشر ہے اور نظر گوھر شاہی درکار ہے ، اب فیض نظر البشر سے ہی ہو گا۔اسی لئے جب ہم کسی کو اسم “رایاض” کا ذکر دیتے ہیں تو کسی کو اس کی مشق کرنے کے لئے نہیں کہتے ۔ ذکر دے دیا تو چلے گا تم مشق مت کرنا اگر مشق کرو گے تو کبھی نہیں چلے گاکیونکہ اگر عطا رب کرے اور تم بھی کوشش کرو تو شرک ہو گیا نا ۔ وہ پھر کیسے کہہ سکتا ہے کہ یہ میری نظر ہے ۔ اسی لئے ہم نے کہا کہ اللہ ھو کی خیر ہے لیکن راریاض کی کوئی مشق نہ کرے ۔سرکار گوھر شاہی کا سلسلہ نظر البشر کا سلسلہ ہے۔
پہلے عبدالبشر کا سلسلہ تھا جس میں عبادتوں کے ذریعے مومن بنتا تھا اور ایک نظر البشر کا سلسلہ جو صرف اللہ کے لئے تھا اب وہ نظر البشر والا سلسلہ امام مہدی گوھر شاہی کو اللہ نے دے دیا ہے جس کے لئے کہا کہ وَكُلَّ شَيْءٍ أَحْصَيْنَاهُ فِي إِمَامٍ مُّبِينٍ ۔۔۔ کہ جو کچھ بھی رب کی طاقتیں تھیں جو اللہ عرش پر بیٹھ کر کرتا تھا وہ سب چابیاں امام مہدی کو دے دی ہیں ۔ جو فیصلے اوپر سے ہونے تھے وہ اب زمین پر ہی ہوں گے ، آپ کی مرضی اور آپکا اختیار جس کو جو چاہیں نوازیں ۔

انَّا نَحْنُ نُحْيِي الْمَوْتَىٰ وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوا وَآثَارَهُمْ ۚ وَكُلَّ شَيْءٍ أَحْصَيْنَاهُ فِي إِمَامٍ مُّبِينٍ
سورة یس آیت نمبر 12

ہم ہی زندگی دیتے ہیں اور ہم ہی مارتے ہیں اور وہ آثار کی تحریریں بھی ہم نے لکھی ہوئی ہیں جو اس سے پہلے زمانے گزرے تھے اور یاد رکھو ذات ، صفات، آثار اور ایان یہ جتنے بھی درجات ِ نزلہ ہیں ، یہ جتنے بھی درجات اُخریٰ ہیں ، یہ جتنی بھی ظہور کی پرتیں ہیں یہ ساری امام مبین امام مہدی میں جمع کر دی ہیں ۔ فرمان گوھر شاہی ہے کہ “مشک آں است کے خود بگوید نہ کہ عطار بگویت ” ۔

مندرجہ بالا متن نمائندہ گوھر شاہی عزت مآب سیدی یونس الگوھر سے 18 جنوری 2017 کو یو ٹیوب لائیو سیشن میں کئے گئے سوال کے جواب سے ماخوذ کیا گیا ہے۔

متعلقہ پوسٹس

دوست کے سا تھ شئیر کریں