کیٹیگری: مضامین

ہم لوگوں کو سیدناامام مہدی گوہر شاہی کی تعلیمات بتاتے ہیں اور پھر یہ توقع کرتے ہیں کہ وہ سراہیں گے لیکن انکو سمجھ میں نہیں آتیں ۔سمجھ میں اس لئے نہیں آتیں کہ وہ محمد رسول اللہ کے پیغام سے آشنا نہیں ہیں ۔اگر یہ محمد رسول اللہ کے پیغام سے آشنا ہوتے تو صرف سرکار گوہر شاہی کا ایک خطاب سن کربے اختیار کہہ دیتے کہ امام مہدی ہیں۔قرآنِ مجید میں آیا کہ

ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُكُم مِّن بَعْدِ ذَٰلِكَ فَهِيَ كَالْحِجَارَةِ أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً
سورۃ البقرۃ آیت 74
ترجمہ : کچھ لوگوں کے دل پتھروں سے بھی زیادہ سخت ہیں۔

لیکن اگر یہ بات آپ کو عمومی طور پر کہی جائے تو آپ کی سمجھ میں نہیں آئے گی جب تک اس کے ساتھ آپ کو ایک واقعہ نا سنا دیا جائے ، پھر صحیح سے سمجھ میں آ جائے گی۔

حضور ؐنے کنکریوں کو کلمہ پڑھایا:

ایک دفعہ نبی پاک ؐ کا ابو جہل سےسامنا ہوا ۔اب یہ جو ہٹ دھرم قسم کے لوگ ہوتے ہیں یہ حضور پاک کے دور میں بھی تھے اور امام مہدی کے دور میں بھی ہیں ۔حضور کے دور میں تو اتنے نہیں تھے آج تو جس سے بات کرو ہٹ دھرمی پہ تلا ہوا ہے ۔ان ہٹ دھرموں کا Pattern یہ ہے کہ وقتا فوقتا انکے الگ الگ مطالبات ہوتے ہیں کہ اگر یہ کر دو تو ہم مان لیں گے اگر وہ کر دو تو ہم مان لیں گے ۔یہی حال ابو جہل کابھی تھا اس نے کہا کہ اگر تم یہ بتا دو کہ میری مٹھی میں کیا ہے تو میں تم کو نبی مان لوں گا ۔آپؐ نے فرمایا کہ بہتر ہے کہ جو کچھ تیری مٹھی میں ہے وہ بتائے کہ میں کون ہوں ؟ اور وہ جو کنکریاں ابو جہل کے ہاتھ میں تھیں و ہ کلمہ پڑھنے لگ گئیں ۔لیکن کچھ انسان ایسے ہٹ دھرم واقع ہوئے ہیں کہ پتھر تو کلمہ پڑھ لیتا ہے لیکن انکے دل پتھروں سے بھی زیادہ سخت ہیں۔آپ ؐ نے پتھروں کو کلمہ پڑھایا اور پھر دلوں کو کلمہ پڑھایا۔اقرار جو ہے وہ تو زبان سے ہے۔ جب آپ کی شادی ہوتی ہے تو تین دفعہ اقرار کر تے ہیں اور آپ کی شادی ہو جاتی ہے ،نکاح ہو جاتا ہے۔اسکے بعد تین ہزار دفعہ بھی اگرآپ قبول ہے قبول ہے کہیں تو کوئی فائدہ نہیں ،شادی ہو گئی تو اب بیوی سے نہ ملیں ، نہ اس سے ملاقات کریں ، نہ اسکے پاس جائیں اور پھر کہیں کہ بچہ تو ہو ہی نہیں رہا تو لوگ کہیں گے کہ دماغ کی خرابی ہے ۔زبان سے تو صرف اقرار ہے محبت کےلئے ،مزے کے لیئے آپ پڑھنا چاہتے ہیں تو پڑھ لیں لیکن طہارت کےلئے اور صدق کے لیئے نفس کو اور قلب کو کلمہ پڑھانا پڑتا ہے ۔آپ ؐ نے بھی یہی کیالوگوں کے دلوں کو کلمہ پڑھایا انکے نفوس کو کلمہ پڑھایا ،پھر جب وہ پاک صا ف ہو گئے تو انکو اللہ کے دیدار تک لے گئے ۔

اصلاح قلب اور باطنی طہارت سے متعلقہ احادیث کا فقدان :

اب جسطرح ہمارے ارد گرد کے لوگ ہیں انکے ساتھ روحانی واقعات ہوتے ہیں کوئی کہتا ہے میں نے فلاں چیز دیکھی ،تم میں سے بھی ہوںگے جن کو کچھ نہ کچھ نظر آیا ہو گا کوئی بیت المامور چلا گیا،کوئی ملکوت کی سیر کر کے آ گیا ،کوئی کہیں پہنچ گیا کوئی کہیں پہنچ گیا ۔ہم ایک دوسرے کے ساتھ تبادلہ خیال کرتے ہیں کہ تم نے کیا دیکھا۔حضور پاک ؐ سے جن لوگوں کو فیض ہوا وہ بھی کہیں نہ کہیں پہنچے ہوں گے نا ؟ لیکن انہوں نے کیا دیکھا ، وہ کہاں گئے یہ باتیں تم حدیثوں میں ڈھونڈو گے ،ان کے جو مشاہدات و تجربات ہیں ، فیضانِ مصطفی کے حصو ل کے بعد وہ تم کو حدیثوں میں اور قرآن میں کہاں نظر آئیں گے ،وہ منظر ِعام پر آئے ہی نہیں انکو بے کار سمجھ کے روایتوں سے نکال دیا گیا ،لہذا اگلے دور کے جو مسلمان آئے ان تک وہ باتیں نہیں پہنچیں ۔آپ کو یہ تو پتہ چل جائے گا کہ ابو بکر شبلیؓ کے تجربات و مشاہدات کیا تھے،یہ بھی پتہ چل جائے گا کہ جنید بغدادی ؓ کے تجربات و مشاہدات کیا تھے،ابو الحسن خرقانی ؓ ،خواجہ غریب نواز کے مشاہدات کیا تھے۔کیا وجہ ہے کہ ابو ہریرہ ؓ کے مشاہدات کا ،سلمان فارسی کے مشاہدات کا ذکر نہیں ہے۔ مولا علی ؓ ،بی بی فاطمہ ؓ ، حسن بصری ؓ کے مشاہدات کا ذکر نہیں ہے ،اکا دکا اگر کسی نے آ کر حضور ﷺ کے سامنے اپنا مشاہدہ پیش کیا تو حدیث میں آ گیا ۔
مثال کے طور پہ ایک صحابی طلحہ بن زبیر ؓ سے آپ ﷺ نے پوچھا کہ آج تمہارے ایمان کی حالت کیا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ میں آنکھیں اٹھاتا ہوں تو عرش ِ الہٰی نظر آتا ہے۔احادیث میں جو اسطرح کے واقعات ہیں انکو سامنے لائیں ۔ایسی احادیث جن میں صحابہ نے اپنی روحانی کیفیات بیان کی ہیں وہ غائب ہوں گئی ہیں ۔ آپ دیکھیں کہ وضو کے اوپر سینکڑوں حدیثیں ہیں ۔لیکن اہم ترین جو باتیں ہیں یعنی موضوع ِ اخلاص ، باطنی طہارت ،اصلاح ِ قلب،فساد ِقلب،اصلاح ِنفس پر بھی تو گفتگو حضور پاک کی ہو گی جو صحابہ کرام سے کی تھی، لیکن وہ نہیں ملتی !! یہی وجہ ہے کہ تصوف کو projection نہیں ملا اور جو صوفی آئے ہیں انہوں نے اس پر کام نہیں کیا کہ تصوف کو حضور ؐکی صوفی practice کے ساتھ ملا کے پروجیکٹ کیا جائے ،اپنی اپنی باتیں تو کر کے چلے گئے جسطرح بلھے شاہ نے انکا اپنا مقام تو ہے لیکن یہ اسطرح کے جو لوگ ہیں وہ مذہب کی خدمت نہیں کر سکتے۔مجھے لگتا ہے کہ یہ منفرد لوگوں میں سے ہیں ۔

راہ سلوک میں چلنے والوں کی اقسام:

راہ ِ سلوک میں چلنے والے لوگ تین طرح کے ہیں ، منفرد،مفید اور مستفیض۔

منفرد:

منفرد کا مطلب ہے uniqueیعنی کوئی مقام و مرتبہ اللہ کی طرف سے مل گیا بس وہ اس میں مصروف ہے ۔ نہ اللہ نے اسکو کسی ڈیوٹی پہ بٹھایا نہ خود اس نےکوئی کوشش کی کہ لوگو ں کو اس سے کوئی فائدہ ہو جائے یا تو وہ جنگل میں چلا گیا یا گھر پہ ہی بیٹھ کے کتابیں لکھتا رہا۔

مفید:

مفید وہ ہوتے ہیں جن سے لوگوں کو فائدہ ہو انکی ڈیوٹی لگ جاتی ہے تاکہ لوگوں کواُ ن سے فائدہ ہو۔

مستفیض :

کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو ابھی راہ ِ سلوک میں چل رہے ہیں فیض لے بھی رہے ہیں مرشد سے اور آگے لوگوں کو فیض پہنچا بھی رہے ہیں وہ مستفیض ہیں ۔
یہ کام غوث ِ اعظمؓ کے دور میں ہونا چاہیے تھا کیونکہ حضور ؐ کے بعد اسلام کا جوسب سے خوبصورت دور وہ ہے جس میں غوث ِ اعظمؓ مبعوث ہوئے کیونکہ آپ شریعت میں بھی کامل تھے ،طریقت میں بھی کامل تھے ، حقیقت میں بھی کامل تھے،معرفت میں بھی کامل تھےیعنی ایک مکمل درجہ غوث ِ اعظمؓ کو ملا۔انہوں نے خود تو کوئی کتاب نہیں لکھی، بلکہ غوث پاک کے مریدین نے آپ کی گفتگو کو لکھ کر کتابی صورت دے دی۔تو وہ باتیں غوث پاک کی ہیں لیکن انہوں نے وہ کتاب لکھی نہیں ہے ۔اسی طرح غوث ِ اعظم ؓ سے کچھ کتابیں منسوب ہیں ان میں ایک ہے فتوح الغیب،ایک ہے فیوض ِ یزدانی، فتح ِ ربانی،یہ وہ کتابیں ہیں جن میں غوث ِ اعظمؓ کے مریدین نے آپ کی تعلیم کو قلم بند کر کے کتاب مرتّب کی ،خود غوث پاک نے کوئی کتاب مرتّب نہیں کی ۔
اگر اسلام کی خدمت کرنے والا کوئی عالم ِ دین ہوتا جس کو یہ خیال آجاتا تو حضور ﷺ کی سنت ،صحابہ کرام ؓ کی کیفیات و واردات ،مشاہدات،اور پھر ان صحابہ کرام ؓ کی کیفیات و واردات ،مشاہدات کی حضور ؐکی باگاہ میں تصدیق ،اس پر مبنی کوئی کلام جو ہے سامنے آتا تو لوگوں کو حوالہ دینے میں آسانی بھی ہوتی اور لوگوں تک یہ بات پہلے ہی پہنچی ہوتی ان احادیث کی روشنی میں ،لیکن ایسا ہوا نہیں ۔نجانے کسی نے اسکے اوپر کام کیوں نہیں کیا !! لیکن اگر ایسا ہو جاتاتو آج شاید یہ حالت نہ ہوتی امام مہدی کو پہچاننے میں ۔جس دور میں امام مہدی ؑ آئے ہیں کوئی امّت باقی نہیں ہے اس دور میں ۔کسی قوم کو اپنے نبی کی تعلیم تک کا ادراک نہیں ہے۔اب اگرآپ یہ سمجھتے ہیں کہ مسلمانو ں کو حضور ؐپاک کی تعلیم کا پتہ ہے تو پھرآپ احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔ اگر ان مسلمانوں کو حضور ﷺ کی تعلیمات کا پتہ ہوتا تو کیایہ بہتر ،تہتر فرقوں میں بٹے ہوتے ؟ کیا یہ نعرہ لگاتے ہیں کہ نظام ِمصطفی لائیں گے ۔ہماری اپنی زندگیوں میں تو ابھی تک نظام ِ مصطفی نافذ ہوا نہیں، نجانے تم کہاں نظام ِ مصطفی لے کرآئو گے ۔اپنے دل کو تو کلمہ پڑھاؤ پہلے ، اپنے نفس کو تو سدھارو پہلے ، معاشرے کو تو پاک ہونے دو۔اگر لوگوں کو حضور پاک ﷺ کی تعلیم مل جاتی ،پتہ چل جاتا تو آج سیدناگوہر شاہی کی تعلیم سن کر فور اً مان جاتے کہ یہ صرف امام مہدی ؑ ہو سکتے ہیں۔آپ نے کتنے مولویوں کو یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ہے حالانکہ بخاری شریف کی حدیث ہے کہ

ان فی جسد بنی آدم مضغتہ اذا صلحت صلح الجسد کلہ الا وھی القلب
( بحوالہ مشکوٰة شریف)
ترجمہ : اے بنی آدم تیرے جسم میں گوشت کا ایک لوتھڑا ایسا ہے کہ اگر اسکی اصلاح ہو جائے تو پورے جسم کی اصلاح ہو جائے ۔یاد رکھ وہ تیرا قلب ہے۔

کتنی آسان سی بات ہے کہ اگر آپ پورے جسم کی اصلاح کرنا چاہتے ہیں تو ایک چھوٹا سا دل ہے اسکی اصلاح کر لیں پورا وجود اسکے تابع ہو جائے گا ۔کسی مولوی نے نہیں کہا کہ دل کی اصلاح کر لو ۔اور پھر یہ کہا کہ اگر دل میں فساد ہے تو پورا جسم فساد میں مبتلا ہے تو پھر اس شخص کی دعائیں ،نماز ،روزہ کہاں قبول ہو گا ، ــ دل میں فساد ہے تو پورا جسم فساد میں مبتلا ہے تو پھر ہر چیز فساد کا شکار ہے ۔یہ کتنی اہم حدیث ہے ،میں سمجھتا ہوں کہ یہ حدیث قرآن ِمجید کا نچوڑ ہے ۔

متعلقہ پوسٹس

دوست کے سا تھ شئیر کریں