کیٹیگری: مضامین

اکثر لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ روحانیت میں ذکرِ قلب کے بعد اگلا سبق کیا ہوگا ، ذکرِ قلب کے علاوہ اور کیا کرنا ہےاور ہماری روحانی بالیدگی کیسے ہوگی ۔ اگر ایک عامیانہ سا جواب ہوتو وہ وہی ہے کہ جو سب نے کیا وہ تم بھی کرو۔سیدنا امام مہدی گوھر شاہی سے وابستہ ہونے کے بعد روحانی ترقی کا طریقہ ذرا مختلف ہےجس کو سمجھنے کے لئے یہ سمجھنا ہوگا کہ یہ اہلِ تصوف کے پیغامات میں آخری پیغام ہے،یہ محبت کی آخری صدا ہے،یہ عشق کا پہلا اور آخری بلاوا ہےاور یہ پیغام کسی خانقاہ، کسی مسجد یا کسی مخصوص علاقے کے لئے مقید نہیں ہےبلکہ یہ پوری دنیا اور کل انسانیت کے لئے سیدنا گوھر شاہی کا پیغام ہے۔
انجمن سرفروشان اسلام کے ذاکرین میں یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے یا دل کا چوراور گمراہی کہہ لیں کہ وہ یہ خیال اپنے دلوں میں مضبوط کر چکے ہیں کہ سیدنا امام مہدی گوھر شاہی کا جو مشن ہے وہ خود آپ نے ہی پھیلانا ہے، ہم اس قابل کہاں ہیں۔ یہ شیطانی سوچ ہے،جس طرح نبی کریمﷺ آخری نبی اور آخری رسول ہیں۔ آپ کے بعد کوئی نبی کوئی رسول نہیں آئے گااور جو کام بنی اسرائیل کے زمانے میں انبیاء اکرام نےکیا، یعنی مرسلین کے دین میں جب کوئی بگاڑ پیدا ہواتو وہاں پر انبیاء کرام آئے اللہ تعالیٰ نےاُن پر صحائف نازل کیئے اور اُنہوں نے دین کی تجدید کی لیکن حضورﷺآخری رسول اورآخری نبی ہیں تو سوال یہ پیدا ہوتا تھا کہ پھرآپ کے دین میں جب گڑبڑ ہوگی تو اُس کی تجدید کون کرے گا؟ ا ُس کے لئے ایک بڑا مربوط نظام ولایت کا بنایا گیا۔اور یہ بات اپنے ذہن نشین کر لیں کہ جس نے مدرسے میں جا کے درسِ نظامی کیا ہے آپ اُس کو عالم نہ سمجھیں ،وہ عالم نہیں ہے۔ کیونکہ عالم کی تشریح حدیث شریف میں یہ ہے “علماء من صدری، سادات من صلبی ، فقراء من نور اللہ تعالیٰ” ۔یعنی عالم ہونے کا درجہ اُسکو ملے گا جس کوحضورﷺ کے سینے سے علم ملا۔تو وہ جو تجدید کا کام بنی اسرائیل کے انبیاء نے کیا حضوؐر کی ختمِ نبوت کے بعد وہ کام حضوؐرنے اپنے اُمت کے علماء حق سے لیا۔یہ علمائے حق نبی تو نہیں تھے، لیکن جو کام نبی کرتے تھے وہ انہوں نے کیا۔
جسطرح نبی کریمﷺ پر رسالت اور نبوت کا اختتام ہوا ہے اُسی طرح سیدنا امام مہدی گوھر شاہی پر ولایت کا اختتام ہو گیا ہے ۔ جس طرح نبی پاکﷺ خاتم الانبیاء ہیں اُسی طرح امام مہدی خاتم الاولیاء ہیں۔امام مہدی کے بعد کوئی ولی نہیں ہے تو پھر جو ولی کام کرتے تھے وہ کون کرے گا؟امام مہدی تواب غیبت میں تشریف لے گئے ہیں، اب جو ولی کام کرتے تھے پھروہ کون کرے گا؟ جو اولیاء نےتذکیہ اور تصفیہ کا کام کیا وہی کام امام مہدی اپنے پیروکاروں سے لیں گے ۔ کتاب مقدس دینِ الٰہی میں سیدنا امام مہدی گوھر شاہی نے فرمایا ہےکہ ہر دور میں منجانب اللہ نفس شکن موجود ہوتے ہیں۔اب ولایت ختم ہو گئی ہے، نبوت ختم ہونے کے بعد نبیوں کا کام ولیوں نے کیا، ولایت ختم ہوگئی تو اب ولیوں کا کام کون کرے گا؟ولیوں کا کام امام مہدی کے پیروکار کریں گے۔ اب وہ کیا کام ہوگا؟ ولی کا کام یہ کہ کسی ایک گروہ کی طرف چلا جائے اور وہاں جا کر لوگوں کو اللہ سے ملائے ، اُن کا ذکرِ قلب جاری ہو جائے۔جب ذکرِ قلب چل گیا تو وہ اللہ سے مل گیا۔ایک آدمی سیدنا گوھر شاہی کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ میں آپ سے بیعت کرنا چاہتا ہوں تو آپ نے ایک جملہ فرمایا کہ ہم مرید بنانے نہیں آئے، پیر بنانے آئے ہیں۔لیکن کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ جب سرکارگوھر شاہی کے آپ پیروکار بن گئے تو آپ کو پیری کا درجہ مل گیا ہے؟ بہت سے ناہنجار ذاکرین سیدنا گوھر شاہی کے اِس جملے کا غلط مطلب اخذ کرتے ہیں کہ جی ہم پیر اس لئے ہیں کے سرکار گوھر شاہی نے پیر بنایا ہے۔آپ نے جب فرمایا کہ ہم مرید بنانے نہیں پیر بنانے آئے ہیں تو اُس کا مطلب یہ تھا کہ ہم لوگوں کو ایسا درجہ دینے کے لئے آئے ہیں، ایسا کام لینے کے لئے آئے ہیں جو پیروں نے کیا تھا، اب ہمارے مرید وہ کام کریں گے۔

راہِ سلوک میں منفردکون لوگ ہوتے ہیں ؟

ایک تو بندہ وہ ہوتا ہے راہِ سلوک میں کے جس کو منفرد کہتے ہیں۔ منفرد وہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اُس کو اپنے ذات سے منسوب رکھا اور دنیا کی کوئی ڈیوٹی نہیں دی۔ایسے لوگوں کو حکم ہوتا ہےکہ وہ تو گوشہ نشینی میں رہیں، تنہائی میں رہیں یا جنگلوں میں رہیں تا کہ کوئی اُن کی پیروی نہ کرے۔اللہ والے ہوتے ہیں وہ لیکن اُن کی پیروی نہیں کی جاسکتی۔جیسے بھلے شاہ ہیں، بھلے شاہ اللہ والے ہیں لیکن آپ اُن کی پیروی نہیں کر سکتے گمراہ ہو جائیں گے۔کیونکہ بھلے شاہ کا مقام منفرد میں ہے۔جیسے سمندری بابا تھے منفرد تھے۔ اُن کی کوئی ڈیوٹی نہیں تھی، انہوں نے حضورﷺ کی بارگاہ میں یہ دعا کی کہ مجھے امام مہدی کا چوکیدار بنا دیں۔تو حضورﷺ کے حکم پراُن کو کراچی میں سمندر کے کنارے جھونپڑی بنانے کا حکم ہوا۔کہ امام مہدی یہاں آئیں گے کراچی، حضورﷺ نے اُن سے وعدہ کیا کہ وہ یہاں پر آئیں گے تو انہوں نےاُن کے آنے کے لئے، صرف آنے کے لئے، صرف اس خاطر کے امام مہدی آئیں گےاور قدم رنجا فرمائیں گے۔ کسی اور مقصد کے لئے نہیں، صرف ایک دفعہ امام مہدی آئیں گے، قدم رنجا فرمائیں گے، صرف اُس ایک دفعہ آنے کے لئے سمندری بابا نے کراچی کے ساحل پرامام مہدی کے لئے مسجد بنائی۔ اب جب مسجد وغیرہ تیار ہو گئی تو انہوں نے تالا لگا دیا۔ مسجد جب بن گئی تو لوگ بڑے خوش تھے کے یہاں پر بابا جی کے ساتھ نماز پڑھیں گے، بابا جی تو خود نہیں پڑھتے تھے نماز، تو کیا پڑھاتے۔مسجد جب بن گئی تو انہوں نے مسجد کے دروازے پر تالا لگا کے چابی رکھ لی اپنے پاس اور بیٹھے ہوئے ہیں۔ لوگوں نے پوچھا آپ نے مسجد بنائی اب تالا لگا کے بیٹھے ہوئے ہیں۔
بولا تمہارے لئے تھوڑی بنائی ہے، گالی دے کے کہا وہ تو میں نے امام مہدی کے لئے بنائی ہے۔ وہ بھی منفرد تھے اُن کی بھی پیروی جائز نہیں ہے۔ تویہ وہ لوگ ہیں جو اللہ تک پہنچ گئے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے اُن کو منفرد رکھا ہے، آپ اُن کی پیروی نہیں کر سکتے۔ منفردیہ ولیوں کی قسم ہے۔ منفرد جو تنہا رہے اُس کی پیروی جائز نہیں ہے۔منفرد، یہ ولیوں کی وہ قسم ہے جس کی پیروی جائز نہیں۔ لیکن یہ اللہ والے ہوتے ہیں اور اللہ کی بارگاہ میں مقبول ہوتے ہیں۔

راہِ سلوک میں مفیدکون لوگ ہوتے ہیں ؟

دوسری قسم کے لوگ وہ ہوتے ہیں راہِ سلوک میں جن کو مفید کہا جاتا ہے۔یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جن کی پھر دنیا میں ڈیوٹی لگتی ہےلوگ اُن سے فیض حاصل کرتے ہیں، اُن کی پیروی کرتے ہیں۔ ان کی اللہ تعالیٰ مخلوق میں ڈیوٹی لگاتا ہے یہ اللہ سے واصل ہوتے ہیں اور مخلوق کو فیض پہنچاتے ہیں اِن کی پیروی کرنا چاہیئے۔

راہِ سلوک میں مستفیض کون لوگ ہوتے ہیں ؟

تیسرا درجہ ہے مستفیض کا جو ابھی ولی بنے نہیں لیکن فیض لے رہے ہیں اور فیض دے بھی رہے ہیں۔ایک تو وہ تھے کہ جن کا سبق بند ہو گیا اللہ نےاِن کو مرتبہ و ارشاد سے نواز دیا اور پھر کہا جنگل میں ہی بیٹھے رہوجو کہ منفردکے زمرے میں آتے ہیں۔پھر دوسرے وہ لوگ ہوئے جن کی ڈیوٹی لگا دی، ولی بن گئے وہ مفیدکہلائے۔تیسرا درجہ ہے کہ وہ مستفیض کے درجے پر ہیں فیض لے بھی رہے ہیں اور فیض آگے دے بھی رہے ہیں۔اس زمرہ میں سرکار گوھر شاہی کے پیروکار آتے ہیں کیونکہ وہ فیض لے بھی رہے ہیں اور دے بھی رہے ہیں۔جب آپ نے یہ سوچ لیا کسی بھی مرحلے پر کہ میں کسی قابل ہو گیا ہوں، تو سمجھیں آپ کا ایمان چلا گیا ہے۔ہم شروع سے لے کر آخر تک سیدنا امام مہدی گوھر شاہی کے نعلینِ مبارک کے محتاج ہیں۔جو کچھ آپ عطا فرمائیں گےاُس میں سے تھوڑا ہمارے لئے تھوڑا آگے لوگوں کے لئے یہ مستفیض ہے۔ توآپ نہ منفرد ہیں نہ مفید ہیں۔ مفید کا کیا مطلب ہوتاہے، اب یہ خود مختار ہو گیا ہے جو بھی فیض اس سے ہوگا اس کے اپنے پاس سے ہوگا۔ وہ تو نہیں ہے۔اگر تم اپنے آپ کو مفید سمجھتے ہو تو چلو سیدنا گوھر شاہی کی نظر ہٹ جائے ایک لمحہ کے لئے پھرفیض دے کر دیکھاؤ۔ ہم محتاج ہیں سیدنا امام مہدی گوھر شاہی کے قدموں کی خاک کےاور سرکار کی بارگاہ میں التجا ہے کہ ہمیں ہمیشہ اپنے قدموں میں محتاجگی عطا فرمائیں۔ہم ہمیشہ سرکار گوھر شاہی کے محتاج رہیں۔اب سرکار گوھر شاہی کے جو پیروکار ہیں، سرکار گوھر شاہی سے جو وابستہ ہو گئے ہیں پہلے دن ہی وہ مستفیض ہیں۔

اِس دور میں روحانی ترقی پرچارِ مہدی میں مضمر ہے :

اُمت ِمحمدی میں باطن میں تین سو ساٹھ اولیاء کا محکمہ ہوا کرتاتھا اب چونکہ ولایت ختم ہو گئی ہےاب ایک بھی دنیا میں ولی نہیں۔تو اب جو امام مہدی کے پیروکار ہوں گے، اب ولیوں کا کام اُن سے لیا جائے گا ۔اب ولیوں کا جو کام لیا جانا ہے وہ کیا ہے؟ سیدنا امام مہدی گوھر شاہی کی تبلیغ کرنا، عظمت بتانا،چاند، سورج، حجر اسود کی نشانیوں کا بتانا اور پھر جس کو اِذن ہو گیا کہ تم ذکر دیا کرو، لوگوں کو ذکر دینا۔یہ کام آپ کی زندگی ہے۔اچھا اب روحانیت میں ترقی کیسے ہوگی؟اب روحانیت میں جو ترقی ہے آپ کی وہ ذکر فکر اور عبادت میں نہیں ہے۔اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ گھر میں بیٹھ کر مراقبہ کر لیں پڑھائی کر لیں، یا ذکر کریں اِس میں ترقی نہیں ہے۔آپ کی روحانی ترقی سیدنا امام مہدی گوھر شاہی کے مشن کے پرچار میں ہے،پرچارِ مہدی میں ہے۔ سرکار کی عظمت کے پرچار میں آپ کی ترقی ہے۔اچھا اب جو پرچار کریں گے ہم، لوگوں کو سرکار کے مشن کے بارے میں بتائیں گے۔ لوگوں کو سرکار کی نشانیوں کے بارے میں، مرتبہِ مہدی کے بارے میں بتائیں گے۔ تو اس سے کیسے ترقی ہوگی؟کیا اس سے لطیفے چلنے شروع ہو جائیں گے خوبخود؟ نہیں! اس سے کوئی ترقی نہیں ہوگی، اس سے صرف ایک چیز ہوگی کہ نظرِ گوھر میں آ جائیں گے۔ کہاں نظرِ گوھر اور کہاں ذکر و فکر! ذکر و فکر کے زریعے قطرہ قطرہ بن کرنور پتہ نہیں کب پہنچے گا۔

خلاصہ کلام:

تو خلاصہِ کلام یہ ہوا کے ہماری جو زندگی کا مقصد ہے، اور جو نئے لوگ آ رہے ہیں اُن کی روحانیت کی ترقی کا جو راز ہے، دونوں نظرِ گوھر شاہی کے حصول میں ہے۔ہمیں کسی طرح سیدنا اما م مہدی گوھر شاہی کی نظروں میں آنا ہے۔ اور جب سرکار کی نظر میں آ گئے، تو ہر قسم کی ترقی کے لئے بس ایک نظر ہی کافی ہے ۔تو جن لوگوں کا ذکر چل جاتا ہے اب اگلا اور اُس کے بعد کا سبق، پھر اُس کے بعد کا اور پھراُس کے بعد کا، یہاں تک کے آخری سبق تک، اب سارے اسباق نظرِ گوھر ہیں۔سیدنا گوھر شاہی کی نظر کو حاصل کرنا ہے، کسی طریقے سے آپ کی نظروں میں آ جائیں۔جب نظروں میں آئیں گے تو ایک نظر سینے پر پڑے گی نا تو ہو سکتا ہے سات دن بخار رہے۔نظرِگوھر ہے! پھر آہستہ آہستہ روح میں طاقت اور تاب پیدا ہونے لگے گی۔ بس پھر وہ نظر ہی چلاتی رہے گی۔نظر سے ہی ترقی ہوتی رہے گی۔ تو ہماری زندگی کا مقصدنظر گوھر شاہی کا حصول ہےکہ کسی طرح ہم سیدنا گوھر شاہی کی نظروں میں آجائیں۔روحانی ترقی اور ہماری منزل سرکار گوھر شاہی کی نظروں میں آنا ہے۔یہ سب کے لئے ہے، پُرانوں کے لئے بھی اور نئے لوگوں کے لئے بھی کہ ہم نظرِ گوھر شاہی کے حصول کی طرف بڑھ رہے ہیں۔سرکار کی نظروں میں آجائیں گے تو پھر نظروں سے ساری ترقی ہو جائے گی۔

مندرجہ بالا متن نمائندہ گوھر شاہی عزت ماب سیدی یونس الگوھر سے 24 اگست 2018 کو یو ٹیوب لائیو سیشن میں کی گئی گفتگو سے ماخوذ کیا گیا ہے ۔

متعلقہ پوسٹس

دوست کے سا تھ شئیر کریں