کیٹیگری: مضامین

حصّہ دوئم:

اہم ترین شخصیات سے انسانیت فیض نہیں لے سکی:

اللہ تعالی نے دنیا میں انتہائی برگزیدہ ہستیوں کو دنیا میں بھیجا لیکن جتنی اہم ترین شخصیات اس دنیا میں آئی ہیں وہ اپنی قابلیت اور وہ باطنی علم جو اُن کوعطا ہوا اُس کے مقابلے میں انسانوں کو فیض نہیں ہو سکا ،جیسے مولی علی ہیں ۔ نبی کریم ﷺ نے مثال بھی دی تھی کہ جسطرح موسی علیہ السلام کے بھائی ہارون کو موسی کا وسیع یعنی مددگار بنایا تھا اسی طرح اللہ تعالی نےمولی علی کو حضوؐرکا وسیع بنایا تھا ۔ حضورﷺ کے اِس دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد اُمت کی باگ دوڑ مولی علی کے ہاتھ میں ہونی چاہیے تھی لیکن ایسا نہیں ہوا اور پھر جب آخر میں مولی علی خلیفہ مقرر ہوئے ہیں تو اُس وقت اُمت مسلمہ میں افراتفری کا عالم تھا ۔ جن لوگوں نے مسجد ضرار بنائی تھی ان کی تعدادچند سے بڑھ کر دس ہزار ہو گئی تھی یہ خوارجین کا ٹولہ تھا اور ان کا نعرہ یہ تھا کہ کسی خلیفہ کو نہیں مانیں گے بس اللہ کی دھرتی اور اللہ کا نظام ہو گا، قرآن مجید سب سے بڑی چیز ہے کسی ولی یا خلیفہ کی ضرورت نہیں ہے ۔جسطرح سکھوں میں ایک فرقہ ایسا ہے زیادہ تر جو سکھ تھے وہ کسی انسان کو گرو مانتے ہیں لیکن کچھ سکھ ایسے بھی ہیں جو گرو گرنتھ کو گرو مانتے ہیں وہ کسی انسان کو گرو نہیں مانتے بلکہ کتاب “گرنتھ صاحب” کو گرو مانتے ہیں ۔ اسی طرح کی عقائد اُن خوارجین کے بھی تھے کہ وہ قرآن کو ہی سب کچھ مانتے تھے کسی خلیفہ کو تسلیم نہیں کرتے تھے ۔

اُمت مسلمہ دو حصّوں میں منقسم ایک ٹولہ باغی اور ایک حق پر :

حضرت عثمان غنی کی جو شہادت ہوئی وہ بھی انہی خوارجین کی طرف سے جو فتنہ ہوا اس کی وجہ سے ہوئی ہے ۔ امیر معاویہ کی ایک بہن حضرت عثمان غنی کے نکاح میں تھی اس کی وجہ سے امیر معاویہ کا عمل دخل عثمان غنی کے ساتھ زیادہ تھا اور امیر معاویہ اپنے بہن کی وجہ سے عثمان غنی سےبہت سی مراعات بھی حاصل کرتا تھا جس کی وجہ سے عثمان غنی پر اقربا پروری کے الزامات بھی لگے ۔ان خوارجین نے یہ منصوبہ بنایا اور عثمان غنی ؓپر حملہ کیا اور مولی علی اس بات کو سمجھ رہے تھے کہ ان خوارجین کی طرف سے ایسا ہو گا اس لئے آپ نےاپنے دونوں بیٹوں امام حسن اور امام حسین کے گھر پر پہرے کے لئے لگا رکھا تھا لیکن اس کے باوجود بھی انہوں نے شہید کر دیا ۔ اب اِس بات کو بنیاد بنا کر امیر معاویہ نے بی بی عائشہ کو ساتھ ملا لیامدعا اُٹھایا کہ علی خلیفہ ہیں اور قاتلوں کو نہیں پکڑ رہے ہیں اوراس بات کو بنیاد بنا کر جنگ کر لی جس کے نتیجے میں اُمت مسلمہ کے دو دھڑے بن گئےاور یہ جو دو دھڑے بنے اس کے حوالے سے بھی نبی کریمﷺ کی احادیث موجود ہیں کہ عنقریب میری اُمت میں ایک گروہ باغی ہو جائے گا۔ایک مشہور صحابی رسول گزرے ہیں عمار یاسر جن کو نبی پاکؐ نے فرمایا تھا کہ تیری موت باغیوں کے ہاتھ ہو گی ۔جب مولی علی اور امیر معاویہ کی فوجیں آمنے سامنے ہوئیں تو عمار یاسر امیر معاویہ کے لشکر میں تھااُس کو حضوؐرکی حدیث یاد آ گئی کہ تو باغیوں کے ہاتھوں مارا جائے گاتو جب یہ الفاظ حضوؐرکے اُسے یاد آئے تو اس سے دیکھا کے سامنے تو مولی علی کھڑے ہیں یہ کیسے باغی ہو سکتے ہیں لہذا انہوں نے امیر معاویہ کا لشکر چھوڑ کر مولی علی کے ساتھ آ کر کھڑے ہو گئے اور مولی علی نے فرمایا یہ باغی ہیں جہاں تو پہلے کھڑا تھا ۔اُس وقت اُمت مسلمہ دو حصوں میں بٹ گئی ۔اس موقع پر زرا آپ غور فرمائیےوہ مسلمان جو مولی علی کو دشمن سمجھتے تھے اور امیر معاویہ کے ساتھ تھے کیا انہوں نے نہیں سنا تھا کہ نبی کریم ﷺ نے مولی علی کے لئے ارشاد فرمایا تھا کہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ کُهَيْلٍ قَال سَمِعْتُ أَبَا الطُّفَيْلِ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَرِيحَةَ أَوْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ شَکَّ شُعْبَةُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ
جامع ترمذی ۔ جلد دوم، حدیث 1679

حق کو باطل کے ساتھ نہ ملاؤ:

لیکن اس کے باوجود بھی وہ مسلمان ہی تھے جو جنگ پر مولی علی کے سامنے کھڑے تھے۔یہ وہ نکات ہیں جن کو سراحت کے ساتھ مسلمانوں میں علماء کرام کھول کر بیان نہیں کرتے اور ایک منافقانہ روش اختیار کر رکھی ہے مارنے والا اور مرنے والا دونوں جنتی ہیں ۔کچھ علماء ایسے بھی ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ امیر معاویہ حق پر نہیں تھے لیکن ہم اُن کو بُرا نہیں کہہ سکتے یہاں پر اکابرین دین نے قف لسان کا حکم دیا ہے یعنی زبان کو روکو ، بولو مت۔ جبکہ اس کے برعکس قرآن مجید میں حکم ہے کہ

وَلَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَتَكْتُمُوا الْحَقَّ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ
سورة البقرة آیت نمبر 42
ترجمہ : باطل کو حق کے ساتھ نہ ملاؤاور نہ ہی حق کو چھپاؤ۔

یعنی اگر تمھیں حق معلوم ہے اور تم نے چھپا دیا تو پھر ایمان چلا گیا ۔اب جب مولی علی کے لئے نبی کریم ﷺ نے فرما دیا کہ علی میرے لئے ایسے ہی ہیں جیسا ہارون کو اللہ نے موسیٰ کا وسیع بنایا اسی طرح علی کو اللہ نے میرا وسیع بنایا ہے ۔پھر نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ “علی کے چہرے کو دیکھنا عبادت ہے “۔ اور امیر معاویہ نے یہ کیا کہ مسجد مسجد جا کر ہر عالم کو کہا کہ خطبہ جمعہ میں علی پر معاذا اللہ لعنت بھیجو اور گالی دو۔ اگر مولی علی کے چہرے کو دیکھنا عبادت ہے تو پھر اُن کو گالی دینا اور لعنت بھیجنا کیا ہے ! کیا یہ اسلام ہے ، کیا اس پر زبان چپ رکھیں ۔ برصغیر وہ خطہ ہے جہاں مسلمانوں نےقرآن مجید کو پیچھے چھوڑ دیا ہے اور دین اسلام کا جو نظریہ بنا ہے وہ قرآن کے بجائے مولویوں کی آراء سے بنا ہے کہ علماء کے جمہور کا یہ متفقہ فیصلہ ہے کہ امیر معاویہ کے لئے قف لسان کا رویہ اختیار کیا جائے۔نبی کریمﷺکی حدیث کے مطابق اگر آپ کسی کو گالی دیں تو یہ “فسق” کہلاتا ہے اور قرآن کا فاسقوں کے لئے حکم ہے کہ اللہ فاسقوں کو ہدایت نہیں دیتا ہے ۔

إِنَّ اللَّـهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ
سورة المنافقون آیت نمبر 6
ترجمہ: بیشک اللہ تعالی فاسقوں کو ہدایت نہیں دیتا ہے ۔

ایسا قطعی ممکن نہیں ہے کہ کوئی مومن کو گالی بھی دے اور ہدایت پر بھی قائم رہے ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ جو مومن کو گالی دے گا اس کا ایمان ضائع ہو جائے گااور جو مولی علی کو گالی دے کیا وہ مومن ہی رہے گا۔کیا ایسی کوئی حدیث ہے کہ جس میں یہ لکھا ہو کہ امیر معاویہ نے جو کچھ ظلم کئے ہیں اسے بھلا دو۔ امیر معاویہ اور علی کے درمیان جو کچھ بھی ہے وہ اللہ کا معاملہ ہے اور بس امیر معاویہ کو اپنا امیر سمجھ لو۔اور جو حضوؐرکا فرمان ہے کہ علی میرے لئے وسیع کی سی حیثیت رکھتے ہیں ، مثل ہارون ہے ، اور یہاں تک کہ مولی علی کے لئےنبی کریمﷺ کا فرمان ہے کہ میں علم کا شہر ہوں اور علی اُس کا دروازہ ہے ،کیا اِن تما م باتوں کو پس پشت ڈال دیا جائےاور جو غلطیاں پوری کائنات نے دیکھ لی ہیں ، جو فسق کے اعمال جو بغاوت امیر معاویہ کی پوری اُمت مسلمہ نے دیکھ لی ہے اُس سے باوجود قف لسان رکھے اور یہ سمجھ لے کہ یہ اللہ اور امیر معاویہ کے بیچ کا معاملہ ہے ، اگر یہ مولی علی کو گالی دیتے ہیں تو دیتے رہیں میں اپنا دل میلا نہ کروں ۔ آپ کے مولی کو کوئی گالی دیتا رہے اور آپ اپنا دل میلا بھی نہ کریں یہ کہاں کا انصاف ہے ۔یہ کہاں کا قرآن ہے یہ کہاں احادیث میں لکھا ہے ۔

امام حسن کا امیر معاویہ سے معاہدہ اور خلافت سے دستبرداری:

اب دونوں گروپوں میں جنگ ہو گئی اور آدھی سلطنت پر امیر معاویہ کا قبضہ تھا اورجو باقی ماندہ حصّہ تھا اس پر مولی علی خلیفہ تھے ۔جس سلطنت پر امیر معاویہ کا قبضہ تھا اسی حصے کی مساجدمیں امیر معاویہ گالیاں دلواتا تھا۔امیر معاویہ نےخارجی ابن ملجم کو مولی علی کو شہید کرنے کے لئے نہروان کی ایک خوبصورت عورت کا انتخاب کیا اور اسے کہا کہ ابن ملجم کو اپنی ادائیں دکھاؤ اور جنسی تعلق پر صرف اس بات پر آمادہ ہونا جب تک وہ مولی علی کو قتل نہ کر دے۔ چناچہ اس نے ایسا ہی کیا اور خارجی ابن ملجم کو اپنی اداؤں کے جال میں پھانس لیا اور ابن ملجم نے مولی علی کو شہید کر دیا ۔اس کے بعد امام حسن مجتبیٰ خلیفہ مقرر ہوئے جس خطے میں مولی علی کی خلافت تھی۔اب اُمت جو دو گروہوں میں منقسم ہو گئی تھی اس کے اتحاد کیلئے امام حسن مجتبیٰ نے امیر معاویہ سے ایک معاہدہ کیا کہ امیر معاویہ خلافت کو وراثت نہیں بنائے گااور نیا خلیفہ آنے سے پہلے اُسے کوئی اختیار نہیں ہو گا کہ وہ خلیفہ مقرر کرےبلکہ مسلمانوں کی شوریٰ بیٹھے اور مسلمان جس کو اپنا خلیفہ منتخب کریں وہ اُمت کا خلیفہ ہو گا۔ امام حسن نے یہ کہا کہ اگر یہ معاہدہ ہو جاتا ہے تو میں خلافت سے دستبردار ہو جاؤں گااور پوری خلافت کا خلیفہ امیر معاویہ کو بنا دیتے ہیں ۔امام حسن کی اس بات میں اُمت کیلئے کتنا درد نظر آتا ہے کہ اُمت مزید انتشار میں نہ پڑےاس کی خاطر وہ خلافت سےدستبردار ہوگئےاور یہ معاہدہ ہو گا۔ پھر امیر معاویہ نے معاہدہ کے بعد امام حسن مجتبیٰ کو زہر دلوا دیا کیونکہ اسے خطرہ تھا کہ اگر امیر معاویہ نےاپنے بیٹے یزید کو خلیفہ مقرر کیا تو امام حسن مجتبیٰ اس کو ہر گز قبول نہ کریں گے۔اس طرح امام حسن کی بھی شہادت ہو گئی جس کے بعد امیر معاویہ نے تیاری شروع کر دی کہ اپنے بیٹے یزید کو جانشین مقرر کر دے۔لیکن جب اُس نے یہ دیکھا کہ لوگ اس کے خلاف اُٹھا رہے ہیں اور اسے تسلیم نہیں کر رہے ہیں ۔امام حسن مجتبیٰ کی شہادت کے بعد اُمت میں چار افراد ایسے بچے تھے جن کو پوری اُمت بڑا مانتی تھی ، جن میں عمر بن خطاب کے صاحبزادے، ابو بکر صدیق کے صاحبزادے، امام حسین ان سب کے پیچھے امیر معاویہ پڑ گیا ۔امیر معاویہ نے ان چاروں کو مارنے کے لئے بندے بھیجے تو ابو بکر کا بیٹا بھاگ کر بی بی عائشہ کے پاس چلا گیا تو پھر انہوں نے اسے چھوڑ دیا ۔ایک دن امیر معاویہ نے ان چاروں کو کسی بہانے سے بلوا لیا اور پھر تلوار گردن پر رکھ کر دھمکیاں دے کر کہا کہ خاموشی سے سنو اور جو کہا جا رہا ہے اس پر اثبات میں سر ہلانا ہے اور پھر مسجدالحرام کے منبر پر بیٹھ کر کہا میں اپنے بیٹے یزید کو جانشین مقرر کر رہاہوں ان چاروں میں سے کسی کو اعتراض نہیں ہے انہوں نے بیعت کر لی ہے، تلوار کے زور پر زبردستی جھوٹ بولا اُن کے سامنے ۔لوگوں نے جب سنا کہ ان چاروں نے بیعت کر لی ہے تو ہمیں کیا اعتراض ہو سکتا ہے ہم بھی ان کے فیصلے کی قدر کرتے ہیں ۔امیر معاویہ کے جانے کے بعد ان چاروں نے کہا کہ ہم نے بیعت نہیں کی ہے جس کی وجہ سے ایک عجیب و غریب فضا پیدا ہو گئی۔

اُصول حدیث میں گڑبڑ کا دور:

یہ وہی امیر معاویہ ہے جس نے مسجد الحرام میں خانہ منبر پر بیٹھ کر جھوٹ بولا ، اس کے علاوہ جو امیر معاویہ نے امام حسن مجتبیٰ سے معاہدہ کیا تھا اس کی بھی خلاف ورزی کی ۔امیر معاویہ کی کوشش یہ تھی کہ مسلمان اُمت میں اس کے خلاف جو چہ مہ گوئیاں ہو رہی ہیں اس کو کیسے خاموش کرایا جائے۔یہ وہی دور تھا جس میں باقاعدہ احادیث پر کام کیا گیا اور بیشمارجھوٹی اور من گھڑت احادیث بنائی گئیں۔ایک امام گزرے ہیں امام احمد بن حنبل ، انہوں نے ایک اسلامی رہبر کی حیثیت کچھ باتیں کہیں جیسے انہوں نے کہا حدیث کی سند کو چھوڑ دو، عالموں کی سند اور اجماع میری نظر میں کوئی اہمیت نہیں رکھتا خاص طور پر اُس حدیث کے مقابلے میں جو بھلے ہی ضعیف اور موضوع ہو ۔ میں کسی عالم کی بات کو ماننے کے بجائےاُس موضوع حدیث کو ماننا زیادہ پسند کروں گا۔یہاں پر انہوں نے باقاعدہ آئماکرام کو جھٹلانے کیلئےاُن جھوٹی حدیثوں کا سہارا لیا ۔کسی بھی حدیث کی سند کیلئے تصدیق یافتہ سات اصحاب کبارجنھوں نے اپنی پوری زندگی میں جھوٹ نہ بولا ہو اور اُس وقت حضوؐرپر ایمان لائے جب مکے کا دور تھا ، تو اگر اُن سات اصحاب کبار سے وہ حدیث ہے اور اسکا متن ایک ہی ہے تو اُس حدیث کو یہ سند حاصل ہوتی تھی کہ یہ مستند حدیث ہے ۔امام احمد بن حنبل نے یہ کہہ دیا کہ حدیث کی سند کو نہ دیکھو اور اُن کا اشارہ حسن بصری کی طرف تھا، مولی علی اور امام حسن کی طرف تھا۔ بہت ساری احادیث جو نبی کریم ﷺ کے زبان مبارک سے نکلی ان کیلئے یہ کہا گیا کہ یہ حضوؐرنے فرمایا ہی نہیں ہے یہ تو فلاں فلاں کا قول ہے ۔ لہذا یہ وہ ہے جس میں اُصول ِ حدیث میں گڑبڑ پیدا کی گئی اور بے پناہ جھوٹی من گھڑت احادیث کا انکلاء شروع ہو گیا ۔انہی حدیثوں میں ایک یہ بھی حدیث تھی کہ حضرت علی اور دیگر صحابہ کو کسی صحابی نے بلایا اور وہاں پر شراب کی پارٹی تھی اور پھر سب سے شراب پی اور پھر نماز کا حکم ہوا اور مولی علی نے جو نماز پڑھائی تو آیت ہی غلط پڑھ دی ، یہ بھی جھوٹی حدیث ہے ۔

اہل کوفہ کے امام حسین کو خطوط:

اب وہاں بےچینی کا عالم یہ تھا کہ لوگ امیر معاویہ کو خلیفہ نہیں مانتے ہیں تو اس کا بیٹا جو اس سے بھی زیادہ خراب ہے اُس کوخلیفہ کیسے مانیں اور اس کے ہاتھ پر کیسے بیعت کریں ، ہمارا تو دین تباہ ہو جائے گا۔ایسی افراتفری کی صورتحال میں لوگ اہل بیت کی طرف دیکھ رہے تھے کہ اب یہ کچھ کریں کیونکہ اسلام تو فاسقوں کے ہاتھ میں چلا گیاہے ۔لہذا اہل کوفہ نے امام حسین کو کئی خطوط لکھے اور پیغامات بھیجے اور اسطرح کے پیغامات بھیجے کہ ہم چاہتے ہیں کہ آپ ہمارے خلیفہ بنے تاکہ ہمارا صحیح رہے اگر آپ نے ہماری آواز پر ہماری مدد نہ کی تو یومِ محشر میں ہم یہ اللہ کے سامنے رکھیں گے کہ ہم نے محمد الرسول اللہ کے نواسے کو پکارا اور وہ نہیں آئے ۔ امام حسین تو آرام سے اپنے گھر بیٹھے ہوئے تھے اُن کو خلافت کا کوئی شوق نہیں تھا لیکن جب لوگوں نے جذباتی طور پر بلیک میل کیا تو پھر امام حسین چلے گئےلیکن وہ اہل کوفہ جنھوں نے بیشمار خطوط لکھے تھے وہ سب پیچھے ہٹ گئے اور جو کچھ کربلا میں ہوا وہ بہت دردناک ہے ۔یہ وہ اسلامی سلطنت کا نقشہ ہے کہ جو مولی علی کی شہادت کے بعد سیاسی اسلام ختم ہو گیا اسکے بعد جو کچھ بھی ہوا ہے وہ اللہ کی طرف سے نہیں ہوا مولویوں نے گدی اور خلافت کی خاطر اُمت کو خلفشار، انتشار کا نشانہ بناتے رہیں ہیں اور اُس وقت سے جو انتشار اُمت میں آیا ہے تو آج تک اُمت انتشار کا شکار رہی ہے اور اب یہ عالم ہے کہ صرف انتشار رہ گیا ہے اور اُمت غائب ہو گئی ہے ۔

مندرجہ بالا متن نمائندہ گوھر شاہی عزت مآب سیدی یونس الگوھر سے 14 ستمبر 2018 کو محرم الحرام میں یو ٹیوب لائیو سیشن میں کی گئی گفتگو سے ماخوذ کیا گیا ہے ۔

متعلقہ پوسٹس

دوست کے سا تھ شئیر کریں