کیٹیگری: مضامین

یو ٹیوب پر کئے گئے سوال کے جواب سے ماخوز:
سوال: سرکار گوھر شاہی نے اپنی کتاب مقدس دین الہی میں فرمایا ہے کہ ”عیسیٰ کا جسم سمیت اور امام مہدی کا ارضی ارواح کے زریعے آنا ہے“ ۔اس میں کس بات کی طرف اشارہ ہے اور کیا حکمت ہے ؟

کتاب مقدس دین الہی سے اقتباس:

”اگر کوئی ساری عمر عبادت کرتا رہے،لیکن آخر میں امام مہدی اور حضرت عیسیٰ کی مخالفت کر بیٹھا جن کو دنیا میں دوبارہ آنا ہے (عیسیٰ کا جسم سمیت اور مہدی کا ارضی ارواح کے زریعے آنا ہے ) تو وہ بلیعم باعور کی طرح دوزخی اور ابلیس کی طرح مردود ہے۔اگر کوئی ساری عمر کتوں جیسی زندگی بسر کرتا رہا لیکن آخر میں اُنکا ساتھ اور اُن سے محبت کر بیٹھا تو وہ کتے سے قطمیر بن کر جنت میں جائے گا۔“

کثافت سےلطافت کا سفر:

ارضی ارواح سے ہی جسم کو بنایا جاتا ہے ۔یہاں اس اقتباس میں سیدنا گوھر شاہی نےایک حکمت کا استعمال فرمایا ہے اور وہ حکمت یہ ہے کہ عام ولیوں اورنبیوں کے لطائف سے جو جسےّ نکلتے ہیں ان میں ہڈی نہیں ہوتی لیکن سیدنا گوھر شاہی کے جو جسےّ نکلے اُن میں ہڈی موجود تھی اور اسکو جسم کہا جا سکتا ہےاگر یہ کہہ دیتے کہ امام مہدی نے دوبارہ جسم سمیت آنا ہے تو بات پھر ادھوری رہ جاتی تو پھر سوال یہ اٹھتا کہ کون سے جسم سے آنا ہے؟ اس بات کو سمجھنا ضروری ہے جس کو ہم جسم سمجھتے رہے ہیں وہ جسّہ ہےلیکن جسّہ جسم جیسا ہے ۔
ایک تو جسّہ وہ ہے کہ جس نے کینٹین کا کاروبار کیا سوئی گیس کے چولہے بنائےاور پھر وہ لال باغ گئے اور جب لال باغ گئے تو پھر پہلی دفعہ سیدنا گوھر شاہی کی ملاقات سرکارگوھر شاہی سے ہوئی ۔سیدناگوھر شاہی کی پہلی ملاقات سرکار گوھر شاہی سے لال باغ میں ہوئی۔یہ جو عقدہ ہے جسّوں کا اور اجسام کا یہ سمجھنا ضروری ہے سرکار کے جو جسّہ ہائے مبارک ہیں ان کو یہ طاقت حاصل ہے کہ و ہ جب چاہیں لطافت کی انتہا اختیار کر لیں اور جب چاہیں وہ اتنی کثافت اختیار فرما لیں کہ جسم کہلا سکیں ۔ یہ آپ کے اختیار میں ہے ۔

”سیدنا گوھر شاہی کے جسّہ ہائے مبارک کو یہ طاقت حاصل ہے کہ جب چاہے اتنی لطافت اختیار فرما لیں کہ مقابلہ لطافت میں انبیاءکی ارواح کو پیچھے چھوڑ دیں اور جب چاہیں اسقدر کثافت اختیار فرما لیں کہ وہ جسم کہلا سکیں“

جسّہ جو ہےوہ جیسا رہتا ہے وہ ویسا ہی رہتاہے ،اگر بیس سال کی عمر میں کوئی جسّہ نکلا ہے توسو سال بعد اگر کوئی جسہ نظر آئے گا تو وہ بیس سال کی طرح کا ہی لگے گا۔یہ ایک راز ہے جس راز کو روحانی طور پر ظاہر نہیں کیا گیا ، اس راز کوآپ سمجھ لیں تو اِس سے بڑے مسئلے حل ہو جاتے ہیں۔ جواصحاب کہف کو تین سو سال کا مراقبہ لگا اسکے پیچھے بھی یہی بات موجودتھی کہ کثافت سے لطافت کا سفر تھا جب لطافت میں چلے گئے تو وقت اور وقت کی حشر سامانیاں جسم پر نظر انداز ہو گئیں اور پھر جب لطافت سے کثافت کی طرف لوٹے ہیں تو وہ مراقبہ ٹوٹ گیا ہے ۔جس طرح غوث اعظم ؓ نے اپنے پوتے کو کہا کہ تم مرنا نہیں چھ سو سال سے وہ زندہ کسطرح تھے،یہ کثافت سے لطافت کا سفر ہے ،کثافت سے لطافت کی طرف منتقل ہو گئے مراقبہ لگ گیا 300 سال آرام سے گزر گئے ،جسم کے اوپر کوئی اثر نہیں پڑا۔ اسی طرح ادریس ؑ جب یہاں سے عالم ملکوت میں گئے ہیں تو پھر وہ لطافت اُن کے اوپر حاوی ہوگئی۔جب عیسیٰ ؑ دو ہزار سال سے وہاں مقیم ہیں تو لطافت اُن پر حاوی ہو گئی اگر کثافت حاوی رکھیں گے تو بھوک و پیاس لگے گی۔جس طرح سلطان حق باہو وغیرہ تھے اٹھارہ اٹھارہ بیس بیس دن ایک ایک مہینے کا مراقبہ کر لیتے تھے اور بھوک پیاس نہیں لگتی تھی۔ اُس کی وجہ یہی تھی کہ وہ کثافت سے لطافت کی طرف چلے گئےاسکی وجہ سے انہیں بھوک پیاس نہیں لگی۔ بھوک پیاس لگے گی کھانا کھائیں گے تو عمر بڑھے گی لیکن اگر وہیں رک جائے گی تو وہ لطافت کی حالت میں چلے جائیں گےتو ایجنگ پروسس(بڑھاپا آنا) رُک جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ جو لوگ بہت زیادہ کھاتے ہیں اُن کا جو جسم ہے اس میں بہت زیادہ نشونماہوتی ہے اور وہ جلدی بوڑھے ہو جاتے ہیں اور جو زیادہ تر سبزیاں کھاتے ہیں ان کا جسم اتنا استعمال نہیں ہوتا تو وہ یعنی ایک اینٹی ایجنگ پراسس ہوجاتا ہے۔ آپ ذرا مقابلہ کر کے دیکھیں ان لوگوں کو جو ہفتے کے سات دن گوشت کھاتے ہیں اُن سے موازنہ کریں جو ہفتے کے ساتوں دن سبزیا ں کھاتے ہیں آپ کو زمین آسمان کا فرق نظر آئے گا ۔ان کی جلد جو ہے وہ اچھی ہو گی جو سبزی خور ہیں کیونکہ سبزیوں میں فری ریڈیکلز نہیں ہوتے ہیں اور گوشت میں فری ریڈیکلز ہوتے ہیں امائینو ایسڈز ہوتے ہیں اسکی وجہ سے آپ کے جسم کو بہت زیادہ محنت کا کام کرنا پڑتا ہے ۔
سیدنا گوھر شاہی کا جو جسّہ مبارک ہےاس میں پاؤںمیں ٹھنڈ بھی لگ رہی ہے،آپ نے جیکٹ بھی پہنی ہوئی ہے، آپ کھا پی بھی رہے ہیں، کسی کے وہم اور گمان میں نہیں آسکتا کہ یہ جسم نہیں ہے سب نے یہی سمجھا کہ یہ جسم ہے ۔یہی وجہ ہے کہ جب واقعہ غیبت رونما ہوا تو انجمن سرفروشان اسلام (دجالی ٹولہ ) کے جو سارے اندھے ،سارے دغا باز لوگ امینہ بیگم کے ساتھ مل گئے اور انہوں نے یہ تصدیق کر دی کہ ہم نے تو پشت مبارک دیکھ لی ہےوہاں پر تو کوئی مہر مہدیت نہیں ہے تم نے اسکو جسم سمجھا اسی لئے تو وہاں پر مہر مہدیت ڈھونڈ رہے ہو ۔فرمان گوھر شاہی ہے کہ ”امام مہدی کے جسم میں خون نہیں ہو گا بلکہ نور ہو گا“۔یہاں سے ایمان مضبوط ہونا چاہیے اور یہا ں پر یہ خیال آنا چاہیے کہ بھئی یہ جو چیز ہمارے پاس آئی ہے اس میں تو خون ہےاس لئے یہ جسم نہیں ہو سکتا۔اوروہ اس بات سے گمراہ ہو گئے۔

سیدنا گوھر شاہی کاارضی ارواح ِ محمد والا جسم :

1987 میں جب آپ میری تربیت فرما رہے تھے ایک محفل میں سیدنا گوھر شاہی کے ساتھ جانا ہوا توآ پ نے مجھے وہاں چھوڑ دیا اور کہیں تشریف لے گئے ۔تو موقع اچھا تھا سلطان حق باہو میرے قریب آئے اور مجھے کہنے لگےکہ میں تم کو تمہارے مرشد کے بارے میں کچھ بتاتا ہوں تو میں نے کہا کہ بتائیے تو انہوں نے کہ کیا تم کو معلوم ہے کہ اس دنیا میں درود شریف تمہارے مرشد کے وجود کی وجہ سے پڑھا جاتا ہے۔تو میں بڑا خوش ہوا۔ وہ مجھے کہنے لگے کہ اگر تجھےحقیقت جاننی ہے تو اپنے قلب کی حالت پر غور کرنا جب سرکار کے سامنے جائے۔ اب تھوڑی دیر بعد سرکار آگئے اور جیسے ہی سرکار آئےتو مجھے اپنے قلب سے درود شریف کی آواز آنے لگی ۔اب یہ واقعہ میں نے سرکار کو بتایا بھی سرکار مسکرائے اور فرمایا کہ بھئی یہ تم جانو اور سلطان باہو جانیں مجھ سے کیا پوچھ رہے ہو۔خیر پندرہ سولہ سال گزر گئےمیں نے ایک دن سیدنا گوھر شاہی کی بارگاہ میں عرض کیاکہ سرکار جو سلطان صاحب والی محفل میں آپ لے کرگئے تھے اور وہ جو واقعہ ہوا کہ تمہارے مرشد کی وجہ سے درود شریف پڑھا جاتا ہے اور پھر جب آپ تشریف لائے تو میرا قلب درود شریف پڑھ رہا تھا تو اس کے بارے میں آپ سے یہ بات کرنی تھی کہ ظاہر میں جب آپ سے ملاقات ہوتی ہےتو آپ سے ملاقات کے وقت دل درود شریف نہیں پڑھتا ۔اُس روحانی محفل میں قلب نے درود شریف پڑھا تھا، تو اس کی کیا وجہ ہے ۔ بہت تبسم فرمایا اورکہا کہ وہ، وہ جسم تھا جس میں حضور پاک کی ارضی ارواح تھیں اب جب بھی وہ جسم مبارک آئے گا توفنا فی ایشخ کا قلب اُس جسم کو دیکھ کے درود شریف پڑھنے لگ جائے گا۔تو وہاں سے پہچان جاتے ہیں اُسکے بعد پھر پہچان ہو گئی یعنی کوٹری گئے یا کہیں اور گئےکبھی بھی قلب نے درود شریف پڑھا ہی نہیں۔
مجھے یاد ہے کہ ہم واشنگٹن ڈیلس ایئر پورٹ سے فلائٹ لے کر لندن واپس آرہے تھےاور اتنا جہاز بگڑا ،اتنا جہاز بگڑا تو میں پریشان ہو گیا ۔جہاز میں ہمارے اطراف میں تین چار سیٹیں خالی تھیں ایک سیٹ پر میں بیٹھا تھا اورکونے والی سیٹ پر سرکار لیٹے ہوئے تھےتو سرکار کا سر انور میری گود میں تھا اور میں سرکار کے بالوں میں انگلیاں پھیر رہا تھا تو اچانک اتنی خطرناک ٹربیولینس ہوئی اور ڈیڑھ دو گھنٹے تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ سرکار سوتے رہے ،اچانک میں نے محسوس کیا آپ کے جسم مبارک کو جھٹکا لگاتو وہ احساسات خود بخود تبدیل ہو گئے اور میں مرعوب سا ہو گیا۔ ایک باطنی رعب اور دبدبہ قائم ہو گیاحالانکہ سرکار ڈیڑھ دو گھنٹے سے میری گود میں سر رکھے استراحت فرمارہے تھےلیکن اچانک مجھے محسوس ہوا کہ ایک باطنی رعب اور دبدبہ قائم ہو گیا ہے اور اسکے ساتھ ہی قلب سےدرود شریف کی آواز آنے لگ گئی تب مجھے پتا چلا کہ وہ ارضی ارواح والا جسم آگیا ہے ، مجھے سمجھ میں آگیا کہ یہ وہی چیز ہے۔ خیر اب اتنی خطرناک ٹربیولینس ہے اور سرکار نے اچانک آنکھیں کھولیں اور کہا استاد باتھ روم جانا ہے میں نے کہا کہ سرکار بہت خطرناک ٹربیولینس چل رہی ہے فرمایا کہاں چل رہی ہے چلو کھڑےہو جاؤ۔پورا جہاز ادھر اادھر ہورہا ہے اور سرکار نے میرا ہاتھ پکڑا ہوا ہےاور ہم ایسے جا رہے ہیں کہ جیسے زمین پہ چل رہے ہیں،ایک تو یہ تجربہ ہوا کہ جس سے مجھے پتا چلا کہ یہ وہی والا جسم ہے۔
سیدنا گوھر شاہی نے پھر ایک مرحلہ پر یہ فرما دیاکہ یہ جو ہمارا ارضی ارواح والا وجود ہے ، آہستہ آہستہ یہ اب آنے لگ گیا ہے تاکہ اسکو پتا چلے کہ ہمارے وفادار کون ہیں اُن کو یہ پہچان لے اب اِسی نے رہنا ہے۔ تو یہ جو گھنٹی بجتی تھی درود شریف والی یہ بڑی خطرناک گھنٹی تھی اچانک بیٹھے بیٹھے شروع ہو جاتا ۔پھر ایک بات اور بھی ہے آپ لوگوں نے اکثر دیکھا ہو گا کہ میں محفل میں نعتیں پڑھتا ہوں تو جب وہ ایسا ہوتا ہے تو اس سے یہ باطنی اشارہ ہوتا ہےکہ سیدنا گوھر شاہی کا وہ ارضی ارواح والا وجود انور گرد و نواح میں ہے۔ تو ارضی ارواح کے ساتھ آنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ وجود انور جس میں حضور نبی کریمﷺ کی ارضی ارواح ہیں اسکے ذریعے امام مہدی کی دوبارہ آمد ہو گی وہ مستقل وہی ارضی ارواح والا وجود انورہو گا،اب اسکے اندر آنا جانا نہیں گا وہ مستقل ہو گا ۔اور وہ جو جسم مبارک ہے وہ جسّوں سے جسکا تعلق اور رشتہ تھا ہے وہ اُن کو نہیں پہچانتا،نہ اُن ذاکروں کو پہچانتا جنکی تربیت فرمائی ہےجسّوں نے، ان لوگوں کو وہ نہیں پہچانتا،وہ انہی کو پہچانتا ہے جنکا تعارف اُن سےسرکار نے کرایا ہے ۔اب لوگ بیٹھے ہوئے دعوے کرتے ہیں کہ جی ہم تو بہت قریب ہیں،ٹھیک ہے ہو گے وہ تو وقت بتائے گا کہ کو ن قریب ہے۔
وہ جو جسم مبارک ہے وہی جسم مبارک ہے کہ جو غیبت کے بعدتشریف لائےاور میں بڑا مغموم سا بیٹھا تھاتو وہی جسم مبارک مجھے آج بھی یاد ہے کہ سرکار نے میرا ہاتھ پکڑا اور اڑ گئےآناًفاناً ایک لمحے میں اور دوسرے لمحے میں میں دیکھ رہا ہوں کہ ہم عالم احدیت میں ہیں ۔حالانکہ اس سےپہلے بیت المعمورتک کی پرواز روح کے ذریعے کئی دفعہ ہوئی لیکن اس میں تھکاوٹ بہت زیادہ ہو جاتی تھی اور تھکاوٹ اسلیئے ہو جاتی تھی کہ روح کا جسم سے نکلنا بہت کٹھن مرحلہ ہے۔ہم تو سب کچھ کھاتے ہیں کوئی پرہیز بھی نہیں کرتےکہ ترک حیوانیات کریں،ہم نے جسم کو چلوں میں، ریاضتوں میں، مجاہدوں میں بھی نہیں ڈالاتو اُسکی وجہ سے ہمارے جسم میں انتہا درجے کی کثافت ہےلہذا اُس روح کو نکلنے میں بھی بڑی تکلیف ہوتی ہے۔جب وہ روح نکلتی ہے تو پھر یہاں سے عالم ناسوت تک کا سفر بہت درد ناک رہتا ہےکیونکہ یہاں تو بہت زیادہ نار ہے، اتنی نار ہے کہ روح کو گھٹن محسوس ہوتی ہےکہ جیسے دم گھٹ جائے گا۔ خیر وہاں آناًفاناًپہنچ گئے اور جو ارضی ارواح والا جسم ہےانہوں نے ہی ریاض الجنہ کے گیٹ تک پہنچایا کہ چلو اب اندر جاؤ۔

حاصل کلام:

ارضی ارواح سے آنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ وجود انور جس میں حضور ﷺ کی ارضی ارواح موجود ہیں اسکے ذریعے تشریف لائیں گے ۔یہ بات عام لوگوں کے لیئے ہے کہ جسمانی طور پرآنا یا روحانی طور پر آنا کیونکہ عام نبیوں کا ،خاص نبیوں کا ، سب کا ایک جسم ہوتا ہےاسی لیئے بات آسان ہو جاتی ہے کہ روحانی آئیں یا جسمانی آئے ۔لیکن جس کے عربوں کھربوں اجسام ہوں وہ یہ لفظ کیسے استعمال کرےپھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کون سے جسم سے آرہے ہیں لہذا اس لئےکتاب مقدس دین الہی میں ”ارضی اوراح “کا لفظ استعمال فرمایا ہے ۔

متعلقہ پوسٹس

دوست کے سا تھ شئیر کریں