کیٹیگری: مضامین

عشق کیسے نمودار ہوا ؟

میری نگاہ سے اُنکو جو دیکھ لیتے کبھی
تمھارے ہاتھ سے آئینے گر گئے ہوتے

آدم صفی اللہ اس دنیا میں تشریف لے آئے اور اللہ تعالی نے اُنکو اپنی ذات سے رابطہ کرنے کی توفیق ، علم ، نبوت اور ولائت عطا فرمائی اور انسان یہ سمجھنے لگا کہ یہ تو بہت بڑی عطا ہو گئی ہے ۔پھر ابراہیم ؑ تشریف لے آئے اور اللہ نے اُنکو دوستی سے نوازہ ، انسان کی توقعات سے بڑھ کر ، کہاں انسان اور کہاں اللہ کی ذات والا، وہ تصور بھی نہیں کر سکتا کہ وہ اللہ کا دوست بھی بن سکتا ہے ۔چودہ ہزار آدم اور انکی اولاد اربوں سالوں سے اس دنیا میں رہتی چلی آئی کسی کے تصورات میں نہیں تھا کہ اُس کے بنانے والے سے رابطہ بھی ہو گا۔پھر جب ابراہیم ؑ تشریف لائے تو رب نے اپنی دوستی کے دروازے کھول دئیے۔ابراہیم ؑ کے موسی تشریف لائے تو ہمکلامی کا سلسلہ پہلی دفعہ اللہ تعالی نے کھولااور نوازشات بڑھ گئیں۔پھر عیسی ؑ تشریف لائے اور انکو کچھ کہنے کا موقع نہیں ملا اور پھر آخر میں نبی آخر زمان خاتم النبین محمد الرسول اللہ ﷺ کی بعثت ِ مبارکہ ہوئی اور آپ جسم سمیت اللہ کی ذات تک پہنچ گئے ۔موسیؑ کوہ طور پر بیہوش ہوئےاور حضور پاک اللہ کے روبرہ مسکرا رہے ہیں ۔نبی کریم ؐ کو اللہ کا دیدار ہو گیا اور یہ گمان تھا کہ اب اسکے بعد تو کچھ ہو نہیں سکتا۔پھر یہ آواز آئی
آرائش ِ جمال سے فارغ نہیں ہنوز۔۔۔۔۔پیشِ نظر ہے آئینہ دائم نقاب میں
اللہ اپنے اُسی حسن کو دیکھ رہا ہے جس کو دیکھ کر فریفتہ ہوا تھا،سارا وقت گزر گیا چودہ ہزار آدم اور اُسکی نسلیں آ گر چلی گئیں ، اربوں سالوں سے یہ دنیا نظارے دیکھتی رہی لیکن اللہ کا آرائش ِ جمال اختتام پذیر نہیں ہوا۔سوال یہ ہے کہ یہ اللہ کی تیاری کس کے لئے ہے؟ اہتمام ِحسن اس لئے کیا جاتا ہے تاکہ عشق نمودار ہو ۔دین ِ الہی تو یہ ہے کہ اللہ خود عاشق اور خود معشوق ہے لیکن اگر حسن نہ ہو تو عشق ادھورا ہوتا ہے ۔ اللہ عاشق، عشق اور معشوق ہے اور سیدنا امام مہدی حسنِ لازوال ہیں ۔حسن کو دیکھ کر ہی انسان کو پاگل پن کا دورہ پڑتا ہے ۔عشقِ الہی اور دین الہی تو سمجھ میں آ گئی لیکن یہ بات ابھی ادھوری ہے ، بغیر حسن الہی کے عشق الہی نہیں ملتا ۔
نمی دانم چہ منزل بود ،شب جائے کہ من بودم
بہر سو رقصِ بسمل بود، شب جائے کہ من بودم
خُدا خود میرِ مجلس بود ، اندر لا مکاں خسروؔ
محمد شمعِ محفل بود، شب جائے کہ من بودم

شمع خود محمد الرسول اللہ کی ذات ہے اور پروانے یہ سارے مخلوق بن گئی لیکن اللہ خود عاشق اور خود معشوق ہے، معشوق کا مطلب ہوتا ہے کہ وہ ذات جس سے عشق کیا جائے لیکن وہ عشق ہو کیوں رہا ہے ؟ اس لئے کہ وہ حسن مجسم ہے ۔ایک دفعہ حضرت کبریا سیدنا گوھر شاہی نے ارشاد فرمایا کہ جو امام مہدی سے ٹکرا گیا وہ عشق ہی عشق ہے ۔ذکر و فکر بھی مشکل ہے لیکن عشق الہی بہت ہی آسان ہے صرف اتنا کرنا ہے کہ حسن کے سامنے آ جاؤ۔زلیخہ شاہ مصر کی بیوی جو یوسف علیہ السلام پر اپنا دل کھو بیٹھی تھی ، ایک سہیلی نے دریافت کیا کہ تیرے غلام میں ایسی خاص بات کیا ہے ؟ اسکے جواب میں اس نے ایک ملاقات کا اہتمام کیا جس میں یوسف علیہ السلام کے حسن کو پردے میں رکھا گیا اور تمام سہیلیوں کو یہ کہا کہ جب پردہ ہٹایا جائے اُسوقت تم نے یہ سیب کاٹنا ہے ۔ لہذا پردہ ہٹایا گیا اور حسن یوسف کے دیکھتے وقت جب انہوں نے سیب کاٹا تو سیب کے بجائے اپنی انگلیاں ہی کاٹ لیں اور ایسا حسن ِ یوسف کی وجہ سے ہوا ۔اب اگر کوئی اللہ کے حسن کے سامنے جائے گاتو کیا حال ہو گا!

عشق الہی کیسے آتا ہے ؟

اب سمجھنا یہ ہے کہ اللہ نے اپنی ذات سے حسن نکال کر الگ پردے میں رکھ دیا ، جس نے بھی اللہ کا دیدار کیا ہے وہ اُسکے حسن کے بغیر دیکھا ہے اسی لئے اُن میں تاب بھی آ گئی ہے ۔اللہ کو اُسکے حسن کے ساتھ دیکھنے کی تاب کسی میں نہیں تھی ۔حضرت سلطان باہو نے فرمایا کہ میں جب چاہوں اللہ کو دیکھ لوں لیکن وہ دیدار اُس اللہ کا ہے جس کا حسن پردے میں ہے اور جس کو ہر وقت دیکھ لیا جائے اُسکی کوئی خصوصیت نہیں ہے ۔مسلمانوں کا یہی مسئلہ ہے کہ وہ غور و خوص نہیں کرتے ہیں جبکہ اللہ تعالی نے قرآن مجید میں فرمایا ہے کہ ہم نے یہ کلام اولااباب کیلئے اُتارا ہے ۔وہ جو اللہ نے حسن پردے میں رکھا ہے اگر کوئی اسی دیکھ لے تو ہوش قائم رہ جائے یہ ممکن نہیں ہے ۔جب عیسیٰ کو پتہ چلا کہ دیدار الہی تو حضوؐر بھی کرا سکتےہیں ، کتابوں میں لکھا ہوا ہے کہ عیسیٰ امام مہدی کے ہاتھ پر بیعت کریں گے وہ اُنکو اسم ذات عطا کریں گے اور وہ اللہ کا دیدار کریں گے۔اب سوال یہ ہے کہ دیدار تو حضور پاک بھی کرا سکتے تھے عیسی علیہ السلام امام مہدی کے دور میں کیوں تشریف لائیں گے ! کیونکہ عیسیٰ کو وہ دیدار چاہیے جس میں اُسکا حسن مشتہر ہو ۔قرآن مجید میں عورتوں کیلئے آیا ہے کہ تم اپنے مردوں کیلئے خوب زینت بنایا کرو، روپ سنگھار کیا کرو۔ اسکا مطلب یہ ہے کہ اللہ دیدار کی خصوصیت بیان کر رہا ہے کہ دیدار لطف اندوز کب بنتا ہے ۔اللہ نے عورتوں کو حسن مشتہر کرنے کا طریقہ قرآن میں سمجھایا تو کیا وہ خود اپنے لئے ایسا نہیں کرتا ہو گا۔اسی کیلئے فرمایا کہ آرائشِ جمال سے فارغ نہیں ہنوز۔ سلطان الفقراء اور طفل نوری تو اُس حسن کے نتیجے میں برآمد ہوا جو اللہ پر وارفتگی عشق طاری ہوئی تھی اُس کی کھرچن اور گرد ہے، اُس حسن کی زکوة ہے جس نے سلطان حق باہو کو سلطان الفقراء بنایا ، حسن بصری کو سلطان الفقراء بنایا ، غوث الاعظم کو سلطان الفقراء بنایا اور جس حسن سے یہ سب برآمد ہوئے ہیں خود اُس حسن کا کیا عالم ہو گا۔وہ حسن جس کو دیکھ کر اللہ نے سات مرتبہ جنبش لی اور ہر جنبش پر وہ نوری پسینہ برآمد ہوا جو ایک ایک طفل نوری بنتا چلا گیا ۔ وہ کھرچن آج دنیا میں آئی تو اس کے لئے کہا گیااذا تم الفقر فھو اللہ یہ کھرچن جس وجود میں سرائیت کر گئی تو اسکو اللہ کہہ دینا بجا ہے اوریہ طفل نوری جس کے مرہون منت ہے اُس حسن کا کیا عالم ہو گااور اُسکے ماننے والے کتنے خوش نصیب ہوں گے ۔
کس طور بیاں ہو سکے تعریف گوھر کی
مدّ مقابل ہو کوئی تمثیل گوھر کی

آج جشن ِ شاہی کے موقع پر عشق ِ الہی ، دین الہی میں ایک خاص نکتے کی وضاحت ہو گئی ہے کہ دین الہی عشق الہی ہے لیکن یہ دین آتا کیسے ہے ! اور عشق کیا ہے ؟ جیسے بخار کوئی بیماری نہیں ہے ، اگر کوئی زخم لگ جائے گا تو ہمارا قوت مدافعت کا نظام فوراً ہمارے جسم میں متحرک ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے بخار ہو جاتا ہے ، اگر بہت زیادہ تھک جائیں تو اس کی وجہ سے بھی بخار ہو جاتا ہے ۔ جسطرح یہ بخار ایک رد عمل ہے اسی طرح عشق بھی ایک رد عمل ہے اصل چیز کچھ اورہے ۔
اُن کے دیکھے سے آ جاتی ہے منہ پر رونق
وہ یہ سمجھتےہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے

یہ رونق اور مسکراہٹ اُنکے دیکھنے کی وجہ سے آئی ہے ، اسی طرح یہ وارفتگی جسکو عشق کہا گیا ہے یہ کسی کا نظارہ کرنے سے پیدا ہوا ہے ۔اب اللہ کی ذات تو عشق ہے لیکن یہ ردعمل ہے ۔ کوئی ایسا نبی نہیں آیا جس سے کوئی رگڑا کھائے اور عاشق بن جائے۔ عیسیٰ نے بھی کہا کہ (I am the Alpha and Omega) میں اول ہوں اور میں آخر ہوں لیکن اول سے پہلے کی کہانی بتائے گا۔بلھے شاہ نے بھی یہ بات کی کہ ;
بلھا کی جاناں میں کون۔۔۔۔۔نہ میں مومن وچ مسیت آں
نہ میں وچ کفر دی ریت آں۔۔۔۔۔نہ میں پاکاں وچ پلیت آں
نہ میں موسی نہ فرعون۔۔۔۔۔بلھا کیہ جاناں میں کون
اول آخر آپ نوں جاناں۔۔۔۔۔۔نہ کوئی دوجا ہور پچھاناں

بلھے شاہ نے بھی کہہ دیا کہ میں ہی اول اور آخر ہوں لیکن کسی نے یہ نہیں کہا کہ مجھ سے ٹکرا جاؤ توپھر عشق ہی عشق بن جاؤ گے۔جو کوئی بھی دیدارِ الہی میں گیا ہے تو اس دیدار میں اس کا حسن شامل نہیں تھا جس کی وجہ سے دیدار الہی اتنا آسان ہو گیا ۔ جب ابو ذر غفاری نبی پاک ے دریافت کیا کہ دیدار ہوا ہے تو آپ نے فرمایا کہ ہاں ہوا ہے اور کبھی کسی خاص حالت میں اُس دیدار کے اوپر غو ر وخوص فرمایا اور اُس خاص حالت میں کسی نے پوچھ لیا کہ دیدار ہوا ہے تو اُسوقت فرمایا کہ نہیں دیدار نہیں ہوا ہے اگر کوئی کہہ دے کہ میں رب کو دیکھا ہے تو اُس نے بہتان باندھا۔لہذا دیدار الہی ہوا ہے لیکن بدون حسن (بغیر حسن کہ)اور دیدار نہیں ہوا اُس حسن کا جس کو دیکھ کر اللہ نے سات جنبش کھائی تھی۔اسوقت اپنی خوش قسمتی کے آگے سب کو بھلا دیں ۔ سلطان باھو نے کہا تھا کہ اساں مرشد پھڑیا کامل باھو ، اپے ہی لاسی سارا ھو۔

سیدنا گوھر شاہی میں اللہ کا حسن موجود ہے:

کنت کنزاً مخفیا ۔۔ اللہ ایک چھپے ہوئے خزانے میں تھا تو وہ وہاں سے باہر آ گیا اور اُسے یہ بھی چاہت تھا کہ میں پہچانا جاؤ ں اور پہچان کیلئے جو مخلوق بنائی اسکا معیار اتنا اعلیٰ نہیں تھاکہ وہ اس پہچان تک پہنچ سکےلہذا اُس نے اپنے حسن کو حجاب میں رکھا یعنی جو مخلوق بنائی ہے اُس میں اسکے حسن کی تاب نہیں ہے اس لئے حسن کو چھپا لیا۔اور اپنا حسن اُس وقت عریاں کروں گا جب وہ مدد گار آئے گا کیونکہ وہ تاب پیدا کرے گا إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّـهِ وَالْفَتْحُ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّـهِ أَفْوَاجًاجب وہ مدد گار آئے گا تو وہ اس حجاب کو عریاں کرے گا۔جب اُس حسن کے چرچے ہوں گے تو جگہ جگہ جا کر تبلیغ کی ضرورت نہیں ہو گی بلکہ انسانیت اُمڈ آئے گی کہ اُس کے حسن کا چرچا ہو رہا ہے ۔اب دین کا تذکرہ نہیں اور نہ عبادتوں کی بات ہو رہی ہے اب اُسکے حسن کا چرچا ہو رہا ہے ۔اب عشق سیکھنا نہیں ہے ، کتاب دین الہی عشق کی تفصیل ہے اس میں کوئی راز نہیں ہے ۔ جس کو دیکھ کر اللہ عاشق ہوا اسی کو دیکھ کر تم بھی عاشق ہو جاؤ گے۔
ظاہر کی آنکھ سے نہ کوئی تماشہ کرے کوئی۔۔۔۔۔ہو دیکھنا تو دیدہ دل واہ کرے کوئی
سودا گری نہیں یہ عبادت خدا کی ہے ۔۔۔۔۔۔اے بے خبر جزا کی تمنا بھی چھوڑ دے
مجنوں نے شہر چھوڑا تو صحرا بھی چھوڑ دے ۔۔۔۔۔نظارے کی ہوس ہے تو لیلی بھی چھوڑ دے

عشق ِ الہی ،حسن کے متعارف ہونے سے آئے گا ۔ دل کی دھڑکنوں میں اللہ کا نام جانا ، روحوں میں اللہ کا نام جانا تو ایمان اور ایقان کے زمرے میں آتی ہے ۔ عشق الہی کیلئے صرف حسن کا نظارہ کرنا ہے ۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا اسی حسن کی بات ہو رہی ہے جس کو اللہ نے دیکھاہے تو ہمارا جواب ہے ہاں اسی حسن کی بات ہو رہی ہے ۔ اُس حسن کوصرف اللہ نے دیکھا ہے اور اللہ کے بعد غلامانِ گوھر شاہی دیکھ رہے ہیں اور دیکھیں گے۔ایک مقام پر حضرت کبریا سیدنا گوھر شاہی نے فرمایا یہاں ایک عورت آئی اور اس نے کہا ایک وقت آئے گا کہ یہاں بازارِ مصطفی لگے گاجس کا خریدار خود اللہ ہو گا۔ لوگ اللہ کو پانے کیلئے جنگلوں میں گئے اور پوری پوری زندگی لگا دی لیکن ایسی کونسی شے ہے جو سیدنا گوھر شاہی تمھارے اندر ڈالیں گے اور اللہ کہے گا یہ مجھے بیچ دو ۔ اللہ تو پوری کائنات کا خالق ہے ، ہر شے پر اسکا حق ہے پھر کسی کو دام دے کر بیچنے کا کیا حق ہے ۔ نظام الدین اولیا کے در پر ایک سائل آیا اور کہا کہ اللہ کے نام پر کچھ دے دو،آپ نے اپنی جوتیاں اسکو اُٹھا کر دے دیں اور نصیحت کی کہ ان جوتیوں کو اپنے سر پر رکھ کر جانا اگر ان جوتیوں کی قیمت اچھی لینا چاہتا ہے ۔وہ سائل نظام الدین اولیا کی جوتیاں اپنے سر پر رکھ کر جا رہا ہے کہ سامنے سے امیر خسرو کا قافلہ آ گیا اور اُنکو پتہ چل گیا کہ یہ مرشد کی جوتیاں ہیں ۔اس سائل سے پوچھا کہ یہ جوتیاں مجھے دے دو۔ سائل نے بے یقینی کی کیفیت میں کہہ دیا کہ اپنا قافلہ مجھے دے دو اور یہ جوتیاں لے لو۔ امیرخسرو نے وہ جوتیاں قافلے کے عوض لے لیں ۔وہ جوتیاں لے کر امیر خسرو خوش خوش مرشد کی بارگاہ میں آئےیہ بتانے کیلئے کہ مجھے آپ سے اتنی محبت ہے کہ آپ کی جوتیوں کیلئے میں نے اپنا سارا مال و متاع قربان کر دیا ۔ نظام الدین اولیاء نے پھر فرمایا کہ خسرو بہت سستے میں یہ جوتیاں مل گئی ہیں ۔یہی چیز یہاں پر کار فرما ہے کہ اللہ اُس کو خریدے گا جس حسن کو دیکھ کر وہ فریقہ ہوتا ہے اور یہ بازارِ مصطفی سیدنا گوھر شاہی نے لگا دیا ہے جس کا خریدار خود اللہ ہے کیونکہ اس میں گوھر شاہی کا وہ لمس ہے جس کو دیکھ کر اللہ فریفتہ ہوا تھا اور اسکے نتیجے میں سات سلطان بنے تھے ۔

عشق رد عمل ہے اصل چیز عشق نہیں ہے بلکہ حسن کا مشتہر ہونا ہے

حسن سے یاری بڑھانی ہے جب حسن کو دیکھو گے تو عشق دوڑتا ہوا آئے گااور اُس حسن کا نام ہے سیدنا گوھر شاہی ۔ لہذا اگر عشق ِ الہی چاہیے تو پھر گوھر شاہی کے نعلین ِ مبارک کی غلامی میں آ جاؤ، تلووں سے چمٹ جاؤ، جو اُنکے تلوؤں سے چمٹ گیا عشق ِ الہی خود اُسکے پاس دوڑ کر آ جائے گااور اسے اپنی آغوش میں لے لے گاکیونکہ اصل چیز تو حسن ہے ۔
جشن شاہی کے اس موقع پر ہم سیدنا گوھر شاہی کی کرم نوازیوں پرخراج عقیدت پیش کر رہے ہیں ،سرکار گوھر شاہی کی نوازشات جن کا موازنہ کسی طور پر کسی دور سے کیا نہیں جا سکتا ۔ سرکار گوھر شاہی سے خود بخود انسان کو اتنی انسیت اور محبت ہو جاتی ہے کہ اگر مذہبی طور پر اگر آدمی تعلیمات روحانیت کی طرف مائل نہ بھی ہو تو اُنکی شخصیت کے سحر میں گرفتار ہو جاتا ہے اور یہ سحر انگیزی آپکی شخصیت میں “عکس اول ” کا پتہ دیتی ہے ۔
دو عالم سے بیگانہ کرتی ہے د ل کو ۔۔۔۔عجب چیز ہے لذت آشنائی
صورتِ گوھر شاہی کو دیکھنے کے بعد اگر کچھ کچھ نہیں ہوتا ہے تو زندیق ہے اور اگر کچھ کچھ ہوتا ہے تو پھر سمجھ جائیں گے فضل و کرم ہو گیا ۔ اگر صورت گوھر شاہی کو دیکھنے کے بعد حس لطیف ، حس حسن بیدار نہیں ہوتا ہے تو تُو مردہ قلب اور مردہ روح ہے ۔سرکار گوھر شاہی سے ملنے کے بعد ہی ہر شے خوبصورت لگنے لگی ۔یہ چیزیں پتہ دیتی ہیں کہ آپ کے اندر درحقیقت وہ حسن بھی پوشیدہ ہے جس حسن پر اللہ فریفتہ ہوا تھااور آپ کو دیکھ کر کوئی اپنا آپ نہ کھوئے تو یہ کفر ہے۔اگرتو اللہ والا ہے تو صورت گوھر شاہی منزل ہے ۔
میں ازل سے بند ہ عشق ہوں مجھے زہد و کفر کا غم نہیں
میرے سر کو تیرا در مل گیا مجھے اب تلاش حرم نہیں
میرا ک نظر تمھیں دیکھنا بخدا نماز سے کم نہیں

مندرجہ بالا متن نمائندہ گوھر شاہی عزت مآب سیدی یونس الگوھر سے 9 مئی 2020 کو جشن شاہی کے موقع پر یو ٹیوب لائیو سیشن میں کی گئی گفتگو سے ماخوذ کیا گیا ہے ۔

متعلقہ پوسٹس
دوست کے سا تھ شئیر کریں