کیٹیگری: مضامین

لطیفہ قلب: گوشت کے لوتھڑے کو اردو میں دِل اورعربی میں فواد بولتے ہیں اور اس مخلوق کو جو دل کے ساتھ ہے، قلب بولتے ہیں ۔ اس کی نبوت اور علم آدمؑ کو ملا تھا۔ حدیث میں ہے کہ دِل اورقلب میں فرق ہے ۔ اس دنیا کو ناسوت بولتے ہیں۔
دین الہی سے اقتباس
صفحہ نمبر 12

روزِ ازل میں ارواح کی تقدیرکالکھا جانا:

تمام نظام شمسی کے سیارے عالم ناسوٍت میں آتے ہیں۔اور یہ جو نیلا آسمان ہمیں نظر آتا ہے یہ دراصل ایک دھویں کی مانند ہے اور نیلا رنگ لطیفہ نفس کی نشاندہی کرتا ہے اگر ہم عالم ملکوت میں چلے جائیں تو وہاں کا جو آسمان ہے وہ زرد یعنی پیلا ہے ۔ اگر عالم جبروت میں چلے جائیں تو وہاں کا آسمان سرخ ہے ۔جب سورج غروب ہوتا ہے تو اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ چاند اور سورج کے غروب ہونے میں نشانیاں ہیں ۔ وہ نشانیاں یہی ہیں کہ جب سورج غروب ہونے والا ہوتا ہے تو ایک وقت ایسا آتا ہے کہ پورا پوراآسمان پیلا ہو جاتا ہے پھر ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ جب سورج غروب ہونے والا ہوتا ہے تو اس کے ابتدائی وقت میں آسمان زرد بھی نظر آتا ہے اور پھر جب بالکل ڈوبنے کے قریب ہوتا ہے تو پھر آسمان سرخ بھی نظر آتا ہے تاکہ آپکو پتہ چلے کہ کوئی زرد اور سرخ آسمان بھی ہے ۔ اسی لئے بہت سے لوگوں کو غروب شمس کا منظر بہت دلفریب لگتا ہے اور وہ اسکے دیوانے ہوتے ہیں ۔بہت سے لوگ پہاڑی جگہوں پر جا کر غروب شمس کے منظر کو دیکھتے ہیں ۔آسمان پر رنگوں کا امتزاج ، نیلا رنگ اور پھر اس پر زرد اور سرخ رنگ کا چھا جانا اُن کو اچھا لگتا ہے ۔ لہذا یہ سارے کے سارے جو سیارے ہیں عالم ناسوت میں آتے ہیں ۔ بنیادی دور پر عالم ناسوت انسانوں کیلئے نہیں تھا ۔ آدم صفی اللہ کو جنت میں بنایا گیا تھا وہیں پر وہ مائی حوا کے ساتھ رہتے تھے پھر اُن سے جو غلطی سرزد ہوئی اس کی سزا کے طور پر اس دنیا میں بھیج دیا پھر اس کے بعد یہاں دنیا میں انسانوں کی آمد شروع ہو گئی۔ جب اللہ نے آدم کو جنت میں بنا کر رکھا تھا اس کے بعد لا تعداد ارواح بنائیں اور اُن سے پوچھا کہ الست بربکم کیا میں تمھارا رب نہیں ہوں، توان ارواحوں نے کہا کہ قالو بلا شاہدنا کہ ہاں ہم اس بات کی شہادت دیتے ہیں ۔ اس کے بعد اللہ نے اُن ارواح کو مصنوعی لذات دکھائے اور کہا کہ جس کو یہ پسند ہے وہ یہ لے لے۔ بہت ساری روحیں دنیا کے لذات کی طرف لپکیں اور دنیا اُنکے مقدر میں لکھ دی گئی۔اُسکے بعد اللہ تعالی نے بہشت کا نظارہ دکھایا جوکہ پہلے نظارے سے بہتر تھا اور اطاعت و بندگی والا تھا ۔ بہت ساری روحیں اس طرف لپکیں اور بہشت اُنکے مقدر میں لکھ دی گئی۔ جب انہوں نے جنت کے لذات پسند کئے تو جنتیں تو سات قسم کی ہیں تو اسکے لذات بھی مختلف ہوں گے ۔لہذا جس نے جس لذات کو پسند کیا وہ انکے مقدر میں لکھ دیا گیا ۔ فرض کیا آپ نے جو ادنی ترین جنت دارلخد ہے اسکی لذت کو پسند کیا ہے تو اسکے جو لوازمات ہیں وہ دنیا میں آکر آپکو پورا کرنے پڑیں گے اور وہ تعلیم دنیا میں آکر ہی سمجھ میں آئے گی۔ جو جنت مقدر میں لکھی گئی تھی اسکے ساتھ اسکے لوازمات بھی لکھے گئے تھے۔اگر کسی نے دارلخد کی لذت کو پسند کیا ہے تو دنیا میں آکر دین کی اُتنی ہی تعلیم سمجھ میں آئے گی جس سے دارلخد کا حصول ہو جائےاور آگے کی تعلیم آگے کی جنت کیلئے ہے اسلئے وہ اُن کو سمجھ میں آئے گی جنہوں نے آگے کی جنت کو پسند کیا تھا۔اسی لئے عوامی سطح پر ہم وہی تعلیم دیتے ہیں جو سب کیلئے موضع ہو گی جب اُنکا ہم سے ذاتی تعلق ہو جائےگا تو پھر ہم اُنکو بتائیں گے کہ تمھارے لئے کیا موضع ہے اور کیا موضع نہیں ہے کیونکہ وہ مقدر میں نہیں ہے اسلئے اس کی تگ و دو کرنا بھی فضول ہے۔ فرض کیا کسی کے مقدر میں صرف ذکر قلب ہے اور وہ اس بات پر بضد ہے کہ میرا دوسرا اور تیسرا لطیفہ بھی جاری کرو ، تو وہ لطیفہ جاری ہو گا ہی نہیں ۔ جتنا اللہ نے تمھارے مقدر میں علم، فیض اور عرفان لکھا ہے اُتنا ہی تجھے فائدہ دے گا۔ اس سے زیادہ کی حرص کی بھی تو ناکام ہو جائے گا۔اللہ تعالی نے ہر انسان کی حدود قائم کر دی ہےاس لئے جو اللہ نے حد بنا دی ہے اس سے تجاوز نہیں کر سکتے۔

اس کےعلاوہ اور جہان بھی ہیں، یعنی ملکوت، عنکبوت، جبروت، لاہوت، وحدت اور احدیت۔
دین الہی سے اقتباس

جو باتیں ہم سیدنا گوھر شاہی کی کتاب مقدس سے پڑھ کر سنا رہے ہیں یہ خواب وخیال کی باتیں نہیں ہیں بلکہ حقیقت ہے۔ جیسے مندرجہ بالا سطر میں “ملکوت” کا ذکر فرمایا ہے تو سیدنا گوھر شاہی ہمیں ملکوت لے کر بھی گئے ہیں ۔یہ بات بتانا ہم اس لئے ضروری سمجھتے ہیں کہ جو باتیں کتاب سے ہم پڑھ رہے ہیں وہ علم الیقین ہےاور جب ہم اپنے مشاہدات بیان کر دیں گے تو آپ کو یقین علم الیقین سے تھوڑا آگے بڑھ جائے گااورآپکو یقین ہو جائے گا کہ یہ باتیں ساری حقیقت پر مبنی ہیں لیکن ہماری ابھی تک رسائی نہیں ہوئی ہے لیکن جو بتا رہا ہے وہ دیکھ کر بھی آیا ہے۔ پھرعالم عنکبوت بھی دکھایا گیا ہے ۔ عالم عنکبوت میں اللہ تعالی ایک مخصوص وقت کیلئے تشریف فرما ہوتے ہیں اور اپنے تخت و تاج کے ساتھ براجمان ہوتا ہے ۔ایک دفعہ ستائیس سال پہلے جب سرکار گوھر شاہی مانچسٹر تشریف لے گئے تو وہاں ایک شخص نے ذکر قلب لیااور کئی بار آکر شکوہ بھی کیا کہ اُنکا ذکر ابھی تک چلا نہیں ۔ تو پھر سیدنا گوھر شاہی نے ہمیں مشاہدہ کرانے کیلئے عالم عنکبوت بھیجا ۔ جب ہم عالم عنکبوت پہنچے تو وہاں ایک لمبی لائن لگی ہوئی ہے اور وہ اللہ تعالی کے تخت و تاج کی طرف جا رہی ہے ۔جب ہماری باری آئی تو پوچھا گیا کہ تم کیسے آئے ہو ؟ تو ہم نے جواب دیا کہ میرا ایک دوست ہے اسکے والد صاحب کا ذکر نہیں چلا ہے تو اُنکے ذکر کیلئے میں یہاں آیا ہوں ۔تو وہاں سے جواب آیا کہ اچھا جاوٴ چل جائے گا۔ پھر ہماری آنکھ کھل گئی اور غنودگی سے باہر آ گئے۔غنودگی سے باہر آتے ہیں فون بج رہا تھا اور ہمیں یہ پتہ چل گیا کہ جس کے ذکر کی بات عنکبوت میں کر کے آئے ہیں انہی کا فون آ رہاہے ۔فون اُٹھاتے ہی ہم نے کہا کہ آپ پریشان نہ ہوں آپ کا ذکر چل گیا ہے ۔ تو انہوں نے کہا کہ ابھی ابھی جھٹکا لگا ہے اور یہی بتانے کیلئے فون کیا ہے میرا ذکر چل گیاہے ۔ تو عنکبوت وہ مقام ہے جہاں اللہ تعالی بیٹھ کر حکم صادر کرتے ہیں ۔ شب برات کے فیصلے بھی اللہ عالم عنکبوت میں بیٹھ کر کرتا ہے ۔عام آدم شب برات کے کی رات زیادہ سے زیادہ شب بیداری اور عبادات ہی کر سکتا ہے اور جن کا تعلق سیدنا امام مہدی گوھر شاہی سے ہو جاتا ہے اُنکی شب برات اِس دنیا میں نہیں ہوتی ہے ، جہاں عالم عنکبوت میں اللہ فیصلے صادر فرما رہا ہے انکے اندر کی کوئی چیز نکل کر عالم عنکبوت میں اللہ کے روبرو چلی جاتی ہےاور پھر اُس سے جڑے جتنے بھی لوگ ہوتے ہیں ان کی بھی حاضری عالم عنکبوت میں اللہ کے سامنے ہو جاتی ہے اور کچھ کہے بغیر ہی کرم و فضل سمیٹ لیتے ہیں ۔

یہ مقامِ ناسوت میں گولہ پھٹنے سے پہلے تھے۔
دین الہی سے اقتباس

دنیا کی تخلیق اور اسمیں پوشیدہ روحانی سائنس:

گولہ پھٹنے کو انگریزی میں (Big Bang) کہا جاتا ہے ۔عالم ناسوت میں ایک آگ کا گولا تھا اور کچھ نہیں تھا، کوئی سیارہ بھی نہیں تھا اور سورج اس گولے کا باقی ماندہ ٹکڑا ہے ۔اللہ کی طرف سے اس آگ کے گولے کو حکم ہوا ٹھنڈا ہو جا ۔پھر وہ راکھ میں تبدیل ہو گئ اور جب وہ راکھ جدا ہوئی تو مختلف پتھر کے ٹکڑے فضا میں بکھر گئےاور سیارے کی صورت اختیار کر گئےجیسے زمین، چاند اور دیگر سیارے۔کچھ سیارے ایسے بھی ہوئے جہاں صرف گیسز ہی ہیں جیسے (Jupiter)۔ جتنے بھی سیارے نظام شمسی میں ہیں وہ سب اُسی گولے کے ٹکڑے ہیں ۔جب وہ گولا ٹھنڈا ہوا اور اس کے ٹکڑے فضا میں بکھرے تو اس کا (Core) رہ گیا جو کہ سورج کہلایا ۔ستارے بھی اسی گولے کے ٹکڑے ہیں اور جو ستارے آپ دیکھ رہے ہیں وہ نظارہ براہ راست نہیں ہے۔ آج جو ستاروں کا منظر آپ دیکھیں گے وہ پانچ ہزار سال پُرانا ہوگا۔

ہمارے سائنسدان بلیک ہول کی بھی بات کرتے ہیں ۔ بلیک ہول اللہ تعالیٰ کا قدرتی نظام ہے۔ بہت سارے چھوٹے چھوٹے پتھر گولا پھٹنے کے نتیجے میں برامد ہوئے، وہ فضا میں ایسے ہی گھوم رہے ہیں ۔اب اگر بلیک ہول نہ موجود ہو تو زمین پر آ کر گر جائیں ۔ وہ آزاد پتھر بلیک ہو ل میں جاتے رہتے ہیں ۔اگر اللہ تعالیٰ کی اجازت ہو تو کوئی پتھر یہاں زمین پر آئے گا ورنہ خود بخود کوئی پتھر یہاں زمین پر نہیں آ سکتا ہے۔ تو بلیک ہول نے ان پتھروں کو کھینچ کر روکا ہوا ہے ۔ کچھ قومیں ایسی آئیں تھیں کہ اُن پر اللہ تعالیٰ نے پتھروں کی بارش کی تھی۔ اب وہ پتھر بھی بلیک ہول سے ہی آئےتھے۔ ابھی حالیہ ایک بلڈنگ کے سائز کا پتھر ہماری زمین کے پاس سے گزرا ہے۔ (Meteorite) چھوٹے چھوٹے پتھر ہوتے ہیں انکے گرنے سے کوئی نقصان نہیں ہوتا ہے لیکن ایک (Comet) ہوتا ہے جو کہ حجم میں بہت بڑا ہوتا ہے۔ سیدنا گوھر شاہی اسی کتاب مقدس دین الہی میں آج سے بیس سال پہلے فرمایا کہ چھوٹی چھوٹی تباہی کیلئے اللہ تعالی نے کومٹ بھیجے ہیں ، مکمل تباہی کیلئے اللہ تعالی نے ایک بڑے (Comet)کو حکم دے دیا ہے جسکا زمین پر آ کر گرنا بیس پچیس سال تک متوقع ہے اگر وہ آکر گر گیا تو وہ دنیا کا آخری دن ہو گا۔ اب متوقع سے مراد یہ ہے کہ وہ پتھر گرنا ہے لیکن اللہ کی مرضی ہے حالات و واقعات کے حساب سے اسکی تدبیر بدلتی رہتی ہے۔

ملکوت، عنکبوت، جبروت، وحدت اور احدیت اس گولے کے پھٹنے سے پہلے موجود تھےاور ان کی مخلوقیں بھی پہلے سے موجود تھیں۔ فرشتے ارواح کے ساتھ بنے۔ لیکن ملائکہ اور لطائف پہلے سے ہی ان مقامات پر موجود تھے۔بعد میں عالم ناسوت میں بھی کئی سیاروں پر دنیا آباد ہوئی۔ کوئی مٹ گئے اور کوئی منتظر ہیں۔
دین الہی سے اقتباس
صفحہ نمبر 12

سات سیاروں پر انسانوں کی آبادی:

ابھی روحوں اور فرشتوں کی تخلیق سے پہلےملائکہ اور لطائف موجود تھے۔ جب وہ گولہ پھٹا تھا تو اس کے ٹکڑے فضا میں بکھر کر سیارے کی شکل اختیار کر گئےاور وہاں پر بھی اللہ نے لوگوں کو آباد کیا ۔آپ نے بزرگوں سے چودہ طبق کے بارے میں سنا ہو گاتو یہ تصور کہاں سے آیا۔ یہ جو سات سیارے ہیں جن پر اللہ نے لوگوں کو آباد کیاہے اور ہر سیارے کی ایک زمین اور ایک آسمان ہو گیا، تو ہر سیارے کے دو طبق ہو گئے۔ لہذا اسی طرح سات سیاروں کے چودہ طبق ہو گئے۔
مٹی کے انسان صرف زمین پر بھیجے جاتے ہیں ، اسکے علاوہ اور بھی انسان ہیں جو مٹی کے بنے ہوئے نہیں ہیں۔سب سے زیادہ گڑ بڑ مٹی کے بنے ہوئے انسانوں نے کی ہے۔انسانیت کی اور بھی جہتیں ہیں جیسے سورج پر بھی انسان آباد ہیں لیکن وہ مٹی کے بنے ہوئے نہیں ہیں بلکہ اُنکے اجسام آتشی (آگ) سے بنے ہوئے ہیں۔ فرشتوں نے جب یہ دیکھا کہ آدم صفی اللہ کا پُتلا بنایا جا رہا ہے تو وہ سمجھ گئے کہ اِسکو زمین کیلئے بنایا جا رہاہے کیونکہ مٹی کے انسان وہیں بھیجے جاتے ہیں ۔پہلے ہی اس نے بہت فتنہ فساد بپا کیا تھا اب پھر بنایا جا رہاہے ۔ یہاں قرآن کی اس بات سے سراغ ملتا ہے کہ انسان صرف مٹی کے ہی نہیں ہوتے بلکہ اور بھی مٹیریل سے انسانوں کو بنایا گیا ہے جس سے آپ واقف نہیں ہیں۔ اڑن طشتری کے بار ے میں بھی آپ نے سنا ہوگا کہ اسکی مدد سے ہر سیارے پر گھوما جا سکتا ہے لیکن ایسی کوئی اُڑن طشتری نہیں ہے جو آپ کو زمین سے مریخ لے جائے اور پھر مریخ سے عطارد اور عطارد سے چاند پر لے جائےاور نہ ہی کبھی کوئی بنا سکتا ہے۔

اللہ نے انسان کے جسم میں ایک لطیفہ نفس ایسا رکھا ہے کہ اگر تُو نے اسکو پاک صاف کر لیا ، تذکیہ نفس ہو کر تمھاری شکل میں آ گیا تو پھر تم آنکھ بند کرنا کہ دیکھیں چاند پر کیا ہو رہا ہے تو تمھارا یہ سیارہ لطیفہ نفس یہاں جسم سے نکلا اور چاند پر پہنچ گیا ۔پھر وہیں سے سوچا کہ چلو مریخ چلتے ہیں تو یہ آناً فاناً مریخ پہنچ گیا ۔ ہمارے جسم کو سانس لینے کی ضرورت ہے لیکن روحوں کو سانس لینے کی ضرورت نہیں ہے ۔ پھر تم نے سوچا کہ چلو دیکھتے ہیں بلیک ہول کیا ہے تو یہ وہاں پہنچ گیا اور اس کو بلیک ہول اپنی طرف کھینچ بھی نہیں سکتا کیونکہ اسکی تارنور کے ذریعے تمھارے جسم سے جڑی ہوئی ہے۔ ساری سائنس ایک طرف اور روحانیت کا ایک قدم اس پر بھاری ہے

ذاتی مشاہدہ:

آپ نے یہ باتیں شاید پہلے کبھی نہیں سنی ہوں گی جو آج ہم آپ کو بتا رہے ہیں ۔ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ مریخ والوں نے سیدنا گوھر شاہی کی بارگاہ میں عرض کی کہ آپ زمین سے اپنے کسی بندے کو یہاں پروگرام کرنے کیلئے بھیج دیں۔ تو سرکار نے فرمایا ٹھیک ہے اجازت ہے۔ اب مریخ والوں کو یہ تو پتہ نہیں تھا کہ ہم نے وہاں جانا کیسے ہے !مریخ میں بادشاہت کا نظام ہے، تو مریخ کا جو بادشاہ ہے جو اُڑن طشتری وہ اپنے سفر کیلئے استعمال کرتا ہے وہ ہمیں لینے کیلئے بھیج دیااور اسوقت ہم (یونس الگوھر) اپنے گارڈن میں بیٹھے ہوئے تھے ۔ اب انکو روحانیت کا پتہ نہیں ہے کہ اگر زمین سے کسی مقرر کو بلانا ہے تو وہ جسم سمیت نہیں آئے گاکیونکہ ہمارا جسم یہاں زمین کی آکسیجن کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے اور مریخ کی جو آکسیجن ہے اسکے جومالیکیول ہیں اُن میں ہائیڈروجن زیادہ ہے۔جیسے یہاں زمین پر ہائیڈروجن کے ساتھ آکسیجن کے دو مالیکیول مل جائیں تو پانی (H2O)بن جاتا ہے لیکن مریخ میں یہ فارمولا ہے کہ ہائیڈروجن کے سولا مالیکیول اور آکسیجن کے دو(H16O2) مالیکیول ملیں گے تو پانی بنے گا۔ اگر ہائیڈروجن کے مالیکیول زیادہ ہوں تو اسکی وجہ سے پانی ہمیشہ گرم رہتا ہے ۔اگر لیبارٹری میں تجربہ کریں تو آپکو معلوم ہوگا گرم پانی اور ٹھنڈے پانی کی کیمیائی مساوات مختلف ہوں گی۔ تو وہ مریخ والے ہمیں لینے آ گئے اور انہوں نے اپنا اُڑن طشتری بیس ہزار فٹ کی بلندی پرروکا ہوا تھا اور اسپیکر پر اعلان کر رہے تھے کہ ہم لینے کیلئے آئے ہیں آ جاوٴ، اجازت مل گئی ہے ۔ تو ہم نے انکو جواب دیا کہ ہم اسمیں بیٹھ کر نہیں جائیں گے ہم ایسے ہی آ جائیں گے۔ وہ واپس چلے گئے اور ان کے واپس پہنچنے سے پہلے ہمارا لطیفہ نفس نکلا اور مریخ پہنچ گیا ۔ جب آپکا لطیفہ نفس پاک ہو کر نظر گوھر شاہی میں آ گیا تو یہ سیاروں کی سیر شروع ہو جاتی ہے ۔جبتک روحانیت کاملاً اختیار نہیں کریں گے تو آپکو کوئی نتائج نہیں ملیں گے۔تھوڑا تھوڑا کرنے سے نتیجہ نہیں نکلتا ہے ۔ دل اللہ اللہ کرنے لگ گیا تو لوگ اسی میں خوش ہو جاتے ہیں ، نفس نے گناہوں پر ملامت شروع کر دی تو اسی پر خوش ہیں ۔لیکن اگر اس روحانیت کو پورا کا پورا اختیار کر لو جسکا حکم قرآن مجید نے دیا ہے پھر پتہ چلے گا کہ دین نے تمھیں کیا دینا ہے ۔جب پوری روحانیت اختیار کریں گے پھر اسکے معجزات آپکو نظر آنے لگیں گے۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً
سورة البقرة آیت نمبر 208
ترجمہ: اے مومنو! پورے کے پورے دین میں داخل ہوجاوٴ۔

اب جو سات سیاروں پر دنیا آبا د ہوئی ہے اُن میں سے چار پر قیامت آ چکی ہے ، اب انسان صرف تین سیاروں پر آباد رہ گیاہےایک ہماری زمین،دوسرا مریخ اور تیسرا سورج۔ اب جو علم نجوم والے ہوتے ہیں جو یہ دیکھتے ہیں کہ فلاں سیارہ فلاں میں داخل ہو گیا ہے تو اب یہ ہو جائے گا۔خاص طور پر یہ جو” زحل اور زہرہ” ہے ، جب یہ مریخ، سورج اور زمین کی سیدھ میں آتے ہیں تو زمین پر بڑی تباہیاں پھیلتی ہیں ۔اب چونکہ ان سیاروں پرقیامت آ چکی ہےاس لئے ان پر کوئی پہرہ نہیں ہے۔ اللہ کی طرف سے پہرہ جب ہوتا ہے جب انسانوں کی وہاں آبادی ہو ۔

اگر کوئی کامل ذات دنیا میں موجود ہو اور اسکا ارادہ بھی بن جائےتو وہ اپنی نظرِ کیمیا اور روحانی طاقت سے ان سیاروں سے بچنے کیلئے دنیا کے اطراف میں ایک حصار بنا دیتا ہے۔جسطرح سیدنا امام مہدی گوھر شاہی نے اِس دنیا کے چاروں طرف حصار بنایا ہوا ہے ۔حصار اسلئے بنایا ہے کہ جب تک ہم دوبارہ نہ آ جائیں اس دنیا نے اسی طرح زندہ و جاوید رہنا ہے

اسی لئے نبی کریمؐ کو اللہ تعالی نے فرمایا کہ امام مہدی نے ضرور بضرور آ نا ہے اگر دنیا کے خاتمے کا وقت آ جائے اور قیامت قائم ہونے میں آخری دن رہ جائے اور امام مہدی ابھی بھی نہ آئیں تو اللہ تعالی اُس وقت کو بڑھا دیگاکیونکہ امام مہدی کے بغیر اس دنیا کو حق نہیں ہے کہ ایک سانس بھی لے سکے۔
جب امریکی خلا باز چاند پر پہنچے تو انکے پاس جو ریڈیو تھے انہوں نے مریخ کی فریکوئنسی پکڑ لی اور اس ریڈیو پر انہوں نے اذان کی آواز سنی۔ سرکار گوھر شاہی نے فرمایا کہ وہ اذان کی آواز وہ مریخ کی مسجد سے آ رہی تھی ۔ مریخ میں قرآن مجید بھی ہے ، وہاں پر دین اسلام بھی موجود ہے ، ہندو ، عیسائی اور یہودی بھی موجود ہیں ۔ مریخ کی زبانیں مختلف ہیں جو ہماری سمجھ میں نہیں آتی ہیں ۔ جو ہمارے سائنسدان ہیں وہ ابھی تک مریخ پر پہنچے نہیں ہیں انکا خیال ہے کہ کوئی سرخ سیارہ ہے اور وہ مریخ ہےجبکہ مریخ والے ہمارے زمین پر کئی بار آ چکے ہیں اور زیادہ امریکہ کی (Southern States) میں آتے ہیں جیسے نیو میکسیکو، ایری زونا، نیواڈا، کیلیفورنیا۔ ان مقامات پر بے تحاشہ یو ایف او آئےاور یہاں سے ہمارے لوگوں کو تجرباتی طور پر اُٹھا کر بھی لے گئے ہیں ۔ ہمارے سائنسدان یہی کہتے ہیں ہم مریخ پر پہنچ گئے ہیں اور وہاں کے پہاڑ ایسے ہیں زمین ایسی ہے لیکن کوئی بندہ نظر نہیں آتا اُن کو اگر صحیح جگہ پہنچے ہوتے تو کوئی تو نظر آتا ۔
ہمارے سائنسدانوں کا مریخ پہنچنا محال ہے اور وہ اس لئے کہ ہماری جو زمین ہے یہ ساکن حالت میں ہے اس لئے یہاں پہنچنا آسان ہے لیکن مریخ متحرک سیارہ ہے ساکن نہیں ہے ۔ آپ اکثر سنتے ہوں گے کہ آجکل مریخ زمین کے قریب آیا ہوا ہے اور کبھی کبھی تو ایسا بھی ہوتا ہے کہ جب مریخ زمین کے قریب آتا ہے تو نظر بھی آتا ہے ۔ اب اگر مریخ متحرک ہے اور اسکا ایک مدار بھی ہے ، پھر اس مدار میں داخل ہونے کیلئے آپکو لوپ تلاش کرنا پڑے گاپھر اسکے علاوہ الیکٹرو میگنیٹک فیلڈ سے انہوں نے پورے مریخ کو گھیرا ہوا ہے جس سے اُنکویہ فائدہ ہوتا ہے کہ انکو اپنے جہازوں میں پیڑول بھی نہیں ڈالنا پڑتا اور نہ ہی گرنے کا خطرہ ہے ۔ جو الیکٹرو میگنیٹک فیلڈ ہے اسی پر وہاں پر سفر ہوتا ہے اور کوئی دشواری بھی نہیں آتی ہے ۔ یہ الیکٹرو میگنیٹک فیلڈ نظر نہیں آتی ہے لیکن اسکے اوپر جہاز سوار ہو کر چل سکتے ہیں ۔ جسطرح جاپان نے بلٹ ٹرین بنائی ہے اس میں وہیل اور ٹریک کے درمیان میں الیکٹرو میگنیٹک فیلڈ ہے اور ٹرین اس فیلڈ کے اوپر ہوا میں چلتی ہے جس کی وجہ سے رگڑ نہ ہونے کی وجہ سے قوت مدافعت ختم ہو جاتی ہے اور اس کی رفتا ر میں اضافہ ہو جاتا ہے ۔اسی طرح کا نظام انہوں نے مریخ پر جہازوں کیلئے بنایا ہوا ہے ۔اسی لئے اس الیکٹرو میگنیٹک فیلڈ کی وجہ سے مریخ میں داخل نہیں ہوا جا سکتااور اگر داخل ہو بھی جائیں تو اسکی آکسیجن آپکے جسم کے لئے موافقت نہیں رکھتی ہے۔انسانیت کی بھلائی کیلئے ہمارے سائنسدانوں نے کیا کیا ہے ؟صرف نت نئے ہتھیار بنائے ہیں نفرتوں کی وجہ سے ایک دوسرے کو مارنے کا سامان جمع کیا ہے ۔

واقعہ غیبت کی حقیقت:

جو ہم اکثر یہ کہتے ہیں کہ سرکار گوھر شاہی کہیں نہیں گئے بلکہ یہیں موجود ہیں بس نظروں سے اُوجھل ہیں۔جسطرح نبی کریمؐ کیلئے حدیث قدسی میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ

لَوْلاکَ لما خَلَقْتُ الأفْلاکَ
ترجمہ: کہ اگر آپ کو بنانا مقصود نہ ہوتا تو یہ کائنات ہی نہیں بناتا۔

اب ہمارے علماء نے اس حدیث کو پڑھ کر خود یہ سمجھا اور عوام الناس کو بھی یہی سمجھایا کہ یہ زمین و آسمان کو اسلئے بنایاکہ حضوؐرکو بنایا تھا۔لیکن درحقیقت اس حدیث کا یہ مطلب نہیں ہے۔ایک جگہ قرآن مجید میں فرمایا کہ

اللَّـهُ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ
سورة نور آیت نمبر 35
ترجمہ: زمین و آسمان میں اللہ کا نور ہے ۔

اس آیت کا نزول جسم مصطفیؐ کیلئے ہے ۔پوری کائنات میں جتنی بھی جمادی روح ہیں اُنکی سردار روح محمدؐ کی ذات میں ہے ۔ اس کائنات میں جتنی بھی جمادی، حیوانی اور نباتی روح موجود ہیں انکی سردار روح محمدؐ کی ذات میں ہے اسی لئے کہا جاتا ہے کہ آپ جان ِجہان ہیں۔اگر محمد الرسول اللہ کی جمادی، نباتی یا حیوانی روح اس دنیا سے نکل جائے تو کائنات سے ساری کی ساری جمادی ، نباتی اور حیوانی روحیں اُنکے پیچھےپیچھے نکل جائے، حق ہی نہیں ہے انکو یہاں رہنے کا۔پھر نبی کریمؐ کے وصال کے باوجود ارضی ارواح محمد جسم مصطفی میں ہی رہیں اور ہمارے سامنے اعتقادی طور پر حیات النبی کا فلسفہ سامنے آ گیا ۔ اُن ارضی ارواح کو جسم مصطفی میں اس لئے رکھا کہ جب امام مہدی تشریف لائیں تو وہ جسم مہدی میں آ جائیں ۔ اسی لئے امام مہدی کو محمد بھی کہا جا سکتا ہے کیونکہ انکے وجود اطہر میں ارضی ارواح محمد ؐ کی ہیں۔اب اگر امام مہد ی گوھر شاہی اس دنیا سے چلے جاتے تو قیامت اُسی لمحے آ جاتی۔ یہ سارے پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح اڑ جاتے، انسانیت ختم ہو جاتی اور حیات معدوم ہو جاتی۔یہ بات ہمارا عقیدہ نہیں ہے بلکہ حقیقت ہے اور اِس حقیقت کو سیدنا امام مہدی گوھر شاہی نے بیان کیا ہے ۔یہ ارضی ارواحِ محمد کائنات کا مغز ہیں ، ان کا اُٹھ جانا قیامت ہےجب یہ جائیں گی تو سب کو ساتھ لے جائیں گیں۔سب یہاں ہیں تو وہ بھی یہاں ہیں ۔ اسی لئے کائنات کو ایک لمحے کی بھی اجازت نہیں ہے کہ امام مہدی کے جانے کے بعد ایک سانس بھی لے سکے، یہ انکا حق نہیں ہے ۔ نظام ہستی اور نظام کائنات اسلئے چل رہا ہے کہ گوھر شاہی یہاں موجود ہیں ، اس لئے کائنات میں رنگ ہے۔
جو بھی سرکار سیدنا گوھر شاہی کو امام مہدی نہیں مانے گا اُس کا حشر اسی دنیا میں ہو گا۔ یہ راز وقت سے پہلے بتایا جا رہا ہے تاکہ آپ ہوشیار ہو جائیں اور اُن قدمین شرفین میں جھک جائیں جس میں کل پوری کائنات نے جھکنا ہے۔

یہ مخلوق یعنی لطائف اورملائکہ روحوں کے امرِکُن سے ستر ہزار سال پہلے بنائے گئے تھےاور ان میں سے قلب کو مقامِ محبت میں رکھا گیا اور اسی کے ذریعے انسان کا رابطہ اللہ سےجڑجاتا ہے۔ اللہ اور بندے کے درمیان یہ ٹیلی فون آپریٹر کی حیثیت رکھتا ہے ۔ انسان پر دلیل و الہامات اسی کے ذریعے وارد ہوتے ہیں۔ جبکہ لطائف کی عبادات بھی اسی کے ذریعے عرشِ بالا پر پہنچتی ہیں لیکن یہ مخلوق خود ملکوت سے آگے نہیں جا سکتی، اس کا مقام خلد ہے۔ اس کی عبادت بھی اندراور تسبیح بھی انسان کے ڈھانچے میں ہے ۔اس کی عبادت کے بغیر والے جنتی بھی افسوس کریںگےکیونکہ اللہ نے فرمایا ہے کہ “کیا ان لوگوں نے سمجھ رکھا ہے کہ ہم ان کو نیکوکاروں کے برابر کردیںگے؟” کیونکہ قلب والے جنت میں بھی اللہ اللہ کرتے رہیں گے۔ جسمانی عبادت مرنے کے بعد ختم ہو جاتی ہے جن کے قلب اور لطائف اللہ کے نور سے طاقتور نہیں وہ قبروں میں ہی خستہ حالت میں رہیں گے یا ضائع ہوجائیںگے جبکہ منور اور طاقتور لطائف مقام علیین میں چلے جائیںگے۔ یومِ محشر کے بعد جب دوسرے جسم دئیے جائیںگے تو پھریہ لطائف بھی روح انسانی کے ساتھ دیدار والے لافانی ولیوں کے جسم میں داخل ہوںگے۔ جنہوں نے ان کو دنیا میں اللہ اللہ سکھایا تھا وہاں بھی اللہ اللہ کرتے رہیں گے اور وہاں جا کر بھی ان کے مرتبے بڑھتے رہیں گے۔ اور جو اِدھر دل کے اندھے تھے وہ اُدھر بھی اندھے ہی رہیں گے کیونکہ میدانِ عمل یہ دنیا تھی اور وہ ایک ہی جگہ ساکن ہو جائیںگے۔ عیسائیوں، یہودیوں کے علاوہ ہندو مذہب بھی ان مخلوقوں کا قائل ہے۔ ہندو انہیں شکتیاں اور مسلمان انہیں لطائف کہتے ہیں۔ قلب دل کے بائیں طرف دو انچ کے فاصلے پر ہوتا ہے اس مخلوق کا رنگ زرد ہے۔ اس کی بیداری سے انسان زرد روشنی اپنی آنکھوں میں محسوس کرتا ہے بلکہ کئی عامل حضرات ان لطائف کے رنگوں سے لوگوں کا علاج بھی کرتے ہیں ۔اکثر لوگ اپنے دِل کی بات برحق مانتے ہیں۔ اگر واقعی دِل سچے ہیں تو سب دِل والے ایک کیوں نہیں؟ عام آدمی کا قلب صنوبری ہوتا ہے جس میں کوئی سدھ بدھ نہیں ہوتی، نفس اور خناس کے غلبےیا اپنے سیدھے پن کی وجہ سے غلط فیصلہ بھی دے سکتا ہے۔ قلب صنوبری پر اعتماد نادانی ہے۔ جب اس دل میں اللہ کا ذکر شروع ہو جاتا ہے پھر اس میں نیکی بدی کی تمیز اورسمجھ آجاتی ہے اِسے قلب سلیم کہتے ہیں۔ پھر ذکر کی کثرت سے اس کا رُخ رب کی طرف مڑجاتا ہے اِسے قلبِ منیب کہتے ہیں، یہ دل برائی سے روک سکتا ہے مگر یہ صحیح فیصلہ نہیں کرسکتا، پھر جب اللہ تعالی کی تجلیات اس دل پر گرنا شروع ہو جاتی ہیں تو اُسے قلب شہید کہتے ہیں۔ حدیث: “شکستہ دِل اور شکستہ قبر پر اللہ کی رحمت پڑتی ہے” اُس وقت جو دِل کہے چُپ کرکے مان لےکیونکہ تجلی سے نفس بھی مطمئنہ ہوجاتاہے اور اللہ حبل الورید ہو جاتا ہے۔ پھراللہ کہتا ہےکہ میں اُس کی زبان بن جاتا ہےجس سے وہ بولتا ہے، اُس کے ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے۔
دین الہی سے اقتباس
صفحہ نمبر 12

اب جس کے قلب کو مقام محبت میں رکھا گیا ہے دنیا میں آ کر اُسی قلب میں محبت داخل ہو گی بھلے وہ کچھ کریں یا نہ کریں۔عبادت کریں یا نہ کریں کسی کی نظروں میں آ گئے تو اُسی سے دل میں محبت بیدار ہو جاتی ہے ۔یہ لطیفہ قلب ہی ہے جس کے ذریعے انسان کا رابطہ اللہ سے جڑ جاتا ہے۔ اللہ سے رابطہ جوڑنے کیلئے بیداری قلب حاصل کرنا ضروری ہے ۔لطائف کی عبادات بھی قلب کے ذریعے ہی عرش الہی پر پہنچتی ہیں۔اگر قلب میں ہی جثہ گوھر شاہی آ جائے! جن لوگوں کو ہم نے کہہ دیا کہ اگر تمھارا ذکر نہیں چلتا تو خیر ہے ہم تمھارے ذمہ دار ہیں ۔ اُن کو پتہ ہی نہیں ہے کہ کیا ہو گیا ہے ، کاش اُن کو یقین ہو جاتا کہ کتنی بھی حضیمت اور مشقت و محنت سے بچ گئے۔قلب کی صرف آواز عرش الہی تک پہنچتی ہے ، تمام لطائف کی عبادات اور نور قلب ک ذریعے عرش بالا تک پہنچ جاتا ہے اور یہ مخلوق خود یہیں موجود رہتی ہے ، قلب کی پرواز عالم ملکوت تک ہی ہے اس سے آگے نہیں جا سکتی ہے ۔اگر لوگ بخشش کے ذریعے جنت میں چلے بھی گئے تو انکا درجہ وہ نہیں ہو گا جنہوں نے اپنے قلب سے عبادت کی ہو گی۔عیسائی یہودیوں کے علاوہ ہندو مذہب بھی ان مخلوقوں کا قائل ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ ان لطائف کا قائل نہیں ہے۔
قلبِ منیب برائی سے روک سکتا ہے جیسے جب واقعہ غیبت ہوا تو بہت سے لوگ گئے اور جب انہوں نے کوفن دیکھا تو انہوں نے کہا کہ یہ ہمارے گوھر شاہی نہیں ہیں ۔اُنکے دل نے انکو روک لیا اور وہ وہاں سے بھاگ گئے لیکن یہ فیصلہ نہیں کر پائے کہ حق کیا ہے ۔ قلب شہید والے کو یہ اختیار ہے کہ وہ یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ برائی ہے مت کرو اور اب آگے کیا کرنا ہے وہ بتاتا ہے۔ جن کے دلوں نے انکو برائی سے روک لیا وہ تو اپنے گھروں کو چلےگئے لیکن فیصلہ نہیں کر پائے اب کرنا کیا ہے، لیکن ہم نے لوگوں کی ایسے موقع پر رہنمائی کی جو گوھر شاہی کو لافانی نہیں مانتا ہے اس کو چھوڑ دو کیونکہ سیدنا امام مہدی گوھر شاہی نے دوبارہ اپنی شان و شوکت سے جلوہ گر ہونا ہے۔

مندرجہ بالا متن نمائندہ گوھر شاہی سیدی یونس الگوھر سے 16 اپریل 2020 کو یو ٹیوب لائیو چینل الرٰ ٹی وی پر دینِ الہی کی خصوصی نشست کے دوران کی گئی گفتگو سے ماخوذ کیا گیا ہے ۔

متعلقہ پوسٹس
دوست کے سا تھ شئیر کریں