کیٹیگری: مضامین

غیبت اور دل آزاری جیسے گناہوں سے اجتناب:

لوگ اللہ والوں کی مخالفت میں اتنے آگے نکل جاتے ہیں کہ جو منہ میں آتا ہے کہہ ڈالتے ہیں ۔ جیسا کہ لفظ “مردود” ہے مردود اس شخص کو کہتے ہیں جسے اللہ تعالی رد کر دے، کسی کو مردود ٹہرانے والے نے کب دیکھا کہ وہ بندہ رب کے پاس گیا اور رب نے اسے مردود قرار دے دیا۔ دوسرا لفظ جو کہا جاتا ہے راندہ ِدرگاہ ہونا اس کا مطلب ان کو بھی معلوم نہیں جن کے چہروں پرلمبی لمبی داڑھیاں ہیں لیکن ان کی زبانوں پر خرافات ہیں ، خدا کی مخلوق کے لیے گالیاں ہیں ، کسی پر فتوے لگا دیتے ہیں کسی کو مردود قرار دے دیتے ہیں ، اگر دل میں ایمان ہو تو آدمی اپنا معاملہ اللہ کے ساتھ درست رکھے اور اللہ نے کسی کے ساتھ کیا معاملہ رکھنا ہے یہ اللہ پر چھوڑ دے کیونکہ کسی کے کہنے سے نا تو کوئی جنت میں جائے گا نہ کوئی جہنم میں جائے گا، کسی کے خلاف ایسی منفی باتیں کرنا اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنانے کے مترادف ہے کیونکہ ان باتوں سے گناہ بڑھتے ہیں اور نیکیاں ضائع اور برباد ہوتی ہیں ۔پاکستان کے مسلمان اس فرقہ واریت کی وجہ سے آج اس آگ میں جل رہے ہیں ، ان کو پتا نہیں کہ قرآن مجید اور رسول اللہ اس بارے میں کیا کہتے ہیں۔قرآن مجید نے اپنے دوسرے مسلمان بھائی کے لیے اچھا گمان رکھنے کی بڑی تلقین فرمائی ہے۔اگر کسی شخص کے باتوں میں اس کی حرکات میں کوئی خلاف قرآن ، خلاف شرع بات ہے ہے تو جا کر اس کو آگاہ کرو کہ تمہارا یہ عمل مجھے خلاف قرآن لگتا ہے تم اس کی توجیح پیش کرو، اگر وہ توجیح نہ پیش کر سکے ٹال مٹول سے کام لے اور اپنی اس برائی پر مصر رہے تو پھر اگر تم اپنا گمان اس کے خلاف کر لوتو پھر تم پر کوئی برائی نہیں ہے لیکن گھر بیٹھے کسی بغض وعناد یا فرقہ واریت کی وجہ سے اگر ایک دوسرے کو کافر منافق ، مرتد و زندیق کہہ رہے ہو تو پھر یہ قرآن مجید پرعمل نہیں ہو رہا یہ شیطانیت ہو رہی ہے۔داڑھی یا عمامہ یا ماتھے پر نماز کا نشان جنتی ہونے کی دلیل نہیں ہے، جن لوگوں کے اندر رب بستا ہے جو مومن ہیں ان کی کوئی پہچان ہی نہیں ہے، بلھے شاہ نے کہا
مسجد ڈھا دے مندر ڈھا دے ڈھا دے جو کجھ ڈھیندا ای
اک بندے دادل نہ ڈھاویں دلاں وچ رہیندا ای

تمام انسانوں کے اندر تو رب نہیں رہتا نا، دس میں سے کوئی ایک ہی مومن ہوگا ، اگر اللہ والے کا پتا چل جائے تو کوئی اللہ والے کا دل نہیں توڑے گا اور جو اللہ والا نہیں ہو گا اس کا دل توڑ دے گا، لیکن اس کی کوئی ظاہری پہچان نہیں ہے اسی لیے کہا کہ کسی کی بھی دل آزاری نہ کر۔ایک حدیث شریف میں حضور نبی کریمﷺ نے تو یہاں تک فرما دیا کہ اگر کوئی کافر بھی ہے تو اس کی دل آزاری مت کرنا ، کیونکہ پتا نہیں کب اس کافر کے دل میں اللہ آ جائے، کب اس پر اللہ کا کرم ہو جائے اور اللہ اس کے دل میں اپنا نور پیوستہ فرما دے۔تعلیمات قرآن کا مرکزی دھرا ہی ہمارے گمان سے متعلق ہے کہ اپنا گمان اچھا رکھو لیکن بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں یہ باتیں ناپید ہو چکی ہیں ، کسی کی کمزوری کو پکڑنا اچھا عمل نہیں ہے اس سے قرآان نے منع کیا ہے کسی کی غیبت کرنے سے قرآن نے منع کیا ہے۔غیبت دو طرح کی ہوتی ہے، ظاہری غیبت اور باطنی غیبت۔
کسی کی برائی اُس کی پیٹھ پیچھے اپنی زبان سے کرنا ظاہری غیبت ہے ، اور باطنی غیبت یہ ہے کہ بلا وجہ کسی کے لیے دل میں بغض رکھ لیں، اس کی برائی کسی کے سامنے بھلے نہ کریں لیکن اپنے دل میں بغض رکھ لیں کہ فلاں بندہ صحیح نہیں ہے اور لوگوں کا تو یہ ہے کہ فخر سے تو ملتے ہیں لیکن دل میں اسی کے لیے برائی رکھی ہوئی ہے ، یہ ہر وقت کی غیبت ہے۔جسے اللہ کو اپنا دشمن بنانا ہو وہ ان غیبتوں میں لگ جائے۔دل میں کسی کے لیے برائی پال لینا بہت آسان ہے لیکن اس برائی کو دل سے نکالنا آسان کام نہیں ہے، خاص طور پر خواتین اس میں بہت آگے ہیں ، خود ہی کسی کے بارے میں سوچیں گی خود ہی فیصلہ کر کے دل میں رکھ لیں گی، یہ باطنی غیبت ہے، ایسے لوگ اگر مومن ہیں تو مرتد ہوجائیں گے کیونکہ نور جو تھا وہ سارا ضائع ہو جائے گا۔آج کے دور میں تو حال یہ ہے کہ یہ باتیں سن کر جب یہاں سے جائیں گے تو باہر جا کر بھول جائیں گے۔

سورة المائدة آیت نمبر 67 کا شان نزول:

يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ ۖ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ ۚ وَاللَّـهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ ۗ إِنَّ اللَّـهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ
سورة المائدة آیت نمبر 67
ترجمہ : اے رسول جو کچھ بھی آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے پہنچا دیجیئے۔ اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو آپ نے اللہ کی رسالت ادا نہیں کی، اور آپ کو اللہ تعالیٰ لوگوں سے بچا لے گا بےشک اللہ تعالیٰ کافر لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

اس آیت میں اللہ تعالی فرماتا ہے یا رسول اللہ جو کچھ آپ پر نازل کیا گیا ہے اس کی تبلیغ کر دیں ۔وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ اور اگر آپ نے وہ بیان نہ کیا تو آپ نے رسالت کا حق ادا نہیں کیا۔یہ کون سی چیز اس آیت میں بیان ہو رہی ہے؟ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے سورہ المائدہ آنے تک تبلیغ شروع نہیں کی تھی؟ کیا ایسا تھا کہ اللہ تو قرآن بھیج رہا تھا اور معاذ اللہ حضور پاک اس کی تبلیغ نہیں فرما رہے تھے؟ پھر یہ کیا تھا؟اس کے بعد اور بھی معنی خیز ارشاد باری ہے،اللہ آپ کی عصمت کی حفاظت انسانوں سے کرے گا۔ وہ بیان کی جانے والی بات کیا ہے کہ آپ کی عصمت کو اللہ برقرار رکھے گا اور کوئی انسان اس پر ضرب نہیں لگا سکے گا۔رہ گئی بات کافروں کی تو اللہ کافروں کو ہدایت نہیں دے گا۔ یہ کیا ہے؟ کیا سمجھانا چاہ رہا ہے اللہ۔ کیا معاذ اللہ حضور ایسا کر سکتے ہیں کہ جو اللہ تعالی نے ان پر نازل کیا ہے اس کو آگے نہ پہنچائیں ، تو پھر یہ کونسی بات ہے جس کو پہنچانے کے لیے اللہ اتنی تاکید فرما رہا ہے؟ در منصور میں علامہ جلال الدین سیوطی نے فرمایاکہ اس آیت سے مراد ، کہ وہ بات جو ہم نے تم پر نازل کی ہے وہ لوگوں تک پہنچا دو اگر وہ بات نہیں پہنچائی تو رسالت کا حق ادا نہیں کیا، اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس بات کو پہنچانے میں رسالت کی بقا ہے۔اگر وہ بات نہ پہنچائی جائے تو لوگ یہ سمجھیں گے کہ جب حضوؐر اس دنیا سے پردہ فرمائیں گے تو سارا معاملہ یہیں ختم ہو جائے گا۔تو جب یہ آیت نازل ہو گئی اور اس کے بعد حجة الوداع کے موقع پر نبی پاکﷺ نے فرمایا

مَنْ كُنْتُ مَوْلاهُ، فَهذا عَلِىٌّ مَوْلاهُ
مشکوة شریف جلد پنجم ، حضرت ابی ابن طالب حدیث 719

یہ جو مولی علی کی تقرری ہے کہ جس کا محمد رسول اللہ مولی ہیں اس کا علی بھی مولی ہیں یہ اتنی اہم بات ہےکہ اس بات کو لوگوں تک پہنچانے کے لیے اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی کہ جو ہم نے تجھ پر نازل کیا ہے وہ پہنچا دیں اور ان سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہےتیری عزت کی حفاظت انسانوں سے ہم کریں گے۔یعنی اس دور میں ایسے لوگ تھے کہ جن سے خوف تھا کہ جو حضوؐر کے دامن کو داغدار کرنے کی کوشش کریں گے۔
مَنْ كُنْتُ مَوْلاهُ، فَهذا عَلِىٌّ مَوْلاهُ اہل تشیعہ اس فرمان کی غرض و غایت سمجھے بغیر اس کی ادھوری تشریح کرتے ہیں کہ یہ مولی علی کی حقیقت بتائے جانے کی بات ہے یہ بات صحیح ہے لیکن وہ اس بات کو صرف مولی علی کی ذات تک ہی رکھتے ہیں اور اس فرمان میں چھپے معنی کی وسعت کو وہ نہیں دیکھ پاتے، اگر اس فرمان کو مولی علی تک ہی رکھنا تو پھر مولی علی کا نام بھی لینے کی کیا ضرورت ہے،حضوؐر ہی کافی تھے وہ بھی تو عظیم المرتبت ذات ہیں ۔

باطنی قرآن مکنون مولی علی سے آگے بڑھا ہے:

مولی علی سے دین کا اصل علم آگے بڑھے گا، باطنی قرآنِ مکنون مولی علی سے آگے سینہ بسینہ چلے گا اور وہاں سے ولائیت کی ، اللہ کی محبت کی شاخیں پھوٹیں گی اور تعلیمات فقر آگے بیان ہو گی، اس اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے اللہ نے فرمایا کہ آپ منصب مولی علی کو آگے بیان فرما دیں ورنہ رسالت کا حق ادا نہیں ہو گا کیونکہ رسالت کا سارا کام تو سینہ بسینہ جو قرآن مکنون کا علم چلے گا اس سے ہونا ہے۔ایک طرف تو مولی علی کی شان بیان کرنے کا حکم اللہ تعالی نے دے دیا اور دوسری طرف باطنی علم کو آگے بڑھانے والا جو آئے گا اس کے بارے میں لوگوں کو آگاہ کرنا انتہائی ضروری ہے۔یہ نکتہ ذہن میں رکھیئے گا۔

وَأَنَّ اللَّـهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ
سورة النحل آیت نمبر 107

یہ جو فرمان اللہ نے حضوؐر پر نازل کیا اور اگرحضوؐر آگے بیان نہ فرمائیں تو رسالت کا حق ادا نہیں ہوتا اور اگر بیان کر دی اور امت محمدﷺ میں ہو کر بھی کچھ لوگ مولی علی کو نہ مانیں تو وہ کافر ہوجائے گا۔اور اللہ کافروں کو ہدایت نہیں دیتا۔مولی علی کے چہرے کو دیکھنا عبادت ہے، علی کا ذکر کرنا عبادت ہے اور کچھ احادیث میں تو یہاں تک لکھا ہےکہ نبی پاک نے فرمایا۔ علی تمہارا حاکم ہے۔سرکارسیدنا گوھر شاہی نے اپنی رہائش گاہ پر گفتگو کرتے ہوئے فرمایا جنید بغدادی کا ایک مرید جب دریا میں ڈوبنے لگا تو اس نے اپنے مرشد کو پکارا تو جنید بغدادی روحانی طور پر حاضر ہوئے اور مرید کو کہا میرا ہاتھ پکڑ لے اور یا جنید یا جنید کہہ تو مرید نے ہاتھ پکڑ لیا اور یا جنید یا جنید کہنے لگا اور جنید بغدادی یا اللہ یا اللہ کہنے لگے، اس طرح وہ دریا میں تیرنا شروع ہو گئےایک مقام پر اس کو خیال آیا کہ میں یا جنید کیوں کہہ رہا ہوں جب کہ یہ یا اللہ کہہ رہے ہیں تو میں بھی یا اللہ کہنا شروع کر دیتا ہوں ، جونہی اس نے یا اللہ کہنا شروع کیا تو پھر ڈوب گیا تو جنید بغدادی نے فرمایا کہنا تو یا اللہ ہی چاہئیے، یا جنید نہیں کہنا چاہئیے لیکن اُس وقت جب تیری رسائی اللہ تک ہو جائے ابھی تیری رسائی جنید تک ہے تو پھر تو جنید ہی کہہ، صوفیوں میں جنید بغدادی سے زیادہ شریعت کون جانتا تھا؟ جو لوگ نہ تصوف سے واقف ،نہ شریعت سے واقف ہوتے ہیں معترض بھی وہی ہوتے ہی لیکن محبت والے ایسا نہیں کرتے۔

“سیدنا گوھر شاہی کا فرمان ہے جب ہمارا کوئی پیرو کار درجہ کمال پر پہنچ جائے تو اس کو دیکھنا عبادت ہے اس کا ذکر کرنا عبادت ہے “

یہ بات کوئی بڑی نہیں کہ مولی علی کا ذکر کرنا عبادت ہے، یا مولی علی کو دیکھنا عبادت ہے یہ کمال مولی علی تک محدود نہیں رہا اللہ رب العزت نے جو کمالات باطن مولی علی کو عطا فرمائے وہ کمالات مولی علی کی ذات تک محدود نہیں رہے سینہ بسینہ چلتے رہے۔مولی علی کو دیکھنا عبادت ہے جب مولی علی کے سینے سے وہ علم آگے گیا تو پھر حسن بصری کو دیکھنا بھی عبادت بن گیا، اویس قرنی کو دیکھنا بھی عبادت ہو گیا، اس کے بعد داتا علی ہجویری کو دیکھنا بھی عبادت ہو بن گیا، خواجہ غریب نواز معین الدین چشتی کو دیکھنا بھی عبادت ہو گیا اور پھر جس جس سینے میں اللہ کا نور اور اللہ آ کر بیٹھ گیا اور اس کو مرشد کا مل کا مرتبہ ارشاد ہو گیا تو ہر ایسی ہستی کو دیکھنا عبادت ہو گیا ، اس کا نام لینا عبادت ہو گیا۔سلطان صاحب کہتے ہیں
مرشد دا دیدار وے باھو ۔۔۔۔مینوں لکھ کروڑاں حجاں ھو
باھو شاہ کی مکے جانا ۔۔۔۔۔ جد حج ہوئے وچ گھر دے ھو

اب مرشد کا دیدار لاکھ کروڑ حجوں جیسا ہے تب ہی تو وہ کہتے ہیں ۔اگر گھر بیٹھے حج ہو جائے تو مکہ جانے کی کیا ضرورت ہے؟ یعنی مرشد کو دیکھ لینے سے ایک لاکھ حج ہو جاتے ہیں اور جو مرشد کو پیار سے دیکھنے پر منع کرے وہ مرتد ہے۔اب مولی علی کے بارے میں یہ جو گفتگو ہے یہ کسی اور صحابی کے لیے نہیں ہے، مولی علی کو حضور پاک ﷺنے باطنی علم عطا فرمایاکیونکہ آپ نے فرمایا

عَن الصَّنٰابجِی،عَن عَلِیٍّ عَلَیْہِ السَّلاٰم قٰالَ:قٰالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ اَنَا مَدِیْنَةُ الْعِلْمِ وَعَلِیٌّ بَابُھَا، فَمَنْ اَرٰادَ الْعِلْمَ فَلْیَأتِ بٰابَ الْمَدِیْنَةِ۔
حاکم المستدرک جلد نمبر 3 صفحہ 126
ترجمہ : صنابجی حضرت علی علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا کہ میں علم کا شہر ہوں اور علی اُس کا دروازہ ہیں۔ جو کوئی علم چاہتا ہے، وہ شہر علم کے دروازے سے آئے۔

اگر سارا کا سارا علم قرآن پاک میں ہوتا حضور اپنی طرف اشارہ کیوں کرتے کہاَنَا مَدِیْنَةُ الْعِلْمِ ، میں ہوں علم کا شہروَعَلِیٌّ بَابُھَا ، اور علی اس کا دروازہ ہیں ۔ دروازے سے مراد یہاں یہ ہے کہ کسی چیز کو اس سینے سے نکل کر باہر جانا ہے، وہ کون سی چیز ہے جو علی کے سینے سے نکل کر باہر گئی؟ وہ باطنی علم ہے۔جہاں جہاں تک یہ باطنی علم گیا، وہاں وہاں ان چہروں کو دیکھنا عبادت قرار پایا ان کے اسماء کا ذکر عبادت قرار پایا۔ جیسا کہ حضور غوث پاک جیلانی نے فرمایا میرے اسم میں اسم اعظم کی تاثیر ہے ۔غور تو کرو کہ سیدنا گوھر شاہی امام مہدی ہیں اور امام مہدی کو سلام پہنچانے کے لیے غوث الاعظم نے اپنے پوتے حیات الامیر کہا تھا اس وقت تک مرنا نہیں جب تک کہ میرا سلام امام مہدی کو پہنچا نہ لینا۔
ایک دن میر حیات سیہون شریف لال باغ میں آئے اور سیدنا گوھر شاہی کو غوث الاعظم کا سلام پہنچایا ۔جس ذات تک سلام پہنچانے کے لیے ایک ایسی کرامت کا ظہور ہوا کہ چھ سو سال سال تک غوث اعظم کے پوتے حیات رہے اور یہ اس وقت ہوا کہ جب ان کو ذات امام مہدی کے بارے میں علم ہو گیا اور ان کے دل میں امام مہدی علیہ السلام کو سلام پہنچانے کی خواہش ہوئی تو ان کے سلام پہنچانے کے لیے غوث اعظم کے پوتے کو چھ سو سال کی زندگی عطا ہوئی ۔امام مہدی علیہ السلام کی ذات وہ ذات ہے کہ جن کی یاد میں حضور پاکﷺ اشک باری کیا کرتے تھے، جب بھی حضور حجر اسود کے پاس گئے تو ایسا کبھی بھی نہیں ہوا کہ آپ حجر اسود کے پا س ہوں اور گریہ زاری نہ فرمائی ہو ، جب صحابہ کرام نے پوچھا کیا وجہ ہے کہ آپ جب بھی حجر اسود کے پاس ہوتے ہیں تو گریہ زاری فرماتے ہیں تو آپ نے جواب دیا کہ یہ مقام ہی ایسا ہے یہاں آنکھیں خود بخود اشک بار ہو جاتی ہیں ۔حدیث شریف میں آیا جو حجر اسود کا عقیدت و محبت سے بوسہ لے گا تو حجر اسود ان کی شفاعت کریگا اور کافروں کے کفر کی گواہی دے گا۔اب کافروں کا تو خانہ کعبہ جانا ہی منع ہے تو کافر وہاں جا کر بوسہ کیسے دے گا؟ تو پھر کافر کون ہوا؟

“کافر وہ ہے جس کو پتا چل جائے کہ اس حجر اسود میں امام مہدی گوھر شاہی کا چہرہ ہے اور وہ اس حقیقت کو رد کرے اور پھر بھی چومے تو حجر اسود اس کے کفر کی گواہی دے گا”

بہت سے لوگوں کو جب یہ پتا چل گیا تو انہوں نے بغض میں حجر اسود کو چومنا ہی چھوڑ دیا اور سعودیہ والوں نےحجر اسود کا بوسہ لینے کی اہم ترین شق کو ہی جھٹلا دیا کہ ضروری نہیں ہے کہ ہر حال میں حجر اسود کا بوسہ لینا ہے ، موقع نہ بھی ملے تو دور سے ہی استلام کر دو ۔استلام کرنا حرام ہے کیونکہ حجر اسود کا بوسہ لینا اس لیے ضروری ہے کہ تمام مناسک حج مکمل کرنے کے بعد اسکا نچوڑ وہ لمحہ ہوگا کہ جب حاجی حجر اسود کے سامنے پہنچ کر عقیدت و محبت کے جذبات کا اظہار کریں گے اور وہ عقیدت ومحبت کے جذبات آپ کے لبوں سے آنکھوں سے نکل کر حجر اسود میں جائیں گے اور حجر اسود آپ کے گناہوں کو جذب کرے گا تب ہی آپ گناہوں سے نوزائیدہ کی مانند پاک ہونگے اورتب ہی آپ کا حج حج مقبول کہلائے گا۔جہاں حجر اسود پر آپ کے گناہوں کو جذب کیا جانا تھا وہاں آپ نے بوسہ ہی نہیں لیا اکڑ میں کھڑے رہے کہ اس کی ضرورت کیا ہے یہ تو ایک بے جان پتھر ہے نہ فائدہ پہنچا سکتا ہے نہ نقصان ، چلو حضور نے بوسہ دیا تو چلو چوم ہی لو، تو اس طرح کے کفر کی حجر اسود گواہی دے گا کہ جس بوسے میں عقیدت نہیں ہوگی۔

مندرجہ بالا متن نمائندہ گوھر شاہی عزت مآب سیدی یونس الگوھر سے یو ٹیوب لائیو سیشن میں کئے گئے سوال کے جواب سے ماخوذ کیاگیا ہے ۔

متعلقہ پوسٹس

دوست کے سا تھ شئیر کریں