کیٹیگری: مضامین

قر آن مجید کی تفاسیر اور تاویل میں فرق:

قرآن مجید کی تفاسیر جو ہمیں بہتر لگتی ہے وہ خزائن العرفان ہے ۔اس سے بہتر ملا علی قاری کی تفسیر ہے لیکن وہ اُردو زبان میں نہیں ہے اس لئے جن کو عربی زبان نہیں آتی ہے وہ اس سے استفادہ حاصل نہیں کر سکتے ہیں ۔ ہمارے ملک ہندوستان اور پاکستان میں جو ہمارے علماء ہیں انہوں نے جو ہمارے ساتھ چال چلی ہے وہ یہ ہے کہ تابعین اور طبہ تابعین کے دور سے جو مفسرین آتے رہے ہیں اور انہوں نے قرآن کی بہت اچھی اور جامع تفسیر کی ہے وہ عربی زبان میں ہے ، تو اُن تفاسیر کو یہ ترجمہ کر کے پاکستان اور ہندوستان میں نہیں لاتے بلکہ اُن کو پڑھ کر خود اپنی تفسیر لکھ کر آگے بڑھاتے ہیں ۔جیسے ایک بڑے ولی اللہ گزرے ہیں ابو قاسم نیشا پوری ، یہ حضرت شبلی رحمتہ اللہ علیہ کے مرید تھے انہوں نے قرآن مجید کی تاویل لکھی ہے ، تفسیر تو یہ ہوتی ہے کہ جو آیت آپ کے سامنے لکھا ہے بغیر گہرائی میں جائے اس کا لفظ بہ لفظ ترجمہ ۔ جو میں قرآن مجید کا باطنی رُخ پیش کیا جاتا ہے اُس کو تاویل کہتے ہیں ۔ابو قاسم نیشا پوری نے جو قرآن کی تاویل پیش کی ہے وہ تاویل فی القرآن کہلاتی ہے اور یہ فارسی زبان میں ہے ۔ خزائن العرفان کی تفسیر عبدالنعیم مراد آبادی نے لکھی ہے ، انکا نام اتنا معروف نہیں ہے لکھے ان کے تفاسیر کے نمونے بہت اعلی ہے جہاں دیگر مفسرین نے ڈنڈی ماری ہے وہاں انہوں نے بھیڑ چال نہیں چلی بلکہ تحقیق کی ہے اور ایک اچھا تصور جو قرآن کے مختلف سے ملتا جلتا ہے ان حقائق کو بیان کرنے کی کوشش کی ہے ۔اسی طرح ایک تفسیر جلالین ہےیہ علامہ جلال الدین سیوتی رحمتہ اللہ علیہ کی ہے جو کہ ایک ولی کامل گزرے ہیں ۔ انہوں نے اوراُنکے استاد نے ملکر یہ تفسیر لکھی ہے ۔ اسی طرح جلال الدین سیوتی نے سیرت نبوی ﷺپر ایک کتاب “جامع صغیر” لکھی ہے لیکن یہ عربی زبان میں ہے ۔ اب جو ہمارے پاکستان اور ہندوستان کے عام لوگ ہیں وہ عربی زبان سے اتنا زیادہ واقف نہیں ہیں لہذا س طرح کی کتب اُنکی نظروں میں نہیں آتی ہیں ۔ ان کتب کے لکھنے والوں نے ولیوں سے اکتساب فیض حاصل کیا اور پھر اپنے انہوں نے اپنے مرشدوں سے اُن آیات کے مطالب پوچھے اور اُنکے بتانے پر انہوں نے یہ تفسیر لکھی ہیں ۔
جیسے ملا علی قاری نے فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ وَاشْكُرُوا لِي وَلَا تَكْفُرُونِ کی تفسیر میں واضح طور پر لکھا ہے کہ فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ میں ضروری بات جو سمجھنے کی ہے وہ یہ ہے کہ یہ عام ذکر کی طرف اشارہ نہیں ہے فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ بلکہ کہ تم میرا ذکر کرو تو میرا تیرا ذکر کروں گا، یہ اس وقت ثابت ہو گا جب تیرا دل اللہ کا ذاکر ہو گا۔زبانی ذکر سے تو أَذْكُرْكُمْ کہ ذمرے میں نہیں آئے گا۔یعنی جب تمھارا قلب بھی اللہ کے ذکر میں مشغول ہو جب أَذْكُرْكُمْ کے ذمرے میں آئے گا۔آج ہم اس مندرجہ ذیل آیت کی تاویل پیش کر رہے ہیں ۔

سورة الاحزاب کی ایک آیت کی تشریح:

لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّـهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَن كَانَ يَرْجُو اللَّـهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّـهَ كَثِيرًا
سورة الاحزاب آیت نمبر 21
ترجمہ : دھیان دو کہ نبی کریم ﷺ تمھارے لئے بہترین نمونہ حیات ہیں ، جو اللہ کی بارگاہ میں رجوع کرنا چاہیں اور یوم آخرت کی انہیں فکر ہواور کثرت سے اللہ کا ذکر بھی کرتے ہوں۔

لَّقَدْ اللہ تعالی جب استعمال فرماتا ہے جب کسی بات پر زور ڈالنا ہوتا ہے ۔ جسطرح ہم کسی بات پر زور ڈالتے ہیں تو دھیان سے سننے کا کہتے ہیں۔ اسی طرح جب اللہ تعالی یہی بات کہنا چاہتا ہے تو وہ لَّقَدْ تاکید کے ساتھ فرماتا ہے ۔قرآن مجید میں کہیں اللہ تعالی نے قد جائکم استعمال کیا ہے اور کہیں پرلقد استعمال کیا ہے ۔ اگرقدکے ساتھ لام بھی لگا دیا جائے تو اسکی حساسیت میں اور اضافہ ہو جاتا ہے ۔ جسطرح عربی زبا ن میں خوبصورت کیلئے حسن استعمال ہوتا ہے اور جب بہت خوبصورت ہو تو اس میں لام کا اضافہ کردیں گے لحسن یعنی بہت خوبصورت۔ یہ فصیح عربی کے قواعد ہیں جو عام عربی جوروزمرہ زندگی میں بولی جاتی ہے اس میں نہیں پائی جاتی ہے ۔جو سعودی عربیہ ، کویت اور دبئی میں عربی بولی جاتی ہے وہ فصیح نہیں ہے ۔ جہاں تھوڑی بہت اچھی عربی بولی جاتی ہے وہ ملک سوڈان ہے۔
لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّـهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ دھیان دو کہ نبی کریم ﷺ تمھارے لئے بہترین نمونہ حیات ہیں ۔یعنی قرآن مجید کو جسطرح انہوں نے اپنے عمل سے مشتہر کیا ہے وہ تمھارے لئے ایک پیمانے کی سی حیثیت رکھتاہے لِّمَن كَانَ يَرْجُو اللَّـهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّـهَ كَثِيرًا اُن لوگوں کیلئے جو اللہ سے ملاقات کے خواہش مند ہوں ۔ حضورؐ کی نمونہ حیات اُن لوگوں کے کام آئے گی جو اللہ کی بارگاہ میں رجوع کرنا چاہیں اور یوم آخرت کی انہیں فکر ہواور کثرت سے اللہ کا ذکر بھی کرتے ہوں اور وہی لوگ اس حیات طیبہ پر عمل پیرا ہو پائیں گے ۔

قرآن مجید کے بذات خود مطالعے کی تلقین:

ہم لوگوں کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ آپ یونیورسٹی یا کالج کے طالب علم ہوں ، ڈاکٹر یا انجینئر ہوں ، نفسیات کے طالب علم ہوں ، آپکے پاس دین کیلئے وقت ہو یا نہ ہو۔ یہ پیغام آپکے لئے ہے کہ آپ اپنے جسم کو دنیاوی کاموں میں مصروف رکھیں لیکن اللہ تعالی نے اپنی ذات سے جوڑنے کیلئے آپ کے جسم میں روحوں کو رکھا ہوا ہے ، اُنکو بیدار کر کے اللہ اللہ میں لگا لیں اور پھر جو مرضی آئے کرتے رہیں ۔ جسطرح سخی سلطان باہو نے فرمایا کہ ہتھ کار ول ، دل یار ول ۔یعنی ہاتھ کام کاج میں ہے اور دل یار کے ساتھ مصروف ہے ۔ اگر قرآن مجید کیلئے آپکے اذہان میں یہ آگیا ہے کہ ہم نہیں سمجھ سکتے یہ توصرف علماء کا کام ہے تو پھر قرآن مجید کی یہ آیت پڑھ لیں جس میں اللہ نے ارشاد فرمایا ہے کہ

وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ
سورة القمر آیت نمبر 40
ترجمہ : اور یقین کرو کہ ہم نے تمھارے لئے قرآن مجیدکو بڑا آسان کر دیا ہے تو ہے کوئی غور کرنے والا !

مولوی کہتے ہیں کہ قرآن تمھاری سمجھ میں نہیں آئے گا یہ ہمارا کام ہے ۔جبکہ اسکے برعکس اللہ تعالی نے ارشاد فرما دیا ہے کہ ہم نے تمھارے لئے قرآن مجید کو آسان کر دیا ہے ۔ لوگوں نے ایٹمی سائنس پڑھ لی ، روبوٹس بنا لئے ، سرجری بھی کر لیتے ہیں اور پائلٹ بھی بن گئے ہیں تو پھر قرآن کیوں نہیں پڑھ سکتے ! ہمیں اس تصور کو ختم کرنا ہو گاکہ قرآن صرف عالم ہی سمجھ سکتے ہیں ۔ قرآن مجید کا عنوان ہی انسان ہے ۔ ہم آپ تمام لوگوں سے درخواست کرتے ہیں کہ خود قرآن کا مطالعہ کریں علماء پر توکل نہ کریں۔جب ایسا کریں گے اور کسی مقام پر اگر آپ الجھ جائیں تو سرکار سیدنا گوھر شاہی سے مدد مانگیں ہو سکتا ہے کہ اُس آیت کی پوری تشریح آپکے قلب پر القا ہو جائے۔

اصل قرآن سینہ مصطفی میں موجود ہے:

سورة الواقعہ کی تشریح:

إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ فِي كِتَابٍ مَّكْنُونٍ لَّا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ
سورة الواقعہ آیت نمبر 77-79
ترجمہ : یہ قرآن کریم ہے اور اسکی تحریر پوشیدہ ہے اور سوائے طاہر کے اِسے کوئی چھو نہیں سکتا۔

یہ تو اس کا ترجمہ ہے لیکن عربی دان ہونے کی حیثیت سے اگر کوئی اس کو پڑھے گا تو کتاب کو کتاب نہیں پڑھتا ہے۔ہم نے بچپن سے یہ سنا ہے کہ یہ کتاب ہے اور کتاب کیا ہوتی ہے یہ ہمیں نہیں معلوم ہے ۔اگر لوگوں سے پوچھا جائے کہ کتاب کے معنی بتائیں تو وہ اسکو بیان کرنے سے قاصر ہیں ۔بس یہی کہیں گے کہ کتاب ایک علم کا مجموعہ ہے ۔ کتاب کا مطلب ہے اس کے اندر تحریریں ہیں یعنی وہ چیز جو لکھی گئی ہو ۔ پہلے ادوار میں جب کمپیوٹر نہیں تھا تو لوگ ہاتھوں سےلکھتے تھے اور اسے کتابت کہتے تھے۔إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ فِي كِتَابٍ مَّكْنُونٍیہ خاص قرآن کریم ہے اور اسکی تحریر پوشیدہ ہے ۔ہم تو یہ کہتے ہیں کہ قرآن مجید تحریری شکل میں ہمارے سامنے موجود ہے لیکن اس میں لکھا ہوا کہ وہ تحریر کہیں چھپی ہوئی ہے ۔ لَّا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ یہاں اس آیت میں یہ بتایا جا رہا ہے کہ قرآن کہاں ہے ؟ کوئی اس کریم کتاب کو چھو نہیں سکتا جب تک وہ پاک نہ ہو جائے۔ ہمارے علماء نے اس کو وضو کی طرف موڑ دیا ہے کہ یہ اسکی طرف اشارہ ہے جبکہ یہ غلط ہے ۔بلھے شاہ سے کسی نے پوچھا کہ کیا ہم ناپاک ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا کہ “اس نفس نے پلیت کیتا ، اساں منڈوں پلیٹ نہ سی” ۔ یہ جو نفس ہمارے اندر آیا اسکی وجہ سے ہم ناپاک ہو گئے ورنہ ہم ناپاک نہیں تھے ۔یعنی جس نے اپنے نفس کا تذکیہ کر لیا اور اپنے قلب کو منور کر لیا تو پھر اُنکا دل اُس چھپی ہوئی تحریر تک پہنچ جاتا ہے ۔ لَّا يَمَسُّهُاور یہ لفظ بتا رہا ہے کہ وہ جو چھپا ہوا قرآن ہے وہ پڑھا نہیں جاتا اُس کو محمد مصطفی اپنے سینے سے مّس کرتے ہیں ، غلام کا سینہ آقا کے سینے سے ملتا ہے اور وہ قرآن آقا کے سینے سے غلام کے سینے میں منتقل ہو جاتا ہے ۔جو مس کرنے والی چیز ہے وہ تو سینہ مصطفی میں موجود ہے ۔

سورة العصر : انسان کسطرح خسارے میں ہے؟

وَالْعَصْرِ إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ
سورة العصر آیت نمبر 1 تا 3
ترجمہ : زمانے (جو تیزی سے گزر جائے) کی قسم! انسان بڑے ہی خسارے میں ہے سوائے اُن لوگوں کے جو مومن ہو گئے اور عمل صالح اختیار کیا۔اور حق و صبر کی تلقین کرتے رہے ۔

وَالْعَصْرِ اکثر تراجم میں اسکا مطلب زمانہ لکھا ہوا ہے لیکن ہمیں جو باطنی تعلیم ملی ہے اسمیں کی زرا مختلف تشریح ہے ۔جب بچہ چھوٹا ہوتا ہے تو اسکو بہت شوق ہوتا ہے کہ وہ جلدی سے بڑا ہو جائےاور جب اٹھارہ یا بیس سال کے ہو جاتے ہیں تو پھر کچھ یاد ہی نہیں رہتا اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ تیس سال کی عمر پر پہنچ جاتےہیں ۔ اسی طرح عمر گزرتی جاتی ہے اور جب گھٹنوں میں درد شروع ہوتا ہے تو یقین ہی نہیں ہوتا ہے کہ میں اب بوڑھا ہو گیا ہوں۔عمر اتنی تیزی سے گزر جاتی ہے کہ پتہ ہی نہیں چلتا ہے ۔جو تیزی سے گزر جائے وَالْعَصْرِ اُسے کہتے ہیں ۔ یہاں اللہ تعالی یہ فرما رہا ہے کہ اے انسانوں! جو میں نے تمھیں زندگی اس دنیا میں دی ہے وہ تیزی سے گزر جائے گی اس کی قسم کھا کہ کہہ رہا ہوں ۔اللہ تعالی اسی چیز کی مثال یہاں دے رہا ہے کہ بچپن سے لڑکپن اور لڑکپن سے جوانی ، جوانی سے ادھیڑ عمر اور پھر بڑھاپا یہ وقت اتنی تیزی سے گزر جاتا ہے اور اسکی کی قسم کھا کہ کہہ رہا ہوں کہ إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍکہ انسان بڑے ہی خسارے میں ہے ، خسارے میں اس لئے کہا کہ جو جوانی کی عمر ہوتی ہے وہ روحوں کو بیدار کرنے کا وقت ہوتا ہے وہ تیزی سے گزر جاتا ہے اور انسان کو پتہ بھی نہیں چلتا ۔اگر کوئی نوجوان لڑکا یا لڑکی تصوف کا راستہ اختیار کرلے تو سب سے پہلے ماں باپ کہتے ہیں کہ ابھی تیری عمر ہی کیا ہے یہ تو بڈھوں کا کام ہے ۔انسان کا یہی خیال ہوتا ہے کہ ابھی تو بہت لمبی عمر پڑی ہوئی ہے اور یہ عمر چٹکی بجاتے ہوئے گزر جاتی ہے ۔تو خسارہ یہ ہے کہ اتنا قیمتی وقت جو زندگی کا دیا ہے وہ پلک جھپکتے گزر جائے گا اور اسکو پتہ ہی نہیں چلے گا کہ وہ اس دنیا میں آیا کیوں ہے ! إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِاس خسارے میں وہ لوگ نہیں ہیں جو مومن ہو گئے اور عمل صالح اختیار کیا ۔عمل صالح یہ ہوتا ہے کہ وہ عمل جس سے نور بن کر سینے میں چلا جائے۔قلب میں جب نور آیا گیا تو اس دل کی پرورش کرنے والے اعمال عمل صالح ہو ں گے ۔
عام لوگوں کا یہ خیال ہے ہم مومن کیسے بن سکتے ہیں ؟ مومن بننے والے لوگ تو بڑے ہی زاہد و پارسا ہوتے ہوں گے ، ہم تو شراب بھی پی لیتے ہیں اور دیگر گناہوں میں بھی ملوث ہیں تو ہم کیسے مومن ہو سکتے ہیں ۔ ہمارے علماء نے مومن کی جو تشریح بیان کی ہے وہ ایسی ہے کہ ایک گنہگار آدمی جو ایسی دنیاوی زندگی میں لگا ہوا ہو اگر کبھی اُسکے دل میں مومن بننے کا خیال بھی آئے تو وہ کہے کہ یہ تو بڑا مشکل کام ہے ۔ عمامہ پہنو، داڑھی رکھو، سخت عبادات کرو یہ سب تو بہت مشکل کام ہے چلو ماں باپ کی خدمت ہی کر لیتا ہوں اللہ ایسے ہی معاف کر دے گا، مومن بننا تو بڑا مشکل کام ہے اور یہ تصور غلط ہے ۔مومن بننے کا جو اصل تصور قرآن نے دیا ہے وہ یہ ہے کہ

أَفَمَن شَرَحَ اللَّـهُ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ فَهُوَ عَلَىٰ نُورٍ مِّن رَّبِّهِ
سورة الزمر آیت نمبر 22

کہ جس نے شرح صدر کر لی ، جس کے دل میں اسم ذات اللہ کا ذکر داخل ہو گیا تو پھر اسے اللہ تعالی کی طرف سے نور ملنا شروع ہو جائے گا اور وہ مومن ہے ۔آہستہ آہستہ اُس کی زندگی گزرتی جائے گی اور اسکے جو ظاہری اعمال ہیں اُس میں بھی سدھار آتا جائے گا۔ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ اور وہ لوگ جو حق کی تلقین کرتے رہے ۔ حق کی تلقین کرنا کیا ہے ؟ اچھے کام کیا کرو اور برے کاموں سے اجتناب برتا کرو یہ حق کی تلقین نہیں ہے ۔ حق کی تلقین یہ ہے کہ وہ مقام اور وہ مرتبہ کہ جہاں پر اللہ تعالی آپ کو اپنا دوست بنا لے اور آپکو دلوں کو بیدار کرنے کا اذن دے دے اور پھر آپ اللہ کی مخلوق کو اللہ کی محبت ، اللہ کے عشق کی تلقین کریں ۔ لوگوں کو یہ نہ کہیں کہ نماز پڑھو تاکہ جنت اور حو ر قصور مل جائے۔تلقین اصل یہ ہے کہ اللہ سے اپنا تعلق اللہ کی خاطر جوڑو ، اللہ سے محبت کرو ، نماز پڑھنی ہے تو اللہ کی محبت میں پڑھو۔اللہ کا ذکر کرنا ہے تو خالص اللہ کی محبت کیلئے کرو، سارے اعمال رب کی محبت ، خوشنودی اور عشق کے حصول کیلئے کرنے ہیں ۔ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ اور پھر جب مشکلات آ جائیں تو ایسی ہستیاں اپنی نظر سے تمھارے دل میں صبر کا نور ڈالیں کہ تم مصیبت کے وقت ثابت قدم رہو ۔ صبر ایک خاص مقام ہے اور اسکا نور الگ ہے ، وہ نور جب مرشد کامل اپنی نگاہوں سے کسی کے دل میں ڈالتا ہے تو پھر مصیبتوں سے مقابلہ کرنے کی ہمت آ جاتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالی نے فرمایا کہ مومن نمازو صلوة سے صبر حاصل کرتے ہیں ۔ اب سورة العصر میں جس خسارے کی بات ہو رہی ہے وہ یہی ہے کہ اللہ تعالی نے آپکے اندر سات ارواح رکھی ہیں وہ خفتہ حالت میں رہ جائیں گی اور آپکی عمر گزر جائے گی اور عمر گزرنے کے بعد جب تسبیح لے کر مسلے پر بیٹھیں گے تو اندر تو تباہ ہو چکا ہو گا،اسی کا ختم ہو جانا ہی خسارہ ہے ۔اسی لئے مولانا روم نے فرمایا ہے کہ “گر جوانی توبہ کردن شیوہ پیغمبری ” ۔ کہ جوانی میں توبہ تائب ہونا ، رب کی طرف رجوع ہونا اور رب کی محبت اختیار کرنا پیغمبروں کا شیوہ ہے ۔

مندرجہ بالا متن نمائندہ گوھر شاہی عزت مآب سیدی یونس الگوھر سے 5 جون 2020 کویو ٹیوب لائیو سیشن میں قرآن مکنون کی خصوصی نشت سے ماخوذ کیا گیا ہے ۔

متعلقہ پوسٹس
دوست کے سا تھ شئیر کریں