کیٹیگری: مضامین

مہر نبوت یا مہدیت پیدائشی نہیں ہوتی ہے:

نبی کریم ﷺ آخری نبی ہیں ، جن لوگوں نے نبی کریم ؐ کی پشتِ مبارک پر مہر نبوت دیکھی تھی اُن لوگوں کو اس دنیا سے گئے ہوئے چودہ یا ساڑھے چودہ سو سال ہو چکے ہیں ، ایسا موقع اب کسی کو میسر نہیں کہ مہر نبوت کوئی دیکھے ۔ اب ایک واحد شخصیت امام مہدی علیہ السلام کی ہے جن کے حوالے سے مولا علی کرم اللہ وجہہ کا ارشاد گرامی ہے کہ” جسطرح نبی کریم ؐ کےشانوں پر مہر نبوت تھی بالکل اسی طریقے سے امام مہدی علیہ الصلوة و سلام کی پشت پر مہر مہدیت ہو گی “۔ ایک مہر وہ ہوتی جو سیاہی والی ہوتی ہے لیکن اگر اللہ کی طرف سے اگر مہر ہو گی تو کیا وہ سیاہی والی ہو گی !! اور اگر امام مہدی کی پشت پر اللہ پیدائشی مہر لگا کر بھیجتا تو یہاں بھی ایک بڑا مسئلہ پیدا ہو جاتا اور وہ مہر دیکھ کر لوگ پہچان لیتے اور آپس میں مسئلے مسائل پیدا ہو جاتے لہذا پیدائش کے وقت بھی مہر نہیں ہوتی ہے ۔ جیسے اگر نبی کریم ؐ کی پشت پر پیدائشی مہر نبوت ہوتی تو نبی کریمؐ کو ورقہ بن نوفل کے پاس حضرت خدیجہ الکبریٰ کیوں لے کر جاتیں !! لہذا مہر نبوت نہ سیاہی والی ہوتی ہے اور نہ ہی پیدائشی ہوتی ہے ، تو پھر مہر نبوت کیسی ہوتی ہے؟
جو جھوٹا دعوے دار ہو گا اس کا روحانیت سے تعلق نہیں ہو سکتا ، آج تک جتنے بھی دنیا میں امام مہدی کے دعوے دار آئے ہیں ان کا تصوف، ولایت ، روحانیت ،درویشی اور فقر سے دور دور کا کوئی تعلق اورواسطہ نہیں تھا ۔ مرزا غلام احمد قادیانی کو دیکھ لیں جب اس سے حضوؐرکی شب معراج کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ آپؐ جسم سمیت اوپر گئے تو وہ آپ ﷺ کی شان میں گستاخی کرتا ہے اور کہتا ہے کہ اگر میں اپنا ایک ہٹاؤں تو نیچے گر جاتا ہوں تو حضوؐرجسم سمیت اوپر معراج میں کیسے تشریف لے گئے، اس بات سے معلوم ہوتا ہے کہ اُن کے پاس نہ روحانیت تھی اور نہ تصوف اور نہ ہی کوئی باطنی علم تھا۔ یہ بات توجہ کے ساتھ ازبر فرما لیں کہ اللہ کی طرف سے کوئی ہستی آئے گی تو اللہ کا طریقہ مبارکہ باطنی تعلیم کے زریعے افشاں کرنا ہے ، اللہ سے بات چیت کیسے ہوگی ، اللہ سے ملاقات کیسے ہوگی اُس شخصیت کی یہ سارا نظام اللہ نے باطن میں بنایا ہوا ہے اور ظاہر میں دیدار کرنے والی بات کا تومنع کیا ہے۔ قرآن میں ارشاد ہوا کہ لَّا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ یعنی آپ کی آنکھ کو وہ بصیرت ہی نہیں ہے کہ آپ اللہ کو ظاہر کی آنکھ سے دیکھ سکیں ، نہ ہی ظاہری کانوں کو طاقت ہے کہ اس کے زریعے کلام الہی کو سن سکیں اور نہ ہی ظاہری زبان کو یہ طاقت حاصل ہے کہ اس کی مدد سے اللہ سے ہمکلام ہو جائیں یا پھر آپ یہاں سے بولیں اور وہ آواز عرشِ الہی تک چلی جائے۔ اللہ سے تعلق باطنی تعلیم کے زریعے قائم ہوتا ہے ، ظاہر میں نہ اللہ کا دیدار ہو سکتا ہے اور نہ ہی ہمکلام ہو سکتے ہیں اور نہ ہی کوئی ظاہری طور پر اللہ سے رابطہ ہو سکتا ہے لہذا جو بھی ہستی منجانب اللہ آئے گی تو سب سے پہلے یہ دیکھنا پڑے گا کہ اُس کے پاس باطنی علم ہے یا نہیں ہے ۔ اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ میں اللہ سے ہمکلام ہوتا ہوں تو پھر آپ پوچھیں کہ اللہ سے ہمکلام ہونے کا کیا طریقہ ہے ؟ اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ مجھے اللہ کا دیدار ہوا ہے تو اُس سے پوچھیں کہ اللہ کا دیدار کسطرح ہوا ہے ؟ لیکن یہ سوال تو آپ جب کریں گے جب آپ کے اپنے پاس باطنی علم ہو گا۔

مہر مہدیت میں باطنی علم اور نورانیت کا عمل دخل:

امام مہدی علیہ السلام کے پشت مبارک پر جو مہر ہو گی اس میں بھی باطنی علم اور نورانیت کا عمل دخل ہے ، اُن کی نسوں میں اللہ کا نور دوڑ رہا ہو گاجب اللہ تعالی چاہے گا تو وہ نور نسوں کے اندر اُبھار پیدا کر کے اُن نسوں کے زریعے مہر مہدیت نمایاں کرے گااور اُس میں سے سات رنگ کی شعاعیں نکلیں گی ۔ کبھی کبھی آپ دیکھتے ہوں گے لوگوں کی ورید اُبھری ہوئی ہوتی ہے اور ہری ہری نسیں نظر آتی ہیں اسی طریقے سےجب اللہ چاہے گاتو وہ نسوں کے اُبھار سے مہر مہدیت نظر آئے گی اور اسی طریقے پر نبی کریمﷺ کی پشتِ مبارک پر مہر نبوت بھی تھی جو کہ نسوں سے اُبھری ہوئی تھی اورنسوں سے ہی کلمہ لکھا ہوا نظر آتا ہے ۔ مہر نبوت کھال میں کھدی ہوئی نہیں ہوتی ہے بلکہ نسوں کی مدد سے اُبھری ہوئی ہوتی تھی اور پھر غائب بھی ہو جاتی تھی ۔ نسوں سے تحریر اُبھرتی تھی اور پھر غائب بھی ہو جاتی تھی جو کہ سائنس کی مدد سے ممکن ہی نہیں ہے اور نہ ہی جادو کے زریعے ایسا کچھ بنایا جا سکتا ہے یہ اللہ کے نور اور حکم سے ہوتا ہے ۔ عام انسان مہرِ مہدیت کو کیسے دیکھ سکتا ہے ، نبی کریمﷺ کی مہر نبوت کتنے لوگوں نے دیکھی تھی ۔ حجتہ الوداع کے موقع پر نبی کریمؐ فرمارہے تھے کہ اگر میں نے تمھیں کوئی تکلیف پہنچائی ہے تو آج تم مجھے تکلیف پہنچا کر اُس کا حساب برابر کر لو ، جب ایک منچلے صحابی نے یہ بات سنی تو وہ آگے گیا اور کہا کہ میری کمر پر آپ نے ایک چپت رسید کی تھی ، تو آپؐ نے اپنی کمر سے کپڑے کو ہٹاتے ہوئے فرمایا کہ آؤ تم بھی ایک چپت لگا لو ، وہ قریب گیا اور پشت مبارک کو چوم لیا ۔ تو آپؐ نے فرمایا کہ یہ تم کیا کر رہے ہو تم اپنا بدلہ لے لو ؟ تو اس صحابی نے جواب دیا کہ میں تو ایسے ہی کہہ رہا تھا اصل میں تو میں مہر نبوت دیکھنا چاہتا تھا ۔ لہذا عام لوگوں کو مہر نبوت نہیں دکھائی جاتی ورنہ لوگوں کو اسطرح کے بہانے نہ کرنے پڑتے ۔ دوسری بات یہ کہ صرف مہر مہدیت ہی تو امام مہدی ہونے کی دلیل نہیں ہوگی ۔ جیسے اگر کسی کے پاس قانونی کاغذات نہ ہوں جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ یہ میری اولاد ہے تو اس کی بات کی صداقت جاچنے کے لئے ڈی این اے کا ٹیسٹ کروا لیں تو پتہ چل جائےگا یہ اس کی اولاد ہےیا نہیں ہے۔ اسی طرح امام مہدی کی پہچان صرف مہر مہدیت سےتو نہیں ہو گی ۔ اگر کوئی ڈاکٹر یاانجینئیر ہے اور اپنا کارڈ لے کر نہیں آیا کہ وہ انجینئیر ہے تو اس کی سب سے پہلے نشانی یہ ہو گی کہ وہ جس فیلڈ میں ماہر ہو گا اس کام کو وہ ٹھیک کر دے گا جس سے یہ پتہ چل جائے گا کہ وہ ڈاکٹر ، انجینئیر یا ٹی وی ٹھیک کرنے والا ہے ۔ اب جن کو ٹیلی وزن ٹھیک کرنا نہ آتا ہو اور دعوی کیا ہوا ہو کہ میں انجینئیر ہوں اور اس کو لوگ انجینئیر مان لیں تو وہ بیوقوف کہلائیں گے ، کم ازکم خراب ٹی وی دے کر یہ دیکھ لیتے کہ ٹی وی ٹھیک کرنے کی اس میں قابلیت ہے یا نہیں ہے ۔ اسی طرح امام مہدی کے پاس امام مہدی ہونے کی کوئی شناخت بھی نہ ہو ، کوئی مہر بھی نہ دکھائی جائے، تو پھر ہمیں یہ دیکھنا پڑے گا کہ امام مہد ی نے دنیا میں آنا کیوں ہے ؟ دین بھی مکمل ہو گیاہے تو پھر ہمیں امام مہدی کی کیوں ضرورت ہے ؟ ہمارے پاس مولوی بھی ہیں، مفتی بھی ہیں بڑے بڑے صوفی اسکالز بھی ہیں پھر امام مہدی نے آکر کیا کرنا ہے ، مسلمان قوم اس بات کو نہیں جانتی ہے ، امام مہدی کیا دینے آئیں گے یہ بات نہ مولویوں کو پتہ ہے ، نہ مفتیوں کو پتہ ہے کیونکہ ان لوگوں کو دین اسلام کی ایک ہی بات نظر آتی ہے کہ نماز قائم کرو، حج کرو، روزہ رکھو تو جنت میں جاؤ گے ۔ کیا کبھی تم کو یہ خیال بھی آیا ہے کہ اللہ مل جائے، اللہ کا دیدار ہو جائے، اللہ سے ہمکلام ہو سکیں ، میں یہاں اس دنیا میں بھی موجود رہوں اور میری اندر کی چیزیں نبی کریم ﷺ کےدیدار میں بھی مشغول ہوں ، میں سوتا بھی رہوں او ر میری اندر کی چیزیں عرش الہی کا دیدار بھی کر رہی ہوں ، میں سوتا بھی رہوں اور میری اندر کی کوئی چیز نکل کر اللہ کا دیدار بھی کر رہی ہو ۔ لیکن یہ خیالات تو ہمیں آتے ہی نہیں ہیں کیونکہ یہ باطنی علم کے ثمرات ہیں ۔

امام مہدی اللہ کی بارگاہ میں بھٹکے ہوئے انسانوں کے وکیل ہیں :

چارسو سال گزر گئے ہیں اور ایسا علم بتانے والے اب نہیں آرہے ہیں ۔ غوث اعظم لوگوں کو یہی علم دیا کرتے تھے ، خواجہ غریب نواز لوگوں کو یہی علم دیا کرتے تھے کہ کسطرح اپنے قلب اور قالب کو اللہ اور اس کے رسول کے تابع کرنا ہے ، کسطرح اپنے اعضاء کو نور کے تابع کرنا ہے اور کسطرح اپنے نفس کو حضوؐرکی غلامی میں لانا ہے ، کسطرح نفس کی غذا تبدیل کر کے نار سے نور میں لانی ہے ۔کتا اگر کلمہ پڑھ لے تو وہ مومن نہیں بن سکتا کیونکہ اس میں لطیفہ قلب موجود نہیں ہوتا ہے ۔ ادنی ترین جنت تو اللہ نے اُن کے لئے ہی بنائی ہے جو قلب کی عبادت کرنے والے ہوں گے ۔ لطیفہ قلب کہ نہ ہونے کی وجہ سے وہ جنات جو حضوؐرکے صحابی ہونے کا درجہ رکھتے ہیں وہ بھی جنت میں نہیں جا سکیں گے کیونکہ ادنی ترین جنت اُن کے لئے ہے جنھوں نے قلب کی عبادت کی تھی ۔ اب لطیفہ قلب نہ ہونے کی وجہ سے حضوؐرکے صحابی جن بھی جنت میں نہیں جا سکتے تو پھر تو انسان ہو کر اگر قلب کی عبادت نہیں کر پائے گاتو جنت میں نہیں جا پائے گا۔ تمام عبادات تو تیری حوروں کےخیال میں ہے کیا کبھی اللہ کا بھی خیال آیا ہے ، کیا یہی اسلام نبی کریم ﷺ نے سکھایا تھا کہ صبح سے لے کر شام تک ہر عبادت حوروں کے خیال میں کرنا ۔ نبی کریمﷺ نے درجہ اسلام بھی بتایا اور درجہ ایمان بھی بتایا ، درجہ ایقان بھی بتایا اور پھر درجہ احسان کی بھی تشریح فرمائی کہ جب تو عبادت کرے تو اُس عبادت کا مغز یہ ہو کہ تجھے رب کا دیدار ہو رہا ہو ۔اگر عبادت میں تجھے رب کا دیدار ہو جائے تو پھر وہ درجہ ایمان نہیں بلکہ درجہ احسان ہے ۔درجہ احسان حسنِ الہی سے نکلا ہے ، جس نے اُس کے حسن کو دیکھ لیا ، اللہ کے حسن کو دیکھنا ہی مرتبہ احسان ہے ۔احسان کا مطلب ہی حسن کو ملاحظہ کرنا ہے اور جو حسن کو ملاحظہ کرتے ہیں اُن کو محسن کہا جاتا ہے ، قرآن مجید میں ہے کہ

إِنَّ رَحْمَتَ اللَّـهِ قَرِيبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِينَ
سورة الاعراف آیت نمبر 56
ترجمہ : اللہ کی رحمت محسنین کے قرب میں ہے ۔

امام مہدی علیہ الصلوة و السلام تم کو یہ بتانے نہیں آئیں گے کہ نمازیں پانچ ہوتی ہیں ، حج میں سات طواف ہوتے ہیں ، زکوة ادا کی جاتی ہے ، والدین اور بیوی کے یہ حقوق ہیں ، نکاح اس طرح سے ہو گا یا طلاق اس طرح ہو گی ۔نہ امام مہدی یہ بتانے آئیں گے یہ جنتیں کتنی ہوتی ہیں اور اس میں کسطرح جاؤ گے ۔ امام مہدی کے آنے کا مقصد یہ ہے کہ تم کو تعلق باللہ اور تعلق بالرسول عطا فرما دیں ، تمھارے دلوں کو محمد الرسول اللہ کے دل کا تابع بنا دیں کہ تمھارے دل میں قلب مصطفیؐ کی اتباع آ جائے ۔

قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّـهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّـهُ
سورة آل عمران آیت نمبر 31

جو یہ کہتے ہیں کہ ہم کو اللہ سے محبت کرنی ہے ، یا رسول اللہ اِن کو کہہ دیں کہ میرے رنگ میں رنگ جاؤ۔ میرے رنگ میں ایسے رنگ جاؤ کے سامنے والا تمھیں تو یہ نہ کہے کہ غلام مصطفی ہے اُس کو مصطفی ہی نظر آئے ۔ جب تم حضوؐرکے رنگ میں رنگ جاؤ گے تو اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ تم کیا اللہ سے محبت کرو گے ، وہ جو مصطفی کا رنگ تم پر چڑھے گا اس کو دیکھ کر اللہ تم سے محبت کرنے لگ جائے گا۔ لہذا اللہ کی تم سے محبت کرنے کی وجہ وہ مصطفی کا رنگ ہے جو تم نے اپنے اوپر چڑھا لیا ہے ۔ امام مہدی آ کر لوگوں کو باطنی اتباع رسول کا سبق پڑھائیں گے ۔ اپنے جسم کو تو تم سنت کے تابع کر لیتے ہو ، آج کے دور میں کوئی ایسا عالم یا مفتی ہے جو اپنے نفس کو حضوؐرکے تابع اور اپنے قلب کو اللہ کے تابع کر کے دکھائے کیونکہ یہ انسان کی کوشش سے نہیں ہوتا یہ اللہ کی رضا اور اذن سے ہوتا ہے ۔ اب کون اللہ سے اذن لے کر آئے گا اور کون اللہ سے تمھارا تعارف کروائے گاکہ یہ لوگ حضوؐرکے غلام بننا چاہتے ہیں ، تیری محبت چاہتے ہیں تجھ سے تعلق جوڑنا چاہتے ہیں ۔اللہ کی عدالت میں امام مہدی انسانوں کے وکیل بن کر آئیں گے اور انسانوں کا مقدمہ لڑیں گے کہ اے اللہ ! ان کے گناہوں کے باوجود ان کو اپنی محبت عطا کر دے ۔ اے اللہ ان کے گناہوں اوردائمی معصیت کے باوجود ان کو اپنا قرب عطا کر دے ، ولایت عطا کر دے یہ وکالت امام مہدی انجام دیں گے ۔ مہدیت کے کتنے دعوے دار ایسے آئے ہیں جن کو اللہ کی بارگاہ میں وکیل تسلیم کیا جا سکتا ہے ، کونسا عالم یا صوفی اسکالر ایسا آیا ہے جو اللہ کی بارگاہ میں بھٹکتے ہوئے انسانوں کی وکالت کرے اور اس کو اللہ کے قریب کر دے ۔ اگر وکالت نہیں کر سکتے اللہ کی بارگاہ میں تو پھر تمھارا سارا علم ، علم حجت ہے علم نافع نہیں ہے ۔ سرکار گوھر شاہی کے عقیدت مندوں میں ہزاروں لوگ ایسے ہیں جو یہ نہیں جانتے کہ امام مہدی کی پشت پر مہر مہدیت ہو گی لیکن پھر وہ بھی وہ دل و جان سے سرکار گوھر شاہی کو امام مہدی مانتے ہیں ۔ اتنے گناہوں کے باوجود ، شرابی ہونے کے باوجودان کو ایسی نسبت الہی عطا فرمائی کہ شراب بھی چھوٹ گئی ، دنیا بھی چھوٹ گئی اور وہ اللہ والے ہو گئے ، اُن کی زندگیاں تبدیل ہو گئیں ، کردار تبدیل ہو گیا اور اچھائیوں سے محبت ہو گئی ۔

“سرکار گوھر شاہی نے محبت الہی کا یزدانی نسخہ عطا فرمایا ہے اور امر بالمعروف ونہی عن المنکر چھوٹا چھوٹا سب کے دل میں ڈال دیا ۔ امر بالمعروف ونہی عن المنکر اسم ذات ہے جب وہ دل کی دھڑکنوں میں گونجنا شروع ہوا اور اُس سے نور بن کر نسوں میں گیا تو اللہ کے نور نے اُن کو اچھائی کی طرف گھسیٹ لیا اور برائی سے روک دیا ۔ اسی کو نور کی ہدایت کہتے ہیں اور یہ ہدایت اس کو ملتی ہے جسے رب چاہتا ہے ۔اب لوگوں نے ڈھونڈا تو کہیں سے یہ ہدایت نہیں ملی اور جب سیدنا گوھر شاہی کی چوکھٹ پر یہ ہدایت ملی تو وہ سمجھ گئے یہ در امام مہدی کے علاوہ کسی اور کا نہیں ہو سکتا “

مندرجہ بالا متن نمائندہ گوھر شاہی عزت مآب سیدی یونس الگوھر سے 16 مارچ 2018 کو یو ٹیوب لائیو سیشن میں کئے گئے سوال کے جواب سے ماخوذ کیا گیاہے ۔

متعلقہ پوسٹس

دوست کے سا تھ شئیر کریں