کیٹیگری: مضامین

ابدی زندگی میں تبدیلی انسان کی اُمید کو باندھ کر رکھتی ہے:

اب یہ جو دور آیا ہے جس میں سیدنا گوھرشاھی تشریف لائے ہیں اور آپ کی تعلیم و شخصیت جو نظر آئی ہے ، آپ کی جو ادائیں ہیں انسانوں کو درجہِ کمال پر پہنچانے کی، جن انسانوں کو کوئی منہ نہیں لگاتا اُن کو اپنے سائے میں لینے کی جو ادائیں ہیں اِن اداؤں سے ایسی اُمید بندھ گئی ہے کہ اب جی چاہتا ہے کہ لوگوں کو پریشان کریں اور حقیقت سے اُن کی آنکھیں کھلیں ۔ اب یہ ساری روحانیت کی باتیں ایک طرف ،قلب کا بھی جاری ہونابھی ایک طرف ، فرض کیا کہ ایک آدمی کا قلب جاری نہیں ہوا وہ غلام بن کے جنت میں پہنچ گیا اور ایک آدمی ایسا ہے جس کے ساتوں لطیفے جاری ہوگئے اور وہ بہت کچھ ہوگیا وہ بھی جنت میں، اب دونوں میں فرق کیا ہوگا؟ ایک جو ہے غلامی کر رہا ہے تودوسرا عیاشی کررہا ہے۔ نہ غلامی کرنے والے کے پاس رب ہے، نہ عیاشی کرنے والے کے پاس رب ہے۔ انعامات جو دئیے گئے ہیں وہ حوروں اور محلات کی صورت میں دئیےگئے ہیں۔ لوگ تو ابدی زندگی کو بڑا لطف کے ساتھ بیان کرتے ہیں کہ کبھی نہیں مرنا ہوگا۔ موت کی جو خبر ہے وہ بڑی دل آویز ہے کہ مرنا ہے ، اس دنیا سے جان چھوٹ جائے گی ، یہ دائیں بائیں غیر حقیقی رشتے ،یہ آگے پیچھے غیر حقیقی ذمہ داریاں اِن سے جان چھوٹ جائے گی۔ آگے جانا ہے تبدیلی آئے گی ، موت انسان کی اُمید کو باندھ کر رکھتی ہے لیکن اگر آپ ایک ہی حال پر ساکت ہوجائیں اورہمیشہ کے لئے تبدیلی ہی نہ آئے تو پھر کیا ہو گا!!!

انسان سیماب صفت اور تبدیلی کا خوگر ہے:

کیا آپ جانتے ہیں ہمیشگی کیا ہوتی ہے؟اللہ نے آپ کوجنت میں ستّر حوریں اور محل بنا کر دے دیاکہ اب اس میں رہتے ہو ، ہمار تو خیال ہے کہ انسان اس سے بہت جلد اُکتا جائے گا۔ مثال کے طور پر جب آپ کوئی نئی چیز آن لائن آڈر کرتے ہیں تو بہت خوش ہوتے ہیں ، بار بار چیک کرتے رہتے ہیں کہ کب آئے گااور جب وہ آڈر آ جاتا ہے تو پھر کچھ ہی دنوں میں اُس سے دل بھر جاتا ہے ۔ جیسے شادی کی بات کر لیں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کو شادی سے پہلے بڑی خوشی ہوتی ہوگی چند دنوں تک بیوی معشوقا نظر آتی ہوگی ہنی مون میں ہر جگہ جاتے ہیں ،جیسے جیسے عرصہ گزرتا ہے تو وہ اُس کا سحر چلا جاتا ہے ۔ انسان کی فطرت میں تغیر اور تحیر واقع ہوا ہے اور روحانیت تو یہ کہتی ہے کہ یہ تغیر اور تحیر انسان کی زندگی میں اُس کے قلب اُس کے دل کی وجہ سے ہے کیونکہ جو لفظ قلب ہے اس کا مطلب ہی “تبدیل ہونا” ہے۔ کچھ قلب پُر سکون رہنے کے عادی ہوتے ہیں یعنی اُن میں تبدیلی کا جو مزاج ہے طلون مزاجی جو ہے شدت کے ساتھ واقع نہیں ہوتی لیکن کچھ قلب ایسے ہیں کہ جن کو سیماب صفت کہا جاتا ہے۔ ہر وقت بے کلی، ہر وقت بے چینی ۔منور ہوگیا دل، رب کا نام آگیا ، نور آگیا ،منزل پر پہنچ گئے پھر بھی ایک ان دیکھی، ایک ان سنی منزل کی جانب رواں دواں ہے مضطرب رہتا ہے ، سیماب صفت ہے تبدیلی کا خوگر ہے ۔ ان تمام عناصرِ فطرت کے ساتھ کیا آپ ابدی زندگی میں خوش رہ پائیں گے؟ روحانیت کے ذریعے ،مذہب کے ذریعے اللہ کا ساتھ، اللہ کی محبت، اللہ کا قرب یہ سب اس دنیا تک ہی ہے۔
جنت میں جانے کے بعد دو جنتیں ایسی ہیں کہ جہاں پر ایک مخصوص انداز اور مقررہ وقت کے ساتھ اللہ کا دیدار ہوگا ۔ تو دو جنتوں میں ایک دار النعیم اور ایک جنت الفردوس ہے۔ جنت الفردوس میں جب اللہ اپنا دیداردے گا اس کے بعد حوروں کو غفلت کے لئے بھیج دیا جائے گا۔ پھر ستر ہزار سال بعد اُن کے گلے میں ایک لاکٹ ہوگا جس کو دیکھ کر انھیں یاد آئے گا کہ ہمیں اللہ کا دیدار کرنا ہےاور یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہے گا۔ چھٹے درجے کی جنت دار النعیم میں انبیاءکرام ہوں گے، صالحیین ہوں گے اور وہ دیدارِ الہی ایسا ہوگا جیسے اب ایک آپ لوگ یہاں بیٹھ کے سن رہے ہیں باتیں اور یہ کیمرے کے ذریعے یو ٹیوب پر جارہا ہے کچھ لوگ وہاں پہ بیٹھ کے سن رہے ہیں ۔ تو جنت الفردوس میں دیدار ایسے ہوگا جیسے آپ سامنے بیٹھ کے سن رہے ہیں اور دارالنعیم میں دیدار ایسے ہوگا جیسے ٹی وی پہ رب کو دیکھ رہے ہیں اتنا فرق ہے ۔ لیکن جو باقی پانچ جنتیں ہیں اُن میں کوئی دیدار الہی نہیں ہے بس حوریں ہی ہیں اور محلات کی باتیں ، اب یہ ہے آپ کی انتہا!!

لیکن اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ میری جو فطرت ہے ،میرا جو مزاج ہے وہ اس رہن کا قائل نہیں ہے کہ میں ساری زندگی نفس کُشی میں گزار دوں ،ساری زندگی میں اپنی ذات کی نفی کرتا رہوں ،ہر قسم کی آسانی ،ہر قسم کی عیاشی اور تمام ممنوعات کو ترک کردوں، شراب کو بھی ہاتھ نہ لگاؤں ، حرام کام بھی نہ کروں ، عورتوں میں سکون تلاش نہ کروں، پیسے میں فخر تلاش نہ کروں ،بڑے بڑے مکان بنا کہ اُن پہ فخر محسوس نہ کروں ا ور پھر اس کے نتیجے میں بلکل آخر میں جنت میں جاؤں تو جو کچھ بھی مجھے میسر آئے وہ وہی ہو جس کو میں چھوڑ کے آیا ہوں ۔ تو پھر وہاں جا کر کیا آپ کو آپ کی فطرت ،آپ کا مزاج کوسے گا نہیں، یہ کیا ہے کہ ساری زندگی جو اللہ اللہ آپ نے کیا، اُ سکا اجرحوروں اور محلات کی صورت میں ملا ہے؟”

بزرگان دین نے بھی اللہ کی ذات کے لئے بے لوث محبت کی:

ابو بکر شبلی ایک بزرگ گزرے ہیں جنید بغدادی رحمتہ اللہ علیہ کے انتہائی خاص مریدوں میں سے ایک مرید تھے اُن کی سلطنت کا نام نہاون تھا ۔ رب کی تلاش میں نکلے تو جنید بغدادی کے پاس پہنچے کہا کہ بیعت کرلیں انہوں نے کہا ابھی تو بیعت نہیں کروں گا جس جگہ تم بادشاہ تھے اس جگہ جاکر تم ایک سال بھیک مانگو ، ابوبکر شبلی چلے گئے بھیک مانگی ایک سال لیکن دل میں یہ بات تھی میں تو یہاں بادشاہ رہا ہوں مجھے تو بھیک آرام سے مل جائے گی اور لوگوں نے خوب دیا بھیک سمجھ کے نہیں دیا کہا کہ کوئی حکمت ہوگی بادشاہ سلامت آزما رہے ہیں۔ سال پورا ہوا جھٹ سے جنید بغدادی گئے کہ اب بیعت کرلیں ایک سال ہوا بھیک ما نگتے ہوئے جنید بغدادی نے کہا نہیں کوئی اثرہی نہیں ہوا ابھی اُمید ہے تیرے نفس میں کہ میں تو یہاں پر بادشاہ تھا ایک سال اور بھیک مانگو۔ ایک سال اور بھیک مانگی پھر دوبارہ بھیج دیا کہ کوئی تبدیلی نہیں آئی پھر دوبارہ تیسرے سال کیلئے بھیج دیا اب جب تیسرے سال کیلئے بھی بھیج دیا اب لوگ سمجھ گئے اب یہ بادشاہ نہیں ہے ختم ہوگئی کہانی، لوگ دھتکارنے لگے بڑا گہرا ثرہوا ، اتنا گہرا ثرہوا کہ وہ یہ سمجھ بیٹھے کہ بس یہی روحانیت ہے ذلیل و خوار ہوتے رہو ۔ پھر جنید بغدادی نےاُن کو بلا لیا، ان کا قلب جاری ہوگیا اور ذکر اللہ سے اتنی محبت ہوگئی کہ جب وہ بازاروں میں نکلتے تو لوگوں کو کہتے اللہ ھو ،اللہ ھو، اللہ ھو کرو اور جو اللہ ھو کرتا اُن کو وہ سونے کی اشرفیاں بانٹتے۔ تو ہوا یہ کہ جیسے ہی ابو بکر شبلی کو لوگ دیکھتے کہ آرہے ہیں وہ اللہ کا ذکر کرنا شروع کردیتے ایک دن تلوار لے کر آئے اور کہا کہ اب کسی نے اگر سونے کی خاطر ، دنیا کی خاطر اللہ اللہ کی تو میں اُس کی گردن اُتار دوں گا ۔معلوم یہ ہوا کہ وہ یہ سمجھتے تھے کہ لوگ جو ہیں اللہ کی خاطر اللہ اللہ کرتے ہیں جب اِن کو پتہ چلا کہ یہ تو پیسے کی خاطر اللہ اللہ کر رہے ہیں تو اُن کو جلال آگیا لیکن اگر ابو بکر شبلی جب یومِ محشر میں آپ کھڑے ہوں گے اور بہت خوش ہوں گے کہ آپ تو اِس دنیا میں ولی تھے ، آپ نے تو بہت اللہ کا قرب کما لیا، آج تو آپ سرخرو ہوں گے آپ تو فلاح پانے والوں میں سے ہیں ا للہ کے دوست بن گئے ہیں اور پھر یہ معلوم ہوگا کہ وہ جتنی بھی بے لوث محبت ،بے لوث ذکر کیا تھا اس کا نتیجہ وہی سونا اور چاندی کے محلات کی صورت میں ملا ہے تو مزا تو تب ہے شبلی صاحب کہ یہ تلوار وہاں بھی نکلے ۔یہ ولی دھمکیاں بڑی دیتے ہیں بیچارے کہ جلال آ گیا تو تہس اور نہس کردیں گے لیکن ہم یہ کہتے ہیں کہ جس کے پاس جلال ہے وہ ذرا ہمارے سامنے آئے ہم اُس کو بتا ئیں گے جلال کیا ہوتا ہے ۔ تلواریں لے کر آئےامر کن کی طا قت لے آئے ہم اُس کو آئینہ دکھائیں گے یہ کیا تم نے ساری زندگی اب یہ تمھیں ملے گا!!
یہاں پر تو تم بڑے پارسا تھے جس طرح وہ صابر پیا کلیری تھے زبردستی ماں کے کہنے پر شادی کرلی سہاگ رات جب آئی اور گھو نگٹ اٹھانے کیلئے اندر گئے تو روحانی کیفیت تبدیل ہوگئی اپنے بیڈ کے اوپر سجے بنے دیکھا تو پریشان ہو کر پوچھنے لگے تم کون ہو ؟ اُس نے کہا میں آپ کی بیوی ہوں اُن کو جلال آگیا اور کہا کہ اللہ کی کہاں بیوی ہوتی ہے گستاخ مار دیا اُسے ۔ یہ ہمارے بزرگانِ دین ہیں اللہ تعالی اِن کو جنت نصیب کرے ۔اب یہ جلال اگر وہاں یومِ محشر میں دکھائیں تو ہے مزا ، جس چیز سے منع کیا ہے اگر وہ غلط ہے تو اُس کو ثواب اور جزاکے طور پر کیوں دے رہے ہو ۔ کسی سے پیسہ مت مانگنا میں پیسے دوں گا، پیسہ نہ مانگنے کی جزا کیا ملی پیسہ۔ یہ ٹرینڈ اب تبدیل ہونا ہے اب اگر یہ ٹرینڈ تبدیل ہوجاتا ہے تو کیا اللہ تعالی جو ہے وہ مقابلے میں آئیں گے ؟ لیکن سوال یہ ہے اگر یہ ٹرینڈ نکل پڑے کہ یہاں کے ذہد اور یہاں جو کچھ ہم نے کیا ہے اُس کے بدلے میں رب چا ہیے ابھی تک یہ بات تو کہی جاتی رہی ہے کہ رب چاہیے جس طرح اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ جو دنیا کا طالب ہے طالب الدنیا مخنس، کہ دنیا کا جو طالب ہے وہ ھیجڑاہے ، طالب العقبٰی مؤنث اور جو آخرت طلب کرتا ہے وہ مثلِ عورت ہے ، طالبُ المولیٰ مذکر ، کہ مرد کا بچہ وہ ہے جو مولیٰ کا طالب ہو ۔ پھر یومِ محشر میں مولیٰ کے طالب کو ملا کیا، مولیٰ کا طالب یہیں زمین پر ہی تھاوہ اور جب جنت میں گیا تومولیٰ کے طالب نے حوروں کی گود میں لینڈ کیا۔

کیا رب کے طالبوں کو اللہ اپنے ساتھ عالم غیب لے کر جا سکتے ہیں ؟

اب یہ رجحان تبدیل ہو کہ رب وہ ہے جو یہ کہے آؤ رب کے طلب گاروں کس کو رب چاہیے؟ اور پھر کچھ لوگ نکل کے آئیں رب کی مانگ پوری کریں اور اُس مقام پر پہنچ جائیں اور پھر مرنے کے بعد جب رب مل گیا تو اب رب اُن کوساتھ رکھے۔ جہاں رب رہے وہاں وہ رہے , اب یہ ٹرینڈ نکل جائے۔ تو آپ کا کیا خیال ہے کہ پھر اللہ تعالی بھی کوئی ٹرینڈ چینج کریں گے کہ چلو بھئی جبرائیل جاؤ ہماری طرف سے بھی اسپیشل آفر لگا دو ؟ اب جو طالبِ مولیٰ ہوگا ہم اُس کو جنت میں نہیں بھیجیں گے ہم ایک خیمہ اُس کا عالمِ احدیت میں گاڑ دیں گے ان الله علی کل شی قدیر اللہ ہر چیز پر قادر ہے ۔ اللہ کا مسئلہ کیا ہے ؟ یومِ محشر میں ابھی تک یہ ٹرینڈ چلا نہیں ہے ابھی ہم اسکی بات چیت کر رہے ہیں پتا ہی نہیں ہے کسی کو۔ ابھی تک یہی ہے کہ اللہ میاں بہت خوش ہیں کہ جلدی جلدی یومِ محشر ہوگا جو جنت والے ہوں گے اُن کوجنت میں بھیج دیں گے اورجو دوزخ والے ہوں گے اُن کو دوزخ میں بھیج دیں گے اور پھر میں(اللہ) عالمِ غیب میں واپس چلا جاؤں گا۔سارے جھنجھٹ سے جان چھوٹ جائے گی یہ اللہ کا پلان ہے ۔ اب اللہ اس دنیا سے تنگ آگئے ہیں ،اب ان کو جلدی ہے کہ واپس جائیں وہ چھپے ہوئے خزانے سے نکل کے واپس آئے تھے اب وہ وہیں کنت کنزاً مخفیاً  میں واپس جانا چاہ رہے ہیں ۔
اب یہ ٹرینڈ ہم نے نکال دیا تو کام خراب ہوجائے گاکیونکہ اللہ تو اپنے ساتھ کسی کو نہیں رکھ سکتا۔اللہ نے ساری جنتیں عالمِ ملکوت میں بنائیں ہیں۔ اُس کے اوپر عالمِ جبروت ہے پھر بیچ میں خلاء ہے ،کچھ نہیں ہے بیچ میں جبرائیل پل کا کام کر رہے ہیں ۔ جبرائیل سریانی زبان کا لفظ ہے جبرائیل کا مطلب ہے جوڑنے والا ۔تین ذاتیہ اور تین کونیہ کے عالم ہیں اُن کے بیچ میں خلا ہے جس کو جوڑنے والا جبرائیل ہے ۔ اُس کے بعد عالمِ احدیت سب سے اوپر ہے جہاں پر اللہ تعالی اپنا تخت و تاج لئے بیٹھے ہوئے ہیں اور وہ اسی وقت تک ہے جب تک یوم محشر بپا نہیں ہو جاتا۔ جنتی جنت میں اورجہنمی جہنم میں نہ چلے جائیں گے ۔اللہ تعالی اُن سب کو مصروف کرکے عالمِ غیب میںکنت کنزاً مخفیاً  چھپے ہوئے خزانے میں پھر سے چلے جائیں گے اور کہیں گے جان چھوٹ گئی ۔ کیا میں نے پریشانی مول لے لی اور ہم یہ ٹرینڈ کی بات کر رہے ہیں بہت غصہ آرہا ہوگا ۔ اگر بات صرف اتنی ہی ہوتی کہ بات نکل گئی ہے دو چار خیمے لگا دیں گے عالمِ احدیت میں طالب المولیٰ کو اپنے پاس ہی بٹھائیں گے ۔ اگر اتنی ہی بات ہوتی تو پھر اُن کو عالمِ احدیت میں ہی رہنا پڑتا۔ کیسے رہیں گے وہ تو شغل میلا کرنے آئے تھے ، شغل میلا کرلیا اُنہوں نے اب وہ جانا چاہ رہے ہیں ۔یا تو کوئی ایسا پر دیسی آئے جو جب واپس جائے اپنے دیس ہم کو بھی لے کے جائے، لیکن وہ تو اکیلے اکیلے جا رہے ہیں لیکن سیدنا گوھرشاھی جو فرما رہے ہیں وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم تمھیں ساتھ رکھیں گے ۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ چھپے ہوئے خزانے سے اتنا بڑی اللہ کی جاگیر ملی ہوئی ہے دو چار ارب انسانوں کو لے جائیں گے مسئلہ کیا ہے لیکن نہیں ، ایسا کیوں؟ کیونکہ اللہ اس لیے نہیں جانا چاہیں گے کہ وہاں عالمِ غیب میں کسی انسان کو لے کر جا نہیں سکتے  فَقُلْ إِنَّمَا الْغَيْبُ لِلَّهِ  یہ قرآن شریف میں اللہ کا فرمانِ زیشان ہے۔ تو کہہ دینا یہ جو عالمِ غیب ہے اللہ کے واسطہ ہے انسان کیلئے نہیں ہے ۔ اب انسان غیر جنس ہے اور اللہ عالم غیب میں اپنے ساتھ لے کر نہیں جا سکتے تو سیدنا گوھر شاہی کیسے لے کر جائیں گے ؟

عالم غیب میں جانے کے لئے شرط ہے کہ اللہ زمین پر آئے:

سرکار گوھرشاھی نے اس کا جو ہے ایک یہ راستہ نکالا ہے کہ جسکوعالم غیب میں لےجانا ہے تواپنی ذات کا ایک عکس جیسا ہیولا ، وہ اِس دنیا میں انسان کے جسم میں ڈال دیں گے اور وہ عکس اندر جا کر اُس کی روح کو اپنے اندر مکس کرلے گا۔جیسےدودھ اور پتی دونوں الگ الگ ہیں لیکن جب ان دونوں کو ملا کر پکائیں تو چائے بن جاتی ہے ، اب دودھ میں سے پتی کو علیحدہ نہیں کیا جا سکتا ہے کیونکہ اب وہ چائے ہے۔بلکل اسی طرح جب انسان کی روح سیدنا گوھر شاہی کی ذات کے عکس میں محلول ہو جائے گی تو پھروہ عکس اس کی روح کو اپنے اندر مکس کر لے گا۔تو سیدنا گوھرشاھی نے یہ کیا کہ اپنے عکس کے اندر اُس کی روح کو ضم کردیااب وہ انسان نہیں رہا۔اب اللہ تعالی اگر کسی کو لے جانا چاہے تو اُس کو زمین پر آنا پڑے گااور اگر وہ زمین پہ آنا چاہیں تو اُن کا اپنا بنایا ہوا قانون انہیں روک دیتا ہے کہ کیونکہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ

قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ اللَّـهُ الصَّمَدُ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ
سورۃ الاخلاص آیت نمبر 1 تا 4
ترجمہ : کہہ دو کہ اللہ ایک ہے،وہ بے نیاز ہے،نہ اسےکسی نے جنا ہےاور نہ ہی اس کی کوئی اولاد ہے۔

نہ اُس نے کسی کو جنا، اب جنے نہیں جائیں گے تو زمین پر کیسے آئیں گے؟ اب یہ مسئلہ ہوگیا ایک طرف کتنی اچھی لگتی ہے یہ بات ٹھوک ٹھوک کے ہر جگہ لکھوا دیا توحید توحید۔ پورے جہان میں یہ باتیں بتانے کی کیا ضرورت تھی ،یہ پھیلا دیا ہمارے جیسا تو کوئی ہے ہی نہیں۔ ابھی عیسیٰ کو کہا خدا کا بیٹا ہے چلو یہاں سے تھوڑی بہت ڈھیل دے دیتا تو آنے کا کوئی سبب بن جاتا یا کوئی ایسی بات کہہ دیتا گول مٹول پورا قرآن بھرا ہوا ہے ایسی کوئی گول مال بات کردیتا توحید کے بارے میں کہ ہوبھی سکتا ہے اورنہیں بھی ہوسکتا ہے۔اس کے بجائے یہ کہہ دیا کہلَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ ، اب زمین پر کیسے آئیں گے خودہی انہوں نے پابندی لگا دی۔اب عیسیٰ علیہ السلام آگئے ہیں انہوں نے بھی کہا ہے کہ اپنے جہان میں لے کر جائیں گےکیونکہ وہ زمین پر آئے ہیں اوراتنی بڑی مشقت کی ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام نے بھی کہا میں تم کو خدا کے جہان میں لے جاؤں گا،ایسی جگہ لے جاؤں گا جہاں کوئی دل خواہش نہیں کرتا، کوئی آنکھ اس کا سپنا نہیں دیکھتی،کبھی کانوں نے اس جہان کے بارے میں نہیں سنا۔اب وہ جنت تو نہیں ہوسکتی جس جگہ کی عیسیٰ بات کررہے ہیں۔ جنت تو عیسیٰ کے آنے سے پہلے جو انبیاء آئے ہیں وہ اس کا نظارہ کر چکے ہیں ۔ عیسیٰ ضم کی بات ہی کر رہے ہیں۔گوسپل آف تھامس اٹھا کر پڑھ لیں ،ضم کی بات ہو رہی ہے اور عیسیٰ اپنے ساتھ اپنے جہان لے کر جائیں گے لیکن آپ لوگ نہیں جا سکتے کیونکہ آپ کے بنانے والے نے، آپ کے خالق نے کہہ دیا ہے لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْجنم والی با ت ہی نہیں ہو سکتی، اب جنم نہیں ہوگا تو نیچے بھی نہیں آسکتے۔

عیسیٰ نے بھی جنم کا طوق پہنا اور انسانیت کی بھلائی کو ترجیح دی:

باقی جو اللہ برادری کے لوگ آئے ہیں اُنہوں نے بھی جنم والا یہ طوق پہنا ہے ، اُنہوں نے بھی یہ برداشت کیا ہے ۔ اُن کی اسی بات کی وجہ سے ساری دنیا کہتی ہے اُن کی ماں نے جنا ہے اُن کو، تم کہتے ہو یہ خدا ہے ۔ تو یہ کتنی بڑی ذلت کی بات ہوگئی۔ لیکن کچھ ہستیوں نے اس ذلت کی بلکل پرواہ نہیں کی بلکہ انسانیت کی بھلائی کو ترجیح دی ۔ مخلوق کی بھلائی اُس نے سوچی جس نے اِس دنیا میں پیدا ہونے کا کلنک لگوایا ہے لیکن جن سے وفاداری نبھانی ہے ان سے وفاداری نبھائی ۔ اب زمین پر آگئے اُن کو ضم کر کے وہاں لے کر جائیں گے جس خفیہ خزانے سے اللہ آیا ہے ۔اب یہ ٹرینڈ کچھ بدلنے والا ہے ۔ انسانوں کے بارے میں ہی کہا جاتا ہے کہ بھئی تمھاری محبت جھوٹی ہے ،تمھارا عشق بھی جھوٹا ہے، تمھاری نمازیں بھی فراڈ ہیں، تمھارے روزے بھی بیکار ہیں اب یہ سوال ہوگا کہ آپ نے جو وعدے کئے ہیں ، آپ جو آفر پر لگا کہ بیٹھے ہیں جنتیں آپ نے جو بولا ہے طالبِ مولیٰ بنو اس میں کتنی سچائی ہے ذراثابت تو کریں ۔ چلیں ہم لوگوں کو طالب مولیٰ بناتے ہیں لیکن زرا یہ تو بتائیں جنت میں طالب مولیٰ کو کیا ملے گا؟ اگر طالبِ ِ مولیٰ کی بات کررہے ہو تو پھر اللہ کے ساتھ ہی رہنا ہے۔
اگر کوئی شوہر کسی گھر میں اکیلا رہے اور شادیاں کر کے بیگمات کو لائے اور اُن کو الگ گھر میں رکھے تو بیوی تو شکوہ کرے گی کہ مجھے اپنے ساتھ رکھو۔ بیوی سے تو سیکھ لو محبت کے راز ،ساتھ رہنا چاہتی ہے وہ اور تم جو ہے بندگی میں مرے جا رہے ہو ۔صبح سے شام تک جو ہے سجدے کیے جا رہے ہو، بھوکے مر رہے ہو ، رمضان میں قربانیوں کے بیل کاٹ رہے ہو، گائے کاٹ رہے ہو، طالبِ مولیٰ بھی بن رہے ہو ،جنگلوں میں بھی جا رہے ہو، کوئی36 سال جنگلوں میں رہا الٹا لٹک کے کنویں میں ، کوئی ہڈیوں کا ڈھانچا بن گیا ، کوئی ایک پاؤں پر کھڑے رہ کر پندرہ سال قرآن شریف پڑھتا رہا ، سب طالبِ ِ مولیٰ، سب عاشقِ الہی، سب فنا فی اللہ ہیں لیکن آخر میں ملے گا کیا تم کو؟ پوچھو تو سہی یہ جو کچھ کیا ہے ہم نے اور ہر مرحلے سے جو گزارا ہے اُس کے نتیجے میں ملے گا کیا؟ ہم طالب ِ مولیٰ ہیں ،مولیٰ ملے گا یا صرف وعدہ ِ مولیٰ ہے ۔ مولیٰ تو نہیں مل رہا ہے ۔ یہ ٹرینڈ سیٹ ہونا ہوگا اگر کسی کو مولیٰ والا بنایا ہے اُس نے محنتیں کی ہیں تو پھر مولیٰ اُس کو ساتھ رکھے اب یہ ڈیمانڈ ہوگی ہر عاشق کی ، اب یہ ڈیمانڈ ہونی چاہیے ہر فقیر کی، ہر درویش کی ۔
اے اللہ! اگر میرا مدعا تیری ذات ہے تو پھر تیری ذات مجھے دائمی طور پر ملنی چاہیے ۔مجھے حوروں پر نہ ٹرخاؤ ، مجھے محلات کے قصے نہ سناؤ میں آپ کو چاہتا ہوں میرے عشق کی انتہا دیکھ کیا چاہتا ہوں ، کہ میں آپ کا سامنا چاہتا ہوں ایک منٹ کیلئے آئے اورپھربھاگ گئے ، 70 ہزار سال بعد پھر آجائیں گے ۔

“اگر ابدی زندگی میں اچھائی تلاش کرنی ہے تو اُس کی اچھائی یہ ہے کہ ابدی طور پر لمحہ بہ لمحہ رب کی معیت میں اُس کے قرب میں اُس کی بانہوں میں زندگی گزرے تو ابدی زندگی اچھی ہوگی ۔ اگر رب سے دور ہے اور حوروں کے پاس پڑے ہوئے ہو تو لعنت ہے ایسی زندگی پر ، اِس پرقلم توڑ دیا “

مندرجہ بالا متن نمائندہ گوھر شاہی عزت ماب سیدی یونس الگوھر کی 3 ستمبر 2017 کی یوٹیوب پر کی گئی خصوصی گفتگو سے ماخوذ کیا گیا ہے ۔

متعلقہ پوسٹس

دوست کے سا تھ شئیر کریں