کیٹیگری: مضامین

کیا مراتب کا اعلان ضروری ہے؟

جو منجانب اللہ مراتب ملتے آئے ہیں اُن مراتب میں کونسے مرتبے ایسے ہیں کہ جنکا اعلان کرنا اُنکےلیئے ضروری ہے اورکونسے ایسے ہیں جن کا اعلان کرنا ضروری نہیں ہے بلکہ اُسکے برعکس اُن مرتبوں کو چھپایا جائے ۔دو مرتبے ایسے ہیں مرتبہ رسالت اور مرتبہ نبوت کہ جسکا اعلان کرنا ضروری ہے اور جب وہ اعلان کرتے تھے کہ وہ نبی ہیں یا وہ رسول ہیں تو اللہ کی طرف سے ان کی نبوت اور رسالت کی برھان اور نشانیاں بھی ہوتی تھیں اور وہ دکھانی بھی پڑتی تھیں کیونکہ آپ نے اعلان کیا ہے کہ آپ نبی ہیں رسول ہیں ،اور جتنے بھی رسول، نبی، پیغمبرآئے ہیں انہوں نے اپنی نبوت او رسالت کا اعلان کیا ہے اور ایسا کرنا ضروری ہے۔البتہ فقیراور اولیاء کویہ حکم ہوتا ہے کہ یہ اپنی ولایت کو چھپائیں ،بہت سارے اولیا ء اور فقراء ایسے آئے ہیں جن کی ولایت کا لوگوں کو تب پتاچلا جب انہوں نے کوئی روحانی سلسلہ قائم کیا جس سےیہ پتا چل گیا کہ یہ ولی تو ہے ۔
اب امام مہدی ؑ کا مقام کیا ہے اور امام مہدی ؑ کو اپنے امام مہدی ہونے کا اعلان کرنا ہے یا نہیں کرنا ہے اسکا جائزہ لینا ہو گا ۔امام مہدی ؑ نبی نہیں ہیں ،رسول بھی نہیں ہیں ،آخری رسول آخری نبی محمد ﷺ ہو گزرے ہیں آپ پر رسالت اور نبوت کا اختتام ہو چکا ہے ۔آپ ؐ کے بعد ولایت چلتی آئی ہے ہزاروں لاکھوں ولی اِس دنیا میں ہوئے اور حلقہ ہائے روحانیہ میں یہ جمہور قائم ہے کہ امام مہدی ؑ پر اسطرح ولایت ختم ہو جائے گی جسطرح حضور ﷺ پر نبوت و رسالت ختم ہوگئی۔ دنیا میں دیکھا جائے تو بہ نسبت انبیاء ، اولیاء کرام کو زیادہ محنت کرنی پڑی کیونکہ جو انبیا اور مرسلین آئے ہیں انہوں نے شریعت کو نافذ کیا اور جو دل والا علم تھا وہ انکے ولیوں کے ذریعے پھیلا تو محنت زیادہ اولیاء نے کی۔امام مہدی ؑ جو ہیں نہ نبی ہیں نہ رسول ہیں ولایت اُن پر ختم ہو گئی ہے اب یہ تکنیکی بات ہے  تو اسکی روشنی میں اب آپ کو یہ سمجھنا ہے کہ امام مہدی نہ رسول ہیں نہ نبی ہیں تو آپ پابند نہیں ہیں کہ آپ اپنے مہدی ہونے کا اعلان فرمائیں ،کہہ دیں تو ٹھیک ہے اور نہ کہیں تو بھی ٹھیک ہے ۔
روایتوں میں اور احادیث میں یہ آیا ہے کہ امام مہدی اپنے امام مہدی ہونے کا اعلان نہیں کریں گے اگر ہر حالت میں اعلان کرنا ہوتا تو پیش گوئیوں میں روایات میں یہ بات نہ ہوتی کہ اعلان نہیں کریں گے ۔اب یہ امام مہدی ؑ کے اوپر ہےکہ وہ اعلان کریں یا نہ کریں ۔اگر اعلان کر دیں تو کوئی غلط بات نہیں اور نہ کریں تو قانون کی جو پاسداری ہے وہ بھی قائم رہتی ہے اسمیں بھی کوئی جھول نہیں آتا لیکن غالب گمان یہ ہے روایات کی روشنی میں کہ امام مہدی ؑ کسی بھی وجہ سے حکمت کے تحت یا قانونی بندشوں کے باعث اپنے امام مہدی ہونے کا اعلان نہیں فرمائیں گے ۔اب یہاں ایک اشکال یہ پیدا ہو جاتا ہے کہ نبی ایک قوم کےلیے آتا ہے، رسول ایک قوم کے لیئے آتا ہے ہدایت پوری قوم کو ملنی ہوتی ہے لہذا اُسکو اعلان کرنا پڑتا ہے اور جو ولی ہے ،ولی تو ایک زمانے میں درجنوں ہوتے رہے ہیں وہ پوری قوم کےلیئےنہیں آتے ایک گروہ کے لئے آتے ہیں ۔کسی کے دس مرید ہو گئے کسی کے پچاس ہوگئے کسی کے دوسو ہوگئے زیادہ تیر مار لیا تو کسی کے ہزار ہوگئے لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا کہ پوری قوم نےکسی ایک ولی کے ہاتھ پربیعت کی ہو ۔تو ایک گروہ کے لئے آئے ہیں اور اگر کسی کو نہ بھی پتا چلے تو کوئی مذائقہ نہیں ہے لیکن امام مہدی پوری انسانیت کے لیئے آئے ہیں۔ کوئی قوم کسی نبی یا رسول کے فیض سے محروم نہ رہ جائے لہذا نبی اور رسول کو اعلان کرنا پڑتا تھا۔ اب کیا ہو گا اب ماجرا یہ ہے کہ پوری قوم کا ایمان وابستہ تھا اُس نبی اُس رسول سے لہذا اُن کو اعلان کرنا پڑتا تھا لیکن اب یہاں قوم نہیں بلکہ اقوامِ عالم ہیں لیکن جس نے ان کو ہدایت دینی ہے نہ وہ نبی ہے نہ وہ رسول ہے اور نہ وہ اعلان کرنے کا پابند ہے ۔تو اب یہ کام کس نے کرنا ہےیہ اعلان کس نے کرنا ہے دنیا کو کس نے بتانا ہے ؟ ولی اور پیر تو گلی محلے کا ہوتا ہے نہ بھی اعلان کرے تو اُس گلی میں آنے جانے والے اُس کی سرگرمیوں کودیکھتے رہتے ہیں پتا چل جاتا ہے ۔لیکن امام مہدی پوری دنیا کے لیئے ہیں اور اگر امام مہدی کسی ایک شہر میں بیٹھے رہیں گے اور پھر ان کے مرتبہ مہدی کو دنیا تک پہنچانے کےلیے کوئی زریعہ بھی نہیں ہو گا تو امام مہدی کے دنیا میں آنے کا مقصد تو فوت ہو جائے گا ۔

امام مہدی پوری انسانیت کے لئے تشریف لائیں گے:

اب یہاں پر مشکل جو پیدا ہو گئی ہے وہ یہ ہے کہ امام مہدی کا کام سارے نبیوں سے مشکل ہے کیونکہ نبی ایک قوم کےلیئے آتا ہے اور مہدی ؑ کو پوری انسانیت کے لیئے بھیجا ہے اب پوری انسانیت کو یہ باور کراناکہ یہ ذات امام مہدی ہے ۔  اسکے اندر یہ ڈیوٹی کس کی ہے کہ امام مہدی خاموش بیٹھے رہیں اور پوری دنیا کو پتا چل جائے کہ یہ امام مہدی ہیں ۔اب یہ ڈیوٹی آدھی اللہ نے اپنے پاس رکھی اور آدھی جو ہے ان لوگوں کے کاندھوں پہ ڈال دی جو امام مہدی کے فیض یافتہ ہیں کہ اُنہوں نے اس بات کو آگے بڑھانا ہے کہ یہ ذات امام مہدی ہیں ۔اب اللہ کی نشانیاں ہیں ،ان نشانیوں کی روشنی میں دنیا امام مہدی کو پہچانے گی لیکن ان نشانیوں کو بتانے ولا بھی تو کوئی ہو گا،اگر کوئی نہیں ہوگا کوئی انفارمیشن،کوئی اطلاع نہیں ہوگی تو دنیا کا دھیان ہی نہیں جائے گا ان نشانیوں کی طرف لہذا امام مہدی ؑ کے تربیت یافتہ کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو اُن نشانیوں کی خبر رکھتے ہوں گے ،اما م مہدی سے فیض یافتہ ہوں گے، امام مہدی کے مزاج سے واقف ہوں گے اور پھر اُنکے پاس ایسا کوئی ثبوت بھی ہو گا کہ وہ دنیا کو جب بتائیں گے کہ فلاں ذات امام مہدی ہے تو اپنے اُس اعلان کو سچا ثابت کر بھی سکیں ۔اور جو منجانب اللہ مقام اور مرتبہ عطا ہوتا ہے اُسکا سب سے بڑا جو حق ہے وہ یہ ہے کہ جو اللہ کی جانب سے مقرر کیا جاتا ہے وہ ہی انسانوں کو اللہ سے ملاتا ہے،اب ہر انسان اپنے بارے میں اچھے اچھے دعوے کرتا ہے کہ جی میں بڑا پڑھا لکھا ہوں بھلے اسکو الف ب بھی لکھنا نہ آئے تو اب کس کے پاس اتنا وقت ہے کے آپ کے دعوؤں کی چھان بین کر کے لوگوں کو سچائی بتائے ۔لیکن اگر کوئی ایسا دعویٰ کرے کہ جس سے انسانوں کا ایمان وابستہ ہے اسکی چھان بین کرنا ضروری ہے ۔لہذا جو امام مہدی کےتربیت یافتہ لوگ ہوں گےجب وہ یہ کہیں گے کہ فلاں ذات امام مہدی ہے تو انکے پاس کوئی ایسی طاقت بھی ہو گی کہ وہ دنیا پر یہ حق آشکارا کر دیں۔امام مہدی ؑ کا جواولین مقصد ہےوہ دنیا کو اللہ سے واصل کر نا ہے بھلے آپ کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو کیونکہ کوئی بھی مذہب اللہ سے بڑا نہیں ہے ۔اگر آج کا مسلمان یہ سمجھتا ہے کہ کوئی مذہب بشمول دین اسلام اللہ سے بڑا ہے تو پھر اُسکو اپنے ایمان پراِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھ لینا چاہیے کیونکہ کوئی بھی دین کوئی بھی مذہب اللہ سے بڑا نہیں ہے ،بڑے افسوس کی بات ہے کہ بہت سے مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہے اس دور میں کہ اسلام سے باہر اگر کسی کو اللہ ملتا ہے تو یہ حرام ہے۔ یاد رکھیں جتنے بھی دین اِس دنیا میں قائم ہوئے، جتنے بھی مذاہب اِس دنیا میں قائم ہوئے تمام ادیان ،تمام مذاہب کا مقصد اولین یہ تھا کہ انسانوں کا تعلق اللہ سے جڑ جائے تو مذہب اور دین ذریعہ ہےلیکن منزل اللہ کی ذات ہے ۔ذریعہ کوئی بھی ہو منزل پر نظر رکھتے ہیں اور جب مسلمانوں کے سینوں سے نور نکل گیا تو انکا دماغ بھی خراب ہو گیا اب انہوں نے اللہ کو بھلا دیا ہے ،شیعہ ،سنی ،وہابی ،دیوبندی یہ یاد ہے ان کو۔

احمدیوں کا قرآن میں پیدا کیا گیا اشکال:

اب یہ دیکھتے ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب جو تھےان کو لوگ امام مہدی کیوں مانتے ہیں؟کیا مرزا غلام احمد قادیانی خاموش تھے؟ کیا لوگوں نے خودبخود اُنکی تعلیم سے پہچانا کہ وہ مہدی ہیں ؟نہیں،انکی تعلیم کوئی ایسی تو نہیں ہے جو مختلف ہو،وہی نمازیں ،وہی روزہ ،وہی حج،وہی زکوٰۃ۔اگر کوئی مرزا غلام احمد قادیانی کا ماننے والا شرق سے غرب تک آکر میرے سامنے کھڑا ہو جائے اور مجھ سے یہ کہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے مجھے اللہ کا دیدار کرایا ہے تو میں اپنا سر کٹا دوں گا یا کوئی ایک شخص آکریہ کہہ دے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے میرے قلب کو اسم ذات اللہ کے ذکر سے دائمی طور پر آباد کر دیا ہے اور ابھی تک میرے قلب کی دھڑکنیں اللہ ھو ،اللہ ھو، اللہ ھو کرتی ہیں ۔امام مہدی ؑ تمام فرقوں کو ختم کر کے، تمام مذاہب کو ختم کر کے ،تمام امتوں کو ختم کر کے پوری انسانیت کو امتِ واحدہ میں منقسم کرنے آئے ہیں ۔ہر دل اللہ کے نور سے پرویا جائے گا تو امت واحدہ کا تصور اُبھرے گا ۔علامہ اقبال نے امام مہدی کی تعلیم کے حوالے سے یہ کہا ہے کہ
دنیا کو ہے اس مہدی بر حق کی ضرورت ۔۔۔۔ہو جسکی نظر زلزلہ عالم افکار
کہ دنیا میں جتنے بھی مذاہب اور انکی تعلیم مروج ہے امام مہدی کی تعلیم ایسی نیاری ہو گی کہ دنیا کی تعلیم اسکے آگے لرزہ براندام ہو گی ۔خانقاہوں ،میں مدرسوں میں، مساجد میں زلزلہ آجائے گا کہ اب تو نہ کعبے کی ضرورت رہی ،اب نہ مساجدکی ضرورت رہی اب نہ خانقاہ کی ضرورت رہی ،اب تو وہ ذات آگئی ہے کہ جنکی نظروں سے دل کعبہ نہیں عرش الہی بن رہا ہے ،اب تو وہ ذات آگئی ہے کہ جسکی نظروں سے روح صرف ایک سفید دھواں نہیں بلکہ اب اُس میں اللہ کا عکس نظر آرہا ہے اب اُس میں جلوہ آگیا ہے ،امام مہدی کی تعلیم تو ایسی ہو گی ۔ مرزا غلام احمد قادیانی کی تعلیم کیا ہے؟ بہت سارے معاملات کے اوپر جھوٹ سے کام لیا گیا ہے ۔اپنے مرتبہ مہدی کو دنیا کی نظر میں سچا ثابت کرنے کے لیئے چالاک لومڑی کا کردار ادا کیا گیا ہے۔قرآن مجید میں واضح طور پہ آچکا ہے کہ عیسی ؑ کو نہ قتل کیا گیا تھا نہ مصلوب کیا گیا تھا بلکہ اللہ نے اُن کو جسم سمیت اپنی طرف اٹھا لیا اور پھر یہ بھی لکھا ہے کہ جو اللہ کے اِس قول میں اختلاف رکھتے ہیں اُنہوں نے اپنے گمان کی پیروی کی ہے تو مرزا غلام احمد قادیانی نے بہت بڑا دھچکاقرآن مجید کو لگایا ،

وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ اللَّـهِ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَـٰكِن شُبِّهَ لَهُمْ ۚ وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِيهِ لَفِي شَكٍّ مِّنْهُ ۚ مَا لَهُم بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ ۚ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينًا
سورۃ النساء آیت نمبر 157
ترجمہ : اور ان کے اس کہنے پر کہ ہم نے مسیح عیسیٰ مریم کے بیٹے کو قتل کیا جو الله کا رسول تھا حالانکہ انہوں نے نہ اسے قتل کیا اور نہ سولی پر چڑھایا لیکن ان کو اشتباہ ہو گیا اورجن لوگوں نے اس کے بارے میں اختلاف کیا ہے وہ بھی دراصل شک میں مبتلا ہیں ان کے پا س بھی اس معاملہ میں کوئی یقین نہیں ہے محض گمان ہی کی پیروی ہے انہوں نے یقیناً مسیح کو قتل نہیں کیا۔

جب صاف صاف قرآن کی نص قطعی سے ثابت ہے ،ن ص نص،ایک تو نس جسم والی ہوتی ہے ،قرآن کی نص قطعی کیا ہوتی ہے ،قرآن میں کچھ آیات ایسی ہیں جنکو مشتہیبات کہا جاتا ہے کہ اُن میں اعضاء کا ذکر ہے ،چہرے کا ذکر ہے ،ٹانگوں کا ذکر ہے علماء کا یہ خیال ہے کہ یہ جو ٹانگوں کا زبان کا ہاتھ کا ذکر ہے اسکے اندر اللہ تعالی نے تشبیہات دی ہیں اسکے اندر الفاظ کچھ اور ہیں معنی نے کچھ اور ہیں یعنی بات جو ہے وہ اتنی آسان نہیں ہے سمجھنا ذومعنی ہے۔اور قرآن کی نص اُن آیات کو کہا جاتا ہے جو بالکل صاف ستھری جسکے دو معنی نہیں ہیں جو لکھا ہے وہی مطلب ہے ۔اب جیسے یہ ذومعنی بات ہے کہ

قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ
سورۃ فصلت آیت نمبر 6

یعنی اگر آپ یہ کہیں کہ اسکا کیا مطلب لیا جا سکتا ہے تو آپ کہہ سکتے ہیں کہ کہہ دو ،بات کہنے کی ہو رہی ہے یہ نہیں کہ یہ حق بھی ہے ،جسکو جاننا ہو گا حقیقت وہ جان لے گا آپ کہہ دیںقُلْکہہ دو إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌکہ میں ہاں بشر ہوں مِّثْلُكُمْتمہارے لیئے مثال کے طور پر ۔اب یہ ذو معنی بات ہے جتنا آپ اِس کو کھودیں گے اتنے ہی اِسکے معنی نکلیں گے ۔کچھ آیتیں دلدل کی مانند ہیں جتنا آپ کھودیں گے اُتنا ہی نیچے جائیں گے ۔کچھ آیتیں ایسی بھی ہیں جنکا جواب نہ شیعاؤں کے پاس ،جنکا جواب نہ سُنیوں کے پاس، جنکا جواب نہ احمدیوں کے پاس ہے۔ جیسا کہ پوری دنیا کہتی ہے کہ اللہ کے علاہ کوئی اور رازق ہی نہیں ہے لیکن قرآن کہتا ہے ’’ واللہ خیر الرازقین‘‘ کہ رازق اور بھی ہیں لیکن اللہ سب سے بہتر رازق ہے۔آ پ کوئی بھی ہیں لیکن آپ کو کہنا پڑے گا کہ ہاں بقول قرآن اور بھی رازق ہیں پر اللہ بہتر رازق ہے ۔اور اگرآپ یہ کہیں گے کہ نہیں جی یہ غلط ہے ایک رازق ہے اور وہ اللہ ہے تو آپ قرآن کو جھٹلائیں گے لہذا اِسکا مطلب یہ ہے کہ آپ کے پاس اِسکا جواب نہیں ہے ،اب چونکہ جواب نہیں ہے تو آپ اس کو آیات تشبیہات میں ڈالتے ہیں ۔لیکن کچھ آیتیں ایسی ہیں کہ ان کے جو معنی ہے وہی لفظ میں مطلب نکھر کے آتا ہے ۔اور یہ آیتومَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ اب اس میں اور کیا مطلب ہو گا کہ انکو قتل کہاں کیا ۔یہ قرآن کا مزاج ہے کہ جب وہ کسی چیز کی نفی کرتا ہے تو سوالاکرتا ہے ۔لیکن احمدیوں نے اِسکو بگاڑ کرقرآن میں ایک بہت بڑا اشکال پیدا کر دیا۔

احمدیوں کادوسرا اشکال یہ دعویٰ کہ میں ہی مہدی اور عیسیٰ ہوں:

دوسرا اشکال یہ دعویٰ کر کے پیدا کیا کہ میں ہی مہدی ہوں اور میں ہی عیسی ہوں ۔،مہدی بھی اور عیسی بھی اور پتا نہیں کیا کیا خود کو بنا دیا۔اگر اُن سے یہ پوچھیں یہ ایک روحانی اور ایک دینی سوال ہے ،اگر مرزا غلام احمد قادیانی کے جو خلیفہ صاحب ہیں منصور صاحب اگر ان سے یہ پوچھیں کہ اگر مرزا صاحب میں انکی اپنی روح بھی موجود ہے اور عیسی کی روح بھی آگئی ہے تو ان کے جسموں میں جو طاقت کام کر رہی ہے وہ اُن کے اپنے جسموں پر مبنی ہے یا عیسی کی روح پر مبنی ہے یا دونوں اکٹھی وہ کام کر رہی ہیں ۔اور جب ان کا انتقال ہوا تھا تو وہ مرے تھے ان کے اندر یا عیسیٰ مرے تھے یا دونوں کو یکلخت موت آئی ایک ہی وقت موت آئی ؟ کیا ایسا ہوا تھا؟ کیا مرزا غلام احمد قادیانی کے جو خلیفہ صاحب ہیں انکے پاس یہ طاقت ہے کہ وہ روحانی طور پر ملک الموت سےدم ملا کر پوچھیں کہ جب انہوں نے مرزا صاحب کی روح کو قبض کیا تھا تو کیا پہلے ان کی روح کو قبض کیا تھا انکے جسم سے یا عیسی ؑ کی روح کو قبض کیا تھا انکے جسم  سے ۔ اور پھر دوسرا یہ بھی پوچھیں کہ جب ملک الموت آئے تھے تو کیا اُن سے اجازت لی تھی روح قبض کرنے کی بھئی آپ اگر مرزا غلام احمد قادیانی کو امام مہدی مانتے ہیں اور آپ خلیفہ ہیں تو کم سے کم جبرائیل کو چھوڑیں ملک الموت سے توآپ کی جان پہچان ہوگی کیونکہ ہم نے یہ سنا ہے روحانی دنیا میں کہ اگر کوئی دنیا میں کامل ہو تو کسی مومن کی روح کو قبض کرنے سے پہلے ملک الموت اُس دور کے کامل سے سلام کرتا ہے قدم بوسی کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ اے کامل ذات! آج میں اُس مومن کی روح کو قبض کرنے آیا ہوں یہی وجہ تھی کہ کاملین نے ہر دور میں اگر کسی مومن کا وقت آگیا تو دو چار دن پہلے ہی اُنکو اشارے دے دیتے تھے کہ جی تمہارا وقت آنے والا ہے ۔شیر وانی پہن لینے سے آدمی مقدس نہیں ہوتا سفید سفید خوبصورت بالوں والی داڑھی اُگانے سے انسان کا سینہ صاف نہیں ہوتا، ٹوپی پہننے سے انسان کا تعلق رب سے نہیں جڑتا ،جھوٹی کہانیاں بنانے سے کوئی مہدی نہیں بنتا،افریقہ جا کر دوسرے براعظموں میں جا کر غلط اسلام کی تشریحات بیان کرکےلوگوں کواحمدی بنانا یہ کرامات نہیں بلکہ گمراہی ہے ۔اگر تم حق پر ہو تو کسی ایک انسان کے سینے کو اللہ کے نا م سے منور کر کے دکھاؤ،اگر تم حق پر ہو تو کسی ایک انسان کو اللہ سے واصل کر کے دکھاؤجس نے اللہ کو دیکھا ہو اور پھر وہ گواہی دے کہ ہاں میں نے اللہ کو دیکھا ہے ۔اور یہ جان بوجھ کر کے کہے کہ لعنت اللہ علی الکاذبین، کہ جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ہو جو کچھ کہہ رہا ہوں سچ کہہ رہا ہو ں کہ میں نے اللہ کو دیکھا ہے اور جب وہ یہ کہہ دے کہ میں نے اللہ کو دیکھا ہے تو پھر پتھر پر نظر ڈال کے اسے سونا بنائے
نظر جنہاں دی کیمیا ہووے سونا کردے وٹ
اللہ ذات کریندی آ کی سید تے کی جٹ

یہ کچھ چیزیں ہیں جو کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا کیس بہت ہی زیادہ کمزورکر دیتی ہیں،ایک ہی جسم میں دو روحیں قیام نہیں کر سکتیں ۔سیدنا امام مہدی گوہر شاہی کا ارشاد گرامی ہے کہ ہر انسان کا اعمال نامہ یوم محشر میں پیش ہونا ہے اور اگر ایک جسم دو روحوں کے لیئے استعمال ہوگا تو پھر اس جسم کے جواعمال ہوں گے وہ کس کے کھاتے میں جائیں گے ۔نبوت کے لیئے شرائط اور ہیں، ولایت کے لیئے شرائط اور ہیں ،ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک آدمی نبی بھی ہو ولی بھی ہو یہ جھوٹ کا پلندہ ہے، یہ صریحا گمراہی ہے ۔

سیدنا امام مہدی گوھر شاہی مامور من اللہ ہیں :

اب ہم یہ کہہ دیتے ہیں کہ بھئی سرکار گوھر شاہی کے مرتبہ مہدی کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے تو سرکار گوہر شاہی نے اعلان ہی نہیں کیا کہ وہ امام مہدی ہیں ۔باوجود اِسکے کہ حجر اسود میں انکا چہرہ نظر آتا ہے، چاند میں انکا چہرہ چمکتا ہے ،امام جعفر صادق کا قو ل ہے کہ ’’ امام مہدی کا چہرہ چاند میں چمکے گا ‘‘۔لاکھوں لوگوں کے دلوں کو اسم ذات اللہ سے سیدنا گوہر شاہی نےزندہ وآباد کیا ۔ہزاروں کو حضور ﷺ کی مجلس تک پہنچایا اور درجنوں کو اللہ کے دیدار میں پہنچایا یہ ثبوت کافی ہے کم سے کم یہ جاننے کے لیئے کہ سیدنا گوہر شاہی منجانب اللہ معمور ہیں ۔اور یہ جاننے کے لیئے کہ سرکار گوہر شاہی امام مہدی ہیں ،کیونکہ ہم انکے فیض یافتہ لوگ ہیں ہم کو بہت ساری چیزیں دکھائی گئیں مثلا ہم نے آپ سیدنا گوھر شاہی کی آنکھوں میں لوح محفوظ دیکھی۔

”ہم نے آپ سیدنا گوھر شاہی کی آنکھوں میں لال ڈورا دیکھا ۔وہ لال ڈورا جب حضور ﷺ شب معراج پہ گئے تو انہوں نے وہی لال ڈورا اللہ کی آنکھوں میں دیکھا تھاتو حضور ﷺ نے پوچھا کہ اے اللہ! میں امام مہدی کو کیسے پہچانوں گا تو انکو یہ ایک ہی پہچان بتائی تھی اللہ نے کہ جس کی بھی آنکھوں میں یہ لال لال ڈورا ہو وہی تمہارامہدی ہو گا “

پھر دنیا میں جب آپ ؐنےامام مہدی کے بارے میں گفتگو فرمائی تو ایک طرف دجال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دجال ایک آنکھ سے محروم ہو گا اردو میں کہتے ہیں کانا ہو گا اور عربی میں کہتے ہیں ’’عور‘‘۔ جسطرح بلیعم باعور تھا ، ع ،و،ر،عور،اب ذرا غور کریں یہاں پر کہ دجال ایک آنکھ سے محروم ہو گا عور ہو گا ،اور جان لو کہ تمہارا رب عور نہیں ۔یہ مہدی کی طرف اشارہ ہے اُن کی آنکھوں میں لال ڈورا ہے یہ مہدی کی طرف اشارہ ہے ۔کیا رب سے مقابلہ کیا جا رہا ہے دجال کا ،کیا رب سے موازنہ کیا جا رہا ہے دجال کا کہ بھئی دجال کی ایک آنکھ ہو گی اور پھر رب کا ذکر کہاں سے آگیا تو معلوم ہوا کہ دجال بہت سے امام مہدی کا دعویٰ کریں گے لیکن ان دعویٰ کرنے والوں میں یہ دیکھنا کہ اُن کی آنکھیں کتنی ہیں جسکی ایک آنکھ ہو گی وہ دجالی ہو گا کیونکہ تمہارا رب جو ہے وہ عور نہیں ہے یعنی کانا نہیں ہے ۔جسکے پاس ایک علم(علم ظاہر) ہو گا اسکے پاس ایک آنکھ جسکے پاس دو علم (علم ظاہر اور علم باطن) ہوئے اسکے پاس دونوں آنکھ ۔اور تمہارا رب عور نہیں سے مراد ،’’ھوالظاہر ھوالباطن‘‘ وہ ظاہر میں بھی ہے باطن میں بھی ہے ظاہر علم بھی ہو گا باطنی علم بھی ہو گا اور جو آنکھوں میں لال ڈورا ہو گا اس سے مراد یہ ہو گی کہ لال رنگ جو ہے وہ لطیفہ روح سے منسوب ہے کہ وہ آپ کی روحوں کو جلوہ عطا کرے گا ۔روح کا رنگ لال ہے ۔ تو وہ آ کر اپنی نظروں سے روحوں  کو زندہ کرے گا۔ اور سیدنا گوہر شاہی نے روحوں کا دین عطا فرمایا ،’’دین الہی ،دین حنیف، قائم ہونے والا دین ‘‘۔وہ دین عطا فرمایا کہ جس کے لیئے قرآن نے فرمایا کہ یا رسول اللہ ﷺ جب دنیا میں دین حنیف قائم ہو رہا ہو تو تم اپنا رخ اس دین کی طرف کر لینا کیونکہ وہی قائم ہونے والا دین ہے ۔

متعلقہ پوسٹس

دوست کے سا تھ شئیر کریں