کیٹیگری: مضامین

یو ٹیوب پر عمران متی کے کئے سوال کے جواب سے ماخوز:
سیدنا گوھر شاہی کا مل جانا کیسا احساس ہے یہ بتانے سے پہلے میں یہ بتانا چاہوں گا کہ آپ کے ملنے سے قبل میں کیسا محسوس کرتا تھا۔
جب کوئی اس دنیا میں آتاہے تو اسے یہ نہیں معلوم ہوتا کہ وہ یہاں کیوں آیا ہے۔بچپن میں آپ اسکول جاتے ہیں ،لکھنا پڑھنا سیکھتے ہیں اور جب بڑے ہو جاتے ہیں تو بہت سی چیزیں آپ پر عیاں ہو جاتی ہیں۔ہر نئی چیز کو جاننے کی جستجو میں لگ جاتے ہیں۔زندگی کےاِس حصے میں چیزیں دریافت کرنے کا تجسس بیدار ہوجاتاہےکیونکہ عمر کے اِس حصے میں کچھ معلوم نہیں ہوتا ہےاوراسی پرورش کے ساتھ ساتھ مذہبی اقداراور تعلیم بھی ساتھ ساتھ چلتی رہتی ہے۔ہم ایک ایسی مفروضاتی دنیا کے معاشرے میں رہنے لگتے ہیں جہاں مذہبی تربیت جو کہ والدین کی طرف سے ملتی ہےمگر وہ خیالوں کی دنیا ہوتی ہے۔
جو کچھ ہمیں مذہب کے بارے میں سکھایااور پڑھایا جاتا ہے عملی زندگی میں اُس کا مظاہرہ کہیں نہیں ملتا اسی وجہ سے مذہب خام خیال یا تصواراتی بن کر رہ جاتا ہے جہاں رب ہوتا ہے،رسول ہوتا ہے وغیرہ وغیرہ لیکن عملی زندگی میں ایسا کچھ نظر نہیں آتا۔ہمدردی،مساوات ،محبت،سخاوت،جو آپ کی توہین اور کردار کُشی کرتے ہیں اُن لوگوں کی معاف کرنا،یہ سب صرف کتابی اصطلاحات ہیں عملی زندگی میں یہ سب کچھ دیکھنے کو نہیں ملتا۔اب جب معاشرے میں یہ ساری چیزیں نظر نہیں آتی ہیں تو عمل کے بارے میں سوچنا بھی ممکن نہیں ہے اور جب عمل میں  لانے کی کوشش کرتے ہیں تو بہت مشکل معلوم ہوتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ دوسروں کی طرف سے مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ یہ باتیں اُن کے عمل میں ہونی چاہیے تھیں جو کہ ان کے عمل میں نہیں ہیں۔یہ چیز رکاوٹ بن جاتی ہے جب آپ دوسروں کا حق دیتے ہیں لیکن دوسراآپ کا حق مارتا ہےاور آپ یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ میں تو لوگوں کا حق دیتا ہوں لیکن مجھے وہ نہیں ملتا جس کا میں مستحق ہوں۔ہر جگہ بہت سی رکاوٹیں،آزردگی اور منفیت پھیلی ہوئی ہے ۔ جو مذہبی تعلیم ہمیں مدارس میں پڑھائی یا سکھائی جاتی ہے،جو یہ تعلیم دے رہے ہیں ان کے بھی عمل میں نظر نہیں آتی ہےلہذا نتیجے کے طور پر لوگوں خدا کے نام پر اپنی جان دے بھی دیتے ہیں اور دوسروں کی جان لے بھی لیتے ہیں۔اگر ان تمام چیزوں کا قریب سے مطالعہ کریں تو یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ لوگوں کے دماغوں میں یہ بٹھا دیا جاتا ہے کہ رسول کی جس نے بھی بے حرمتی کی اُس کو مار دو تو جنت کے حقدار بن گے۔یہی تصور دیا جاتا ہے کہ مذہب کے زریعے یہ جنت میں جانے کا مختصراور آسان راستہ ہے،تمھیں خدا کی عبادت کی ضرورت نہیں ہے،نفس کو پاک کرنے کے لئے مذہب کی مشکلات اور مجاہدوں سے گزرنے کی ضرورت نہیں ہے۔یہی سوچتے ہیں کہ تمام زندگی گناہ گاروں کی طرح بسر کرتے ہیں اور دوسرے ہی لمحے بم لگا کرمظلوم لوگوں کو مار کر جنت میں چلے جاتے ہیں۔اس بات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ لوگ اللہ کے لئے نہیں کر رہے ہیں بلکہ اپنی من گھڑت سمجھ کے مطابق کر رہے ہیں۔اس زمانے میں سب کچھ غلط سلط ہو گیا ہے جو کہ سمجھ سے عاری ہے۔میں بچپن سے ہی رب کی محبت حاصل کرنے کے لئے زندگی کے بہت سے تلخ تجربات سے گزرا ہوں،مثال کے طور پر خدا کی زات پر یقین حاصل کرنے کے لئے جتنی زیادہ کوشش کرتا اتنا ہی زیادہ میں دلدل میں پھنستا جاتا۔خدا کو مدد کے لئےچلاتااور پکارتا لیکن اُس کی مدد دستیاب ہی نہیں تھی۔وہاں مدد کاکوئی نام ونشان بھی نہیں تھا۔

لیکن جب سے دامن گوھر شاہی نے مجھے اپنی آغوش میں لیا مجھے ایسا محسوس ہوا جیسےمیں لاوارث نہیں ہوں میرا کوئی خیال رکھنے والا ہے،تنہا نہیں ہوں میں۔

اگر خدا کو مدد کے لئے پکارتے ہیں اور وہ نہ آئے تو یہی خیال گزرتا ہے کہ وہ یہاں موجود ہی نہیں ہے اور اگر سن بھی رہا ہے تو جواب نہیں دینا چاہتا۔اسی طرح کے حالات سے ہم شب و روز دوچار ہوتے ہیں۔زندگی میں کبھی ایسے موڑ بھی آ جاتے ہیں جب ہمیں اپنی حاجتوں کے لئے رب کو پکارنا پڑتا ہے،کبھی ہم اپنے گناہوں پر نادم،معافی کے لئےرب کو پکارتے ہیں تو کبھی زندگی میں ناکامی سے دوچار ہوئے رب کو مدد کے لئے پکارتے ہیں لیکن ہماری کسی پکار کا کوئی جواب نہیں ملتا ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے رب نے ہم سے منہ موڑ لیا ہے۔پھر یہی احساس جنم لیتا ہے کہ ہماری پکار سننے والا کوئی نہیں ہے چاہے جتنی آہ و بکا کر لی جائے رب کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں کبھی کامیابی نہیں ہوتی ہے۔
لیکن جس لمحے سیدنا گوھر شاہی سے ملاقات ہوئی زندگی میں پہلی دفعہ ایسا محسوس ہوا جیسے دائمی پناہ مل گئی ہو۔سیدناگوھر شاہی سے ملنے سے پہلے میں یتیم بلکہ بے گھر اور بے سہارا تھا۔خدا کو مدد کے لئے کئی بار پکارا لیکن میری پکار کا کوئی جواب نہیں ملا۔مصیبتوں پر مصیبتیں آتی جو کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتی تھیں۔لہذا میں یہ سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ رب تو موجود ہے قرآن میں اُس کے شواہد بھی موجود ہیں جو جھٹلائے نہیں جا سکتے لیکن میرے لئے وہ بیکار ہیں کیونکہ مدد کے لئے پکاروتو وہ سنتا ہی نہیں ہے،اُس کے موجود ہونے یا نہ ہونے سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔جیسے مثال کے طور پر پاکستان میں لوگ ایک دوسرے کا قتل پولیس کے سامنے کر رہے ہیں اور پولیس کچھ نہ کرےتو ایسی پولیس کی موجودگی کاعوام الناس کو کیا فائدہ ہوگا،وہ موجودگی تو بے کار ہے۔یہ ایک تلخ حقیقت ہے بھلے آپ تسلیم کریں یا نہ کریں، ہر شخص جانتا ہے کہ رب موجود ہے لیکن کوئی ایک آدمی ایسا لے کر آئیں جس کو رب کی موجودگی سے فائدہ حاصل ہوا ہو۔
سیدنا گوھر شاہی ظاہری طور پر یہاں موجود نہیں ہیں لیکن ہزاروں لوگ ایسے موجود ہیں جنھیں آپ کی ذات اطہر سے فائدہ ہو رہا ہے،اگر موجود نہ ہوں تو فائدہ بھی نہ ہو۔ہم جھوٹ نہیں بول رہے ہمیں بھی اپنی قبر میں جانا ہے۔لہذا اس پہلو سے رب اپنی موجودگی کو ظاہر کرنے میں ناکام ہو گیا ہے۔اب بھلے وہ موجود ہے لیکن ہمیں کوئی پرواہ نہیں رہی۔آپ عرش الہی پر بیٹھے ہوئے ہیں مزے کر رہے ہیں تو میرااس میں کیا فائدہ ہے؟آپ ہمیشہ سے ہیں آپ ہمیشہ رہیں گےپراس میں میرا کیا فائدہ ہے؟رب نے ایک لاکھ چوبیس ہزارپیغمبر بھیجے توکیا احسان کیا ،لوگ تو ابھی بھی گمراہ ہیں۔اگر آپ یہ کہتے ہیں کہ غوث پاک کو توہدایت مل گئی، فلاں کو ہدایت مل گئی لیکن لوگ تو ابھی بھی ہدایت کے لئےرو رہے ہیں ۔اے رب !آپ اگر ایک ایسے آدمی سے اپنی سخاوت کا ثبوت مانگ رہے ہیں جسکو آپ نے کچھ نہیں دیا،بوسیدہ حال ہے،فاقوں میں زندگی گزر رہی ہے وہ کیا ثبوت دے گا آپ کی سخاوت کا؟ آپ بہت مہربان ہیں،آپ بہت سخی ہیں ہوں گے لیکن بہت سے لوگ ہیں جنھیں آپ کی سخاوت کا پتا نہیں ہے۔مذہب کے نام پر تو آجکل صرف بے وقوف بنایا جاتا ہے۔مومن اور ولی بننے بند ہو گئے ہیں ۔ کسی نے کہا کہ
ہم نے یہ دعا جب بھی مانگی تقدیر بدل دے اے مالک
آواز یہ آئی کہ اب ہم نے تقدیر بدلنا چھوڑ دیا

ہزاروں لوگ سیدنا گوھر شاہی کے بہت قربت میں رہے لیکن وہ خود کو بے آسرہ اور وقت مقررہ پر بھاگ جانے والا کتا سمجھتے تھےاور وہ ایسا کیوں محسوس کرتے تھے کیونکہ اُن کا سیدنا گوھر شاہی سے کوئی روحانی تعلق قائم نہیں ہوا۔یہ تو روحانی تعلق کی بات ہے جن لوگوں کا سیدنا گوھر شاہی سے روحانی تعلق قائم ہو گیا وہ تو خود کو بادشاہ اور خدا سمجھتے ہیں۔

ذاتی تجربہ :

ہمارا فرانس لیون جانا ہوا تو وہاں انجمن سرفروشان اسلام فیصل آبادکے ایک شخص ناظر سے ملاقات ہوئی۔جب وہاں سے واپس لندن آرہے تھے تو اس نے کہا کہ میں سیدنا گوھر شاہی سے بہت پیار کرتا ہوں اور ملنا چاہتا ہوں،پھر زارو قطار رونے لگااور کہنے لگا کہ آپ لوگ بہت خوش قسمت ہیں جو سرکار گوھر شاہی کے نزدیک ہیں اور ہر وقت دیکھ سکتے ہیں مجھے تو سیدنا گوھر شاہی سے ملے کئ سال بیت چکے ہیں۔پھر میں نے اُس سے پوچھا کہ کیا تم واقعی لندن جانا چاہتے ہو تو اس نے اثبات میں سر ہلا یا اور کہا کہ میں یہاں فرانس میں غیر قانونی طور پر رہ رہا ہوں میرے پاس کوئی پاسپورٹ یا قانونی شناخت نہیں ہے۔میں نے اسے کہا کہ تم گاڑی میں بیٹھواور وہ ہمارے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گیا۔جب ہم امیگریشن سے گزرنے لگے توہمارے ساتھ بیٹھے ایک شخص نے کہا کہ سیٹ کے نیچے چھپ جاؤ ،مگر میں نے اس کو منع کیا کہ میں چوری نہیں کر رہاہوں واپس سیٹ پر بیٹھ جاؤ،تم نے تو کہا تھا کہ تم گوھر شاہی کو مانتے ہو اگر گوھر شاہی کو مانتے ہو اور اُن سے ملنے کے لیئے جانا ہے تو چھپ کیوں رہے ہو؟زبردستی اسکو سیٹ پر بیٹھا دیا۔ہم چار امیگریشن والے بندے جن کے پاس پاسپورٹ تھااور ایک ناظر جس کے پاس پاسپورٹ نہیں تھا۔میں نے اُن کو چار پاسپورٹ دئیےہیں انہوں نے پاسپورٹ دیکھےاور بندے گنے۔پاسپورٹ چار ہیں بندے انہوں نے پانچ گنے اورپھر بھی کہا”اوکے تھینکیو“
اس واقعے کے چار مہینے بعد سیدنا گوھر شاہی نارتھ ڈیکوٹا میں تھے اور مجھے فرمایا تھا کہ ہم سیاٹل جائیں گے تو تم بھی وہیں سیاٹل آجاؤ۔تو میں لندن سےشکاگو گیا اور پھر وہاں سے سیاٹل چلا گیا۔سیاٹل میں سیدنا گوھر شاہی سے ملاقات میں گفتگو ہوئی وہاں سرکار سے ملاقا ت ہوئی گفتگو ہوئی،سرکار فرمانے لگے کہ دیکھو کبھی کبھی تم پر ایسا لمحہ نہیں آتا کہ تم سمجھتے ہو کہ تم خدا ہو۔تو میں نے کہا کہ سرکار میں سمجھا نہیں ،فرمایا کہ اب وہ جوفرانس والے بندے کو بٹھا دیا تم نے کیا سمجھ کے بٹھایا تھا؟ تو میرے پاس اسکا جواب نہیں تھا کیونکہ وہ جو دو گھنٹے گزرے تھے اسکا مجھے ہوش ہی نہیں تھا،اسکا مجھے پتہ ہی نہیں تھا بس ایسا تھا کہ انجیکشن لگا ہوا ہے۔تو ایک لمحہ وہ گنوایا،ااور ایک لمحہ اور گنوایا سرکار نے ،فرمایا کہ اور ایک لمحہ وہ تھا کہ تم وہ قوالی سن رہے تھے نصرت فتح علی خان کی’’ یار اکھیاں دے بوہے تے کھلو کے تے واجاں مارے سجناں نوں ‘‘۔یہ قوالی کا حوالہ دیا،یہ قوالی سن رہے تھے ہم مانچسٹر میں ایک روز آستانے پر ،اور کیا ہوا کہ قوالی سنتے سنتے سرکارروحانی طورپر ظاہر ہو گئے،اب یہ واقعہ بتایا نہیں میں نے کسی کو ،اب کبھی سرکار وہاں کھڑے ہیں تو وہاں پر زور سے سر ماریں سجدہ کریں ،کبھی سرکار دیوار کے اوپر نظر آئیں تو دیوار پر ماریں ،تو ہاتھ اور سر پھٹ گیا خون ہی خون،اُس وقت ایک ہستی کی آمد ہوئی ،اور کہا گیا کہ فلاں کھڑا ہے تو وہ حالت ایسی تھی اُسوقت کہ ان کا ادب کرنا ہے یہ یاد نہیں تھا۔پیٹھ کر کے کھڑے رہے،اور وہ وہاں کافی دیر تک کھڑے رہے اور جب ہم نے اُن کی طرف رخ نہیں کیا تو وہ ناراض ہو کر چلے گئے ،فرمایا کہ وہ لمحہ اُس میں خدا بن گئے تھے۔
مالک الملک گوھر شاہی سے جب آدمی مل جاتا ہے،روحانی تعلق قائم ہو جاتا ہے تو دن میں ایک لمحہ ایسا ضرور آتا ہے کہ جب اُس کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ وہ ساری کائنات کا مالک ہے اس لمحے میں وہ جو بھی کہہ دے وہ کر لو،وہ ہو جائے گا،روزانہ آتاہے وہ لمحہ۔مالک الملک گوھر شاہی کا مل جانا کیا ہے؟

”مالک الملک گوھر شاہی کا مل جانا یہ ہے کہ ایک مٹی کا پتلا دن میں ایسے لمحے بھی گزار لیتا ہے جیسے لمحے نور کا شاہکار عرش الہی پر گزارتا ہے۔

گوھر شاہی کا ملناایسا ہے کہ جیسے مٹی کا ایک پتلا جس میں غلاظت ڈال دی گئی،خناس ڈال دیا گیا ،چار پرندے ڈال دیے گئے،نس نس میں شیطان کو دوڑادیا گیا،لطیفہ نفس کو قوم جنات سے لا کر ڈال دیا گیا،غلاظت سے بھر دیا،ایک لاکھ اسی ہزار زنار اس کے اوپر ڈال دئیے،تیس ہزار شہوت کے،تیس ہزار حسد کے ،تیس ہزار تکبر کے حرص کے ،اور پھر وہ مٹی کا پتلا نظر گوھر شاہی سے جب گزرا تو پھر ایسے ایسے لمحے اُس پر گزرنے لگے کہ جو لمحے نور کا شاہکار جو عرش الہی پہ بیٹھا ہے اُس پر وہ لمحے گزرتے ہیں۔اُس لمحے میں وہ یہ سوچتا ہے کہ وہ پوری کائنات کا مالک ہے،نہ مجبور ہے نہ محجور ہے۔جو چاہے سو کرے اُس بندے کا نفس کہتا ہے کہ اب وہ لمحہ دوبارہ آیا تو میں یہ کر دوں گاوہ کر دوں گا کہہ دوں گا کہ اُس کو ماردوسرکار یہ بندہ ٹھیک نہیں ہے،لیکن جب وہ لمحہ آتا ہے تو اس وقت اس کی صفت رحیمی غالب آجاتی ہےاور نفس کی خواہشات پرے ہو جاتی ہیں۔پھر وہ کرم ہی کرم ہوتا ہے،رحم ہی رحم ہوتا ہے۔

متعلقہ پوسٹس

دوست کے سا تھ شئیر کریں