کیٹیگری: مضامین

علمِ لدنی کیا ہے اور کس کو عطا ہوتا ہے؟

علم لدنی روحوں کو بیدار کرنے کی تعلیم ہے۔ایک باریک نکتہ جسے تمام مسلمانوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے خاص کر وہ شخصیات جن کا دینی معاملات سے براہ راست تعلق ہے تو امت کا بہت بھلا ہوگا، کہنے کو تو اہل سنت والجماعت میں کئی علماء کرام ایسے ہیں جوعلم لدنی کا ذکر کرتے ہیں اور اس بات کا اقرار بھی کرتے ہیں کہ اُمت ِرسول میں متعدد اولیاء ایسے بھی گزرے ہیں کہ جنہیں اللہ نے علم لدنی سے سرفراز فرمایا اور اگر ایسی ہستیوں سے ان کی ملاقات ہو جائے اور ان کے طریقہ کار کو جب وہ ملاحظہ کریں تو پھران ولیوں سے یہ مولوی پوچھتے ہیں کہ یہ جو آپ کر رہے ہو اس کا حوالہ قرآن سے دو اور وہ ولی کہے کہ حضرت قرآن میں اس کا حوالہ نہیں ہے کیونکہ یہ نکتہ جو میں بیان کر رہا ہوں یہ علم لدنی سے متعلقہ ہے تو مولی کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ علم لدنی دیا ہے لیکن قرآن سے اس کا حوالہ نہ مانگوں ، ان کا یہ خیال ہے کہ علم لدنی بھی قرآن میں ہی ہے۔ علم لدنی اگر قرآن میں ہے تو پھر سب کے لیے ہے پھر علم لدنی کی خصوصیت کیا ہوئی ؟ ہر کس و ناکس کے پاس علم لدنی ہوگا۔سمجھنا یہ ہے کہ علم لدنی کیا ہے؟ سارا راز لفظ “لدن” میں بند ہے، لدن کا مطلب ہے میری طرف سے، ملدنک رحمہ، تیری رحمت اور اللہ تعالی نے قرآن مجید میں فرمایا بھی ہے کہ اللہ اپنے دوستوں میں سے، صلاحین میں سے جس کو چاہتا ہے اس کو اپنے خزانہ خاص علم ، علم لدنی عطا کرتا ہے۔سب سے پہلے تو آپ یہ سمجھ لیں کہ علم لدنی اس علم کو کہیں گے کہ جو پہلے کسی کو دیا نہیں اب اللہ نے اس کا کچھ حصہ اپنے کسی خاص ولی کوعطا فرمایا ہے تو وہ حصہ علم کا قرآن میں نہیں ہے، اگر قرآن میں ہوتا تو پھر خصوصیت کیا ہوئی کیونکہ قرآن تو سب کے لیے ہے۔ ہم ایک درویش کی زبان بول رہے ہیں کہ کسی ولی کے عمل پر تنقید سے پہلے علم حاصل کر لو۔

اولیاء کرام کے اقوال اور واقعات سے علم لدنی کے حوالے:

بہت سی ہستیاں ایسی ہوئیں جیسے غوث پاک رضی اللہ تعالی عنہ ،خواجہ غریب النوازاور بابا بلھے شاہ کہ جن کے اقوال اور واقعات سے علم لدنی کے حوالے ملتے ہیں جیسے بابا بلھے شاہ نے فرمایاکہ
نہ میں پنج نمازاں نیتی نہ تسباح کھڑکایا۔۔۔۔۔۔بلھے نوں ملیا مرشد جس ایویں جا بخشایا
سوال یہ ہے کہ یہ کون سا اسلام ہے ،یہ تو اسلام سے باہر کی بات ہے، آپ نے اللہ اللہ بھی نہیں کی، نمازیں بھی نہیں پڑھیں، تسبیح بھی نہیں کی تو پھر اللہ کیسے مل گیا ،مرشد نے آپ کو اللہ کیسے دیا ؟ معلوم ہوا کہ آپ کے مرشد کے پاس علم لدنی تھا جو قرآن سے ہٹ کے تھا اور اُس علم لدنی کا عنوان بھی یہ ہی تھا، یہ قرآن کا علم تو نہیں ہے کہ کہا
کر لے دل دی صفائی جے دیدار چاہی دا
توں جہان توں کی لینا تینوں یار چاہی دا
بلھے نوں لوکی متی دیندے جا بہہ جا وچ مسیتی
وچ مسیتاں کی کجھ ہوندا جے دلوں نماز نہ نیتی
تیرا دل کھلاوندا منڈے کڑیاں تو سجدے کریں مسیتی
دنیا دارا ، رب دے نال وی توں چار سو وی کیتی
نہ میں آدم حوا جایا نہ کجھ اپنا نام دھرایا
نہ میں موسی نہ فرعون،بلھیا کی جاناں میں کون
نہ میں پاکاں وچ پلیتاں نہ میں وچ کفر دیا ریتاں
بلھیا کی جانا میں کون، اول آخر آپ نوں جانا
دوجا ہور نہ کوئی پچھانا، بلھیا کی جاناں میں کون

اللہ نے بھی یہ فرمایا اللہ نور السموات اوربائیبل میں عیسیٰ نے کہا میں ہوں دنیا کا نور اور بلھے شاہ بھی کہہ رہے ہیں اول آخر آپ نوں جانا ، تو یہ کون سا علم ہے؟ مولانا روم درباری مولوی تھا، اس کی بڑی شان تھی ، بڑا نخرا تھا، غصہ بھی بہت تھا، ایک دن وہ اپنے مدرسے میں بیٹھے کتاب لکھ رہے تھے اس دورمیں مور کے پر اور دوات سے کتابت کی جاتی تھی سیاہی میں قلم ڈبو کر لکھتے تھے اتنے میں ایک شخص پھٹے پرانے کپڑوں میں پاس کھڑا ہو گیا اور پوچھنے لگا “ایں چیست”، یہ کیا ہے مولانا روم نے بڑی حقارت سے کہا “ایں آں علم است کہ تو نمی دانم “، یہ وہ علم ہے جس کے بارے میں تو نہیں جانتا ، اس فقیر کو غصہ آ گیا انہوں نے مولانا روم کے پیٹ پر توجہ کی اور اُن کو حاجت محسوس ہوئی تو مولانا روم نے کہا میں ابھی آتا ہوں تم یہیں کھڑے رہو ، جیسے ہی مولانا روم گئے فقیر نے وہ تمام کتابیں اٹھا کر پانی کے حوض میں ڈال دیں ، واپس آ کر اپنی کتابوں کو پانی میں دیکھا تو ناراض ہوئے، فقیر نے کہا ناراض مت ہو اشارہ کیا اور خشک کتابیں پانی کے حوض سے باہر آ گئیں ، تو وہ حیرت زدہ رہ گئے اور پوچھا “ایں چیست” ؟ اب یہ کیا علم ہے؟ تو فقیر نے کہا، “ایں آں علم است کے تو نمی دانم”۔ اب مولانا روم کا سارا غصہ جھاگ کی طرح بیٹھ گیا۔مولانا روم حدیث اور قرآن کا بہت بڑاعالم تھا لیکن وہ اس علم کو نہیں جان سکا کیونکہ یہ علم لدنی تھا، اس کے بعد انہوں نے کتابیں پھینک دیں اور شمس تبریز کی جوتیوں میں غلامی اختیار کر لی ان کی جوتیاں سیدھی کیں اور ان کی صحبت میں نفس کا تزکیہ اور قلب کا تصفیہ کیا اور اتنے بڑے ولی بن گئے۔مولانا روم کی مثنوی میں کلام لکھا ہے کہ
مولوی ہرگز نہ شد مولائے روم۔۔۔۔تا غلام شمس تبریزی نہ شد
اگر میں شمس تبریز کا غلام نہ بنتا تو ایک مولوی مُلا ہی رہ جاتا۔علم لدنی کے لیےہمارے پاس حوالے تو بہت ہیں ، ہمارے پاس حکایات بھی بہت ہیں، قصے بھی بہت ہیں کہ جس سے یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ کچھ علم ایسا ہے کہ جو قرآن میں نہیں ہے لیکن بہت سارے اولیاء کرام نے اس علم کے کرشمے دکھائے ، اب مجھے سمجھ میں آتا ہے کہ نبی کریم نے جو فرمایا تھا کہ میری ُامت میں کچھ ولی ایسے ہوں گے کہ بنی اسرائیل کے انبیاء بھی ان پر رشک کریں گے وہ رشک والی بات یہ ہی علم لدنی ہے، یہ علم لدنی خاص علم ہے جو اللہ اپنی مرضی سے دیتا ہے۔جب یہ خاص علم معین الدین چشتی کو ملا تو اسی خاص علم کی پاور سے انہوں نے موسیقی کو جائز قرار دیا۔ یہ قوالیاں خواجہ غریب کا فیض ہے جو علم لدنی سے انہوں نے عام کیا۔ علم لدنی کتابوں ، حدیثوں قرآن میں نہیں ہے، علم لدنی دراصل کوئی علم نہیں ہے بلکہ یہ اللہ تعالی کی طرف سے طاقت عطا ہوتی ہے کہ قرآن و حدیث کے مطابق ہدایت کا جو مروجہ طریقہ ہے اس طریقے سے ہٹ کر کسی کو مومن بنا دیا جائے، اور یہ صرف علم لدنی سے ہوتا ہے۔مثال کے طور جب ولی دیکھتا ہے کے بری صحبت والے اور برے اعمال والے، اِدھر اُدھر بھٹکنے کی وجہ سے کسی ازلی مومن روح کو اس کی ُبری صحبت نے اس کو مرشد کامل ڈھونڈنے سے روک رکھا ہے اور اس کا وقت ضائع ہو رہا ہے اور اس کی تقدیر میں لکھا ہوا ایمان لکھا کا لکھا نہ رہ جائے گا تو پھر ان لوگوں کے لیے وہ ولی علم لدنی کی طاقت استعمال کرتے ہیں ۔ابو سعید خدری غوث پاک کے مرشد اپنے مریدوں کے پیچھے کتے دوڑا دیتے تھے، میر کلال لوگوں کو کبڈی کھلاتے تھے، یہ باتیں قرآن و حدیث میں کہاں لکھی ہیں کہ کبڈی کھیلو ؟ بلھے شاہ نے کہا نچ نچ کے یار منا لے باہنویں کنجری بننا پے جاوے۔قرآن و حدیث میں کہاں لکھا ہے کہ کنجری بن جائو؟ اور یار کو منا لو، لیکن انہوں نے تو ایسا کیا ناچ ناچ کر یار کو منایا۔ لال شہباز قلندر نے دھمال کروائی یہ کہاں لکھا ہے قرآن و حدیث میں؟ اب چونکہ ہمارے صوفی اسکالرز کے پاس علم لدنی، باطنی علم نہیں ہے لہذا جب وہابی دیوبندی ان کو کہتےہیں کہ دھمال کا شریعت میں کہاں لکھا ہے تو ان سے کوئی جواب بن نہیں پڑتا تو اتنا کہہ دیتے ہیں کہ انہوں نے کرایا ہے تو حق ہی ہو گا۔اگر اہل سنت والجماعت نے اپنے عقیدے کا دفاع کرنا ہے تو ان کے پاس پورا علم ہونا چاہئیے، جواب ایسا ہونا چاہئے کے سامنے والا نہ خود شک کرے نہ کسی کو منع کرے۔علم لدنی اگر قرآن و حدیث میں شامل نہیں ہے اس کے علاوہ کوئی علم ہے تو کیا اس علم سے دین میں فتنہ پیدا ہوتا ہے؟ ہر گز نہیں جو لوگ امت کے اندر ہوتے ہوئے بھی گناہوں میں لگے ہوئے ہیں اور ان کی وجہ سے دین میں فتنہ ہو رہا ہےتو ولی اللہ اسی علم لدنی کے ذریعے دوبارہ ان کو امتی بنا رہے ہیں اور فتنہ کو ختم کر رہے ہیں۔ جن کو کعبہ اور مسجد نبوی میں جا کر راہ راست پر نہیں لایا جا سکتا ان کو وہ اپنی نظروں سےراہ راست پر لا رہے ہیں ، کعبہ اور مسجد نبوی کے قابل بنا رہے ہیں ۔یہ علم لدنی ہے اور اللہ جس کو چاہتا ہے اس کو یہ علم لدنی دیتا ہے۔

سیدنا گوھر شاہی کا علم لدنی اور تصرف:

ابراہیم بن ادہم نے ایک دفعہ کہا میں نے اللہ تعالی کا ستر مرتبہ دیدار کیا اور چار مسئلے اللہ سے سیکھے،تو وہ چار مسئلے یہ تو نہیں تھے کہ مولوی قرآن صحیح نہیں بتاتے لہذااللہ نے ان کو قرآن سے چار مسئلے سکھائے، نہیں وہ چارمسئلے قرآن سے ہٹ کر ہی کوئی مسئلے تھے ، دنیا میں آ کر جب ان میں سے ایک مسئلہ ہی لوگوں کو بتایا تو انہوں نے اس کا انکار کر دیا یہ علم لدنی کی طرف ہی اشارہ ہے۔یہ علم لدنی بھی تھوڑا تھوڑا ہی عطا ہوا، یعنی خواجہ غریب النواز کو اتنا ہی علم لدنی عطا ہوا کہ انہوں نے بس قوالیاں جائز کرا لیں ، میر کلال کے پاس علم لدنی اتنا تھا کہ انہوں نے کبڈی کروا لی ، کسی کے پاس اتنا تھا کہ انہوں نے دیواریں چنوا لیں اب سیدنا گوھر شاہی کی طرف آجائیں ان کے پاس علم لدنی اتنا ہے کہ سیدنا گوھر شاہی کے پاس جب ہدایت لینے کے لیے سرخی پاؤڈر لگانے والیاں، فیشن کرنے والیاں جب گئیں تو سیدنا گوھر شاہی نے ان کو پردہ کرنے کا یا میک اپ نہ کرنے کا نہیں کہا ان کو اتنا کہا آنکھیں بند کرو اور میرے ساتھ کہو اللہ ھو اللہ ھو اللہ ھو، اس اللہ ھو کا جب انہوں نےاقرار کیا تو سیدنا گوھر شاہی کے علم لدنی نے ان کے سرخی پائوڈر میک اپ کو چیرتے ہوئے ان کے دلوں میں نقش اللہ اور سینوں پر نقش محمد جما دیا۔یہاں تک کہ ولیوں نے اعتراض کیا کہ ہمیں تو تیس تیس سال تک ذکر قلب عطا نہ ہو سکا اور یہ سرخی پائوڈر لگانے والے کہتے ہیں ہمارے ذکر چلتے ہیں ہم کو گوھر شاہی نے اسم ذات عطا کیا ہے، اب انہوں نے نہ نمازیں پڑھیں، نہ تسبیح کی ،نہ چلے کیے لیکن بلھے شاہ کے مقام تک تو یہ بھی پہنچ ہی گئے، بلھے نے بھی تو یہ ہی کہا تھاکہ نہ میں پنج نمازاں نیتی نہ تسباح کھڑکایا ، تو اب ان کا اللہ اللہ کیسے جاری ہوا؟ ان کا اللہ اللہ شریعت و قرآن کے اصولوں پر جاری نہیں ہوا، اس علم لدنی کی طاقت پر ہوا جو گوھر شاہی کے پاس ہے۔
پھر کوئی ایسا آیا جس نے کہا مجھ سے شراب نہیں چھٹتی آپ نے کہا خیر ہے ہم تم کو نسخہ بتاتے ہیں تم شراب بھی پیتے رہو اللہ اللہ بھی کرتے رہو اس کو اللہ کا ذکر دیا پندرہ دن بعد وہ آیا اور کہنے لگا کہ اب جب میں شراب پیتا ہوں تو الٹی ہو جاتی ہے، کیونکہ وہ اللہ اللہ اندر گھس گیا اب وہ شراب کو اندر نہیں آنے دے گا۔ یہ علم لدنی ہے، اس کو جب پاکستان کا مولوی سمجھ نہیں پایا تو کچھ نے تو انجانے میں فتوے دے دئیے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے اور کچھ مولوی سیدنا گوھر شاہی سے حسد میں مبتلا ہو گئے اور کہا یہ شریعت کے خلاف ہے، یہ شریعت کے خلاف نہیں ہے بلکہ شریعت سے ہٹ کر ہے ، اور اگر دیکھا جائے تو نہ اتنا شریعت کے خلاف ہے اور نہ اتنا شریعت سے ہٹ کر ہے۔حضور پاکﷺ کی صحبت میں بیٹھنے والا زید بھی تین مرتبہ شراب کے جرم میں پکڑا گیا، جس کے حق میں حضوؐر نے صحابہ کرام کو لعنت کرنے سے منع کیا کہ کیا ہو گیا کہ یہ شراب پیتا ہے اس کے دل میں تو اللہ اور اس کے رسول کے لیے محبت ہے، جس کے دل میں اللہ اور رسول کی محبت ہو اس پر لعنت مت کرو کیونکہ وہ لوٹ کر تم پر ہی آئے گی۔

“سیدنا گوھر شاہی کا علم ، علم لدنی ہے جس کی برکت سے آج کوئی جتنا بھی گناہ گار ہے وہ اللہ کی محبت کا دعویدار بن رہا ہے۔ ہمارا پورا کا پورا نظام زندگی، نظام ایمان ، سرکار گوھر شاہی کی عنایتوں پر چل رہا ہے، ہماراسارا ایمان نسبت گوھر شاہی میں مضمر ہے۔سیدنا گوھر شاہی کے علم کی حدود نہیں ہے کیونکہ آپ کی ڈیوٹی لاکھ دو لاکھ ، کروڑ یا دس کروڑ کے ،یے نہیں ہے بلکہ پوری انسانیت پر ہے اور اس میں صرف یہ سیارہ زمین شامل نہیں ہے، اس میں مریخ بھی شامل ہے اس میں سورج بھی شامل ہے”

یہ جو تحریک چل رہی ہے یہ اس علم لدنی کے باعث ہے، لیکن چونکہ وہ علم اللہ کی طرف سے آیا ہے اور اللہ کی طرف سے جو بھی علم ہوتا ہے سچا ہوتا ہے، لہذا اس علم لدنی کے بھی بہت سے حوالہ جات قرآن میں موجود ہیں جیسے دل کا تصفیہ کرنا ، نفس کا تزکیہ کرنا۔نبی پاک کی حدیث تو یہ ہے اسم اللہ شئی الطاہر لا یستقر الا بمکان الطاہر۔۔۔اسم اللہ پاک ہے اور ناپاک جگہ استقرار نہیں پکڑتا۔حضوؐر کا علم یہ ہے کہ پہلے تو شریعت کے ذریعے اپنے قلب و قالب کو سدھار پاک صاف کر پھر ظاہر سے نور باطن میں جائے گا اور اس کو پاک صاف کرے گا لیکن سیدنا اگوھر شاہی کا علم لدنی یہ کہتا ہے کہ اب دنیا میں شیطانیت بڑھ گئِ ہے اب لوگ گناہوں میں زیادہ لگ گئے ہیں اب شریعت کے ذریعے ان کو پاک نہیں کیا جا سکتا اب اس خاص علم کے ذریعے نور کے انجکشن براہ راست ان کے خون میں لگائے جائیں۔اگر کسی ولی کسی فقیر کی صحبت میں بیٹھو اور اس کا طریقہ اکتساب فیض ، اس کا نصاب فیض ، اسکا طریقہ طریقت قرآن و حدیث سے جدا پائو تو اس کو کافر نہ کہو بلکہ نتیجہ دیکھوکیونکہ قرآن و حدیث کے طریقے سے بھی اللہ والا بننا ہے اور اگر اس کے طریقے سے بھی یہ نتیجہ برآمد ہوا کہ کوئی اللہ والا بن گیا تو بات تو مستقبل کی ہے۔

قرآن مجید کے آنے کے بعد بھی کچھ لوگوں کو خصوصی علم عطا ہوئے:

لوگ اعتراض کریں کے قرآن و حدیث کے راستے سے اس کو کیوں نہیں چلا رہے تو یہ سوال جائز ہے اوراس کا جواب یہ ہے کہ قرآن و حدیث کے راستے پر جن کو چلایا گیا وہ تو تہتر فرقوں میں بٹ گئے اب علم لدنی کی ضرورت ہے اب علم لدنی سے صراط مستقیم ملے گی، اب قرآن و شریعت کے راستے سے شیعہ سنی وہابی ہی بنے گا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ جنہوں نے سیدنا گوھر شاہی کا فیض پا لیا ان کے سینے منور ہو گئے کیونکہ یہ علم لدنی کے ذریعے ہو رہا ہے اس میں وہی بات آ گئی کہ نہ میں پنج نمازاں نیتی نہ تسباح کھڑکایا ۔ یہ نظر البشر کا فیض ہے جس میں نظروں سے نور کے انجکشن دلوں میں لگائے جا رہے ہیں، تو وہ لوگ جو اہل سنت والجماعت کے عقیدے کی خدمت کر رہے ہیں ان سے مودبانہ گزارش ہے کہ کسی فقیر کے طریقے کو دیکھ کر فتوے نہ لگانا کیونکہ کہ ہو سکتا ہے اس کو اللہ نے علم لدنی عطا کیا ہو ہو سکتا ہے وہ کوئی بلھے شاہ ہو ، ہو سکتا ہے وہ کوئی شیخ بقا ہو، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ کوئی خواجہ یا داتا ہو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ کوئی قلندر وہ اور یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ وہ کوئی ایسا ہو جہاں یہ سب جھکے ہوئے ہوں ۔مسلمانوں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ نہ کہیں کہ قرآن آ گیا ہے اب علم کی چھٹی ہو گئی، اللہ تعالی نے قرآن مجید آنے کے بعد بھی بہت سے ولیوں کو اپنے خزانہ خاص سے خصوصی علوم عطا فرمائے ہیں۔قرآن مجید میں سورہ نجم میں ہے کہ امام جعفر کو اللہ نے علم نجوم عطا کیا، اب یہ علم تم کو کیوں نہیں ملا؟ امام جعفر کی نسبت سے اس علم کو علم جعفر کہا جاتا ہے ۔ہر چیز قرآن میں نہیں ہے اگر ہر چیز قرآن میں ہے تو تم اجتہاد کیوں کرتے ہو، اجتہاد اسی بات پر کیا جاتا ہے کہ جو قرآن میں موجود نہ ہو اور اس کی روشنی میں اس بات کا کوئی حل نکال لیا جائے اس طرح یہ مولوی اپنی رائے کو دین کا حصہ بنا لیتے ہیں اور اس کو اجتہاد کا نام دیتے ہیں ۔دین میں اجتہاد کی تو ضرورت ہی نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالی نے ولیوں کی ایک قسم رکھی جن کو مجدد کہتے ہیں ، اللہ تعالی نے دین میں بھی نکاسی کا ایک نظام مجدد دین کی صورت رکھا ہوا ہے کہ جب دین میں کوئی بگاڑ آجاتا ہے تو مجدد اللہ کی طرف سے اس کو درست کرتا اس پر اللہ کی طرف سے الہام آتا جس سے وہ دین کی مرمت کرتا اور دین کی صحت دوبارہ صحیح ہو جاتی تو جب اللہ نے دین اسلام میں مجدد کا نظام رکھا ہے تو تم اجتہاد کیوں کرتے ہو۔ مجدد کو ناکام کرنے کے لیے مولویوں نے مجتہد کا مرتبہ ایجاد کیا۔دین اسلام اور تعلیمات قرآن کی روشنی میں اجتہاد حرام ہے۔ دین کو چلانے کے دیگر امور جن کا تعلق انتظامیہ سے ہے اس میں مشورے کا حکم ہے لیکن دین کا جو بنیادی ڈھانچہ ہے اس میں اجتہاد کرنا حرام ہے۔

مندرجہ بالا متن نمائندہ گوھر شاہی عزت مآب سیدی یونس الگوھر سے 10 اپریل 2018 کو یو ٹیوب لائیو میں کئے گئے سوال کے جواب سے ماخوذ کیا گیا ہے ۔

متعلقہ پوسٹس

دوست کے سا تھ شئیر کریں