کیٹیگری: مضامین

سیدنا گوھر شاہی کے مرتبہ مہدی کا پرچار عبادت ہے

15 رمضان کو ہم جشن ِشاہی مناتے ہیں ، سرکار سیدنا گوھر شاہی نے اپنی تصنیفِ لطیف میں واضح طور پر صریحاً یہ اُجاگر فرمایا ہے کہ سرکار گوھر شاہی کے ہر مرتبے اور ہر معراج کا تعلق 15 رمضان سے ہے ۔ جن کو سرکار گوھر شاہی کی بارگاہ سے بغض ہے یا جاہل ہیں یا آپ کی عظمت سے جلتے ہیں وہ جشن شاہی تو مناتے ہیں لیکن جس مرتبے اور معراج کی وجہ سے جشن شاہی منایا جاتا ہے نہ اُس معراج پر ایمان لاتے ہیں نہ اُس مرتبے کو مانتے ہیں ۔ تو پھر ایسے لوگوں کا جشن شاہی منانا ایک رسم ہے۔ بیس سال قبل جب ہم نے سرکار گوھر شاہی کے مرتبہ مہدی کا کھل کر پرچار شروع کیا تو اکثریت محبان ِگوھر شاہی کی یہ کہتی تھی کہ تم تو مرتبے کو ماننے والے ہو ہم تو ذات کے ماننے والے ہیں ، ہمارے لئے تو سرکار گوھر شاہی مرشد ہیں اور اکثریت اسی بات کو دہراتی تھی ، یہ حال اُن لوگوں کا ہے جو روحانیت کے علمبردار ہیں ۔ مولانا روم نے ایک بات فرمائی ہے کہ “اللہ نے کسی جاہل کو اپنا دوست نہیں بنایا ” ۔

جہالت کسے کہتے ہیں ؟

اب جاہل کسے کہتے ہیں یہ سمجھنا ہو گا ۔ ہمارے پاکستانی معاشرے میں ان پڑھ کو جاہل اور گنوار کہا جاتا ہے جو اسکول نہ گیا ہو لیکن اردو فی نفسہی کوئی زبان نہیں ہے یہ دہلی میں مختلف علاقوں سے لوگ آ کر بسنے لگے تو وہاں پر ایک نئی زبان ایجاد ہو گئی ۔ ابتدائی دور پر اسے اُردو معلی کہا گیا ۔ یہ ترکش زبان کا لفظ ہے ، “اردو” لشکر کو کہتے ہیں اور” معلی ” بڑا کو کہتے ہیں یعنی بڑا لشکر ۔تو پھر اردو زبان میں صوفیوں اور اسلام کے اثر کی وجہ سے فارسی اور عربی کے الفاظ بہت زیادہ آ گئے لہذا آپ دیکھیں گے کہ اردو میں یا فارسی کے الفاظ ہیں یا پھر عربی کے الفاظ ہیں ۔ جیسے لفظ” پیر ” ہے ، ہم ولیوں کو پیرانِ پیر بھی کہہ دیتے ہیں لیکن یہ لفظ پیر فارسی کا ہےجس کا مطلب بوڑھا آدمی ہوتا ہے ۔ اسی طرح لفظ درویش ہے جو کہ عربی زبان سے ماخوذ کیا گیا ہے جو کہ در سے نکلا ہے یعنی دروازے دروازے جانے والا ۔اسی طرح یہ لفظ جاہل ہے یہ عربی زبان کا لفظ ہے لیکن اس کا مطلب ان پڑھ نہیں ہے ۔ جسطرح ہم اکثر اُس شخص کا نام لیتے ہیں جس کا اپنا نام تو عمر تھالیکن جب شب معراج کے واقعے کو اُس نے جھٹلایا تو اس کا نام “ابو جہل” پڑ گیا ، حالانکہ وہ پڑھا لکھا آدمی تھی لیکن ہم اسے جاہلوں کاباپ کہتے ہیں ۔ایک دفعہ نبی کریم ﷺ نے صحابہ کرام کو ایک نصیحت فرمائی اور کہا کہ

اتقوا عالم الجاہل قیل من العالم الجاہل یا رسول اﷲ قال عالم اللسان و جاہل القلب یعنی اسود
بحوالہ زمرة الابرار

صحابہ کرام یہ بات سن کر بڑے حیران ہوئے کہ عالم بھی اور جاہل بھی ، تو انہوں نے سوال کیا کہ عالم جاہل کیسے ہو سکتا ہے ؟ تو آپؐ نے فرمایا کہ جاہل عالم وہ ہے جس کی زبان پر علم ہے لیکن اس کے قلب میں جہالت ہے یعنی قلب سیاہ ہے ۔ حضوؐر کی اس تشریح کے بعد واضح ہو گیا کہ جہالت دل کی سیاہی اور تاریکی کو کہتے ہیں ۔ سیاہی وہ جو نور کی ضد ہو اس کو جہل بھی کہتے ہیں اور اس کو ظلمت بھی کہتے ہیں ۔جو روحانیت کے علمبردار ہیں ، سرکار گوھر شاہی کی باتیں زبانیں رٹ لیں لیکن قلب میں نور نہیں گیا تو وہ سیدنا گوھر شاہی کے مراتب اور جو مختلف نوع معراج ہیں اس کی حقیقت کو پانہیں سکے۔

کیا مراتب کا پرچار ضروری ہے ؟

اللہ تعالی نے یہ مراتب کیوں قائم کئے ہیں اگر ان کی کوئی اہمیت نہیں تھی ! بحثیت مسلمان ہمارا ختم نبوت پر کتنا زور ہوتا ہے ، آپؐ کے بارے میں ہمارا گمان یہ ہے کہ آپ نبی اور رسول ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ خاتم الانبیاو مرسلین بھی ہیں ۔اگر کوئی یہ کہے کہ میں محمدﷺ کو نبی نہیں مانتا میرا تو بس اُن سےذاتی تعلق ہے ، کوئی نبی کریمؐ کے مرتبہ نبوت کو فراموش کردے تو کیا پھر بھی آپ دائرہ اسلام میں داخل رہیں گے ، یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں میل ہے۔ جب دل میں میل آ جاتا ہے تو دل نئی نئی تاویلات پیش کرتا ہے ، دین اور اللہ کی سمجھ کا تعلق آپ کے دماغ سے نہیں ہے ۔ اگر حضوؐراور اُن کے دین کو ، اللہ اور اُس کے دین کو دماغ سے سمجھا جا سکتا ہے تو آئزک نیوٹن بہت زیادہ دین دار ہوتا ۔کتنے بڑے بڑے سیاست دان گزرے ہیں جیسے ونسٹن چرچل یہ انگلینڈ کا وزیر اعظم گزرا ہے جس کا مجسمہ وائٹ ہاؤس میں صدر کے آفس میں لگا ہوا ہے لیکن ان کے دین سمجھ میں نہیں آتا تھا۔کتنے بڑے بڑے ذہین لوگ گزرے ہیں جیسے ابن ِسینا ، ادویات اور جراحی پر جو گہرا کام ہوا ہے وہ انہی کی ابتدا ہے ۔ اسی طرح ابن ِقلدوم جنہوں نے دنیا کا سفر کر کے داستانیں لکھی ، یہ سب بڑے ذہین لوگ تھے لیکن دین دار نہیں تھے۔تو معلوم یہ ہوا ہے کہ دین کو سمجھناذہانت کی بات نہیں ہے، دین کو سمجھنے کی صلاحیت اللہ عطا فرماتا ہے ، دین کی سمجھ اور فقہہ اللہ انسان کے قلب پر نازل فرماتا ہے اور قلب پر نازل جب ہو گی جب قلب چمکدار ہو گا ، اللہ کے نور سے مزین ہو گاتو پھر اللہ کی نظروں میں آئے گا ۔ دین اسلام اور اللہ کو سمجھنے کے لئے جو پہلا قدم ہےوہ ذاکرِ قلبی بننا ہے ۔ جسطرح گاڑی خرید کر لاتے ہیں تو اُس میں پیڑول خود ڈالنا پڑتا ہے پھر گاڑی چلتی ہے اسی طرح اللہ نے ہمارے جسم میں سات لطیفے لطیفہ قلب، لطیفہ سری، لطیفہ اخفی، لطیفہ خفی، لطیفہ روح، لطیفہ انا اور لطیفہ نفس رکھے ہیں اِن لطائف کا کام جب شروع ہو گا جب ان کے اندر نوری پیڑول جائے گا۔ایک حدیث شریف میں آیا ہے کہ انسان اور جانور میں فرق انہی لطائف کی وجہ سے ہے۔جب انسان کے یہ لطیفے بیدار نہ ہوں اور اندر ہی یہ دم توڑ جائیں اُن کے لئے قرآن نے فرمایا کہ یہ چوپایوں کی مانند ہیں اور جن لوگوں نے اپنی اِن مخلوقوں کویک بعد دیگرے اللہ کے نور اور اسم سے منور کر لیا اور پھر ارواح کی مدد سے عالم بالا میں مختلف جو مقامات ہیں وہاں اگر پہنچ گئے ، تو کوئی مقام ایسا ہے جہاں روز اللہ کی آواز آتی ہے ۔ اب حدیثوں میں لکھا ہے کہ خاص راتوں میں اللہ کی آواز آتی ہے اور تم ساری رات مسجدوں میں عبادت میں لگے رہتے ہو لیکن کیا وہ آواز تمھیں بھی کبھی آئی ہے ۔ جن کو وہ آواز آتی ہے اُن کو اللہ کان والا کہتا ہے ۔ خاص راتوں میں کچھ مناظر بھی دکھائے جاتے ہیں جیسے لیلتہ القدر کی رات ہے قرآن مجید میں ہے کہ

إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ نَزَّلُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِم مِّن كُلِّ أَمْرٍ
سورة القدر آیت نمبر 1 تا 4

لیلتہ القدر میں ایک خاص روح زمین پر آتی ہے مسجد میں نوافل پڑھتے ہوئے کتنے لوگ یہ نظارا دیکھتے ہیں ، یہ نظار ا اُن کو نظر آتا ہے جن کو قرآن نے آنکھ والے کہا ہے ۔قرآن میں ایک اور جگہ پر ارشاد ہو ا کہ وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَارْكَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ کیا آپ نے کبھی کسی کو دیکھا ہے کہ وہ رکوع میں گیا ہوں اور نماز ختم ہو گئی ہو ۔ تو پھر یہ وَارْكَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ کیا ہے ؟ یہ عالم ملکوت میں مختلف مقامات ہیں ۔ جب تیرے لطیفہ قلب کا جثہ قلب منیب پاک ہو جائے گا تو ایک ملائکہ اللہ نے ایسے بنائے ہیں جو صرف رکوع میں ہوتے ہیں تو لطیفہ قلب کا وہ جثہ اُن کے ساتھ جا کر کھڑ اہو جائے گاوَارْكَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ یہ اشارہ اُن کے لئے تھا ۔ یہ انسان تو پوری عبادت کرتے ہیں لیکن اللہ تعالی نے یہ پوری عبادت کسی فرشتے کو نہیں دی ہے کسی کو سجدے کے لئے بنایا ہے ، کسی کو قیام کے لئے بنایا ، کسی کو رکوع کے لئے بنایا اور کسی کو قعد کے لئے بنایا ۔ اس آیت میں اشارہ اسی باطنی دنیا کی طرف ہے جس میں ایسی مخلوق کو بھی بنایا ہے جو صرف رکوع ہی کرتی ہیں جب تمھارے اندر کی بھی وہ چیز نکل کر وہاں پہنچ گئی تو پھر تمھاری وہ مخلوق ملائکہ کو کہے گی کہ تم صرف رکوع میں ہے اور میں یہاں رکوع میں بھی ہوں اور اوپر عرش الہی پر سجدے میں بھی ہوں اور مقام محمود میں دیکھو تو میں وہاں قعد میں بھی ہوں ۔ایک دفعہ ہمارا مقام محمود میں جانا ہوا تو وہاں حضوؐربیٹھ کر بس وہی الفاظ دہراتے رہتے ہیں التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتلطیفہ انا کا کام صرف دیدار الہی کرنا نہیں ہے ، لطیفہ انا کو صحبتِ رسول بھی میسر ہوتی ہے اور مقامِ محمود میں جا کر یہ وقت بھی پاس کرتا ہے ۔جب اللہ کا دیدار کرنا ہو گا پھر لطیفہ انا جائے گا اور جب دیدار سے فارغ ہو گیا تو پھر حضورپاکؐ کی صحبت میں بیٹھے گا۔ جن کی ظاہر میں ڈیوٹی نہیں ہے اُن کے لطیفہ انا رات میں نکل کر مقام محمود میں چلے جاتے ہیں اور دن ہوتے ہی واپس آ جاتے ہیں ۔

امام مہدی کی باطن میں نشانی :

کائنات میں پہلی دفعہ ذاتی جثّہ توفیق الہی اور ذاتی جثّہ طفل نوری محمد الرسول اللہ ﷺ کو عطا ہوا ، دونوں ایک وجود مبارک میں ٹھہر گئے ۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ حضوؐرتعلیمات فقر بتاتے طفل نوری کی وجہ سے جثّہ توفیق الہی کی وجہ سے عشق کی بھی تعلیم دیتے لیکن حضوؐر نے صرف تعلیمات فقر کی بات کی عشق کی بات نہیں کی ۔کیونکہ محمد الرسول اللہ کا طفل ِنوری تعلیمات فقر کا سربراہ تھا لیکن جثّہ توفیق الہی عشق کا سربراہ نہیں تھا ۔اسی لئے آپ نے فرمایا کہ الفقر فخری والفقر منی یعنی فقر میرا فخر ہے اورفقر مجھ سے ہے ۔اب جو فقر چلا ہے وہ بقدم محمد ﷺ چلا ہے اور جو عشق ہے وہ تبرکاً چلا ہے زمانے میں اُس کی زمانے میں باقاعدہ تعلیم نہیں آئی ، جو بھی عشق اس دنیا میں تبرکاً پہنچا ہے وہ خضر علیہ السلام کے زریعے پہنچائی گئی یا پھر وہ تعلیم بلا واسطہ کسی کو عطا ہوئی ، جیسے سچل سرمد کو بلا واسطہ عشق کی تعلیم ملی تھی لیکن سرکار سیدنا گوھر شاہی نے عشق کو اِس دنیا میں باقاعدہ عام کر دیا۔ محمد الرسول اللہ نے فقر کی تعلیم کی بنیاد رکھی اور فقر کو جاری فرمایا لیکن فقر عام نہیں ہو پایا ۔ محمد الرسول اللہ کا جو جثّہ توفیق الہی تھا وہ بجائے عشق کی اشاعت کے اُن کا اللہ سے جوذاتی تعلق تھا وہ اُس کے لئے تھا ۔
تین طرح سے اللہ کا دیدار ہو سکتا ہے ایک لطیفہ اناّ کے زریعے ، طفل نوری کے زریعے اور جثّہ توفیق الہی کے زریعے ۔ لطیفہ اناّ کے زریعے جو دیدار ہوگا وہ خواب میں ہو گا جسطرح امام ابو حنیفہ نے فرمایا کہ میں نے اللہ کو 99 مرتبہ خواب میں دیکھا ہے ۔ مسلک اہلسنت سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی کہتے ہیں کہ حضوؐر کو اللہ کا دیدار نہیں ہوا تو کسی ولی کو کیا ہو گا لیکن یہ سراسر بہتان ہے ، واقعہ معراج پر اللہ نے حضوؐر کو اپنا دیدار دینے کے لئے ہی بلایا تھا ۔ طفل نوری کے زریعے ہوش و حواس میں دیدار ہوتا ہے اور توفیق الہی کے زریعے مراقبے یا جبروتی کشف میں دیدار ہوتا ہے ۔جبروتی کشف میں آنکھیں بند کی اور دیکھ لیا ۔ نبی مکرم ﷺ کو کامل ہستی اوراللہ تعالی نے اپنا شاہکار بنایا ہے چونکہ دیدار الہی کی دولت اور علم کا آغاز محمد الرسول اللہ سے شروع ہوا لہذا جب دیدار کا معاملہ آیا تو دیدار کے تینوں طریقے اللہ نے عطا کر دئیے۔کبھی جی چاہا تو لطیفہ انا کے زریعے دیدار کریں ،جب جی چاہا ہوش و حواس میں دیدار کریں ، جب جی چاہا کشف میں دیدار کریں اور جب جی چاہا مراقبے میں دیدار کریں یعنی اللہ تعالی نے نبی مکرم ﷺکی ہستی کو کامل بنایا ۔کشف جبروتی اور مراقبے میں دیدار کرنے کے لئے جثہ توفیق الہی کی ضرورت ہوتی ہے ، جثہ توفیق الہی آپ کے ذاتی مقاصد کے لئے تھا ۔اس کےبعد غوث اعظم ؓ تشریف لے آئے ، دین اسلام اور تصوف کی خدمت انہوں نے ہی کی جن کے پاس طفلِ نوری تھا جثہ توفیق الہی والوں کو اللہ نے ڈیوٹی عطا نہیں کی کیونکہ عشق والے خر دماغ ہوتے ہیں ۔ فقر والے دین کو ساتھ لے کر چلتے ہیں لیکن عشق والے بس ناچتے رہتے ہیں جیسے قلندر پاک اُن کی کوئی ڈیوٹی نہیں تھی ۔ لا ل شہباز قلندر کو اسی لئے مست الست کا لقب ملا کہ جب روز ازل میں اللہ نے روحوں سے اقرار لیا تو باقی ارواح تو جواب دینے میں لگی ہوئی تھیں لیکن لا ل شہباز کی روح اس وقت بھی مست تھی ۔یعنی یوم الست کے وقت بھی وہ مست تھے ۔

“امام مہدی گوھر شاہی کو طفلِ نوری کا عکس ِ اول عطا ہوا لہذا فقر کی تعلیم کوبقدم محمد ﷺ امام مہدی گوھر شاہی نے عام فرمایا ہے “

سیدنا گوھر شاہی کے مرتبہ مہدی کو اُجاگر کرنا ضروری ہے :

اب امام مہدی کے دو زمانے ہیں ایک زمانہ غیبت سے پہلے فقر کا ہے اور ایک زمانہ غیبت کے بعد عشق کا ہے ۔فقر کے زریعے سیدنا گوھر شاہی نے لوگوں کے سینوں غیر اللہ کو نکالا اور اللہ کا نقش جما دیا ، روحوں کو منور فرما دیا ، اپنا جو محکمہ ہے اُسے تربیت دی ۔ سیدنا گوھر شاہی نے غیبت سے پہلے اپنا اسٹاف تیار کیا اسی لئے فرمایا کہ “ہم تمھیں نہ جنت کے لئے تیار کر رہے ہیں نہ اللہ کے لئےبلکہ ہم تمھیں امام مہدی کے لئے تیار کر رہے ہیں تاکہ تم امام مہدی کا دایاں بازو بن سکو ۔ یہ غیبت کا دورانیہ وقفہ ہے اس بیچ امام مہدی آرام فرما رہے ہیں اور وہ اسٹاف امام مہدی کی تشہیر کرےکہ امام مہدی آنے والے ہیں اور اللہ کا دین عشق زمین پر آنے والا ہے ، عشق کا دور شروع ہونے والا ہے ۔ عشق کا دور امام مہدی نے شروع کرنا تھا اگر دنیا کو یہ نہ بتایا جائے کہ سرکار گوھر شاہی امام مہدی ہیں تو عشق کی جستجو کون کرے گا ۔ اگر یہ نہ بتایا جائے کہ سرکار گوھر شاہی اما م مہدی ہیں تو لوگ امام مہدی کی تلاش میں سرگرداں ہی رہیں گے ۔جس طرح یہ نہ بتایا جائے کہ حضورﷺ آخری نبی اور رسول ہیں تو لوگوں کے ذہن میں گنجائش رہ جائے گی کہ شاید کوئی نبی آ جائےلیکن جب یہ بتا دیا جائے کہ نبوت و رسالت ختم ہو گئی ہے تو اب لوگوں کے دلوں میں گنجائش بھی نہیں رہے گی پھر اگر کسی نے نبوت کا دعوی کیا تو لوگ اُسے جوتے ماریں گے ۔اسی طرح سیدنا گوھر شاہی کے مرتبہ مہدی کو اُجاگر کرنا اس لئے ضروری ہے کہ صدیوں سے ازلی مومنین اُن کا انتظار کر رہے ہیں ۔ ہماری ذمہ دار سرکار گوھر شاہی نے لگائی ہے کہ دنیا کہ چپے چپے پر جہاں تک تم سے ہو سکتا ہے اس پیغام عشق کو لے جاؤ، چاند سورج، حجر اسود اور دین الہی کے پیغام کو دنیا تک عام کر دو پھر اللہ جس کو چاہے گا چن لے گا۔
آج پندرہ رمضان جشن شاہی کا جو موقع ہے وہ اسی نسبت سے ہے کہ ہم سیدنا گوھر شاہی کے مرتبہ مہدی کی حقیقت کو ، بطور مہدی آپ کے جو فیوض و برکات ہیں اُن کو دنیا تک پہنچا دیں تاکہ جو لوگ منتظر مہدی ہیں وہ امام مہدی سے اکتساب فیض کر لیں اگر نہ پتہ چلے تو انتظار میں ہی بیٹھے رہیں گے لہذا امام مہدی کا پرچار کرنا عبادت ہے۔کئی مواقعوں پر سرکار گوھر شاہی نے خود اپنی زبان اطہر سے ارشاد فرمایا کہ تمھاری ترقی اب ذکر و فکر میں نہیں ہے بلکہ تمھاری ترقی اس مشن کو پھیلانے میں ہے ،یہ پیغام اللہ کی محبت اور ذکر قلب کا دنیا کو متعارف کرانے میں ہے ۔ جتنے زیادہ لوگوں تک یہ پیغام پہنچے گا اتنا ہی زیادہ تم اللہ کی نظروں میں آتے جاؤ گے ۔ جشن شاہی کا دن ہمیں یہ بتاتا ہے کہ اگر بھول چوک ہو گئی ہے تو ہم دوبارہ یاد کر لیں کہ سرکار گوھر شاہی کے ہر مرتبے اور معراج کا تعلق پندرہ رمضان سے ہے ۔ اب یہ غیبت معراج ہی ہے جب اوپر پندرہ رمضان کو گئے ہیں تو پندرہ رمضان کو ہی واپس بھی آئیں گے اب چونکہ تمھاری آنکھیں نہیں ہے اس لئے بہت ساری باتوں کو تم سمجھ نہیں سکتے ۔ ہمیں باطن میں یہ بتایا گیا ہے کہ بظاہر 27 نومبر 2001 کو غیبت ہوئی ہے لیکن اصل غیبت پندرہ رمضان جشن شاہی کے دن ہوئی تھی کیونکہ غیبت کے بعد بھی جو سرکار چل پھر رہے تھے وہ سرکار گوھر شاہی کا ایک جثہ تھا ۔

متعلقہ پوسٹس

دوست کے سا تھ شئیر کریں